اقوامِ متحدہ يا مسلم دُشمن متحدہ ؟

اقوامِ متحدہ جس پر مُسلم دُشمن قوتوں کی اجاراہ داری ہے نے آج تک جو فيصلہ بھی کيا وہ ان اجارہ داروں کی مرضی کے مطابق کيا جو انتہائی خود غرض اور متعصب ہيں

نيچے درج تازہ فيصلہ پڑھنے سے پہلے تصور ميں جموں کشمير کے باشندوں کا جمہوری حق [جد و جہد آزادی] اور بھارتی افواج کے عوام پر کئی دہائيوں پر محيط ظُلم و استبداد کو مدِ نظر رکھا جائے تو اقوامِ متحدہ کی مُسلم دُشمنی کھُل کر سامنے آ جاتی ہے ۔ بالخصوص جب جموں کشمير ميں عوام کو اُن کا حق دينے کی قراداديں اسی نام نہاد اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے منظور کی تھيں جو 63 سال سے عمل کيلئے چيخ رہی ہيں

نیویارک میں ہونے والے اجلاس میں اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے لیبیا پر فضائی حملے کی منظوری دی ۔ لیبیا کو نو فلائی زون قراردینے کی بھی منظوری دی گئی ہے ۔ ووٹنگ میں 10 اراکين نے حصہ لیا جب کہ روس اور چین سمیت 5 ارکين نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا ۔ سلامتی کونسل کے کسی رکن نے قرارداد کو ویٹو نہیں کیا ۔ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ لیبیا کے شہریوں کی حفاظت کے لئے تمام اقدامات کئے جائیں گے اور حکومت مخالف قوتوں کو تحفظ فراہم کیا جائے گا

لیبیا نے سلامتی کونسل کی قرارداد کو ملکی وحدت اور استحکام کے لیے خطرہ قرار دیدیااور کہا ہے کہ باغیوں کے ساتھ جنگ بندی کے لیے تیار ہیں

This entry was posted in روز و شب, سیاست, طور طريقہ, منافقت on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

9 thoughts on “اقوامِ متحدہ يا مسلم دُشمن متحدہ ؟

  1. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    یہ نیو ورلڈ آڈر کی نئی قسط ہے۔ عراقی عوام کو جمہوریت دلانے کے بعد لیبا پہ نظر کرم کی جارہی ہے۔ کھیل نہائت سادہ ہے۔ پہلے اپنے مفادات کی خاطر تیل اور قدرتی معدنیات سے مالا مال ممالک پہ عوام کی خواہشات و ضروریات کے بر عکس فرد واحد اور اسکے خاندان کی حمیات اور مدد کر کے اسے اس ملک میں مسند اقتدار پہ بٹھایا جاتا ہے۔ ایسے حکمرانوں کو لگاتار کئی دہائیوں تک عوام میں بے چینی کے نام پہ بلیک میل کر کے اس سے نہائت کم قیمت پہ اپنے تمام مقاصد کی تکمیل کروائی جاتی ہے۔ اس دوران عوام میں سے چیدہ چیدہ لوگوں سے رابطے جاری رہتے ہیں۔ حتٰی کہ اقتدار کے لئیے عالمی طاقتوں کے رطب السان حکمرانوں کو اقتدار سے نکال باہر کیا جتا ہے اور اس ملک کے مظلوم عوام کے نام پہ ملک پہ قبضہ کر کے اس کے تمام تیل اور معدنی وسائل اپنے تصرف میں لائے جاتے ہیں۔

