جُرم و سزا

سُبْحَانَكَ لاَ عِلْمَ لَنَا إِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ ۔ صدق اللہ العظیم ۔ ترجمہ : تیری ذات [ہر نقص سے] پاک ہے ہمیں کچھ علم نہیں مگر اسی قدر جو تو نے ہمیں سکھایا ہے ۔ بیشک تو ہی [سب کچھ] جاننے والا حکمت والا ہے

یہ بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ ہمارے ملک میں گھناؤنا جُرم ہوتا ہے تو کبھی کبھار اخبارات تک پہنچتا ہے اور اِس پر بھی کچھ دِن غُل غپاڑہ ہوتا ہے پھر معاملہ پسِ منظر چلا جاتا ہے ۔ میر والا ملتان کی مختاراں مائی ۔ سُوئی بلوچِستان کی ڈاکٹر شازیہ ۔ فیصل آباد کی سونیہ ناز اور چک شہزاد اسلام باد کی نازش ۔ [آخری دو کی عزّت قانون کے محافظوں نے اغواء کر کے لوٹی] ۔ ان کے متعلق اخبارات نے عوام کو مطلع کیا ۔ کچھ روز کے لئے فضا میں ارتعاش پیدا ہوا پھر حسبِ معمول خاموشی جیسے ایک مووی فلم تھی جو ختم ہوئی اور تماشائی گھروں کو چلے گئے ۔ مختاراں مائی تو کبھی کبھار اخباروں میں نظر آ جاتی ہے مگر اُس کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو کیا سزا ملی عوام نہیں جانتے
این جی اوز بھی کچھ دن شور مچاتی ہیں پھر سو جاتی ہیں اور اُن کا بھی زیادہ زور حدود آرڈیننس کو ختم کرنے پر ہوتا ہے جیسے حدود آرڈیننس میں لکھا ہو کے عورتوں کے ساتھ زیادتی کرو ۔ حدود آرڈیننس کو ختم کیا گیا تو بدکاری کو روکنا ناممکن ہو گا کیوں کہ کِسی اور مروّجہ قانون میں بدکاری کو باقاعدہ جُرم قرار نہیں دیا گیا ۔البتہ حدود آرڈیننس میں زبردستی بدکاری کرنے کے سلسلہ میں گواہوں کی شرط پر نظرِ ثانی اور مناسب ترمیم کی ضرورت ہے ۔ اس کے علاوہ تفتیش کا نظام اور پولیس کی کارکردگی میں خامیوں کو دور کر کے فعال بنانا اشد ضروری ہے
ہمارے طرزِ عمل ۔ قرآن و سنّت کی وعید اور جرائم کی سزاؤں کے متعلق میں پچھلے ایک سال میں لکھتا رہا ہوں ۔ لکھنے سے پہلے میں وسیع مطالعہ اور اسلامی قانون کے ماہرین سے اِستفادہ حاصل کرتا رہا تھا پھر بھی میں نے اپنی تمام تحاریر کو یک جا کر کے پرنٹ کیا اور جس مسجد میں میں نماز پڑھتا ہوں اُس کے خطیب صاحب کو نظرِ ثانی کے لئے دیا ۔ وہ صاحبِ علمِ دین ہیں ۔ الحمد للہ اُنہوں نے تمام مضمون سے اتفاق کیا مگر کہا کہ مندرجہ ذیل فقرہ سے قاری کے ذہن ميں شک پیدا ہونے کا خدشہ ہے ۔ اسلئے اسے حذف کر دیا جائے یا وجہ جواز لکھی جائے ۔ “مگر مجھے قرآن شریف ۔ حدیث حتٰی کہ کتابُ الفِقَہ میں بھی نہیں ملا کہ زنا بالجبر کے لئے چار گواہوں کی شرط ہے ۔ جو بات میری سمجھ میں آئی ہے اُس کے مطابق یہ شرط زنا بالرضا کے لئے ہے ۔ زیادہ علم رکھنے والے اِس سِلسلہ میں میری راہنمائی کر سکتے ہیں”۔ چنانچہ جس بنیاد پر میں نے یہ فقرہ لکھا تھا اُس میں سے موٹی موٹی وجوہ نیچے درج کر رہا ہوں

