ميرا دارالمطالعہ

اللہ کی بہت کرم نوازی ہے کہ ميں زندگی کی 7 دہائياں گذار چکا ہوں جن ميں 7 جان ليوا واقعات کے بعد بھی اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے زندہ بقائمی ہوش و ہواس رکھا ۔ ايک بار تو موت کا اعلان بھی کر ديا گيا تھا اور مزيد 3 بار متعلقہ ہسپتالوں کے بہترين ڈاکٹروں کے مطابق بچنے کی کوئی اُميد نہ تھی ۔ پچھلی 2 دہائياں يہی سوچتے گذريں کہ اب گيا اور اب گيا ليکن ابھی تک زندہ ہوں مگر کب تک ؟

ميں نے 7 سال قبل بلاگ لکھنا شروع کيا ۔ پھر 6 سال سے زائد قبل پہلے بلاگ کو انگريزی کيلئے مُختص کر کے يہ اُردو کا بلاگ عليحدہ بنايا ۔ ان بلاگز کی وجہ سے صرف چند لوگ ہيں جو مجھے سمجھ سکے ۔ باقی کچھ اپنی دريا دِلی کی وجہ سے عالِم سمجھنے لگے ہيں [يہ اُن کی ذرّہ نوازی ہے] ۔ چند نے مجھے انتہاء پسند کا سُرخا لگا ديا ہے ۔ ايک آدھ ايسے بھی ہيں جو مجھ ميں اور دہشتگرد ميں کوئی فرق نہيں سمجھتے ۔ سوچا کہ اپنی ذات پر سے پردہ سرکانا شروع کيا جائے تاکہ عقل و فہم والے قاری مجھے درست طريقہ سے پہچان سکيں ۔ اللہ نے مُہلت دی تو تھوڑا تھوڑا کر کے اپنے آپ کو بے نقاب کرنے کی سعی ہو گی ۔ عِلم کی فوقيت ہے اور اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے کرم و فضل کے بعد عِلم ہی ہے جس نے مجھے آج تک عزت دے رکھی ہے ۔ اسلئے پہلے ميرا دارالمطالعہ جو ہمارے مکان کی دوسری منزل ميں ہے اور جس ميں بيٹھے رہنے پر ميری بيگم کبھی کبھی کہہ ديتيں ہيں “اُسی سے شادی کی ہوئی ہے آپ نے”
:lol:
يہ دارالمطالعہ ميری آدھی صدی پر محيط کاوشوں کا نتيجہ ہے ۔ اس دارالمطالعہ کی رونق ميں سے دو تين درجن کُتب تو کبھی مانگ کر اور کبھی بغير مانگے غائب ہوئيں ۔ پھر 3 سال قبل 45 جلديں ميری اجازت سے ميرا بڑا بيٹا زکريا اپنے ساتھ امريکا لے گيا ۔ اب ميرے پاس چھوٹی بڑی ملا کر 600 کے لگ بھگ جلديں موجود ہيں ۔ اِن ميں چيدہ چيدہ کُتب ہيں ۔ قرآن الحکيم کے مختلف اُردو يا انگريزی تراجم اور تفاسير ۔ مجموعات حديث ۔ سيرت النبی ۔ کتاب الفقہ ۔ مجموعات فتاوٰی ۔ دائرہ معارف الاسلاميہ [Encyclopedia of Islam]۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے خطوط و تقارير اور ان کے متعلق لکھی گئی اہم کُتب ۔ علامہ اقبال کی اور ان پر لکھی گئی تحارير ۔ معروف شعراء کا کلام ۔ اَينساکلوپيڈيا بريٹينکا [Encyclopedia Britanica]۔ دی سوشل سائنس اَينساکلوپيڈيا [The Social Science Encyclopedia]۔ ڈکشنرياں [اُردو اُردو ۔ انگريزی اُردو ۔ انگريزی انگريزی ۔ انگريزی جرمن ۔ انگريزی عربی] ۔ نفسيات ۔ منيجمنٹ ۔ انجنيئرنگ ۔ سائنس اور تاريخ پر کُتب ۔ کردار سازی کے سلسلہ کی معروف کُتب ۔ ناول اور کہانياں پڑھے مگر محفوظ نہيں رکھے ۔ اغواء ہونے والی کُتب ميں جو مجھے نہيں بھُولتيں وہ يہ ہيں جن ميں سے پہلی 3 مختلف يونيورسٹيوں کے پروفيسر صاحبان کی سالہا سال کی تحقيقات پر مبنی تھيں

(1) Child Psychology
(2) How to Increase Your Will Power
(3) Modern Sex Life
(4) A Thief’s Biography and Advice which was written in prison by a thief who was caught after having committed hundreds of burglaries

ميرے دارالمطالعہ کی شکل و شباہت

ميں کمپيوٹر پر کام کر رہا ہوں ۔ يہ ہے ميرے پيچھے والی ديوار کے ساتھ لگی 11 فٹ اُونچی اور 6 فٹ چوڑی الماری جس کا نچلا 3 فٹ حصہ نظر نہيں آ رہا ۔ نچلے حصہ ميں ميرے لکھے ہوئے وہ مسودے پڑے ہيں جو ابھی تک کمپيوٹر کی نظر نہيں ہو سکے
.

.
يہ ہے ميرے پيچھے والی ديوار کے ساتھ ميرے داہنی طرف کی 6 فٹ اْونچی اور 4 فٹ چوڑی الماری
.

.
يہ ہے ميرے پيچھے والی ديوار کے ساتھ ميرے بائيں طرف کی 4 فٹ اُونچی اور 4 فٹ چوڑی الماری
.

.
يہ ہے ميرے داہنی طرف والی ديوار کے ساتھ کی ساڑھے 3 فٹ اُونچی اور 4 فٹ چوڑی الماری
.

.
يہ ہے ميرے بائيں طرف والی ديوار کے ساتھ کی 4 فٹ اُونچی اور 3 فٹ چوڑی الماری اور ميز جو ميں لکھنے کيلئے استعمال کرتا ہوں
.

.
يہ ہے ميرے کمپيوٹر والی ميز اور کمپيوٹر اپنے پورے خاندان کے ساتھ ۔ داہنی طرف تھوڑا سا ليزر جيٹ پرِنٹر نظر آ رہا ہے ۔ ميز کے نيچے بائيں طرف 2 يو پی ايس نيچے اُوپر پڑے نظر آ رہے ہيں ۔ ان کے قريب اُوپر کی طرف ايک چھوٹی سی روشنی نظر آ رہی ہے وہ سٹيوال جاپان کا بنا ہوا وولٹيج سٹيبِیلائزر ہے جو ميں نے اپنے پہلے کمپيوٹر کے ساتھ 1987ء کے شروع ميں خريدا تھا اور اب تک ماشاء اللہ ميرا ساتھ دے رہا ہے ۔ اُس زمانہ ميں بجلی بند نہيں ہوا کرتی تھی اسلئے يو پی ايس کی ضرورت نہ تھی
.

.
ميں نے 1987ء ميں درميان والی کُرسی خريدی ۔ اس کی نشت چھوٹی تھی ۔ جب اس کا فوم خراب ہو گيا تو ميں نے بڑھئی کو کہا کہ نشست کو بڑا کر کے نيا فوم لگا دے ۔ اُس نے اس کی شکل ہی بگاڑ دی ۔ اس کے بعد اس کے ساتھ والی سليٹی [grey] رنگ کی کرسی لی ۔ لاہور گئے تو کالے رنگ والی کرسی خريدی جو ميں ابھی تک استعمال کر رہا ہوں
.

This entry was posted in روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

10 thoughts on “ميرا دارالمطالعہ

  1. Pingback: ميرا دارالمطالعہ | Tea Break

  2. میرا پاکستان

    واقعی اچھا لگا آپ کے مطالعہ کے ذوق کا جان کر۔ جناب لوگوں کا کیا ہے وہ تو باتیں کرتے رہیں گے۔ آپ کا کام ہے اپنے عزم پر قائم رہیں اور خدمت خلق کرتے جائیں۔ کون سچا ہے اور کون جھوٹا وہ ہمارا رب جانتا ہے۔

