آيئے کچھ دير کيلئے سنجيدہ ہو جائيں

ميرے ہموطنوں کی اکثريت جن ميں حکمران بھی شامل ہيں سنجيدگی کو اپنے قريب نہيں آنے ديتی ۔ سنجيدہ ہوتے ہيں تو صرف اُس وقت جب اپنا ذاتی فائدہ ہو خواہ وہ ديرپا نہ ہو ۔ البتہ سنجيدہ موضوع پر غير سنجيدہ تبصرہ محبوب مشاغل ميں سے ايک ہے ۔ آيئے آج تھوڑی سی دير کيلئے سہی مگر سنجيدہ ہو کر سوچيں

سوال نمبر 1 ۔ پاکستان کے مختلف علاقوں ميں خود کُش حملے ہوتے ہيں تو نقصان کس کا ہوتا ہے ؟ اور کون ہلاک ہوتے ہيں ؟
سوال نمبر 2 ۔ پاکستان پر ڈرون حملے ہوتے ہيں تو نقصان کس کا ہوتا ہے ؟ اور کون ہلاک ہوتے ہيں ؟
سوال نمبر 3 ۔ کراچی ميں آئے دن لاشيں گرتی ہيں تو نقصان کس کا ہوتا ہے ؟ اور کون ہلاک ہوتے ہيں ؟
سوال نمبر 4 ۔ پاکستان کی پوليس يا رينجر يا فوج کاروائی کرتے ہيں تو نقصان کس کا ہوتا ہے ؟ اور کون ہلاک ہوتے ہيں ؟

مندرجہ بالا چاروں سوالات کا جواب ايک ہی ہے کہ نقصان پاکستان کا ہوتا ہے اور ہلاک بھی پاکستانی ہوتے ہيں

يہ کاروائی طالبان يا دہشتگردوں کی ہے يا طالبان نے اس کی ذمہ داری قبول کر لی ہے” کہہ دينے سے
کيا پاکستان کا نقصان پورا ہو جاتا ہے ؟
يا آئيندہ پاکستانی ہلاک ہونا بند ہو جاتے ہيں ؟
ايسا آج تک نہيں ہوا اور نہ ہونے کی توقع ہے

ابھی سنجيدہ ہی رہيئے

اپنے دماغ کو کھُرچئے اور دل کو ٹٹولئے اور بتايئے کہ
ہم کسے بيوقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہيں ؟
اور کسے فائدہ پہنچا رہے ہيں ؟

ہم مانيں يا نہ مانيں ہم صرف اور صرف اپنے آپ کو بيوقوف ثابت کر رہے ہيں
اور اپنے اور اپنے مُلک کے دُشمنوں کو فائدہ پہنچا رہے ہيں
اُن دُشمنوں کو کاميابی سے ہمکنار کرنے کی کوشش کر رہے ہيں جو ہمارا وجود [پاکستان] کو قائم ہونے سے پہلے ہی اِسے نابُود کرنے پر تُل گئے تھے

کيا ہمارے متعلق يہ درست نہيں ؟ جو ايک فلسفی نے کہا تھا [ميں قوموں کے نام بدل کر لکھ رہا ہوں]

جب فلسطين پر غاصبانہ قبضہ ہوا تو ميں نے کہا ميرا اس سے کيا تعلق ميں تو فلسطينی نہيں ہوں
جب افغانستان پر ناجائز حملہ ہوا تو ميں نے کہا کہ مُلا عمر جانے ۔ اُسے اُس کے کرتُوت کا بدلہ مل رہا ہے
جب عراق پر حملہ ہوا تو ميں نے کہا صدام حسين تھا ہی بڑا جابر اور ظالم حُکمران ۔ اس کے ساتھ يہی ہونا تھا
جب لبيا پر حملہ ہوا تو ميں نے کہا کہ قذافی تو آمر ہے ۔ اپنے عوام پر 41 سال سے جمہوريت کی بجائے آمريت نافذ کی ہوئی ہے ۔ اس کے ساتھ ايسا ہی ہونا چاہيئے
جب ايبٹ آباد پر حملہ ہوا تو ميں نے کہا اُسامہ بن لادن دنيا کا سب سے بڑا دہشتگرد تھا ۔ اُس کو اس کی سزا ملنا ہی تھی

کيا ہم اس وقت کی انتظار ميں ہيں ؟
پھر ايک دن آيا کہ دُشمن ميرے قريب پہنچ گيا ۔ ميں نے چاروں طرف نظر دوڑائی مگر مجھے بچانے والا کوئی نظر نہ آيا
اس کے بعد ميرا حال بتانے والا بھی کوئی نہ بچا تھا