قرآن الحکیم
ابتدائی حُکم
سورت ۔ 4 ۔ النّسآء ۔ آیت ۔ 15 و 16 ۔ تُمہاری عورتوں میں سے جو بَدکاری کی مُرتکِب ہوں اُن پر اپنے میں سے چار آدمیوں کی گواہی لو اور اگر چار آدمی گواہی دے دیں تو اُنہیں گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ اُنہیں موت آ جائے یا اللہ اُن کیلئے کوئی راستہ نکال دے ۔ اور تم میں سے جو اِس فعل کا ارتکاب کریں اُن دونوں کو تکلیف دو ۔ پھر اگر وہ توبہ کر یں اور اپنی اِصلاح کر لیں تو انہیں چھوڑ دو کہ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

سورت 4 ۔ النّسآء ۔ آیت 25 ۔ اور جو شخص تم میں سے اتنی مقدرت نہ رکھتا ہو کہ خاندانی مسلمان عورتوں سے نکاح کر سکے اسے چاہیئے کہ تمہاری اُن غلام عورتوں میں سے کسی کے ساتھ نکاح کر لے جو تمہارے قبضہ میں ہوں اور مومنہ ہوں – – – – پھر وہ جب حصارِ نکاح میں محفوظ ہو جائیں اور اس کے بعد کسی بد چلنی کی مرتکب ہوں تو اُن پر اُس سزا کی بہ نسبت آدھی سزا ہے جو خاندانی عورتوں کے لئے مقرر ہے

سورت ۔ 24 ۔ النُّور آیت 2 ۔ زانیہ عورت اور زانی مرد دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملہ میں تمہیں دامنگیر نہ ہو اگر تم اللہ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے ہو ۔ اور ان کو سزا دیتے وقت اہلِ ایمان کا ایک گروہ موجود رہے

سورت ۔ 24 ۔ النُّور ۔ آیات 5 تا 9 ۔ اور جو لوگ پاکدامن عورتوں پر تہمت لگائیں پھر چار گواہ لے کر نہ آئیں اُن کو اَسی کوڑے مارو اور اُن کی شہادت کبھی قبول نہ کرو اور وہ خود ہی فاسق ہیں سوائے اُن لوگوں کے جو اس حرکت کے بعد تائب ہو جائیں اور اِصلاح کر لیں کہ اللہ ضرور غفور و رحیم ہے ۔ اور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگائیں اور ان کے پاس خود ان کے سوا دوسرے کوئی گواہ نہ ہوں تو اُن میں سے ایک شخص کی شہادت [یہ ہے کہ وہ] چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ وہ [اپنے اِلزام میں] سچّا ہے اور پانچویں بار کہے کہ اُس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹا ہو ۔ اور عورت سے سزا اسطرح ٹل سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر شہادت دے کہ یہ شخص [اپنے اِلزام میں] جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اس بندی پر اللہ کا غضب ٹوٹے اگر وہ [اپنے اِلزام میں] سچّا ہو
سورت ۔ 24 ۔ النُّور ۔ آیت ۔ 33 ۔ اور اپنی لونڈیوں کو اپنے دُنیوی فائدوں کی خاطر قحبہ گری
[prostitution] پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ خود پاکدامن رہنا چاہتی ہوں اور جو کوئی اُن کو مجبور کرے تو اِس جَبَر کے بعد اللہ اُن کے لئے غفور و رحیم ہے

ترمذی اور ابو داؤد کی روائت ہے کہ ایک عورت اندھیرے میں نماز کیلئے نکلی ۔ راستہ میں ایک شخص نے اسکو گرا لیااور زبردستی اس کی عصمت دری کی ۔ اس کے شور مچانے پر لوگ آ گئے اور زانی پکڑا گیا ۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم نے مرد کو رجم کرایا اور عورت کو چھوڑ دیا
صحیح بُخاری میں ہے ” خلیفہ [حضرت عمر رَضِی اللہ عَنْہُ] کے ایک غلام نے ایک لونڈی سے زبردستی بدکاری کی تو خلیفہ نے غلام کو کوڑے مارے لیکن لونڈی پر حَد نہ لگائی ۔

