احمق یا اصل روپ میں

پیپلز پارٹی کے رہنما لاف باز ہیں یا دہشتگرد ؟

صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا [سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے خاوند] نے رتوڈیرو میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا “جس وقت بی بی کو شہید کیا گیا اس وقت ہم نے پاکستان توڑنے کا ارادہ کرلیا تھا اور شہید بے نظیر بھٹو کے آبائی گھر ”نوڈیرو ہاوٴس “ سے پاکستان کے خلاف نکل ہی رہے تھے کہ ہمارے قائد آصف علی زرداری نے ‘پاکستان کھپے’ کا نعرہ لگاکر ہمارے تمام راستے بند کر دیئے”

وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے مزید کہا “اِس سے قبل جب شہید ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار کیا جا رہا تھا تو اس وقت بھی ہم نے پاکستان کا ایک ہوائی جہاز ہائی جیک کرنے کا پروگرام بنالیا تھا لیکن سندھ کے ممتاز علی بھٹو نے ہمیں منع کر دیا تھا”

This entry was posted in تاریخ, خبر on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

17 thoughts on “احمق یا اصل روپ میں

  1. محمداسد

    ذولفقار مرزا صاحب کا شکریہ کے انہوں نے اپنے نیک ارادوں کا ببانگ دہ اظہار کردیا۔ ورنہ یہ بہت عجیب سی بات ہے کہ کوئی شخص‌ عوام مخالف بات کرے اور پی پی پی کی حکومت کا حصہ بھی ہو :-D ۔
    درحقیقت یہ ایک طرح کی دھمکی بھی ہوسکتی ہے۔ کہ آنے والے دنوں میں اگر صدر صاحب کے خلاف کوئی ایکشن لیا گیا تو پھر یہ بھی اپنی اصلیت پر اتر آئیں گے۔

  2. خرم

    تعصب کی نبیاد پر تو سب کچھ کیا جاسکتا ہے اس ملک میں لیکن اگر خدانخواستہ خانہ جنگی ہوتی ہے تو پھر ہندوستان کا حملہ تو ہوگا ہی لیکن اس بات کی کیا ضمانت کہ یہ بھٹو اور نواب وغیرہا اپنی جاگیریں قائم رکھ پائیں گے ان کی عملداری میں؟ یہ بات تو یہ بھول جائیں کہ سندھ آزاد رہ لے گا یا بلوچستان آزاد ہوگا۔ اگر آزادی ملنا ہوتی تو حیدرآباد دکن کو ملتی یا بھوپال کو ملتی یا جونا گڑھ کو ملتی۔ لیکن شائد ایک اور خون کا دریا پار کئے بغیر ہم ایک قوم نہیں بن سکتے۔ :(

  3. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے والے کرداروں کو قرارِ واقعی سزا دینے کی بجائے جب انھیں ہیرو بنا لیا جائے۔ خلعتِ فاخرہ پہنائی جائے، پاکستانی گدی کا تاج پہنا کر درمیانی عقل کے مالک سیاستدان اور علم سے فارغ، ابن الوقت لٹیرے ایسے تاجداروں کے لئیے “ہٹو، بچو” کے نعرے لگانے لگیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک لٹیرا ملک لوٹنے کو “کامیابی” کا پیمانہ مانیں۔ احتساب مست ہو کر لمبی تان لے۔ جو جتنا بڑا لٹیرا اتنا ہی بڑا “قابل” سمجھا جائے۔ ایسے میں پاکستان کو جدی پشتی جاگیر سمجھنے والوں کی نیت تو خراب ہوگی۔

    پیپلز پارٹی کے بارے میں میرے ایک جاننے والے کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی یا پاکستان کے اقتدار میں ہوتی ہے یا محض اقتدار کے لئیے پاکستان کے خلاف۔

