پاکستان نہیں بننا چاہیئے تھا؟

دنیا کا سب سے بڑا مذہب غربت ہے ۔ یقین نہیں آتا تو اس عورت کا تعاقب کر کے دیکھیں جو سامنے ایک بھارتی شہر کے ریلوے سٹیشن پر گھوم رہی ہے ۔ وہ ایک مسلمان عورت ہے جس کا نام بیگم ہے ۔ تھوڑی دیر بعد وہ ریلوے اسٹیشن کے ٹوائلٹ میں داخل ہوگی اور جب باہر آئے گی تو اس کا نام بیگم کی بجائے لکشمی ہو گا، ماتھے پر سندور ہوگا ، ہاتھ میں چوڑیاں ،گلے میں منگل سوتر اور بدن پر ساڑھی…اللہ کے نام والا تعویز اس کے بازو پر نہیں ہوگا۔ اب وہ ایک روایتی شادی شدہ ہندو عورت ہے لیکن صرف صبح 9 سے شام 5 بجے تک ۔گھر واپس جا کر وہ دوبارہ اپنے مذہب میں ”داخل“ ہو جائے گی ۔ بیگم سے لکشمی تک کا سفر میرے اور آپ کے لئے تو شائد حیرت اور تکلیف کا باعث ہو مگر اس مسلمان عورت کے لئے نہیں جو ”سیکولر“ بھارت میں رہتی ہے اور جسے اپنا پیٹ پالنے کے لئے ایک نوکری کی تلاش ہے ۔کئی برس ٹھوکریں کھانے کے باوجود جب بطور مسلمان اسے نوکری نہیں ملی تو اس کے غریب ذہن نے سمجھایا کہ اب ذرا ہندو بن کر بھی کوشش کرو ، اس نے یہی کیا اور کام بن گیا ۔ آج کل وہ ایک ہسپتال میں آیا ہے ۔ حال ہی میں ہسپتال کی انتظامیہ نے اسے کہا ہے کہ” انہیں چند مزید لڑکیوں کی بھی ضرورت ہے مگر وہ مسلمان نہ ہوں ۔ اگر انہیں پتہ چل گیاکہ میں مسلمان ہوں تو وہ فوراً مجھے نوکری سے نکال دیں گے“۔

اس کے باوجود ہمارے سیکولر طبقے کا خیال ہے کہ پاکستان نہیں بننا چاہئیے تھا

جس ملک میں عورتیں خود کو زندہ رکھنے کے لئے اتنی مجبور ہوں کہ اپنا ہونے والا بچہ ”ایڈوانس“ پکڑ کر بیچ دیں اور یہ آپشن وہ تب استعمال کرتی ہوں جب ان کا اپنا خریدار کوئی نہ رہے،اس ملک میں کسی مسلمان عورت کا معمولی سی نوکری کی خاطر بھیس بدلنا تعجب کا باعث نہیں ہونا چاہئے ۔بھارت میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 13فیصد ہے جبکہ انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس میں مسلمان صرف 3 فیصد ہیں ،انڈین فارن سروس میں 1.8 فیصد اور انڈین پولیس سروس میں 4 فیصد ۔ بھارتی ریلویز میں 14لاکھ افراد کام کرتے ہیں جن میں صرف 64,000 مسلمان ہیں جو 4.8 فیصد بنتا ہے اور اس میں سے بھی 98.7 فیصد وہ ہیں جو نچلے درجے کے ملازمین میں شمار ہوتے ہیں ۔ پھر بھی ،پاکستان نہیں بننا چاہئیے تھا

حال ہی میں بھارت نے ایک مسلمان سید آصف ابراہیم کو انٹیلیجنس بیورو کا چیف مقرر کیا ۔ اس اقدام نے ہمارے ضرورت سے زیادہ پڑھے لکھے دانشوروں کو بھنگڑے ڈالنے کا ایک اور موقع فراہم دیا اور ان کی زنبیل میں ایک اور دلیل کا اضافہ ہو گیا ۔ بھارت کا (سابقہ) صدر مسلمان ، آئی بی کا چیف مسلمان ، فلم انڈسٹری کا بادشاہ مسلمان ۔ ”اب بھی کہتے ہو کہ پاکستان بننا چاہئیے تھا۔ you loosers “

