میں نے بولنا کیسے سیکھا

کالج پہنچنے تک میں سوائے اپنے چند قریبی دوستوں اور بہن بھائیوں کے کسی کے سامنے بولتا نہیں تھا ۔ اساتذہ اور بڑوں کے سامنے جان جاتی تھی ۔ اگر کوئی بزرگ موجود ہوں تو میں اپنے بہن بھائیوں سے بھی بات نہ کرتا تھا ۔ کچھ قریبی عزیز بزرگ تو کہا کرتے تھے ” اجمل ۔ تمہارے بولنے میں پیسے خرچ ہوتے ہیں ؟“ میں اس کا بھی کوئی جواب نہ دے پاتا تھا

گیارہویں جماعت میں گارڈن کالج راولپنڈی میں داخل ہوا ۔ کالج میں دو ادبی (literary) کلب تھیں ۔ ہر طالب علم از خود ان کا رُکن بن جاتا تھا ۔ جس کا رول نمبر جُفت ہو وہ منروا (Minerva) کلب کا اور جس کا طاق ہو وہ بار (Bar) کلب کا ۔ سو میں منروا کلب کا رکن تھا جس کے سرپرست پروفیسر خواجہ مسعود تھے جو ہمیں ریاضی پڑھاتے تھے ۔ ہمارا پہلا پیریڈ ریاضی کا ہوتا تھا ۔ خواجہ مسعود صاحب نام بُلا کر حاضری لیا کرتے تھے ۔ ہماری جماعت میں 3 افتخار تھے افتخار علی ۔ افتخار احمد اور میں ۔ خواجہ مسعود صاحب پہلے کو علی دوسرے کو افتخار اور مجھے بھوپال کہتے تھے ۔ یہیں سے میرا نام بھوپال زبان زدِ عام ہوا ۔ گیارہویں میں دوسرا مہینہ تھا کہ پروفیسر خواجہ مسعود صاحب نے مجھے حُکم دیا ” بھوپال ۔ تم 2 ہفتے بعد کالج اسمبلی میں تقریر کرو گے ۔ چلو میں تم سے رعائت کرتا ہوں کہ موضوع تمہاری پسند کا ہو گا“۔

میرے تو جیسے پاؤں کے نیچے سے زمین سِرک گئی ۔ وہاں تو بول نہ سکا ۔ حلق ہی بند ہو گیا تھا ۔ سارا دن بڑی مُشکل سے گزارا ۔ چھُٹی تک ہمت اِدھر اُدھر سے اکٹھی کی اور پروفیسر صاحب کے دفتر میں جا کر عرض کی ”سر ۔ میں نے تو آج تک 10 لڑکوں کے سامنے کچھ پڑھا نہیں ۔ آدھے کالج کے سامنے تقریر ۔ ۔ ۔“ باقی حلق ہی میں رہ گیا ۔ میں نے بڑی مشکل سے جو ہمت اکٹھی کر کے باندھی تھی وہ نجانے کہاں چلی گئی تھی ۔ پروفیسر صاحب نے فیصلہ سُنا دیا ”میٹرک میں تم نے سکالرشپ لیا ۔ پچھلے ڈیڑھ ماہ میں 5 ٹیسٹ لئے ۔ 3 میں اول 2 میں دوم آئے ۔ تقریر کرنا کونسا مُشکل ہے ۔ جاؤ تیاری کرو ۔ اچھا ۔ کچھ پوچھنا ہوا تو بتا دوں گا“۔

تین دن سوچتے گذر گئے کہ کیا کروں ؟ کہاں جاؤں ؟ اپنے آپ کو ڈانٹ پلائی کہ 3 دن ضائع کر دیئے پھر کاپی پنسل پکڑ کر بیٹھ گیا لیکن ذہن بے بس کہ تقریر کیا لکھوں ؟ یہ ۔ نہیں ۔ وہ اچھا ہے ۔ نہیں نہیں ۔ یہ بھی مشکل ہے ۔ دل ہی دل میں مُشکل کُشا سے التجاء کی ۔ پھر لیٹ گیا ۔ اچانک میرے مولا نے دماغ میں ڈالا

وَ اعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوۡا ۔ ترجمہ ۔ اللہ تعالٰی کی رسی کو سب ملکر مضبوط تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو ۔ (سورت ۔ 3 ۔ آل عمران ۔ آیت 103)

تھوڑا سا دماغ پر زور دیا تو موضوع بنا ” قومیت بنظریہ اسلام“۔
ہیں ؟ مگر لکھوں گا کیا ؟ میں اُٹھ کر بیٹھ گیا ۔ پنسل ہاتھ میں اور کاغذ گتے پر سامنے ۔ خیر کافی تگ و دو کے بعد دماغ کچھ کام کرنے لگا اور جو اُوٹ پٹانگ دماغ میں آیا لکھ ڈالا ۔ ایک دن اس کی ترتیب درست کرنے میں لگا ۔ تیسرے روز پروفیسر صاحب کو دکھانے لے گیا تو اُنہوں نے دیکھنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ”اب مقررہ دن کو ہال ہی میں سنُوں گا ۔ چلو ایک ہِنٹ (hint) دے دیتا ہوں ۔ گھر میں آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر ایک بار بول لینا“۔

اگلے دن تقریر کو دو تین بار پڑھا اور نوک پلک درست کی ۔ پھر اکیلے میں آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر تقریر کرنے لگا تو یہ دنیا کا سب سے مُشکل کام پایا ۔ 3 دن اس کوشش میں گذرے ۔ جب احساس ہوا کہ باقی 6 دن رہ گئے ہیں تو ہواس باختہ ہونے کو تھے کہ خیال ہی خیال میں مقوّی القلب معجون کھائی اور آئینے کے سامنے ڈٹ گیا کہ آج تو کشمیر فتح کر ہی لینا ہے ۔ اللہ اُن کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں ۔ سو تیسری کوشش میں اللہ نے مہربانی فرمائی اور میں نے پوری تقریر آئینے میں اپنی شکل دیکھتے پڑھ ڈالی

آخر یومِ حساب (تقریر کا دن) آ گیا ۔ ایک انجانے خوب کے زیرِ اثر پورے 8 بجے ہال میں داخل ہوا ۔ ہال لڑکوں سے بھرا ہوا تھا ۔ لگ بھگ 300 لڑکے تھے جن میں کئی مجھ سے کافی بڑے تھے ۔ جو جگہ خالی نظر آئی بیٹھ گیا ۔ سرپرست (پروفیسر خواجہ مسعود) صاحب آئے اور سیدھے سٹیج پر پہنچ کر اپنی ڈائری کھولی پہلے مقرر کو بُلانے کیلئے ۔ میرا دل ایسے دھڑکنے لگا جیسے کارٹون میں ٹام کے نرغے میں آنے پر جیری کا دھڑکتا ہے ۔ تھرڈ ایئر کے لڑکے کا نام پکارا گیا تو میری سانس بحال ہوئی ۔ اُس نے تقریر شروع کی ۔ آدھے منٹ بعد کچھ بھول کر کاغذ سے پڑھا ۔ ہُوٹنگ شروع ہوئی جو وقفے وقفے سے جاری رہی ۔ شور کی وجہ سے تقریر کم ہی سمجھ آئی ۔ اس کے بعد سیکنڈ ایئر کے لڑکے کا نام پکارا گیا ۔ اُس کا بولنے کا طریقہ کچھ مسکین سا تھا ۔ لڑکوں نے اس سے خوب فائدہ اُٹھایا اور ایک لفظ سُننے نہ دیا ۔ وہ سٹیج سے اُترا تو گویا میری سانس رُک گئی لیکن آرٹس (آجکل ہیومینِٹیز) کے فرسٹ ایئر کے طالبعلم کا نام بولا گیا اور میری جان میں جان آئی ۔ یہ صاحب ہمارے مکان سے ملحقہ مکان کے باشندے تھے ۔ اُنہوں نے سیدھے سیدھے کاغذ ہاتھ میں پکڑا اور جیٹ ہوائی جہاز کی رفتار سے پڑھنا شروع کر دیا ۔ لڑکوں نے شور مچایا ۔ مِنتیں کیں لیکن بے سود ۔ 5 منٹ کا وقت ختم ہو گیا تو پروفیسر صاحب نے گھنٹی بجائی پھر بجائی ۔ تیسری گھنٹی بجنے کے بعد موصوف اپنے کاغذ سنبھالتے ہوئے سٹیج سے اُترے

ہال میں سرپرست پروفیسر صاحب کی آواز گونجی ”افتخار اجمل بھوپال“۔
میں نے دل کو سمجھایا ”بیوقوف نہ بن ۔ آج تیری عزت یا ذلت کا فیصلہ ہونا ہے ۔ یہ سب تو بیوقوف بیٹھے ہیں ۔ ڈٹ جا ان کے سامنے“۔
اور اپنی ٹانگوں کو گھسیٹتا ہوا سٹیج پر پہنچا ۔ پوری تقریر والے کاغذ میز پر رکھے اور چھوٹا پُرزہ جس پر موٹی موٹی باتیں لکھی تھیں ہاتھ میں پکڑ کر تن کر کھڑا ہو گیا (اندر سے جان نکلی ہوئی تھی)۔ ہال میں بیٹھے لڑکے دھُندلے سائے نظر آ رہے تھے ۔ سامنے کی دیوار پر چھت کے قریب نظر رکھتے ہوئے دل میں بسم اللہ الرّحمٰن الّرحیم پڑھا اور بولا
جنابِ صدر ۔ میرے سنیئر دوستو اور ہمجماعت ساتھیو
آج میرا موضوع ہے ” قومیت بنظریہ اسلام“
چند آوازیں اُبھریں جو مجھے سمجھ نہیں آئیں (کانوں میں سائیں سائیں ہو رہا تھا) ۔ بعد میں معلوم ہوا کہ کہا گیا تھا ” اوئے مولوی ۔ حدِ ادب مولانا وعظ کرنے لگے ہیں ۔ وغیرہ“۔
میں نے تقریر شروع کی ۔ بمُشکل آدھا منٹ گذرا تھا کہ آوازیں بند ہو گئیں ۔ میں نے ہمت کر کے نظر تھوڑی نیچے کی تو مجھے ایک لڑکا نظر آیا جس نے اُنگوٹھا اُوپر کر کے میری حوصلہ افزائی کی ۔ میں نے دلیر ہو کر باقی لڑکوں پر نظر ڈالنے کی کوشش کی ۔ مجھے سب اپنی طرف متوجہ نظر آئے ۔ پھر کیا تھا ۔ میں نے ایک منجھے ہوئے مقرر کی طرح کبھی اِدھر کبھی اُدھر دیکھتے اور ہاتھ ہلاتے ہوئے بھرپوری تقریری اداکاری کی ۔ پونے پانچ منٹ بعد جب میری تقریر ختم ہوئی تو ہال تالیوں سے گونج اُٹھا ۔ کچھ لڑکے تو کھڑے ہو کر تالیاں بجا رہے تھے ۔ میرے چہرے پر پہلی بار مسکراہٹ اُبھری ۔ میں سٹیج سے اُتر کر اپنی نشست پر پہنچا تو میرے دوستوں نے کھڑے ہو کر بھرپور تالیوں سے میرا استقبال کیا ۔
جب میں بیٹھ چکا تو پروفیسر صاحب نے جذباتی طریقہ سے اعلان کیا ”بھوپال اس مہینے کا بہترین مقرر قرار پایا ہے ۔ ایسی 7 تقریروں پر اسے بہترین مقرر کی شیلڈ دی جائے گی“۔ ہال پھر تالیوں سے گونج اُٹھا

اس دن اللہ سُبحانُہُ و تعالیٰ نے مجھ پر ایسی مہربانی کر دی کہ میں نڈر ہو گیا اور بڑی بڑی محفلوں میں بھی اپنا مدعا بیان کر کے لوگوں کو قائل کرنے لگا ۔ انجنیئرنگ کالج سے فراغت کے بعد مختلف موضوعات پر تحقیق کرتا اور قومی سطح کی محفلوں میں تقریر کرتا ۔ اللہ کی مزید کرم فرمائی ہوئی اور ایک گمنام اجمل بھوپال پاکستان کے تعلیم یافتہ حلقوں میں پہچانا جانے لگا ۔ اللہ نے چھپر پھاڑ کے عنایات مجھ پر برسائیں اور 1970ء تک میرا نام مغربی جرمنی کے انجنیئرنگ حلقوں میں جانا پہچانا ہو گیا اور 1980ء تک لبیا اور بیلجیئم کے انجنیئرنگ حلقوں میں بھی معروف ہوا
اس کیلئے میں اپنے پیدا کرنے والے کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے ۔ سچ ہے ہر انسان کیلئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی (سورت 53 النّجم آیت 39)
سب کچھ دیا ہے اللہ نے مجھ کو ۔ میری کوئی بھی چیز نہیں ہے
یہ کرم ہے میرے اللہ کا ۔ مجھ میں تو ایسی کوئی بات نہیں ہے

This entry was posted in آپ بيتی, طور طريقہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

4 thoughts on “میں نے بولنا کیسے سیکھا

  1. شان علی

    بہت خوب، پڑھ کر بہت اچھا لگا، ااپنا بھی کچھ ایسا ہی حال ہے، اللہ کرے کہ ایسا کوئی موقع ملے کہ زباں رواں ہو جائے۔

  2. wahaj d ahmad

    aI thought you were talking about learning to speak as a child. hahah
    very good experience but I was not so good on my first speech in high school

  3. کاشف

    مجهے ایک لمبا عرصه اس موضوع سے دلچسپی رہی. اگلا بلاگ تقریر کرنے کے اصولوں پر لکهیں.

  4. افتخار اجمل بھوپال Post author

    کاشف صاحب
    تقریر تیاری کرنے کا سب سے اہم اصول موضوع کے متعلق کھُلے ذہن سے مطالعہ ہے جس کے بعد پڑھے گئے مضامین میں سے کچھ نقل کرنے کی بجائے خود سے تقریر لکھی جائے ۔ لکھنے کے بعد اس کا مطالعہ نقاد کی حثیت میں کیا جائے اور اپنی لکھی تقریر کی نوک پلک درست کی جائے ۔ اس صورت میں تقریر کرتے ہوئے کاغذ کو بار بار دیکھنا نہیں پڑتا ۔ الحمدللہ میں نے ہمیشہ فی البدیعہ تقریر کی
    میں آپ کی فرمائش مضمون لکھ کر شائع کر دیتا لیکن اس وقت میرے پاس اپریل 2015 تک کیلئے لکھے ہوئے مضامین شاعئع ہونے کے منتظر ہیں جن میں سے اکثر کا میں نے مختلف اصحاب سے وعدہ کر رکھا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)