رمشا مسیح مقدمہ ۔ امام مسجد گرفتار

تازہ ترین اطلاع کے مطابق کم عمر مسیحی لڑکی رمشا جو مقدس اوراق جلانے کا الزام میں گرفتار کی گئی تھی کے معاملے میں ملوث امام مسجد خالد جدون جو کیس درج کرانے کے بعد پراسرار طور پر لا پتہ ہو گیا تھا کو اب گرفتار کر کے آج اُسے ریمانڈکیلئے جوڈیشل مجسٹریٹ نصرمن اللہ بلوچ کی عدالت میں پیش کیا گیا ۔ عدالت نے گرفتار امام مسجد خالد جدون کو 14روز کے ریمانڈ پر اڈیالہ راولپنڈی جیل بھیج دیا گیا اور 16ستمبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے

امام مسجد پر الزام ہے کہ اس نے رمشا کے خلاف کیس مضبوط کرنے کے لئے جلائے گئے اوراق کی راکھ میں خود سے قرآنی اوراق بھی شامل کئے تھے

دریں اثناء چیئرمین آل پاکستان علماء کونسل علامہ طاہر اشرفی نے ملک بھر کے علماء سے اس معاملے میں ملوث امام مسجد خالد جدون کو سزا دلانے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ انہوں نے صدر پاکستان آصف علی زرداری سے بھی مطالبہ کیا کہ رمشا مسیح کی فوری رہائی کے ساتھ اسکی حفاظت کے بھی احکامات جاری کئے جائیں

This entry was posted in روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

21 thoughts on “رمشا مسیح مقدمہ ۔ امام مسجد گرفتار

  1. یاسر خوامخواہ جاپانی

    اپنی دوکانداری کیلئے مولوی ایک ہجوم کو بیوقوف بنا جاتا ہے۔
    میں نے جب فیس بک پر یہ تبصرہ کیا تھا کہ
    یہ مجھے مولوی کی کرتوت لگتی ہے تو
    مجھے بھی اسلام مخالف کہہ دیا گیا تھا!!!
    ہمیں علما کرام کو توہین سے بچانا ہے تو
    مولوی پہ نظر رکھنی ہوگی
    یہی مولوی اسلام کی بدنامی اور علما کرام کی بدنامی کا باعث بنتا ہے

  2. ڈاکٹر جواد احمد خان

    اس طرح کے معاملات کو قانون کے مطابق ہی طے ہونا چاہیے۔ پولیس آزادی سے تحقیقات کرے، عدالت کسی دبائو کے بغیر اپنا فیصلہ سنائے اور سارے لوگ خاص طور پر تمام چپل چور زرداری اس فیصلہ کو تسلیم کریں۔
    لیکن میرا ایک مطالبہ اور بھی ہے اور وہ یہ کہ علامہ اشرفی کو اسلام کی ترجمانی سے روکا جائے۔ نا ماننے پر انکے گھر اور ہر وہ جگہ جہاں وہ پائے جاتے ہوں ناکہ لگا کر انہیں حلوے مانڈوں سے محروم کردیا جائے۔ ساتھ ساتھ انکی گیسٹرک بائی پاس سرجری کرکے اس دھرتی کو انکے بوجھ سے کسی قدر نجات دلائی جائے۔

  3. عبدالرؤف

    اس بات کی بھی تحقیق ہونی چاہیئے کہ آیا وہ شخص جوکہ امام مسجد بنا بیٹھا ہے، حقیقت میں وہ مذہبی آدمی ہے یا پھر کوئی بھروپیا ہے جوکہ اسلام اور توہین مذہب کے قانون کے دشمنوں کا ساتھی ہے، مگر اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ایسا کون سا ادارہ ہے جس کی دیانت و غیرجانبداری پر اعتماد کیا جاسکے ؟

    بھئی پاکستانی ہونے کے باوجود بھی مجھ کو تو پاکستانی نوکر شاہی، میڈیا اور پاکستانی حکام بشمول فوج ، پولیس و عدالت کے ، کسی پر بھروسا نہیں ہے، کیونکہ تجربہ و تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ انگریزی سرکار کے مفاد پرست پٹھوؤں کا ہی تسلسل ہیں ،جنھوں نے محض اپنے مفاد کے لیئے 1857 میں‌ ملک و قوم سے غداری کی اور مسلم و غیر مسلم دونوں کی مشترکہ جنگ آزادی کی کوشیشوں کو ناکامی سے دوچار کرایا،

    اگر آپ کو میری بات پر یقین نہیں‌آرہا ہے تو ذرا پاکستان کے تمام جدی پشتی سردار، وڈیرے، چوہد ری، سید و مخدوم سیاست دانوں کا شجرہ نکال لیں، آپ کو خود ہی یقین آجایئے گا، اسی طرح‌ انڈین رائل آرمی کے کارنامے بھی آپ دیکھ لیں، جن کی باقیات کو آج پاک فوج کا نام دیا جاتا ہے حوالہ: http://urdu.jamaat.org/site/article_detail/35،

    اسی لیئے تو اگر آج بھی اس مفاد پرست ٹولے کا مفاد ہو تو یہ دوست ملک کے “ملا ضیعف” جیسے معزز سفارت کار کو بلاقصور دہشت گرد قرار دے کر انتہائی ذلت سے گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے کردیتے ہیں، انکو دوستی کی قدر کا کیا کرنا، انکو کو سفارت کاری کے اصولوں سے کیا لینا دینا۔

    انکا مفاد ہو تو پاکستانی عوام کے قاتلوں سی آئی اے، اور بلیک واٹر عرف ژی کے “ریمنڈ ڈیوس” جیسے سند یافتہ دہشت گردوں کو معزز مہمان قرار دے کر مکمل عزت و احترام سے رخصت کردیتے ہیں، انکو عوام یعنی اپنے غلاموں کی کیا فکر۔

