غَلَط العام

غَلَطُ العام غَلَط ہی ہوتا اور کبھی درُست نہیں ہو سکتا ۔ اسے درست تسلیم کرنا انسان کی کم عِلمی کا نتیجہ ہوتا ہے یا ضد کا ۔ اگر غور کیا جائے تو غلط العام الفاظ یا محاورے مذموم مقاصد کی پیداوار ہوتے ہیں یا معاشرے کی سوچ میں انحطاط آنے سے پھیلتے ہیں

پچھلے دنوں ڈاکٹر منیر عباسی صاحب نے ایک غلط العام کی طرف توجہ دلائی اور پھر شگفتہ صاحبہ نے بھی اس پر لکھا ۔ ہمیں ساتویں یا آٹھویں جماعت [1950ء] میں استاذ نے بتایا تھا جسے لوگوں نے “لکھے موسٰی پڑھے خدا ” بنا لیا ہے دراصل “لکھے مُو سا پڑھے خُود آ ” ہے ۔ کبھی کسی مسلمان نے نہ سوچا کہ اس محاورے کو غلط ادا کرنے کی وجہ سے وہ گُستاخی کے مرتکب ہو رہے ہیں

مُغل حُکمرانوں کے زمانہ میں برِّ صغیر ہند میں صوبیدار ہوا کرتا تھا جیسے آجکل کور کمانڈر ہوتا ہے ۔ صوبیدار کے ماتحت حوالدار ہوتے تھے جیسے آجکل بریگیڈ کمانڈر ہوتے ہیں ۔ انگریزوں نے برِّ صغیر ہند پر قبضہ کے بعد مقامیوں کی تحقیر کی خاطر اپنی فوج کے سب سے نچلے افسر سیکنڈ لیفٹننٹ کے ماتحت صوبیدار کو کر دیا اور اس کے ماتحت حوالداروں کو ۔ یہی نام عہدوں کے اب تک جاری ہیں اور کسی نے اس کی طرف توجہ نہیں دی

سلطان ٹیپو بہادر اور غیرتمند محبِ وطن تھے اور اپنے وطن کے دفاع میں لڑتے جان دے دی ۔ اُن کی تحقیر کیلئے انگریزوں نے اپنے کتے کا نام ٹیپو رکھنا شروع کیا ۔ اُن کی دیکھا دیکھی برِّ صغیر ہند کے لوگوں نے بھی اپنے کتے کا نام ٹیپو رکھنا شروع کر دیا ۔ یہاں تک کہ پاکستان بننے کے بعد بھی لوگ اپنے کتے کا نام ٹیپو رکھتے رہے ۔ کسی کو خیال نہ آیا کہ وہ اپنے ایک غیرتمند رہنما کی تحقیر کر رہا ہے

انگریز حکمرانوں نے اور بھی بہت کچھ غلط عام کیا جسے برِ صغیر ہند کے بہت سے باشندوں نے اپنا لیا ۔ یہی نہیں برِّ صغیر ہند کے مسلمانوں نے شادی پر جہیز ۔ مہندی ۔ ناچ گانا اور بارات کے باجے ۔ ڈولی یا پالکی کی رسمیں ہندوؤں سے اپنا لیں اور مسلمانوں کی اکثریت ان میں مُبتلا ہے ۔ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ یہ رسوم اسلام کا حصہ بن گئیں ؟ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا

کچھ روز قبل عنیقہ ناز صاحبہ کی ایک تحریر جو ابو شامل صاحب کے بلاگ پر نقل شاہنواز فاروقی کی ایک تحریر کے نتیجہ میں عمل میں آئی اور شاہنواز فاروقی کے استدلال کو غلط ثابت کرنے کیلئے جانفشانی کی گئی ۔ میں نے بھی بچپن [1947ء تا 1953ء] میں کچھ لوگوں کو اپنے بیٹے یا کسی پڑھے لکھے آدمی کیلئے “بابو” کا لفظ استعمال کرتے سُنا تھا ۔ لیکن ہمارے بزرگوں اور اساتذہ نے ہمیں بتایا تھا کہ انگریزوں نے “بابو” کا لفظ برِّ صغیر ہند کے باشندوں کیلئے تحقیر کے طور پر استعمال کیا اور چونکہ حاکم [انگریز] کی نقل کا عام رواج ہو چکا تھا برِّ صغیر ہند کے لوگوں میں بھی مستعمل ہو گیا مگر یہ اچھا لفظ نہیں ہے ۔ البتہ یہ تو سب جانتے ہوں گے کہ سرکاری ملازمین کو بُرے الفاظ میں یاد کرنے کیلئے لوگ اور ذرائع ابلاغ عام طور پر اب بھی بابو کا لفظ استعمال کرتے ہیں ۔ چنانچہ بابو کو اچھے معنی کا لفظ قرار دینا غلط العام تو ہو سکتا ہے لیکن درست نہیں ہے

