اسلام پر رائے

سُبْحَانَكَ لاَ عِلْمَ لَنَا إِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ
رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی

آجکل کچھ لوگ بڑے کرّ و فر سے دین اسلام پر رائے زنی کرتے ہیں ۔ قطع نظر اس کے کہ وہ کہتے کیا ہیں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا وہ دین اسلام پر رائے دینے کا استحقاق رکھتے ہیں

کسی بھی چیز کا استحقاق رکھنے کیلئے کچھ شرائط ہوتی ہیں ۔ عام طور پر سُنا یا پڑھا ہو گا کہ فلاں رُکن اسمبلی نے تحریکِ استحقاق پیش کی ۔ اس شخص کو یہ استحقاق ایک بنیادی شرط پوری کرنے پر ملتا ہے اور وہ شرط ہے کہ انتخابات میں حصہ لے کر جیتے پھر رُکن بننے کاحلف اُٹھائے

اسی طرح کسی مریض کے علاج یا میڈیکل سائنس کے معاملات پر رائے دینے کا استحقاق صرف اُس شخص کو ہے جسے ہم ڈاکٹر کہتے ہیں کیونکہ اس نے بنیادی شرط یعنی میڈیکل سائنس کی مطلوبہ سند حاصل کر کے اپنی رجسٹریشن مجاز ادارے میں کرائی ہوتی ہے ۔ یہی صورتِ حال انجنیئرنگ پر رائے دینے یا انجیئرنگ کا کام کرنے کی ہے اور قانون دان کی بھی

کبھی میڈیکل سائنس پر انجينئر کی رائے یا انجنیئرنگ پر ڈاکٹر کی رائے معتبر نہیں مانی جاتی ۔ نہ کسی قانون کی سند رکھنے والے کی رائے میڈیکل سائنس یا انجنیئرنگ سائنس کے اصول و ضوابط پر معتبر مانی جاتی ہے خواہ اُس کے پاس قانون کی سب سے اُونچی سند ہو ۔ نہ قانونی باريکيوں پر کسی بڑے سے بڑے ڈاکٹر یا انجنیئر کی بات کوئی سُنے گا ۔ بس ايک دين ہی ہے جس پر ہر نيم خواندہ و ناخواندہ رائے زنی کرنا اپنا فطری و بنيادی یا جمہوری حق سمجھتا ہے

بلاشبہ دين آسان ہے ليکن پہلے دين کا فہم تو حاصل کيا جائے ۔ جس کو دين کا مکمل فہم حاصل ہے وہ عالِمِ دین ہے یعنی ایسا شخص جس نے دین میں مطلوبہ تعلیم حاصل کی ہوتی ہے ۔ یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ ہند وپاکستان میں بغیر متذکرہ شرط پوری کئے کسی داڑھی والے کو امام مسجد بنا دیا جاتا ہے جو کہ درست نہیں ہے ۔ امام مسجد دین کا سند یافتہ شخص ہی ہونا چاہیئے ۔ بہر کیف امام مسجد نہیں بلکہ عالِمِ دین دينی معاملات ميں رہنمائی کرنے کا حق رکھتا ہے جس کیلئے امام مسجد ہونا ضروری نہیں ہے البتہ پاکستان میں ایسے امام مسجد ہیں جو دین پر رائے کا استحقاق رکھتے ہیں یعنی دین کی مطلوبہ تعلیم حاصل کر چکے ہیں اور دین کا فہم رکھتے ہیں

اللہ کريم کا ارشاد ہے ”ھَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ “ (سورت 39 ۔ الزُّمَر ۔ آیت 9) يعنی کيااہلِ علم اور بے علم برابر ہوسکتے ہيں؟ مطلب یہی ہے نہيں ہوسکتے ۔ اسی طرح ايک اور ارشادِ باری تعالٰی ہے ” فَاسْأَلُوا أَھْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ “(سورت 16 النّخل ۔ آیت 43) ترجمہ ۔ پس اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے دریافت کرلو