تمام کُتب حدیث میں موجود ہے کہ ایک لڑکا ایک شخص کے ہاں اُجرت پر کام کرتا تھا اور اُس کی بیوی کے ساتھ بدکاری کا مُرتکِب ہو گیا ۔ لڑکے کے باپ نے سو بکریاں اور ایک لونڈی دیکر اُس شخص کو راضی کر لیا ۔ مگر جب یہ مقدمہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا ” تیری بکریاں اور تیری لونڈی تجھی کو واپس”۔ اور پھر آپ نے زانی اور زانیہ دونوں پر حد جاری فرما دی ۔
نتیجہ
جیسا مندرجہ بالا آیات اور احادیث سے واضح ہے اور تقریباً تمام فُقہاء اس بات پر متفق ہیں کہ بدکاری کے ثبوت کے لئے چار گواہ ضرورری ہیں ۔ لیکن اس میں زبردستی سے کی گئی بدکاری شامل نہیں کیونکہ کسی کے ساتھ زیادتی بھی ہو اور وہ سزا بھی پائے یہ منطق اور فطرت کے خلاف ہے اور اِسلام دینِ فطرت ہے اور منطق کی تعلیم دیتا ہے۔ اللہ سُبحَانُہُ وَ تَعَالٰی نے جس فطرت پر انسان کو پیدا کیا ہے حدود و قیود بھی اُسی کے مطابق بنائی ہیں ۔

عورت کو اغواء کیا گیا ہو یا وہ پولیس کی قید میں ہو تو اُسکی حالت ایسی غلامی کی ہوتی ہے جہاں وہ بالکل بے بس ہوتی ہے ۔ ایسی صورت میں زنا عموماً بالجَبَر ہوتا ہے اس میں عورت پر چار گواہوں کی شرط عائد نہیں ہوسکتی اور وہ اس جُرم [گناہ] سے برّی ہوتی ہے اور چونکہ اُس کے پاس گواہ ہونا بعید از قیاس ہے اسلئے اگر وہ قرآن شریف میں درج قسمیں اُٹھا کر کہہ دے کہ اس مرد نے میرے ساتھ زبردستی بدکاری کی ہے تو وہ مرد زانی کے سزا کا مُستحق ہو جا تا ہے ۔ دیگر اگرکسی کیس میں مرد مانے کہ اُس نے بدکاری کی ہے مگر عورت کی مرضی سے لیکن عورت انکاری ہو اور قرآن شریف میں درج قسمیں اُٹھا لے تو اس صورت میں بھی مرد زانی کے سزا کا مُستحق ہو جا تا ہے

تقریباً تمام فُقہاء متفق ہیں کہ حَد قائم کرنا اور سزا کا اِطلاق قرآن شریف اور حدیث کے مطابق حکومت کی ذمہ داری ہے عوام میں سے کوئی فرد یا گروہ نہ حد قائم کر سکتا ہے نہ سزا دے سکتا ہے ۔ مزید یہ بھی واضح ہے کہ قتل کے معاملہ کے برعکس بدکاری کے معاملہ میں راضی نامہ تاوان دے کر بھی نہیں ہو سکتا ۔ اسلئے کار و کاری ۔ وانی یا سوارا کی رسوم دین اسلام کے احکام کی صریح خلاف ورزی
ہے

لمحہءِ فکر ہے یارانِ نقطہ دان کے لئے

ایک حسابی نے تجزیہ کیا ہے کہ عام انسان اپنا وقت کیسے گذارتا ہے ۔ تجزیہ ہوشرُوبا ہے ۔ ملاحظہ ہوستّر برس عمر پانے والے انسان کے مختلف مشاغل میں صَرف ہونے والے وقت کو جمع کیا جائے تو نقشہ کچھ اِس طرح بنتا ہے
وہ 24 سال سوتا ہے
وہ 14 سال کام کرتا ہے
وہ 8 سال کھیل کود اور تفریح میں گذارتا ہے
وہ 6 سال کھانے پینے میں گذارتا ہے
وہ 5 سال سفر میں گذارتا ہے
وہ 4 سال گفتگو میں گذارتا ہے
وہ 3 سال تعلیم میں گذارتا ہے
وہ 3 سال اخبار رسالے اور ناول وغیرہ پڑھنے میں گذارتا ہے
وہ 3 سال ٹیلیوژن اور فلمیں دیکھنے میں گذارتا ہے