آخر میں ایک ايسا جُملہ جو آج سے پانچ دہائیاں قبل معیوب سمجھا جاتا تھا اور شریف مرد یا لڑکے اسے اپنی زبان سے ادا نہیں کرتے تھے ۔ لاپرواہ لڑکے بھی اسے بڑوں کے سامنے بولنے سے ڈرتے تھے اور لڑکیوں یا خواتین کے سامنے کوئی بولتا نہ تھا ۔ عصرِ حاضر میں زبان زدِ عام ہے ۔ اچھے خاصے پڑھے لکھے مرد عورتیں لڑکے اور لڑکیاں اسے بے دھڑک سب کے سامنے بولتے ہیں ۔ شاید دو سال قبل ایک بلاگر نے یہ محاورہ لکھا تو میں نے اُسے سمجھایا کہ آئيندہ نہ لکھے ۔ اُس کی نوازش اور نیک دلی کہ وہ مان گیا کچھ اور نے بھی آئیندہ نہ بولنے کا اقرار کیا ۔ کسی نے اُس وقت مجھ سے اس کا مطلب پوچھا تھا لیکن میں نے بتانے سے گریز کیا تھا ۔ یہ محاورہ ہے “پنگا لینا ۔ دینا یا کرنا”۔ اب اتنا بتا دیتا ہوں کہ اگر ہاتھ کی چاروں انگلیاں اکٹھی جوڑی جائیں تو اسے پنگا کہتے ہیں ۔ چنانچہ اس محاورے کا مطلب فحش ہے اور کسی شریف آدمی بالخصوص عورت کو اسے دہرانا زیب نہیں دیتا ۔ غلط بات غلط ہی ہوتی ہے چاہے سب اُس کے مرتکب ہوں

This entry was posted in روز و شب, طور طريقہ, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

21 thoughts on “غَلَط العام

  1. صبا سیّد

    اسلامُ علیکم
    یہ ہلکا پھلکا بلاگ پڑھ کر طبعیت ہلکی پھلکی ہو گئی۔ ادب، تاریخ، معاشرے کو یکجا کیا ہے آپ نے۔ بہت خوب۔
    “لکھے مُو سا، پڑھے خود آ” والے محاورے کی حقیقت میں نے خود چند دن پہلے دنیا ٹی وی کے ایک پروگرام میں سنی۔ میں اور میرے شوہر دونوں کی حیران بھی تھے اور افسردہ بھی کہ کبھی ہمارے اساتذہ نے یہ بات کیوں نہیں سمجھائی۔

    جہاں تک غلط طور طریقے اپنانے کا تعلق ہے تو آج کل وہ مسلم نوجوان کرسمس کی تیاریوں میں مگن ہیں جو اپنی عیدیں اور مقدّس راتیں سوتے ہوئے گزارتے ہیں۔

    آج کل بگڑی ہوئی زبانیں، مغرب کے طور طریقے اپنانا، ان موضوعات پر کھلے عام بات کرنا، جن کا ذکر عام گھرانوں میں بھی نا ہو، روشن خیالی کی ضمانت بن چکا ہے۔

  2. علی عدنان

    السلام و علیکم
    پنگا والی بات میں پہلے نہ جانتا تھا ۔۔ شکریہ

    اگر “لکھے مُو سا پڑھے خُود آ ” کی تشریح یا سیاق و سباق بتا دیں تو بہت ممنون ہوں گا

  3. دوست

    پنگا لینے والی بات آپ نے مجھے ہی بتائی تھی۔
    ویسے میرے اندر کا شریر لنگوئسٹ چین سے نہیں بیٹھے گا، چناچہ اسی بات کی گردان پر معافی چاہوں گا۔ وقت کے ساتھ ساتھ زبان بدل جاتی ہے، الفاظ بدل جاتے ہیں یا ان کے معانی کچھ کے کچھ ہوجاتے ہیں۔ اب جن الفاظ کی تاریخ آپ داداؤں پڑداداؤں‌ کے زمانے سے کھوج کر لارہے ہیں، اور جو معانی “ہوا کرتے تھے” بتا رہے ہیں وہ نہیں رہے۔ کسی بھی لفظ کے معانی جاننے کا سیدھا سا طریقہ ہے کہ کسی اہل زبان سے پوچھ لیں بھائی/بہن اس کا کیا مطلب ہے۔ لفظ کی تاریخ بتائے بغیر۔ معانی آپ کے سامنے ہوگا۔ آج کل لغات بھی ایسے ہی بن رہی ہیں۔ یعنی لفظ جس سیاق و سباق میں استعمال کیا جاتا ہے اسی سے اس کا معانی اخذ کیا جاتا ہے۔
    وسلام

  4. افتخار اجمل بھوپال Post author

    علی عدنان صاحب
    مُو فارسی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے بال اس سے اسطلاح بالوں کا گُچھا لی جاتی ہے يعنی کوئی شخص کاڑا باڑا بالوں کے گُچھے کی طرح لکھے تو پھر اور کسی سے تو پڑھا نہیں جائے گا ۔ لکھنے والا خود ہی آ کر پڑھے

