ورلڈ ٹريڈ سينٹر اور اينتھراکس ۔ تاريخ کا ايک ورق

11 ستمبر 2001ء کے چونکا دينے والے ناجائز واقعہ کے بعد 30 گھنٹے بھی نہ گذرنے پائے تھے کہ سارے امريکا بلکہ دنيا کی ٹی وی سکرينيں 2 پائلٹوں کی تصويروں سے سيراب ہونا شروع ہو گئيں ۔ يہ 2 سعودی بھائيوں امير بخاری اور عدنان بخاری کی تصاوير تھيں ۔ يہ تصاوير ٹی وی سکرينوں پر بار بار کوندتی رہيں امريکی حکومت کے اس مسلک کے ساتھ کہ امريکی سواريوں والے ہوائی جہاز اغواء کر کے نيويارک ميں واقعہ ورلڈ ٹريڈ سينٹر سے ٹکرانے والے دونوں پائلٹوں کی شناخت کر لی گئی تھی اور وہ سعودی بھائی امير بخاری اور عدنان بخاری تھے

بعد ميں يہ حقيقت منظرِ عام پر آئی کہ امير بخاری ورلڈ ٹريڈ سينٹر کے حادثہ سے ايک سال قبل قضائے الٰہی سے مر گيا تھا اور اس کا بھائی عدنان بخاری زندہ اور صحتمند تھا جبکہ اگر وہ ورلڈ ٹريڈ سينٹر سے ٹکرانے والے ہوائی جہاز ميں ہوتا تو جل کر خاک ہو چکا ہوتا ۔ يہ بھی معلوم ہوا کہ جب عدنان بخاری کی تصوير بطور ہائی جيکر اور مُجرم ساری دنيا کے ٹی وی چينل دکھا رہے تھے اُس وقت عدنان بخاری اپنے خلاف ہونے والی بہتان تراشی کی ترديد يا اپنا دفاع نہيں کر سکتا تھا کيونکہ وہ ايک امريکی خفيہ ايجنسی کی حراست ميں تھا

عدنان بخاری کو اُس وقت رہا کيا گيا جب امريکی حکومت اُس کا ناکردہ جُرم دنيا پر درست ثابت کر چکی تھی ۔ پھر وہ بولا بھی ليکن حقائق کی طرف لوگوں کی توجہ کم ہی گئی

11 ستمبر کے واقعہ کے کچھ ہی عرصہ بعد دنيا کو يہ بھی بتايا گيا کہ امريکی حکومت نے باقی ہائی جيکروں کی شناخت بھی کر لی ہے ۔ وہ 19 مسلمان تھے جن ميں سے 11 سعودی تھے ۔ پھر اُن کے کوائف مع اُن کی تصاوير کے ذرائع ابلاغ کے ذريعہ نشر کئے گئے اور تمام ايئر پورٹس کی ديواروں پر ان کی تصاوير چسپاں کر دی گئيں

کمال يہ تھا کہ جن کی تصاوير چسپاں کی گئيں ان ميں سے کئی افراد نے امريکی استدلال کو رد کرتے ہوئے بيانات ديئے اور اخبارات سے رابطہ کر کے بتايا کہ وہ زندہ ہيں ۔ اگر ہوائی جہاز ميں ہوتے تو مر چکے ہوتے ۔ 10 دن ميں يہ حقيقت واضح ہو گئی کہ جن لوگوں کو ہوائی جہازوں کے ہائی جيکر اور خود کُش حملہ آور قرار ديا گيا تھا 11 ستمبر 2001ء کے بعد ان ميں سے کم از کم 8 زندہ تھے

نواں آدمی جسے 11 ستمبر 2001ء کا ہائی جيکر اور خود کُش حملہ آور قرار ديا گيا تھا امريکی حکومت نے اس کا پاسپورٹ بطور ثبوت پيش کيا تھا ۔ بتايا گيا تھا کہ يہ پاسپورٹ ورلڈ ٹريڈ سينٹر کے قريب سے ايک راہگير کو ملا تھا ۔ کمال يہ ہے کہ ٹکر مارنے والے جہاز ۔ جہازوں کے اندر بيٹھے لوگ اور ورلڈ ٹريڈ سينٹر کی عمارت جل کر خاک اور ملبہ کا انبار بن گئے ۔ کسی انسان کا کچھ بھی نہ مل سکہ مگر کئی دن بعد وہاں سے سڑک پر پڑا پاسپورٹ ايک راہگير کو صحيح سلامت مل گيا ۔ کيسے ؟

متذکرہ حقائق کے باوجود امريکا کی تمام ايئر پورٹس کی ديواروں پر مردہ قرار ديئے گئے زندوں کی تصاوير طويل عرصہ تک سجی رہيں ۔ ذرائع ابلاغ نے چُپ سادے رکھی ۔ سچ کے علمبردار يہ عالمی ذرائع ابلاغ جھوٹ مُشتہر کرتے رہے

ورلڈ ٹريڈ سينٹر پر 11 ستمبر 2001ء کے حملے کے بعد ابھی ايک ماہ بھی نہ گذرا تھا کہ اينتھراکس والے خطوط امريکی کانگرس کے ارکان اور امريکی صحافيوں کو بھيجے گئے جن پر لکھا تھا “اسرائيل مردہ باد ۔ امريکا مردہ باد ۔ اللہ اکبر”۔ اس پر امريکی سياستدانوں اور صحافيوں نے يہ دعوٰی کيا کہ “دہشتگردوں [مسلمانوں] نے بائيولوجيکل ہتھيار بنانے کی صلاحيت حاصل کر لی ہے اور انہيں استعمال کرنا بھی شروع کر ديا ہے ۔ اس دعوے نے امريکا کے ہر گھر ميں خوف و دہشت کی فضا قائم کر دی ۔ لوگ اس کے بچاؤ کيلئے متعلقہ ويکسين لگوانا شروع ہو گئے اور يہ ويکسين ناپيد ہو گئی

بھيد اُس وقت کھُلا جب بائيولوجيکل ہتھياروں کی ايک معروف ماہر باربرا روزنبرگ [Barbara Rosenberg] نے انکشاف کيا کہ متذکرہ بالا اينتھکراکس پاؤڈر دراصل امريکا کی ملٹری ليبارٹری ميں تيار کيا گيا تھا ۔ يہ حقيقت امريکا کے اس وقت کے صدر جارج واکر بُش کی حکومت کو اوّل روز سے معلوم تھی

امريکی حکومت جو ورلڈ ٹريڈ سينٹر کے سلسلے ميں سعودی پائلٹوں کا جھُوٹ بول چکی تھی حقائق کو چھپاتے ہوئے اُس کے يہ جھانسا دينے کے پيچھے کيا مزموم مقاصد تھے ؟
اور امريکی حکومت کے اُن سعودی باشندوں جو ابھی زندہ تھے کو ورلڈ ٹريڈ سينٹر کو گرانے کا ذمہ دار ٹھہرانے کے پيچھے کيا مقاصد پنہاں تھے ؟

اگر امريکی حکومت کا استدلال درست تھا تو اسے ثابت کرنے کيلئے جھوٹ کا سہارا کيوں ليا گيا ؟

يہ سب کچھ اسلئے کيا گيا کہ امريکی حکومت مسلمانوں کی عزت کو کوئی اہميت نہيں ديتی اور مسلمان مُلکوں کے وسائل پر ناجائز قبضہ کرنے کيلئے جھوٹ اور منافقت سے بھرپور کام لے رہی ہے

