حقوقِ نسواں کے عَلَمبردار

آج جو مُلک ہمیں عورتوں کے حقوق کا درس دیتا ہے اور غاصب قرار دیتا ہے یہ سب اس لئے ہے کہ ہماری قوم کو کتابیں پڑھنے کا شوق و ذوق نہیں ہے کُجا کہ تاریخ کی کُتب پڑھیں ۔ اگر پڑھتے ہیں تو افسانے اور دوسری من گھڑت کہانیاں ۔ بایں ہمہ اکثر کا حافظہ بھی اتنا کمزور ہے کہ کل کی بات بھول جاتے ہیں تجربہ کے بعد معطون کئے شخص کو ہی دوبارہ منتخب کر کے پھر سے ظُلم کی گردان کرنا شیوا بن چکا ہے

آج سے صرف 9 دہائیاں قبل امریکا میں عورتوں کو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل نہ تھا ۔ عورتوں کو مقامی کونسل میں ووٹ ڈالنے کا حق 26 اگست 1920ء کو دیا گیا ۔ اس سے قبل عورتوں کو کوئی حقوق حاصل نہ تھے اور احتجاج کی صورت میں اُنہیں قید و بند اور تشدد برداشت کرنا پڑتا تھا ۔ پلے کارڈ اُٹھا کر خاموش احتجاج کرنے والی عورتوں کو بھی گرفتار کر کے اُن پر تشدد کیا جاتا تھا اور رات گذرنے کے بعد وہ برائے نام ہی زندہ ہوتی تھیں
ایک بار عورتوں نے سڑک کے کنارے پیدل چلنے والے راستہ پر کھڑے ہو کر خاموش احتجاج کیا 33 عورتوں کو اس الزام میں گرفتار کیا گیا کہ انہوں نے پيدل چلنے والوں کی راہ میں رکاوٹ ڈالی ۔ پھر جیل کے سربراہ کی اشیرباد سے 40 گارڈز آہنی مُکوں کے ساتھ ان معصوم عورتوں پر ٹوٹ پڑے اور اُنہیں ادھ مُوا کر دیا
لُوسی برنز نامی ایک عورت کی پٹائی کے بعد لہو لہان لُوسی برنز کے ہاتھوں کو زنجیر سے باندھ کر اُسے قیدخانے کی سلاخوں کے ساتھ لٹکا دیا گیا جہاں وہ ساری رات لٹکی مُشکل سے سانس لیتی رہی
ڈورا لِیوس نامی عورت کو اندھیری کوٹھری میں لیجا کر اس طرح پھینکا گیا کہ اسکا سر لوہے کی چارپائی سے زور سے ٹکرایا اور وہ بے سُدھ ہو کر گِر پڑی ۔ اسی کال کوٹھری میں موجود ایلائس کوسو سمجھی کہ ڈورا لِیوس مر گئی ہے اور اُسے دل کا دورہ پڑ گیا
اپنے جائز حقوق کیلئے خاموش احتجاج کرنے والی عورتوں کو گرفتار کر کے جو کچھ حوالات میں اُن سے کیا جاتا تھا اُس میں کھینچنا ۔ گھسیٹنا ۔ پِیٹنا ۔ گلا دبانا ۔ بھِینچنا ۔ چُٹکیاں لینا ۔ مروڑنا اور ٹھُڈے مارنا شامل ہے
ایک گھناؤنا واقعہ 15 نومبر 1917ء کو وائٹ ہاؤس کے سامنے مظاہرہ کرنے کے نتیجہ میں ہوا تھا جس میں احتجاج کرنے والی عورتوں کو قید کے دوران کئی ہفتے پینے کو گندھا پانی اور کیڑے پڑا ہوا کھانا دیا جاتا رہا ۔ اور جب ان میں سے ایک ایلائس پال نے ایسا کھانے پینے سے انکار کر دیا تو اُسے کرسی کے ساتھ باندھ کر ایک نالی اس کے حلق سے نیچے اُتاری گئی اور اس میں مائع خوراک ڈالی جاتی حتٰی کہ وہ قے کر دیتی ۔ ایسا اس کے ساتھ ہفتوں کیا جاتا رہا