  5. عنیقہ ناز

    مجحے یہ نہیں معلوم کہ آپ سب لوگوں نے اپنی اب تک کی زندگی میں آج تک فیروزاللغات والوں کی توجہ اس عظیم غلطی کی طرف کیوں نہیں کرائ۔ اور فیروز اللغات کے بورڈ میں اتنے نااہل لوگ ہیں کہ ہر تھوڑی مدت بعد انکے آنیوالے نئے ایڈیشنز مین انکی تصحیح نہیں ہوئ۔
    میں نے ابو شاملکے بلاگ پہ لکھی جانیوالی تحریر کے لئے بھی آپکو کتابوں کے اور تہذیبی حوالے دءے ہیں۔ آپ نے اپنے متعلق لکھا ہے کہ آپکے اساتذہ نے بتایا کہ یہ ایک تحقیر کے لئے استعما؛ل ہونے والا لفظ ہے۔ آپکی عمر کے میرے نزدیکی بزرگ اسے پیار اور احترام کے لئے سدا سے استعمال کرتے چلے آئے ہیں اور انکو بھی میری زبانی اب اس عمر میں آکر پتہ چلا کہ یہ دراصل تحقیر کا لفظ تو وہ اسے حیران ہو کر اسے بالکل اسی طرح لوگوں کی جہالت سمجھ رہے جیسے آپ اسے لوگوں کی جہالت بتا رہے ہیں۔آ
    جناب بابو سنسکرت کا لفظ ہے جو انگریزوں کی آمد سے ہزاروں سال پہلے وجود میں آئے۔ آپ ہر ثقافتی فرق کوغلط العام کے کھاتے میں کیوں ڈآلنا چاہتے ہیں۔ کیا آپکو اندازہ ہے کہ اپنے زعم میں آپ بر صغیر کے ایک بڑے علاقے میں مستعمل ایک لفظ کو استعمال کرنے والے کو حقیر بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔
    آپ اپنی ثقافتی حدوں سے باہر نکل کر اس پورے علاقے کو جسے کسی زمانے میں ہندوستان کہا جاتا تھا کو ذرا کھلے دل سے دیکھیں تو آپکے بہت سارے غلط العام بھک سے اڑ جائیں گے۔
    جہاں تک آپ نے لفظ پنگا کے بارے میں کہا ہے۔ صرف اردو ہی نہیں دنیا کی ہر زبان اس مرحلے سے گذرتی ہے جب ایک عرصے تک بیکار سمجحے جانیوالے الفاظ بالکل دوسرے معنوں میں استعمال ہونے لگتے ہیں اور اس تبدیلی کو غلطالعام بہیں کہا جاتا۔ جیسے لفظ یارایک لمبے عرصے تک گالی کے طور پہ استعمال ہوتا رہااور اسکا مطلب کسی عورت کا چاہنے والے جس سے اسکا کوئ معاشرتی تعلق نہ ہو۔ میرے خآندان میں اسے گفتگو میں استعمال کرنا نہایت اوچھا سمجھا جاتا تھا۔ آجکل یہ دوست یا ساتھی کے معنوں میں بے دریغ استعمال ہوتا ہے۔ یہ غلط العام نہیں ہے۔
    ایک غلطالعام اردو می آپ کی طرف سے تحفہ ہے اور جسےآپ نے اب تک بتایا نہیں یا کم از کم میری نظر سے گذرا نہیں۔ وہ جملے کی ساخت اس طرح بنانا کہ میں نے جانا ہے۔ کسی بھی اچھی اردو گرامر کی کتاب اٹھائیے اور اس میں لکھا ہوگا کہ یہ ساخت غلط ہے۔ میں نے اپنی آٹھویں جماعت کی اردو کی کتاب میں گرامر کے حصے میں یہ چیز پڑھی۔ میری استاد نے بھی اسے اسی طرح کروا کے ہمیں اسکی مشقیں کروائیں اور آج پاکستان میں اکثریت یہی غلط اردو بولتی ہے جس میں ہمارے مایہ ناز ادباء تک شامل ہیں انکے نام میں اس وقت نہیں لینا چاہتی۔ میں نے تو اسے اہل زبان کے درمیان میں فرق ناپنے کا معیار بنایا ہوا ہے۔ آپ اگر چلا سکتے ہیں تو اسکے خلاف مہم چلائیے۔
    ہر چیز میں انگریزیا مغرب دشمنی پیدا کر کے یا اسلام دشمنی پیدا کر کے کسی بھی شخص کو کیا فائدہ ہوتا ہے میں اسے سمجھنے سے قاصر ہوں۔ جو نسل ان سے نہیں آپکے موجودہ حکمرانوں سے واقف ہے اسکی توجہ یہاں سے اٹھا کر وہاں کیوں ڈآل دی جاتی ہے۔انگریز کو آپکو چھوڑے ہوئے باسٹھ سال ہو گئے۔ جو نظام وہ آپکودیکر گئے اس میں آپ کوئ بہتری نہ کرسکے بلکہ بدتر بنا دیا۔ جو پڑھے لکھے لوگ انکے زمانے میں سامنے آئے اسکے بعد اس ملک کو دیکھنا نہ نصیب ہوئے۔ جیسے ہماری ہر سیاسی حکومت اپنے پچھلی حکومت پہ اپنی ناہلی کی عمارت تعمیر کرتی رہتی ہے۔ ایسے ہی میں یہ پوچھنا چاہونگی کہ کب تک اس آسیبی دیوار کو یاجوج ماجوج کی طرح چاٹتے رہیں گے۔
    اب مثبت کام تو یہ ہے کہ فیروز اللغات والوں کو خط لکھیں کہ اس طرح آپ خدا کی تو ہین کر رہے ہیں۔ اگرچہ کہ خدا نے اپنی توہین کا کوئ قانون نہیں بایا۔ لیکن ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اسکی حفاظت کریں کہیں وہ کسی غیر اللہ کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ اللہ سے متعلق اور بھی محاورے ہیں۔ انہیں بھی ضرور نکلواءیے۔ مثلا اللہ آمین کا، اللہ کا الف،اللہ کی سنوار،اللہ کے بڑے بڑے ہاتھ ہیں، اللہ کے گھر سے پھرنا،اللہ میاں کا طاق بھرنا۔ جب وہ اسے اپنی لغت سے نکال دیں گے تو میں بھی اسے غلط العام کہنے لگونگی۔
    پاکستان اور انڈیامیں آباد کروڑوں لوگوں کو بتائیے کہ آپ نے صدیوں پہلے جو لفظ اپنی زبان میں ڈالا تھا۔ اسکے متعلق جب آپکو علم نہ تھا کہ انگریز اسے آکر ہماری تحقیر کے لئے استعمال کریں گے۔ تو آپ نے اسے کیوں استعمال کیا۔ ایک تحریک چلائیں کہ اس لفظ کو پچھلے کئ سو سالوں تک ادب میں جہاں کہیں استعمال کیا گیا ہے نکال باہر کیا جائے۔ جسے آپ غلط العام کہہ رہے ہیں اسے غلط العام ہونا چاہئے۔ جب تک میں اپنے والد صاحب کےستتر سالہ ماموں سے ملکر آتی ہوں۔ جب وہ اور انکی بیگم مجھے بابو کہتے ہیں تو مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ کیونکہ اس لفظ کی مٹھاس سے میرا بچپن گندھا ہے، اور اس سے میری تہذیب وابستہ ہے۔ آپکا اس سے کوئ تہذیبی لگائو نہیں، اس لئے ہر وہ چیز جس سے آپکا تہذیبی لگائو نہ ہو آپ اسے سمجھنا نہیں چاہتے۔

