پيپلز پارٹی اور پاکستان

يہ حقيقت تو سب کے عِلم ميں ہو گی کہ جب پاکستان پر پيپلز پارٹی کے لوگ حکمران ہوتے ہيں تو وہ پاکستان کی حکومت نہيں ہوتی بلکہ پيپلز پارٹی کی حکومت ہوتی ہے ۔ اسلئے وہ سارے کام پاکستان کی بجائے پيپلز پارٹی کيلئے کرتی ہے

پيپلز پارٹی کا جو بھی رہنما وزير اعظم بنے يا صدر بنے ۔ ذوالفقار علی بھٹو ہو يا بينظير ہو يا آصف علی زرداری ہو يا يوسف رضا گيلانی ہو وہ جب بھی بولے گا کبھی نہيں کہے گا پاکستان کی حکومت بلکہ کہے گا پيپلز پارٹی کی حکومت

قائد اعظم محمد علی جناح اور ہمارے ملک پاکستان سے پيپلز پارٹی کتنی محبت رکھتی ہے اس کا ايک ثبوت حال ہی ميں شائع کر چکا ہوں ۔ اب ايک اور

This entry was posted in روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

4 thoughts on “پيپلز پارٹی اور پاکستان

  1. Pingback: پيپلز پارٹی اور پاکستان | Tea Break

  2. ضیاءالحسن خان

    آپ کچھ بھی کہہ لینے آپ رہیں گے تو کراچی کے دشمن ۔۔۔۔۔۔۔ آپکو تو پتہ ہی ہوگا کہ کراچی ہی تو پال رہا ہے پاکستان کو ۔۔۔۔۔ اور آپ نے ایک مرتبہ پھر سندھ کی بیٹی کیخلاف لکھ دیا ۔۔۔۔۔ جب کہ یہ بیٹی اور اسکی پارٹی اکثریت میں پنجاب سے ہی آتی ہے ۔۔۔۔۔ آپ سمجھ تو گئے ہونگے ۔۔۔۔۔ میرا مطلب آخر آپ نے وہ ہی بات کردی نا ۔۔۔۔۔۔ اچھا ایک صورت میں آپ کے اپر سے الزام ہٹ سکتا ہے آپ کسی بھی طرح بھائی کے نام کیساتھ رحمتہ اللہ علیہ لگادیں بس پھر آپکی واہ ہی واہ :mrgreen:

  3. افتخار اجمل بھوپال Post author

    ضياء الحسن خان صاحب
    ميں جانتا ہوں کہ برطانيہ کے شہری الطاف حسين کے متعلق حقيقت بيان کرنا ہی الطاف حسين کے اندھے مريدوں کے خيال ميں ميرا جُرم ہے ۔ مگر ۔ ۔ ۔
    گرچہ بُت ہيں جماعت کی آستينوں ميں ۔ مجُجھے ہے حُکمِ اذاں لا اِلہَ الاللہ

  4. محمد سلیم

    سر کیا حال ہیں، اللہ آپکو صحت و سلامتی سے نوازے- میرا آپ سے ایک سوال ہے ان سب حقائق کو بتانے کا کیا فائدہ ہوگا؟ چہ جائیکہ عوام کی اکثریت پیپلز پارٹی سے متنفر ہے اور زرداری کے عذاب سے اذیت کا شکار- مگر کیا اسی عوام نے اگلے انتخاب میں‌پھر اُسی طرح پیپلز پارٹی زندہ باد نہیں‌کرنا کیا؟ شہید بی بی کے معصوم اور مظلوم بیٹے نے صیہونیت کی تعلیم اور تقریر کر لینے جتنی اردو سے واقفیت حاصل کرنے کے بعد واپس آنا ہے تو انہی لٹی پٹی عوام کے ٹھاٹھے مارتے سمندروں‌نے اُس کا استقبال کرنا ہے- اس سے قبل آپ زیڈ‌اے بھٹو کی خوشامد اور چاپلوسی کا بتا چکے ہیں، بی بی نے بھی تو سنتِ والد ادا کی ہے کوئی وکھرا کام تھوڑا کیا ہے؟
    پیر پگاڑا کی ایک بات آپ کو یاد ہوگی اس نے ایک بار کہا تھا: اخبار روزانہ نیا چھپتا ہے اور عوام روزانہ کل کی خبر بھلا کر آج کی نئی خبر پڑھتے ہیں-

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)