بے پردہ لڑکی

اگر آپ کو کوئی مسلمان لڑکی نظر آئے جس نے لباس اسلامی شرع کے مطابق نہ پہن رکھا ہو تو ایک لمحہ کیلئے بھی یہ خیال نہ کریں کہ وہ اسلامی ترازو پر آپ سے کم وزن رکھتی ہے
اگر آپ نے ایسا کیا تو اس کا مطلب ہو گا کہ آپ کا درجہ اُس لڑکی سے کم تر ہے
یقین کریں کہ اسلام کی تعلیم یہی ہے
کیا معلوم اُس لڑکی کا اللہ سے آپ کی نسبت بہتر رابطہ ہو اور اُس کا دل آپ کے دل سے کہیں بہتر ہو کیونکہ آپ اس بارے میں نہیں جانتے
شاید غیر شرعی لباس ہی اُس کی واحد کمزوری ہو اور آپ میں اس لڑکی سے کہیں زیادہ خامیاں ہوں

مفتی اسمٰعیل منک

This entry was posted in پيغام, دین, روز و شب, طور طريقہ, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

7 thoughts on “بے پردہ لڑکی

  1. سیما آفتاب

    السلام و علیکم ورحمتہ اللہ
    کاش ہم اس طرح سوچنے لگیں!!!
    بالکل کسی کا اللہ کی نظر میں کیا مقام ہے یہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
    جزاک اللہ

  2. Beenai

    جناب افتخار اجمل صا حب،
    السلام و علیکم
    امید ہے کہ آ پ بخیریت ہوں گے۔
    مفتی صاحب کی رائے پڑھ کے بہت اچھا لگا۔
    ورنہ یہاں فتوے لگانے والے کم نہیں۔

    میں حتی الامکان خود کودوپٹے سے ڈھانپ کے رکھتی ہوں
    لمبی آستین پہنتی ہوں۔
    جسم سے چپکا ہوا پاجامہ جو آج کل پاکستان میں فیشن ہے ، نہیں پہنتی۔
    مگر میں بر قعہ یا چادر بھی نہیں لیتی۔
    اب ایسے میں مجھے پر دہ دار کوئی نہیں کہے گا
    لیکن میرا اللہ ہی جانتا ہے کہ میں کیا ہوں؟

    مذکورہ مفتی صا حب کی کوئی تصنیف ہو تو براہ کرم مطلع فرمائیں
    اس دوران میں انٹر نیٹ پہ تلاش کر نےکی کوشش کرتی ہوں

    سارے بگاڑ کی وجہ ہی یہ ہے کہ ہم نے پیمانے اپنے ہاتھ میں لے لئے ہیں۔
    ان مفتی صا حب کی بات سے سوفیصد اتفا ق ہے۔

  3. سیما آفتاب

    السلام و علیکم ورحمتہ اللہ
    بینا ٹھیک کہا آپ نے ۔۔ ہمارے ہاں عموماََ پردہ دار اس کو ہی کہا جاتا ہے جو سر سے پیر تک برقعے یا چادر میں ملبوس ہو جبکہ اگر آپ کا لباس شرعی تقاضوں کو پورا کرتا ہو تو میرے خیال میں وہ بھی پردے میں ہی شمار ہوگا (اللہ بہتر جانتا ہے) مگر برقعے والیاں بغیر برقعے والیوں کو اپنے سے کم تر سمجھیں تو بقول مفتی صاحب “آپ اس سے ایک درجہ کم پر آگئیں” سو ہمیں اس بحث میں پڑنے کے بجائے اپنے آپ کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہئیے۔ ۔۔۔۔ مفتی صاحب کی ویب سائٹ یہ رہی ۔۔ http://www.muftimenk.com/

  4. Nazneen khan

    Mohtram Ustaz Iftiqar Ajmal sahab

    Salam e masnoon

    Ismail ibn Musa Menk also known as Mufti Menk born in Zimbabwe is a Muslim Cleric and a current Mufti of Zimbabwe. What Sheikh Menk has described in this blog is absolutely right. The grand mufti issues legal opinions and edicts, fatawa, on interpretations of islamic jurisprudence for private clients or to assist judges in deciding cases. The collected opinions of the Grand Mufti serve as a valuable source of information on the practical application of islamic law as opposed to its abstract formulation. Please bear in mind, The Grand Mufti’s fatwa’s are not binding precedents in areas of civil laws regulating marriage, divorce and inheritance. All though he is a Grand Mufti..

    Nazneen khan

  5. Nazneen khan

    محترمی

    سلامِ مسنون

    میری پیاری بہنیں سیماء آفتاب صاحبہ اور محترمہ بینائی صاحبہ کو سلام عرض ہے. دونوں بہنوں نے ماشااللہ اچھا تبصرہ پیش فرمایا ہے.

    فقط

    نازنین خان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)