تیسرا ستون ۔ عدالت یا اِنصاف

رُکن اور ستون “۔ پہلا ستون ” ایمان ” اور دوسرا “اخلاق” کا بیان پہلے ہو چکا ہے

اِسلام کے نظامِ اِنصاف اور مغربی قانونِ اِنصاف (جو کہ پاکستان میں بھی رائج ہے) میں ایک اہم فرق ہے وہ یہ کہ اِسلامی نظام ِ اِنصاف میں اِنصاف مہیا کرنا قاضی یعنی جج کا فرض ہوتا ہے اور اِسلامی شریعی قانون کے ماہرین اِنصاف کرنے میں جج کی مدد کرتے ہیں ۔ جبکہ مغربی قانونِ اِنصاف میں سچ جھوٹ ثابت کرنا مُدعی اور مُدعا علَیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ جن معاملات میں پولیس کا عمل دخل ہو ان میں پولیس بھی کرتب دکھاتی ہے ۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ جب حاکمِ وقت کسی عالِمِ دین کو مُلک کے مُنصفِ اعلٰی کا عُہدہ پیش کرتے اور عالِم کے خیال میں حاکم صرِیح مُنصف نہ ہو تا تو عالِم عہدہ قبول کرنے سے انکار کر دیتا خواہ انکار پر سزا بھگتنا پڑتی ۔ نعمان بن ثابت المعروف امام ابو حنیفہ کو مُنصفِ اعلٰی بننے سے انکار پر عبّاسی خلیفہ منصور نے قیدِ سخت کی سزا دی ۔ چار پانچ سال بعد امام صاحب قید ہی میں وفات پا گئے

سورت ۔ 2 ۔ البقرہ ۔ آیت 42 ۔ باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو
سورت ۔ 2 ۔ البقرہ ۔ آیت 188 ۔ اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اورنہ اس کو (رشوت کے طور) حاکموں کے پاس پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناجائز طور پر کھا جاؤ اور (اسے) تم جانتے بھی ہو
سورت ۔ 2 ۔ البقرہ ۔ آیت 283 ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اگر کوئی کسی کو امین سمجھے (یعنی رہن کے بغیر قرض دیدے) تو امانتدار کو چاہیئے کہ صاحب امانت کی امانت ادا کردے اور اللہ سے جو اس کا پروردگار ہے ڈرے۔اور (دیکھنا) شہادت کو مت چھپانا۔ جو اس کو چھپائے گا وہ دل کا گنہگار ہوگا۔ اور اللہ تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

سورت ۔ 4 ۔ النّسآء ۔ آیت 29 ۔ مومنو! ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ ۔ ہاں اگر آپس کی رضامندی سے تجارت کا لین دین ہو (اور اس سے مالی فائدہ حاصل ہو جائے تو وہ جائز ہے) اور اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو کچھ شک نہیں کہ اللہ تم پر مہربان ہے
سورت ۔ 4 ۔ النّسآء ۔ آیت 32 ۔ اور جس چیز میں اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اس کی ہوس مت کرو مردوں کو ان کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کئے اور عورتوں کو ان کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کئے اور اللہ سے اس کا فضل (وکرم) مانگتے رہو کچھ شک نہیں کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے
سورت ۔ 4 ۔ النّسآء ۔ آیت 58 ۔ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو ۔ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو ۔ اللہ تم کو نہائت عمدہ نصیحت کرتا ہے اور یقینا اللہ سب کچھ دیکھتا اور سنتا ہے ۔
سورت ۔ 4 ۔ النّسآء ۔ آیت 135 ۔ اے لوگو جو ایمان لاۓ ہو ۔ انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو ۔ فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب ۔ اللہ تم سے زیادہ ان کا خیرخواہ ہے ۔ لہذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو ۔ اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے ۔

سورت ۔ 5 ۔ المآئدہ ۔ آیت 8 ۔ اے ایمان والوں! اللہ کے لیے انصاف کی گواہی دینے کے لیے کھڑے ہو جایا کرو۔ اور لوگوں کی دشمنی تم کو اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف چھوڑ دو۔ انصاف کیا کرو کہ یہی پرہیزگاری کی بات ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ اللہ تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے
سورت ۔ 16 ۔ النحل ۔ آیت 126 ۔ اور اگر تم بدلہ لو تو اسی قدر لے لو جس قدر تم پر زیادتی کی گئی ہو لیکن اگر صبر کرو تو یہ صبر کرنے والوں کے حق میں بہتر ہے

سورت ۔ 17 ۔ الاسراء یا بنی اسرآئیل ۔ آیت 35 ۔ اور جب (کوئی چیز) ناپ کر دینے لگو تو پیمانہ پورا بھرا کرو اور (جب تول کر دو تو) ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو۔ یہ بہت اچھی بات اور انجام کے لحاظ سے بھی بہت بہتر ہے

سورت ۔ 25 ۔ الفرقان ۔ آیت 72 ۔ (رحمٰن کے بندے وہ ہیں) جو جھوٹ کے گواہ نہیں بنتے

سورت ۔ 83 ۔ المطففین ۔ آیت 1 تا 9 ۔ ناپ اور تول میں کمی کرنے والوں کے لیے تباہی ہے ۔ جو لوگوں سے ناپ کر لیں تو پورا لیں ۔ اور جب ان کو ناپ کر یا تول کر دیں تو کم کر دیں ۔ کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ اٹھائے بھی جائیں گے ۔ (یعنی) ایک بڑے (سخت) دن میں ۔ جس دن (تمام) لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔ سن رکھو کہ بدکارروں کے اعمال سجّین میں ہیں ۔ اور تم کیا جانتے ہوں کہ سجّین کیا چیز ہے؟ ایک دفتر ہے لکھا ہوا

This entry was posted in دین, معلومات on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

4 thoughts on “تیسرا ستون ۔ عدالت یا اِنصاف

  1. خرم

    بہت عمدہ تحریر ہے انکل۔ ایک بات عرض کرنا چاہوں‌گا کہ اسلامی نظام عدل میں مقدمہ ثابت کرنا مدعی کی ذمہ داری ہے۔ یہی اصول تمام دیگر نظامان عدل میں لاگو ہے۔ منصف یا قاضی کا کام ہے کہ موجود شہادتوں اور گواہیوں کی بنا پر انصاف سے قانون کے مطابق فیصلہ کرے کسی بھی ذاتی پسند و ناپسند سے بالا ہو کر۔

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    خرم صاحب
    مدعا تو مدعی ہی نے پیش کرنا ہوتا ہے مگر اسلام میں جج کی ذمہ داری ہے کہ سچ اور جھوٹ کو پرکھے جس کیلئے جج اپنے علم تجربہ اور ضمیر کو بھی بروئے کار لانے کا پابند ہے ۔ خُلفائے راشدین کے زمانہ میں ملتی ہیں ۔ آج کی دنیا میں رائج قانون کے تحت جج صرف وکیل کی کارگذاری پر بھروسہ کرتا ہے ۔ ہماری موجودہ عدالتِ عظمٰی میں تھوڑا اسلامی رنگ پیدا ہوا ہے جس نے حکمرانوں اور وڈیروں کی نیندیں حرام کر دی ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)