نبي پاک ﷺ کے دور اقدس ميں ہر چند کہ صحابہ کرام اہل زبان تھے ليکن قرآن شریف کے فہم کے لئے رسول اللہ سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم سے اور ان کے منتخب تربيت و تعليم يافتہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے رجوع کرتے تھے جنہيں دربار ِ رسالت سے اذن تھا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلّم کے وصال کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم ان کے بعد تابعین پھر تبع تابعين ہر دور ميں لوگوں کی دينی رہنمائی کے لئے اپنے اپنے دور کے علما کرام سے رجوع کرتے رہے حالانکہ قرآن و حديث ان کی اپنی زبان ميں موجود تھے

جو شخص دین پر رائے زنی کا شوق رکھتا ہے وہ اپنا شوق ضرور پورا کرے ليکن پہلے دين کے فہم کے لئے مکمل وقت دے کر اسے صحيح معنوں ميں سمجھے ۔ جو حضرات اپنے شُبہات کو واقعی دور کرنا چاہتے ہيں اوراپنی غلط فہميوں کا ازالہ کرنا چاہتے ہيں تو اس سلسلے ميں کم از کم قرآن شریف مع ترجمہ اور تفسیر انہماک کے ساتھ نیک نیتی سے مطالعہ کر لیں ۔ ایسا کرنے کے بعد اِن شاء اللہ اُنہیں بہت کچھ خود ہی سمجھ آ جائے گا اور اعتراض کی حاجت باقی نہیں رہے گی

وما علينا الا البلاغ المبين

This entry was posted in دین, طور طريقہ, معلومات on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

19 thoughts on “اسلام پر رائے

  1. محمد اسد

    بالکل درست فرمایا آپ نے.. آج کل ایسے کئی لوگ نظر آتے ہیں کہ جو دین کو اپنے حساب سے دیکھتے ہیں اور اپنی آسانی کے لیے دینی احکامات و قوانین کی لایعنی تشریحات کرلیتے ہیں. دین کی اہمیت جس کی نظر میں ہوگی وہ اس کی روح کو پڑھ کر اس پر عمل کی کوشش کرے گا نا کہ گذشتہ تمام تحقیق و تعلیم کو روند کر اپنی نئی تاویلات بن لے.

  2. جواد احمد خان

    ایک بار ایک صاحب نے طنزیہ کہا تھا کہ پاکستان کی آدھی آبادی ڈاکٹر ہے اور آدھی آبادی مفتی۔۔۔
    لیکن یہ جو غامدیت آئی ہے یہ ایک بالکل مختلف چیز ہے، اسے فتویٰ دینے کا شوق ہر گز نہیں کہا جاسکتا۔ دین بیزاری اور بغاوت کی واضع جھلک آپ غامدیت میں دیکھ سکتے ہیں۔

  3. کاشف

    گستاخی معاف۔ جن لوگوں نے علم دین میں سند حاصل کی ہے، ان کی صائب اور سپشلسٹ رائے نےغالباً معاشرے کا کنفیوژن کافی کم کیا ھے۔؟ شیعہ سنی بریلوی وہابی دیوبندی شافعی مالکی حنفی وغیرہ وغیرہ سمیت تمام “فرقے” انہی سند یافتہ لوگوں کی مختلف معاملات کے بارے مختلف رائے کے نتیجے میں بنے ھیں کہ نہیں؟۔
    جب ایک عام آدمی ان فرقوں کی ایک ہی معاملے میں شمال اور جنوب کو جاتی رائے کو دیکھتا ھے، تو یہ سوچتا ہے کہ اس کو ان سند یافتہ لوگوں پر اعتبار کرنے کی بچائے خود مطالعہ کر کے اپنی رائے قائم کرنی چاھیئے۔ یہ کوئی بری بات نہیں۔

  4. افتخار اجمل بھوپال Post author

    کاشف صاحب
    میں نے اس معاملہ کا چند سال نہیں بلکہ کئی دہائیاں مطالعہ کیا ہے ۔ مشکل صرف درست صاحبِ عِلم کی تلاش ہے ۔ شاید آپ کے عِلم میں ہو کہ شاہ احمد نورانی صاحب کی اقتداء میں تمام فرقوں کے اکابرین نماز پڑھی تھی جبکہ شاہ احمد نورانی صاحب کے متعلق کہا جاتا ہے کہ بریلوی مکتب سے تعلق رکھتے تھے

  5. fikrepakistan

    افسوس کے لوگ دلیل کا جواب دلیل سے لانے کے بجائے بغض کا شکار ہو جاتے ہیں، جسکی وجہ سے حق سے محروم رہتے ہیں، دین کی سند کیا ہوتی ہےِِ؟ کونسے صحابی کے پاس کوئی دینی سند تھی؟ بزرگانِ دین کے پاس کونسے مدرسے کونسی یونیورسٹی کی سند تھیِ؟ یہ کہاں لکھا ہے کہ دین پر رائے دینے کا حق صرف اسکو ہی ہے جس نے گھسا پٹا درسِ نظامی کا کورس کیا ہوا ہوگا؟

  6. افتخار اجمل بھوپال Post author

    نام نہاد فکرِ پاکستان صاحب
    بُغض ۔ حسد اور غُصہ تو آپ کے اس تبصرے کے لفظ لفظ سے ٹپک رہا ہے
    کہتے ہیں ”خود آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا“ اور یہ بھی کہ ”چور کی داڑھی میں تِنکا“۔
    میری متذکرہ تحریر میں کہیں آپ کی طرف ہلکا سا اشارہ بھی نہیں ہے ۔ اور آپ کی اطلاع کیلئے یہ تحریر میں نے پچھلے سال لکھ کر محفوظ کی تھی لیکن میرا شائع کرنے کا ایک سلیقہ ہے جس کے تحت اس کی باری نہ آئی تھی ۔
    رہی بات دلیل کا جواب دلیل سے دینے کی تو یہ آپ کا اپنا عمل ہے ۔ آج تک میرے کسی تبصرے یا سوال کا جواب آپ نے دلیل سے نہیں دیا بلکہ یا اپنی ہی ہانکتے رہتے ہیں یا مجھ پر کوئی تہمت لگا دیتے ہیں
    آپ نے درسِ نظامی کا صرف نام ہی سُن رکھا ہے یا کبھی اسے پڑھا بھی ہے ؟ مجھے اُمید نہیں کہ آپ نے کبھی دیکھا بھی ہو ۔ جو شخص قرآن شریف کے حوالے دے کر اپنی مرضی کا مطلب نکالتا ہو وہ اور کیا دیکھے گا

  7. fikrepakistan

    دلیل ہر بغض والی بات میں نے جواد صاحب کے تبصرے کے جواب میں کی ہے حضرت آپ خفا نہ ہوں میرے مخاطب آپ نے تھے، جواد صاحب کا تبصرہ پڑھہ لیں پھر شائد بات آپکی سمجھہ میں آجائے۔

  8. fikrepakistan

    باقی جس طرف آپ اپنے تبصرے میں اشارہ کیا ہے تو سورہ نور میں آپ مجھے چہرے کو ڈھکنا ہے ایسا کوئی حکم نکال کر دکھا دیں، چہرے کو کھلا رکھنے کے حوالے سے میں نے آپکو ناصر البانی صاحب کی کتاب کا ریفرنس بھی دیا ہے جس میں تمام واقعات اور احادیث جمع کردی گئی ہیں جن سے با آسانی معلوم ہوجاتا ہے کہ حضور کے اپنے زمانے میں خواتین چہرہ کھلا بھی رکھتی تھیں۔ اب آپ اپنا مائن سیٹ بدلنا ہی نا چاہئیں تو اسکو کوئی کیا کرسکتا ہے۔