جائیداد کے معاملہ میں اب تک زیادہ تر فرنگی ممالک میں رائج ہے کہ اگر والدین بغیر اولاد کے حق میں وصیت کئے مر جائیں تو اس جائیداد میں سے اولاد کو کچھ نہیں ملتا ۔ جہاں تک وصیت کا تعلق ہے اس میں جائیداد کا مالک جسے چاہے جتنا دے اور جسے چاہے نہ دے

ہم لوگ جو فرنگی کے ذہنی غلام بن چکے ہیں نہیں جانتے کہ اس اسلام نے ، جسے ہم 14 صدیاں پرانا ہونے کی وجہ سے قابلِ عمل نہیں سمجھتے ، عورت کو مکمل حقوقِ زندگی دیئے ۔ اس کی پرورش ہر لحاظ سے مرد کی ذمہ داری ٹھہرائی اور اُسے باپ کی جائیداد میں اور خاوند کی جائیداد میں بھی حصہ کا حق دیا ۔ بیوی کی کمائی پر خاوند کو کوئی حق نہ دیا مگر خاوند پر بیوی کا نان و نفقہ واجب قرار دیا ۔ اولاد پر ماں کی خدمت اور بھائی پر بہن کی پرورش لازم قرار دی

اسلام سے پہلے چھُٹی کا کوئی تصوّر ہی نہ تھا ۔ امیرالمؤمنین عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں کفار سے جنگیں زور پر تھیں تو ان تک ایک عورت کی طرف سے اطلاع پہنچی کہ کئی ماہ سے اُس نے اپنے خاوند کی شکل نہیں دیکھی ۔ عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عورتوں کی مجلس [meeting] کی جائے اور اُن سے پوچھا جائے کہ وہ مردوں کے بغیر کتنا عرصہ رہ سکتی ہیں ۔ اس کے بعد عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فیصلہ دیا کہ چاہے کوئی مرد جہاد پر ہو 3 ماہ سے زیادہ اپنے گھر سے باہر نہیں رہے گا

میں جانتا ہوں کہ میرے دو تین محترم قارئین بغیر حوالہ کے میری تحریر کو ماننے کیلئے تیا ر نہیں ہوتے ۔ بلکہ اس کی مخالفت شدّ و مد کے ساتھ کرتے ہیں ۔ اور میں اُن کی اس حرکت پر صرف مسکرا دیتا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ جن کے حوالے دیئے جاتے ہیں وہ بھی میری طرح ہی گوشت پوست کے بنے ہوتے ہیں ۔ پھر عصرِ حاضر میں تو سند صرف فرنگی کی مانی جاتی ہے اور اُس کے بعد ٹی وی یا اخبار کی ۔ چاہے وہ کالے کو سفید کہیں یا سفید کو کالا اسے مان لیا جاتا ہے ۔ بہر کیف اس مضمون کے اول حصہ کی کچھ تائید “امریکی یادیں” میں اور یہاں کلِک کر کے مل سکتی ہے اور آخری حصہ کیلئے قرآن شریف سے رجوع کرنا ضروری ہے

This entry was posted in تاریخ, معلومات on by .

About admin

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

14 thoughts on “حقوقِ نسواں کے عَلَمبردار

  1. سعدیہ سحر

    سلام

    اسلام نے تو چودہ سو سال پہلے حقوق دے دئے تھے

    مگر

    بہت سے مسلمان وہ حقوق خواتین کو ان کے حقوق نہیں دے سکے
    ابھی تک اسلام سے پہلے کی روایات کو گلے سے لگا کر بیٹھے ھیں