  6. عنیقہ ناز

    یہاں یہ بتا دوں کہ حضرت موسی کوروایات کے مطابق خدا سے کلام کرنے کا شرف حاصل رہا اور انہیں خلیل اللہ بھی کہا جاتا ہے۔ آپ جا کر کوہ طور پہ خدا سے کلام کیا کرتے تھے۔ اور جب آپ اس راہ پہ جانے کے لئے قدم رکھتے تو واقف حال اپنی حاجتیں بھی آپ سے بیان کیا کرتے تھے۔ اسی تعلق کی بناء پہ اس محاورے کا پس منظر یہ بنتا ہے کہ جو چیز حضرت موسی لکھیں اسے صرف خدا ہی پڑھے کہ وہی عالم خبیر ہے اور دلوں کے حال جانتا ہے اور ماضی اور مستقبل سے واقف ہے۔ اس سے عام طور پہ تحریر کی برائ مقصود ہوتی ہے۔ ناقابل پڑھ تحریر۔ مجھے ذاتی طور پہ یہ توجیہہ اس لئے بھی زیادہ واضح لگتی ہے کہ بہت باریک لکھا ہونے کی صورت میں تو خود بھی پڑھنا مشکل ہو جائے گا۔

  7. عنیقہ ناز

    دلچسپ بات یہ ہے کہ لغت میں غلطالعام کا تعلق تلفط یا ملا سے ہے۔ میں پہلے بھی یہ چیز لکھنا چاہ رہی تھی اور بھول گئ کہ محاوروں یا کہاوتون یا امثال کو میں نے کبھی غلط العام کے خانے میں نہیں دیکھا۔ اسکی ایک مثال یہ جملہ ہے۔ اللہ ملائ جوڑی ایک اندھا ایک کوڑھی۔ یہی جملہ اس طرح بھی ملتا ہے رام ملائ جوڑی ایک اندھا ایک کوڑھی۔ اردو لغت اٹھائیں اور اس طرح کے بےشمار جملے ملیں گے جو الفاظ کے الٹ پھیر سے ایک ہی معنی دیتے ہیں مگر انہیں غلط العام نہیں کہا جاتا۔ کیونکہ اردو کی پیدائش کا کوئ خاص خطہ نہیں ہے۔ اس لئے اس علاقے کے حساب سے ہمہ رنگیت نظر آتی ہے خاص طور پہ محاوروں میں۔ محاورے کسی جگہ کہ عام زندگی اور بولی سے متاثر ہو کر وجود میں آتے ہیں۔ جو چیز اور جو رسم آپکے علاقے میں نہیں ہوتی اسکا محاورہ بھی لازمآ اپکے پاس نہیںہوگا۔ اسی طرح اگر کوئ چیز کسی فرق کے ساتھ ہے تو محاورے میں بھی اختلاف ہوگا۔ حقیقتآ جو شے آپ استعمال نہیں کرتے یا جو خیال آپکے یہاں موجود نہیں اسکا لفظ بھی نہیں ہوگا۔ اسکے علاوہ بھی تہزیبی فرق ہوتے ہیں۔ پنجاب میں جس چیز کو آلو کا پلائو یا چنے کی دال کا پلائو کہتے ہیں وہ یوپی والوں کے یہاں طاہری اور قبولی کہلاتی ہے۔ لیکن یوپی والے اسے غلط العام نہیں کہتے بلکہ زبان کا فرق گنتے ہیں۔ آپ اس سلسلے میں کلیتآ اپنا جاننا نافذ نہیں کر سکتے۔
    غلطالعام یہ ہے کہ سوال کے سین کو زبر سے بولا جائے یا جواب کے جیم کوپیش سے بولا جائے۔
    حکیم محمد سعید کی نظر میں تو طوطے کو ط سے لکھنا غلط تھا اور وہ یہ استدلال استعمال کرتےتھے کہ یہ لفظ فارسی سے اردو میں آیا ہے اور وہاں یہ ت سے لکھا جاتا ہے۔ لیکن مجھ سمیت لکھنے والوں کی اکثریت اس چیز پہ یقین رکھتی ہے کہ اردو زبان میں آکر یہ جیسا ہوگیا ہے وہی اسکی اصل بن گیا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ثقہ لکھنے والے اسے ط سے ہی لکھتے ہیں۔ حالانکہ حکیم صاحب مرحوم نے اسے ہمیشہ ت سے لکھا۔