    جنھوں نے اپنے اقتدار کے لئیے پاکستان کو دولخت کیا۔ وہ سندھ کارڈ کیا ، اقتدار کے مزے لُوٹنے کے لئیے کوئی سا بھی کارڈ کھیلنے کو تیار ملیں گے۔ اپنے اقتدار کی خاطر پہلے پاکستان سے صرف مغربی پاکستان، اب خدا نخواستہ سندھ کارڈ کی بلیک میلنگ کل کلاں کو یہ سندھ سے ہوتے ہوئے “نوڈیرو دیش” کا نعرہ لگانے سے بھی نہیں چوکیں گے۔اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اقتدار سے محروم ہونے پہ یہ مبینہ “نوڈیرو دیش کا تختہ” الٹنے سے گریز نہیں کریں گے؟۔

    زرداری کو بہ حیثیت صدرِ پاکستان ایسے کاسہ لیسوں سخت نوٹس لینا چاہئیے جو بظاہر خوشامدی بیانات چھوڑتے ہوئے حقیقت میں زرداری کے اقتدار کے گرد گرہن کا شکنجہ مزید کس رہے ہیں۔

  4. احمد

    جب پاکستان کی تحریک چل رہی تھی تو یہی طبقہ سب سے آگے تھا رہنماؤں کے نام پر
    ان کے ہم مزہب اور ہمخیال بعد میں ملتے گئے
    ملک بنا صحیح العقیدہ مسلمانوں کیلئے تھا اور انکے ساتھ سادہ مسلمانوں سے خوب قربانی لی گئی اور اپنے لیئے ایک عشرت کدہ تعمیر کیا گیا
    سمجھنے والوں نے یہ بات سمجھ لی تھی اسی لیئے ملک بنانے پر اختلاف نہیں تھا بلکہ جو آگے تھے ان پر اور صرف یہ کہ دینے سے بات نہیں بنتی کہ ملک اسلام کی تجربہ گاہ ہوگی، مسلم لیگ کے کسی بھی آدمی نے نہ کوشش کی نہ کرنا چاہی
    اس ملک سے جو کام لینے تھے وہ لے لیئے گئے اب اسکا مقصد نظر نہیں آتا یہاں نہ اسلام آسکتا ہے نہ ہی لوگ چاہیں گے کہنے کو تو ساری قوم سیاست کرتی ہے کہنا اور ہوتا ہے چاہنا اور کرنا اور ہوتا ہے
    اسلام نہ آنے کی مزید وجوہات:
    1۔ یہاں اسلام کا نام استعمال کرنے والوں کی اچھی کاصی تعداد ہے ایسی صورت میں اسلام تو کاہے کو آئے اسی کھیل میں نام لینے والوں کا راستہ صاف رہتا ہے
    2-شیعت جس کو متفقہ اسلام سے خارج اور بد ترین فتنہ بتایا گیا ہے یہاں کافی تعداد میں ہیں اور انہوں نے خوبی سے سب اپنے قبضہ میں لے رکھا ہے اب بنا خون خرابے اسلام یہاں نہیں آسکتا اور بقول ایک محترمہ ( جو اسی قبیلے کی ہیں ( فرماتی ہیں اگر ہمت ہے تو کرلو یعنی اب اپنا ملک انکے ہاتھوں سے لے کر دکھاؤ، بات انکی ٹھیک ہے اب بہت مشکل ہے
    3-قادیانی ، اسماعیلی اور کون کون سے لوگ کافی ہیں اور پوری طرح رسوخ کیئے ہوئے
    4-مزاروں اور چڑھاوے والے سب سے بڑی تعداد میں ہوں گے شائد اگر بغور دیکھا جائے تو ہندو اور شیعت کسی اور طرف سے آتی نظر آتی ہے اب یہاں مدینہ والا اسلام نہیں آسکتا خلافت راشدہ کی تکرار تو بہت ہوتی ہے اس ملک میں ممکن نہیں
    5-اس ملک پر دوسروں کی نظریں بھی ہیں جیسے بھارت، امریکہ ، چین، روس، اسرائیل اور خاص کر ایران ۔ ایسا ملک جس کا گوشت کھانے کو اتنے لوگ بے قرار ہوں کیسے اپنی منزل پاسکتا ہے
    6-افغانستان میں اسلام آیا امن آیا تو کیا ہوا؟ ساری دینا میں بھونچال آگیا وہ سارے گروپ جن کا اوپر زکر ہے سب سے بڑھ کر سامنے آئے اور مارنے سے بھی زیادہ ان سب کا زور اپنے آپ کو سامنے لانے کا ہے یعنی مستقبل کا اسلام وہی ہوگا جس سے دنیا راضی ہو
    7-سعودیہ جس ملک کی پیدائش ھی غلط ہے کھیل کے آخری راؤنڈ میں قوالیوں اور عزاداریوں کی جگہ بنتا نظر آتا ہے