  2. افتخار اجمل بھوپال

    سعدیہ سحر صاحبہ
    یہ ہندوؤں کی نقالی کا اثر ہے ۔ صرف یہی نہیں بھارتی فلمیں دیکھ دیکھ کر ہندوؤں کی ثقافت بھی اپنا لی ہوئی ہے ۔ لباس ہندوؤں جیسا ۔ رسوم بالخصوص شادی کی تمام رسوم ہندوؤں جیسی ۔

  3. زیک

    عورتوں کو مقامی کونسل میں ووٹ ڈالنے کا حق 26 اگست 1920ء کو دیا گیا

    1920 میں عورتوں کو تمام انتخابات میں رائےدہی کا حق دیا گیا۔ کچھ ریاستوں میں خواتین کو ووٹ دینے کا حق پہلے ہی سے تھا۔

    جائیداد کے معاملہ میں اب تک زیادہ تر فرنگی ممالک میں رائج ہے کہ اگر والدین بغیر اولاد کے حق میں وصیت کئے مر جائیں تو اس جائیداد میں سے اولاد کو کچھ نہیں ملتا

    کم از کم امریکہ میں ایسا نہیں ہے۔

    یہ بھی یاد رہے کہ آج بھی مسلمان ممالک موجود ہیں جو عورتوں کو حق رائےدہی نہیں دیتے اور ایسے بھی ہیں جو کسی کو نہیں دیتے۔

  4. راشد کامران

    اگر اس بات پر بھی روشنی ڈالی جاتی کہ آج نو دہائیوں بعد کیا یہی صورت حال برقرار ہے تو موضوع سے انصاف ہوپاتا۔ صورت حال بہت مثالی نہیں لیکن نوے سال میں یہاں بہت کچھ بدل گیا ہے اور جو مواقع آج عورتوں، مردوں، اقلیتوں اور اکثریت کو حاصل ہیں اس کی مثال بہت ہی کم ملکوں‌ میں دستیاب ہوگی جہاں آج کی تاریخ میں برابری کی سطح پر یہی مواقع حاصل ہوں ۔ امریکہ کی خارجہ پالیسی اور سماجی رویوں سے اختلاف اپنی جگہ مگر بطور سوسائٹی ان چیزوں پر تنقید مناسب نہیں جہاں سے بات اب بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ دوسرا رخ یہ بھی دکھانا چاہیے کہ اگر ہمارے معاشرے بہت انصاف پسند ہوا کرتے تھے سیکنڑوں سال پہلے تو آج انہیں معاشروں‌میں بندہ مزدور کے حالات کا جائزہ لیا جائے تقابل کرنے میں بڑی آسانی ہوگی۔

