Category Archives: روز و شب

دعوے اور عمل ؟ ؟ ؟

ڈھونڈنے والا ستاروں کی گذر گاہ کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
اپنی حکمت کے خم و پیچ میں اُلجھا ایسا
آج تک فیصلہ نفع و ضرَر کر نہ سکا
جس نے سورج کی شعاؤں کو گرفتار کیا
زندگی کی شبِ تاریک سحر کر نہ سکا

طبعیت میں نرمی

بہت سے میاں بیوی ذرا سی لچک یا نرمی نہ دکھانے کی وجہ سے اپنا بُرا حال بنا لیتے ہیں ہمیں اپنے ساتھی کو اپنی توسیع نہیں سمجھنا چاہیئے ۔ اُس کی اپنی ایک شخصیت ہوتی ہے اور اپنی پسند یا ناپسند ہوتی ہے ۔ ہمایں باہمی حقوق کو تسلیم کرنا چاہیئے جب تک کہ اس کا دین پر بُرا اثر نہ پڑے ۔ انفرادی معاملات میں اپنی اکڑ قائم رکھےا اور ساتھی کا لحاط نہ رکھے سے گھر کا ماحول بہت کشیدہ اور ذہنی دباؤ کا سبب بنتا ہے

درگزر کرنا

خوشگوار زندگی کا اہم جُزو یہ ہے کہ ازواج ایک دوسرے کی بات کو درگزر کریں ۔ بُغزنہ رکھیں ۔ ناقد نہ بنیں
باہمی تعلقات اور اکٹھے رہنے کے دوران بعض اوقات ایسا موقع آ جاتا ہے جب آدمی کوئی ایس بات یا حرکت کر بیٹھتا ہے جو اُس کے ساتھی کےلئے تکلیف دہ ہو ۔ اس کو پکڑ کر نہیں بیٹھ جانا چاہیئے اور نہ دوسرے کو قصور وار ٹھہرانا چاہیئے بلکہ اے بھُلا دینا چاہیئے
یہ اُسی صورت ممکن ہے کہ ہم غرور میں آ کر دوسرے معافی مانگنے کا نہ کہیں اور خود ہمیں معاف کر دینے میں بُخل نہیں کرنا چاہیئے
رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم صحابہ کرام رضی الله عنہم سے پوچھا ” کیا تم چاہتے ہو کہ الله تمہیں معاف کر دے ؟“
اُنہوں نے کہا ” ضرور یا رسول الله“۔
حضور صلی الله عليه وآله وسلم نے فرمایا ” پھر ایک دوسرے کو معاف کر دیا کرو“۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ الله ہمیں معاف کر دے تو ہمیں دوسروں کو معاف کرنا سیکھنا چاہیئے

اگر ہم اپنے ساتھ سے ذکر کرتے رہیں کہ کتنی بار اُس نے ہمیں شرمندہ کیا ہے یا تکلیف دی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم نے معاف یا درگزر نہیں کیا
جو بات ماضی میں ہوئی اُسے ماضی ہی میں رہنے دینا چاہیئے اور اُس کی یاد نہیں کرنا چاہیئے ۔ یہ طریقہ نہ چھوڑنے والا خود ہی کم مائیگی یا کمینگی کا شکار ہو جاتا ہے اور اُس کا ذہن آزاد نہیں ہو پاتا

ازدواجی زندگی

شادی کا سب سے اہم وصف باہمی اعتبار یا یقین ہے جو شادی کے بندھن کو مضبوط بناتا ہے
اسلام دوسرے مذاہب کیطرح ہفتہ وار عبادت سے منسلک مذہب نہیں ہے ۔ اسلام لائحہءِ حیات ہے جو ہر انسانی عمل پر محیط ہے
باہمی اظہارِ خیال ازواج میں ہم آہنگی پیرا کرتا ہے اور یقین باہمی محبت میں اہم کردار ادا کرتا ہے
رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم کی حدیث ہے ”اگر خاوند اپنی بیوی کے منہ میں ایک نوالہ بھی ڈالتا ہے تو اس کا اجر اُسے ملتا ہے اور الله اُن میں محبت بڑھا دیتا ہے
اگر میاں بیوی صرف الله کی خوشنودی کے لئے آپس میں پیار کرتے ہیں تو ہم اپنا ایمان بڑھا رہے ہوتے ہیں

فخر اور تکبّر

اپنے اِسی بلاگ پر میری 23 اکتوبر 2005ء کی تحریر سے

سورۃ 31 لقمان آیت 18 اور 19
اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر
نہ زمین میں اکڑ کر چل
اللہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا
اپنی چال میں اعتدال اختیار کر اور اپنی آواز ذرا پست رکھ
سب آوازوں سے زیادہ بری آواز گدھوں کی آواز ہوتی ہے

بات چیت

اپنے بلاگ پر میری 16 اکتوبر 2005ء کی تحریر سے

سورۃ 2 البقرۃ آیۃ 42 ۔ باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو

اپنے بلاگ پر میری 19 اکتوبر 2005ء کی تحریر سے

سورۃ 61 الصف آیۃ 2 اور 3 ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ۔ تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہر ؟ االله کے نزدیک یہ سخت نا پسندیدہ حرکت ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں