Category Archives: سبق

فرق صرف سوچ کا ہے

ہر شخص کی 10 فیصد زندگی حقیقی ہوتی ہے ۔ 90 فیصد اُس کی سوچ ہوتی ہے یعنی بجائے اِس کے کہ کہنے والے کی بات کو صاف ذہن کے ساتھ سُنا جائے اگر ذہن میں ہے کہ دوسرا آدمی یہ چاہتا ہے اور وہ بات جو بھی کر رہا ہے اُس کا مطلب یہ ہے تو نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو بات سُننے والا اپنی سوچ کے مطابق سمجھ لیتا ہے وہ کہنے والے نے کہی ہی نہیں ہوتی اور نہ کہنے والے کے وہم و گمان میں ہوتی ہے

چنانچہ اگر سوچ 100 فیصد مَثبَت ہو تو زندگی 100 فیصد حقیقی ہوتی ہے اور دُنیا حسین لگتی ہے بصورتِ دیگر دوسروں میں عیب نظر آتے ہیں اور یہ عیب اپنی سوچ کی وجہ سے ہمیشہ قائم رہتے ہیں
اب سُنیئے ایک شخص کا واقعہ جس نے اُس کی زندگی کو خوشگوار بنا دیا
میں ایک دن گھر سےکسی کام کیلئے نکلا ۔ ٹیکسی لی اور منزلِ مقصود کی طرف چل پڑا ۔ ٹیکسی شاہراہ کے بائیں حصے پر دوڑتی جا رہی تھی کہ بائیں طرف سے شاہراہ میں شامل ہونے والی ایک پَتلی سڑک سے ایک گاڑی بغیر رُکے اچانک ٹیکسی کے سامنے آ گئی ۔ ٹیکسی ڈرائیور نے پوری قوت سے بریک دباتے ہوئے ٹیکسی کو داہنی طرف گھمایا اور ہم بال بال بچ گئے گو میرا کلیجہ منہ کو آ گیا تھا
بجائے اس کے کہ دوسری گاڑی کا ڈرائیور اپنی غلطی کی معافی مانگتا ۔ کھُلے شیشے سے سر باہر نکال کر ہمیں کوسنے لگا ۔ میرا خیال تھا کہ ٹیکسی ڈرائیور اُسے تُرکی بہ تُرکی جواب دے گا لیکن اس نے مُسکرا کر بڑے دوستانہ طریقہ سے ہاتھ ہلایا

میں نے ٹیکسی ڈرائیور سے کہا ” اُس نے تو تمہاری ٹیکسی کو تباہ کرنے اور ہم دونوں کو ہسپتال بھیجنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی اور تم نے مُسکرا کر اُسے الوداع کہا “۔
ٹیکسی ڈرائیور کہنے لگا “کچھ لوگ محرومیوں یا ناکامیوں یا کُوڑ مغز ہونے کی وجہ سے بھرے ہوئے کُوڑے کے ٹرک کی طرح ہوتے ہیں ۔ جب اُن کے دماغ میں بہت زیادہ کُوڑا اکٹھا ہو جاتا ہے تو جہاں سے گذرتے ہیں گندگی بکھیرتے جاتے ہیں ۔ اور بعض اوقات اچھے بھلے لوگوں پر بھی یہ گندگی ڈال دیتے ہیں ۔ ایسا ہونے کی صورت میں ناراض ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ اپنے اُوپر بُرا اثر لئے بغیر گذر جانا چاہیئے ۔ ورنہ آپ بھی اُس سے لی ہوئی گندگی اپنے ساتھیوں پر اُنڈیلنے لگیں گے“۔

میں نے اُس دن سے ایسے لوگوں کے بے جا سلُوک پر کُڑھنا چھوڑ دیا ہے اور میرے دن اب بہتر گذرتے ہیں ۔ یہ مجھ پر اُس ٹیکسی ڈرائیور کا احسان ہے

جنت میں کس مذہب کے لوگ جائیں گے ؟

سوال تھا کہ جنت میں کس مذہب کے لوگ کے لوگ داخل کئے جائیں گے ۔ یہود ۔ عیسائی یا مسلمان ؟
اس سوال کے جواب کے لئے تینوں مذاہب کے علماء کو مدعو گیا گیا
مسلمانوں کی طرف سے بڑے عالم امام ﻣﺤﻤﺪ ﻋﺒﺪﮦ ۔
عیسائیوں کی طرف سے ایک بڑے پادری اور یہودیوں کی طرف سے ایک بڑے ربی کو بُلا کر ان کے سامنے یہی سوال رکھا گیا کہ جنت میں کون جائے گا ؟ یہودی ۔ عیسائی یا مسلمان ؟

