جذبہءِ انسانی خدمت

رُدھ کیتھرِینا مارتھا پفاؤGerman doctor (Ruth Katharina Martha Pfau) 9 ستمبر 1929ء کو جرمنی (Deusheland) کے شہر لائپزِگ (Leipzig) میں پیدا ہوئی 10 سے 18 سال کی عمر میں دوسری جنگِ عظیم کی ہولناکیاں دیکھتی رہی ۔ جرمنی پر اتحادی فوجیوں (برطانیہ ۔ امریکہ ۔ روس وغیرہ) نے اتنے بم برسائے تھے کہ سارا ملک جرمنی ملبے کا ڈھیر بن گیا تھا اور لاکھوں شہری ہلاک ہو گئے تھے ۔ ایسے میں لائپزگ میں بھی ملبہ کے سوا کچھ نہ رہا تھا ۔ جنگ ختم ہونے کے بعد بندر بانٹ ہوئی اور جرمنی کو مشرقی اور مغربی ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا ۔ 1948ء میں رُدھ کیتھرِینا چھُپ کر مشرقی سے مغربی جرمنی پہنچ گئی جہاں مائنس (Mainz) اور ماربُرگ (Marburg) کی یونیورسٹیوں میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کی ۔ اس کے بعد اُس نے کیتھولک ادارہ دُخترانِ قلبِ مریم (Daughters of the Heart of Mary) میں شمیولیت اختیار کی جس نے رُدھ کیتھرِینا کو بھارت میں ایک تبلیغی مرکز بھیجا لیکن ویزہ سے متعلق کسی مسئلہ کی بناء پر 8 مارچ 1960ء کو اُسے کراچی میں رُکنا پڑ گیا جہاں اُسے جزام ( کوڑھ ۔ leprosy) کے بارے میں ہونے والا کام دکھایا گیا ۔ کراچی میں میکلیوڈ (اب آئی آئی چندریگر ) روڈ پر قائم جزام کے مریضوں کی کالونی (عُرفِ عام میں کوڑھی احاطہ) کے دورہ نے رُدھ کیتھرِینا کو بہت افسردہ کیا اور اس نے وہاں کام کرنے والے رضاکاروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا ارادہ کر لیا اور پاکستان کی ہی ہو کر رہ گئیں

1961ء میں رُدھ کیتھرِینا جزام کے علاج کے سلسلے میں بھارت کے جنوبی شہر ویلور سے تربیت حاصل کر کے آئی ۔ ڈاکٹر رُدھ کیتھرِینا مارتھا پفاؤ کے تعاون میں ایک پاکستانی ماہر امراضِ جلد ڈاکٹر زرینہ فضل بھائی نے 1965ء میں جزام کے علاج کیلئے ضمنی (paramedical) کارکنوں کی تربیت شروع کی ۔ 1971ء میں ڈاکٹر رُدھ کیتھرِینا نے صوبائی حکومتوں کے تعاون سے جزام کے علاج کا دائرہءِ کار بلوچستان ۔ سندھ ۔ خیبر پختونخوا ۔ آزاد جموں کشمیر اور شمالی علاقہ جات تک بڑھا دیا ۔ 1979ء میں وفاقی حکومت نے اُسے جزام کے سلسلہ میں وزارتِ صحت و سماجی بہبود کا مشیر مقرر کر دیا ۔ 1996ء تک اللہ کے فضل سے پاکستان میں جزام کے مرض پر مکمل قابو پا لیا گیا ۔ 2006ء میں ڈاکٹر رُدھ کیتھرِینا مارتھا پفاؤ سب کام ماری ایڈلیڈ لیپروسی سینٹر (Marie Adelaide Leprocy Center) کے چیف ایگزکٹِو کے حوالے کر کے اس کام سے علیحدہ ہو گئیں

ڈاکٹر رُدھ کیتھرِینا مارتھا پفاؤ نے پاکستان اور افغانستان میں اپنے کام کے متعلق جرمن زبان مین 4 کتابیں لکھیں جن میں سے ایک شمع روشن کرو (To Light a Candle) کا 1987ء میں انگریزی ترجمہ ہوا ۔ ڈاکٹر رُدھ کیتھرِینا مارتھا پفاؤ پہلی بار 1984ء میں افغانستان گئیں تھیں ۔ 8 مارچ 2010 کو ان کے پاکستان میں 50 سال مکمل ہوئے ۔ انہیں مندرجہ ذیل انعامات سے نوازا جا چکا ہے

1968: The Order of the Cross from Germany.
1969: Sitara-e-Quaid-e-Azam from Government of Pakistan
1979: Hilal-e-Imtiaz from Government of Pakistan
1985: The Commanders Cross of the Order of Merit with Star from Germany
1989: Hilal-e-Pakistan from Government of Pakistan
1991: Damien-Dutton Award from USA
1991: Osterreischische Albert Schweitzer Gasellschaft from Austria
2002: Ramon Magsaysay Award from Government of Philippines
2003: The Jinnah Award from the Jinnah Society Pakistan
2003: In The Name of Allah Award by Idara Wiqar-e-Adab Pakistan
2004: Honorary Degree of Doctor of Science (D.Sc.) from Aga Khan University
2004: Life-time Achievement Award from the Rotary Club of Karachi
2005: Marion Doenhoff-Prize, Germany
2006: Life-time Achievement Award from the President of Pakistan
2006: Woman of the Year 2006 Award by CityFM89
2006: Certificate of Appreciation from the Ministry of Health
2009: Nesvita Women of Strength Awards by TVONE
2009: Life-time Achievement Khidmat Award by Al-Fikar International.
11th March, 2010 – Shield presented by Dr. Saghir Ahmed, Minister Health, Government of Sindh for completion of 50 years of Selfless and Meritorius Service for the Patients of Leprosy.
12th March, 2010 – Shield presented by Staff & Students of Happy Home School in appreciation of 50 years of meritorius services for the Eradication of Leprosy in Pakistan.
12th March, 2010 – Shield presented by Dawood Capital Management Limited on winning the LADIESFUND Woman of the Year Award.
2nd February, 2011 – Lifetime Achievement Award 2011 presented by the International Schools Educational Olympiad, orgaised by Karachi High School.
12th February, 2011 – LADIESFUND woman of the Year Award.
23rd March, 2011 – “Nishan-i-Quaid-i-Azam” Award presented by the President of Pakistan.

This entry was posted in روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)