    انکا مفاد ہو تو پاکستانی قوم کی بیٹی “عافیہ صدیقی” کو دشمن کے ہاتھوں بیچ دیتے ہیں، انکو کیا پتا کہ بیٹی کیا ہوتی ہے اور اسکی عزت کس چڑیا کا نام ہے۔

    انکا مفاد ہو تو “لال مسجد و مدرسہ حفصہ” کو معصوم بچیوں کے خون سے لال کردیتے ہیں، اور انکے اساتذہ کی تذلیل کرنے کو کارنامہ قرار دیتے ہیں۔ بھلے انکے کعتعتوں کی وجہ سے ساری دنیا میں‌اسلام و مسلمانوں کا سرنگوں ہوجائے۔

    انکا مفاد نا ہو تو اس سابقہ مشرقی پاکستان و موجودہ بنگلہ دیش کو، کہ جس نے سیلاب کی آفت کے وقت موجودہ مغربی پاکستان کی امداد کی تھی، بھاری بوجھ سمجھ و باور کراکر خود ہی مکتی باہنی کے وجود کو جواز مہیا کرتے ہیں تاکہ پھر بنگالہ دیش کا قیام عمل پذیر ہوسکے اور الزام ہندوستان پر، بقیہ بچ رہنے والے بنگالیوں کو غدار قرار دے کر انکی نسلوں کو بھی پاکستان سے متنفر کردایں، بھلے ملک ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے اور اسکی نظریاتی اساس ہی ختم ہوجائے۔

    انکے مفاد میں ہوتو کراچی سمیت ملک بھر میں‌میں‌ فرقہ وارانہ و لسانی فسادات کی پشت پناہی کرتے رہیں، بھلے ملک کی معاشی کشتی ہی ڈوب جائے اور ویسے بھی انسانی خون کی اہمیت کا انکو کیا اندازہ۔

    انکے مفاد میں ہوتو بلوچستان میں اپنے ہی پیدہ کردہ بغاوت کے اسباب ختم کردینے کے بجائے بلوچ کو ہی جینے کے حق سے محروم کردیں، اور غدار کہلائے بلوچ۔ بلوچستان کے مسائل کی تاریخ کا خلاصہ:
    http://allurdubooks.blogspot.com/2012/02/blog-post_18.html

    انکے مفاد میں ہوتو روس کے خلاف امریکی اسلحہ اور سعودی عرب کی دولت کی مدد سے پہلے تو افغان مجاہدین و القائدہ کی پشت پناہی کریں ، اسی مولانا مودودی کہ جنکا قادیانی فتنہ سے آگاہ کرنے پر کورٹ مارشل کیا گیا تھا، کی جماعت اسلامی کی مدد سے پاکستانی نوجوانوں کو جہاد پر روانہ کیا گیا جس کی بناء پر آج پاکستان کو جہادیوں کی جنت کہلاتا ہے۔ بھلے پاکستان کا بیڑا غرق ہوجائے۔

    اور پھر جب روس کی شکست و ریخت کے ساتھ ہی تمام شراکت داروں کے مفادات ختم ہوگئے تو پھر افغانستان و افغان قوم کے ہمدرد بھی غائب ہوگئے، اور انکو آپس میں ہی لڑتے مرتے دیکھتے رہے، مگر جب انھوں نے طالبان کی کوشیشوں سے امن و سکون حاصل کرلیا تو پھر انہی ہمدردوں نے انکو دہشت گرد قرار دیکر ان پر حلمہ کردیا، کہ انکو خلافت عثمانی کے خاتمہ کے بعد دنیا کے نقشے پر ایک بھی درست اطوار والی اسلامی ریاست کا وجود برداشت نہیں ہے۔

    باقی رہے پاکستانی مفاد پرست تو انھوں نے وہی کیا جس کی ان سے توقع تھی، یعنی باوجود ان حقائق کے کہ تمام مسلمان ایک امت ہیں، پاکستان کی بنیاد دوقومی نظریہ ہے، پاکستان کا اکثریتی مذہب اسلام ہے، اور افغانستان ہمارا پڑوسی ملک ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مسلم اکثریتی ملک بھی ہے، مگر پھر بھی انہوں نے ظالم کا ساتھ دیا، بدلے میں پاکستانی عوام کو ڈرون حملوں سے نوازا گیا۔ مگر چونکہ وہ تو ٹہرے امریکہ کے و اپنے نفس کے غلام سوء انکو ان باتوں کی کیا فکر۔

    خیر بات کافی لمبی چلی گئی، میں تو صرف اتنا کہنا چاہ رہا تھا کہ پاکستان کے نظام سے میں مطمئن نہیں ہوں، اور اقلیتی گروہوں کے مسائل کو ملکی و غیر ملکی میڈیا میں اتنا اچھالا جاتا ہے کہ لگتا ہے کہ انکے نزدیک دیگر مسائل کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے۔

  4. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبدالرؤف صاحب
    میرے بلاگ کو اتنا وقت دینے پر میں آپ کا احسانمند ہوں ۔ میری شاید بُری عادت ہے کہ میں ہر معاملہ کا ذاتی مطالعہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور میں اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کا جتنا شکر عطا کروں کم ہے کہ وہ میری خواہش پوری کرتا ہے ۔ امام مسجد کا مطالعہ میں اس دور میں شروع کیا تھا جب میں ساتویں جماعت میں تھا (1950ء) اور 1984ء میں اللہ نے مجھے رائے قائم کرنے کے قابل کیا ۔ میں کئی سال قبل لکھ چکا ہوں کہ ہمارے ہاں جو لوگ امام مسجد ہیں ان کی بھاری اکثریت نے کسی دینی مدرسہ سے ایک سال کی بھی تعلیم حاصل نہیں کی
    قابلِ اعتماد آجکل عدالتِ اعلٰی اور عدالتِ عظمٰی ہیں اور ان کی عمر بھی ابھی 5 سال ہوئی ہے ۔ اس کا اثر اب نچلی عدالتوں پر پڑنا شروع ہو گیا ہے
    جماعتِ اسلامی افغانستان میں کسی طور ملوث نہیں رہی ۔ شاید آپ جمعیت علمائے اسلام یا جمعیت علمائے پاکستان کی بات کر رہے ہیں
    آپ نے دو ربط بھی دیئے ہیں ۔ ایک تو وائرس والی سائٹ ہے ۔ دوسری جس میں بلوچستان کی تاریخ اپنی مرضی سے لکھی گئی ہے میں نے پڑھی ہے ۔ قلات کی اسمبلی کیا تھی ؟ کیا آپ اس کے متعلق کچھ جانتے ہیں ؟ یہ خان آف قلات کے چُنیدہ لوگ تھے اور خان آف قلات کبھی قائد اعظم کا دوست نہیں رہا تھا ۔ وہ انگریزوں کا پٹھو تھا۔ اہالیانِ قلات کی خواہش کے زیرِ اثر اُس نے پاکستان کے ساتھ الحاقِ کا وعدہ کیا تھا لیکن اس نے پہلے بھارت سے ملنے کی کوشش کی پھر آزادی کا اعلان کر دیا تھا۔ فوج کشی عوام پر نہیں ہوئی تھی ۔ صرف خان آف قلات اور اس کے حواریوں کے خلاف ہوئی تھی

