پيغام يا سوال ؟؟؟

ويلنٹائن ڈے سے کچھ روز قبل مجھے موبائل فون پر ايک پيغام ملا تھا ۔ يہ پيغام ہے يا ہمارے ماتھے پر ايک سواليہ نشان ؟

کچھ جوان بيٹھے خوش گپياں کر رہے تھے کہ ويلنٹائن ڈے کا ذکر شروع ہوا تو اس کی تياريوں کی منصوبہ بندی ہونے لگی ۔ اچانک ان ميں سے ايک جوان بولا “اوئے ۔ ايک عيسائی نے عيدالفطر بڑے جوش سے منائی”

سب اُس کی طرف ہکا بکا ہو کر ديکھنے لگے مگر وہ بولتا گيا
“سُنا تم نے کہ ايک ہندو نے عيدالاضحٰے پر بکرے کی قربانی دی اور ايک يہودی نے رمضان کے روزے رکھے”

ويلنٹائن کی منصوبہ بندی کرنے والا جوان بولا “کيا ہانک رہے ہو ۔ ايسا ہو ہی نہيں سکتا”

پہلے والا جوان بولا “تو يہ سب کيا ہے ؟ مسلمانوں نے نيو ايئر منايا ۔ بسنت منائی ۔ ايف ايم 90 نے راکھی کی تقريب منعقد کی ۔ تم لوگ ويلنٹائن منانے کی تياری ميں ہو”

This entry was posted in روز و شب, طور طريقہ, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

25 thoughts on “پيغام يا سوال ؟؟؟

  1. خرم

    نیو ایئر اور بسنت مذہبی تہوار نہیں ہیں ثقافتی تہوار ہیں۔ یہ فرق اور لوگ تو بھولیں تو بات مانی جاتی ہے لیکن آپ سے ایسا سہو نہیں ہونا چاہئے۔ بیساکھی بھی اسی طرح ایک ثقافتی تہوار ہے۔ ان کی مخالفت کرنا دین کے نام پر درست نہیں۔ ویلنٹائن ڈے کیونکہ سینٹ ویلنٹائن سے منسوب ہے اس لئے اس کی حقیقت پر بات کی جاسکتی ہے اگرچہ یہ خالصتاَ کاروباری تہوار ہے مدرز ڈے اور فادرز ڈے کی طرح اور عیسائی مذہب میں اس کی نہ کوئی اہمیت اور نہ روایت۔ راکھی کے متعلق زیادہ علم نہیں اگرچہ بظاہر یہ بھی ایک ثقافتی تہوار ہے ہاں اگر اس کے ڈانڈے رام چندر جی یا کرشن جی سے ملتے ہوں تو شائد اسے بھی مذہبی تہوار کہا جاسکتا ہے۔ برسبیل تذکرہ میری ذاتی تحقیق کے مطابق یہ دونوں شخصیات غالباَ پیغمبران اسلام تھیں بالخصوص کرشن جی کے متعلق میرا یہ گمان یقین کی حد تک ہے۔

  2. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    خرم بھائی سبحان اللہ۔

    آپکے گمان کے صدقے جانے کو دل کرتا ہے۔

    کسی خانصاحب سے پہ طنز کیا گیا کہ آپ بہت مذھبی ہوتے ہو جب کہ آپ کی قوم میں سے کوئی پیغمبر نہیں۔ تو خانصاحب نے لال پیلے ہوتے ہوئے جھٹ بیان دیا “یہ جو موسٰی خان اور عیسٰی خان ہیں کیا تمھیں نظر نہیں آتے؟”۔

    کہنے کو تو یہ ایک لطیفہ ہے مگر اسی لطیفے کے مصداق یہودی آپکے شہر مری کا نام مریم علیہ السلام کے نام کی وجہ بیان کرتے ہیں اور بی بی مریم علیہ السلام کا مری میں مدفون کیا جانا بیان کرتے ہیں۔ علاقے میں یوسف مریم عیسٰی وغیرہ جیسے ناموں کے بکثرت ہونے کی دلیل دیتے ہیں۔مقصد صرف ایک جواز پیدا کرنا ہے کہ مسلمانوں سے زیادہ وہاں نصرانیوں کا حق ہے۔ وغیرہ تانکہ انتشار کے نت نئے مواقع پاکستانی قوم کے خلاف مہیاء کئیے جاسکیں۔

    کچھ اسی طرح کی باتیں ممبئی میں قائم یہودیوں اور موساد کے زیر انتظام مرکز سے ہندؤ دیو مالائی داستانوں کے کرداروں کے متعلق تحقیق کے نام عام پاکستانیوں میں پھیلائی جارہی ہیں ہے۔اور انکا گمان غالب بھی یہی ہے کہ جو قوم بجائے قرآن کریم سے ہدایت لینے کی بجائے بلھے شاہ کے کلام پہ سردھننا فرض سمجھتی ہو۔ اسے کبھی بھی بے وقوف بنایا جاسکتا ہے۔

    کرشنا کے متعلق جو آپکا گمان اغلب ہے اس بارے بہت سے روشن خیال روشن خیالیاں فرماچکے ہیں ۔ ایک آدھ کو تو ہم ذاتی طور ہی جانتے ہیں۔ جن کے ڈانڈے اور قلابے سننے اور دیکھے جانے تعلق رکھتے ہیں۔ دلیل یوں ہوتی ہے ۔ کہ چونکہ قرآن کریم میں ایک لاکھ سے اوپر پیغمبران علیۃ والسلام کا ذکر آیا ہے اور نام صرف چند ایک اسلئیے وہ بھی غالب گمان یہی کرتے ہیں کہ باقی ماندہ سارے ہندوؤں میں آئے ہونگے وغیرہ اور وغیرہ پہ وہ بہت سے لن ترانیاں بیان کرتے ہیں جو یہاں نہیں لکھی جاسکتیں۔

