ناموسِ رسول ﷺ

مغربی اقوام جنہوں نے سیکولر ازم کی آڑ میں اپنے نبیوں کو عملی زندگی سے خارج کر دیا ہے۔ آج پھر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر مختلف انداز اور مختلف اطراف سے تیر چلا رہی ہیں اور انہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ مسلمان اپنے نبی کے معاملے میں اتنے حساس کیوں ہیں کہ مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں ۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ عشق رسول کے بغیر مسلمان کا ایمان ہی مکمل نہیں ہوتا ۔ وہ لوگ صرف نام کے مسلمان ہیں جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ہر شے، والدین، اولاد، دوست وغیرہ سے زیادہ محبت نہیں ہوتی ۔ لیکن اشتعال انگیزی اور توڑ پھوڑ مسلمان کا شیوہ نہیں ۔ اسلام کا مطلب ہی ”امن“ ہے

میں اس موضوع پر لکھنا چاہ رہا تھا اور دماغ میں اتنا کچھ جمع ہو گیا کہ میرے لئے اس کا اختصار ناممکن ہو گیا ۔ اللہ مُشکل کُشا نے میری مُشکل آسان فرمائی اور مجھے ایک مضمون مل گیا جس سے اقتباس حاضر ہے

غزوہ اُحد اپنے عروج پر تھا۔ دونوں طرف سے تیر چلائے جا رہے تھے اور تلوار زنی کے جوہر دکھائے جا رہے تھے۔ کفار کی کوشش تھی کہ وہ کسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گرفتار کر لیں یا شہید کر دیں۔ مشرکین ہر طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ٹوٹ پڑے۔ ان کا حملہ شدت اختیار کر گیا تو حضرت مصعب بن عمیر اور حضرت ابو دجانہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے دشمنوں کو بھگاتے ہوئے شدید زخمی ہو گئے۔ مشرکین تیر برسانے لگے۔ وہ مسلمانوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے منتشر کرنا چاہتے تھے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت ابو طلحہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں طرف سے اس طرح گھیر لیا کہ وہ ڈھال بن گئے۔ حضرت قتادہ بن نعمان کی آنکھ میں تیر لگا تو آنکھ کا ڈیلا رخسار پر لٹک گیا۔ مشرکین کے تیروں کا نشانہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ تھی جبکہ صحابہ کرام آپ کے سامنے ڈھال بنے کھڑے تھے

حضرت ابو طلحہ انصاری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو کر مشرکین پر تیر چلا رہے تھے۔ دوسری طرف حضرت طلحہ بن عبید اللہ تلوار چلا رہے تھے اور چاروں طرف سے مشرکین کے حملے روک رہے تھے۔ مالک بن زبیر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ
مبارک کا نشانہ لے کر تیر چلایا تو حضرت طلحہ نے جلدی سے اپنا ہاتھ سامنے کر دیا۔ تیر ان کی انگلی کو چیرتا ہوا نکل گیا۔ بنی عامر بن لوی کا ایک آہن پوش سوار نیزہ لہراتا ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ آور ہوا تو حضرت طلحہ نے آگے بڑھ کر اس پر وار کیا۔ اس کا گھوڑا گر گیا۔ حضرت طلحہ نے اس کا نیزہ چھین کر اس زور سے اس کی آنکھ میں چبھویا کہ وہ وہیں ختم ہو گیا

حضرت طلحہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص اپنے جسموں پر تیر کھاتے اور دشمن کے وار سہتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جبل احد کی طرف محفوظ مقام پر لے گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک شہید ہونے کی خبر سن کر حضرت اویس قرنی نے باری باری اپنے تمام دانت نکال دیئے تھے کہ نہ جانے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کونسا دانت شہید ہوا

غزوہ احد میں حضرت طلحہ کو انتالیس زخم لگے۔ مورخین لکھتے ہیں آپ کا جسم زخموں سے چھلنی ہو گیا تھا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص کو بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت میں بے شمار زخم لگے۔ حضرت ابوبکر صدیق فرماتے ہیں ”میں نے دیکھا طلحہ بن عبید اللہ کا بہت زیادہ خون بہہ گیا تھا اور وہ بے ہوش پڑےا تھے۔ میں نے ان کے چہرے پر پانی چھڑکا تو ہوش آ گیا۔ آنکھ کھلتے ہی پہلا سوال یہ کیا ‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے ہیں اور کیا کر رہے ہیں؟’ میں نے جواب دیا ”بخریت ہیں اور انہوں نے ہی مجھے بھیجا ہے“۔ حضرت طلحہ بن عبید اللہ نے کہا ‘الحمد للہ ہر مصیبت کے بعد آسانی ہوتی ہے’ “۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر کوئی ایسے شخص کو دیکھنا چاہے جو زندہ ہے حالانکہ اہل جنت سے ہے (یعنی زندہ شہید ہے) تو وہ طلحہ کو دیکھے“۔ (بحوالہ الامین صلی اللہ علیہ وسلم از محمد رفیق ڈوگر جلد دوم ص 478)۔ غزوہ احد کے دوران یہ افواہ اڑ گئی تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں لیکن جب اہل مدینہ کو یہ خوشخبری ملی کہ یہ افواہ بے بنیاد ہے تو کچھ خواتین کو یقین نہ آیا اور وہ خود میدان جنگ کی طرف چل دیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ حضرت سمیرا
بنت قیس گھر سے نکلیں اور بنی دینار کی خواتین کے ہمراہ جبل احد کی طرف چل پڑیں۔ وہ ہر ملنے والے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھتی تھیں۔ کسی نے بتایا ”تمہارے دونوں بیٹے نعمان اور سلیم شہید ہو گئے“۔ حضرت سمیرا نے بات سنی اَن سنی کر کے پوچھا ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حال بتاؤ؟“ جواب ملا ”الحمد للہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ویسے ہی ہیں جیسے تم ان کو دیکھنا چاہتی
ہو“۔ حضرت سمیرا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہا ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر سارے مصائب / غم آسان ہو گئے ہیں“۔ (الامین صفحہ 439)

ڈاکٹر صفدر محمود کی تحریر سے اقتباس

This entry was posted in تاریخ, روز و شب, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

One thought on “ناموسِ رسول ﷺ

  1. ارتقاءِ حيات

    بے شک ہم احتجاج کو پر امن نہیں تشدد سے بھرپور بنا دیتے ہیں
    اپنے ملک کی املاک اور اپنے بھائیوں کو نقصان پہنچادیتے ہیں
    اور یہ نہیں سوچتے کہ اس سے نقصان میں کون رہا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)