جانتے ہيں يہ کيا ہے ؟

عصرِ حاضر ميں معلومات بہت زيادہ ہو گئی ہيں مگر ماہرين کہتے ہيں کہ تاريخ کمزور ہے ۔ صرف 5 سے زيادہ اور 6 سے کم دہائياں پرانی بات تو سب کو معلوم ہونا چاہيئے

نيچے تصوير ديکھ کر بتايئے کہ ہوائی جہاز پر کيا لادا جا رہا ہے ؟

چلئے کچھ اشارہ ديتا ہوں کہ يہ 1956ء کا واقعہ ہے ۔ آيا کچھ سمجھ ميں ؟
*
*
*
جواب نيچے ہے
*
*
*
يہ 5 ميگا بائٹ [5MB] کی ہارڈ ڈسک ڈرائيو ہے آئی بی ايم کے پہلے سُپر کمپيوٹر 305 رامَک کی جس کا اجراء ستمبر 1956ء ميں کيا گيا تھا ۔ اس ہارڈ ڈسک ڈرائيو کا وزن 1000 کلو گرام سے زيادہ تھا

حيران ہونے کی ضرورت نہيں ۔ 1980ء ميں ہمارے ادارے ميں آئی بی ايم کا مين فريم کمپيوٹر تھا اُس کی ہارڈ ڈِسک ڈرائيو 50 ميگابائيٹ کی تھی ۔ جب ميں نے اپنے دفتر کيلئے 1987ء ميں 20 ميگا بائٹ ہارڈ ڈِسک ڈرائيو والا پی سی خريدا تو لوگ اُسے ديکھنے کيلئے آتے تھے اور حيران ہوتے تھے ۔ اس وقت ميں 250 جی بی والے کمپيوٹر پر کام کر رہا ہوں ۔ آجکل 8 جی بی کی يو ايس بی فليش ڈرائيو عام ملتی ہے اور آئی فون 32 جی بی والا ملتا ہے

This entry was posted in تاریخ, معلومات on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

17 thoughts on “جانتے ہيں يہ کيا ہے ؟

  1. Pingback: Tweets that mention What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ » Blog Archive » جانتے ہيں يہ کيا ہے ؟ -- Topsy.com

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عثمان صاحب
    آپ جانتے ہيں کہ اور سپيڈنگ کا نتيجہ کيا ہوتا ہے ؟
    ايک مثال آپ دنيا ميں ريئل ايسٹيٹ بُوم کی ديکھ چکے ہيں ۔ اس کے جھٹکے سے ابھی تک دنيا نکلی نہيں ہے
    ہم نے انجيئرنگ اکونومِکس ميں آدھی صدی سے زيادہ پہلے پڑھا تھا کہ ترقی کی بہترين رفتار 33 فيصد ہوتی ہے يعنی 30 درجے کا زاويہ ۔ اگر ترقی کی رفتار 50 فيصد يعنی 45 کا زاويہ ہو جائے تو غيرمعمولی ہے اور اس سے بڑھ جائے تو خطرناک ہے

  3. عثمان

    میں تو اس بارے میں کچھ ذیادہ نہیں‌ جانتا۔ آپ ہی کچھ روشنی ڈالئے۔ کس قسم کے خطرناک اثرات مرتب ہوسکتے ہیں؟

  4. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عثمان صاحب
    غير منقولہ جائيداد پر کاروبار بلنديوں پر جانے کا جو نتيجہ ہوا اس کا ميں نے حوالہ دے ہی ديا تھا ۔ سائنس کی ترقی کا نتيجہ آپ پوری دنيا ميں ديکھ رہے ہيں ۔ دوسرے ملکوں پر قبضہ کرنے سے لے کر خودکش دھماکوں تک سب سائنس ہی کی کرامات ہے اور کيا ہے ؟

  5. سعد

    اس تصویر میں موٹے لوگوں کیلیے ایک امید کی کرن ہے، کہ وہ بھی مستقبل میں سمارٹ ہو سکتے ہیں :-D

  6. عمران اشرف

    درست فرمايا! ٹيکنالوجي جس رفتار سے ترقي کر رہي ہے لگتا ہے ٹيرا بائٹ کي ہارڈ ڈسک اگلے دس سال بعد قصئہ پارينہ بن جائے گي- وہ 1۔44 کي فلاپي ڈسک بھي تو اب کہيں غائب ہو گئي ہے؟ کہتے ہيں کہ دنيا ابھي ترقي کے عروج پر نہيں پہنچي ہے، اس ميں ابھي ٹائم ہے? انتظار کيجيے اس وقت کا جب يہ طاقتور کمپيوٹرز ديگر مشينوں ميں ايک چھوٹے پرزے کے طور پر استعمال ہونگے؟

  7. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عمران اشرف صاحب
    آپ تو 1.44 ايم بی کی فلاپی کی بات کر رہے ہيں ميرے پاس 360 کلو بائٹ والی سوا پانچ انچ کی سينکڑوں فلاپياں ڈاٹا سميت پڑی ہيں ۔ ميری ان کو چلانے والی ڈروئيو ايک کمپيٹر وينڈر نے گرا کر خراب کر دی اور اب مجھے ويسی مل نہيں رہی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)