    نعوذ بااللہ حیرت ہوتی ہے اتنی اہم بات اللہ تعالٰی نے قرآن کریم میں کیوں بیان نہ کی کہ ہندوستان جو کہ عربوں کے پڑوس میں واقع ہے وہاں کرشن کو بیجھا گیا۔ وجہ اسکی یہ ہے کہ یہ لغو قصے اور داستانیں اسلام کی ضد ہیں جن کے ہیرو جنہیں نعوذباللہ آپ پیغمبران اسلام سمجھتے ہیں۔ جب داستانیں ہی لغو اور خرافات پہ مبنی ہوں تو اسکے ہیرو اور اور داستانوں کو مذھب سمجھنے والے کیونکر پیغمران اسلام اور باالترتیب مسلمان ٹہرے یعنی نہ کرشنا اور دیگر پیغمبر اسلام ہیں اور نہ ہنود مسلمان ہیں۔

    نیا سال عیسوی بسنت راکھی سینٹ ویلنٹائن ڈیز وغیرہ کاروباری ہوں یا غیر کاروباری یہ خالصتا غیر مسلم تہذیبوں کے تہوار ہیں۔ جسے منانے سے نی صرف گریز کرنا بلکہ مسلمان عملداری سے انکا قلع قمع کرنا خالصتا دینی معاملہ ہے اور اس بارے قرآن کریم اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہائت واضح ہیں۔ آپ ایک مسلمان ملک میں ہیں کسی دینی عالم سے اس بارے رجوع کریں۔

    کچھ لوگوں یا کسی خاص ٹولے کا کسی ایک غیر مسلم قوم کے تہوار کو منانا یا جائز سمجھنا اور خاصکر جب وہ مسلمان قوم کے جذبات ثقافت اور دین کے لئیے خطرہ بن سکتا ہو۔اسے اسلام قطعی طور پہ جائز قرار نہیں دیتا۔

  3. عبداللہ

    مسلمانوں کے غیر مذہبی اعمال ان کےدین کے لیئے خطرہ نہیں،باقی ساری واہی تباہی خطرہ ہے کمال ہے!

  4. خرم

    جاوید بھائی آپ نے تحقیق کو تو رد ہی کردیا۔ اگر پیغمبران صرف وہی ہیں جو قرآن میں آئے ہیں تو پھر بنی اسرائیل میں بھی صرف اتنے ہی پیغمبر آئے ہوں گے جن کا بیان قرآن کریم میں ہے اور ہندوستان، شمالی و جنوبی امریکہ، یورپ، افریقہ اور آسٹریلیا وغیرہا میں بسنے تو اللہ کو نعوذ باللہ کوئی دلچسپی ہی نہ ہوگی اور انہیں صرف جہنم کا ایندھن بنانے کے لئے پیدا کیا گیا ہوگا؟ اللہ رحمٰن الرحیم کے متعلق ایسا گمان بھی رکھنا کفر ہے۔ دنیا میں دین صرف اسلام ہے اور ہر علاقے، ہر قوم میں پیغمبروں کی روحانی جماعت صرف یہی دین لاتی رہی ہے۔ کرشن جی کے متعلق کوئی بات کرنے سے پہلے گیتا کے چند اقتباسات پیش کروں گا۔
    “میرے لئے تمام مخلوقات ایک سی ہیں۔ نہ مجھے کسی سے نفرت ہے اور نہ کسی سے محبت مگر وہ جو خلوص دل سے میری عبادت کریں اور مجھے اپنے دل میں بسائیں میں انہیں اپنے دل میں بساتا ہوں”
    “کسی شخص کے گناہ خواہ کتنے ہوں، اگر وہ خلوص دل سے میری عبادت کرے تو وہ راست باز ہے (کہ میں اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہوں) کیونکہ اس نے سیدھا راستہ اختیار کیا۔”
    “پرہیزگاروں کو مجھ سے زیادہ کسی سے محبت نہیں اور مجھے پرہیزگاروں سے زیادہ کوئی عزیز نہیں۔ تمام کاموں سے بہتر میری یاد ہے۔”
    “جب کہیں بھی لوگ مذہب سے دور ہوجاتے ہیں، اے اولاد آدم، میں وہاں اپنا پیغامبر بھیجتا ہوں”
    “ابتداء میں کچھ نہ تھا سوائے خدا کے۔ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا اور تمام مخلوقات اسی کی عبادت کرتی ہیں”
    “ہر وقت مجھے یاد کرو اور اپنے آپ کو کلیتاَ میری عبادت کے لئے مخصوص کرلو تو تم مجھے (میری رضا کو) پا لو گے”
    “خدا ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ نہ اسے کسی نے زندگی دی اور نہ اس کے لئے فنا ہے”

    یہ صرف چند اقتباسات ہیں۔ ہزاروں برس کی انسانی چیرہ کاریوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے سوچئے کہ کیا آپ کو یہ نہیں معلوم ہوتا کہ پیغام جو کرشن جی لائے وہ وہی تھا جو نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم لائے؟ اور کیا اللہ کا پیغام پیغمبر کے علاوہ بھی کوئی لاسکتا ہے؟
    اور جہاں تک بات ہے ثقافت کی تو ثقافت مذہب سے الگ ہے۔ عرب ثقافت مسلم ثقافت نہیں اور یہ بات مسلم ہے۔ ثقافت ایک علاقہ، ایک خطہ زمین سے مخصوص ہوتی ہے جبکہ مذہب کے لئے ایسی کوئی قید نہیں۔ اسلام میں صرف دو عیدوں کے علاوہ کسی تہوار کی ممانعت نہیں تآنکہ وہ شرک کی تبلیغ یا غیر اللہ کی عبادت کے لئے ہو۔

  5. خرم

    مولوی کا تو کام ہی ہر کسی کو “واجب القتل” اور مسلمان پر ہر خوشی کو حرام کرنا ہے۔ مجھے تو یہ سمجھ نہیں آئی آج تک کہ اگر اسلام میں ہر خوشی حرام ہے تو جزیرہ عرب کی موسیقی کا قلع قمع کیوں نہ ہوگیا جیسے مولویوں کے پسندیدہ حکمران “اورنگزیب” نے ہندوستان میں کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاریخ ایسی کسی کوشش کو خلفائے راشدین میں سے کسی سے منسوب کیوں نہیں کرتی؟ حلال اور حرام کی تفریق تو بہت پہلے ہو چکی۔ اب جس بات کو اللہ نے حرام نہیں کیا، اسے مولوی حرام بھی کہے تو ہم کیوں مانیں بھلا؟ :-D

  6. عبداللہ

    خرم،
    چلیئے اب آپ بھی ہندوہونے یا ہندوؤں کے ہمدرد ہونے کا طعنہ سننے کے لیئے تیار ہوجائیے ان اسٹیریو ٹائپ لوگوں سے!
    :)

  7. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    خرم صاحب!