يہ ايک کتاب “سعودی عرب ميں مذہبی آزادی” سے ايک مختصر اقتباس کا ترجمہ ہے

نيچے ورلڈ ٹريد سينٹر کے ساتھ جو کچھ 11 ستمبر 2001ء کو ہوا اس کی چند تصاوير ہيں جنہيں غور سے ديکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ اُوپر کے حصہ ميں جہاں جہاز ٹکرائے وہاں سے کالا دھوآں نکل رہا ہے جبکہ کئی منزليں نيچے سفيد دھوئيں کے بادل ايکدم چاروں طرف سے نکلتے ہيں ۔ يہ نچلی منزلوں سے نکلنے والا دھوآں اور آگ جہاز کے ٹکرانے سے پيدا نہيں ہو سکتا بلکہ وہاں عمارت گرانے والے ايکسپلوسِوز پہلے سے نصب کئے گئے تھے جو جہاز ٹکرانے سے قبل ہی بلاسٹ کر ديئے گئے تھے ۔ امريکا کے زلزلہ پيما مرکز نے اس زبردست دھماکے کی خبر ورلڈ ٹريڈ سينٹر سے ہوائی جہاز ٹکرانے سے پہلے دے دی تھی







This entry was posted in تاریخ, سیاست, طور طريقہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

16 thoughts on “ورلڈ ٹريڈ سينٹر اور اينتھراکس ۔ تاريخ کا ايک ورق

  1. خاور کھوکھر

    آپ اس مضمون سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟؟؟
    ایک مثال دیتا ہوں
    ایک کمہار کی علاقے کے چوہدری کے ساتھ چپکلش چلتی ہے
    کمہار بھی خاصا کھاتا پیتا پے
    علاقے کے بہت سے لوگ چوہدری سے نفرت کرتے ہیں لیکن اس کی طاقت سے ڈرتے ہیں
    ایک رات کمہار شوہدری کے گھر میں گھس کر اس کو پھینٹی لگا ہے
    اس کی ناک پر زخم اجاتے ہیں
    جن کو دیکھ کر سارے علاقے میں چوہدری کی ہوا اکھڑ جاتی ہے
    اب اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ کمہار چوہدری کو مار نے کی طاقت رکھتا ہے
    تو
    چوہدری کے مخالف اس کے ساتھ شامل ہو کر کیا کریں گے؟؟
    اس لیے چوپدری
    کچھ احمق تلاش کرتا ہے
    جو
    لوگوں کو بتاتے ہیں کہ کمہار اتنے ” جوگا ” ہی نہیں کہ چوہدری کو مارے
    یہ ناک کا زخم
    چوہدری نے کمہار کو بد نام کرنے کے لئے خود لگا ہے

    ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
    اگر میری بات کی سمجھ ناں آئے تو

    چھڈو مٹی پاو

  2. ڈاکٹر جواد احمد خان

    کیا یہ حیرت انگیز امر نہیں ہے کہ خود امریکہ اور یورپ میں بہت سارے لوگ سانحہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو دھشت گردی کی کاروائی ماننے کے لیے تیار نہیں اور خاص طور پر وہ لوگ جنہوں نے ” لوزچینج“ یا ” رپل افیکٹ 9/11 ” نامی ڈاکومینٹریزدیکھی ہوئی ہیں۔

  3. افتخار اجمل بھوپال Post author

    خاور کھوکھر صاحب
    آپ کی بات ميں سمجھ گيا ہوں ۔ ويسے کمہار کمہار ميں بھی فرق ہوتا ہے ليکن ميرا خيال ہے کہ کمہاروں ميں چوہدريوں کی نسبت زيادہ حميت و غيرت ہوتی ہے کيونکہ اپنے ہاتھ سے کام کر کے روزی کمانے والا زيادہ عزت دار ہوتا ہے ۔ انجنيئرنگ کالج لاہور ميں ميرا ايک ہمجماعت جٹ تھا جو چوہدری ہی کہلاتے ہيں ۔ وہ ميرے سامنے کہتا “راجپوت نوں کون پُچھدا اے ؟ اصل شان تے جٹ دی اے”۔ ميں اُسے کہتا ‘ايہہ فضول گلاں ميرے سامنے کرن دا کوئی فائدہ نئيں ۔ ايہہ دس تيرے کرتوت کيويں نيں”۔ ايک دن وہ ميرے پاس بيٹھا تھا کہ ہوسٹل کے باہر سے شور سنائی ديا ۔ وہ ديکھ کر آيا اور کہنے لگا “ميرا نوکر کسے نال لڑدا سی ۔ ميں اوہنوں مساں ٹھنڈا کيتا اے”۔ تھوڑی دير بعد اس کا نوکر ہمارے پاس آيا تو ميرے ہمجماعت نے پوچھا “کی گل سی ؟” نوکر بولا “صاب جی ۔ اسی ہاں راجپوت ۔ کمينے جٹ نوں بہن کی دے بيٹھے آن ۔ اپنی عزت دا سودا کر ليا اے”۔ نوکر کے جانے کے بعد ميرا ہمجماعت مجھے کہنے لگا “يار اجمل ۔ تُوں سچا ايں ۔ ہر بندہ اپنے آپ نوں بادشاہ سمجھدا اے”

  4. افتخار اجمل بھوپال Post author

    ڈاکٹر جواد احمد خان صاحب
    آج کی دنيا ميں منافقت ايک سرطان کی طرح پھيل چکی ہے ۔ لوگ اپنی عقل کی بجائے ذرائع ابلاغ پر يقين رکھتے ہيں ۔ صرف سياست ہی نہيں عام رہن سہن بھی ذرائع ابلاغ کا غلام ہے ۔ کھانا وہ کھاتے ہيں جس کا نام ذرائع ابلاغ ميں زيادہ آتا ہے ۔ لباس وہ پہنتے ہيں جو ٹی وی پر ديکھتے ہيں ۔/ سستا دودھ ملنے کے باوجود مہنگا وائٹنر استعمال کرتے ہيں اور اُنہوں نے کبھی سوچنے کی زحمت گوارہ نہيں کی کہ وائٹنر ميں دودھ کا شائبہ بھی نہيں ہوتا مگر اسے صحتمند دودھ سمجھتے ہيں ۔ مييں نے نظم “انقلاب نہيں آئے گا” اپنے ہموطنوں کے انہی کرتوتوں پر لکھی تھی
    ميرے پاس وہ ثبوت بھی ہيں جو ورلڈ ٹريڈ سينٹر کے آرکيٹيکٹ نے امريکی حکومت کے دعووں کو غلط ثابت کرنے کيلئے ديئے تھے ۔ وہ اسلئے نہيں لگائے کہ جن کے پاس ڈی ايس ايل نہيں وہ ميرا بلاگ نہ کھول پاتے

  5. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    حضور اس سے بڑھ کر جھوٹ کیا ہوگا جو جو بش جونئیر اور امریکی حکومت نے اجتماعی بربادی کے ہتیاروں کی عراق میں موجودگی کا ہوا نہ صرف امریکہ بلکہ ساری دنیا میں کھڑا کر رکھا تھا۔ جن کی تقلید میں یوروپ میں گھروں اور عمارتوں کے شیشے صاف کرنے والے مراکشی مزدوروں کو محض اس لئیے پکڑ کر مہنوں جیل میں دال دیا گیا کہ ان کے پاس کیمیکل :۔عمارتوں کے شیشے صاف کرنے کے لئیے :۔ کے تھے۔ وزیر داخلہ وزیر اعظم سے لیکر اقوام متحدہ میں اسی رات کوؤلن پاؤل نے اسے بنیاد بنا کر جہاں عالمی دہشت گردی :۔جسے برسر عام اسلامی دہشتگردی کہا گیا۔: کے خطرے سے دنیا کو ڈرایا وہیں اس نام نہاد دہشت گردی کو روکنے پہ داد تحسین وصول کی۔