  5. عنیقہ ناز

    اگر اس بات کو مان لیا جائے کہ ہمارے یہاں بگاڑ موجود ہے اور اسکا کوئ تعلق کسی اور قوم سے نہیں بلکہ ہماری اپنی لا پرواہیاں اس میں شامل ہیں تو اس سے ایک مرحلہ کم ہوگا اور ہم اپنی طرف زیادہ مرتکز ہو کر توجہ کر پائیں گے اور اس سے ہمارے اندر ذمے داری کا احساس پیدا ہوگا کہ ہم اپنے ہر عمل کے خود ذمے دار ہیں اس لئیے ہمیں ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا چاہئیے۔اس چیز کو مان لینے میں کچھ نہیں بگڑتا کہ جن معاشروں کو آپ لعن طعن کرتے ہیں دراصل وہ اپنے معاشرے کے اندرانسانی حقوق کے معاملے میں ہم سے کہیں بہتر ہیں۔
    بالکل اسی طرح جب آپ ہر بات میں اس اسلام کی مثال دینے لگ جاتے ہیں جس سے آپکے قارئین کی بیشتر تعداد کا تعلق ہے تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے آپ غیر مسلموں کو اسلام کی تبلیغ کر رہے ہوں۔ آپکے یہ قارئین دل سے مسلمان ہیں، اپنے ایمان کے ذمہ دار ہیں اور ان اخلاقی حدوں سے بھی واقف ہیں۔ مذہب سے یہ تعارف انہیں پہلے سے حاصل ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ کیا چیز ہے جسے ایسے لادین، مشرک اور کافر معاشرے اپنے معاشروں میں قائم کر کے انہیں فلاحی ریاست بنانے پہ لگے ہوئے ہیں اور اس میں کامیاب بھی ہیں۔ اور وہ کیا چیز ہے جو ہمیں اللہ اور رسول اور اسلامی احکام سے آگاہی ہونے کے باوجود معاشرتی سطح پہ انسان کی بہتری کے لئیے کچھ نہیں کرنے دیتی۔ اور ہم تمام انسانی وسائل رکھتے ہوئے اور روحانی سپورٹ حاصل ہوتے ہوئے اس راہ پہ آگے نہیں بڑھ پا رہے۔
    جواب یہ نہیں ہو سکتا کہ لوگ ہندوئوں کی نقالی میں ایسا کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب ہم ہندئووں کے ساتھ رہ رہے تھے تو ہم انکی اس درجہ نقالی نہیں کرتے تھے۔ حالانکہ ہمیں انکے ساتھ ملنے جلنے کے تمام مواقع حاصل تھے۔ لیکن اب جب کہ ہم اور وہ دو علیحدہ ریاستوں کے شہری ہیں۔ تو ہم انکی نقالی کیوں کرتے ہیں۔
    بالکل اسی طرح ہم جہاد اور اس طرح کے فلسفوں کا تذکرہ بڑے جوش و خروش سے کرتے ہیں اور اس بات پہ ہمہ وقت افسوس ظاہر کرتے ہیں کہ اس وقت مسلمانوں کی کسمپرسی کی حالت جہاد جیسے فریضے سے دور رہنے کی وجہ سے ہے۔ لیکن اسلام اور قرآن معاشرے کی فلاح اور بہبود اور مسلم معاشروں کے اندر مختلف طبقات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے اور معاشرے کو اسکی تمام قوت سے آگے بڑھانے والے احکامات کی طرف سے صرف نظر کرتے ہیں۔ حالانکہ لفظ جہاد کا استعمال جتنی دفعہ پورے قرآن میں ہوا ہے یہ اسکا عشر عشیر بھی نہیں جتنا کہ ان احکامات کی تعداد ہے جو انسانی فلاح اور بہبود سے تعلق رکھتے ہیں اور جو معاشرتی مسائل سے تعلق رکھتے ہیں۔

  6. افتخار اجمل بھوپال

    راشد کامران صاحب
    بلاشبہ تبدیلی بہت آئی ہے لیکن برابری کو حکومتی سطح پر دیکھا جائے تو کئی ایسے ممالک جہاں آمریت ہے عملی طور پر جمہوری ممالک سے زیادہ مساوات اور انسانی قدریں رکھتے ہیں ۔ میں اپنا ذاتی تجربہ بیان کرتا ہوں اور آپ امریکا کا حال اس کے مقابلہ میں بیان کیجئے گا ۔ میں سفری ویزہ پر سعودی عرب گیا ہوا تھا کہ بخار ہو گیا ۔ میں ہسپتال گیا وہاں سعودی شناختی کارڈ مانگا گیا ۔ میں نے بتایا مسافر ہوں ۔ میرا معائینہ کیا گیا لیبارٹری ٹیسٹ ہوئے دوائی دی گئی اور مجھے ایک پیسہ بھی نہ دینا پڑا ۔ میں نے دوائیاں دینے والے کا شکریہ ادا کیا تو اس نے کہا “انسان سب برابر ہیں کیا ہوا جو آپ مسافر ہیں”۔ جرمنی میں سرکاری طور پر حکومتی معاہدہ کے تحت گیا ہوا تھا ۔ میرا گلا خراب ہوا اور بخار ہو گیا معلوم کرنے پر بتایا گیا کہ ڈاکٹر پانچ دن بعد دیکھے گا اور فیس اتنی ہو گی ۔ میں نے کہا پانچ دن بعد یا میں تندرست ہو جاؤں گا یا اس قابل نہیں رہوں گا کہ ڈاکٹر کے پاس جاؤں ۔
    میرے اصول مجھے لکھنے کی اجازت نہیں دیتے ۔ میں خالص امریکیوں کے بتائے ہوئے حالات لکھوں تو پڑھنے والے ہقا بقا رہ جائیں کہ کتنے حقوق عملی طور پر امریکی عورت کو حاصل ہیں اور کس طرح انہیں قانونی تحفظ بھی حاصل نہیں