اگر یہ شخص پانچ وقت کا نمازی ہو تو مندرجہ بالا مشاغل میں سے وقت نکال کر 5 ماہ نماز پڑھنے میں صرف کرتا ہے یعنی زندگی کا صِرف 168 واں حِصّہ ۔ کتنی عجیب بات ہے کہ اتنا سا وقت نماز پڑھنے میں صرف کرنا بھی ہم پر بھاری ہو جاتا ہے ! ! !

اللہ ہمیں سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

بڑائی کِس میں ہے ؟

بڑائی اِس میں ہے کہ
آپ نے کتنے لوگوں کو اپنے گھر میں خوش آمدَید کہا نہ کہ آپ کا گھر کتنا بڑا ہے
آپ نے کتنے لوگوں کو سواری مہیّا کی نہ کہ آپ کے پاس کتنی بڑی کار ہے
آپ کتنی دولت دوسروں پر خرچ کرتے ہیں نہ کہ آپ کے پاس کتنی دولت ہے
آپ کو کتنے لوگ دوست جانتے ہیں نہ کہ کتنوں کو آپ دوست سمجھتے ہیں
آپ محلہ داروں سے کتنا اچھا سلوک کرتے ہیں نہ کہ کتنے عالیشان محلہ میں رہتے ہیں

برفاں دے گولے ۔ ملائی دی برف

پنجاب کے رہنے والے اگر اِن صداؤں سے واقِف نہیں تو پھر وہ کچھ نہیں جانتے ۔برفاں دے گولے ۔ ٹھنڈے تے مِٹھے ۔ پیئو تے جیو ۔ ۔ ۔ ملائی دی برف اے
پُرانی بات ہے ۔ ہم چند دن پہلے شمالی علاقوں میں کچھ دن قیام کے بعد واپس آئے تھے ۔ ہمارے ہاں کچھ مہمان آ گئے ۔ اُن کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو میں برفانی پہاڑوں کی تفصیل بتا رہا تھا کہ ایک بچّہ بولا “پھر تو وہاں کے بچّے خوب برف کے گولے اور آئس کریم کھاتے ہوں گے” ۔
لبوں پہ آ کے قلفی ہو گئے اشعار سردی ميں
غزل کہنا بھی اب تو ہو گیا دشوار سردی میں
محلے بھر کے بچوں نے دھکیلا صبح دم اس کو
مگر ہوتی نہیں اسٹارٹ اپنی کار سردی میں
کئی اہل نظر اس کو بھی ڈسکو کی ادا سمجھے
بچارا کپکپایا جب کوئی فنکار سردی ميں

ایک در بند ہوتا ہے تو

جب خوشیوں کا ایک دروازہ بند ہوتا ہے تو الله سُبحانُهُ و تعالٰی دوسرا دروازہ کھول دیتا ہے
لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہماری نظریں بند دروازے پہ لگی رہتی ہیں اور ہم دوسرے کھُلنے والے دروازہ کی طرف دیکھتے ہی نہیں

آؤ بچو سنو کہانی

ہم بہن بھائی جب چھوٹے چھوٹے تھے دادا جان سے کہتے کہانی سنائیں ۔ وہ کہتے آؤ سنو کہانی ایک تھا راجہ ایک تھی رانی دونوں کی ہوگئی شادی ختم ہوئی آج کی کہانی ۔ اور ہم اپنا سا منہ لے کر رہ جاتے