بھارتی صدر تو خیر ایک رسمی سا عہدہ ہے جس کی اہمیت صرف اتنی ہے کہ بھارت اس عہدے کو اپنا سیکولر امیج بہتر بنانے کے لئے استعمال کرتا ہے ۔ بھارت کے جاسوسی ادارے میں مسلمان سربراہ کی تعیناتی 125 سال میں پہلی مرتبہ عمل میں آئی ہے اور اس کا مسلمانیت سے کتنا تعلق ہے ، اس بات کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ بھارت کی مختلف سیکورٹی ایجنسیوں میں 90 لاکھ افراد کام کرتے ہیں جن میں دفاع کی تینوں ایجنسیاں بھی شامل ہیں ۔ ان میں سے جب 5 لاکھ 20 ہزار افراد کا ڈیٹا کھنگالا گیا تو معلوم ہوا کہ ان ایجنسیوں میں مسلمان عہدے داروں کا تناسب فقط 3.6 فیصد ہے جبکہ نچلے درجے کے ملازمین میں سے 4.6 فیصد مسلمان ہیں ۔ اوررہی بات فلم انڈسٹری کی تو جو لوگ شاہ رخ خان ،عامر خان اور سلمان خان کو سچ مچ کا مسلمان سمجھتے ہیں ان کے حق میں علامہ طاہر القادری سے دعا ہی کروائی جا سکتی ہے

اگراب بھی کسی سیکولر بھائی کا یہ خیال ہے کہ پاکستان نہیں بننا چاہئیے تھا تو انہیں چاہئیے کہ فوراً ممبئی میں اپنا ایک فلیٹ بک کروا لیں لیکن خیال رکھیں کہ اس فلیٹ میں ٹوائلٹ کی سہولت موجود ہو کیونکہ ودیا بالن کے بھارت کی کل آبادی لگ بھگ ایک ارب 20 کروڑ ہے جن میں سے نصف کو ٹوائلٹ کی سہولت ہی میسر نہیں ا ور مسز بالن اس ضمن میں بہت پریشان ہیں ۔ انہوں نے بھارتیوں کو شرم دلانے کے لئے ایک مہم بھی چلائی مگر بے سود ۔ بھارت ماتا میں 60کروڑ لوگ بغیر ٹوائلٹ کے زندگی گزارتے ہیں ۔ جھارکنڈ، اڑیسہ اور بہار میں یہ شرح 75فیصد سے بھی زیادہ ہے اور ان تینوں ریاستوں کی کل آبادی پورے پاکستان کے برابر ہے ۔ بنگلور جسے بھارت کی سِلیکون ویلی کہا جاتا ہے ، بھارت کے ماتھے کا سندور ہے ۔ رات گئے جب 60 لاکھ آبادی کا یہ شہر سو جاتا ہے تو نچلی ذات کے ہندو جنہیں اچھوت یا دلت کہا جاتا ہے 15000 کی تعداد میں نکلتے ہیں اور 60 لاکھ شہریوں کا گند صاف کرتے ہیں ۔ پورے بھارت مہان میں یہ کام کرنے والوں کی تعداد سرکار کے مطابق 3 لاکھ جبکہ اصل میں 10 لاکھ کے قریب ہے اور یہ لوگ اوسطً 4 ڈالر یومیہ سے بھی کم کماتے ہیں ۔ بھارتی شہروں میں مسلمانوں کی غربت ان اچھوتوں سے بھی بڑھ کر ہے ۔ بھارت کے وہ چھوٹے دیہات جہاں مسلمانوں کی آبادی نسبتاً زیادہ ہے (اکثریت نہیں ہے) ان میں سے ایک تہائی ایسے ہیں جہاں سرے سے کوئی سکول ہی نہیں ہے ۔ اور ایسے بڑے دیہات جہاں مسلمان بستے ہیں ، ان میں سے 40 فیصد میں کسی بھی قسم کی کوئی صحت کی سہولت میسر نہیں ۔ یہ بیان مجھ جیسے کسی تنگ نظر مسلمان کا نہیں بلکہ بھارت کی مشہور زمانہ سچر کمیشن رپورٹ کا نتیجہ ہے ۔مگر کیا کریں . پاکستان نہیں بننا چاہئیے تھا ؟