  7. افتخار اجمل بھوپال

    عنیقہ ناز صاحبہ
    درست کہ بگاڑ انسان کا اپنا پیدا کردہ ہے اور اسے درست کرنا انسان کی اپنی ذمہ داری ہے ۔ لیکن حقائق نقل کرنا لعن طعن کیسے بن گیا ؟
    مسلمان بھائیوں کو مسلمان ہونے کے ناطے ان پر عائد کئے گئے واجبات کی یاد دہانی کا مطلب آپ یہ لیتی ہیں کہ خطیب مخاطب کو کافر سمجھتا ہے ؟ جب ایک شخص کہے کہ میں دین کے فلاں حُکم کی خلاف ورزی کرتا ہوں لیکن اللہ مجھ سے خوش ہے تو کیا ایسے شخص کو تعلیم و تربیت کی ضرورت نہیں ؟
    محترمہ ۔ روحانی سہارا صرف اپنے آپ کو مسلمان کہنے سے نہیں مل جاتا بلکہ اللہ کے احکام پر پوری طرح عمل کی مخلصانہ کوشش سے حاصل ہوتا ہے ۔ آج کے مسلمانوں کی یہی غلط فہمی ان کی ترقی کی راہ میں حائل ہے

    آپ کا استدلال کہ ہندوؤں کے ساتھ رہتے ہوئے ان کی نقالی نہیں کرتے تھے زیادہ وزن نہیں رکھتا ۔ ہاں اب معاملہ زیادہ اس لئے بگڑ گیا ہے کہ دنیا پوری کی پوری غیراللہ کی طرف زیادہ جھک گئی ہے اور پہلے سے زیادہ خودسر بھی ہو گئی ہے ۔ نقالی کی وجہ احساسِ کمتری ہے اور دین سے دُوری ۔ اس کے بڑھنے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ملک میں مناسب تعلیم و تربیت کا نظام موجود نہیں ہے

    آپ ایک دینی حُکم پر پاؤں رکھ کر دوسرے حُکم کو سر پر نہیں اٹھا سکتیں ۔ بلاشُبہ حقوق العباد واجب ہیں اور ان کی نا ادائيگی اللہ اُس وقت تک معاف نہیں کرے گا جب تک متعلقہ انسان معاف نہ کرے ۔ لیکن بات وہیں آ جاتی ہے کہ اپنے آپ کو مسلمان کہنے والے شاید بھول گئے ہیں کہ مسلمان بنتا کیسے ہے ۔
    ہاں ذرا میری تعلیم کیلئے اتنا تو بتا دیجئے کہ قرآن شریف میں حقوق العباد کا ذکر کتنی بار آیا ہے اور جہاد کا کتنی بار ؟

