Category Archives: طنز

موبائل فون سے دو دو ہاتھ

موبائل فون کی تين بيمارياں ہيں
1 ۔ مختصر پيغامات ۔ ايک ۔ کمپنی کے اشتہارات ۔ دوسرے ۔ جو فارغ لوگ بھيجتے ہيں
2 ۔ دھوکہ والی کالز
3 ۔ مِسڈ کالز

ميں اُلٹی ترتيب سے چلتا ہوں ۔ ہم رات کو نو دس بجے تک سونے کے عادی ہيں ۔ دو تين رات گيارہ بارہ بجے کے درميان مِسڈ کالز آئيں تو ميں نے صبح کے وقت اُس نمبر پر ٹيليفون کيا ۔ خاتون نے ہيلو کہا ميں نے وجہ بتائی تو کھِلکھلا کر ہنس پريں اور کہنے لگيں “يہاں سے تو کسی نے نہيں کيا ۔ ميں نے کہا “اگر اب اس نمبر سے کال آئی تو اس کی سزا کا بندوبست کرنا پڑے گا”۔ اگلی رات ايک اور دو بجے کے قريب اُسي نمبر سے مسڈ کال آئی ۔ اگلے دن صبح ميں نے پی ٹی اے کے چيئرمين کو ای ميل بھيجی اور اس کا نمبر بلاک کر ديا گيا ۔ اس طرح ميں پچھلے چار سال ميں چار نمبر بلاک کروا چکا ہوں جن ميں سے تين خواتين کے تھے اور ايک لڑکے کا

ايک سال قبل ايک کال آئی “ميں فلاں کمپنی سے بول رہا ہوں ۔ سيل پروموشن کے سلسلہ ميں آپ کے نمبر پر انعام نکلا ہے ۔ آپ فلاں نمبر پر کال کيجئے تاکہ انعام کنفرم کيا جائے”۔ ميں نے اُس کی بجائے جس موبائل کمپنی کا نمبر تھا اُن کو شکائت بھيجی اور نمبر بلاک کر ديا گيا ۔ 22 مارچ 2010ء کو ايک کال آئی “ميں وارد کے ہيڈ آفس سے بول رہا ہوں ۔ سيل پروموشن کے سلسلہ ميں آپ کا پانچ لاکھ کا انعام نکلا ہے ۔ آپ اسی نمبر پر کال کيجئے تاکہ آپ کا انعام کنفرم کيا جائے”۔ ميں نے وارد کے منيجر ريگوليشنز کو ای ميل بھيجی اور دوسرے دن اُس کا جواب آ گيا کہ نمبر بلاک کر ديا گيا ہے

موبائل فون کمپنی کے اپنے اشتہارات کا تو ميں کچھ کر نہيں سکتا ۔ البتہ فارغ لوگوں کو ميں کم ہی جراءت کرنے ديتا ہوں ۔ ايک ميرا ہم زُلف ہے ۔ اُسے اسی ماہ يو فون والوں نے 3000 مختصر پيغامات بھيجنا مُفت کر ديا ۔ اُس نے پچھلے چار دن سے پريشان کيا ہوا ہے ليکن چند پيغامات اس قابل ہيں کہ يہاں لکھے جائيں

سب سے اچھا ہے
ہم تو مِٹ جائيں گے اے ارضِ وطن ليکن تم کو
زندہ رہنا ہے قيامت کی سحر ہونے تک

ايک آدمی نے دريا سے مچھلی پکڑی اور خوش خوش گھر آيا ۔ ديکھا تو بجلی بند ۔ گيس کم ۔ اور تيل بھی ختم ۔ واپس گيا اور مچھلی کو دريا ميں پھينک ديا ۔ مچھلی اُچھل کر پانی سے باہر آئی اور نعرہ لگايا “جيو زرداری”