لیکن میں آج وہ کہانی کہنے لگا ہوں جو آپ نے پہلے کبھی سنی نہیں ہو گی ۔ ویسے کہانی شادی کے بعد ختم نہیں ہوتی بلکہ شروع ہوتی ہے ۔ شادی سے پہلے تو صرف ہوائی قلعے ہوتے ہیں ۔ایک درخت ہوتا ہے جو بہت جلد بڑا ہو جاتا ہے بہت بڑی جگہ گھیر لیتا ہے اور اس کی جڑیں بھی زیر زمین دور دور تک پھیل جاتی ہیں ۔ ایک علاقہ میں لوگ ٹھیک ٹھاک رہ رہے تھے ۔ ایک آدمی یہ کہہ کر ان کی زمین پر آیا کہ وہ ان کی زمین کی پیداوار بڑھا دے گا اور وہ اطمینان کی زندگی گذار سکیں گے ۔ اس نے متذکرہ درخت وہاں بو دیا اور ساتھ ہی اپنا مکان بنا کر رہنے لگا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ درخت بہت بڑا ہو گیا اور بجائے پیداوار بڑھنے کے اس کے سائے اور جڑوں کی وجہ سے وہاں پیداوار کم ہو گئی
اللہ کا کرنا کیا ہوا کہ اس شیطانی درخت کی ایک شاخ درخت لگانے والے کے گھر میں گھس گئی ۔ اس نے وہ شاخ کٹوا دی ۔ اس کی جگہ دو شاخیں اگ کر اس کے گھر میں گھس گئیں ۔ اس نے وہ کٹوا دیں تو تین چار شاخیں ان کی جگہ اگ کر اس کے مکان میں گھس گئیں اور ساتھ ہی درخت کی جڑوں نے اس کے مکان کی بنیادیں ہلا دیں جس سے درخت لگانے والا نیم پاگل ہو گیا ۔
جناب اس درخت کا نام ہے دہشت گردی ۔ اگر زمین فلسطین ہے تو درخت لگانے والا اسرائیل اور اگر زمین عراق ہے تو درخت لگانے والا امریکہ

کیا کلمہ پڑھنے سے آدمی مسلمان ہو جاتا ہے ؟

ہاں ۔ کلمہ پڑھنے سے آدمی مسلمان تو ہو جاتا ہے ۔ مگر ۔ ۔ ۔
میں کوئی عالم فاضل نہیں اس لئے میں ہر چیز کو اپنے روزمرّہ کے اصولوں پر پرکھتا ہوں
میں سکول میں داخل ہوا پڑھائی کی کئی مضامین یاد کئے سال میں ان گنت ٹیسٹ دیئے ۔ سہ ماہی ششماہی نوماہی سالانہ امتحانات دیئے اور سب محنت کر کے پاس کئے تب مجھے دوسری جماعت میں داخلہ کی اجازت ملی ۔ 10 سال یہی کچھ دہرایا گیا ۔ اس فرق کے ساتھ کہ پڑھائی ہر سال بڑھتی اور مشکل ہوتی گئی ۔ 10 سال یوں گذرنے کے بعد مجھے میٹرک پاس کا سرٹیفیکیٹ دیا گیا۔

میٹرک کی بنیاد پر کوئی ایسی ملازمت ہی مل سکتی تھی جس سے بمشکل روزانہ ایک وقت کی سوکھی روٹی مل جاتی مگر شادی کر کے بیوی بچوں کا خرچ نہیں اُٹھا سکتا تھا ۔ چنانچہ پھر اسی رَٹ میں جُت گیا ۔ وقت کے ساتھ ساتھ پڑھائی اور امتحان مشکل ہوتے گئے اور اتنے مشکل ہوئے کہ رات کی نیند اور دن کا چین حرام ہو گیا ۔ 6 سال بعد بی ایس انجنئرنگ کا سرٹیفیکیث مل گیا ۔

پھر نوکری کے لئے تگ و دو شروع ہوئی ۔ امتحان دیئے انٹرویو دیئے تو نوکری ملی اور اپنا پیٹ پالنے کے قابل ہوئے ۔ یہ سب کچھ اس لئے ممکن ہوا کہ اکیس بائیس سال کے لئے کھانے پینے اور پڑھائی کا خرچ کسی اور یعنی والدین نے دیا اگر وہ نہ دیتے تو جو میرا حال ہوتا وہ میں سوچ بھی نہیں سکتا ۔