    قصہ مختصر پاکستان جیسے ملک سے اسلام والا کوئی کام لینا تھا تو لے لیا گیا یہاَں اسلام نہ آنا تھا نہ آسکتا ہے بہتر ہے اس ملک کو غیر مسلم قرار دے دیا جائے تاکہ منافقت راستے سے ہٹتے ہی اسلام کا کام کیا جاسکے ، لوگوں کی ایمان پر لایا جاسکے اور تب جاکر ممکن ہو تو اسلام بھی آسکے۔

    صلاح الدین ایوبی رح شیعوں کی لاکھ سازشوں کا باوجود اس لیئے کامیاب ہوگیا کہ وہاں عقیدہ کی منافقت نہیں تھی عمل کی تھی جو منافق تھے ان کو پیچانا جاتا تھا

    لہذا پی پی جن کی تھی ، جن کی ہے سب ایک ہی ہیں، جیسے یورپ امریکہ میں بڑے ادارے بہت ساری کمپنیاں کھول لیتے ہیں کہ جو ہیاں نہ جائے ادھر آجائے، پیسہ تو یہیں آئے گا، بلکل! یہ سے ابلیس کمپنیاں ہیں

  5. افتخار اجمل بھوپال Post author

    جاوید گوندل صاحب
    ذوالفقار علی بھٹو کے تقریر میں کہے دو جملے مجھے یاد ہیں
    اُدھر تم اِدھر ہم
    جو مشرقی پاکستان جائے گا ہم اُس کی ٹانگیں توڑ دیں گے
    اگر اور کچھ نہ ہوا تو میں صرف لاڑکانہ پر حکومت کروں گا

    اللہ ان لوگوں سے پاکستان کو بچائے

  6. سیفی

    “لیکن اس بات کی کیا ضمانت کہ یہ بھٹو اور نواب وغیرہا اپنی جاگیریں قائم رکھ پائیں گے ان کی عملداری میں؟”

    خرم ! میر جعفر اور میر صادق کو تھوڑی سی جاگیر دے کر انگریز نے بغاوت کروا لی تھی۔ ابھی بھی کچھ لوگ تیار بیٹھے ہوں گے کہ کوئی دوسرا آئے تو اس کے دربار جا کر حاضری لگوائیں۔ اور اپنی جاگیر کے لئے نیا پروانہ لے لیں۔

    جناب غالب کے چچا آگرہ قلعے کے صوبیدار تھے اور انگریزوں سے لڑے بغیر قلعہ ان کے حوالے کر کے اس پر فخر کرتے تھے کہ وہ چار سو سواروں کے نگران ہیں اور انھیں وائسرائے کے دربار میں بیٹھنے کو کرسی ملتی ہے۔

  7. احمد

    اجمل صاحب

    آپ فرماتے ہیں

    خوب کہا اور یاد دِلایا آپ نے
    ——————————-

    بزرگو یاد تو ہم بھی دلاتے رہتے ہیں مگر کیونکہ ہم صاف اس اوصاف کی حامل قوم کا نام لے دیتے ہیں تو آپ مانتے نہیں اور لائق التفات نہیں سمجھتے

    آپ ، کہ آپکو ضد لگی رہتی ہے
    ہم کوادھر سرفروشی نے ستا رکھا ہے

    کوئی گالی دیتا ہے اور کوئی طعنہ
    تم نے کیا جگانے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے

  8. احمد

    اجمل صاحب

    اللہ کرے ایسا ہی ہو اور باقیوں کو بھی ضد سے بچائے آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)