سچے قائد کی یاد میں

آج 11 ستمبر ہے ۔ 66 سال قبل یہی تاریخ تھی کہ ہند و پاکستان کے مسلمانوں کا عظیم رہنما اس دارِ فانی سے ملکِ عدم کو کوچ کر گیا
مجھے وہ وقت یاد ہے جب اپنے عظیم قائد کی رہنمائی میں مسلمانانِ ہند کی جد و جہد میں اپنا حصہ ڈالنے کیلئے میں نے 1947ء میں تیسری جماعت کا طالب علم ہوتے ہوئے کالج کے لڑکوں کے جلوس میں شامل ہو کر نعرے لگائے تھے
بن کے رہے گا پاکستان
لے کے رہیں گے پاکستان ۔
What do you want – Pakistan
پاکستان کا مطلب کیا ؟ لا الہ الاللہ
مسلم لیگ کے راہنماؤں کی طرف سے یہ خصوصی اجازت ہمیں صرف ایک دن کیلئے ایک مخصوص علاقہ کے اندر دی گئی تھی ۔ ہر بچے نے بڑے جوش و خروش کے ساتھ نعرے لگائے تھے

قائدِ اعظم کی خواہشات اور ارادوں کے مطابق
نہ ہم اپنے ملک پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنا سکے
نہ ہم اپنے ملک پاکستان کو ایک خودار ۔ باوقار اور ایماندار قیادت دے سکے
نہ ہم اپنے ملک پاکستان کو جدید ۔ ترقی یافتہ اور پُرامن ملک بنا سکے

کوئی ہے جو ہم سے نام نہاد ترقی اور تبدیلی کے کھوکھلے نعرے لے لے
کوئی ہے جو ہم سے بدامنی اور مذہب یا روشن خیالی کے نام پر کی جانے والی انتہاء پسندی لے لے
کوئی ہے جو ہمیں ہمارا 1948ء والا غیر ترقی یافتہ لیکن خلوص بھرا پاکستان واپس کر دے
کوئی ہے جو ہمیں قائد اعظم کا پاکستان واپس کر دے

ہمیں 1948 کا پاکستان چاہئیے

مزمل ریاض شیخ کی 2007ء میں لکھی گئی تحریر

کابینہ کااجلاس تھا، اے ڈی سی نے پوچھا سر اجلاس میں چائے پیش کی جائے یا کافی، چونک کر سر اٹھایا اورسخت لہجے میں فرمایا ”یہ لوگ گھروں سے چائے کافی پی کر نہیں آئیں گے، اے ڈی سی گھبرا گیا، آپ نے بات جاری رکھی ”جس وزیر نے چائے کافی پینی ہو وہ گھر سے پی کر آئے یا پھر واپس گھر جا کر پیئے قوم کا پیسہ قوم کے لئے ہے وزیروں کے لئے نہیں۔“ اس حکم کے بعد کابینہ کے اجلاسوں میں سادہ پانی کے سوا کچھ پیش نہ کیا گیا۔ گورنر جنرل ہاؤس کے لئے ساڑھے 38 روپے کا سامان خریدا گیا آپ نے حساب منگوا لیا ، کچھ چیزیں محترمہ فاطمہ جناح نے منگوائی تھیں حکم دیا یہ پیسے ان کے اکاؤنٹ سے کاٹے جائیں، دو تین چیزیں ان کے ذاتی استعمال کیلئے تھیں فرمایا یہ پیسے میرے اکاؤنٹ سے لے لئے جائیں۔ باقی چیزیں گورنر جنرل ہاؤس کے لئے تھیں فرمایا ٹھیک ہے یہ رقم سرکاری خزانے سے ادا کر دی جائے لیکن آئندہ احتیاط کی جائے۔

برطانوی شاہ کا بھائی ڈیوک آف گلوسٹر پاکستان کے دورے پر آ رہا تھا برطانوی سفیر نے درخواست کی ”آپ اسے ایئر پورٹ پر خوش آمدید کہہ دیں ، ہنس کر کہا، میں تیار ہوں لیکن جب میرا بھائی لندن جائے گا تو پھر برٹش کنگ کو بھی اس کے استقبال کے لئے ایئر پورٹ آنا پڑے گا“ ایک روز اے ڈی سی نے ایک وزٹنگ کارڈ سامنے رکھا آپ نے کارڈ پھاڑ کر پھینک دیا اور فرمایا ”اسے کہو آئندہ مجھے شکل نہ دکھائے“ یہ شخص آپ کا بھائی تھا اور اس کا قصور صرف اتنا تھا اس نے اپنے کارڈ پر نام کے نیچے ”برادر آف قائد اعظم محمد علی جناح گورنر جنرل پاکستان“ لکھوا دیا تھا۔

زیارت میں سردی پڑ رہی تھی کرنل الٰہی بخش نے نئے موزے پیش کر دیئے دیکھے تو بہت پسند فرمائے ریٹ پوچھا بتایا دو روپے، گھبرا کر بولے یہ تو بہت مہنگے ہیں عرض کیا سر یہ آپ کے اکاؤنٹ سے خریدے گئے ہیں فرمایا میرا اکاؤنٹ بھی قوم کی امانت ہے ایک غریب ملک کے سربراہ کو اتنا عیاش نہیں ہونا چاہئے۔ موزے لپیٹے اور کرنل الٰہی بخش کو واپس کرنے کا حکم دے دیا۔ زیارت ہی میں ایک نرس کی خدمت سے متاثر ہوئے اور اس سے پوچھا ”بیٹی میں تمہارے لئے کیا کر سکتا ہوں“ نرس نے عرض کیا سر میں پنجاب سے ہوں میرا سارا خاندان پنجاب میں ہے میں اکیلی کوئٹہ میں نوکری کر رہی ہوں آپ میری ٹرانسفر پنجاب کر دیں اداس لہجے میں جواب دیا ”سوری بیٹی یہ محکمہ صحت کا کام ہے گورنر جنرل کا نہیں“

اپنے طیارے میں رائٹنگ ٹیبل لگوانے کا آرڈر دے دیا فائل وزارت خزانہ پہنچی تو وزیر خزانہ نے اجازت تو دے دی لیکن یہ نوٹ لکھ دیا ”گورنر جنرل اس قسم کے احکامات سے پہلے وزارت خزانہ سے اجازت کے پابند ہیں“ آپ کو معلوم ہوا تو وزارت خزانہ سے تحریری معذرت کی اور اپنا حکم منسوخ کردیا اور رہا پھاٹک والا قصہ تو کون نہیں جانتا ، گل حسن نے آپ کی گاڑی گزارنے کے لئے ریلوے کا پھاٹک کھلوا دیا تھا آپ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا پھاٹک بند کرانے کا حکم دیا اور فرمایا ”اگر میں ہی قانون کی پابندی نہیں کروں گا تو پھر کون کرے گا؟“

یہ آج سے 60 برس پہلے کا پاکستان تھا وہ پاکستان جس کے سربراہ محمد علی جناح تھے لیکن پھر ہم ترقی کرتے کرتے اس پاکستان میں آگئے جس میں پھاٹک تو ایک طرف رہے، سربراہ مملکت کے آنے سے ایک گھنٹہ پہلے سڑکوں کے تمام سگنل بند کر دیئے جاتے ہیں دونوں اطراف ٹریفک روک دی جاتی ہے اور جب تک شاہی سواری نہیں گزرتی ٹریفک کھلتی ہے اور نہ ہی اشارے۔ جس ملک میں سربراہ مملکت وزارت خزانہ کی اجازت کے بغیر جلسوں میں پانچ پانچ کروڑ روپے کا اعلان کر دیتے ہیں وزارت خزانہ کے انکارکے باوجود پورے پورے جہاز خرید لئے جاتے ہیں جس میں صدروں اور وزیر اعظم کے احکامات پر سیکڑوں لوگ بھرتی کئے گئے اتنے ہی لوگوں کے تبادلے ہوئے اتنے لوگ نوکریوں سے نکالے گئے اور اتنے لوگوں کو ضابطے اور قانون توڑ کرترقی دی گئی جس میں موزے تو رہے ایک طرف ، بچوں کے پوتڑے تک سرکای خزانے سے خریدے گئے جس میں آج ایوان صدر کا ساڑھے 18 اور وزیر اعظم ہاؤس کا بجٹ 20 کروڑ روپے ہے جس میں ایوان اقتدارمیں عملاً بھائیوں بھتیجوں بھانجوں بہنوں بہنوئیوں اور خاوندوں کا راج رہا جس میں وزیر اعظم ہاؤس سے سیکرٹریوں کو فون کیا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا ”میں صاحب کا بہنوئی بول رہا ہوں“ جس میں امریکا کے نائب وزیر کے استقبال کے لئے پوری کی پوری حکومت ایئر پورٹ پرکھڑی دکھائی دیتی ہے اور جس میں چائے اور کافی تو رہی دور ، کابینہ کے اجلاس میں پورا لنچ اور ڈنر دیا جاتا ہے اور جس میں ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس کے کچن ہر سال کروڑوں روپے دھواں بنا دیتے ہیں یہ پاکستان کی وہ ترقی یافتہ شکل ہے جس میں اس وقت 16 کروڑ غریب لوگ رہ رہے ہیں

جب قائد اعظم گورنر جنرل ہاؤس سے نکلتے تھے تو ان کے ساتھ پولیس کی صرف ایک گاڑی ہوتی تھی اس گاڑی میں صرف ایک انسپکٹر ہوتا تھا اور وہ بھی غیر مسلم تھا اور یہ وہ وقت تھاجب گاندھی قتل ہو چکے تھے اور قائد اعظم کی جان کو سخت خطرہ تھا ۔ قائد اعظم اس خطرے کے باوجود سیکورٹی کے بغیر روز کھلی ہوا میں سیر کرتے تھے لیکن آج کے پاکستان میں سربراہ مملکت ماڈرن بلٹ پروف گاڑیوں، ماہر سیکورٹی گارڈز اور انتہائی تربیت یافتہ کمانڈوز کے بغیر دس کلو میٹر کا فاصلہ طے نہیں کر سکتے ہم اس ملک میں مساوات رائج نہیں کر سکے

This entry was posted in تاریخ, روز و شب, معلومات on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

6 thoughts on “سچے قائد کی یاد میں

  1. عبدالرؤف

    اسلامُ علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
    افتخار انکل، کافی عرصہ دراز بعد حاضری دے رہا ہوں،آپ کے جذبات کی قدر کرتا ہوں، اور انہیں مجروح کرنا نہیں چاہتا ہوں، لیکن یہ سچ ہے کہ “پاکستان” کا قیام برصغیر کی تاریخ کی بہت بڑی غلطی تھی، جسکا خمیازہ ہمیں آج بھی بھگتنا پڑرہا ہے۔
    باقی قائدِاعظم اگر مخلص و باکردار انسان تھے بھی تو اُنہیں زیادہ مہلت ملی نہیں کی ملک و قوم کو دُرست راہ پر ڈال سکیں، اور جن لوگوں کو انکے بعد حکومت کی لگام ملی انکی کی انہوں نے یہی کچھ کرنا تھا جو کہ ہمیں دکھائی دے رہا ہے، کیونکہ ایک تو انکی فطرت ہی یہی ہے دوسرے ملکی نظام بھی ایسی ہی سیاہ کاریوں کے لیئے ساز گار ماحول فراہم کرتا ہے۔
    وسلام، عبدالرؤف۔

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبدالرؤف صاحب ۔ وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ
    میرے ہموطنوں کی بدقسمتی کہہ لیجئے کہ انہیں حقائق جاننے کیلئے سنجیدہ مطالعہ کا شوق نہیں ہے البتہ افسانوں اور کہانیوں سے کافی شغف رکھتے ہیں ۔ گستاخی معاف ۔ آپ بھی اسی مجبوری کے تحت لکھتے محسوس ہوتے ہیں ۔ انسانوں کی اکثریت دنیا میں ظلم اور بے انصافی کرتی ہے تو آپ کے اس نظریہ کے تحت کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ (نعوذ باللہ من ذالک) انسان کو پیدا کرنا ہی غلط تھا ۔

  3. wahaj d ahmad

    Yes he wanted to set some traditions for the Governers of the future . I am with you remembering those days and my eyes are wet .s

  4. Abdul Rauf

    اسلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
    سرجی. معذرت کہ آپ کی “انسانوں” والی مثال کی بنیاد پر پیش کردہ دلیل اس بناء پپر مسترد کرنی پڑ رہی ہے کہ دونوں کی تخلیق کے مقاصد اور خالقوں کا علم انکی تخلیق کے متعلق ایک دوسرے سے مختلف ہے.
    جذباتی قصے کہانیوں سے قطع نظر پاکستان کی تخلیق کی وجوہات. حالات. مقاصد اور نتائج کو خالص منطق سے پرکهیں تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ قیام پاکستان ہمارے عظیم رہنماوں کی ایک عظیم غلطی تهی. جس نے بر صغیر کے مسلمانوں کو تین حصوں میں تقسیم کردیا ہے.
    اور آج بهی تمام پاکستانی ایک مملکت کے شہری ہونے کے باوجود بهی ایک قوم نہیں بن سکے ہیں. اور تو اور نظریہ پاکستان تو سقوط ڈهاکہ کے ساته ہی غلط ثابت ہوگیا تها. لیکن ہم پاکستانی آج تک اس فرسودہ نظریہ کا پرچار کرتے نہیں تهکتے ہیں.
    یہاں اس بات کی وضاحت کرنی ضروری ہے کہ یہ ماننے کے باوجود کہ نظریہ پاکستان غلط ہے اور قیام پاکستان ایک غلطی تهی کہیں یہ نتیجہ نہیں نکال لیا جائے کہ خدانخواستہ میں پاکستان کے خلاف ہوں کیونکہ میرا یہ ماننا ہے کہ ماضی میں جو بهی ہوا سو ہوا لیکن پهر بهی آج پاکستان کا وجود ناگزیر ہے اور ہم تمام پاکستانیوں کو ماضی کے تلخ حقائق کا درست تجزیہ کرکے مستقبل کی راہ عمل متعین کرنے کی اشد ضرورت ہے.
    وسلام. عبدالرف.

  5. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبدالرؤف صاحب
    اس دنیا میں بہت سے اپنے آپ کو مسلمان کہنے والے لوگ ہیں جو اللہ کے احکام کو ماننا تو کُجا ان کا تمسخر اُڑانے سے نہیں چوکتے ۔ چنانچہ لوگ انسانوں کی محنت سے حاصل کئے ہوئے مقصد کو غلط کہہ دیں تو کونسی بڑی بات ہے ؟ ایک بات آپ کو واضح کر دوں کہ پاکستان کا حصول اللہ کی نصرت کے بغیر ممکن نہ تھا ۔
    ابو کلام آزاد آل انڈیا کانگرس کا رُکن تھا اور اُس نے آل انڈیا مسلم لیگ کی مخالفت کی تھی اور یہی کچھ کہا تھا جو آپ کہہ رہے ہیں لیکن پاکستان بن جانے کے بہت بعد اُس نے اپنی غلطی کا اعتراف اپنی کتاب میں کیا
    عبدلغفار خان بہی کانگرسی تھا اور زندگی بھر پاکستان کا دُشمن رہا مگر اُس کی اُولاد اُس کے راستے پر نہ چلی ۔ زندوں میں پاکستان میں پیدا ہونے والے لیڈروں میں سے ایک جو بعد میں برطانیہ کا شہری بن گیا نے بھارت جا کر کہا تھا ”پاکستان بنانا ایک بلنڈر تھا“۔
    آپ 1953ء کے بعد بننے والی حکومتوں کی غلطیوں اور آسودگی پانے کے بعد مُلک تو کیا اللہ کو بھول جانے والون کے کردار کو پاکستان بنانے والوں کی مخلص کوشش پر ثبت کر رہے ہیں
    بہرکیف میں نہ تو آپ کا نظریہ تبدیل کر سکتا ہوں نہ میں اس کی کوشش کر سکتا ہوں ۔ جو میں نے کہنا تھا مختصر طور پر کہہ دیا ۔ میں مزید بحث نہیں کرنا چاہتا

  6. عبدالروف

    سرجی، بے شک یہ تو ایمان ہے کہ پاکستان تو کیا کسی بهی نیک یا بد مقصد کا حصول رضمندئ خداوندکے بغیرناممکن ہے.
    کراچی کا باسی ہونے کے باوجود بهی الطاف حسین میرا لیڈر نہیں ہے. لیکن اس نے بهارت جا کر قیام پاکستان کو ایک بلنڈر جو کہا تها تو کچه غلط نہیں کہا تها، کیونکہ قیام پاکستان سے جتنا نقصان مہاجروں بطور خاص بہاریوں کاہوا ہے اتنا کسی اور کا نہیں ہو خیر یہ اور بات ہے کہ یہ کہنے کے پیچهے اسکا مقصد کچه اور تها.
    کانگریسی لیڈران تو اپنی جماعت کے وفادار تهے اس لیے انکا حوالہ مسلمان ہونے کے باوجود پاکستان کے حق میں ناقابل اعتبار ہی رہے گا. ویسے اگر علامہ ابوالکلام آذاد کی کتاب کا اقتباس مل جاتا تو علم میں اضافہ ہو جاتا.
    اور میرا نظریہ تو علامہ مودودی کی تحاریر اور پاکستان کی تاریخ کی بنیاد پر بنا ہے. بحرحال اگر آپ مزید بحث نہیں کرنا چاہتے ہیں تو میں بهی اجازت چاہوں گا. وسلام.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)