ہوش پکڑ ۔ اے انسان

اے دانشِ عیّار ۔ خُدا دیکھ رہا ہے
اے خواہشِ سرشار ۔ خُدا دیکھ رہا ہے
اے قلبِ فسُوں کار ۔ خُدا دیکھ رہا ہے
اے دیدہءِ پُر کار ۔ خُدا دیکھ رہا ہے
ہنگامہءِ افکار ۔ خُدا دیکھ رہا ہے
پِنہاں ہے جو اسرار ۔ خُدا دیکھ رہا ہے
رنگین غلافوں میں چھُپاتے ہو جنہیں تُم
روحوں کے وہ آزار ۔ خُدا دیکھ رہا ہے
کِن فتنوں کا ہے قُلزمِ باطن میں تموّج
اے مردِ ریاکار ۔ خُدا دیکھ رہا ہے
جورِ سرِ بازار تو ہے سب کی نظر میں
جُرم پسِ دیوار ۔ خُدا دیکھ رہا ہے
رنگینیءِ گُفتار سے مسحُور ہے محفل
اور غایتِ گفتار ۔ خُدا دیکھ رہا ہے
جَلوت میں تو کُچھ پاس رہا خلقِ خدا کا
خَلوت میں بھی سَرکار ۔ خُدا دیکھ رہا ہے
صَد ہا یہ مقامر کہ بھُلا بیٹھے خدا کو
کیا جِیت ہے،کیا ہار ۔ خُدا دیکھ رہا ہے
اِیمان کا عنوان لگا رکھا ہے جس پر
وہ جذبہءِ بِیمار ۔ خُدا دیکھ رہا ہے
دُنیا تیرے کرتُوت کو دیکھے کہ نہ دیکھے
اے مردِ ڈرامہ باز ۔ خُدا دیکھ رہا ہے

This entry was posted in پيغام, روز و شب, طور طريقہ, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)