امام محمد عبدہ نے کھڑے ہو کر فرمایا ” اگر یہودی جنّت میں جائیں گے تو ہم بھی جائیں گے کیونکہ ہم سیّدنا موسٰی علیہ السلام پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ کہ انہیں الله تبارک و تعالٰی کی طرف سے اپنے بندوں پر نبی مبعوث کیا گیا ۔ اگر عیسائی جنّت میں جائیں گے تو ہم بھی جائیں گے کیونکہ ہم سیّدنا عیسٰی علیہ السلام پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ کہ انہیں الله تبارک و تعالٰی کی طرف سے اپنے بندوں پر نبی مبعوث کیا گیا ۔ اگر مسلمان جنّت میں گئے تو ہم صرف الله کی رحمت کے ساتھ اکیلے ہی جائیں گے ۔ ہمارے ساتھ کوئی یہودی یا عیسائی نہیں جائے گا کیونکہ انہوں نے ہمارے نبی اکرم سیّدنا محمد صلی الله عليه و آله وسلم کو نہیں مانا اور نہ ہی ان پر ایمان لائے“۔

توکّل ؟

ایک دیہاتی گاؤں سے روزانہ شہر مزدوری کرنے جاتا تھا ۔ وہ فجر کی اذان کے وقت گھر سے نکلتا اور عشاء کی اذان کے وقت واپس پہنچتا ۔ روزانہ 2 بار اُس کا گزر گاؤں کی مسجد کے پاس سے ہوتا ۔ اُس وقت امام مسجد وضو کر رہے ہوتے ۔ وہ مزدور سے کہتے ”روزانہ شہر جاتے ہو ۔ کبھی مسجد میں بھی آ جایا کرو“۔
وہ مزدور کہتا ” مولوی صاحب ۔ میری مُشکلات کا بھی کوئی حل ہے یہاں ؟“
امام مسجد کہتے ”ہاں تمام مُشکلوں کا حل یہاں ہے“۔
یہ سُن کر مزدور چلا جاتا
ایک دن مزدور جلدی واپس آ گیا اور سیدھا امام مسجد کے پاس جا کر کہنے لگا ” مولوی صاحب ۔ راستے میںجو برساتی نالہ آتا ہے میں اُس میں سے گزر کا جاتا ہوں ۔ آج اس میں طغیانی تھی تو مجھے پُل پر سے جانا پڑا ۔ پُل 6 میل دُور ہے اس طرح مجھے 12 میل فالتو چلنا پڑا ۔ شہر بہت دیر سے پہنچا ۔ مجھے مزدوری نہیں ملی ۔ میں اور میرے بیوی بچے بھوکے رہیں گے ۔ کوئی ایسا وظیفہ بتائیں کہ طغیانی ہو اور میں نالے میں سے گزر جاؤں“۔
امام صاحب نے کہا ” بس کلمہ شہادت پڑھو اور چھلانگ لگا دو“۔
یہ کلیہ درست ثابت ہوا اور مزدور نے نماز پڑھنا شروع کر دی
کچھ دن بعد مزدور شہر سے واپس آ رہا تھا تو راستے میں امام صاحب مل گئے ۔ دونوں جب نالے پر پہنچے اس میں طغیانی تھی
امام صاحب بولے ” اب کیا ہو گا“
مزدور نے کہا ” مولوی صاحب ۔ آپ نے خود ہی تو بتایا تھا“ اور کلمہ شہادت پڑھ کر پانی میں چھلانگ لگا دی ۔ امام صاحب نے بھی کلمہ شہادت پڑھا اور چھلانگ لگا دی ۔ مزدور نے دیکھا کہ امام صاحب غوطے کھانے لگے ہیں تو اُنہیں اپنے بائیں بازو میں سنبھالا اور تیرتا ہوا دوسرے کنارے پر پہنچ گیا
باہر نکل کر امام صاحب سے مخاطب ہوا ” مولوی صاحب ۔ کیا ہو ا ؟ کیا کلمہ غلط پڑھا تھا ؟“
امام صاحب جو شرمندہ تھے بولے ” بھائی ۔ تیرا توکّل الله پر درست ہے ۔ میں کلمہ کے معنی پر ہی غور کرتا رہا“۔