کون کہتا ہے کہ پاکستان ميں غم ہيں خوشياں نہيں ۔ بجلی آنے کی خوشی ۔ بازار سے ہو کر زندہ واپس گھر آنے کی خوشی ۔ مسجد ميں نماز کے بعد خودکُش حملے سے بچ جانے کی خوشی ۔ بس سے اُترنے کے بعد اپنے موبائل کو اپنی جيب ميں پانے کی خوشی ۔ اتنی خوشياں ہونے کے باوجود پاکستانی عوام خوش نہيں

نيند اور سُستی ہماری بہت بڑی دُشمن ہيں ۔ علامہ اقبال
ہميں اپنے دُشمن سے بھی پيار کرنا چاہيئے ۔ قائد اعظم
دسو ہَن بندہ کِدی منّے

A mistake which makes you sober is much better than an achievement which makes you proud

الطاف بھائی حج کرنے گئے ۔ جب وہ شيطان کو پتھر مارنے لگے تو آواز آئی “بھائی ی ی ی ی ی ی ی ی ی ۔ آپ نے يہاں آنے کی زحمت کيوں کی ۔ مجھے لندن بُلوا ليا ہوتا”

فقير “بھوکا ہوں ۔ اللہ کے نام پر تھوڑا سا کھانا دے ديں”
باجی “کھانا ابھی نہيں پکا”
فقير “باجی ۔ نمبر لکھ ليں جب پک جائے تو مِسڈ کال دے دينا”

سال 1990ء
“يار ۔ آج بجلی کيوں بند ہوئی ہے ؟”
“ٹرانسفارمر بدل رہے ہوں گے”

سال 2010ء
“يار ۔ يہ بجلی کب آئے گی ؟”
“جب ہمارے محلے کی بند ہو گی تو تمہارے محلے کی آئے گی”

سال 2020ء
” يار ۔ صبح سے بجلی بند ہے ۔ کب آئے گی”
“آج ملتان کی باری ہے اور کل لاہور کی ۔ سو کل تمہاری بجلی آئے گی اور ملتان کی بند ہو گی”

سال 2030ء
“يار سُنا ہے کہ بجلی نام کی کوئی چيز ہوا کرتی تھی ۔ جس سے گھر جگ مگ کرتے تھے”
“چُپ کر کے سو جا ۔ تمہيں ايسے ہی کسی نے بہکا ديا ہے”

ڈيجيٹل ٹيکنالوجی ؟؟؟

ہم مياں بيوی بالخصوص نئے پاسپورٹ بنوانے کيلئے 5 فروری 2010ء کو اسلام آباد گئے اور 6 فروری 2010ء کو اسلام آباد آفس ميں اپنے نئے پاسپورٹ بننے کيلئے ديئے ۔ ہميں بتايا گيا تھا کہ پاسپورٹ تيار ہو کر 18 فروری کو مل جائيں گے ۔ ہم 13 فروری کو لاہور آ گئے ۔ پيچھے ميرا بھائی پاسپورٹ لينے گيا تو بتايا گيا کہ يکم مارچ 2010ء کو مليں گے ۔ آج يعنی 3 مارچ کو پھر ميرا بھائی پاسپورٹ لينے گيا تو بتايا گيا ہے کہ 25 مارچ کو مليں گے ۔ 25 مارچ کو بھی مليں گے يا نہيں يہ اللہ بہتر جانتا ہے ۔ اسے کہتے ہيں ہمارے مُلک ميں ڈيجيٹل ٹيکنالوجی

جب مشين ريڈايبل پاسپورٹ شروع کئے گئے تھے تو ببانگِ دُہل بتايا گيا تھا کہ پرانے والے پاسپورٹ جعلی بن جاتے تھے يہ نہيں بن سکتے ۔ اب زيادہ اچھی خبر پڑھيئے

سپریم کورٹ نے جعلی مُہروں، ویزوں اور پاسپورٹس کے خلاف از خود نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ اس کے خلاف مربوط کارروائی عمل میں لائی جائے۔ جس پر کارپوریٹ کرائم سرکل نے سرجانی ٹاؤن کراچی میں کارروائی کرکے ایک ملزم فرید اللہ خان کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے جعلی مشین ریڈ ایبل [Machine Readable] پاسپورٹس ، مختلف ممالک کے ویزے، ڈرائیونگ لائسنس، جعلی کرنسی اور ان کو بنانے والی ڈائیاں برآمد کرلیں۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے کے مطابق ملزم کے دیگر ساتھی بھی شہر میں موجود ہیں جن کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اس کام میں کسی سرکاری اہلکار کے ملوث ہونے کو رد نہیں کیا جاسکتا

نیا بادشاہ ۔ ايک لطيفہ

ايک اعلٰی تعلیم یافتہ اور اعلٰی عہدیدار نے حال ہی میں مجھے ایک لطیفہ سنایا تھا ۔ کل اخبار میں حکومتی کارستانی کی ایک رپورٹ پڑھ کر خیال آیا کہ قارئین کی نذز کروں

شہروں سے جمہوریت کا شور جنگل میں پہنچا ۔ جنگل کی تمام جمہور یعنی تمام جانوروں کے نمائندوں کا اجلاس بُلایا گیا ۔ شیر کی نامزدگی پر بیلوں اور ہرنوں نے شور مچایا ۔ اسی طرح نامزدگیاں ہوتی رہیں اور اعتراضات ہوتے رہے ۔ آخر بندر باقی رہ گیا اور اس کے خلاف کسی نے شکائت نہ کی چنانچہ جمہور کے نمائندوں نے متفقہ طور پر بندر کو اپنا بادشاہ بنا لیا ۔ بندر نے اپنی تقریر میں جمہور کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یقین دلایا کہ اب کسی پر ظُلم نہیں ہو گا ۔ ہر ایک کی سُنی جائے گی اور اس کی مدد کی جائے گی

کچھ روز بعد ایک چڑیا درخت پر اپنے گھونسلے میں اپنے دو ننھے بچوں کو لئے بیٹھی تھی کہ ايک سانپ درخت پر چڑھتا نظر آیا ۔ چڑیا اُڑ کر بندر کے پاس گئی اور سانپ سے بچوں کو بچانے کی درخواست کی ۔ بندر نے اُسی وقت ایک درخت پر چھلانگ لگائی پھر اُچھل کر دوسرے درخت پر گیا پھر تیسرے پر اور اس طرح کئی درختوں چھلانگے لگا کر واپس آیا اور چڑیا کو بتایا کہ “دیکھا ہم نے آپ کیلئے کتنی محنت کی ہے”

چڑیا جب واپس اپنے گھونسلے پر گئی تو دیکھا کہ سانپ اس کے گھونسلے کے قریب پہنچ چکا ہے ۔ وہ ہانپتی کانپتی پھر بندر بادشاہ کے پاس پہنچی اور بتایا کہ سانپ اسکے بچوں کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے ۔ بندر نے پھر ایک درخت سے دوسرے ۔ دوسرے سے تیسرے پر اور اس طرح کئی درختوں چھلانگے لگائیں اور واپس آ کر کہا ” دیکھا ہم نے آپ کیلئے کتنی محنت و کوشش کی ہے”۔ چڑیا اپنے گھونسلے پر پہنچی تو سانپ اُس کے بچوں کو کھا چکا تھا

پاکستانی قوم کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی نہیں ہو رہا ؟
:smile:

جب اپنے بیگانے ہو جائیں اور اندھی دنیا

کسی زمانہ میں کتابوں میں پڑھا تھا کہ وہ قومیں تباہ ہو جاتی ہیں جن کے اپنے ہی بیگانے ہو جائیں