  8. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عنیقہ ناز صاحبہ
    خلیل اللہ حضرت ابراھیم علیہ السلام کا لقب ہے ۔ حضرت موسٰی کو کلیم اللہ کہا جاتا ہے ۔ باقی جو کہانی آپ نے حضرت موسٰی کے بارے میں لکھی ہے اگر آپ باعِلم ہیں تو اس کا حوالہ قرآن شریف سے یا حدیث سے دے دیجئے ۔ آپ نے جس مضمون میں پی ایچ ڈی کی ہے بہتر ہے کہ اسی کے تحت لکھا کریں ۔ ہر جگہ رائے زنی کر کے اپنی پی ایچ ڈی کو بدنام نہ کیجئے

  9. عنیقہ ناز

    اجمل صاحب، آپ نے صحیح کہا کہ انکا لقب کلیم اللہ ہے یعنی خدا سے کلام کرنے والا۔ میں نے بے دھیانی میں یہ لکھ دیا لیکن میرے جملے کے متن سے کسی بھی سمجھدار شخص کو یہ اندازہ ہوجانا چاہئے تھا کہ میں یہی لکھنا چاہ رہی تھی۔ میں نے یہ بھی لکھا ہے کہ روایات میں یہ کہا جاتا ہے۔ اس سے کسی بھی پڑھے لکھے شخص کو یہ پتہ چل جاتا ہے کہ اسکی صحت مشکوک ہے۔ کسی بھی قسم کے محاورے قرآن یا حدیث کو سامنے رکھ کر نہیں بنائے جاتے۔ مجھے افسوس ہے کہ جب کوئ آپکی غلطیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے تو آپ اتنی زیادہ ذاتیات پہ اتر آتے ہیں اگر یہی استدعا میں آپ سے کروں کہ آپ نے جس مضمون میں تعلیم حاصل کی ہے اسی کے تحت لکھا کریں، بلکہ جتنا پکا کسی چیز کے بارے میں علم ہے وہی لکھا کریں اور اپنی بزرگیت کو بھی مد نظر رکھا کریں تو یہ بیجا نہ ہوگا۔ اس طرح سے آپ نوجوانوں کو بزرگوں سے متنفر کروا رہے ہیں۔
    یہ یاد رکھیں کہ لوگ میری غلطی تو معاف کر دیں گے کہ وہ مجھے اپنی ہی سطح کا سمجھتے ہیں۔ لیکن اس عمر میں آپکا یہ رویہ آپکی کسی مثبت بات کے اثر کو بھی ختم کر دیتا ہے۔
    اور اگر آپ ہر ایک کی رائے زنی نہیں چاہتے تو اپنے بلاگ پہ مطلوبہ مبصرین کا نام لکھ دیں ۔ آپکو مجھ سے پھر یہ شکایت نہیں ہوگی۔ یہ بھی لکھ دیں کہ اگر میرے کہے کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی تو پھر میں تمہارے پرخچے اڑانے میں کوئ کسر نہ چھوڑونگا۔ اور مجھےیہ نہیں معلوم تھا کہ یہاں صرف نان پی ایچ ڈیز ہی تبصرہ کر سکتے ہیں۔

  10. عنیقہ ناز

    اگرچہ میں اس بات کو ایک روایت ہی سمجھتی ہوں۔ لیکن آپ اس سلسلے میں یہ ضرور بتاءیے گا کہ قرآن پاک کی یہ آیت جسکا سیاق و سباق مجھے اس وقت صحیح سے یاد نہیں آرہا۔ لیکن اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ جس وقت موسی نے خدا سے کہا کہ وہ اسے دیکھنا چاہتے ہیں تو اللہ نے کہا کہ تم مجھے دیکھ نہ پائوگے۔ یہ کس پس منظر میں کہی گئ ہے۔ حضرت موسی کو کلیم اللہ یعنی خدا سے کلام کرنے والے کا لقب کیوں ملا۔ حضرت خضر کا واقعہ جو قرآن پاک میں بیان ہوا ہے اس میں بھی کچھ ایسے اشارے ملتے ہیں۔ ان سب آیتوں کو میں انکے حوالے سے پیش کرتیں مگر سر دست یہ ممکن نہیں ہے۔ لیکن مجھے امید ہے آپ جیسے عالم با عمل شخص کو تو انہیں تلاش کرنے میں ذرا پریشانی نہ ہوگی۔

  11. صبا سیّد

    حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تعلق خدا سے لکھائی پڑھائی کا نہیں، سیدھے سیدھے کلام کا تھا۔ لہٰذا اس محاورے کو بے بنیاد جواز اور حوالوں سے صحیح ثابت کرنا درست نہیں۔

  12. صبا سیّد

    اقتباس:
    “اب مثبت کام تو یہ ہے کہ فیروز اللغات والوں کو خط لکھیں کہ اس طرح آپ خدا کی تو ہین کر رہے ہیں۔ اگرچہ کہ خدا نے اپنی توہین کا کوئ قانون نہیں بایا۔ لیکن ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اسکی حفاظت کریں کہیں وہ کسی غیر اللہ کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ اللہ سے متعلق اور بھی محاورے ہیں۔ انہیں بھی ضرور نکلواءیے۔ مثلا اللہ آمین کا، اللہ کا الف،اللہ کی سنوار،اللہ کے بڑے بڑے ہاتھ ہیں، اللہ کے گھر سے پھرنا،اللہ میاں کا طاق بھرنا۔ جب وہ اسے اپنی لغت سے نکال دیں گے تو میں بھی اسے غلط العام کہنے لگونگی۔”

