ٹائم مشين اور ہم

ميں گيارہويں يا بارہويں جماعت ميں پڑھتا تھا جب ميں نے ايچ جی ويلز کا 1895ء ميں چھپنے والا ناول “ٹائم مشين [Time Machine by H.G. Wells] پہلی بار پڑھا تھا ۔ اس پرمبنی مووی فلم پہلی بار 1960ء ميں نمائش کيلئے پيش کی گئی جو ميں نے بھی ديکھی تھی ۔ يہ قصہ ايک مشين کا تھا جس ميں بيٹھ کر آدمی ماضی يا مستقبل ميں سفر کر سکتا تھا ۔ مصنف ايک صدی سے زائد قبل مستقبل کا ايک ايسا نقشہ کھينچ گيا تھا جسے آج ميں اپنی آنکھوں سے ديکھ رہا ہوں

منظر کچھ يوں تھا کہ جب سائنسدان ٹائم مشين کے ذريعہ مستقبل ميں پہنچتا ہے تو ہرے بھرے باغ ۔ شفاف پانی کے چشمے اور ان کے کنارے ہنستے کھيلتے خوبصورت انسان ديکھ کر بہت لُطف محسوس کرتا ہے ۔ وہ اس کے سحر ميں مبتلا تھا کہ کسی عورت کے چيخنے کی آواز اُسے چونکا ديتی ہے ۔ وہ ديکھتا ہے کہ ايک خوبصورت دوشيزہ پانی ميں گر گئیَ ہے اور مدد کيلئے پُکار رہی ہے ۔ وہ دور سے اُس کے گرد کے لوگوں کو متوجہ کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر بے سود ۔ بھاگ کر چشموں کے بہتے پانی کے قريب پہنچتا ہے تو ديکھتا ہے کہ سب مرد و زن قہقے لگانے ميں مصروف ہيں اور ڈوبتی دوشيزہ کی چيخ و پُکار کی کسی کو پرواہ نہيں ۔ وہ بھاگ کر دوشيزہ کی جان بچاتا ہے

ابھی وہ اسی بيگانگی کے متعلق حيران ہو رہا تھا کہ ايک سائرن کی آواز آتی ہے ۔ وہ ديکھتا ہے کہ سب مرد و زن اُس آواز کی طرف چل ديتے ہيں ۔ وہ اُن کے پيچھے جاتا ہے ۔ ايک جگہ جا کر وہ رُکتے ہيں ۔ وہ آگے بڑھ کر ديکھتا ہے کہ سامنے کے پہاڑ ميں ايک دروازہ کھُلتا ہے تو يہ لوگ اُس ميں داخل ہونا شروع کر ديتے ہيں ۔ کچھ مرد و زن کے داخل ہو جانے کے بعد دروازہ بند ہو جاتا ہے ۔ وہ پہاڑ کے اُوپر چڑھتا ہے اور ايک جگہ پر اُسے ايک سوراخ مل جاتا ہے وہ اس ميں داخل ہو کر کسی طرح اندر چلا جاتا ہے ۔ وہاں وہ ايک اور ہی دنيا ديکھتا ہے ۔ بہت ہی خوشحال قسم کے لوگ باہر سے اندر آنے والے لوگوں کا خون نکال کر اور ان کے گوشت پر تجربے کر رہے ہيں اور اس طرح ان کے جسم مکمل طور پر نابود ہو جاتے ہيں ۔ وہ کسی طرح باہر نکل آتا ہے

اگلی بار جب سائرن بجتا ہے تو وہ خوبصورت مرد و زن پھر اس پہاڑ کی طرف چل پڑتے ہيں ۔ وہ ايک ايک کو پکڑ کر سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ اندر نہ جائيں وہاں اُنہيں ہلاک کر ديا جائے گا مگر کوئی اُس کی بات نہيں سُنتا اور سب آگے بڑھ جاتے ہيں

ميں آج اپنے ہموطنوں کا يہی حال ديکھ رہا ہوں کہ انہيں اپنے علاوہ کسی پر يقين نہيں ہے ۔ ارد گرد ہونے والے ظُلم بھی انہيں سنجيدہ نہيں کر پاتے اور سب اپنی مرضی سے مقتل کی طرف رواں دواں ہيں

اللہ ہميں ديکھنے والی آنکھ اور سمجھنے والی عقل عطا فرمائے

This entry was posted in روز و شب, طور طريقہ, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

2 thoughts on “ٹائم مشين اور ہم

  1. Pingback: ٹائم مشين اور ہم | Tea Break

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)