  8. خرم

    قومیں ہمہ وقت ایک جہد مسلسل میں‌ہوتی ہیں۔ امریکہ ہو یا کوئی اور۔۔۔ اگر ان کا حال ماضی سے بہتر ہے تو وہ کامیاب ہیں اور اگر حالات اس کے اُلٹ ہیں تو ناکام۔ میں تو ایک بات جانتا ہوں انکل۔ پاکستانی معاشرہ اگر اپنے قیام کے وقت بہتر حالت میں تھا تو اس کے بگاڑ کے ذمہ دار وہ افراد ہیں جنہوں نے قیام پاکستان کے بعد اس کی باگ دوڑ سنبھالی۔ ثقافت کے معاملہ پر ہمارا آپکا علمی اختلاف ہے سو اس موضوع پر کچھ نہیں‌کہوں گا۔ ہاں‌یہ ضرور کہوں گا کہ ہمارے بزرگ اگر اپنی ذمہ داریاں بہتر طریق سے ادا کرتے تو یہ معاشرہ آج اس سے بہتر حالت میں ہوتا جس میں قیام پاکستان کے وقت تھا۔ لیکن بصد افسوس ایسا نہ ہوا۔ اب بھی روش یہی ہے کہ ہر بُرا کام ہندو کے سر تھونپ دیا جائے اور ہر اچھائی کو عرب کی نقالی سے منسوب کیا جائے۔ ایسے میں ہم ایک آدھا تیتر آدھا بٹیر معاشرہ تو تشکیل دے سکتے ہیں، ایک خودمختار اور صحت مند سوچ رکھنے والا معاشرہ نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کئی ایسے فیصلے کئے جنہوں نے لوگوں کی سوچ بدل دی طرز حکومت کے معاملے میں۔ وجہ صرف یہ تھی کہ انہیں نبی پاک صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پختہ نسبت حاصل تھی۔ آج کا مُلا اس نسبت سے تو محروم ہے ہاں‌حلق کی تہہ سے الفاظ ادا کرکے سمجھتا ہے کہ حق مسلمانی ادا ہوگیا۔ امریکیوں نے تو چلئے سن بیس میں حق دے دیا خواتین کو پڑھنے کا، ہمارے “مذہبی پیارے” تو سن دو ہزار نو میں بھی لڑکیوں‌کے سکول دھماکوں‌سے اُڑاتے ہیں کہ اسلام خواتین کی تعلیم کی اجازت نہیں دیتا۔ آپ نے ایک واقعہ لکھا ایک ملک کا میں دوسرا عرض کئے دیتا ہوں۔ عرب خواتین پاکستانی ڈاکٹروں سے پردہ نہیں‌کرتیں۔۔۔وجہ؟؟؟ کہ غیر ملکی جو کام کرنے آتے ہیں ان کے ملک میں وہ غلام کی تعریف میں آتے ہیں اور غلام سے پردہ نہیں۔ :mrgreen:

  9. خرم

    سہو ہو گیا۔ جملہ یوں تھا “امریکیوں نے تو چلئے سن بیس میں حق دے دیا خواتین کو ووٹ کا”