    بہت اچھی نشاندہی کی ہے آپ نے عنیقہ۔ لیکن اگر وہ اسے اپنی لغت سے نکالیں گے تب ہی آپ اسے غلط سمجھیں گی، یہ لکیر کے فقیر والی بات نہیں ہوئی؟

  13. محمد ریاض شاہد

    محترم بھوپال صاحب
    اسلام علیکم
    پنگا لفظ کا تو پتہ نہیں البتہ وہ جو چار انگل والی بات ہے وہ پنجابی میں اس کو چپہ کہتے ہیں ۔ لغت کے مطابق اس کا مطلب چار انگل یا بالشت بھر جگہ، ذرا سی جگہ، چھوٹے سے چھوٹا زمین کا ٹکڑا، کونا، گوشتہ ہوتا ہے ۔ اب اس لفظ کا مخصوص انداز میں استعمال ہی اسے فحش بناتا ہے جسے صرف اہل زبان ہی سمجھ سکتے ہیں ورنہ بظاہر بے ضرر سا لفظ ہے ۔ مشہور افسانہ نگار بلونت سنگھ نے اپنے افسانوں میں اس کا استعمال کیا ہے ۔
    البتہ اس وقت میں حیران رہ گیا جب سینیٹر مشاہد حسین نے لفظ پنگا کا استعمال جیو ٹی وی پر کیا یا جب کراچی میں میرے قیام کے دوران ایک خاتون نے اس کا دوران گفتگو کیا ۔ شاید غالب اکثریت اسے بے ضرر ہی سمجھتی ہے ۔ مگر میں اس کے استعمال سے احتراز ہی کرتا ہوں ۔

  14. احمد

    سلام عرض ہے

    آپ کی تحریر بہت معلوماتی ہے کاش کہ لوگ اصلاح کیلئے استعمال کرتے۔ آپ نے ایک خاتون سے قرآن و حدیث سے حوالہ مانگا ہے مگر یہ کس طرح ممکن ہوگا؟ اس کیلئے پہلی شرط دونوں پر ایمان رکھنا ہے۔ اب قرآن نامکمل ہو اور تبدیل شدہ اور احادیث کو سرے سے مانتے نہ ہوں بلکہ اپنی خرافات کو روایات کا نام دے ڈالا ہو تو حوالہ دینا ملین بلین پی ایچ ڈی سے بھی بھاری ہوگا

    اب آپ کے زوق کیلئے ایک کالم جو تصویر کو واضح کرتا ہے

    دعا گو
    احمد عثمانی

  15. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عنیقہ ناز صاحبہ
    سمجھدار تو صرف آپ ہیں باقی سب ناسمجھ ہیں ۔ میں تو دو جماعت پاس ہوں اسلئے ہر موضوع پر لکھ سکتا ہوں جو سپیشیالسٹ ہوتا ہے وہ صرف اپنے مضمون پر لکھتا ہے ۔ آپ کی اطلاع کیلئے لکھ دوں کہ میں صرف اسی موضوع پر لکھتا ہوں جس کا کافی اور بغور مطالعہ کیا ہوتا ہے ۔ آپ ہمیشہ دوسروں سے حوالے مانگتی ہیں کبھی خود بھی حوالہ دیا کیجئے ۔ کیا آپ مسلمان نہیں ہیں اور کیا آپ کے گھر میں قرآن شریف نہیں ہے ؟ بات آپ لکھیں اور حوالہ میں دوں ؟ کیا یہی آپ نے سائنس میں پڑھا ہے ؟ آپ خود ذاتیات پر آ جاتی ہیں اور الزام دوسروں پر ۔ آپ نے اپنی پی ایچ ڈی کو میری ناک پر رگڑنے کی پوری کوشش کی اور ان اپنے تبصروں کو پڑھ کر دیکھ لیں ان میں بھی میری ذات کو رگیدنے کی آپ نے پوری کوشش کی ہے ۔ میری عزت کی فکر میں آپ اپنی صحت خراب نہ کیجئے ۔ مجھے جو کچھ عزت اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے کرم سے حاصل ہے میرے لئے بہت ہے ۔ میری دولت یہ عزت ہی تو ہے جو صرف ملک کے چاروں صوبوں ہی میں رہنے والے نہیں ملک سے باہر رہنے والے اور بھارت میں رہنے والے صرف مسلمان ہی نہیں ہندو سکھ اور عیسائی بھی دیتے ہیں

    آپ کا مندرجہ ذیل فقرہ آپ کی ذہنی حالت کا غماز ہے
    “اور اگر آپ ہر ایک کی رائے زنی نہیں چاہتے تو اپنے بلاگ پہ مطلوبہ مبصرین کا نام لکھ دیں ۔ آپکو مجھ سے پھر یہ شکایت نہیں ہوگی۔ یہ بھی لکھ دیں کہ اگر میرے کہے کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی تو پھر میں تمہارے پرخچے اڑانے میں کوئ کسر نہ چھوڑونگا۔ اور مجھےیہ نہیں معلوم تھا کہ یہاں صرف نان پی ایچ ڈیز ہی تبصرہ کر سکتے ہیں”

  16. افتخار اجمل بھوپال Post author

    محمد ریاض شاہد صاحب
    جسے پنجابی میں چپّہ کہتے ہیں آپ نے درست لکھا چار انگلیاں ۔ یہ اس طرح کہ ایک کے ساتھ دوسری ۔ دوسری کے ساتھ تیسری اور تیسری کے ساتھ چوتھی ۔ اسے پیمائش میں 3 انچ سمجھا جاتا ہے ۔ تین چپّے کی ایک بالشت ہوتی ہے جسے 9 انچ سمجھا جاتا ہے ۔ لیکن پنگا بازاری یا غیر مہذب زبان کا لفظ ہے اور چار دہائیاں قبل تک صرف بُرے معنی میں استعمال ہوتا تھا ۔ 1970ء کے لگ بھگ جب سب کچھ عوامی ہونا شروع ہوا تو لفنگوں کی زبان نے زور پکڑنا شروع کیا ۔ بلونت سنگھ سے پہلے سعادتر حسن منٹو اور کئی دوسرے مصنفین نے بازاری لفظ اپنی تحاریر میں استعمال کئے ۔ ٹي پر آپ نے ٹیلی نور کا وہ اشتہار نہیں دیکھا تھا جو اعلٰی عدالت کا حکم آنے تک کمال ڈھیٹائی سے چلایا جاتا رہا ۔ ہماری اقدار اتنی مجروح ہو چکی ہیں کہ غیرمہذب الفاظ کو فیشن بنا دیا گیا ہے ۔

  17. عنیقہ ناز

    خدا آپ پہ رحم کرے۔ میری جس ڈگری کا میں نے آج تک کبھی حوالہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی، اسے آپ خدا جانے کس احساس کے تحت بار بار استعمال کرتے ہیں۔ اللہ آپکو اور ان لوگوں کوقلب و نظر کی وسعت عطا فرمائے جو ہر معاملےمیں دین کو گھسیٹ کر اپنی معلومات اور اپنے ظاہری اعمال کو پیش کرتے رہتے ہیں۔ آپکی ذات میںقید خدا سے آپکو دلچسپی ہوگی، کسی اور کو نہیں۔
    آپ نے میرا نام لیا تو میں نے جواب دیا۔ نہ آپ یا کوئ اور خدا پہ اتھارٹی ہے، نہ دین پہ اور نہ کسی اور چیز پہ۔ اور نہ ہی آپ میں سے کسی کی وجہ سے دین کی حفاظت ہو رہی ہے اور نہ سر بلندی۔ یقینی طور پہ اگر چیزوں کا انتّظام ایسے خیالات رکھنے والے لوگوں کے ہاتھ لگ جائے تو نظام اسی حالت کو پپہنچتا ہے جہاں پہنچا ہے۔ آپکے نظریاتی جانشیں اب اسے کس سربلندی پہ لے جائیں گے یہ سوچنا کیا مشکل ہے۔
    خدا حافظ

