سانحہ کراچی ۔ سرکاری کاروائی يا ہيرہ پھيری ۔ اہم سوالات

کراچی میں نہتے نوجوان کو سرعام گولیاں مار کر ہلاک کرنے کے واقعہ میں ملوث صرف 2 اہلکاروں کو مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ دیگر کردار کہاں گئے ؟
جبکہ عبداللہ شاہ غازی رینجرز کے 6 اہلکاروں کے علاوہ بھی پولیس اہلکار اور ان کے مخبر سمیت کئی اہم کردار اس بہیمانہ واردات میں ملوث ہیں ۔کون کس کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے؟

پہلی ایف آئی آر کے مطابق مقتول سرفراز مبینہ طور پر سی آئی ڈی پولیس کے اہلکار عالم زیب اور اس کی فیملی کو لوٹ رہا تھا۔ ایسے میں افسر خان مدعی کیوں بنا؟
اس کارروائی کا اہم کردار سی آئی ڈی اہلکار عالم زیب تمام سرکاری کارروائی میں کہیں بھی شامل کیوں نہیں ؟
نوجوان کو جعلی مقابلے میں رینجرز اہلکاروں نے قتل کیا۔ اس اہم کارروائی کا مدعی افسر خان ہی کیوں بنا ؟
واقعہ کے بعد سے افسر خان کہاں چلا گیا ؟
نوجوان کو بہیمانہ طریقے سے بالوں سے پکڑ کر لانے کے بعد رینجرز اہلکاروں کے حوالے کرنے اور اسے مارنے کے لئے اُکسانے کے بعد واقعہ کی جھوٹی ایف آئی آر درج کرنے والے اس اہم کردار کے خلاف اب تک کوئی کارروائی سامنے کيوں نہیں لائی گئی ؟

سرفراز شاہ نہ اپنی پستول کے نقلی ہونے کا واویلا کرتا رہا اور نہ ہی اس نے فائرنگ کی ایسے میں مقابلے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیسے کرلیا گیا ؟
اگر سرفراز کے پاس کھلونا پستول تھی تو پھر زیر دفعہ 13 ڈی اصلی پستول کی برآمدگی کا مقدمہ کیسے درج ہوا ؟
بوٹ بیسن تھانے کے ڈیوٹی افسر سب انسپکٹر ذوالفقار علی کو اصلی پستول کس نے فراہم کی ؟
سب کچھ جانتے ہوئے پولیس اس واقعہ میں فریق کیوں بنی ؟
وڈیو فلم میں سرفراز کو قتل کرنے میں تمام رینجرز اہلکار پیش پیش دکھائی دے رہے ہیں ۔ ایسے میں تمام 6 اہلکاروں کو پولیس کے حوالے کیوں نہیں کیا گیا ؟
جعلی ايف آر کے مطابق لُٹنے والا پولیس اہلکار ہے ۔ سامنے تھانہ ہونے کے باوجود سرفراز کو پولیس کی بجائے رینجرز کے حوالے کیوں کیا گیا ؟
اس سانحہ کے چند ذمہ داروں کو تو شاید سزا مل جائے مگر کیا عوامی خدمت اور حفاظت پر مامور ان فورسز کے اہلکاروں کی انسانیت دشمن تربیت اور مجرمانہ کردار کے ذمے دار افسران کی بھی پکڑ ہوگی ؟

ابھی تو معاملہ گرم ہے اور میڈیا کے ساتھ ساتھ پوری قوم کی نظریں اس کیس پر ہیں ۔ ایسے میں پُراسرار کرداروں کی متذکرہ بالا قانونی چالبازیاں اس گھناوٴنی واردات کے کچھ کرداروں کو بچانے کے لئے سرگرم نظر آرہی ہیں

بشکريہ ۔ افضل ندیم ڈوگر۔ نمائندہ جنگ

This entry was posted in روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

8 thoughts on “سانحہ کراچی ۔ سرکاری کاروائی يا ہيرہ پھيری ۔ اہم سوالات

  1. فارغ

    اصل میں سعد رفیق نے ان کو صحیح طور پر “یونیفارمیڈ ٹیررسٹ ” کہا ہے ۔ آرمی ملک کی عوام کی سب سے بڑی دشمن کے طور پر سامنے آئی ہے۔