    مولوی کو گالی اور کوسنے دینا آجکل روشن خیال طائفے کا خاص شغل ہے۔ آپ کو محض ایک مشورہ دیا تھا کہ کسی عالم سے پتہ کریں وہ آپکے ذہن سے چپکی بہت سے سوالات کے جوابات اور الجھنوں کو سلجھا دیں گے۔ آپ یہ نہ سمجیں آپ پہلے فرد ہیں جو تحقیق کے نام پہ اسطرح کے انتشار پہ چل رہے ہیں۔ بہت ممکن ہے ایک عام ہندؤ نے بھی اپنی مذھبی کتابوں رامائین وغیرہ کا اسقدر مطالعہ نہ کر رکھا جتنا مجھے انکی کتابوں کے بارے جانچنے کا موقع ملاہو۔ آپ نے گیتا کو حوالہ دیا ہے یہ بہت نئی کتاب ہے آپ کہیں گے تو ہندوں کی قدیم ترین کتب کی بنیاد پہ آپ کو حوالہ جات فراہم کردوں کہ ہندو مذھب ( ہم اسے مذھب ہی نہیں مانتے کیونکہ یہ بہت سے مختلف عقائد کا ملغوبہ ہے جس پہ ابھی بحث مقصود نہیں) میں کس قدر لچک ہے کہ وہ کسی بھی مذھب یا عقیدے کو اپنے مفادات کے لئیے اپنا لیتا ہے یا توڑ مروڑ لیتا ہے۔ آپ نے کرشنا کا حوالہ دیا ہے ہندوں کی خود ساختہ کتاب گیتا کا حوالہ دیا ہے۔ تو کیا آپ نے ان سے بھی بہت جدید مذاہب یہودیت اور نصرانیت کے بارے میں نہیں جانتے کہ آپ بائبل کا کوئی باب پڑھیں تو اسمیں گیتا سے ہزار فیصد زائد قرآن کریم سے مماثلت ہے خود خدا نے قڑآن کریم میں بائبل کو ایک الہامی کتاب قرار دیا ہے اور مسلمانوں پہ فرض ہے کہ وہ اسے ایک الہامی کتاب مانیں اور اسی طرح ایمان لائیں جس طرح عیسٰی علیۃ السلام پہ ایمان لانا ضروری ہے۔ تو اسکا مطلب یہ تو نہیں بنتا کہ چونکہ عیسٰی علیۃالسلام اور بائبل کی وجہ سے ہم انکے احترام میں پاکستان میں نصرانی قوم کے بیان کی گئی عیسٰی علیۃ والسلام کی یوم ولادت وغیرہ اور نعوذبااللہ انھیں خدا کا بیاٹا سمجھ کر تحریم و تکریم شروع کر دیں کہ کوئی خاص فرق نہیں پڑتا جب کہ کرشن کا نبی ہونا ثابت نہیں مگر عیسٰی علیۃ السلام کا نبی ہونا ثابت ہے۔

    ایک مسلمان ہونے کے ناطے آپ کے علم میں ہوگا کہ بائیبل میں تخریف ہوئی اور ایک بار نہیں بار بار ہوئی اور نصرانی خود اس بات کو تسلیم کرتے ہیں۔ آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ اور قرآن کریم کی سورۃ اخلاص اس بارے سرٹفیکٹ ہے کہ خدا کا کوئی بیٹا نہیں۔ تو جیسے کہ آپ بھی جانتے ہیں کہ نصرانی حضرت عیسٰی کو نعوذ بااللہ خدا کا بیٹا تسلیم کرتے ہیں۔ جبکہ بائبل قرآن کریم سے محض چند سو سال پرانی ایک الہامی کتاب ہے۔ اگر اس میں نصرانیوں نے اس حد تک تخریف کر لی ہے تو آپ کو کیسے یہ گمان ہوا کہ چونکہ ہندو اپنے لغو داستانوں میں جس کرشنا کا ذکر کرتے ہیں وہ پیغمر اسلام ہے؟۔ اور اس مناسبت سے پاکستان جس کی بنیاد ہی ایک الگ قوم ایک الگ دین کی وجہ سے قیام عمل میں آیا اس ملک میں پاکستانیوں کو انکے مذاہب کے تہوار منانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا؟۔

    ہدایت اللہ کی دین ہے۔ اور یہ ایک ایسا موضوع ہے جسے جاننے کے لئیے آپ جستجو کریں گے تو انشاءاللہ آپ کو بہت سی دلیلں مل جائیں گی۔

    عرض کرتا چلوں کہ قرآن کی آمد پہ قرآن کریم سے قبل کی سب شریعتیں منسوخ کر دی گئیں۔ اور صرف اور صرف قرآن کریم رہتی دنیا تک قائم رہے گا اور بنی نوع انسان کی رہنمائی کرے گا اور اسی لئیے اسکی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالی نے لیا ہے۔ اس لئیے مسلمانوں کا ایمان ہے کہ جو قرآن میں بیان ہے اور اللہ کے نبی نے بیان فرما دیا اسکے علاوہ ادہر ادہر سے ہدایت لینی یا غیر مذاھب سے شک و شکوک اپنانے مسلمانوں کے لئیے حرام ہے۔

    ہم مسلمانوں کو تو قرآن کریم سے محض چند سو سال قبل پرانی الہامی کتاب جو کہ واقعتاََ ایک پیغمر اسلام عیسی علیۃ السلام پہ اتری اس کتاب سے ہدایت کی بجائے قرآن کریم سے ہدایت پانے کا حکم ہے اور آپ نہ جانے کیوں ہندوؤ کی دیو مالائی لغو قسم کی داستانوں کو بنیاد بنا کر ہمیں بتاتے ہیں کہ وہ اپنی گیتا میں کیا لکھتے ہیں؟۔ ہندؤستان میں اسطرح کے فتنے اس سے قبل بھی اٹھتے رہے ہیں۔ اور یہود ہنود نے اس مقصد کے لئیے مبئی میں ایک مرکز قائم کر رکھا ہے جو مسلمانوں کو ورغلانے کے لئیے مختف عقائد کے ملغوبے کی “خاص” تحقیق کر رہا ہے۔ اس سے قبل سر سید احمد خان نے بھی اپنا سا ڈول ڈالا تھا ۔

    آجکل پاکستان میں گوہر شاہی فتنہ ارتداد اور اسکے ماننے والے ہندوؤں کے قصے کہانیوں کے کرداروں کو “پیغمر اسلام” قرار دینے کے اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہیں جس کا واحد مقصد کم علم مسلمانوں میں دینی شکوک شبہات ابھارنا ہے ۔

    ذیل میں گوہر شاہی وغیرہ کی کچھ خرافات۔ نعوذ باللہ ‘ نقل کفر کفر نباشد

    “بلکہ ایک طبقہ حضرت فاطمہ کا بھی معتقد ہے یہ(ہندؤ ہنود) حضرت فاطمہ کو درگامائی، لکشمی ،دیوی اور ماں کے نام سے اپنی عبادت میں پکارتا ہے،اور یہ مائی حوا کو پاروتی کہتے ہیں۔ اپنی دعاؤں میں آدم کو شنکر جی، شیو جی، اور مہادیو کے نام سے پکارتے ہیں اور خضر کو وشنو مہاراج، کرشن جی اور رام جی کے نام سے بھی یاد کرتے ہیں۔ اور گورو نانک اپنے ماننے والوں کو….’ایشور اﷲ تیرا نام رام بھی تو رحیم بھی تو‘….پڑھاتے تھے۔
    جبکہ ہندو اور سکھ دینِ آدم اور دینِ نوح کی ایک کڑی ہیں۔
    حضرت آدم کی حجرِ اسود (پتھر) کی تعظیم سے اِن میں بھی پتھر پوجنے کی ریت چل پڑی خضرت خضر سے بھی اِن کے گوروؤں کو فیض ملا تھا”۔

    “تمام انسانوں کی ارضی ارواح اِس دنیا میں کئی بار دوسرے جسموں میں جنم لیتی ہیں۔ پاکیزہ لوگوں کی ارواح پاکیزہ جسموں میں، جبکہ حضور پاک کی ارضی ارواح کو مہدی علیہ السلام کےلئے روکا ہوا تھا، جس طرح آپ کے جسم کے کسی بھی علیحدہ حصے، یعنی ہاتھ یا پاؤں کوبھی آمنہ کا لعل کہہ سکتے ہیں، ” نعوذ باللہ ‘ نقل کفر کفر نباشد

    “ہر نبی کو اﷲ نے خاص ناموں سے پکارا، جو اُن کی اُمت کے لئے پہچان اور کلمے بن گئے۔ یہ نام اﷲ کی اپنی زبان سریانی میں تھے،اِن کے اقرار سے اُس نبی کی اُمت میں داخل ہوتا ہے۔ تین دفعہ اقرار شرط ہے، اُمت میں داخل ہونے کے بعد اِن الفاظوں کو جتنا بھی دہرائے گا، اتنا ہی پاکیزہ ہوتا جائے گا۔ مصیبت کے وقت اِن الفاظوں کی ادائیگی مصیبت سے چھٹکارا بن جاتی ہے۔ قبر میں بھی یہ الفاظ حساب کتاب میں کمی کا باعث بن جاتے ہیں۔ حتٰی کہ بہشت میں داخلے کے لئے بھی اِن الفاظ کی ادائیگی شرط ہے۔ ہر اُمت کو چاہیے کہ اپنے نبی کے کلمے کو یاد کریں اور صبح و شام جتنا بھی ہوسکے اُن کو پڑھیں ۔ ھدایت کے لئے آسمانی کتابیں آپ اپنی زبان میں پڑھ سکتے ہیں۔ لیکن عبادت کے لئے اصلی کتاب کی اصلی عبارتیں زیادہ فیض پہنچاتی ہیں”۔نعوذ باللہ ‘ نقل کفر کفر نباشد
    “کسی زمانے میں اھلِ کتاب ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوگئے تھے، آپس میں اکھٹا کھانا، پینا اور ایک دوسرے سے شادیوں کی اجازت ہوگئی تھی۔ اِسی طرح اِس زمانے میں اھل ِذکر بھی ایک ہوجائینگے،اھل ِکتاب والے عارضی تھے۔ کیونکہ کتاب زبان پر تھی، نکل گئی اور یہ مستقل ہونگے کیونکہ اﷲ کا نام اور اُس کا نور خون اور دل میں ہوگا۔ جو بیماری خون میں چلی جائے یا جس کی محبت دل میں اُتر جائے،اُس کانکلنا مشکل ہے۔”نعوذ باللہ ‘ نقل کفر کفر نباشد

    “بہت سے لوگ اپنے مذہب کے نبی اور ولیوں کا بہت ہی احترام اور عقیدت، محبت رکھتے ہیں۔ لیکن دوسرے مذاہب کے نبیوں ولیوں سے بغض و عناد اور دشمنی رکھتے ہیں۔ایسے لوگ۔ ۔ ۔ ۔ جن کی برائی کرتے ہیں وہ بھی اﷲ کے دوستوں میں سے ہیں اور اﷲ کی مرضی سے ہی مختلف مذہبوں اور قوموں میں تعینات کئے گئے۔”نعوذ باللہ ‘ نقل کفر کفر نباشد

    “میں اُس وقت سیون کی پہاڑیوں میں تھا کبھی کبھی لال شہباز کے دربار چلا جاتا۔ ایک شخص دربار کے باہر برآمدے میں بیٹھا ہوا تھا۔ بہت سے ہندو مذہب کے لوگ اُس کے گرد بڑی عقیدت سے جمع تھے۔ پوچھا یہ کون بزرگ ہے؟ کہنے لگے یہ ہندوؤں کا گورو ہے، روشن ضمیر بھی ہے، اِسی کے ذریعہ ہماری درخواستیں لال سائیں تک پہنچتی ہیں اور ہمارے کام ہو جاتے ہیں۔ بہت سے مسلمان بھی اُس کی عزت کرتے تھے۔ ایک دن میرا ایک ٹیلے سے گزر ہوا، دیکھا وہی شخص سامنے ایک بُت رکھ کر سجدہ کی حالت میں کچھ پڑھ رہا ہے۔ دوسرے دن دربا رمیں ملاقات ہوئی۔ میں نے کہا تجھ جیسے روشن ضمیر کا مٹی کے بُت کو پوجنا میری سمجھ سے باہر ہے، اُس نے جواب دیا: میں بھی اِسے کوئی رب نہیں سمجھتا البتہ میرا عقیدہ ہے اور تمہاری کتابوں میں بھی لکھا ہے، کہ اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر بنایا اس وجہ سے طرح طرح کی صورتیں بنا کر پوجتا ہوں ، پتہ نہیں کون سی صورت رب سے مل جائے۔ اُس نے کہا : تو بھی روشن ضمیر ہے ، بتا کہ اللہ کی صورت کیسی ہے اور کس بت سے ملتی ہے؟ تاکہ میں اُسے من میں بسا سکوں۔” گوہر شاہی۔ نعوذ باللہ ‘ نقل کفر کفر نباشد

    نعوذ باللہ ‘ نقل کفر کفر نباشد

  8. خرم

    جاوید بھائی آپ نے اتنا سب کچھ لکھ ڈالا لیکن میری بات کے جواب میں کچھ بھی نہیں کہا۔ میں نے خود عرض کی تھی کہ ہزاروں برس کی تحریف کو ذہن میں رکھ کر ان چند جملوں کو پڑھیں اور پھر سوچیں کہ کلام اللہ سے مماثلت بھی کیا اللہ کے کلام کے سوا کسی کی ہوسکتی ہے؟ سنتا دھرم کے ماننے والوں کی (ہندو ایک جغرافیائی اصطلاح ہے مذہبی نہیں) موجودہ روش سے نہ اتفاق ہے اور نہ اس کی پیروی مقصود لیکن یہ جن تہواروں کو مذہبی بنا کر ایک خاص طبقہ ان کی حرمت میں فتاوٰی جاری کرتا ہے انہیں تو یہ تک معلوم نہیں کہ مذہبی تہوار کی تعریف کیا ہے۔ ثقافت کو مذہب کے ساتھ گڈ مڈ کرنا ہی علم کی پیمائش و آزمائش کے لئے کافی نہیں؟ بات صرف یہ ہے کہ جن ثقافتی رویوں کی وجہ سے ہماری اجارہ داری مضبوط ہوتی ہے ان کی ہم حمایت کرتے ہیں اور جن کی وجہ سے اس پر زد پڑتی ہے ان کے ہم خلاف ہوتے ہیں وگرنہ اسلام میں تو اس بات کی کوئی گنجائش ہی نہیں کہ ماں باپ اپنی اولاد کے رشتے اور سودے کریں لیکن کوئی بھی عالم جمعہ کا خطبہ اس موضوع پر نہیں دے گا۔ بسنت اور بیساکھی تو سال میں چند روز ہوتے ہیں، یہ رسم تو ہم تین سو پینسٹھ روز چلاتے ہیں۔ ایسی دوعملی کیوں؟

  9. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    وگرنہ اسلام میں تو اس بات کی کوئی گنجائش ہی نہیں کہ ماں باپ اپنی اولاد کے رشتے اور سودے کریں لیکن کوئی بھی عالم جمعہ کا خطبہ اس موضوع پر نہیں دے گا۔خرم۔

    خرم بھائی!
    کیا بہتر نہیں کہ دین یا اسکے ماننے والوں کی جس بات کے بارے میں ہمیں سو فیصد علم نہ ہو ہم اس پہ قیاس نہ دوڑائیں؟۔ کیونکہ بہت ممکن ہے جمعتہ المبارک پہ خطبے میں آپ کو جس موضوع کو سننے کی خواہش رہی ہو وہاں اور بارے دیگر معاملات بیان کئیے گئے ہوں جو خطیب صاحب کے فہم کے مطابق اس وقت ضروری تھے۔ اور ممکن ہے جس موضوع کو آپ نے نہ سنا ہو کسی دوسری جگہ اس زیر موضوع بنایا گیا ہو۔ بلکہ یقینی طور پہ جمعتہ المبارک کے خطبوں میں تقریبا سبھی موضوع زیر بحث آتے ہیں۔ کچھ دینی اسکالر اپنی مساجد میں مہنیوں کی ترتیب سے موضوع تیار کئے ہوتے ہیں۔جس طرح دنیا میں مختلف لیول کی ذہانت کے انسان ہوتے ہیں۔ اسی طرح یہ کلیہ خطیبوں سمیت سبھی پہ لاگو ہوتا ہے۔ اسلئیے اگر کوئی واعظ آپکے آئی کیو لیول پہ پورا نہ اترے تو آپ خود بھی کوشش کر کے کسی عالم سے مل لیا کریں۔