    پھر ساری دنیا نے دیکھا کہ عراق جو آج کے پاکستان کی طرح امریکہ کی ایک کے بعد دوسری شرط مانتا چلا جرہا تھا کہ شاید امریکہ کسی طرح راضی ہوجائے۔ اس عراق نے ، اس عراق کے صدر صدام حسین نے جسے اقتدار میں امریکی لائے تھے ۔ اور یہاں یہ ذکر دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ لیبیا کے قذافی کو بھی انہی سالوں میں امریکی اقتدار میں لائے تھے۔ عراقی صدر صدام حسین کی خوابگاہوں اور بیڈ کے نیچے تک جوہری توانائی کی عالمی ایجینسی نے اقوام متحدہ کے انسپکٹروں نے تلاشی لی ۔ کہیں سے کچھ نہ ملا مگر اس کے باوجود کمال ڈھٹائی سے امریکہ و برطانیہ نے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ اور کمال ڈھٹائی سے اسے عراقی عوام کی جمہوری آزادی قرار دیا۔ جی ہاں عراقی جمہوریت جس کے مزے ایک عشرے سے عراقی لوٹ رہے ہیں۔ اور لاکھوں عراقی جمہوریت کے مزوں کی تاب نہ لاکر عدام آباد سدھار گئے۔ زخمی اور معذور الگ سے مستفید ہورہے ہیں اور دیکھ لیں ٹونی بلئیر کے ماتھے کی کسی شکن یا بش کی جبین پہ کہیں بھی اس جھوٹ اور دھٹائی کی جھلک نظر آتی ہو۔ ٹونی بلئیر آجکل ارض فلسطین کے لئے سفیر مقرر ہوئے ہوئے ہیں۔

    پاکستان کا بش بے غیرت ٹولے کا ننگ وطن ننگ قوم ننگ ملت کو آجکل ایک انگلستانی ابلاغی ادارے نے پاکستان کے خلاف اپنے مخصوص مقاصد اور اندیکھی قواتوں کے اشارے پہ بڑھا چڑھا کر پیش کرنا شروع کر دیا ہے جس میں موصوف مشرف نے اپنی بت غیرتی اور ایک امریکی کال پہ اپنی پتلون گیلی ہونے کو “پتلون خشک” ہونے کا جواز یہ کہہ کر دیا ہے کہ اگر یوں نہ کرتے تو امریکہ بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کو تباہ کردیتا اور ممکن ہے کہ پاکستان کا وجود ہی نہ رہتا۔ یعنی یوں مشرف بے غیرت نے اپنی گیلی پتلون کا جواز بتایا ہے اصل میں وہ کہنا چاہتا ہے کہ اگر وہ یوں نہ کرتا تو امریکہ اپنے بالک مشرف کا حشر بنا دیتا۔ جسے کما ڈھٹائی سے مشرف نے پاکستان پہ منڈھ دیا ہے۔ اس بے غیرت کو یہ معلوم نہیں کہ اسکی گیلی پتلون کا پاکستان سے کیا لینا دینا؟ ۔ امریکہ سے ویت نام سے لیکرعراقی و افغانی عوام باوجود اپنی کسمپرسی اور انتہائی کمتر سامن حرب کے نہیں سنبھالے گئے تو کیا پاکستانی عوام اسقدر ہی بے غیرت ہوتے کہ جرنیلوں کی گیلی پتلونوں کی وجہ سے اپنا ملک امریکہ کے حوالے کردیتے؟۔ جبکہ لالہ لبھو رام سے کشمیری نوجوانوں کا جذبہ حریت و آزادی تو سنبھالا نہ گیا تو پورے پاکستان کو کیا وہ کھا جاتے؟۔