    اس دوران بے غیرت اور شرم سے عاری حکمرانوں نے جہاں اکڑ مکڑ یا چوں چراں کی ، انھیں عبرت کا نشان بنا دیا جاتا ہے۔ جیسے شاہ عراق اور پھر صدام حسین وغیرہ۔ جو بے غیرت حکمران آخری وقت تک تابعداری کریں ان کی زندگی بخش دی جاتی ہے جیسے ننگ ملت، ننگ وطن، و ننگ قوم مشرف اور مصر سے حسنی مبارک وغیرہ۔ جہاں تک لیبا کے قذافی کا ذکر ہے۔ آپ نے وہ مثال سنی ہوگی۔ کسانوں کی کسی بستی میں کوئی چور جا گھسا۔ باوجود جستجو کے اسے کچھ نہ ملا تو اس نے سوچا چلو ایک بوری پیاز بھر کے لے جاتا ہوں۔ اتفاق سے اس دوران کسان بھی اپنے کھیتوں سے گھر لوٹ آیا۔ اس نے چور کو پکڑ لیا۔ ساری بستی اکھٹی ہوگئی۔ چور نے نہائت منت سماجت کی کہ وہ غریب آدمی ہے اور شدید بھوک کے ہاتھوں پیاز چرائے ہیں تانکہ پیاز کھا کر اپنی بھوک مٹا سکوں۔ کسان نے چور سے کہا اگر تم نے پیاز بھوک کی وجہ سے چوری کئیے ہیں تو ہم تمھیں سزا نہیں دیتے مگر ایک بات کی سمجھ نہیں آئی کہ اگر تمھیں بھوک ہی مٹانی تھی تو دوچار پیازوں سے تمھاری بھوک مٹ سکتی تھی مگر یہ بوری بھر پیاز تم نے چوری کی نیت سے اٹھائے ہیں۔ چور نے کسان کا دل پسیچتے دیکھا تو قسمیں اٹھانے لگا کہ بھوک کے ہاتھوں وہ بوری بھر پیاز کھا جاتا ہے۔ کسانوں نے فیصلہ دیا کہ پیاز گنے جائیں اور چور پیاز کھائے گا اگر تو وہ سارے پیاز کھا جائے تو اسے معافی ہے ورنہ پیازوں کے تعداد کے برابر چور کو جوتے لگائے جائیں۔ چور نے شرط منظور کر لی۔ پیاز گنے گئے وہ اتفاق سے پورے سو عدد نکلے۔ اب چور کو کہا گیا کہ تم پیاز کھاؤ۔ چور نے دو تین پیاز کھائے پھر ہاتھ اٹھا دیا کہ نہیں اس زیادہ پیاز نہیں کھائے جاتے ۔ بستی والوں نے چور کو جوتا مارنا شروع کیا۔ جب چور نے دو تین جوتے کھائے تو منت کی کہ اب وہ پیاز کھائے گا۔ یوں چور نے یکے بعد دیگرے وقفے سے پیاز اور پورے سو جوتے کھائے۔ قذافی نے امریکہ کے مطالبات کے سامنے مشرف کی شہہ پہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور پاکستان کے خلاف جھوٹی ایٹمی پھیلاؤ کی ایف آئی آر کٹوائی۔ اسلامی مزاج کے باشندوں کو القاعدہ کے رکن قرار دے کر پابند سلاسل کیا۔ مذھبی جماعتوں پہ پابندی لگائی۔ ایٹمی سازہ سامان یہ کہہ کر امریکہ کو بجھوایا کہ یہ پاکستان سے آیا ہے ۔ اس سازش میں قذافی اور اسکا بیٹا سیف السلام دونون شامل تھے۔ حالیہ بحران میں اپنے عوام کو اقاعدہ کے لوگ قرار دے کر امریکہ اور یوروپ کی ہمدریدیاں سمیٹنے کی کوشش کی۔ القاعدہ کے لیبیا پہ قبضے اور دہشت گردوں کی جنت بن جانے کا ڈراوا دیا۔ قذافی نے اپنے آپ کو اسلامی دہشت گردی کے خلاف اور یوروپ کے لئیے مفید ساتھی ہونے کا ڈھنڈورا پیٹا۔ مگر بھول گیا کہ ہر بکاؤ مال کو ایک مخصوص استعمال کے بعد کوڑے دان میں پھینک دیا جاتا ہے۔ الغرض قذافی سو جوتے اور سو پیاز بھی کھائے گا۔ اور انجام بھی دردناک ہوگا یعنی نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم۔ اپنے لوگوں کو کئی دہائیوں تک خوار کیا۔ اور لیبیا پہ مسلم کش طاقتوں کے قبضے کی راہ ہموار کی۔