    قوم کی حیثیت سے ابھی پاکستانی قوم دودھ پیتی بچے جتنی عمر رکھتی ہے۔ ہمیں ایک قوم بننے میں شاید کئی دہائیاں صرف ہوں۔ مگر اسکے لئیے ضروری ہے کہ اپنی ایک شناخت بنانے کے لئیے ابھی سے اپنی ثقافت اپنے تہواروں کو دہوم دھام سے مناتے ہوئے غیر ملکی اقوام کے تہوار منانے سے گریز کیا جائے۔

  10. افتخار اجمل بھوپال Post author

    خرم صاحب
    آپ يہ سب کچھ لکھ کر کيا ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہيں ؟ کيا آپ گيتا کو اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کا کلام سمجھتے ہيں ؟ کيا آپ سمجھتے ہيں کہ خواہ جتنے بھی گناہ کرو تو اللہ معاف کر ديتا ہے ؟ اللہ کی عبادت اور اللہ کی ياد سے آپ کيا مراد ليتے ہيں ؟ کيا اللہ کی عبادت گناہ کی اجازت ديتی ہے ؟

  11. افتخار اجمل بھوپال Post author

    خرم صاحب
    کيا آپ جانتے ہيں کہ عيدين کے تہوار منانے کے متعلق حديث کيا ہے اور اس کی ضرورت کيوں محسوس کی گئی تھی ؟ آپ از راہِ کرم بتا ديجئے کہ ثقافت کسے کہتے ہيں اور اس ميں کيا شامل ہوتا ہے ؟

  12. خرم

    جاوید بھائی ۔ چلیں اگر آپ نے کبھی کسی مسجد کے خطیب صاحب کو اس پر خطبہ دیتے ہوئے سُنا ہے تو ہم مان لیں گے۔ اور یہ تہوار غیر ملکی قوموں کے نہیں ہیں۔ اس خطہ زمین کے ہیں جسے ہم پاکستان کہتے ہیں۔
    افتخار انکل ۔ عیدین کے تہوار کے متعلق حدیث ہے کہ انصار زمانہ جاہلیت میں دو روز مخصوص کرکے تہوار منایا کرتے تھے تو نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے ہمیں ان دو دنوں سے بہتر دو دن عطا فرما دیئے ہیں۔ میں اس بات کی دوبارہ تصدیق نہیں کر پارہا کہ انصار کے وہ دو دن مذہبی تہوار کے تھے یا نہیں لیکن عید ایک خالصتاَ مذہبی تہوار ہے جو دنیا کے تمام ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کے لئے مشترک ہے۔ ثقافت وہ چیز ہے جو ایک مخصوص خطہ زمین میں بسنے والے لوگوں کے رہن سہن کو دوسرے علاقوں میں بسنے والوں سے الگ کرتی ہے۔ اس میں زبان، ادب، رسوم و رواج، ادب آداب سب شامل ہیں۔ ثقافت درآمد نہیں کی جاتی اور نہ تھونپی جاتی ہے ہاں بیرونی لوگوں کے میل ملاپ سے متاثر ضرور ہوتی ہے۔ ثقافت مسلسل تبدیل ہوتی رہتی ہے لیکن مذہب تبدیل نہیں ہوتا (کم از کم اسے تبدیل ہونا نہیں چاہئے)۔ کیونکہ زمانہ قدیم کے مذاہب ایک مخصوص علاقہ کے لوگوں کے لئے آتے تھے اور امتداد زمانہ کے زیر اثر ان میں تبدیلیاں آجاتی تھیں اس وجہ سے ثقافت اور مذہب باہم گڈ مڈ سمجھے جاتے رہے۔ لیکن اب یہ بات واضح ہے کہ دونوں میں تفریق ہے۔ مذہب ثقافت کو متاثر کرتا ہے لیکن اسے مٹاتا نہیں۔ ایک مثال دیتا ہوں۔ ہندو مذہب کے مطابق آپ کی شادی اپنے فرسٹ کزن سے کُجا، اپنے والدین کی گوت میں بھی نہیں ہوسکتی۔ یعنی اگر آپ کے والد بھٹی راجپوت ہیں اور آپ کی والدہ منہاس راجپوت تو آپ کی شادی نہ کسی بھٹی خاندان میں ہوسکتی ہے اور نہ کسی منہاس خاندان میں۔ یہ مذہبی قید ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہندو پاک کے مسلمان ایسی کسی قید کی پابندی نہیں کرتے کیونکہ ہمارے مذہب میں اس کا وجود نہیں ہے۔ لیکن ثقافتی لحاظ سے شادی کی رسوم ہیں جیسے مہندی، مایوں، مکلاوا وغیرہ ۔ یہ ثقافتی رسومات ہیں، مذہب سے ان کا کچھ لینا دینا نہیں اس لئے یہ پنجاب کے تمام علاقہ میں ایک ہی طرح منائی جاتی ہیں۔ سندھ میں شادی کی رسوم مختلف ہیں اور سرحد میں مختلف۔ تو یہ فرق ہے مذہب اور ثقافت میں۔ آپ دیکھئے کہ دنیا کے تقریباَ ہر معاشرہ میں موسم کے بدلنے پر بالخصوص بہار کے دنوں میں کچھ تہوار منائے جاتے ہیں۔ یہ تہذیبی یا شائد انسانی تہوار ہیں کہ موسم بدلتا ہے، گرمی اور سردی کی شدت مناسب ہوتی ہے تو لوگ میلے ٹھیلے، کھیل کود اور اس قسم کی سرگرمیوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہ مذہبی سرگرمیاں نہیں ہیں بلکہ قوم کی اخلاقی اور جذباتی صحت برقرار رکھنے کے لئے انتہائی ضروری سرگرمیاں ہیں۔ آپ دیکھئے جس رفتار سے پاکستان میں میلوں ٹھیلوں میں کمی آئی ہے اسی رفتار سے لوگوں کے اندر بے اطمینانی اور گھٹن میں اضافہ ہوا ہے۔
    جہاں تک گیتا کا تعلق ہے، میرا یہ یقین ہے کہ اپنی خالص شکل میں یہ اللہ کا کلام تھا جو کرشن جی پر نازل ہوا لیکن ہزاروں برس کی انسانی تحریف سے اپنی اصل شکل کھوچکا ہے اور جن کرشن نے اللہ کی وحدانیت کی تعلیم دی اور بتوں کو پاش پاش کیا، ان کے پیروکاروں نے توحید کی آیات کو انہی کرشن پر منطبق کرکے انہی کے بُت بنا کر پوجنا شروع کر دیا۔