پاکستان اور بھارت کا مقابلہ کرنا مقصد ہے اور نہ مجھے اس بات پر ڈھول بجانے کا شوق ہے کہ اگر ہمارے ہاں 22.6 فیصد افراد 73 پنس یومیہ سے بھی کم آمدن رکھتے ہیں تو کیا ہوا، بھارت میں یہی شرح 41.6 فیصد ہے ۔ یہاں اگر بچے غذائی کمی کا شکار ہو کر مرتے ہیں تو بھارت میں یہ شرح دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے لہذا ہمیں گھوڑے بیچ کر سو جانا چاہئے ۔ اگر پاکستان میں بچے 5 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے کسی بیماری کی وجہ سے مر جاتے ہیں تو بھارت میں سالانہ 21 لاکھ بچے ایسے ہیں جو under weight پیدا ہوکر مرجاتے ہیں لہذا ہم پھر جیت گئے

جی نہیں ، ایسی جیت پر لعنت اور ایسا سوچنا پرلے درجے کی حماقت ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس بنیاد پر پاکستان بنا کیا وہ نظریہ درست تھی ؟ نظریہ بڑا سادہ تھا کہ اگر مسلمان متحدہ ہندوستان میں رہے تو بطور اقلیت انہیں ان کے حقوق نہیں ملیں گے ۔ اس بات کا تعین کرنے کا سادہ ترین طریقہ یہ ہے کہ دیکھا جائے کہ کیا بھارت کا ایک عام مسلمان پاکستانی مسلمان سے بہتر حالت میں زندگی بسر کر رہا ہے ؟ پاکستان کی تمام جملہ خرابیوں کے باوجود ،جن میں زیادہ تر حصہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کا ہے اورجو فوجی آمریتوں کی دین ہے ، ایک عام پاکستانی کے حالات بھارتی مسلمان سے کہیں بہتر ہیں ۔ ہمیں صرف بھارتی فلم اور میڈیا کی چکا چوند دکھائی دیتی ہے، یہ پتہ نہیں چلتا کہ سیکولر بھارت میں فقط ہندو ہی ”دبنگ“ ہیں ۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ قوم دھنیا پی کر سو جائے

جتنا جذبہ ہم بھارت کو کرکٹ کے میدان میں ہرانے کے لئے بروئے کار لاتے ہیں اگر اس کا 10 فیصد بھی ہم دیگر شعبوں میں استعمال کریں تو
ہمارا بین الاقوامی امیج بھارت سے بہتر ہو جائے گا۔ بھارت کا امیج اس کی ”The Dirty Picture“کی وجہ سے بہتر ہے جبکہ ہم اپنے ملک کی dirtiest pictureپینٹ کرتے ہیں اور ساتھ ہی پاکستان کے وجود پر معذرت خواہانہ رویہ اپنا لیتے ہیں ، لاحول ولا۔

تحریر ۔ یاسر پیرزادہ

This entry was posted in تجزیہ, معاشرہ, معلومات on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

16 thoughts on “پاکستان نہیں بننا چاہیئے تھا؟

  1. کاشف

    سر جی،
    علیحدگی کی تمام تحریکیں عموما معاشی استحسال کے سبب جنم لیتی ھیں۔ ورنہ اگر سب کا پیٹ بھر رھا ھو تو کسے پروا علیحدہ ھونے کی۔ اسی لیے جب سلطنتیں بہت پھیل جائیں، مرکز کی گرفت دوردراز علاقوں پر ڈھیلی ھو جائے، اور وسائل پر طاقتوروں کے قبضے کے سبب رعایا کی معاشی حالت بگڑتی جائے تو نظر اندازی کا احساس علاقوں کو کسی نہ کسی طرح علیحدہ ملک میں تبدیل کر ھی دیتا ھے۔

  2. آوارہ فکر

    یاسر پیرزادہ صاحب نجانے کس جہان میں رہتے ہیں۔ محاورے کے مطابق اپنی آنکھ کا شہتیر دکھائی نہیں دے رہا اور انڈیا میں ٹوائلٹ گننے کی فکر ہے۔
    حالت یہ ہے کہ اسلام اور پاکستان کا مطلب کیا لاالٰہ الاللہ کے نعرے لگا کے حاصل کئے گئے ملک میں بندوقوں کے سائے میں نماز پڑھنا تک محفوظ نہیں رہا۔ لوگ خودکشیاں کرنے پہ مجبور ہیں۔ ووٹ پھر بھی جمشید دستیوں اور بلاول بھٹوؤں کو ڈالنے ہیں۔

    بھارت کی چھوڑیں۔ اپنی بات کریں بھائی۔

  3. افتخار اجمل بھوپال Post author

    یازغل صاحب
    شاید آپ نے یاسر پیرزادہ صاحب کی تحریر کے آخری 2 بند نہیں پڑھے ۔ ویسے اللہ کا فرمان اٹل ہے ۔ سورت 13 الرعد ۔ آیت 11 ۔ إِنَّ اللّہَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِہِمْ ۔ ۔ اللہ اس کو جو کسی قوم کو حاصل ہے نہیں بدلتا جب تک وہ اپنی حالت کو نہ بدلے