  9. کاشف

    ادھر تو جنگ شروع ہو گئی ھے ماشاءاللہ۔
    پہلی تو بات یہ کہ درس نظامی کا گِھسا پِٹا کورس اتنا بھی گھسا پٹا نہیں ہے۔ کافی اِن ڈیپتھ سلیبس ہے اُن کا۔ میری بیگم نے بھی کیا ہوا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ میں بیگم کی ایک نہیں مانتا۔

    میرا موقف یہ ھے۔ کہ دین زندگی گزارنے کا ایک مخصوص طریقہ ھے۔ اور جو زندگی گزار رہا ہے، اُس کو پورا حق ہے کہ وہ اِس مخصوص طریقے کے بارے علم اور رائے رکھے۔ چاہے یہ علم کتابوں سے حاصل کیا جائے یا کسی استاد کی صحبت میں بیٹھ کر۔ کیونکہ زندگی اُس نے گزارنی ھے۔ اور اپنی سمجھ کا اچھا برا نتیجہ بھی اُسی نے بھگتنا ھے۔

    ہاں ۔یہ ضرور ھے کہ علم کے بغیر رائے رکھنا انتہائی جاہلانہ بات ھے۔

    ویسے شیعہ حضرات کے بارے ایک بات سنی تھی کہ اُن کا مجتحد اُن کو گارنٹی دیتا ھے کہ میں کسی مسئلے کی جو بھی تشریح بتا رہا ہوں، اُس پر عمل کرنے کی وجہ سے اگر آپ کو کوئی گناہ ہوا تو قیامت کے دن میں ذمہ دار ہونگا۔ یہ اپنے علماء بھی اِس طرح کی کوئی گارنٹی دیتے ھیں؟

  10. fikrepakistan

    ایسی گارنٹی کوئی شعیہ عالم دے یا سنی عالم، اس گارنٹی کی کوئی حیثیت نہیں ہے، کیونکہ اللہ با روزِ حشر اس دلیل عذر کو قبول نہیں کریں گے کہ ہمیں تو فلاں عالم نے یہ بات بتائی تھی، دین عالم کے لیئے نہیں پورے عالم کے لئیے آیا ہے، علم حاصل کرنا ہر مرد عورت پر فرض قرار دیا گیا ہے، کوئی یہ کہہ کر نہیں بچ پائے گا کہ میں تو فلاں فرقے کا ماننے والا تھا اسلئیے جو میرے فرقے کے عالم نے کہا میں نے اسے ہی دین مان کر اس پر عمل کیا، پھر تو ہم آج بھی دورِ جہالیت پر ہی کھڑے ہیں کیونکہ دورِ جہالیت میں بھی اکابر پرستی تھی، میری سمجھہ میں یہ بات نہیں آتی کے بغیر دیکھے بھالے بھاو تاو کیے بغیر تو انسان ایک درجن کیلے نہیں خریدتا پھر دین جیسے قیمتی اثاثے کے معاملے میں آنکھیں بند کر کے کسی فرقہ پرست عالم کے پیچھے کیسے چل دیتا ہےِ؟۔

  11. افتخار اجمل بھوپال Post author

    فکرِ پاکستان صاحب
    جب تک آپ اپنے نظریہ کے تحت دوسروں کو جانچیں گے آپ کو کسی کی بات درست سمجھ نہیں آئے گی ۔ اگر کوئی سلام بھی کرے گا تو آپ کو طعنہ محسوس ہو گا ۔ آپ نے اپنے بلاگ پر میرے کسی تبصرے یا سوال کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی اور ان کے جواب میں اپنے ذہن کے تصورات پیش کئے ۔ میں نے آپ کے بلاگ پر صرف اللہ کے فرمان کی بات کی ۔ بجائے اللہ کا فرمان اور میرا سوال سمجھنے کے آپ اپنی ہی کہتے رہے ۔ آپ سورۃ احزاب کو یکسر بالائے طاق رکھتے ہیں چنانچھ میں نے مندرجہ ذیل آیت پر آپ کی رائے پوچھی تھی جو آپ ن حسبِ عادت نظر انداز کر دی ۔ کیا یہ عورت کے پردے کا واضح حکم نہیں ہے ؟