  2. SHUAIB

    مجھے بہت ہی دکھ ہوا ویڈیو دیکھ کر
    آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے پاکستان میں؟
    ہر جگہ اس نوجوان کے بارے آدھی خبر ہے کہ وہ یوں آیا تھا، ایسا ہوا تھا، اسلئے مارنا پڑا وغیرہ ۔ مگر کہیں‌ بھی تسلی بخش رپورٹ نہیں‌ کہ ویڈیو کیمرا کے سامنے نہتے نوجوان کو کیوں مارا؟ مجھے سمجھنا پڑ رہا ہے کہ وہاں‌ جنگل راج ہے کوئی قانون نہیں!

    شعیب

  3. Pingback: سانحہ کراچی ۔ سرکاری کاروائی يا ہيرہ پھيری ۔ اہم سوالات | Tea Break

  4. افتخار اجمل بھوپال Post author

    شعيب صاحب
    ميرے مشاہدہ کے مطابق پيپلز پارٹی کے دور ميں ہميشہ ہی سے ايسا ہوتا آيا ہے ۔ نام نہاد قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو کے دور ميں ہر اس آدمی کو غائب يا ہلاک کيا گيا تھا جسے بھٹو نے اپنے لئے سياسی خطرہ سمجھا يا جس نے بھٹو کی تابعداری قبول نہ کی ۔ بينظير بھٹو کے دور ميں مجرموں کو جيلوں سے رہا کر کے سندھ پوليس ميں بھرتی کيا گيا ۔ آصف زرداری اپنی بيوی کو ہلاک کروا کر پيپلز پارٹی کو سنبھال بيٹھا اور سب سے نمبر لے گيا ہے
    خيال کيا جا رہا ہے کہ دورِ حاضر کے آزاد صحافيوں کو پيغام ديا گيا ہے ۔ قتل ہونے والا سرفراز شاہ ايک صحافی کا بھائی ہے ۔ اگر وہ چور يا ڈاکو تھا تو اُسے پاکستان نيوی ميں بھرتی کا اپوائنٹمنٹ ليٹر کيسے ملا تھا ؟ ابھی اس نے جوائن کرنا تھا

  5. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عمران بلوچ صاحب
    ايسا مذاق نہ کريں ۔ کراچی والے اسے سچ سمجھ ليں گے ۔ پہلے ہی وہ کونسا پنجابی يا پختون يا بلوچ يا کشميری کو اچھا سمجھتے ہيں

  6. Noman

    جس طرح سورج کے نکلنے پہ یقین ہے اسی طرح اس بات پہ بھی یقین ہے کہ خروٹ آباد اور کراچی میں نوجوان کو مارنے کہ مجرم بچ جایں گے …..

    جناب یہ پاکستان ہے یہاں نہ کبھی مظلوم کو انصاف ملا ہے اور نہ ہی ملے گا .

    پاکستان میں غریب ہونا اتنا بڑا گناہ ہے کہ غریب مر کے بھی اس کا کفارہ نہیں ادا کر پاتا ……

    اگر وہ نوجوان اکڑ کر کہتا کے میں جرنیل کا یا کسی اور فلاں کا بیٹا ہے تو اس کی جا ن بھی بچ جاتی ….

  7. افتخار اجمل بھوپال Post author

    نعمان صاحب
    آپ کا تبصرہ پڑھ کر ميں مُسکرا ديا ۔ آپ کہيں گے کہ رونا چاہيئے تھا ۔ درست ۔ مجھے ايک تازہ تازہ واقعہ ياد آ گيا تھا ۔ ايک ہموطن لڑکی يا عورت شرق الاوسط يا مشرقِ وسطہ کے ايک مُلک ميں ايک کمپنی کی ملازمت کيلئے انٹر ويو دينے گئی ۔ انٹر ويو لينے والی خاتون بھی ہموطن نکليں ۔ انٹر ويو دينے والی نے بجائے اپنے سٹرانگ پوائنٹس بتانے کے کہا کہ “ميں جنرل فلاں کی بيٹی ہوں” ۔ اس پر انٹر ويو لينے والی نے اُسے ريجيکٹ کر ديا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)