سوچنے کی بات

محمد خُرم بشیر بھٹی صاحب نے ایک پُرمغز تحریر لکھی ہے جس کا بالخصوص مندرجہ ذیل حصہ دعوتِ فکر دیتا ہے

اب اولاد کی پرورش ایک بائی پراڈکٹ [byproduct] ہے۔ ایک ڈھول جو گلے میں پڑے تو بجانا ہی پڑتا ہے۔ ایک ایسا کام جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اب ہر کوئی ہر کام کرنا چاہتا ہے اور کوئی بھی اپنا کام نہیں کرنا چاہتا۔ اولاد کی پرورش وقت کا ضیاع ہے، اہلیت کا ضیاع ہے۔ ایک ماں ہونا۔ صرف ماں ہونا تو مانو ایک گالی ہے۔ کہ لوجی تمام عمر کچھ نہیں کیا؟؟ بچے پیدا کرنا بھی کوئی کمال ہے؟؟ سب کرتے ہیں اور پال بھی لیتے ہیں۔انسان کو اپنا کیریئر بنانا چاہئے۔ رہے بچے تو وہ پہلے تو دس بارہ برس ہونے ہی نہیں چاہئیں کہ یہی وقت ہوتا ہے کیرئیر بنانے کا۔ پھر جب ہو گئے تو کچھ عرصہ آیاؤں کے سپرد، پھر دو برس کے ہوئے تو سکول والوں کے سپرد اور بس۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ پل بھی جائیں گے، پڑھ بھی جائیں گے اور سیکھ بھی جائیں گے جو دنیا کا رواج ہے۔ ویسے بھی یہ سب انہی کے لئے تو ہے۔ ہم نے کونسا ساتھ لے جانا ہے؟ اور ویسے بھی بندہ محتاج نہیں ہوتا جب خود کماتا ہے۔ رُعب رہتا ہے سسرال میں وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ اور جہاں اتنی ساری “میں میں اور صرف میں” ہو وہاں تو کوئی بھی پرخلوص رشتہ پروان نہیں چڑھ سکتا چہ جائکہ ماں ایسا رشتہ جو تمام رشتوں میں سب سے مقدس کہ خالق نے جب مخلوق سے اپنی محبت کی مثا ل دینا چاہی تو ماں کی محبت کو پیمانہ بنایا۔

بات وہیں پر آ جاتی ہے جیسا شاعرِ مشرق اور مفکر علامہ اقبال نے کہا

پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مردِ ناداں پہ کلامِ نرم و نازک بے اثر

This entry was posted in روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

16 thoughts on “سوچنے کی بات

  1. صبا سیّد

    اسلامُ علیکم
    میں نے خرم بشیر بھٹی صاحب کی یہ تحریر پڑھی۔ اس پر کیے گئے تبصرے ، غلط بیانیاں، غلط فہمیاں، سب پڑھ ڈالی۔ اب آخر میں جو سوال میرے ذہن میں اٹھا ہے وہ یہ کہ ہمارے ملک میں ذیادہ پڑھنے لکھنے کے بعد عورت کو یہ وہم کیوں ہوجاتے ہے کہ سارے مرد اس کی قابلیت سے جلتے ہیں اور اسے نیچا دکھانا چاہتے ہیں؟

  2. محمد سعيد البالنبوري

    سيدي أجمل المحترم!
    سلام عليك.
    أنا استطيع ان أفهم مشاعرك الاسلامية،و نظرت فيما كتبت أنت و متجانسك في الرائ أخي: محمد خرم بشير،و طالعت ما كتبت المرأة المعقولية و الاباحية.و كل ما ذكر بلغني إلى ان الفكر الاسلامي و الصحيح قد طعن عليه في عصرنا و ان الحرية و الاباحية جعلتا مستهدفا لفوز من الدنيا و الآخرة. ولا بد من الاعتدال بين الفكرين الذي رأيته في مقالاتك. جزاك الله أحسن الجزاء. اللهم بارك في سنك و علمك و ابق اياك علينا زمنا طويلا بالعافية و الصحة. والسلام عليك.

  3. محمد سعيد البالنبوري

    صبا سيد!
    قد اعطيت الفاظي المغيبةفي قلبي لباس الكتابة.و خطر ببالي ان ما كتبت هو في خاطري لأنه هو الحقيقة عندي أيضا. حياك الله تبارك الله.

