چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ معاملہ فہمی

ذہن میں آیا کہ تعمیرِ اخلاق کی خاطر اہم عوامل کو صرف چند الفاظ میں بیان کیا جائے تاکہ بہت کم فرصت پانے والے قارئین بھی مستفید ہو سکیں ۔ چنانچہ میں نے چار پانچ سال قبل” چھوٹی چھوٹی باتیں “ کے عنوان کے تحت لکھنا شروع کیا اور اللہ کے فضل و کرم سے اس سلسلہ میں کئی درجن دو چار سطری عبارات لکھ چکا ہوں اور یہ سلسلہ جاری ہے ۔ ایسی تحاریر دیکھنے کیلئے داہنے حاشیئے میں سب سے اُوپر بنے گوگل کے خانے میں چھوٹی چھوٹی باتیں لکھ کر Search پر کلِک کیجئے

آج کی بات

جب آپ ہوا کا رُخ تبدیل نہیں کر سکتے
تو
اپنے بادبان کو درست ترتیب دے لیجئے
جو کہ ممکن بھی ہے

میرا دوسرا بلاگ ” حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔ Reality is often Bitter“۔
” پچھلے 8 سال سے معاشرے کے مختلف پہلوؤں پر تحاریر سے بھر پور چلا آ رہا ہے ۔ اور قاری سے صرف ایک کلِک کے فاصلہ پر ہے ۔ 2010ء ميں ورڈ پريس نے اسے 10 بہترين بلاگز ميں سے ايک قرار ديا تھا

This entry was posted in روز و شب, سبق, طور طريقہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

2 thoughts on “چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ معاملہ فہمی

  1. عبدالرؤف

    السلامُ علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
    محترم اجمل صاحب، ایک مفت مشورہ ہے کہ قارئین کو سرچ کروانے کے بجائے، اگر آپ تمام “چھوٹی چھوٹی باتیں” والے صفحات کی ایک فہرست بنالیں‌ تو زیادہ مفید ہوگا۔ :?:

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبدالرؤف صاحب
    مُفت مشورہ کا شکریہ ۔ میں نے قارئین کو تلاش کا مشورہ دینے سے پہلے ارادہ کیا تھا کہ سب اکٹھے کر کے ایک صفحہ بناؤں جس کی ابھی فرصت نہیں ۔ فی الحال پکا کر کمرے رکھ دی کہ اچھی چیز کی جُستجو ہو تو آدمی کچھ محنت کرے ۔ حلوہ پکا کر منہ میں ڈال دیا جائے تو حلوے کی کوئی قدر نہیں ہوتی
    :lol:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)