  13. خرم

    افتخار انکل ۔ میرا یہ یقین کامل ہے کہ خواہے جتنے بھی گناہ ہوجائیں، اگر انسان سچے دل سے توبہ کرے تو اللہ تعالٰی اسے معاف فرما دیتے ہیں۔ عبادت اللہ کو اس طرح ماننا ہے جیسے اس کا حق ہے اورگناہ اللہ کی عبادت میں لغزش ہے۔ اللہ کی عبادت کے متعلق اگر حقیقت نظر سے دیکھا جائے تو اس کا حق نہ فرشتے ادا کرسکتے ہیں اور نہ ہم عامی (حدیث شریف سے یہ بات ثابت ہے کہ نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بخشش بھی صرف اللہ تعالٰی کے کرم اور رحمت کی وجہ سے ہوگی باقی مخلوق تو کسی شمار میں ہی نہیں) سو یہ بات ممکن ہی نہیں کہ آپ عبادت کریں اور گناہ سے محفوظ رہیں۔ گناہ سے بچنے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے لیکن اگر سرزد ہوجائے تو ایسا گمان نہیں رکھنا چاہئے کہ اللہ اسے معاف کردینے سے عاجز ہے (نعوذ باللہ)۔

  14. افتخار اجمل بھوپال Post author

    خرم صاحب
    آپ کافی علم رکھتے ہيں جو بار بار حديث کا ذکر کرتے ہيں ۔ قرآن شريف اور حديث مبارکہ کی رو سے توبہ کا کيا مطلب ہے اور اللہ تعالٰی کيا سب گنا معاف کر ديں گے ؟
    گناہ اللہ کی عبادت ميں لغزش ہے يا اللہ کی نافرمنانی يا دونوں ؟
    آپ نے ميرے پچھلے سوالات کا جواب نہيں ديا ؟

  15. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    خرم!
    آپ اپنے گمان میں بہت دور نکل گئے ہیں۔اللہ تعالٰی ہمیں دین کو درست سمجھنے کی توفیق دے ۔آمین میں صرف یہاں ثقافت کے حوالے سے اسلام کے نقطعہ نظر کی بات کرؤنگا۔ تانکہ اسلامی نکتہ نظر بارے واضح ہو سکے۔

    اسلام جہاں جہاں پہنچا وہاں اسلام نے مقامی ثقافت کی ان رسومات و تہواروں پہ قدغن اور ممانعت عائد کی جو اسلمی نکتہ نظر سے نادرست یا حرام تھیں۔ مثلاََ شراب نوشی، جواء، زناء ، ستی، وہ میلے، تہوار یا رسم و رواج، ملبوسات ۔جو غیر شائستہ، غیر اسلامی، اور مجرب اخلاق یا کسی وجہ سے معاشرے میں فسادِ خلق خدا کا باعث بن سکتے تھے۔ اسکے علاوہ اسلام نے مقامی صحت مند تفریحات پہ اعتراض نہیں ۔ مثلا کبڈی کشتی ، گتکا، اور اسطرح کے مقامی کھیل جو ہندؤستان میں رائج تھے ان سے تغرض نہیں کیا۔ ملبوسات جیسے دھوتی، تہبند، اوڑھنی، گھگری وغیرہ بھی چونکہ اسلامی کی شرائط پہ پورا اترتے تھے ۔اگر منع کیا تو ان چیزوں سے جنہیں اسلام نے ناجائز اور حرام قرار دیا ہے۔ یہی صورتحال آپ کو افریقی، ایشین، یورپین مسلمان ممالک میں ملے گی۔لیکن چونکہ ہر وہ مسلمان جو دین کو سمجھ کر اس پہ عمل کرتا ہے اور وہ جو اس پہ ایمان رکھنے کی وجہ سے مسلمان کہلواتا ہے وہ ان کھیل تماشوں کو بھی اپنے رنگ یعنی اسلامی رنگ میں ڈھال لیتا ہے۔ یعنی جب وہ لباس خواہ کتنا مقامی ہو اسے بسم اللہ اور لباس نیا ہو تو مسنون دعا وغیرہ پڑح لیتا ہے۔ اسی طرح کشتی کبڈی کا آغاز اللہ کے نام سے اور جیت وغیرہ پہ اللہ کے شکر سے کام لیتا ہے۔ الغرض مسلمان ایک خواہ وہ کسی بھی خطے سے تعلق رکھتا ہو یا اسکی نسل یا رنگ کوئی سا بھی ہو اسکا اٹھنا بیٹھنا مرنا جینا آنا جانایعنی ایک مسلمان کی روز مرہ زندگی پہ اسلام کی ایک گہری چھاپ ہوتی ہے۔اسلام اسکی نفسیات بن جاتی ہے اور یہی چھاپ اسکی ثقافتی زندگی پہ بھی ہوتی ہے۔ یہ تو ممکن نہیں کہ وہ عام زندگی میں تو دینی چھاپ کے تحت گزارے اور خاص تہواروں کے لئیے لغو ، واہیات اور خرافات کا انتخاب کرے۔