  4. امن ایمان

    اعجاز چاء،صبا سید کی طرح میں بھی ایک پوسٹ سے دوسری پوسٹ اور پھر دوسری سے تیسری پوسٹ پر گئی۔۔۔اور میں بھی آپ کی اس پوسٹ سے متفق ہوں۔۔۔بہت پہلے منظرنامہ پرشناسائی انٹرویو میں ایک سوال پوچھا گیا تھا کہ عورت کی آزادی کی کس حد تک قائل ہیں۔۔۔میں نے جواب دیا تھا کہ مردوں کی برابری کرنے والی عورتیں مجھے ذہر لگتی ہے۔
    اعلا تعلیم عورت کے لیے بھی ضروری ہے۔۔بحثیت پڑھی لکھی ماں میں یہ بات پورے فخر سے کہوں گہ کہ پڑھی لکھی ماں ہی اپنی نسل سنوار سکتی ہے۔۔اور میرا نہیں خیال کہ پڑھائی کا اس سے اچھا مصرف کوئی اور ہوگا۔۔۔ہاں اگر پڑھ لکھ کر عورت اسمبلی ہال کی زینت بننا چاہتی ہے تو پھر ماں نہ ہی بنے تو اچھا ہے۔

  5. صبا سیّد

    انکل! براہِ مہربانی محمد سعيد البالنبوري صاحب کی تحریر کا ترجمہ کر دیجیے۔ :oops: مجھے عربی نہیں آتی۔ :cry:

  6. افتخار اجمل بھوپال Post author

    صبا سیّد صاحبہ
    یہ صاحب کہتے ہیں کہ آپ نے نے بہت سے موضوعات چھیڑے ہیں جو کہ لوگ مختلف انسٹیٹیوٹس اور کالجوں میں پڑھتے ہیں ۔ آجکل لوگ دینی اور دنیاوی علوم کا اخبارات اور ٹی وی سے سبق لیتے ہیں ۔ میں ایک سوال پوچھنا چاتا ہوں اگر اجازت ہو

  7. shaper

    شکر ہے آپ نے اس کچوے سے یہ نہیں پوچھا آخر اس کے ساتھہ ہی کیوں یہ ہوتا ہے کہ بیمار ہوجاتا ہے