    آج کے حکمرانوں کی طرح مشرف جیسے جرنیلوں کا مسئلہ بھی وہی ہے کہ انکا اسٹیٹس امریکہ ختم کر دیتا۔ انھیں درحقیقت آزادی کی موت یا امریکہ کی اپنی ذاتی جاہ حشمت کی غلامی میں سے کسی ایک انتخاب مشکل ہورہا ہے۔

    جو صیاد کا دانہ چگ لیتے ہیں وہ اڑنا بھول جاتے ہیں۔آخر کار پاکستان کے بھوکے ننگے اور نہتے عوام ہی اس ملک کی بقا اور آزادی کی جنگ لڑیں گے۔

    اور آخر میں ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب کا آج کے جنگ میں چھپا کالم پڑھیں اور سر دھنیں کہ یہ میرا آپ کا روز کا بیان کردہ دکھڑا نہیں۔ بلکہ ایک پاکستان سے شدید محبت کرنے والے ایک غیر متنازعہ محب الوطن اور دردمند پاکستانی کا دکھ ہے ۔

    http://www.jang.com.pk/jang/may2011-daily/30-05-2011/col1.htm

  6. افتخار اجمل بھوپال Post author

    جاويد گوندل صاحب
    ڈاکٹر عبدالقدير خان نے درست لکھا ہے ۔ يہ بات 1984ء سے ہی ميرے علم ميں تھی
    اتفاق کی بات ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے جن آدميوں سے توقعات وابسطہ کی ہيں ان ميں ايک ایاز امیر کے سوا سب ميری پسند کے ہيں
    یہ مناسب ہوگا کہ میاں صاحب پارٹی کی سربراہی سے دست بردار ہوکر مشیر کی حیثیت اختیار کرلیں اور میاں شہباز شریف کو مکمل اختیار دیدیں
    آپس کے اختلاف ختم کرے اور تمام جماعتوں کے نوجوان آپس میں مل کر ایک مضبوط اتحادی گروپ بنالیں۔ اس میں جاوید ہاشمی ، احسن اقبال ،عمران خان، جماعت اسلامی کے تعلیمیافتہ نوجوان، شاہ محمود قریشی، حنیف عباسی، ایاز میر وغیرہ روشن دماغ اور غیرمتنازعہ لیڈر شامل ہوں اور اپنے ساتھ تمام نوجوان محبان وطن کو ملا کراس ڈوبتی کشتی کو بچائیں

  7. شازل

    آپ کی پوسٹ میں کئی باتیں ایسی ہیں جنہیں‌ میں پہلی بار پڑھ رہا ہوں۔ ان ٹاورں کی گرنے میں کہیں‌نہ کہیں‌امریکی معاونت ضرور تھی۔

  8. Pingback: ورلڈ ٹريڈ سينٹر اور اينتھراکس ۔ تاريخ کا ايک ورق | Tea Break

  9. راشد کامران

    ایک حکومت اپنی ریاستی طاقت اور معاشی طاقت کے مراکز پر خود حملے انجینئرڈ کرتی ہے اور افغانستان پرحملہ کرنے کے لیے “سعودی” باشندے فریم کرتی ہے لیکن وہی حکومت عراق میں اپنی غیر قانونی جنگ کے عذر کو درست ثابت کرنے کے لیے پورے عراق سے دو “پھلجڑیاں” برآمد کرنے میں ناکام ہوجاتی ہے۔ کیا کہتے ہیں علماء تھیوریز بیچ اس مسئلے کے؟

  10. درویش خُراسانی

    پشتو کا ایک مقولہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ سچ کے پہنچتے پہنچتے جھوٹ نے گاوں کے گاوں اجاڑ دٕے ہونگے۔

    ابھی اگر سچ کا لوگوں کو پتہ لگ پہی جإے تو کیا ہوگا۔ گاوں تو اجڑ گٕے ہیں۔

  11. افتخار اجمل بھوپال Post author

    شازل صاحب
    نمعلوم آپ کے تبصرے سپيم ميں کيوں چلے گئے تھے ۔ کہيں نہ کہيں نہيں بلکہ يہ سی آئی کا پروجيکٹ تھا جہاں امريکی صدر کی بجائے صيہونيوں يعنی اسرائيل کا راج ہے