    یاد رہے یہ عام مسلمانوں کے بارے ہے۔ جو بسنت مناتے ہیں محض ، بو کاٹا ، پنجابی منڈے پان پھنگڑا، فائرنگ اور جعلی جاہ حشمت، طوئفوں کے مجرے اور زنا کی پارٹیوں کا اہتمام کریں۔ تار کو ڈور کے طور پہ استعمال کریں جن سے معصوم جانوں کی گردنیں کٹ جائیں۔ اس قبیل کے لوگوں کو دین اسلام یا عام آدمی کی زندگی یا جینے مرنے سے کوئی غرض نہیں ہوتی انھیں ایسی شیطانی فضولیات کے لئیے کوئی بھی تہوار یا وجہ ملنی چاہئیے خواہ وہ بسنت ہو کشتی کبڈی یا نیا عیسوی سال ایسے لوگوں کے لئیے صرف ہدایت کی دعا کی جاسکتی ہے یا ریاست کی انتظامیہ یہ توقع کہ وہ ان پہ قانون کا پورا بوجھ ڈالتے ہوئے انھیں قرارِ واقعی سزائیں دلوائے۔
    اللہ تعالٰی ہم سب کو دین کو درست سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

  16. خرم

    جاوید بھائی زنا، شراب، طوائفوں کے مجرے، تار کو ڈور کے طور پر استعمال کرنا ان کی کب حمایت کی ہے میں نے اور ان سب کا بسنت، بیساکھی، مہندی، مایوں وغیرہ سے کیا تعلق ہے؟ اگر کچھ لوگ ایسا کرتے ہیں تو اس لئے نہیں کہ یہ سب کچھ ان رسوم کی ضرورت ہے بلکہ صرف اس لئے کہ وہ لوگ باغی ہیں جیسے حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کو قتل کرنےوالے بھی کہہ رہے تھے کہ جلدی ان کا کام تمام کرو ہماری عصر قضا ہورہی ہے۔ ان چند لوگوں کی اصلاح اور مذمت کرنے کی بجائے تمام رسوم کو ہی لغو، غیر اسلامی قرار دے دینا نامناسب بھی ہے اور ناجائز بھی۔

  17. خرم

    افتخار انکل ۔ میرے تئیں تو آپ کے گزشتہ سوالات کا جواب عرض کردیا تھا۔ نئے سوالات کا جواب میری ناقص عقل کے مطابق یہ ہے۔

    قرآن شريف اور حديث مبارکہ کی رو سے توبہ کا کيا مطلب ہے اور اللہ تعالٰی کيا سب گنا معاف کر ديں گے ؟
    ” توبہ کا مطلب اللہ سے اپنی گزشتہ لغزشوں سے معافی اور آئندہ کے لئے ان سے بچے رہنے کا پختہ اقرار ہے۔ اور اللہ تعالٰی کی رحمت سے یہ بعید ہے کہ کوئی شخص سچے دل سے توبہ کرے اور اللہ اس کا کوئی بھی گناہ باقی رہنے دے۔ حقوق العباد بندوں نے معاف کرنا ہیں۔”

    گناہ اللہ کی عبادت ميں لغزش ہے يا اللہ کی نافرمنانی يا دونوں ؟
    “گناہ اللہ کی عبدیت میں لغزش ہے۔ یاد رہے کہ عبادت صرف نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ نہیں بلکہ ہر سانس عبادت ہے۔ جیسا کہ حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا
    جو دم غافل سو دم کافر
    تو گناہ کی اساس ہی یہ ہے کہ انسان اللہ کی عبدیت سے غافل ہوجائے۔ جانتے بوجھتے اللہ کی نافرمانی بھی اللہ کی عبدیت سے غفلت ہے۔”

  18. خرم

    جاوید بھائی ۔ میرے خیال میں جو بات آپ نے اپنی گزشتہ تحریر کے پیرا اول میں کی ہے، وہی بات میں کہہ رہا ہوں کہ اسلام ان رسوم کو نہیں بلکہ ان میں موجود مشرکانہ عقائد کو مٹاتا ہے۔ آپ مہندی کی رسم میں ماتھے پر تلک نہیں لگاتے، شادی کا منڈپ نہیں سجاتے، آگ کے گرد پھیرے نہیں لیتے، مانگ میں سیندور نہیں بھرتے وغیرہ وغیرہ یہ فرق ہے جو اسلام لایا ہے ثقافت میں۔ بال کی کھال نکالنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم پتھروں کی پوجا کرتے ہیں تو آپ بھی تو حج میں پتھروں کا طواف کرتے ہیں۔

  19. افتخار اجمل بھوپال Post author

    خرم صاحب
    آپ کے اپنے ہی بيان کے مطابق آپ کا اولين استدلال کرشن چندر اور گيتا کے متعلق غلط ہو جاتا ہے ۔ ذرا اپپنی ہی تحارير کو يکجا کر کے پڑھيئے ۔
    اسی طرح عيدين کے متعلق جو آپ نے لکھا ہے وہ بھی درست ہے ۔ پورا واقعہ يہ ہے کہ قريش رسمی تہوار منايا کرتے تھے ۔ جب وہ وہی تہوار جو پرانے زمانے سے مناتے چلے آ رہے تھے منانے لگے تو رسول اکرم صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم نے دو عيدين منانے کا کہا ۔ خيال رہے جن تہواروں کو منانے سے منع کيا اُن ميں نہ کفر تھا نہ شرک ۔ يس سے بھی معلوم ہوا کہ ثقافت کی اندھا دھند پيروی سے منع کيا گيا ۔ خيال رہے کہ ثقافت صرف رسوم کا نام نہيں ہے ۔ اس ميں تعليم سميت بود و باش کا سب کچھ آتا ہے
    مسلمان کو اللہ نے اپنے اور اپنے رسول کے بتائے پر چلنے کا حکم ديا ہے ۔ اگر ہم مسلمان ہيں تو ہميں ايسا ہی کرنا ہو گا ۔

  20. عبداللہ

    کیوں غلط ہوجاتا ہے بھئی اس کی وضاحت بھی تو کریں نا!

  21. خرم

    افتخار انکل ۔ آپ نے اس جملہ کی اصل کو اور اس بات کو زیر نظر نہیں رکھا کہ یہ ایک ترجمہ ہے جو کئی زبانوں اور ہزاروں برسوں سے ہوتا ہوا اس صفحہ تک پہنچا ہے۔

  22. Pingback: پيغام يا سوال ؟؟؟ | Tea Break

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)