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پینل نے حافظ محمد سعید سمیت تین پاکستانی شہریوں اور جماعت الدعوہ سمیت پانچ تنظیموں کے نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کردیئے ہیں ۔ سلامتی کونسل کی القاعدہ اور طالبان سینکشنز کمیٹی نے جن پاکستانیوں کے نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی منظوری دی ہے ان میں جماعت الدعوہ کے امیر حافظ محمد سعید ، کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے آپریشنز چیف ذکی الرحمان لکھوی ، شعبہ مالیات کے سربراہ حاجی محمد اشرف شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ ایک سعودی باشندے محمود محمد احمد بازیک Bahaziq کا نام بھی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جس کے بارے میں امریکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ یہ لشکر طیبہ کو سرمایہ فراہم کرتا ہے ۔ سلامتی کونسل کی القاعدہ اور طالبان سینکشنز کمیٹی نے جن تنظیموں کے نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی منظوری دی ہے ان میں جماعت الدعوہ ،، پاسبان اہل حدیث ، پاسبان کشمیر،، الرشید ٹرسٹ اور الاختر ٹرسٹ انٹر نیشنل شامل ہیں ۔ سلامتی کونسل کی کمیٹی کی طرف سے منظوری کے بعد رکن ممالک فوری طور پر ان شخصیات اور تنظیموں کے تمام اثاثے منجمد کردیں گے اور سفر پر پابندی ہوگی ۔ان تمام افراد کو گرفتار کرلیا جائے گا اور انہیں مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا ۔ گذشتہ ہفتے امریکی محکمہ خزانہ نے ان افراد کے نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کئے تھے اور ان کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیا تھا

اندھی دنیا
اقوام متحدہ کی جانب سے جماعت الدعوہ کے حاجی محمد اشرف لشکرطیبہ سے تعلق کے الزام میں پہلی مرتبہ اپریل 2001ء میں گرفتار ہوئے اور جولائی میں انہیں رہا کر دیا گیا ۔ انہیں شیرٹن ہوٹل بم دھماکوں کے الزام میں دوبارہ 30دسمبر 2001 کو گرفتار کیا گیا ۔ اُس وقت ان کی عمر70برس تھی ۔ انتہائی علالت کی حالت میں زیر علاج رہنے کے بعد قریب المرگ حالت میں انہیں رہا کر دیا گیا اور وہ 11جون 2002 کو سول اسپتال حیدر آباد میں انتقال کرگئے تھے ۔ انہیں اسی دن ضلع بدین کے شہر گولارچی میں سپرد خاک کیا گیا تھا

طوطے

وطنِ عزیز میں قسم قسم کے طوطے پائے جاتے ہیں ۔ طوطے کی بُنیادی طور پر دو قسمیں ہیں اور ان دو میں سے ہر ایک کی کئی کئی قسمیں ہیں ۔ ایک طوطا جسے ایک مصنف توتا لکھتے تھے ایک خوبصورت پرندہ ہے ۔ لیکن بات ہو گی دوسری قسم پر۔ دوسری قسم کے بچے تو سب طوطے ہی ہوتے ہیں کیونکہ وہ طوطوں کی طرح پیارے ہوتے ہیں اور طوطوں کی طرح ہی اپنے ادرگرد کے لوگوں کی نقل کر کے بولنا سیکھتے ہیں ۔

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے ان دوسری قسم کے طوطوں کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اور انہیں سوچنے اور فیصلہ کرنے کا اختیار دیا ہے مگر اُن میں سے اکثر ہمیشہ کیلئے طوطا بن بیٹھتے ہیں ۔

ان کی ایک معروف قسم ہے اپنے منہ میاں مِٹھُو جو کہ ایک بے ضرر قسم ہے اور سیدھے سادے افراد پر مشتمل ہے اور اس قسم میں کبھی کبھار ہر شخص شامل ہو جاتا ہے ۔

