بادشاہی مسجد لاہور

میری ڈائری میں 27 جنوری 1957ء کی تحریر
زمین سے مسجد کے صحن کے فرش تک 24 سیڑھیاں ہیں
مینار کی 183 سیڑھیاں ہیں

بادشاہی مسجد لاہور مُغل بادشاہ ابو المظفر محی الدین محمد اورنگ زیب (1658ء تا 1707ء) نے تعمیر کرائی ۔ اس کی تعمیر 1671ء میں شروع ہوئی اور 1673ء میں مکمل ہوئی ۔ یہ پاکستان اور جنوبی ایشیا میں دوسری سب سے بڑی اور دنیا میں پانچویں سب سے بڑی مسجد ہے ۔ حکومتِ پاکستان نے 1993ء میں اسے دنیا کے ورثہ میں شامل کرنے کیلئے یونیسکو کو درخواست کی ۔

سکھوں کے دورِ حکومت (1799ء تا 1849ء) میں اسے فوج کے گھوڑوں کا اصطبل بنا دیا گیا تھا ۔ برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1849ء میں لاہور کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد اس کے استعمال میں تبدیلی نہ کی اور ملحقہ شاہی قلعے کو ملٹری گیریزن کے طور پر استعمال میں رکھا ۔ مسجد کی چار دیواری میں سے تین میں 80 ہُجرے جو طُلباء کے مطالعہ کیلئے تھے انہیں سکھوں نے ملٹری سٹور کے طور پر استعمال کیا ۔ برطانوی حکومت نے اس خدشے پر انہیں مسمار کر دیا کہ کہیں انہیں برطانیہ مخالف سرگرمیوں کیلئے استعمال نہ کیا جائے اور وہاں کھُلے دلان بنوا دیئے تھے جو آج تک موجود ہیں ۔ مسجد کے غلط استعمال سے عمارت کو کافی نقصان پہنچا تھا ۔ انگریزوں نے مسمانوں میں پھیلتے غم و غصے کو بھانپ کر 1852ء میں ایک بادشاہی مسجد بحالی اتھارٹی بنائی ۔ 1852ء کے بعد کبھی کبھی تھوڑی تھوڑی مرمت کا کام ہوتا رہا ۔ جب 1939ء میں سکندر حیات خان وزیرِ اعلٰی پنجاب بنا تو اُس نے مسلمانوں سے مرمت کیلئے چندہ اکٹھا کیا اور مرمت کے کام میں تیزی آئی تھی ۔ مرمت اور زیبائش کا زیادہ کام پاکستان بننے کے بعد ہوا

This entry was posted in آپ بيتی, معلومات on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

4 thoughts on “بادشاہی مسجد لاہور

  1. Bushra khan

    محترمی و مکرمی

    سلام مسنون

    معزرت کے ساتھ عرض ہےکہ ماہ رمضان میں میں اپنا موبائل بند کی ہوئی تھی.

    اب دیکھتی ہوں تو آپ کی نیک دعاوں سے بھرپور تحریر پڑھ کر بہت خوشی ہوئی. آپ کی نیک دعاوں پر آمین ثم آمین.

    آپ کا شکریہ کہ آپ نے یاد رکھا. جواب نہ پاکر پتہ نہیں آپ نے کیا سوچا ہوگا.

    اللہ آپ کے سارے پریوار کو اچھا رکھے. اور ان پر آپ کا سایہ برقرار رکھے. آمین.

    وسلام

    بشریٰ خان

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    بشریٰ خان صاحبہ ۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ
    جی میں نے مبارک بھیجی تھی جواب نہیں مانگا تھا اسلئے پریشان یا پشیمان ہوں کی ضرورت نہیں
    آپ نے نیا ٹیلیفون لینے کا ذکر کیا تھا ۔ کیا لے لیا ؟ اور کیا اس میں اُردو لکھنے کی سہولت ہے ؟

  3. Bushra khan

    محترمی و مکرمی

    سلام مسنون

    آج خیال آیا آپکی سابقہ تحاریر بھی دیکھی جائیں یہ سوچ کر آپکی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی تحریر “ثقافت و تحزیب” سے میں نے ابتدا کی ہے.

    ماشااللہ بہت دلچسپ و عمدہ اور بہت معلوماتی تحریر ہے. ثقافت و تہزیب کا فرق میں خود بھی مبہم سا جانتی تھی آپ کی تشریح طلب تحریر پڑھنے سے پہلے. غیر قوموں اور اسلام کا تقابلی جائزہ واضح مثالوں کے ساتھ بہت خوب پیش کیا ہے آپ نے. جس سے آپ کا اپنے بارے میں اسلام کا کان سیپٹ اور اس کی spirit کیا ہے یہ بھی واضح ہوتاہے کہ آپ سرسری و سطحی نہیں بلکہ گہرا علم رکھ کر اپنی بات پیش فرماتے ہیں.

    آپ کی اس عمدہ تحریر کو “واٹس ایپ” کے تھرو اپنے حلقہ احباب میں بھی شیر کررونگی آپ کے نام کے حوالہ کے ساتھ. یقیناً اس سے فائدہ پہنچے گا. یہ ایک نئی تحریر ہوگی پڑھنے والوں کے لیئے.

    اللہ آپ کو جزائے خیر سے نوازے.

    املہ کی غلطی کی نشاندہی کیجیے گا.

    وسلام

    بشریٰ خان

    * جی میں ذکر کرنا بھول گئی ابھی نیاموبائل نہیں لی. آپ کی زحمت کا شکریہ. “ون پلس ون” 8.9mm فیچرز ٹھیک ہیں. بٹ دا پرابلم از
    Eye was using iPhone mf354zp/a. + MI 2 Android. OnePlus one iz 2 big for me to carry n hande. For time being MI 2 Android is in use.

  4. افتخار اجمل بھوپال Post author

    بُشریٰ خان صاحبہ – السلام علیکم و رحمۃ اللہ
    حوصلہ افزائی کا شکریہ ۔ اللہ کی کرم نوازی ہے کہ مجھے یہ تحریر لکھنے کی توفیق دی ۔ ثقافت و تہذیب کے بارے میں تحقیق کرنے کا خیال مجھے اسلئے آیا تھا کہ میں خود انہیں سمجھ نہیں پا رہا تھا ۔ ذرائع ابلاغ (میڈیا) میں جو کچھ بتایا جاتا تھا اُسے میرا ذہن نہیں مانتا تھا کیونکہ میرا عقیدہ ہے کہ اسلام انسانی فطرت کا دین ہے چنانچہ اسے ثقافت و تہذیب کا احاظہ کرنا چاہیئے ۔ اللہ کی مہربانی سے میں تاریخی اور کتابی حوالوں سے یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہا ۔ آپ نے درست لکھا ہے کہ یہ نئی تحریر ہو گی کیونکہ پچھلی سات آٹھ دہائیوں میں ثقافت اور تہذیب پر لکھی کوئی عبارت باوجود تلاش کے مجھے نہیں ملی ۔ باقی باتین اتی ہیں اسلئے اُن کا جواب اِن شآء اللہ بذریعہ ای میل دوں گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)