سوچا تھا ملازمت مل جائے گی تو عیش کریں گے مگر خام خیالی نکلی ۔ سارا سارا دن محنت کی پھر بھی باس کم ہی خوش ہوئے ۔ متعدد بار تیز بخار ہوتے ہوئے پورا دن نوکری کی ۔ جو لڑکے سکول یا کالج سے غیرحاضر رہتے رہے یا جنہوں نے امتحان نہ دیا یا محنت نہ کی یا امتحان میں فیل ہو گئے وہ پیچھے رہتے گئے اور کئی سکول یا کالج سے نکال دیئے گئے ۔ یہ لڑکے نالائق اور ناکام کہلائے ۔ جن لوگوں نے ملازمت کے دوران محنت نہ کی یا غیرحاضر ہوتے رہے وہ ملازمت سے نکال دیئے گئے ۔

عجیب بات ہے کہ یہ سب کچھ جانتے ہوئے میں والدین مسلمان ہونے یا صرف کلمہ طیّبہ پڑھ لینے کی بنیاد پر دعوٰی کرتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں چاہے سجدہ غیر الله کو کروں یا نماز روزہ کی پابندی نہ کروں یا صرف نماز. روزہ. زکوٰة. حج کر لوں مگر حقوق العباد کا خیال نہ کروں جس کے متعلق الله سُبحانُهُ و تعالٰی کا فرمان ہے کہ اگر متعلقہ شخص معاف نہ کرے تو معافی نہیں ہو گی یعنی سچ نہ بولوں ۔ انصاف نہ کروں ۔ کسی کی مدد یا احترام نہ کروں ۔ دوسروں کا حق ماروں
کیا سب مجھے بیوقوف یا پاگل نہیں کہیں گے ؟
مگر افسوس ہمارے مُلک میں ایسا ہی ہوتا ہے چونکہ دِین کے بارے میں ہماری سوچ ہی ناپختہ ہے

پاکستان کے سکولوں میں کئی عیسائی لڑکے اور لڑکیاں بائبل کی بجائے اسلامیات پڑھتے ہیں کیونکہ اسلامیات کا کورس بائبل کی نسبت بہت کم ہے ۔ یہ لوگ کلمہ طیّبہ کے علاوہ قرآن مجید کی آیات اور احادیث پڑھتے اور یاد کرتے ہیں ۔ 22 سال قبل بھرتی کے لئے انٹرویو لیتے ہوئے مجھے چند عیسائی امیدواروں نے حیران کیا کیونکہ انہیں قرآن شریف کی سورتیں اور ترجمہ مسلمان امیدواروں سے زیادہ اچھی طرح یاد تھا ۔ لیکن اس سے وہ مسلمان تو نہیں بن جاتے ۔

غالباً 1981ء کی بات ہے ایک لبنانی عیسائی فلپ ہمام بیلجیم کی ایک بہت بڑی کمپنی پی آر بی میں ڈائریکٹر کمرشل افیئرز تھے ۔ میں نے اُنہیں تسبیح پڑھتے دیکھ کر پوچھا کہ کیا پڑھ رہے ہیں ؟ اُنہوں نے کہا
اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
میری حیرانی پر اُس نے کہا میں دانتوں سے ناخن کاٹتے رہنے سے بہت تنگ تھا ۔ سائیکالوجسٹ نے مشورہ دیا کہ ہروقت ہاتھوں کو مصروف رکھو ۔ میں نے لبنان میں مسلمانوں کو فارغ وقت میں یہ تسبیح پڑھتے دیکھا تھا سو میں نے ان کی نقل کی مگر میں اس کے مطابق عمل نہیں کرتا بلکہ بائبل پر عمل کرتا ہوں اس لئے میں عیسائی ہوں

کلمہ طیّبہ جسے پڑھ کر مسلمان ہوتے ہیں اس یقین کا اظہار ہے کہ میں سوائے اللہ کے کسی کو معبود نہیں مانتا اور مُحمد صلی الله عليه و آله وسلم اس کے پیامبر ہیں ۔ اگر کلمہ اس طرح پڑھا جائے جیسے فکشن سٹوری پڑھتے ہیں تو اس کا کیا فائدہ ۔ علامہ اقبال نے سچ کہا ہے

زباں سے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں
اور
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے