نصیب اور دولت ۔ ایک کہانی ۔ ایک حقیقت

بہادر شاہ ظفر نے ناجانے کس ترنگ میں یہ شعر کہا تھا لیکن میں یہ سوال اپنے معاشرے سے پوچھتا ہوں

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تیری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی

آج کے پڑھے لکھے طعنہ دیتے ہیں کہ پرانے زمانہ کے لوگ کام کچھ نہیں کرتے تھے اور کہانیاں سناتے رہتے تھے ۔ اللہ کی دی ہوئی توفیق سے میں 7 دہائیوں سے کچھ اُوپر اس معاشرے میں گذار چکا ہوں ۔ پرانے لوگوں کو دیکھا تھا اور نئے لوگوں کو دیکھ رہا ہوں اور دونوں کے گفتار و عمل دونوں ہی میں نمایاں فرق پاتا ہوں

ہمارے ایک دُور کے رشتہ دار راولپنڈی امام باڑہ روڈ پر کریانہ کی دکان کرتے تھے ۔ سُنا تھا کہانی بہت اچھی کہتے ہیں سو اُنہیں دعوت دی گئی جو 1952ء اور 1953ء کے درمیانی موسمِ سرما میں ہر اتوار سے پچھلی رات کا معمول بن گئی ۔ وہ مغٖرب کے وقت دکان بند کر کے نماز پڑھ کر اپنے گھر جا کر کھانا کھاتے اور عشاء کی نماز پڑھ کر ہمارے ہاں پہنچ جاتے ۔ کہانی سنانے کا فن واقعی اُن میں کما حقہُ موجود تھا ۔ بڑے چھوٹے سب پورے انہماک کے ساتھ کہانی سُنتے تھے ۔ ہر کہانی میں مناسب مقامات پر اُنہوں نے اپنی طرف سے فقرے لگائے ہوتے تھے جیسے ایک تھا بادشاہ کے بعد کہتے ”میرا تیرا اللہ بادشاہ“۔ کہانیاں کہنے کو تو بادشاہ ۔ شہزادہ ۔ پری یا جِن کی ہوتیں لیکن ہر کہانی اپنے اندر ایک سبق لئے ہوتی تھی جو کہ بڑے لطیف انداز میں بیچ میں رکھا گیا ہوتا تھا ۔ اُن کی سنائی ایک کہانی ”نصیب اور دولت“۔ (اختصار کی خاطر میں دلچسپ فقرے نہیں لکھ رہا)

نصیب اور دولت میں بحث ہو گئی ۔ دولت کہتی ”انسان کی خوشی اور آسائش مجھ سے ہے“۔
نصیب کہتا ہے ”دولت کچھ نہیں کر سکتی ۔ اگر آدمی خود محنت کر ے تو میں اُس کی یاوری کرتا ہوں“۔

ایک لکڑ ہارا لکڑیاں کاٹنے جنگل کو جا رہا تھا ۔ دولت نے اسے بُلا کر ایک بڑا سا ہیرا دیا اور کہا ”یہ لے لو ۔ آج کے بعد تمہیں لکڑیاں کاٹنے کی ضرورت نہیں“۔ راستہ میں ایک ندی پڑتی تھی ۔ خیال کیا کہ ہاتھ منہ دھو لوں کیونکہ بازار جا کر اسے بیچنا ہے ۔ کنارے پر پاؤں پھسلا اور ہیرا ہاتھ سے ندی میں گھر گیا ۔ ہیرے کی تلاش میں ندی میں کود گیا ۔ بہت دیر تک کوشش کے باوجود ہیرہ نہ ملا تو اتنا تھک چکا تھا کہ جنگل میں جا کر لکڑیاں کاٹنا مشکل تھا ۔ گھر چلا گیا اور گھر میں جو بچہ کھچا تھا کھا کر سوگئے

اگلے روز لکڑ ہارے نے پھر جنگل کا رُخ کیا ۔ جنگل کے قریب اُسے وہی نصیب اور دولت ملے ۔ لکڑ ہارے نے واقعہ بیان کیا ۔ اب کے دولت نے اُسے قیمتی لال موتیوں کا ہار دیا ۔ لکڑ ہارے نے ہار اپنی پگڑی میں رکھ لیا اور گھر کی طرف چل دیا ۔ گھر کے قریب پہنچا تو اُڑتی ہوئی چیل لال موتیوں کو گوشت سمجھ کر جھپٹی اور پگڑی سمیت ہار اُچک کر لے گئی ۔ چنانچہ میاں بیوی رات بھوکے سوئے

لکڑ ہارا اگلی صبح پَو پھٹتے ہی لکڑیاں کاٹنے جنگل کو چل دیا ۔ جنگل کے پاس پھر نصیب اور دولت ملے ۔ دولت اپنا خالص سونے کا کنگن دینے لگی ۔ لکڑ ہارے نے یہ کہہ کر لینے سے انکار کر دیا کہ ”اپنی محنت سے کمائی سوکھی روٹی فاقے سے بہتر ہے“۔ نصیب نے قہقہہ لگا کر دولت کی طرف دیکھا اور کہا ”اب دیکھو کیا ہوتا ہے“۔

لکڑ ہارا جنگل میں داخل ہو کر ایک درخت پر لکڑیاں کاٹنے چڑھا ۔ درخت کی اُونچی شاخ پر چیل کا گھونسلہ تھا ۔ لکڑ ہارے نے دیکھا کہ گھونسلے سے ایک کپڑا لٹک رہا ہے ۔ اُس نے سوچا کہیں اُس کی پگڑی نا ہو ۔ لکڑ ہارا اُوپر چڑھا تو اس کی نظر گھونسلے میں پڑے لال موتیوں کے ہار پر پڑی ۔ لکڑ ہارا پگڑی اور ہار لے کر نیچے اُترا اور گھر کی راہ لی ۔ راستہ میں ندی سے مچھلی پکڑی اور گھر پہنچا ۔ بیوی کو ہار دکھایا اور کہا ”جلدی سے مچھلی پکاؤ میں کھا کر اسے بیچنے شہر جاؤں گا“۔ بیوی نے مچھلی کا پیٹ چاک کیا تو بیچ میں سے وہ ہیرا نکل آیا جو لکڑ ہارے کا ندی میں گرا تھا“۔ دونوں بہت خوش ہوئے انہیں بیچ کر مکان بنایا ۔ زمین خرید کر کھیتی باڑی شروع کر دی اور بہت دولتمند ہو گئے

This entry was posted in تاریخ, ذمہ دارياں, روز و شب, طور طريقہ, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

5 thoughts on “نصیب اور دولت ۔ ایک کہانی ۔ ایک حقیقت

  1. عبدالرؤف

    آپکی پوسٹ پڑھ کر اچھا لگا۔ میں نے اس کہانی سے یہ سیکھا کہ نصیب اور دولت کے امتزاج سے ہی کامیابی سے ہمکنار ہوا جا سکتا ہے۔ لیکن پھر میں سوچتا ہوں کہ جو کامیاب ترین لوگ نصیب کو ذرانہیں کھنگتے انکا کیا؟ کیا وہ حقیقت ہیں؟ یا پھر ہمیں گمراہ کر رہے ہیں؟ میں نے تو ان سے یہ بھی کہتے ہوئے سنا کہ نصیب دراصل کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔ آپ کو محنت سے ہی سب کچھ کرنا ہوتا ہے۔ اس بات پر ضرور روشنی ڈالیئے گا۔ شکریہ۔

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبدالرؤف صاحب
    میں خود یہی کہتا ہوں کہ محنت سے ہی سب کچھ کرنا ہوتا ہے ۔ آپ نے شاید غور سے پڑھا نہیں ۔ نصیب دولت سے کیا کہتا ہے ؟ ”دولت کچھ نہیں کر سکتی ۔ اگر آدمی خود محنت کر ے تو میں اُس کی یاوری کرتا ہوں“۔ ؎آپ نے کبھی غور کیا کہ جو پیشہ ور بھکاری ہیں باوجویکہ تنومند ہوتے ہیں وہ سدا بدحال ہی رہتے ہیں اور کئی معزور محنت کر کے باعزت زندگی گذارتے ہیں

  3. Sarwat AJ

    بہت خوب
    یہ کہانی تو ویسی ہی ہے جیسی میں اپنے بلاگ پر ترجمہ کرکے لکھ رہی ہوں۔ ۔ ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)