  5. عبدالرؤف

    محترم اجمل صاحب،

    میں نے حقائق پیش کیئے ہیں، جن کو بلا دلیل جھٹلانا کسی اہل علم شخص کا کام نہیں ہوتا ہے، خیر کچھ باتیں اپنے بارے میں آپ کے علم میں لادوں کہ میری پیدائش 1982 میں خضدار بلوچستان کی ہے، عطاء اللہ مینگل اور اختر مینگل ہمارے قبیلے کے سردار ہیں۔ مگر میں متعصب نہیں بلکہ سچائی کا شیدائی ہوں۔

    میری ساری تعلیم کراچی میں سرکاری اداروں میں ہوئی ہے، اور آجکل معاش کے سبب ملک سے باہر دبئی میں محاسب کا کام کیا کرتا ہوں، عید پر آپ ادھر ہی تھے، مگر موقع نہیں ملا ورنہ مل بیٹھ کر تسلی سے گفتگو کرتے۔

    عمر و تجربہ میں آپ سے کافی کم ہوں، اسی لیئے آپ سے سیکھنا چاہتا ہوں، اور یہی وجہ ہے کہ آپ کے بلاگ کو کافی وقت بھی دیا کرتا ہوں، مگر میرا سیکھنے کا انداز روایتی نہیں ہے، بلکہ میرا اپنا ایک خاص انداز ہے، جس سے اکثر میں دوسروں کی نگاہ میں کمتر سمجھا جاتا ہوں، مگر مجھ کو اسکی پرواہ بھی نہیں ہے۔

    خیر اب آتے ہیں معترضہ نکات کی طرف:
    امام مسجد: میرا ماننا ہے کہ ان میں سے اکثر کم علم ہی ہوتو ہیں، مگر اسلام سے نسبت کے سبب گناہوں سے دور ہوتے ہیں، اسی لیئے میں نے کہا تھا کہ اس بات کی شفاف تحقیق ہونی چاہیئے کہ کہیں یہ کوئی بہروپیا نا ہو۔

    قابل اعتماد ادارے: عدالتوں کا حال کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، موجودہ حالات محض‌ چیف جسٹس کی ذات کی وجہ سے ہیں، جیسے ہی انکے بیٹے کا معاملہ سچ ثابت ہوا ویسے ہی انکی ساری کریڈیٹ‌ایبلٹی گئی، نہیں تو ویسے بھی ایک دن انہوں نے جانا ہے، مگر نظام تو یہی رہے گا نا جس میں غریب کو انصاف نہیں ملتا اور چوروں و قاتلوں کو صدارتی معافی مل جاتی ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔

    جماعت اسلامی اور افغان جنگ: آپ ذرا جنرل ضیاء الحق کے دور میں جماعت کے کردار پر روشنی ڈالیں ،اور کچھ نہیں تو موجودہ سرخوں جیسے بی بی سی اردو کے “محمد حنیف” اور جنگ اخبار کے “حسن نثار” کے خیالات مولانا مودودی اور انکی جماعت کے متعلق جان لیں۔ حقیقت خود بخود کھل کر سامنے آجایئے گی۔

    وائرس والی سائٹ بے دھڑک کھول لیں، جماعت اسلامی کی سائٹ کا صفحہ ہے، ورنہ کہیں تو اس صفحے کا مواد آپ کو کاپی کرکے ادھر ہی ارسال کردوں؟

    بلوچستان کی تاریخ کے متعلق کیا کہوں؟ کہ جب خود پاکستان کی تاریخ کے بعض حصے ابھی تک متنازع ہیں تو بلوچستان کی تاریخ کیسے محفوظ رہ سکی ہوگی؟ مگر میں پڑھا لکھا انسان ہوں اور متعصب بھی نہیں ہوں لہذا اپنے طور سے جتنی ہوسکی تحقیق کرچکا ہوں اور مجھ کو دیئے گیئے خلاصہ میں کوئی بات غلط نہیں لگی ہے۔ پھر بھی چونکہ تاریخ کا معاملہ ہے تو آپ اپنی تحقیق پیش کردیں، اگر مجھ کو درست لگی تو اپنی اصلاح کرلوں گا، وگرنہ معذرت کرلوں گا۔