This entry was posted in آپ بيتی, روز و شب, طور طريقہ, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

9 thoughts on “آيئے کچھ دير کيلئے سنجيدہ ہو جائيں

  1. خالد حمید

    سہی کہا۔
    ہماری مثال اس کبوتر کی طرح جو بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلیتا ہے۔ ہم بھی اپنے آپ کو مطمئن کر رہے ہیں کے اگر ہم طالبان ، مدارس اور علماء کے خلاف محاظ کھڑا کر دیں گے تو ہمیں کچھ نہیں‌کہا جائے گا۔ اور ہماری باری نہیں‌آئے گی۔

  2. بےباک

    محترم افتخار اجمل بھوپال صاحب
    آپ کا بلاگ دیکھا ،
    آپ کے دل میں وطن عزیز کے لیے درد دیکھا ،
    امید ہے مستقبل میں اسی طرح کی رھنما اور حقائق سے بھرپور تحریریں پڑھنے کو ملتی رہیں گی ،
    آپ کے اس مضمون کو انتہائی مفید سمجھتے ہوئے اس کو دوسرے ساتھیوں تک پہچانے کے لیے یہاں استعمال کیا ہے ،۔
    http://www.urdulook.info/portal/showthread.php?tid=2477&pid=7606#pid7606
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جزاک اللہ
    آپ کا بھائی : بےباک

  3. افتخار اجمل بھوپال Post author

    بے باک صاحب
    حوصلہ افزائی کا شکريہ ۔ اِن شاء اللہ جب تک اللہ نے توفيق دی اپنی کوشش جاری رکھوں گا ۔ آپ کے ديئے ہوئے ربط پر جا کر ديکھا ۔ مجلہ پسند آيا ۔ ميں نے يہ تحرير يومِ تکبير کے حوالے سے ہی لکھی تھی مگر جان بوجھ کر اس کا ذکر نہ کيا

  4. یاسر خوامخواہ جاپانی

    فی الحال تو ڈرون حملوں کا شکار پٹھان ہو رہا ہے۔۔ہمیں کیا!۔
    فی الحال بلوچستان میں بلوچی مارا جارہاہے ہمارے ہاتھوں یا کسی کے ہاتھوں۔۔۔۔ہمیں کیا!۔
    فی الحال سندھ میں اردو بولنے والے اور پشتو بولنے والے ایک دوسرے کو مار رہے ہیں ۔ہمیں کیا!۔
    پنجابی بھوکا مر رہا ہے ہمیں کیا!۔
    سارا پاکستان جل رہا ہےتو کیا ہواہماراگھر محفوظ ہے۔ ہمیں کیا!۔
    ابھی تو عیش میں گذر رہی ہے۔
    اپنی باری آئی گی تو اللہ میاں مدد کیلئے آ جائیں گے۔
    ہمیں پکا یقین ہے جی۔
    کیونکہ میرا تعلق اللہ میاں کی انتخاب کردہ اعلی نسل ،لسانیت والی قوم سے ہے۔
    اس لئے ہماری مدد کیلئے اللہ میاں فرشتوں کے لشکر بھیج دیں گے۔

  5. Pingback: آيئے کچھ دير کيلئے سنجيدہ ہو جائيں | Tea Break

  6. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    آپ مرقم ہیں۔ ہم مانيں يا نہ مانيں ہم صرف اور صرف اپنے آپ کو بيوقوف ثابت کر رہے ہيں۔ درست ہے اور اس میں شک نہیں مگر میں اسے کچھ اور انداز میں دیکھتا ہوں اور اسے بیان کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔
    ہم کیسے مانیں؟ کہ ہم بے وقوف ہیں؟؟ اسکی وجہ یہ ہے کہ یہ ہم تب مانیں جب ہمیں اس بارے علم ہوگا کہ واعتا یوں ہو رہا ہے، یہاں تو یہ عالم ہے کہ علامہ اقبال رحمتہ علیہ احساس زیاں ہی جاتا رہا ہے۔ کسی کو علم ہی نہیں کہ ہم ہیں کون؟ ہمارا وجود ہم سے کون سے معاملات کا متقاضی ہے اور ہم اپنے شب و روز کسطرح بسر کررہے ہیں؟