    اگر عراق کے صدام، لیبیا کے قذافی اور ان جیسے مستقبل میں گرائے جانے والے حکمرانوں نے اپنی قوم کو آزادی دی ہوتی۔ قوم کے وسائل پہ بلا شرکت غیرے قبضہ نہ کر رکھا ہوتا۔ خداد داد وسائل کو اپنے عوام پہ خرچ کیا ہوتا۔علم اور ٹکنالوجی کو رواج دیا ہوتا۔ یہی عوام انکا دفاع کرتے اور ملک میں ترقی ہوتی۔ ممکن تھا کہ مسملمان قومیں بھی دنیا کی رہنمائی میں کسی شمار میں ہوتیں۔ آج ان پہ نو فلائی زون اور دیگر پابندیاں لگائے جانے کی بجائے ان سے دنیا کی امامت کے فیصلوں بارے رائے لے جاتی۔ مگر ھندوستان کے کمزور مغل شہنشاؤں سے لیکر قذافی تک ایک ہی داستان دہرائی جارہی ہے۔ پہلے انھیں ظل الہٰی کا درجہ دیا جاتا پھر ان کے ممالک پہ غیر ممالک پہ غیر قبضہ کر لیتے ہیں۔ پھر عام و خاص کی قسمت میں رسوائی لکھی ہوتی ہے جو شاید صدیوں جاری رہتی ہے۔

    اقوام متحدہ اس سارے عمل میں سامراجی اور اسلام دشمن طاقتوں کو اخلاقی اور قانونی بیساکھی مہیاء کرتی ہے۔یہ عراق پہ قبضے کے بعد عربوں اور مسلمانوں کے تیل اور وسائل پہ قبضے کے منصوبے کی حالیہ قسط ہے۔

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    جاويد گوندل صاحب
    لبيا ميں وہ حالات نہيں تھے اور نہ ہيں جو ہم پاکستان ميں ديکھتے آ رہے ہيں اور دوسری بات کہ لبيا ميں شرح خواندگی ہمارے ملک سے دو گنا سے بھی زيادہ ہے ۔ وہاں مقامی آبادی کيلئے تعليم بالکل مفت تھی سکولوں ميں کتابيں بھی حکومت ديتی تھی ۔ محنتی طلباء کو غير ممالک ميں پی ايچ ڈی کرنے کا بھی سارا خرچ ديا جاتا تھا ۔ لبيا پر پابندياں لگانے کی وجہ سے ان کے حالات خراب ہوئے مگر ہم سے پھر بھی بہتر ہيں
    اصل غلطی معمر قذافی نے يہ کی تھی کہ 2003ء ميں دوستی بڑھانے کے نام پر امريکی اور يورپی کمپنيوں کو لبيا آنے اجازت دے دی اور اُنہوں نے اپنا کام دکھا ديا ہے
    پرانی بات ہے کسی نے کہا تھا “امريکا کی دوستی سے دُشمنی اچھی ہے”۔

  3. أبو فارس

    تو آپ کے خیال میں یہ جو لیبی عوام سڑکوں پر نکلے ہیں یہ امریکی سازش ہے؟
    محمد البوعزیزی نے امریکی سازش کے تحت اپنے آپ کو آگ لگائی؟
    تونس اور مصر میں جو ہوا وہ امریکی سازش تھا؟!
    بحرین، یمن، سعودیہ، الجزائر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ امریکہ کر رہا ہے؟
    کیا قذافی جیسے نفسیاتی مریض اور گدھے کو لیبی عوام کے قتل کا لائسنس دے دینا چاہیے؟
    قذافی جیسے عظیم لیڈر کے دورِ اقتدار میں لاکھوں لیبیوں کی اجتماعی قبریں امریکہ نے کھدوائیں تھیں؟