    سورۃ الاحزاب آیت 59
    یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ یُدۡنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ یُّعۡرَفۡنَ فَلَا یُؤۡذَیۡنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا
    اے نبی ۔ اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور اہلِ ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی چادریں اپنے اوپر لٹکا لیا کریں ۔ یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں ۔ اور اللہ غفور و رحیم ہے

    بہر کیف آپ کے بلاگ پر میرا ہر تبصرہ منطقی جواب کا منتظر ہے

  12. fikrepakistan

    حضرت اسکا جواب بہت تفصیل سے میں آپکو دے چکا ہوں، ایک بار پھر آپکی خدمت میں عرض ہے کہ پہلے سورہ احزاب کا شانِ نزول تفصیل سے پڑھہ لیجئیے تو بہت آسانی ہوجائے گی بات کو سمجھنے میں، سورہ احزاب کا ایک خاص پس منظر ہے جسکے تحت ہی یہ آیات اللہ پاک نے نازل فرمائی، اس بات پر اہل علم متفق ہیں کہ سورہ احزاب ایک خاص پس منظر کی وجہ سے اس وقت کی خواتین اور ازواجِ مطہرات کے لئیے اتاری گئی تھی، کیونکہ اس وقت کے مشرکین نے ایک سازش کے تحت حضور پاک کی ازواج کو ٹارگٹ کیا ہوا تھا، جب وہ رفع حاجت کے لئیے گھر سے باہر جاتیں تو وہ پیچھے سے پہنچ جاتے اور پکڑے جانے پر کہتے کہ ہم سمجھے کہ یہ ہماری لونڈی ہے، اسلئیے ہی اللہ نے اس وقت یہ آیت اتاری تاکہ اس وقت کی مسلم خواتین اور ازواجِ مطہرات اپنی وضع قطع ایسی اپنائیں جو لونڈیوں سے مختلف ہو، تاکہ مشرکین کوئی بہانہ نہ تراش سکیں، باقی رہتی دنیا تک کی خواتین و مردوں کے لئیے جو پردے کے جامع احکامات ہیں وہ اللہ پاک نے سورہ نور میں بیان فرما دئیے ہیں، جن میں چار ہی باتیں ہیں جو میں متعدد بار لکھہ چکا ہوں اور آپ بھی بخوبی جانتے ہیں کے وہ چار باتیں کیا ہیں۔ پھر احادیث اور واقعات سے بھی ثبوت ملتے ہیں کہ رسول اللہ کے زمانے میں بھی خواتین چہرہ کھلا رکھتی تھیں، اب اور اس سے زیادہ تفصیل سے میں کیا بتاوں آپکو؟۔