  6. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبدالرؤف صاحب
    اول میں واضح کر دوں کہ آپ کے جن خیالات پر میں نے کچھ نہیں کہا ۔ میں کافی حد تک انہیں درست سمجھتا ہوں ۔ میں پیدائش (1937ء) سے لے کر آج تک طالب علم ہوں اور اِن شاء اللہ مرنے یا ہوش و حواس قائم رہنے تک طالب علم رہوں گا ۔ عطا اللہ مینگل صاحب کے متعلق سُن پڑھ رکھا ہے مگر اختر مینگل کے ساتھ ایک آدھ ملاقات بھی ہوئی ۔ میرے علم کے مطابق یہ دونوں پاکستان دشمن نہیں ۔ اصل دشمن وہی ہیں جنہوں نے عطا اللہ مینگل صاحب کو دشمن کہا تھا ۔ اس ملک میں صرف بلوچوں کے ساتھ زیادتی نہیں ہوئی ۔ ہر اس آدمی کے ساتھ ہوئی ہے جو بے غیرت نہیں تھا یا نہیں ہے اس میں بلوچ پختون ۔ پنجابی سندھی وغیرہ کی کوئی تمیز نہیں ۔ جماعت اسلامی تو کیا حسن نثار تو دین اسلام پر بھی تبرے بھیج چکا ہے ۔ محمد حنیف کو میں نہیں جانتا ۔ اگر وہ بی بی سی کا نمائندہ ہے تو اس سے پاکستان یا مسلمان کی ہمدردی کی توقع بیوقوفی ہے ۔ میں کسی بھی شخص کو قائل کرنے کی کوشش نہیں کیا کرتا ۔ ہر شخص اپنی مرضی کا مالک ہے اور اپنی سوچ اور عمل کا ذمہ دار ۔ میں صرف اپنی معلومات کی حد تک درست بات کہنے کی کوشش کرتا ہوں ۔۔ یہ خیال رہے کہ میرا جماعت اسلامی یا کسی اور سیاسی جماعت سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا ۔ البتہ آنکھیں اور ذہن کھلے رکھنا میری عادت یا تربیت ہے ۔ پاکستان کی تاریخ کا آپ نے متنازع ہونے کا کہا ۔ ایسا تھا نہیں مگر اب بنا دیا گیا ہے ۔ اتنا ضرور بتانا چاہتا ہوں کہ قائدِ اعظم کے الفاظ بھی بدلنے کی کوشش ہوتی رہی اور اب بھی ہوتی ہے ۔ ایک موٹی سی بات ہے پاکستان کا ماٹو ۔ قائد اعظم نے ہندوستان میں طلباء کنونشن سے خطاب کرنے کے بعد آخر میں کہا تھا “میں آج آپ کو ایک ماٹو دیتا ہوں ۔ ایمان ۔ اتحاد ۔ نظم”۔ پاکستان بننے کے کم از کم 6 سال بعد اسے “یونیٹی فیتھ اور ڈسپلِن” بنا دیا گیا

  7. عبدالرؤف

    سر جی، جماعت اسلامی تو کیا، میرا کسی بھی مذہبی ، جہادی یا سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور آپ ہی طرح میں بھی اپنی آنکھیں و ذہن کو کھلا رکھنے کی کوشش کرتا ہوں تاکہ انجانے میں کسی غیر مرئی ہاتھ کا آلہ کار نا بن جاؤں۔

    آپ نے میرے تبصرے کے دو اہم نکات نظر انداز کردیئے تھے:
    01۔ پاکستان کا مفاد پرست ٹولا اور اسکے مفادات والی باتیں۔
    02۔ میری ساری تعلیم سرکاری اداروں میں ہوئی، کہنے کا مطلب تھا پاکستان کی تاریخ ہم کو اسکولوں میں مطالعہ پاکستان کے مضمون میں جتنی توڑ‌مروڑ پڑھائی جاتی ہے۔ اسکا علم سب کو بعد میں ہوہی جاتا ہے۔ لہذا یہ کہنا ہی غلط ہے کہ پاکستان کی تاریخ متنازع نہیں ہے یا پھر بعد میں غیروں نے کردی ہے وغیرہ وغیرہ۔

    جب آپ کے علم کے مطابق عطاء اللہ و اختر مینگل ، دونوں پاکستان دشمن نہیں ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ جب آج سے تقریبا 7 یا 8 سال پہلے کراچی کے پاسپورٹ‌آفس میں اپنے سگے بھائی کا پاسپورٹ‌ بنوانے میں گیا تو ایجنسی کے افراد نے اسکا نام و تصویر ہمارے سامنے ہی بلوچستان کے مطلوبہ افراد کی فہرست سے ملایا، اس فہرست میں کیوں دونوں مینگل باپ بیٹے کا نام بمعہ تصویر کے سر فہرست تھا؟ کیوں مجھ کو اپنے بھائی سے ہماری قبائلی زبان براہوئی میں بات کرنے سے روکا؟ وجہ پوچھنے پر کیوں اس سرکاری اہلکار نے مجھ سے بدتمیزی کی اور زبان درازی کی اور آخرکار بازؤں سے پکڑ‌کر مجھ کو دفتر سے دھکے دے کر نکالا؟ کیوں میرے بے قصور بھائی کو 1 گھنٹے تک نظر بند کیا؟ اور جب انکی تفتیش مکمل ہوگئی تو پھر بھی کیوں اگلے دن میرے ضعیف والد کو بمعہ اصل شناختی کارڈ و پاسپورٹ‌ کے اسی دفتر میں طلب کیا؟ اور سب سے آخر میں کیوں ہم سے اپنے ناروا سلوک کی معافی نہیں مانگی گئی؟ کیا ہم ایک آزاد ملک کے باعزت و آزاد شہری نہیں ہیں؟

    واضح رہے میرے اپنے رشتہ دار فوج اور بلوچستان کی تحریک دونوں میں موجود ہیں، مگر مجھ کو دونوں سے کوئی لگاؤ نہیں ہے، نا ہی مجھ کو اکبر بگٹی، عطاء اللہ و اختر مینگل یا کسی بھی اور بلوچ سردار سے کوئی ہمدردی ہے، مگر تعلیم یافتہ اور باشعور شہری ہونے کے سبب جہاں مجھ کو اپنی زمہ داریوں کا احساس ہے وہیں مجھ کو اپنے حقوق کا بھی احساس ہے۔ بلوچستان کا مسئلہ پاکستان کے بااختیار طبقے کا پیدا کردہ ہے، اس میں عوام کا کوئی قصور نہیں ہے، پھر فوج بار بار عوام کو کیوں مارتی ہے؟ میں عوام سے ہوں اور عوام سے ہی مجھ کو ہمدردی بھی ہے۔مگر مجھ کو پاکستان کے بااختیار طبقے کی غلطیوں کا خمیازہ بھگتنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔

  8. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبدالرؤف صاحب
    اچھی بات ہے کہ آپ خود سیکھنا اور جاننا چاہتے ہیں اور کسی کا آلہءِ کار بننا نہیں چاہتے ۔ آدمی بحث اور مطالعہ کر کے ہی سیکھتا ہے ۔ آپ نے پھر مجھ سے 2 سوال پوچھے ہیں ۔ میں نے لکھ تو دیا تھا کہ جس پر کچھ نہیں لکھا میں اسے درست سمجھتا ہوں ۔ آپ کے ساتھ پاسپورٹ آفس والوں نے جو سلوک کیا وہ قابلِ افسوس و مذمت ہے ۔ یہ لوگ تو پولیس والے ہی ہوتے ہیں اور پولیس ہمارے ملک کی جس دن اچھی ہو جائے گی ہمارا ملک جنت بن جائے گا ۔ اگر آپ کے رشتہ دار فوج میں ہیں یا سرکاری ملازم یا سیاستدان تو یہ کوئی گناہ نہیں ہے ۔ گناہ یا ثواب تو ان کے عمل سے وابسطہ ہے ۔
    اب تو دہشتگردی کا دیو کھڑا کیا ہوا ہے جب مجھ سے اور میرے خاندان کے لوگوں کے ساتھ زیادتیاں ہوئیں اس دور میں تو یہ نام دنیا میں کہیں بھی سُنا نہیں گیا تھا ۔
    آپ کی زبان براہوی ہے ۔ وقت ملے تو میری مندرجہ ذیل تحاریر پڑھیئے گا ۔ براہوی زبان کی اصل بھی براہمی ہے ۔ مضامین پڑھتے ہوئے یہ بھی ذہن میں لانے کی کوشش کیجئے گا کہ کس طرح ہم لوگوں کو ٹکڑوں میں بانٹا گیا اور پھر نفاق کا پودا لگایا گیا
    http://www.theajmals.com/blog/2009/11/05/
    http://www.theajmals.com/blog/2012/06/22

  9. نعمان

    معاف کیجیے گا …

    مجھے اس خبر کے شیر کرنے کا مقصد سمجھ نہیں آیا …

    اخبارات تو ایک دوسرا رخ بھی پیش کر رہے ہیں …

    http://daily.urdupoint.com/todayColumn.php?column_id=16457&page1=3&page=3&writer_id=222&date1=2012-09-05

    مولوی کو برا کہنے والے بے شک کہیں…. کیوں کہ بہر حال مولوی اور مولانا میں فرق ہے …

    لیکن اکسی یہی دیکھا گیا ہے … مولوی کو برا کہنے والوں کی تان علما کرام پہ ہی ٹوٹتی ہے ….

  10. افتخار اجمل بھوپال Post author

    نعمان صاحب
    جتنے اخبارات ہیں اتنے ہی رُخ پیش ہو سکتے ہیں ۔ ان کا کاروبار اسی طرح چلتا ہے ۔ لڑکی کی عمر اس حد تک کہ بالغ ہے یا نہیں اور وہ ڈاؤن سنڈروم میں مبتلاء ہے یا نہیں سرکاری ڈاکٹر بتا سکتی ہے اور قانون کے تحت اسی نے بتانا ہے ۔ رہا قاعدہ جلانا تو کوئی نورانی قاعدہ کہتا ہے کوئی عربی قاعدہ اور کوئی اوراق مقدس ۔ رہے میرے ہموطن تو ان میں دو قسم کے زوردار ہیں ایک مُلا مخالف اور دوسرے مُلا پرست ۔ درمیان والے بہت کم ہیں یا بولنے کی ہمت نہیں رکھتے ۔ ذرائع ابلاغ سے تو میں عرصہ سے نالاں ہوں ۔ سنسنی پھیلانے کیلئے خود سے خبر بنانا ان کیلئے کوئی مُشکل نہیں

  11. عبدالرؤف

    محترم اجمل صاحب،
    براہوی زبان کے سلسلے میں میری کوئی خاص تحقیق نہیں ہے، اور براہمی زبان کا بھی مجھ کو کچھ علم نہیں ہے، میں تو سنسکرت کو ہی براہمن کی زبان اور ہندوؤں کی مقدس کتب کی زبان سمجھتا ہوں،
    ویسے بھی میرے خیال سے رنگ، نسل، قبیلہ، ملک و زبان یہ سب انسانوں کوتقسیم کرنے والی چیزیں ہیں، جنکی اہمیت آپ کی پہچان سے زیادہ نہیں ہے۔ اور اگر ہم اس سے زیادہ انکو اہمیت دینے لگیں تو تعصب میں‌مبتلا ہوجاتے ہیں۔

  12. عبدالرؤف

    اور ہاں آپ کی تجویز کردہ دونوں تحاریر بمعہ تبصروں کے مکمل پڑھ لیں، لیکن اس میں براہوی زبان سے متعلق کوئی بات معلوم نہیں نکال پایا، باقی میری نظر میں‌زبان کی کتنی اہمیت ہے اسکے متعلق پچھلے تبصرے میں لکھ چکا ہوں۔

    اس سلسلے میں‌میری رائے یہ ہے کہ اردو ہو یا انگریزی، پنجابی ہو یا سندھی ، انسان کو ترقی کرنے کے لیئے وقت کی ترقی یافتہ اقوام کی زبان سے استفادہ کرنا ہی پڑتا ہے، لہذا کسی بھی زبان سے تعصب کرنا اپنی ہی ترقی سے دشمنی کا سبب بنتا ہے۔