  4. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    محترم افتخار اجمل صاحب۔
    صدام حسین کا عراق عرب ممالک میں سے بہترین مادی ترقی کا نمونہ تھا۔ وہاں کا سوشل سیکورٹی سسٹم اور ہسپتال وغیرہ یوروپ کے بہت سے ممالک سے بہتر تھے۔ تیل کی آمدنی کا وافر حصہ عوام پہ خرچ ہوتا تھا۔ صدام یا اسکے خاندان پہ مالی کرپشن باوجود کوشش ثابت نہ کی جاسکی۔ صدام اور اسکے خاندان کے بیرون ملک اثاثے نہیں تھے ۔ اگر تھے تو نہائت معمولی سے عراقی حکامت کے نام تھے۔ مگر عوام پہ حکومت کرنے کا طریقہ کار دنیا میں رائج سبھی اخلاقی طریقوں پہ پورا نہیں اترتا تھا۔ عوام خوفزدہ اور گھٹن کا شکار تھے۔

    جسطرح افغانستان پہ حمل کرنے سے پہلے امریکہ اور اتحادیوں نے وہاں جو “لعنتیں” (لعنتیں لفظ امریکہ اور اتحادیوں کا مؤقف تھا) اپنے عوام کو گنوائیں تھیں۔ کہ وہاں پہ خواتین کو ٹوپی والا بقعہ پہنوا کر اس میں بند کر دیا جاتا ہے جس میں انھیں نہ ہونے کے برابر نظر آتا ہے اور ایک معروف مغربی ٹی وی نے ایک ٹی وی کیمرے کو ٹوپی والا برقعہ پہنا کر برقعے کی جالی سے بازاروں میں موی بنا کر ٹی وی پہ چلائی اور اپنے عوام کو بتایا کہ دیکھو افغانستان پہ حملہ کرنا کسقدر “مقدس” اور بر حق ہے کہ وہاں ظالم طالبان کی حکموت سے خواتین کو آزادی دلوانی ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کیا افغانستان پہ قبضے کے بعد وہاں خواتین کی حالت بہتر ھوگئی ہے؟ یا وہاں کواتیں نے ٹوپی والا برقعہ پہننا چھوڑ دیا ہے کہ امریکہ کے حملے سے پہلے انھیں ٹوپی والے برقعے کے بغیر آزادی کی “نعمت” کا احساس نہیں تھا اور امریکیوں نے ان پہ اسطرح کی آزادی کا راز آشکارا کیا ہے؟ تو جواب آئے گا ۔نہیں! اور اس کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان پہ حملہ اور قبضہ نہ تو افغانی خواتین یا کسی اور طبقے کی نام نہاد آزادی کے لئیے کیا تھا بلکہ یہ دیگر بہانوں میں سے ایک تھا بالکل جیسے عراق میں پہلے اجتماعی تباہی کے ھتیاروں کے بارے دنیا کی معلوم تاریخ کا سب سے بڑا اور لمبے عرصے کا جھوٹ امریکہ اور اتحادیوں کی طرف سے بولا گیا اور بعد میں اسے عراق کے عوام کی آزادی سے تعبر کیا گیا۔ جبکہ واحد مقصد افغانستان اور عراق پہ حملہ اور قبضہ کرنے کا جواز پیدا کرنا تھا۔

    افغانستان کی خواتین اسی طرح ٹوپی والا برقعہ اوڑھتی ہیں وہ امریکہ یا کسی اور کے لالچ یا کہنے پہ اسے اوڑھنے سے باز آنے والی نہیں کہ بر قعہ یا دیگر روایات انکی ثقافت کا حصہ ہیں۔ البتہ امریکہ کے افغانستان پہ حملے اور قبضے کے بعد وہاں یتیم بچوں اور بیوہ اور لاوارث لوگوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ لیکن مغرب میں اب نانم نہاد انسانی حقوق کی کوئی انجمن یا این جی او کوئی بات نہیں کرتی ۔ نہ ٹی وی پہ افغانی خواتین کے ٹوپی والے برقعے کے حوالے سے مذاکرے ہوتے ہیں۔ عراق و افغانستان پہ حملہ و قبضہ ہو چکا۔ اب انھیں اسطرح کے ڈراموں کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ البتہ لیبیا اور بحرین وغیرہ پہ نئے “شو” چل رہے ہیں۔ حلمے اور قبضے کے بعد نئی “چراہگاہوں” کا ذکر ہوگا۔