  12. افتخار اجمل بھوپال Post author

    راشد کامران صاحب
    ماضی فی الحال چھوڑ کر حال کی بات کرتے ہيں ۔ امريکا لبيا ميں اپنے زر خريدوں کے ذريعہ بغاوت اور بدامنی پھيلا رہا ہے ۔ بم اور ميزائل مار کر بے قصور انسانوں کو ہلاک کر رہا ہے اور ليبی قوم کی املاک تباہ کر رہا ہے ۔ اپنے زرخريدوں کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے ۔ ايک آئل ٹرمينل پر اپنے کمانڈوز کے ذريعہ قبضہ کر کے اپنے زرخريدوں کے حوالے کر چکا ہے تاکہ وہ اپنے اخراجات وہاں سے پورے کريں ۔ بقول امريکا يہ سب کچھ ليبی عوام کو جمہوری حق دلانے کيلئے کيا جا رہا ہے

    دوسری طرف بحرين ميں مطلق العنان حکمران کی نہ صرف خود مدد کر رہا ہے بلکہ اپنے طفيلی متحدہ عرب امارات کو بحران کی حکومت بچانے کيلئے اپنی فوج داخل کرنے کا حکم ديا جو داخل ہو گئی ور حکمرانوں کی حفاظت کر رہي ہے ۔ بحرينی عوام کی خبريں دبا دبا کر اپنے ميڈيا پر نشر ہونے دی جا رہی ہيں ۔

    اب آپ بتايئے يہ سب کيا ہے ؟

  13. افتخار اجمل بھوپال Post author

    درويش خراسانی صاحب
    آپ نے درست کہا ہے ۔ آجکل تو دور ہے کہ جھوٹ بولو اور بولتے چلے جاؤ تا وقتيکہ لوگ اسے جھوٹ کہنا بند کر ديں

  14. امیر

    556 Sheshan
    Voice Of Islam

    Russia 17 Riyasato ko Nigalta Afghanistan aaya, Jihad ne Use Tukro me taqsem kiya, Bil Aakhir 1991 me 16 Mulko ko Aazadi dedi,
    siwaye Sheshan (Chechynya) ke

    Aaj tak Sheshan aur Angushtia Haqiqi Toor pe Azad nahi,(World map me aj bhi nahi he) Grozni me Shamil Basayoof ki Tilismiyati Shaksiyyat ab Tak Logo ko Yad he !

    1999 Russian Zulm se Tang aakar 6 Lakh Musulman hijrat pe majbor huwe !
    Jin me se Hazaro ne Afghanistan me Panah Li

    Kabul Fatah hochuka the aur Sheshan ka Dunya me Wahid Sifarat khana Afghanistan me tha !
    2001 Taliban Hukumat ke bad Chechyn Hijrat karke Quetta aagaye

    6 Chechyn Musulmano ki Shahadat me Insaf na Huwa ! tu Hashar me Huzoor Sallallaho Alaihi Wasallam aur Imam Shamil ka Hath hamare Garebano pe Hoga !

  15. راشد کامران

    چلیے ایک لمحے کو مان لیتے ہیں کہ بحرین اور لیبیا میں بھی جو کچھ ہورہا ہے بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ نے بیان کیا ہے اس سے نائن الیون ایک انسائڈ جاب کیسے ثابت ہوئی اور جب امریکہ اتنا کچھ کروانے کا اہل تو عراق سے پٹاخے برآمد نا کرسکنے میں کیا حکمت ہوگی آپ کے خیال میں؟

    اور بحرین پر آپ کے تاثرات پر میرا تبصرہ ہے۔۔ سیریسلی (:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)