سورج اور چاند کون چلاتا ہے ؟

ﺳﻮﺭﺝ ﻓﻀﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﻘﺮﺭ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﭘﺮ ﭘﭽﮭﻠﮯ 5 ﺍﺭﺏ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ 600 ﻣﯿﻞ ﻓﯽ ﺳﯿﮑﻨﮉ ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺑﮭﺎﮔﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ، 9 ﺳﯿﺎﺭﮮ ، 27 ﭼﺎﻧﺪ ﺍﻭﺭ ﻻﮐﮭﻮﮞ میٹرﺍﺋﭧ ‏ﮐﺎ ﻗﺎﻓﻠﮧ ﺍﺳﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺗﮭﮏ ﮐﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺭە ﺟﺎئے ﯾﺎ ﻏﻠﻄﯽ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍِﺩﮬﺮ ﺍُﺩﮬﺮ ﮨﻮﺟﺎئے۔ ﺳﺐ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺍە ﭘﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻡ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺗﺎﺑﻌﺪﺍﺭﯼ ﺳﮯ ﭼﻠﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﮩﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﭼﻼﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ، ﮈﯾﺰﺍﯾﻦ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺫﯾﺰﺍﺋﻨﺮ ﻧﮩﯿﮟ ، ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮐﻮ ﻧﺎﻓﺬ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﻨﭩﺮﻭﻝ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﮐﻨﭩﺮﻭﻟﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺲ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺍﯾﮏ ﺣﺎﺩﺛﮧ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ؟

ﭼﺎﻧﺪ ﺗﯿﻦ ﻻﮐﮫ ﺳﺘﺮ ﮨﺰﺍﺭ ﻣﯿﻞ ﺩﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﮯﺍﺭﺑﻮﮞ کھرﺑﻮﮞ ﭨﻦ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﺮ ﺭﻭﺯ ﺩﻭ ﺩﻓﻌﮧ ﻣﺪﻭ ﺟﺰﺭ ﺳﮯ ﮨﻼﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﺎ ﮐﮧ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﮯ لئے ﮨﻮﺍ ﺳﮯ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺴﯿﺠﻦ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﺭﮨﮯ ، ﭘﺎﻧﯽ ﺻﺎﻑ ﮨﻮﺗﺎ ﺭﮨﮯ ،ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﻌﻔﻦ ﭘﯿﺪﺍ ﻧﮧ ﮨﻮ۔ ﺳﺎﺣﻠﯽ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﮐﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻏﻼﻇﺘﯿﮟ ﺑﮩﮧ ﮐﺮ ﮔﮩﺮﮮ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﺘﯽ ﺟﺎﺋﯿﮟ

ﯾﮩﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺹ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﺭﺍ ﮨﮯ۔ ﭘﭽﮭﻠﮯ 3 ﺍﺭﺏ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﻧﮧ ﺯﯾﺎﺩە ﻧﮧ ﮐﻢ ﻧﻤﮑﯿﻦ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﯾﮏ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺗﻮﺍﺯﻥ ﺑﺮﻗﺮﺍﺭ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮئے ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﮍﮮ ﺳﺐ ﺁﺑﯽ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺗﯿﺮ ﺳﮑﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻻﺷﻮﮞ ﺳﮯ ﺑُﻮ ﻧﮧ ﭘﮭﯿﻠﮯ۔ﺍﻧﮩﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﭩﮭﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﻧﮩﺮﯾﮟ ﺑﮭﯽ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮩﺘﯽ ﮨﯿﮟ ۔ ﺳﻄﺢ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﭩﮭﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﮭﺎﺭﮮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﮐﮭﻠﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﻠﮯ ﮨﻮ ﮰ ﮨﯿﮟ۔ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺍﯾﮏ ﻏﯿﺐ ﭘﺮﺩە ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﭩﮭﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﭩﮭﺎ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﺎﺭﺍ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮭﺎﺭﺍ۔

ﺍﺱ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﻦ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﻋﻘﻞ ﮨﮯ ؟ ﺍﺱ ﺗﻮﺍﺯﻥ ﮐﻮ ﮐﻮﻥ ﺑﺮﻗﺮﺍﺭ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮئے ﮨﮯ ؟
ﮐﯿﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﻮﭺ ﺗﮭﯽ ﯾﺎ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ؟

لا الٰه الا الله

پھول کی فریاد

ہماری شائد ساتويں جماعت کی اردو کی کتاب تھی مرقع ادب اچھی اچھی اور سبق آموز نظمیں تھیں۔ ایک نظم تھی “پھول کی فریاد” مجھے پوری تو یاد نہیں جتنی یاد ہے لکھ دیتا ہوں۔ کوئی صاحب پوری جانتے ہوں تو میرے بلاگ پر لکھ دیں۔ ممنون ہوں گا۔

کیا خطا میری تھی ظالم تو نے کیوں توڑا مجھے
کیوں نہ میری عمر ہی تک شاخ پہ چھوڑا مجھے
خورشید کہتا ہے کہ میری کرنوں کی سب محنت گئی
مہ کو غم ہے کہ میری دی ہوئی سب رنگت گئی
جانتا اگر اس ہنسی کے دردناک انجام کو
میں ہوا کے گدگدانے سے نہ ہنستا نام کو