    لیبیا میں عوام کے لئیے مفت تعلیم، مفت کتابیں اور پی ایچ ڈی کرنے کے لئیے سہولتوں کا جو ذکر آپ نے کیا ہے وہ بجا مگر یہ سہولتیں تو لیبیا کی طرح کئی ممالک اپنے عوام کو مہیاء کر رہے ہیں۔ جن کے پاس لیبیا کی طرح بے بہا تیل کی آمدنی بھی نہیں اور جنکی آبادی لیبیا سے کئی گنا زیادہ ہے۔ جبکہ لیبیا جیسے اتنے بڑے ملک کی اتنی کم سی آبادی پہ اسقدر تیل اور وسائل کی آمدنی سے تو پورے عرب ممالک کی عوام کو کھانا تعلیم اور کتابیں مفت دی جاسکتیں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ دنیا کی دوڑ قذافی کے خاندان کے علاوہ عوام کا کتنا حصہ ہے؟۔

    قومیں اور ممالک کبھی کسی کی ملکیت نہیں ہوتے جو ایسا کرتے ہیں وہ قانون فطرت کا مذاق اڑاتے ہیں اور فطرت اپنے اٹل قوانین کسی کے لئیے نہیں بدلتی۔ جب تک قذافی ، کرزئی ، مالکی، زرادری وغیرہ امریکہ کی ضورت کے مطابق کام کرتے ہیں تبھی تک ان کا گزارہ ہوتا ہے ۔ جو ایک دفعہ بکتا ہے پھر اسے بار بار بکنا ہوتا ہے۔ مگر اس سارے عمل میں عام مسلمان شہری پس کر رہ گئے ہیں اور نصف صدی قبل آزادی کے باوجود ابھی تک غلاموں سے بدتر زندگی گزار رہے ہیں۔ جس کی بڑی وجہ قذافی ، صدام ، حسنی مبارک، کرزئی، مالکی زرداری گیلانی ہیں۔ جو امریکہ اور دیگر کی ایک آواز پہ دس دس کی تعداد میں لائن میں کھڑے ملتے ہیں۔

  5. افتخار اجمل بھوپال Post author

    ابو فارس صاحب
    جذباتی ہونے کی ضرورت نہيں ۔ آپ ميری تحرير تک ہی تبصرہ رکھتے تو بہتر تھا
    کيا امريکا اور اس کے حواريوں کے عراق اور افغانستان پر حملے ۔ قبضہ اور بے قصوروں کا قتلِ عام انصاف ہے ؟ اور اب اُنہيں لبيا پر حملہ کرنے کی اجازت دينا بھی انسانيت کا تقاضہ ہے ؟
    آپ کو کس نے حق ديا ہے کہ ايک آدمی جس کے ساتھ آپ کا کوئی ميل جول نہيں رہا اُسے نفسياتی مريض اور گدھا کہيں ؟
    ايک حديث ہے کہ ايک صحابی رضی اللہ عنہ کسی شخص کی سفارش رسول اللہ صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم کے پاس لے کر گئے ۔ آپ صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا “کبھی اس کے ساتھ ايک مکان ميں رہے ہو ؟” صحابی نے کہا “نہيں”۔ پھر آپ صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا “اس کے ساتھ کبھی سفر پر گئے ہو ؟ ” صحابی نے کہا “نہيں”۔ رسول اللہ صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا “پھر تم اُسے نہيں جانتے اسلئے اس کی سفارش نہ کرو”۔”

  6. أبو فارس

    افتخار چچا میں نے تبصرہ آپ کی تحریر کی روشنی میں ہی کیا ہے، آپ کے جواب میں میرے اٹھائے گئے سوالوں کا کوئی جواب نہیں ہے، رہی بات اس حدیث کی جو آپ نے پیش کی ہے تو سر آنکھوں پر حالانکہ قذافی کوئی نومولود بچہ نہیں ہے جسے کوئی نہ جانتا ہو، اگر آپ نے اس نمونے کی سبز کتاب پڑھی ہوتی تو مجھے یقین ہے کہ آپ ایسی کوئی حدیث پیش نہ کرتے، جو شخص قرآن کی آیتیں اور سورتیں بدلنے کے در پر رہا ہو اس کے دفاع میں حدیثیں پیش کرنا میری سمجھ سے باہر ہے.. کیا ایسی بھی کوئی حدیث ہے جو یہ کہتی ہو کہ برائی کو برائی نہ کہو؟

    کوئی بات بری لگی ہو تو معافی چاہتا ہوں..