ان طوطوں کی دوسری قسم موسمی طوطا جو ایسے طوطوں پر مشتمل ہے جو صرف مالدار یا طاقتور کی بولی کی نقل کرتے ہیں ۔ یہ طوطے نا قابلِ اعتبار ہوتے ہیں نہ صرف عام آدمی کیلئے بلکہ اُس کیلئے بھی جس کی بولی وہ بولتے ہیں کہ جونہی اُس سے زیادہ طاقت یا دولت والا سامنے آ گیا تو یہ طوطے نئے نمودار ہونے والے کی بولی بولنے لگتے ہیں ۔

ان طوطوں کی تیسری قسم ہے رٹّو طوطا ۔ اِنہیں جو پڑھا دیا جائے بس اُسے یاد رکھتے ہیں ۔ مثال کے طور پر اگر انہیں پڑھا دیا جائے کہ ہر طرف روشنی ہی روشنی ہے تو چاہے آدھی رات ہو ۔ نہ چاند نکلا ہو اور نہ کوئی قُمقُمہ جل رہا ہو وہ یہی کہیں گے کہ ہر طرف روشنی ہی روشنی ہے ۔ یہ طوطے سیاسی طوطے بھی کہلاتے ہیں ۔

ان طوطوں کی چوتھی قسم ہے وہ ہے جو شائد احساسِ کمتری کا شکار ہو کر اپنی ہر چیز سے متنفر ہو جاتے ہیں ۔ یہ طوطے دساور بالخصوص سفید چمڑی کے غلام ہوتے ہیں اور ان ہی کی بولی بولتے ہیں ۔ نہ صرف اپنے ہموطنوں پر غیرمُلکیوں کو ترجیح دیتے ہیں بلکہ اپنے وطن کی بنی بہترین اشیاء پر بھی گھٹیا غیر مُلکی اشیاء کو ترجیح دیتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وطنِ عزیز کے بازاروں میں پاکستانی مال غیر مُلکی کہہ کر مہنگے داموں بیچا جاتا ہے اور یہ طوطے فخریہ خریدتے ہیں ۔

ان طوطوں کی پانچویں اور سب سے زیادہ کارآمد نسل چُوری والے طوطے ہیں ۔ یہ طوطے اُس کی بولی بولتے ہیں جو انہیں چُوری کھلاتا ہے یا پھر زیادہ چُوری کھلاتا ہے ۔ وطنِ عزیز میں یہ نسل بڑی کامیاب ہے اور وقت کے ساتھ چُوری کھلانے والے کی کچھ زیادہ ہی وفادار بن گئی ہے ۔ چُوری ملنا بند بھی ہو جائے تو صرف اس اُمید پر کہ شائد پھر چُوری مل جائے وفاداری نبھاتی ہے ۔

ان طوطوں کی چھٹی اور اعلٰی نسل وطنِ عزیز کے حکمرانوں کی ہے جو فیصلہ کرنا تو کُجا کوئی بات کرنے سے بھی پہلے امریکا ۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی طرف دیکھتے ہیں اور جس طرح اُن کے ہونٹ ہِل رہے ہوتے ہیں اُسی طرح یہ طوطے اپنے ہونٹ ہلاتے جاتے ہیں ۔ پھر جو بھی آواز نکلے ان کی بلا سے ۔ انہیں صرف اس پر تسلی ہوتی ہے جس کی نقل انہوں نے کی تھی وہ مطمئن ہے ۔

وجودِ زَن سے

یہ دَور اشتہار بازی کا ہے جسے انگریزی میں پروپیگنڈہ کہتے ہیں اور اس کا جدید نام کسی حد تک انفارمیشن ٹیکنالوجی بھی ہو سکتا ہے ۔ تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تین صدیاں قبل اشتہاربازی کی بجائے لوگ یا قومیں اپنے ہُنر یا طاقت سے اپنا سِکہ منواتے تھیں ۔ یورپ میں جب یہ خیال اُبھرا کہ صرف حقائق کے سہارے دوسروں کو متأثر کرنا اُن کے بس کا روگ نہیں رہا تو آزادیِ نسواں کے ساتھ ساتھ اشتہار بازی کی صنعت معرضِ وجود میں لائی گئی ۔ اشتہاربازی کا بنیادی اصول حقائق کی وضاحت کی بجائے یہ رکھا گیا کہ اتنا جھوٹ بولو اور اتنی بار بولو کہ کوئی اس کا دس فیصد بھی درست مان لے تو بھی فائدہ ہی ہو ۔