  13. افتخار اجمل بھوپال Post author

    فکرِ پاکستان صاحب
    میں نے ایک بار بھی نہیں کہا کہ چہرہ چھُپانا لازم ہے ۔ آپ کا مسئلہ یہ ہے کہ آپ لکھے ہوئے کو پڑھنے کی بجائے اپنے دماغ میں موجود باتوں کو پڑھتے ہیں اور اپنی رائے پر اصرار کرتے جاتے ہیں ۔ آپ اپنے بیان کی غلطی پر غور کرنے کو تیار ہی نہیں ۔ قرآن شریف میں یہ کہاں لکھا ہے کہ ہاتھ پاؤں اور چہرے کی زیبایش اس سے مستثنیٰ ہے ؟ آپ کی تحاریر سے شک ہوتا ہے کہ آپ جاوید احمد غامدی کے پیروکار ہیں بظاہر بڑے عِلمی طریقہ سے دین اسلام کے بخیئے اُدھیڑنے کی ناکام کوشش کرتا رہتا ہے
    اگر آپ کا استدلال مان لیا جائے کہ سورۃ احزاب صرف ایک خاص وقت کیلئے تھی تو پورہ قرآن شریف ۔ نعوذ باللہ من ذالک ۔ مجہول ہو جائے گا ۔ مزید وہ استدلال بھی درست ہو جائے گا کہ جو سورتیں قُل کے ساتھ شروع ہوتی ہیں اُن میں قُل کو نہ پڑھا جائے کیونکہ وہ تو اللہ یا جبریل علیہ السلام نے کہا تھا ۔ یہی صورتِ حال اقراء کی بھی ہے ۔ پھر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ سورۃ الفلق اور سورۃ الناس تو صرف رسول اللہ ﷺ کیلئے تھیں ۔ یہ بھی غور کیجئے کہ سورۃ توبہ سے قبل ﷽ کیون نہیں پڑھا جاتا ۔ میرے مطالعے کے مطابق عُلماء متفق ہیں کہ چونکہ جبرائیل علیہ السلام نے نہیں پڑھا تھا اسلئے رسول اللہ ﷺ نے نہیں پڑھا اور اسی لئے کوئی مسلمان نہیں پڑھتا
    بہر حال آپ اپنی تشریحات پر مُصر ہیں تو میں صرف آپ کی بہتری کیلئے دعا ہی کر سکتا ہوں ۔ میرا فرض بحثیت مسلمان صرف آپ تک بات پہنچانا تھا سو میں نے اپنا فرض ادا کر دیا ۔ اصلاح کرنا تو صرف اللہ کے اختیار میں ہے

  14. fikrepakistan

    اگر ممکن ہو تو ایک بار سورہ احزاب کا شان نزول پڑھہ لیجئیے گا، قرآن کی بیشتر آیات ایک مخصوص وقت اور حالات کے حساب سے اللہ نے نازل فرمائی ہیں، یہود و نصاریٰ تہمارے دوست نہیں ہوسکتے، کبھی اسکا پس منظر بھی پڑھہ لیجئیے گا، شاید میری بات آپ تک پہنچ سکے، اگر یہود و نصاریٰ ہمارے دوست نہیں ہوسکتے تو پھر آج کی دنیا میں معاملات کہاں دیکھتے ہیں آپ؟ پھر تو امریکہ کے ہاتھہ میں ہاتھہ ڈال کر روس کے خلاف جو لڑائی لڑی گئی اسے کیا نام دیں گے آپ؟ ایسی اور کئی آیات ہیں جنکہ تعلق ایک خاص پس منظر اور حالات سے تھا، لیکن ان باتوں کو سمجھنے کے لئیے اپنے مائنڈ سیٹ سے ہٹ کر مطالعہ کرنا پڑتا ہے جو کہ بہت سارے لوگوں کے لئیے ممکن نہیں، یہ ہی وہ رویئے ہیں جنکی وجہ سے انسان حق سے محروم رہ جاتا ہے، غامدی صاحب کی نوے فیصد باتیں مودودی صاحب سے میل کھاتی ہیں، مودودی صاحب کوئی بات کریں تو ٹھیک، وہ ہی بات غامدی صاحب کریں تو غلط؟؟ اسے ہی بغض کہتے ہیں۔