    پاکستان کی اسی پچاسی فیصد آبادی کو پوری خوراک نہیں ملتی۔ اگر ملتی ہے تو دال روٹی بڑی مشکل سے چلتی ہے۔ جس سے نہ بچوں کے نہ بزرگوں اور خواتین کے لئیے بنیادی معدنیات اور وٹامن پورے ہوتے ہیں اور نہ انکے لئیے اضافی اچھی خوراک گوشت دودھ دہی مچھلی وغیرہ جو ایک ضرورت ہے اور ہمارے منافق معاشرے میں اسے عیاشی قرار دے دیا گیا ہے۔ اسی پہ بس نہیں بلکہ جن کو یہ دال روٹی نہیں ملتی وہ خودکشیاں کر رہے ہیں۔ اپنے بچے بیچ رہے ہیں۔ پاکستان کی پچھتر فی صد آبادی مضر صحت پانی پیتی ہے۔ اسے صاف پانی میسر نہیں۔ تعلیم کا یہ عالم ہے کہ پاکستان کے کروڑوں بچے ابتدائی پرائمری تعلیم ہی مکمل نہیں کر پاتے۔ غربت اور افلاس کی وہ داستانیں ہیں کہ کہ قدم قدم پہ کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے مگر بے حسی، بے غیرتی اور کم ظرفی کا یہ عالم ہے کہ ایک عام سا مڈل پاس ایم این اے یا پی ایم اے کروڑوں کی مالیت کی فور بائی فورگاڑیوں کے غول میں دھول اڑاتا انہی کچے پکے جھونپڑوں اور مکانوں کے پاس سے زناٹے سے گزر جاتا ہے اور جنہوں نے اسے اپنی نمائیندگی کا عظیم اور مقدس فریضہ سونپ کر اسے قوم کے سیانوں کی مجلس میں محض اسلئیے بیجھا ہوتا ہے کہ وہ وہاں انکے لئیے بہتر پانی، اچھے راستے، روزگار اور علاقے کے انگنت مسائل کو کچھ کم کرنے کے لئیے کوشش کرے گا اس نمائندے کے رائے دہندگان جو ہر بار اس رائے شماری کی بے مقصد مشق کے بعد مزید غریب اور مفلوس پوجاتے ہیں اور نمائندے کے پاس مزید چند گاڑیوں کا ضافہ ہوجاتا ہے۔ انہی رائے دھندگان کو یہ حوصلہ اور ہمت عطا نہیں کہ وہ اس سے پوچھ سکیں کہ تمھارا عوضانہ اسقدر نہیں کہ تم کروڑوں کی گاڑی کے ہر سال ٹائر ہی بدل سکو تو پھر تمھارے پاس ہر سال ایک نئے ماڈل کی گاڑی کہاں سے آجاتی ہے؟۔ اس کے حلقے کے رائے دھندگان میں یہ جرائت محض اس لئیے مفقود ہے کہ انھیں زندگی کے ہاتھوں تلخ شب وروز نے یہ شعور ہی چھین لیا ہے کہ یون بھی کیا جاسکتا ہے یوں بھی پوچھا جاسکتا ہے؟۔

    آپ کے سوالوں میں قوم کے بارے آپ کی درد مندی جھلکتی ہے۔مگر میری ذاتی رائے میں پاکستان اٹھارہ کروڑ تنہا انسانوں کا ملک ہے۔ تنہا اور عدم تحفظ کا شکار ہجوم۔

  7. خرم

    بچانے تو کسی کو نہ کوئی آیا ہے نہ کوئی آئے گا یہ بات تو بالکل پکی ہے۔ اور جہاں تک بات ہے پاکستانیوں کے مرنے کی، تو ان میں سے کچھ پاکستانی مرتے ہیں “By choice” اور کچھ مارتے ہیں پاکستانیوں کو “By choice”. ایک بے ہنگم، غیر منصف، لاقانون قوم کے مرنے یا جینے سے نہ کسی کو دلچسپی ہوتی ہے اور نہ ہونی چاہئے۔ اگر پاکستانی یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ بے ہنگم روش کے باوجود ان کی عزت کی جانی چاہئے یا اسی روش کو برقرار رکھتے ہوئے وہ کبھی بھی باعزت ہوسکتے ہیں تو یہ خام خیالی شائد ایک عبرتناک تباہی کے سوا دور نہ ہوسکے۔ یہ تباہی ایک خونی خانہ جنگی کی صورت میں بھی ہوسکتی ہے اور غیر ملکی جارحیت کی صورت میں بھی۔ فی الحال تو اللہ تعالٰی اپنے حبیب پاک صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے اس قوم کو مہلت در مہلت دئیے جارہے ہیں لیکن اگر رسی کھینچ لی گئی تو پھر کیا ہوگا؟ خیر پاکستانیوں کو یہ سوچنے کی فرصت ہی کہاں؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)