انسان اور کتا

شیخ سعدی نے گلستان سعدی لکھی یہ ذومعنی چھوٹی چھوٹی کہانیوں کی کتاب میں نے جب پہلی بار پڑھی تو میں آٹھویں جماعت میں تھا۔
اس وقت مجھے وہ بچوں کی کہانیاں لگیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ کہانیاں بھی آگے چلتی گئیں اور میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ یہ کہانیاں ہر عمر کے لئے ہیں اور ان کو پڑھ کر آدمی انسان بن سکتا ہے

آپ فالحال مندرجہ دو کہانیاں پڑھیئے

ایک درویش کے پاس سے ایک بادشاہ کا گذر ہوا۔ درویش کے پاس اس کا کتا بیٹھا تھا
بادشاہ نے مذاق کے طور پر پوچھا ” آپ اچھے ہیں یا آپ کا کتا ؟ “۔
درویش نے جواب دیا ” یہ کتا میرا کہنا مانتا ہے اور میرا وفادار ہے۔ اگر میں اپنے مالک کا وفادار رہوں اور اس کا کہنا مانوں تو میں اچھا ورنہ یہ کتا مجھ سے اچھا ہے “۔

ایک آدمی کو کتے نے کاٹ لیا۔ درد سے اس کے آنسو نکل آئے
اس کی کمسن بچی اسے کہنے لگی ” بابا روتے کیوں ہو۔ کتا آپ سے بڑا تو نہیں ہے۔ آپ بھی اس کو کاٹ لیں”۔
آدمی نے کہا ” بیٹی ٹھیک ہے کہ کتا مجھ سے بہت چھوٹا ہے مگر میں انسان ہوں اور انسان کتے کو نہیں کاٹتا “۔

الله کا شکر کیسے ؟

ایک خاتون کی عادت تھی کہ وہ روزانہ رات کو سونے سے پہلے اپنی دن بھر کی خوشیوں کو ایک کاغذ پر لکھ لیا کرتی تھی
ایک شب اس نے لکھا کہ
میں خوش ہوں کہ میرا شوہر تمام رات زور دار خراٹے لیتا ہےکیونکہ وہ زندہ ہے اور میرے پاس ہے
یہ اللّٰه کا شکر ہے
میں خوش ہوں کہ میرا بیٹا صبح سویرے اس بات پر جھگڑا کرتا ہے کہ رات بھر مچھر،کھٹمل سونے نہیں دیتے یعنی وہ رات گھر پہ ہی گزارتا ہے آوارہ گردی نہیں کرتا
اس پر بھی اللّٰه کا شکر ہے۔
میں خوش ہوں کہ ہر مہینہ بجلی، گیس، پانی،پٹرول وغیرہ کا اچھا خاصا ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے یعنی یہ سب چیزیں میرے پاس میرے استعمال میں ہیں اگر یہ نہ ہوتی تو زندگی کتنی مشکل ہوتی
اس پر بھی اللّٰه کا شکر ہے
میں خوش ہوں کہ دن ختم ہونے تک میرا تھکن سے برا حال ہوجاتا ہے یعنی میرے اندر دن بھر سخت کام کرنے کی طاقت ہے اور یہ طاقت اور ہمت صرف اللّٰه ہی کے فضل سے ہے
میں خوش ہوں کہ روزانہ اپنے گھر کا جھاڑو پونچا کرنا پڑتا ہے اور دروازے کھڑکیاں صاف کرنا پڑتی ہیں شکر ہے میرے پاس گھر تو ہے جن کے پاس نہیں ان کا کیا حال ہوتا ہوگا
اس پر اللّٰه کا شکر ہے
میں خوش ہوں کہ کبھی کبھار تھوڑی بیمار ہو جاتی ہوں یعنی میں زیادہ تر صحت مند ہی رہتی ہوں
اس پر بھی اللّٰه کا شکر ہے
میں خوش ہوں کہ ہر سال عید پر تحفے اور عیدی دینے میں پرس خالی ہو جاتا ہے یعنی میرے پاس چاہنے والے میرے عزیز رشتہ دار دوست احباب ہیں جنہیں تحفہ دے سکوں اگر یہ نہ ہوں تو زندگی کتنی بے رونق ہو
اس پر بھی اللّٰه کا شکر ہے۔
میں خوش ہوں کہ روزانہ الارم کی آواز پر اٹھ جاتی ہوں یعنی مجھے ہر روز ایک نئی صبح دیکھنا نصیب ہوتی ہے۔۔۔
ظاہر ہے یہ اللّٰه کا ہی کرم ہے

جینے کے اس انمول فارمولے پر عمل کرتے ہوئے اپنی بھی اور اپنے سے وابستہ لوگوں کی زندگی پرسکون بنایئے