  15. افتخار اجمل بھوپال Post author

    فکرِ پاکستان صاحب
    میں مان لیتا ہوں کہ آپ اعلٰی تعلیم یافتہ طویل تجربہ کے حامل لفظ شناس مردم شناس ۔ مفسّرِ قرآن ماہر زبانِ عربی اور روشن دماغ کے حامل ہیں اسلئے آپ کوئی بات غلط نہیں کہہ سکتے ۔ میں اَن پڑھ ناتجربہ کار زبان عربی تو کیا کوئی زبان بشمول اُردو پنجابی ٹھیک طرح سے لکھ پڑھ نہیں سکتا ۔ 75 سال کی عمر گنڑہیریاں بیچتے گذاری ہے
    میں بھلا آپ کا مقابلہ کیسے کر سکتا ہوں ۔ لیکن حضور سورتیں تو کیا آیات ساری کی ساری کسی موقع محل کے مطابق اُتری تھیں تو گویا سب کچھ کا تعلق آج سے 1400 سال پہلے کے زمانہ سے تھا ۔ موجودہ زمانہ سے نہ ہوا ۔ اس زمانہ جدید میں آپ جیسے ہونہار نیا قرآن لکھنے میں کامیابی چاہتے ہیں تو یہ کامیابی آپ کو مبارک ۔ میں نے پچھلی آدھی صدی مین جو مطالعہ کر لیا اب اس میں ترمیم کی مجھ میں سکت نہیں
    جو سیاسی باتیں آپ نے لکھی ہیں ان پر میں کچھ کہنا نہیں چاہتا
    آپ شاید نہیں جانتے کہ مرزا غلام احمد قادیانی بھی 90 فیصد وہی کہتا تھا جو مودودی صاحب کہتے رہے
    اگر ہو سکے تو مندرجہ ذیل ربط پر میری تحریر ”سرسیّد سے غامدی تک“ پڑھ لیجئے تاکہ میرا بُغض واضح ہو جائے
    http://www.theajmals.com/blog/2007/10/15

  16. fikrepakistan

    حضرت بہت معزرت کے ساتھہ ایک بار پھر آپ سے اختلاف کی جسارت کروں گا۔ آپکا دیا ہوا لنک پڑھا لیکن مجھے اس میں دلیل نام کی کوئی چیز نظر نہیں آئی، آپ بے وجہ ہی غامدی صاحب کو منکر حدیث ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں جبکہ غامدی صاحب ہرگز منکر حدیث نہیں ہیں، انکا استدلال یہ ضرور ہے کہ حدیث سے قرآن کو پرکھنے کے بجائے قرآن کو حدیث سے پرکھنا چاہئیے، یہ انکا یہ استدلال درست بھی ہے، اس میں کیا خرابی ہےِ؟ جن قرآنی آیات کا حوالہ آپ نے دیا ہے ان میں جو حضور پاک کے اتباع کا تعلق ہے وہ دینی معاملات سے ہے اور دینی معاملات میں حضور پاک کی اتباع کی مخالفت کس نے کی ہے؟ صحیح مسلم کی حدیث میں حضور پاک نے خود فرما دیا ہے کہ تم میری ہر بات کو دین مت بنا لیا کرو میں جسے دین کہہ کر دوں اسے بطور دین لیا کرو، دنیاوی معاملات تم خود بہتر طور پر سمجھہ سکتے ہو۔ یہ حدیث نمبر، ٦١٢٦ ٦١٢٧ ٦١٢٨ کا مفہوم ہے ہوسکے تو پڑھہ لیجئیے گا۔ بخاری شریف میں یہ واقع درج ہے کہ حضرت خالد بن ولید گو کھا رہے تھے حضور پاک تشریف لے آئے انہوں نے پلیٹ حضور پاک کے سامنے رکھ دی کے آپ بھی کھائیے، حضور پاک نے فرمایا مجھے پسند نہیں، حضرت خالد بن ولید نے پوچھا یا رسول اللہ حرام ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں حرام نہیں ہے بس مجھے پسند نہیں، تو حضرت خالد بن ولید نے آپ کے سامنے سے پلیٹ اٹھائی اور ساری کھا لی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ حضور پاک کی ذاتی پسند نہ پسند دین نہیں ہے، دین وہ ہی ہے جو حضور پاک کہہ کردیں گے جسکی تاکید فرمائیں گے جسے نہ کرنے کی صورت میں وعید دیں گے، یا جسکا حکم براہ راست قرآن میں آئے گا۔ باقی آپ جس چیز کو چاہئیں دین بنا لیں، لوگوں کے نزدیک تو گدو کھانا بھی دین ہے، کھجور کھانا بھی دین ہے،عربی لباس میں بھی لوگ دین ڈھونڈ لیتے ہیں، طب نبوی بھی لوگوں کے نزدیک دین ہے۔ بنائیے آپ جس چیز کو چاہئیں دین بنائیں لیکن آپ کے یا میرے بنانے سے کوئی چیز دین نہیں بن جائیگی دین وہ ہی چیز بنے گی جسکے پیمانے اوپر بیان کئے ہیں۔