    یہ بات مولانا الطاف حسین حالی کے مندرجہ زیل اشعار سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ علم پر کبھی کسی کی اجارہ داری نہیں‌ رہتی ہے، جو محنت کرتا ہے وہی ترقی کرتا ہے اور جس وقت جوقوم ترقی یافتہ ہو وہی دوسروں کو بھی مشعل راہ دکھاتی ہے، ظاہر سی بات ہے اپنی زبان کی حاکمیت کے زریعے ہی وہ لوگ یہ کام رانجام دیتے ہیں:
    سنے گوشِ عبرت سے گر، جا کے انساں
    تو واں ذرہ ذرہ یہ کرتا ہے اعلاں
    کہ تھا جن دنوں مہرِ اسلام تاباں
    ہوا یاں کی تھی زندگی بخش دواں
    پڑی خاک ایتھنز میں جاں یہیں سے
    ہوا زندہ پھر نام یوناں یہیں سے
    وہ لقمان و سقراط کے درمکنوں
    وہ اسرارِ بقراط و درسِ فلاطوں
    ارسطو کی تعلیم سولن کے قانوں
    پڑے تھے کسی قبر کہنہ میں مدفوں
    یہیں آکے مہرِ سکوت ان کی ٹوٹی
    اسی باغِ رعنا سے بو ان کی پھوٹی
    یہ تھا علم پر واں توجہ کا عالم
    کہ ہو جیسے مجروح جو یائے مرہم
    کسی طرح پیاس ان کی ہوتی نہ تھی کم
    بجھاتا تھا آگ ان کی باراں نہ شبنم
    حریمِ خلافت میں اونٹوں پہ لد کر
    چلے آتے تھے مصر و یوناں کے دفتر
    وہ تارے جو تھے شرق میں لمعہ افگن
    پہ تھا ان کی کرنوں سے تا غرب روشن
    نوشتوں سے ہیں جن کے اب تک مزین
    کتب خانئہ پیرس و روم و لندن
    پڑا غلغلہ جن کا تھا کشوروں میں
    وہ سوتے ہیں بغداد کے مقبروں میں
    وہ سنجار کا اور کوفہ کا میداں
    فراہم ہوئے جس میں مساحِ دوراں
    کرہ کی مساحت کے پھیلائے ساماں
    ہوئی جزو سے قدر کل کی نمایاں
    زمانہ وہاں آج تک نوح گر ہے
    کہ عباسیوں کی سبھا وہ کدھر ہے
    سمر قند سے اندلس تک سراسر
    انھی کی رصدگاہیں تھیں جلوہ گستر
    سوادِ مراغہ میں اور قاسیوں پر
    زمیں سے صدا آرہی ہے برابر
    کہ جن کی رصد کے یہ باقی نشاں ہیں
    وہ اسلامیوں کے منجم کہاں ہیں
    مورخ جو ہیں آج تحقیق والے
    تفحص کے ہیں جن کے آئیں نرالے
    جنہوں نے ہیں عالم کے دفتر کھنگالے
    زمیں کے طبق سر بسر چھان ڈالے
    عرب ہی نے دل ان کے جاکر ابھارے
    عرب ہی سے وہ بھرنے سیکھے ترارے
    اندھیرا تواریخ پر چھا رہا تھا
    ستارہ روایت کا گہنا رہا تھا
    درایت کے سورج پہ ابر آرہا تھا
    شہادت کا میدان دھندلا رہا تھا
    سرِ رہ چراغ اک عرب نے جلایا
    ہر اک قافلہ کا نشاں جس سے پایا

  13. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبدالرؤف صاحب
    براہمی کا براہمنوں سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یہ نام زبان کو محققین نے دیا اور سکتا ہے کہ تلفظ یا ترجمہ کا چکر ہو ۔ جیسے امارت شارقہ کے لوگ ” ق ” کو ” اردو کے ” گ ” کی طرح بولتے ہیں ۔ مصری مترجم نے ” گ ” کو انگریزی میں ” جے ” لکھا کیونکہ وہ ” ج ” کو ” گ ” کی طرح بولتے ہیں چنانچہ شارقہ سے شارجہ بن گیا ۔ زبانیں آدمی کو زیادہ سے زیادہ سیکھنی چاہئیں مگ زبان کی بناء پر تعصب نہیں ہونا چاہیئے

  14. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبدالرؤف صاحب
    کالا علم یا کسی کو نقصان پہنچانے کیلئے علم سیکھنا منع ہے باقی ہر قسم کا علم سیکھنا عبادت ہے ۔ اللہ سُبحانُہُ کا فرمان ہے ”ھَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ “ (سورت 39 ۔ الزُّمَر ۔ آیت 9) يعنی کيااہلِ علم اور بے علم برابر ہوسکتے ہيں؟ مطلب یہی ہے نہيں ہوسکتے ۔ مزید فرمایا ”وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَی“ ۔(سورت 53 ۔ النّجم ۔ آیت ۔ 39) ۔ اور یہ کہ ہر انسان کیلئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی ۔ ایک اور جگہ فرمایا ” إِنَّ اللّہَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِہِمْ“ (سورت 13 الرعد ۔ آیت 11) ۔ اللہ اس کو جو کسی قوم کو حاصل ہے نہیں بدلتا جب تک وہ اپنی حالت کو نہ بدلے ۔
    خواجہ الطاف حسین حالی صاحب کی نظم لکھنے کا شکریہ ۔ یہ میرے دو محبوب ادیبوں میں سے ہیں ۔ میرے بلاگ پر آپ کو ان کی نظمیں ملیں گی ۔ دوسرے علامہ اقبال ہیں

  15. dr iftikhar Raja

    جناب میں‌تو عبدالرؤف صاحب کی رائے سے اتفاق کروں گا کہ پاکستان میں‌بہت کچھ ٹھیک نہیں‌ہورہا، اور یہ بات ماننے والی ہے، ہم پاکستان میں ہوں تو شاید اتنا ادراک نہیں‌ہوتا مگر جب باہر ہوں‌تو محسوس ہوتا ہے کہ دنیا کسی اور پاسے جارہی اور ہم کہیں‌اور کو نکل رہے، اس وقت پاکستان میں کایاکلپ کی شدید ضرورت ہے۔ کوئی بھی قانون یا قاعدہ جب بے انصافی کےلئے استعمال ہوتا ہے تو وہ اپنی موت مرجاتا ہے، مجھے تو اندیشہ ہو رہا کہ کہیں‌ ہمارا ملک ہی اپنی موت نہ مرجائے۔

  16. محمد فیصل شہزاد

    جناب! آپ نے جو خبر شیئر کی اور اس پر ڈھیروں ڈھیر تبصرے بھی آ گئے۔ پھر اس میں امام مسجد کو بھی خوب رگیدا گیا، تو عرض ہے کہ ابھی عدالت میں کچھ بھی تو ثابت نہیں ہوا ۔جناب آپ پاکستان میں عدل و انصاف کی صورتحال سے خوب واقف ہوں گے۔کسی بھی مقدمے میں جھوٹے گواہ حاصل کرنا یہاں کوئی بڑی بات نہیں۔ جناب یہ پروپیگنڈے کا دور ہے۔اپنے من مانے نتائج حاصل کرنے کے لیے کسی کو بھی پھنسایا جا سکتا ہے۔ اور اس وقت پاکستان کی حد تک باطل کی فہرست میں قانونِ توہین رسالت کو کسی نہ کسی حیلے بہانے ختم کرانا ہے۔اس لیے میری گزارش ہے کہ جب تک کوئی بات ثابت نہیں ہو جاتی تو ہمیں اس طرح کی کوئی بات نہیں کرنی چاہیے جس سے مزید کنفیوژن پیدا ہو ۔ خاص طور پر جب توہینِ رسالت جیسا انتہائی نازک معاملہ ہو توہمیں اور بھی احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ بھائی نعمان نے جو مضمون دیا ہے، وہ ایسا نہیں کہ سرسری گزرجایا جائے۔ صاحبِ مضمون نے خود اس جگہ کا بنفس نفیس دورہ کیا ہے اور ان کے مضمون میں اہم ترین نکتہ ملزم اور ان کے خلاف گواہ کے درمیان مخاصمت کا ہونا ہے۔ آپ نے جواب میں کہا کہ جتنے اخبارات، اتنے ہی رخ…. لیکن جب آپ نے ایک رخ دکھایا ہے ، تو دوسرا رخ بھی تو دکھانا چاہیے۔وہ دوسرا رخ جواس معاملے میں شامل قانون توہین رسالت سے بیزاراین جی اوز کی چالاکیوں کی وجہ سے نہایت قرین قیاس ہے، جس کا پتہ ہمیں اس خبر سے بھی لگتا ہے کہ جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ رمشا کی عمر گیارہ سال نہیں بلکہ اٹھارہ سال ہے، اور اس کے نام سے جو تصویر ان این جی اوز نے نیٹ پراپ لوڈ کی، وہ زلزلہ سے متاثرہ ایک دس گیارہ سالہ بچی کی ہے ، یہ کاریگری اس لیے کی گئی تا کہ لوگوں کی ہمدردیاں وصول کی جائیں۔ آخر میں صاحب مضمون کے الفاظ میں یہی کہوں گاکہ اس سارے معاملے میں میرا مقصود یہ نہیں کہ رمشاءمسیح کو ہر قیمت پر قصور وار ٹھہرایا جائے یا اس کو سزا دی جائے، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ہر قسم کے پریشر اور پروپیگنڈے سے بالاتر ہو کر غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں اور آزادانہ اور منصفانہ فیصلہ کیا جائے اور اس واقعے کی آڑ میں ایک مرتبہ پھر انسداد توہین رسالت کے قانون اورشعائر اسلام اور مقدس ہستیوں کے احترام کے ضابطوں کو ہدف تنقید بنانے سے اجتناب ہی برتا جانا چاہیے۔ امریکا سمیت بیرونی طاقتوں کی ہمارے داخلی ، اندرونی اور مذہبی معاملات میں بے جا مداخلت کا سلسلہ بند ہونا چاہیے اوراین جی اوز کی بے لگام بیگمات کو اس قدر کھل کھیلنے کا موقع بہر حال نہیں ملنا چاہیے خصوصاً مذہبی جماعتوں اور شخصیات کو اپنی بے حسی اور غفلت پر کچھ تو غور کرنا چاہیے…کہیں ایسا نہ ہو کہ لمحوں کی خطا و¿ں کی صدیوں سزا بھگتنی پڑے۔ نعمان!مولوی اور مولانا میں کیا فرق ہے؟ کچھ نہیں….ملا، مولوی، عالم اور مولاناسب ہم معنی الفاظ ہیں۔ نہ جانے کب اور کس طرح ہم نے ملا، مولوی اور مولانا میں فرق کرنا شروع کر دیا۔ یہ صرف علاقے، اور زبان کا فرق ہے، کہ آج جو عالم اپنے علم پر عمل نہ کرے یا کوئی غیر عالم امام مسجدہو تو ہم حقارت سے اسے ملا یا مولوی کہہ دیتے ہیں اور لفظ مولاناکے ساتھ ہم برعکس معاملہ کرتے ہیں۔ دیکھیے ہمارے اسلاف میں ملا اور مولوی کے سابقہ کے ساتھ کئی محترم ہستیاں ہیں جن کے علم اور تقویٰ کی وجہ سے ہم ان کا ذکر احترام کے ساتھ کرتے ہیں، مثلاً ملا علی قاری رحمہ اللہ وغیرہ۔ دراصل جس شخص نے دین کا کچھ علم حاصل کیا ہو اور اس کے پاس سند بھی ہو، لیکن اسے اللہ کا خوف نہ ہو، اور عمل سے وہ دور ہو، تو ایسا شخص عالم، ملا، مولوی یا مولانا کہلانے کا مستحق نہیں۔اور جس شخص کے پاس ضروریات دین کا علم توہو چاہے سند نہ ہو، اور وہ اللہ سے ڈرتا ہو، اپنی استطاعت کے مطابق عمل کرتا اور دوسروں کو ترغیب بھی دیتا ہو تو ایسا شخص اللہ تعالیٰ کے نزدیک عالم ہے۔ محمد فیصل شہزاد

  17. نعمان

    برادر فیصل ،

    بات اتنی سی ہے پرپیگنڈے سے میں بھی متاثر ہوتا ہوں …

    اور حالیہ پروپگنڈے کے مطابق … “”ملّا یا مولوی انتہائی جاہل انسان ہوتا ہے جسے کچھ نہیں پتا ہوتا …نہ دنیا کا نہ دین کا…

    اور مولانا انہی حضرات کا ایک ریفائنڈ version ہوتا ہے ….جسکو کم از کم دینی علم ہوتا ہے …. “”

    اور میں بھی اسی context میں یہ الفاظ ا استمعال کرتا ہوں ….