موجودہ دور کی اشتہاربازی نے ٹی وی کی مدد سے اپنے گھروں میں بیٹھے لوگوں کے ذہنوں کو اپنا غلام بنا لیا ہے ۔ نتیجہ صرف یہی نہیں کہ ایک روپے کی چیز 5 یا 10 روپے میں بِک رہی ہے اور لوگ دھڑا دھڑ خرید رہے ہیں بلکہ بقول ایک مدبّر سربراہِ خاندان ۔ اُنہیں خالص دودھ میسّر ہے لیکن اس کے بچے کہتے ہیں کہ یہ دودھ مزیدار نہیں اور ٹی وی پر سب سے زیادہ اشتہار میں آنے والے ناقص دودھ کو پینے کا مطالبہ کرتے ہیں اور وہ اپنے آپ کو مجبور پاتا ہے

آمدن برسرِ موضوع ۔ مجھ سے پچھلی نسل کے کسی شاعر نے آدھی صدی سے زیادہ ماضی میں نجانے کس ترنگ میں آ کر کہا تھا

وجودِ زن سے ہے کائنات میں رنگ

کسی اور نے کچھ سمجھا یا نہیں سمجھا ۔ ہمارے وطن میں اشتہار بنانے والوں نے اسے خُوب سمجھا اور اشتہاروں میں عورت کی شکل نظر آنے لگی ۔ جب عورت کا رنگ اخباروں میں بھرا جا چکا تو ٹی وی نے جنم لے لیا ۔ پھر کیا تھا ۔ نہ صرف عورت کی شکل بلکہ اس کے جسم کی دل لُوٹ لینے والی حرکات کا بھی رنگ بھرنا شروع ہوا ۔

وقت کے ساتھ ساتھ اشتہاری عورت ۔ معاف کیجئے گا ۔ اشتہار میں آنے والی عورت کا لباس اُس کے جسم کے ساتھ چِپکنے لگا ۔ پھر لباس نے اختصار اختیار کیا اور عورت کے جسم کا رنگ ناظرین کی آنکھوں میں بھرا جانے لگا ۔ ٹی وی سکرین سے عورت کا رنگ بڑے شہروں سے ہوتا ہوا قصبوں اور دیہات میں پہنچنے لگا ۔

پچھلے سات آٹھ سال میں حکومتی سطح پر روشن خیال ترقی قوم کی منزلِ مقصود ٹھہرا کر پُورے زور شور سے مادر پِدر آزاد معاشرہ قائم کرنے کی دوڑ لگا دی گئی ۔ کائنات میں عورت کا رنگ بھرنے کیلئے نِت نئے ڈھنگ نکالے گئے ہیں ۔ عورت اور مرد کا اکٹھے جذبات کو اُبھارنے والے ناچ ناچنا ۔ ایک دوسرے کے ساتھ چھیڑخانی کرنا ۔ اور پھر اس سے بھی اگلی منزل شروع ہوئی کہ مرد کا عورت کو اُٹھا کر ہوا میں لہرانا یا گلے لگانا بھی کائنات میں رنگ بھرنے کا ایک طریقہ قرار پا گیا ۔

بیچاری عورت کھیل تماشہ تو بن گئی مگر اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کی مقرر کردہ تحریم تو ایک طرف اپنی جو عفّت تھی وہ بھی کھو بیٹھی ۔

ہم اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں ۔ اللہ ہمیں مسلمان بننے کی توفیق عطا فرمائے ۔ شیطان کی یلغار سے بچائے اور سیدھی راہ پر چلائے ۔ آمین ۔