  17. افتخار اجمل بھوپال Post author

    فکرِ پاکستان صاحب
    حضور آپ کا مسئلہ یہی ہے کہ آپ وہی دیکھتے ہیں جو دیکھنا چاہتے ہیں ۔ آپ کو قرآن شریف کی آیات کا مطلب وہی نظر آتا ہے جو آپ چاہتے ہیں ۔ میں تو ایک عام سا انسان ہوں میرا لکھا تو آپ کو سمجھ آ ہی نہیں سکتا ۔ کیا آپ کو مندرجہ ذیل فقرے نظر نہیں آئے ۔
    حدیث کو متنازعہ بنانے کے علاوہ مجھے زمانۂ جدید کے ان مفکرین کی تحاریر میں دو باتیں نمایاں نظر آئیں ۔ ایک عورتوں کے پردہ کا نظریہ اور دوسرا جہاد کا جنہیں مغربیت کا لباس پہنانے کیلئے ان صاحبان نے قرآن شریف کی متعلقہ کچھ آیات کو صرف رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی حیاتِ طیّبہ کیلئے مخصوص کر دیا اور کچھ کا شانِ نزول اور سیاق و سباق سے قطع نظر جدید دور کے مطالبات کے مطابق اپنی مرضی کا ترجمہ کر لیا ۔ گویا پچھلی 14 صدیوں میں پیدا ہونے والے سینکڑوں اہلِ عِلم سے یہ صاحبان زیادہ عقل و فہم رکھتے ہیں ۔ سُبحان اللہ ۔ غور کیا جائے تو ان صاحبان کا مقصد مغربیت زدہ لوگوں کو جواز کج روی مہیا کرنے کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا ۔
    رہی دلیل تو میں کوئی بھی دلیل دے دوں آپ کونسا ماننے والے ہیں ۔ میں نے قرآن شریف کی آیت بطور دلیل لکھی تو اسے آپ نے 14 صدیاں قبل سے منسوب کر کے رد کر دیا ۔ پردے کے متعلق تو آپ خود جو توجیہات کر رہے ہیں کیا وہ غامدی کی نہیں ہیں ؟
    بلاشُبہ دین وہ ہے جو قرآن میں ہے اور اللہ کے رسول سیّدنا محمد ﷺ نے جو بیان کیا ہے ۔ فرق صرف اسے سمجھنے میں ہے ۔ آخر میں عرض ہے کہ میں جیسا بھی مسلمان ہوں مجھے آپ سے تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ۔ میں نے آپ کی رہنمائی کی کوشش کی تھی مگر اب نہیں کروں گا کیونکہ میرا کام صرف پیغام پہنچانا تھا سو میں نے اپنا فرض پورا کر دیا ۔ میں اپنے عمل کا ذمہ دار ہوں اور آپ اپنے عمل کے ذمہ دار ہیں

  18. fikrepakistan

    آپ نے بلکل درست فرمایا ہمارا کام صرف پیغام پہنچانا ہے، اپنی ذہنیت یا اپنا عقیدہ دوسروں پر زبردستی تھوپنا ہرگز نہیں ہے، نہ ہی مذہب کے نام پر انکے نہ ماننے کی صورت میں انہیں خود کش دھماکے کر کے ہلاک کرنا ہے، نہ ہی مسلمان کا کام کسی دوسرے مسلمان کو بدتی، مشرک یا گستاخ رسول کہہ کر گولیوں سے بھوننا ہے، آپکا اپنا نظریہ ہے میرا اپنا نظریہ ہے، آپ نے اپنے نطریے کے حق میں دلائل دئیے ہیں اور میں نے اپنے نظریے کے حق میں دلائل دئیے ہیں، فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیتے ہیں کہ یہ ہی دین اسلام کا تقاضہ ہے اور یہ ہی قرآن کی تعلیم ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)