  4. شعیب

    جناب
    بھارتی مسلمان بندوقوں کے سائے کے بغیر نماز ادا کرتے ہیں
    بھارتی مسلمان آپس میں‌ لڑتے ہیں‌ نہ آپسی فساد مچاتے ہیں
    بھارتی مسلمان، پاکستانی مسلمان آبادی سے دس گنا زیادہ ہیں
    خود تشریف لاکر دیکھیں بھارتی مسلمان کن حالات میں ہیں شمال سے لیکر جنوب تک، اور پھر لکھیں اپنے بلاگ پر ۔

  5. ناصر

    یہ بات حقیقت ہے کہ عام پاکستانی مسلمان کی زندگی عام بھارتی مسلمان سے بدرجہا بہتر ہے
    لیکن اپنی اپنی موجودہ حیثیت اور پوزیشن میں‌ دونوں‌ ہی مجبور و بے کس ہیں‌

  6. افتخار اجمل بھوپال Post author

    شعیب صاحب
    میں نے آج بھی جمعہ کی نماز مسجد میں پڑھی پچھلی عید کی بھی اسی مسجد میں پہڑھی تھی ۔ وہا مجھے نہ بندوق نظر آئی نہ سایہ ۔ یہ مسئلہ کراچی میں ہے ۔ پشاور اور بلوچستان میں ۔ تینوں جگہ سیکولر جماعتوں کی حکومت ہے ۔ کراچی میں الطاف حسین کی ایک کیو ایم ۔ زرداری کی پیپلز پارٹی اور اسفند یار ولی کی اے این پی حکومت ہے جو اپنی اپنی طاقت جتانے کیلئے عوام کا خون کر رہی ہیں ۔ پشاور میں اے این پی اور پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی جو آپس ہی میں لڑتے ہیں

  7. عبدالرؤف

    السلامُ علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ

    اجمل صاحب، کافی دن بعد آپ کے بلاگ پر تبصرہ کرنے کا دل کررہا ہے۔ 65 سال گذرجانے کے بعد یہ سوال ہی بے معنیٰ ہے کہ پاکستان بننا چاہیئے تھا کہ نہیں، کیونکہ یہ بن چکا ہے، ایک حقیقت ہے، دنیا کے نقشے پر موجود ہے، اس لیئے اب کیا ، کیوں اور کیسے پر تو سوال کیا جاسکتا ہے، حتیٰ کہ یہ سوال تک بھی اٹھایا جاسکتا ہے کہ موجودہ حالات کے پیشِ نظر پاکستان کو وجود میں رہنا چاہیئے بھی کہ نہیں لیکن “نہیں بننا چاہیئے تھا” لامحالہ ایک فضول سوال اور رائے ہے۔

    ناصر صاحب کی اس بات اسے مکمل اتفاق کرونگا کہ یہ بات حقیقت ہے کہ عام پاکستانی مسلمان کی زندگی عام بھارتی مسلمان سے بدرجہا بہتر ہے، لیکن اپنی اپنی موجودہ حیثیت اور پوزیشن میں‌ دونوں‌ ہی مجبور و بے کس ہیں‌۔ دراصل خرابیاں تو ہر ملک اور ہر جگہ پائی جاتی ہیں، لیکن دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ تنقید برائے تعمیر کی جارہی ہے یا پھر برائے تخریب، اور نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان بیشتر دانشور/صحافی/لکھاری تنقید برائے تخریب کرنے میں مصروف ہیں۔ اس سے قوم کا مورال گر جاتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر قوم کی بدنامی ہوتی ہے۔

    پاکستان کے متعلق اپنے مطالعہ و مشاہدہ کی بنیاد پر میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ “پاکستان ایک ملک نہیں بلکہ ایک خواب تھا جو کہ ابھی تک پورا نہیں ہوا ہے، اور یہ اسی وقت پورا ہوگا جب ہم خود کوشش کریں گے، ورنہ یہ خواب محض خواب ہی رہ جائے گا”۔