  8. محمد سعد

    السلام علیکم۔
    وہاں پر میں نے ایک تبصرہ کیا ہے جسے یہاں بھی نقل کر رہا ہوں۔
    کسی زمانے میں پاکستان ٹیلیویژن پر مینا نامی ایک بچی کی زندگی پر کارٹون لگا کرتا تھا۔ ایک دن مینا اور اس کے بھائی راجو کے درمیان تکرار ہوئی کہ میرا کام زیادہ مشکل ہے۔ چنانچہ دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ کام بدل لیے۔ ایک دن سارا دوسرے کے کام کرتے رہنے کے بعد دونوں کو سمجھ آ گئی کہ جس کا جو کام ہے، وہ اس سے بہتر اور کوئی بھی نہیں کر سکتا۔
    میں نے بھی آج تک کے اپنے مطالعے اور مشاہدے سے یہی سیکھا ہے کہ عورت کا کام عورت سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا اور مرد کا کام مرد سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا۔ نہ ہی مرد (اکیلا) بچوں کی پرورش جیسا کام کر سکتا ہے کہ وہ بچوں کو اتنی محبت نہیں دے پائے گا کہ جو ضروری ہے اور نہ ہی عورت بجلی کے کھمبے پر چڑھ کر تار درست کرتے ہوئے چھوٹے موٹے کرنٹ کھانے کے باوجود اپنا کام کرتی رہ سکتی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں بہترین طریقہ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ ذمہ داریاں بانٹ لی جائیں اور جو شخص جو کام بہتر طور پر کر سکتا ہے، وہی کام کرے۔
    لیکن یہاں پر مسئلہ یہ ہے کہ بعض لوگ چند مخصوص کاموں کو بلا وجہ کم تر درجے کا سمجھنے لگ جاتے ہیں حالانکہ وہ ایسے کم درجے کے نہیں ہوتے بلکہ بعض معاملات میں تو انتہائی اہم ہوتے ہیں۔
    ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں۔ عام طور پر لوگ موچی کے کام کو اتنا کم تر سمجھتے ہیں کہ کوئی اس سے سیدھے منہ بات کرنا ہی پسند نہیں کرتا۔ حالانکہ یہ بھی ہمارے معاشرے کا ایک انتہائی اہم فرد ہے۔ کیا کبھی کسی نے سوچا کہ اگر موچی نہ ہوتا تو ہمارے پیروں میں جو طرح طرح کے جوتے ہیں، یہ کہاں سے آتے؟ ذرا تصور کیجیے گا کہ پوری دنیا میں کسی کے پاؤں میں بھی جوتا نہیں ہے کیونکہ کوئی موچی کا “نیچ کام” کرنے کو تیار نہیں ہے۔
    اسی طرح تصور کیجیے کہ ساری دنیا کے بچے بغیر کسی کی تربیت کے بڑے ہو رہے ہیں کیونکہ کوئی بھی یہ “نیچ کام” کرنے کو تیار نہیں ہے۔ کیا یہ تصور انتہائی خوف ناک نہیں ہے؟ مجھے پتا ہے کہ عنیقہ آنٹی فوراً یہ کہتی ہوئی مجھ پر حملہ آور ہوں گی کہ جو عورتیں نوکری کرتی ہیں، ان کے بچے زیادہ ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ان سے گزارش ہے کہ براہِ مہربانی موازنہ ایک جیسی علمی سطح رکھنے والوں کا کریں۔ اگر گھر میں رہنے والی ان پڑھ عورتوں کے ساتھ موازنہ کرنا ہے تو اوروں کے گھروں میں برتن اور کپڑے مانجھنے والی ان پڑھ عورتوں کا کریں۔ اگر “بڑے درجے” کی نوکری کرنے والی عورتوں کا موازنہ کرنا ہے تو تعلیم یافتہ عورتوں ہی سے کریں نہ کہ اپنا مطلب نکالنے کے لیے ملازمت پیشہ خواتین اعلیٰ تعلیم والی چن لیں اور گھر میں رہنے والی ان خواتین کے ساتھ موازنہ کریں جن کی علمی سطح کچھ خاص نہیں۔ انصاف کا یہی تقاضا ہے کہ دونوں اطراف سے ایک جیسی علمی سطح والی خواتین کا موازنہ کیا جائے۔ انصاف پر مبنی موازنہ کریں گی تو سارا فرق خود بخود واضح ہو جائے گا۔
    باقی اگر آپ کو یہ نفسیاتی مسئلہ ہے کہ آپ عورت ہونے کو کم تر ہونے کا مترادف ہی سمجھتی ہیں یا آپ کو دنیا کے سارے مردوں سے کوئی بلا وجہ قسم کی نفرت ہے تو اس کا علاج میرے پاس نہیں ہے۔

  9. محمد سعيد البالنبوري

    محمد سعد الموقر !
    ماشاء الله. تعليقك علمي جدا اللهم بارك في علمك و علمني و اياك التاويل.

  10. افتخار اجمل بھوپال Post author

    Mr Shaper
    آپ بھی بیمار ہوتے ہیں مگر میں نے آپ سے کبھی نہیں پوچھا کہ کیوں بیمار ہوتے ہیں ؟
    بیمار ہونے والے کی مزاج پَرسی کی جاتی ہے ۔ لیکن ذہن بیمار ہو تو ؟ ؟ ؟

  11. افتخار اجمل بھوپال Post author

    محمد سعد صاحب
    کچھ سمجھ تو آ گئی ہے کہے آپ نے خرم صاحب کے بلاگ پر یہ تبصرہ کیا ہو گا لیکن اگر آپ حوالہ دے دیتے تو میں بغیر تردد کے وہاں پہنچ جاتا ۔
    میں جو کچھ لکھتا ہوں اس کی بنیاد نہ صرف سالہا سال کا مشاہدہ ہوتا ہے بلکہ کُتب کا مطالعہ بھی کیا ہوتا ہے ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے مجھ میں پڑھنے اور تحیقیق کا شوق بچپن سے ہی بہت رکھ دیا پھر اللہ کے فضل سے اپنا شوق پورا کرنے کے مواقع بھی ملتے رہے ۔ میں اپنا موازنہ جواں نسل سے کرنا مناسب نہیں سمجھتا کہ اُنہوں نے تو ابھی عملی دنیا میں قدم رکھا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)