  10. افتخار اجمل بھوپال

    خُرم صاحب
    نہ ہندو کا کوئی قصور ہے نہ عرب کا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اکثریت بے عِلم ہوتے اپنے آپ کو عالِم سمجھتی ہے ۔ اس عِلم میں قرآن و حدیث بھی شامل ہے اور تاریخ جغرافیہ طبیعات کیمیاء ریاضی اور لسانیات بھی ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیم اور ڈاتی عمل نے ایک ایسی قوم تشکیل دے دی تھی کہ ایمان اُن کے دِلوں میں گھر کر گیا جس کے نتیجہ میں انہیں خود کی بجائے دوسروں کے حقوق پورے کرنے کا ہی خیال رہتا تھا ۔ پاکستان بنانے میں چونکہ عملی طور پر حصہ لینے والے لوگ پاکستانی بننے والوں میں سے اقلیت تھے اور بایں ہمہ دینی تربیت تحلیل ہو چکی تھی اسلئے پاکستان بننے کے بعد ایک بھاری تعداد نے دولت اور شہرت کو اپنا خدا بنا لیا ۔ ان کی اس روش کے نتیجہ مین ایک ایسی قوم تشکیل پائی جو دولت کی دوڑ میں جائز و ناجائز میں فرق نہ کر سکی
    ملا جو دو وقت کی روٹی کا محتاج ہے اس کا کیا قصور ؟ قصور تو اس معاشرے کا ہے جس نے اسے اس حالت میں پہنچایا اور رکھا ہوا ہے ۔ ۔ آپ اپنے ہی دِل کو ٹٹولئے ۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ آپ اپنے بچے کو تاریخ جغرافیہ طبیعات کیمیاء ریاضی یا لسانیات پڑھانے کیلئے 1000 سے 5000 روپے ماہانہ دینے کیلئے تیار ہوں گے لیکن اس کی دینی تعلیم کیلئے 500 روپے ماہانہ دینا آپ کو بوجھ لگے گا ؟
    جو لوگ لڑکیوں کے سکول دھماکوں سے اُڑاتے ہیں ۔ ایک وقت آئے گا کہ آپ مانیں گے وہ ایسا صرف اسلام کو بدنام اور مسلمانوں کے اس ملک کی معیشت کو تباہ کرنے کیلئے کر رہے ہیں
    یہ عرب خواتین کے غیرملکی ڈاکٹروں سے پردہ نہ کرنے کا نظریہ کسی نے غلط گھڑا ہے ۔ میں بھی عرب ملک میں پونے سات سال رہا ہوں اور وہاں پاکستانی اور دوسرے ممالک سے آئے ڈاکٹروں سے دوستی بھی رہی ہے ۔ یہ يورپی طریقہ اس دور سے رائج ہے جب سلطنتِ عثمانیہ ختم ہونے کے بعد تمام عرب علاقے یورپ کے زیرِ تسلط آ گئے تھے ۔ موجودہ دور کے حکمرانوں کی نااہلی ہے کہ اسے ختم نہیں کیا گیا ۔ مین پر مزید نہیں لکھنا چاہتا کہ کئی نام نہاد شرفاء کے نام لکھنا پڑیں گے جن کا پاکستان سے تعلق ہے ۔ جہاں میں تھا وہاں احتجاج ہونے پر تبدیلی شروع ہوئی تھی ۔ بعد میں کیا ہوا میرے علم میں نہیں

  11. خرم

    آپ کی تمام باتوں سے ناچیز کا اتفاق ہے۔ ایک بات کی وضاحت کرنا چاہوں گا اپنے ناقص فہم کے مطابق کہ تعلیم دین کی تو بہت پہلے شروع ہوجاتی ہے۔ سچ بولنا، صلہ رحمی کرنا، محبت رکھنا اللہ کی مخلوق کی طرف، زندگی کے ہر پہلو میں‌ان کے اخلاق و کردار کی اسوۃ جناب رسول کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق تربیت و ترتیب کرنا ہی دین کی تعلیم ہے۔ فقہ کا علم اور محدث ہونا تو اسی طرح علوم ہیں جیسے ڈاکٹر انجنیئر بننا اور اسی توجہ اور محنت کے متقاضی ہیں۔

  12. محب علوی

    میں آپ کی باتوں سے متفق ہوں اجمل صاحب۔

    پتہ نہیں پاکستان میں لوگ امریکہ اور یورپ میں کونسی جنت دیکھتے رہتے ہیں اور پتہ نہیں ہماری عورتوں کو پاکستان اور ہر جگہ ان مغربی ممالک میں عورت کی حد رجہ تذلیل کیوں نظر نہیں آتی۔ جس معاشرے میں عورتوں کو کتیا کا درجہ دے دیا گیا ہو اس معاشرے کی تعریف میں رطب اللسان ہوتے ہوئے ذرا بھی نہیں سوچتے۔ یقین آنا مشکل ہے مگر میں چند بیسٹ سیلر کتابوں کا نام لکھ دیتا ہوں ، کوئی بھی شخص دیکح سکتا ہے

    skinny bitch
    Is the bitch dead, or what?
    stich ‘n Bitch
    How to become a loyal bitch
    Awkward Bitch: My life with MS
    Unloveable Bitch
    Last Bitch Standing
    Queen Bitch
    Bitch
    You Say I’m a Bitch Like It’s a Bad Thing
    Why Men love bitches
    The bitch is back 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)