  8. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبدالرؤف صاحب میں آپ سے 100 فیصد اتفاق کرتا ہوں اس اضافہ کے ساتھ کہ اپنے آپ کو دانشور کہلوانے والے عقل سے پیدل ہیں اور صحافی اور لکھاری زیادہ تر توجہ اپنے پیٹ کی طرف رکھتے ہیں انہیں ملک و قوم کے ساتھ کوئی سروکار نہیں
    خواب پورا نہ ہونے کی وجوہات میں بڑی بڑی تو آپ کے علم میں ہوں گی ۔ میں نے چھوٹی چھوٹی وجوہات بیان کرنے کا قصد کیا ہے جن میں سے ایک آج لکھی ہے ۔ اللہ نے توفیق دی تو وقفے وقفے سے لکھتا رہوں گا جو کچھ میں نے ذاتی طور پر دیکھا

  9. حیدرآبادی

    مجھے سچ مچ پہلی بار محترم افتخار اجمل صاحب کے بلاگ پر اس قدر فالتو تجزیاتی مضمون کو دیکھ کر حیرت ہوئی۔
    صرف ایک سوال مضمون نگار صاحب سے : نصف سے زائد صدی قبل تاریخی ، جغرافیائی اور نظریاتی بنیادوں‌ پر علیحدہ ہوئے ملک کو جسٹی فائی کرنے کے لیے موجودہ ہندوستان میں‌ بس رہے چند پسماندہ یا چند اعلیٰ سطح کے مسلمانوں‌ کی مثال پیش کرنا اہم اور ضروری ہے؟
    ۔۔۔” نظریہ بڑا سادہ تھا کہ اگر مسلمان متحدہ ہندوستان میں رہے تو بطور اقلیت انہیں ان کے حقوق نہیں ملیں گے “۔۔۔۔
    یہ اگر اتنا ہی “سادہ نظریہ” تھا تو سارے مسلمانوں‌ کے لیے علیحدہ ملک کی مانگ کیوں‌ نہیں‌ کی گئی ؟؟ جغرافیائی حدود کیوں‌ قائم کی گئیں اور کیوں‌ مشرقی پاکستان الگ ہونے پر مجبور ہوا ؟

    اگر پڑھے لکھے صحافی بھی اس قدر لچر تجزیہ کرنے بیٹھ جائیں‌ تو یقین جانئے کہ ہندو توا وادی کے کسی مسلم مخالف صحافی اور پاکستان کے اس طرز کے ہند مخالف محدود ذہنیت کے صحافی میں‌ ہمیں‌ کوئی فرق نظر نہیں‌ آتا۔
    عبدالرؤف صاحب نے اپنے تبصرے میں‌ یہ بالکل بجا لکھا ہے کہ : نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان بیشتر دانشور/صحافی/لکھاری تنقید برائے تخریب کرنے میں مصروف ہیں۔
    اور اس بات کا یہ مطلب نہیں‌ ہے کہ ہند کے تمام صحافی تنقید برائے تعمیر ہی کرتے ہیں۔ تنقید برائے تخریب تو یہاں‌ بھی برابر ہوتی ہے ۔۔۔ مگر یہ چیز کم از کم یہاں‌ کے معتبر غیر مسلم صحافیوں‌ میں‌ دیکھی نہیں‌ گئی کہ اپنی لائف اسٹائل کو برتر جتانے کے لیے پڑوسی ملک کے عوام کے کردار کشی کی جائے۔

  10. افتخار اجمل بھوپال Post author

    حیدر آبادی صاحب
    اگر آپ کو رنجش پہنچی ہے تو میں معافی کا طلبگار ہو ۔ یاسر پیرزادہ کا مضمون نقل کرنے کا مطلب کسی کی دلآزاری نہیں تھا ۔ یاسر پیرزادہ نے یہ مضمون ماضی قریب میں لکھے گئے چند مضامین کے جواب کے طور پر لکھا تھا

  11. اسد بلال

    بہت خوب ، اجمل بھوپال والا صاحب آپکی تحریر نے مجھے آپ کا گرویدہ بنا دیا ہے. آپ سے گزارش ہے کہ اپنے پیج پر فیس بک پر شیر کرنے والی آپشن دے دیں. آپکا ممنون ہونگا. شکریہ

  12. افتخار اجمل بھوپال Post author

    اسد بلال صاحب
    نوازش کا شکریہ ۔ یہ آپ کا حسنِِ زن ہے ۔ میں تو ایک عام سا آدمی ہوں ۔ فیس بُک والی آپشن ڈرتے ہوئے نہیں ڈالاتا ۔ میں بھوپال والا نہیں ہوں جی ۔ صرف بھوپال ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)