بیوقوف بادشاہ

پانچویں یا چھٹی جماعت کی کتاب میں ہم نے ایک کہانی پڑھی تھی جس کے متعلق اب محسوس ہوتا ہے کہ وہ سچا واقعہ ہو گا ۔ کہانی یوں تھی کہ ایک بادشاہ کو دنیا میں لاثانی ہونے کا شوق تھا ۔ اس نے حکم جاری کیا کہ جو مجھے ایسا لباس لا کر دے گا جو دنیا میں کسی کے پاس نہ ہو تو اسے میں مالا مال کر دوں گا ۔ بڑے بڑے جولاہوں نے قسمت آزمائی مگر ناکام رہے ۔ قریبی ملک میں ایک نہائت چالاک آدمی رہتا تھا ۔ اس نے بادشاہ کے حضور پیش ہو کر عرض کی “جناب ۔ میں ایسا لباس تیار کروا سکتا ہوں جو صرف عقلمند شخص کو دکھائی دیتا ہے ۔ اس سے آپ کو اپنے عقلمند مشیر اور وزیر چننے میں بھی آسانی ہو گی”۔ بادشاہ نے کہا “اچھا ۔ وہ لباس تیار کرواؤ”۔ چالاک شخص نے کہا “جناب ۔ یہ میرے فن کا بہت بڑا راز ہے جس کیلئے مجھے کوئی خفیہ کمرہ عنائت کیجئے”۔

بادشاہ نے اپنے محل کا ایک بڑا سا کمرہ اس کے حوالے کر دیا ۔ وہ کھڈیاں وہاں لے آیا اور اس کے آدمی کھڈیاں چلانے لگ گئے ۔ کچھ دن بعد اس آدمی نے بادشاہ کو بتایا کہ لباس تیار ہو گیا ہے ۔ بادشاہ مشاہدہ کرنے گیا تو اسے کچھ نظر نہ آیا لیکن یہ سوچ کر کہ وہ کہیں بیوقوف نہ کہلائے بادشاہ لباس کی تعریف کر کے آ گیا ۔ دوسرے دن دربار میں اعلان کیا گیا کہ اگلے روز بادشاہ سلامت دربار میں ایسا لباس پہن کر آئیں گے جو صرف عقلمند شخص کو نظر آتا ہے ۔ اگلے روز دربار جانے سے قبل بادشاہ کو بڑے اہتمام سے اس شخص نے لباس پہنایا اور بادشاہ دربار میں جا کر بیٹھ گیا ۔

کچھ وزیر و مشیر خاموش بیٹھے رہے اور کچھ بادشاہ کے نئے لباس کے قصیدے پڑھنے لگ گئے ۔ اتفاق سے ایک درباری کے ساتھ اس کا پانچ سالہ بچہ بھی اس دن آیا تھا ۔ وہ ہنستے ہوئے چیخا “بادشاہ ننگا ۔ بادشاہ ننگا”۔

مجھے یہ کہانی اب اسلئے سچ لگتی ہے کہ ہمارے ملک کے صدر جنرل پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007ء کو پاکستان کے آئین اور قوانین کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے بطور فوج کے سربراہ کے قوانین بنا کر انہیں آئین کا حصہ بنانے کا اعلان کر دیا اور اسی پر اکتفاء نہ کیا بلکہ یہ بھی لکھوا دیا کہ اس قانون کو نہ تو پاکستان کی عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے اور نہ اسے پاکستان کی پارلیمنٹ تبدیل یا حذف کر سکتی ہے اور اب اسی کی بنیاد پر بار بار کہہ رہے ہیں “میں 5 سال کیلئے صدر ہوں اور 3 نومبر کو معزول کئے ہوئے جج بحال نہیں ہو سکتے”۔ اور اس کے مداح خواں بھی یہی رٹ لگا رہے ہیں ۔

واہ رے پرویز مشرف ۔ تُو نے ننگے بادشاہ والی کہانی سچ کر دکھائی ۔