  7. افتخار اجمل بھوپال Post author

    ابو فارس صاحب
    بہتر ہوتا کہ آپ معمر قذافی کو القابات دينے کی بجائے اُس کی برائی بيان کرتے ۔ ميں نے معمر قذافی کی دونوں سبزکتابيں غور سے پڑھی ہوئی ہيں ۔ ميں ساتھ لايا تھا ۔ پاکستان ميں ميری رہائشگاہ سے کوئی صاحب پار نہ کر جاتے تو ابھی ميرے پاس ہوتيں ۔ زيادہ تر لوگوں نے سبز کتاب کو عالمی پروپيگنڈہ کے زير اثر پڑھا ہے ۔ کسی کا نظريہ جاننے کيلئے ضروری ہوتا ہے مطالعہ سے قبل اپنے نظريہ کو چھٹی پر بھيج ديا جائے ۔ ميں معمر قذافی کے مسلک کا حامی نہيں پھر بھی جو اس ميں خوبياں ہيں وہ ہمارے حکمرانوں ميں نہيں ہيں ۔ مگر بات معمر قذافی کے نظريہ کی يا اُس کی ذات کی نہيں ۔ فرنگيوں کے استبداد اور منافقت کی ہے
    مشرقی تيمور عيسائيوں کے آواز اُٹھانے کے صرف ساڑھے چار سال بعد آزاد کرا ليا گيا ۔ جموں کشمير اور فلسطين کے معاملات بھارت اور اسرائيل پر چھوڑ رکھے ہيں اور اُن دونوں ظالموں کی بھرپور امداد بھی کی جاتی ہے
    معدنی دولت پر قبضہ کرنے کيلئے عراق اور افغانستان پر قبضہ کيا گيا اور مسلمانوں کا قتلِ عام جاری ہے
    آپ کو صرف معمر قذافی کافر لگتا ہے اس لئے امريکا کا اس پر بمباری کرنا جائز سمجھتے ہيں ۔ معمر قذافی نام کا مسلمان سہی [جو ہمارے ملک ميں حکمرانوں سميت لاکھوں ہيں] مگر فرنگيوں کو حق نہيں پہنچتا کہ لبيا پر يلغار کريں ۔ امريکہ نے بہت پہلے معمر قذافی کو مارنے کی تين بار کوشش کی تھی جن ميں سے ايک بار تين بم گرائے تھے ۔ بقول امريکا يہ بم ليزر گائيڈڈ تھے اور 11000 ميٹر کی بلندی سے ٹيبل ٹينس کی گيند کو نشانہ بنا سکتے تھے ۔ ان ميں سے ايک ايوانِ صدر کے باہر کے گيٹ پر گرا جہاں ايک گارڈ ہلاک ہوا ۔ دو ايوانِ صدر سے دو ڈھائی کلوميٹر دور شہری آبادی پر گرے جس ميں فرانس کا کونصليٹ اور دوسرے گھر تباہ ہوئے جہاں غيرمُلکی رہتے تھے ۔ اس محلہ ميں ہمارے ايک عزيز بھی رہتے تھے جن کے ساتھ والے گھر پر بم گرا تھا اور ان کے گھر کے تمام شيشے اور چينی کے برتن وغيرہ ٹوٹ گئے تھے
    بات مجھے بُری لگنے کا مسئلہ نہيں ہے ۔ مسئلہ ہماری قوم کی اکثريت کا ہے جو اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھتی ہے ۔ عمل ميں صفر ہے مگر چِٹی چمڑی والے کی ہر بات دل و جان سے قبول کرتی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)