  3. Wahaj D Ahmad

    اجمل بھائی
    آپ کا دار المطالعہ دیکھ کر تو میرا جی للچایا کہ میں اس میں کچھ دن گزاروں ماشا اللہ بہت انوائیٹنگ ہے
    ویسے بھی آپ کے سب کاموں میں ‘باقاعدگی’ جھلکتی ہے
    امریکہ میں رہتے ہوئے میرے ‘دارالمطالعہ’ مین نہ تو باقاعدگی ہے اور نہ ایسی کچھ ایسی رنگارنگی
    زیادہ تر قران مجید اور سیرت النّبی صل اللہ علیہ وسلّم کی کتابیں ہیں اور بھی اسلام کے متعلّق ہی ہیں
    ہوا یوں کہ جب آج سے تقریبا” پچاس برس پہلے جب میں پاکستان سے نکلا تو میرے پاس ایک بھی مصحف نہیں تھا
    تو جب مجھے ضرورت پڑی تب مجھے اپنی مشکل کا اندازہ ہوا اس دن سے میرے پاس ہمیشہ کئی قرآن مجید رہتے ہیں
    پاکستان میں رہتے ہوئے مسلمانوں کو اس کا اندازہ نہیں ہو سکتا جو تکلیف مجھے ہوئی تھی
    اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس کے بعد ربّ کریم نے مجھے اس کتاب کی محبّت سے کیسا نوازا ہے اور میرے بچّوں میں بھی یہی محبّت قائم ہے اور دعا ہے اللہ انہیں اسی طرح رکھے

  4. محمد سعید پالن پوری

    ماشاء اللہ۔ آپ کا دار المطالعہ دیکھ کے جلن ہورہی ہے۔

  5. افتخار اجمل بھوپال Post author

    بھائی وھاج الدين احمد صاحب
    وہ تو آپ جانتے ہيں نا ۔ “اپنے تے دو ای شونق نيں ۔ پھروٹ کھانا تے پوشاکاں پانا”۔ سو ميرے بھی دو ہی شوق ہيں “سيکھنا اور سيکھانے کی کوشس کرنا”

    محمد سعيد پالنپوری صاحب
    ميں تو اُس کُتب خانے کا افسوس کرتا رہتا ہوں جو ميری عدم موجودگی ميں ميرے چھوٹے بھائيوں نے ردی ميں بيچ ديا تھا
    :lol:

  6. محمودالحق

    افتخار اجمل صاحب اچھا لگا آپ کا دار المطالعہ دیکھ کر ۔ مگر افسوس بھی ہوا کہ میرے پاس ایسا کیوں نہیں ۔

  7. محمد سعید پالن پوری

    محترم اگر آپ کے پاس وقت ہو اور آپ اسکو مناسب سمجھتے ہوں تو جن کتابوں نے آپ کے اوپر اثر ڈالا اور جن سے آپ بطور خاص متاثر ہوئے ان کتابوں کا ،ان کے مصنفین کا ہم طالب علموں سے تعارف کروائیں۔ ساتھ ساتھ ان جگہوں سے بھی جہاں سے ہم انہیں حاصل کر سکتے ہوں

  8. افتخار اجمل بھوپال Post author

    محمد سعید پالن پوری صاحب
    ميں نے عرض کيا نا کہ يہ آدھی صدی ميں اکٹھی کی گئی ميری پونجی ہے ۔ ميں اِن شاء اللہ مطلوبہ معلومات بھی لکھوں گا ۔ ميں تو ايک آوارہ گرد ہوں بمصداق
    کبھی اِس شہر ميں کبھی اُس شہر ميں
    جانے کِس لہر ميں ۔
    سُوکھے پتوں کے پيچھے اُڑاتا رہا
    شوقِ آوارگی ۔ شوقِ آوارگی

  9. باذوق

    آپ کا یہ مراسلہ اور آپ کے دارالمطالعہ کی تصاویر دیکھ کر خوشی ہوئی اور رشک آیا۔ ماشاءاللہ۔ کچھ عرصہ گزرے تو آپ کی تقلید کروں گا :) ۔ فی الحال تو کتب صرف بند الماریوں میں محفوظ رکھتا ہوں کہ بچے ابھی چھوٹے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)