    باقی قصور وار ہمارے علما کرام بھی ہیں.. اپنا مذاق اڑوانے میں …. ابھی چند دن پہلے ایک عالم کولا فیکٹری میں جاب کرنے کو برا گردان رہے تھے .. جبکہ دسترخوان پر حضرت کولا سے شوق فرماتے ہیں (آنکھوں دیکھی بات ہے )

    باقی آپکی بات صحیح ہے …

  18. افتخار اجمل بھوپال Post author

    محمد فیصل شہزاد صاحب
    آپ کا کہنا درست ہے ۔ مُلا ایک مؤدب لفظ ہے جو عِلم رکھنے والے کیلئے مستعمل تھا مگر اسے جاہلیت کا نشان بنا دیا گیا ہے ۔ مسئلہ تو عوام الناس ہیں جن کی اکثریت قرآن شریف کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتی اور اور ذاتی خیالات کو اسلام کا حصہ بنا دیتے ہیں ۔ میں نے من و عن مگر مختصر کر کے خبر لکھی تھی ۔ اپنی طرف سے کچھ نہیں لکھا تھا ۔ این جی اوز پرایا مال کھاتی ہیں اور اُنہی کے گُن گاتی ہیں ۔ ٹی وی کے ذریعہ ہی میں دیکھ چکا ہوں کہ جو لڑکی پہلے تصاویر میں دکھائی گئی وہ کوئی اور تھی رمشا نہیں تھی ۔ یہ این جی اوز کی ہی کارستانی تھی ۔ بلاشُبہ جس کے پاس دین کا تھوڑا مگر درست علم ہو اور وہ اس پر عمل کرے یا کرنے کی پوری کوشش کرے تو وہ اس آدمی سے اچھا ہے جس کے پاس بہت علمم ہو اور وہ عمل نہ کرے

  19. محمد فیصل شہزاد

    بھائی نعمان! آپ نے صحیح کہا، بہت سارے عالم کہلائے جانے والے حضرات عمل سے خود کورے ہوتے ہیں لیکن اس حوالے سے ہمارا رویہ بھی کچھ انتہا پسندانہ ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ کسی بھی پیشے سے منسلک کسی غلط فرد کی وجہ سے ہم کبھی بھی اس پیشے کو غلط نہیں کہتے نہ ہی اس سے وابستہ کسی اور شخص کو…. مثلاً کچھ عرصہ پہلے شاید دس سال ہوگئے، لاہور میںایک ڈاکٹر اقبال (پورا نام اب مجھے یاد نہیں، لیکن واقعہ بہت مشہور ہے) پکڑا گیا تھا،اس خبیث نے سو بچوںکو اغوا کیا، زیادتی کی، قتل کیا اور تیزاب میں ان کی باقیات ضایع کر دیں۔مگر آپ نے کبھی بھی نہیں سنا ہو گا کہ اس شیطان صفت مردود کی وجہ سے کوئی سب ڈاکٹروں کو برا کہتا ہو، خود دو ماہ پہلے ینگ ڈاکٹر کہلائے جانے والے کچھ پتھر دل لوگوں نے پنجاب میں کیا کیا، لیکن کوئی بھی عموماً یہ نہیں کہتا کہ یہ ڈاکٹر ہوتے ہی ظالم ہیں!!
    لیکن ہم دیکھتے ہیںکہ بلامبالغہ پاکستان میں لاکھوں علماءکرام میں سے ہم چند علماءکوغلط کام کرتے دیکھتے ہیں تو ہم سب کو ہی لپیٹ لیتے ہیں۔ یہ خصوصاً دین بیزار لبرل طبقے کا طریقہ کار ہے۔ اور پھر اس پروپیگنڈے سے ہمارے کچھ دین دار بھائی بھی اسی رو میں بہہ جاتے ہیں۔ پھر ایک اور بات بھی ہے کہ مکمل تو کوئی بھی نہیں…. کمی بیشی تو ہر ایک سے ممکن ہے، اس امت کے بڑے بڑے ولی بلکہ صحابہ نے بھی خطا کر کے توبہ کی اور اس طرح اللہ کریم کی صفت کریمی اور شان غفوری کا ظہور ہوا تو ہو سکتا ہے کہ یہ چند بے عمل علماءبھی توبہ کر کے کل کو اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے بن جائیں، اس لیے بہرحال کچھ چشم پوشی اور دل وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ میرا یہ مطلب ہرگز نہیںکہ کسی کی کوئی غلط بات عبرت یا نصیحت کے لیے بھی سامنے نہ لائی جائے، نہیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ جس کی غلطی اجتماعی فائدے کے لیے سامنے لانا مقصود ہو تو اس خاص شخص کا نام لے کر مثلاً مولوی رشید (اگر نام کا ذکر کرنے سے غیبت کا اندیشہ ہو تو پھر کوئی مبہم نام مثلاً مولوی عبداللہ نے) یہ کام کیا ہے۔ اور اس تحریر میں مناسب طریقہ سے یہ بھی لکھ دے کہ مثلاً:” ایسے ہی نام نہاد بہروپیے ہوتے ہیں جو اپنی حرکتوں سے علماءکرام کے نام پر دھبہ ہیں۔“
    کوئی بات ناگوار گزرے تومعذرت….

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)