  18. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عنیقہ ناز صاحبہ
    آپ کی مندرجہ بالا تحریر ہی پڑھنے والوں کو بہت کچھ بتا رہی ہے میرے کچھ کہنے لکھنے کی ضرورت نہیں ہے
    کسی معاملے میں دین کو بلاوجہ گھسیٹنے کا الزام میری کسی تحریر سے ثابت کرتیں تو بہتر ہوتا ۔ آپ پر اپنے اعمال ظاہر کر کے نہ تو مجھے آخرت میں فائدہ ہو گا نہ اس دنیا میں اسلئے مجھے اس کی ضرورت نہیں ۔ آپ نے بے پر کی کہانی حضرت موسٰی عليہ السلام سے منصوب کی تو میں نے اُس کا قرآن یا حدیث سے حوالہ پوچھا ۔ اُلٹا آپ نے کہا کہ آپ کو یاد نہیں میں حوالہ تلاش کروں ۔ رہا آپ کی پی ایچ ڈی کا معاملہ تو آپ اس کا ذکر ایک سے زیادہ بار اپنے تبصروں میں کر چکی ہیں جن میں سے آخری مع اس کے ربط کے نقل کر رہا ہوں
    http://anqasha.blogspot.com/2009/12/blog-post_20.html#comments
    “اجمل صاحب جیسا کہ آپکے علم میں ہوگا کہ میں نے بھی پی ایچ ڈی کیا ہوا ہے اور وہ بھی سائنس کے ایک مضمون میں۔ میری بھی کچھ انٹرنیشنل پبلیکیشنز ہیں جن میں میرا نام اسی طرح موجود ہے۔ انہی پیپرز میں میرے سپروائزر کا نام بھی اسی طرح موجود ہے موصوف کچھ عرصے پہلےہائر ایجوکیشن کمیشن کے چئیرمین اور وفاقی وزیر تعلیم رہ چکے ہیں۔ ان سب سے پہلے بھی انکی جو پبلیکیشنز ہیں ان میں انکا نام اسی طرح موجود ہے۔۔فی زمانہ کوئ ابن رشد اور ابن الہشم نہیں کہ انہیں نام تبدیل کرنا پڑے۔
    میں نے جس تحقیقی ادارے سے اپنا پی ایچ ڈی کیا ہے وہ ملک کا ایک بہترین تحقیقی ادارہ اور تیسری دنیا کا سینٹر آف ایکسیلینس ہے۔ اس ادرے میں ملک سے ہی نہیں بیرون ملک سے بھی لوگ پی ایچ ڈی کرتے ہیں۔ اور یہاں کی وزیٹنگ فیکلٹی میں غیر ملکی ماہرین بھی شامل ہیں۔ اس وجہ سے مجھے بہت سارے غیر مسلم، غیر ملکی اور غیر صوبائ لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ اس انسٹی ٹیوٹ سے ہر سال بین القوامی جرنلز میں چھپنے کے لئے بہت سارے تحقیقی مقالے جاتے ہیں اور چھپتے ہیں اور ان میں کوئ روڑے نہیں اٹکاتا۔ حتی کہ اس انسٹی ٹیوٹ کی تعمیر اور ترقی انہی لوگوں کی ڈونیشنز کی وجہ سے ممکن ہوئ جنہیں آپ اپنا دشمن گرداننے میں کوء کسر نہیں چھڑتے۔ اسی انسٹیٹیوٹ سے ہر سال طلباء کی ایک اچھی خاصی تعداد ان ملکوں کے فراہم کردہ وظیفوں پہ جاتی ہے جو آپکے دشمن ہیں۔ پاکستان میں یہ شاید ان گنے چنے اداروں میں شامل ہوگا جو شاید ایک ہاتھ کی پوری انگلیوں پہ بھی نہ آسکیں جہاں کچھ معیاری تحقیق ہو رہی اور جہاں معیاری تحقیق کے وسائل موجود ہیں۔ یہاں میں نے کبھی اس قسم کی بات نہیں سنی کہ انکے پیپر پاکستانی ہونے کی وجہ سے یا مسلمان ہونے کی وجہ سے شائع نہیں ہوتے۔ ہمیشہ پیپر کی واپسی کسی ٹیکنیکل خرابی کی وجہ سے ہوتی تھی اور عام طور پہ اس خرابی کو دور کرنے کے بعد اسے شائع کر دیا جاتا تھا۔
    یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہئیے کہ تحقیقی مقالے کے موضوع پہ اگر پہلے کچھ لکھا جا چکا ہے تو اس پہ آپکی لکھی ہوئ تحریر منظور نہیں ہوگی۔
    صرف اس انسٹیٹیوٹ کے اندر ہی نہیں بلکہ اسکے زیر اہتمام ہونے والی بین الاقوامی کانفرنسز میں بھی میری کافی سارے کراچی کے باہر کے ملکی وغیر ملکی سائنس دانوں سے ملاقات ہوئ اور ان سے بھی میں نے کوئ اس طرح کی شکایت نہیں سنی”۔
    ہمارے ہی ملک کے کئ سائنسدانوں کو باہر کے ممالک سے کئ ایوارڈ ملے ہیں جن کی تفصیل میں، میں اس وقت نہیں جانا چاہتی۔ مگر یہ کہنا اور اس بات کا رونا ہمیشہ رونا کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہوتی ہے صحیح نہیں ہے۔
    حالت یہ ہے کہ اگر اسوقت آپکے ملک میں موجود بہتری تحقیقی اداروں کو باہر کے ممالک کی سپورٹ حاصل نہ ہو تو وہ اپنے ادروں کو چلا نہ پائیں گے۔ جبکہ ملک میں کثیر رقموں پہ مشتمل علمی وظائف بھی انہی ممالک کی طرف سے آتے ہیں۔ جیسے فلبرائٹ اسکالرشپ۔
    آپ نے جن چیزوں کے حوالے دئیے ہیں میں انکے متعلق کیا کہہ سکتی ہوں۔ یقینی طور پہ یہ چیزیں دنیا کی تاریخ کو زیر زبر کرنے والی چیزین تو نہیں کہ اس میں روڑے اٹکائے جائیں۔ ان چیزوں کے ساتھ کچھ اور حقائق بھی ہوتے ہیں جو اکثر زیب داستاں کے لئے یا تو لگا دئیے جاتے ہیں یا ہٹا دئیے جاتے ہیں۔ مثلا پاکستانی تحقیق دانوں کی آپس میں چپقلش، اور ایکدوسرے کو آگے نہ بڑھے دینے کی خواہش، اہل اور ذہین لوگوں کو فرسٹریٹ کرکے سسٹم سے دور کرنے کی پالیسی، اپنے ارد گرد نکمے اور نا اہل لوگوں کو جمع کرنے کی پالیسی تاکہ وہ اندھوں میں کانے راجہ بنے رہیں۔ یونیورسٹیز میں تحقیقی ماحول کی غیر موجودگی حالانکہ یونیورسٹیز کا بنیادی مقصد ہی یہہی ہوتا ہے ورنہ ان میں اور ایک کالج میں کیا فرق۔
    تحقیق کی دنیا سے وابستہ رہنے اور یونیورسٹی میں ایک استاد کی حیثیت سے وقت گذارنے کی وجہ سے میرے علم میں بھی بہت سارے حقائق ہیں مگر میں انہیں اس سطح پہ بیان کرنا بہتر نہیں سمجھتی۔
    ویسے بھی جس جگہ سائنس کو قدرت کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والا عنصر سمجھا جاتا ہو اور جدیدیت کو لعنت، وہاں اس بات کا رونا کہ ہم معیاری تحقیق کر رہے ہیں کتنی عجیب اور حیران کن بات لگتی ہے۔ تحقیق حریت فکر اور جدیدیت کے ساتھ وابستہ ہے۔
    انڈیا میں اچھے باسمتی چاول ، میں نے تو کھائے ہیں۔ انکا نام مجھے نہیں معلوم تھا۔

  19. مبشر حسن ہاشمی

    معزز احباب آداب !
    پنگا دراصل بھوسہ اکٹھا کرنے والا ہاتھ نما ایک اوزار ہے اور بلیئرڈ کی ایک خاص چھڑی کو بھی پنگا کہا جاتا ہے ۔۔لہزا یہ کہنا ہرگز غلط نہ ہو گا کہ لفظ پنگا کہنا ایک سوقیانہ انداز ہے جو اردو ادب میں کسی صورت بھی مناسب نہی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)