پریشانی کی وجوہات

پریشانیوں کا اصل سبب جائز یا ناجائز توقعات ہوتی ہیں ۔ مثال کے طور پر

* دوسروں سے اچھائی کی توقع
* دوستوں سے اپنی تعریف کی توقع
* ہوائی جہاز یا ٹرین کے وقت پر پہنچنے کی توقع
* سب لوگوں سے دیانت داری کی توقع
وغیرہ

یہ سب توقعات معقول معلوم ہوتی ہیں لیکن اکثر پوری نہیں ہوتیں
نتیجہ مایوسی اور دِل شِکنی ہوتا ہے

This entry was posted in روز و شب, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

7 thoughts on “پریشانی کی وجوہات

  1. کنفیوز کامی

    بہت خوب جناب اب اگر کسی بھی قسم کے ناجائز تعلقات پر بھی لکھ دیں تو نوازش ہو گی ضروری نہیں یہ جسمانی ہی ہوں سیاسی بھی ہو سکتے ہیں سماجی قانونی اور ۔۔۔میرا خیال ہے آپ میری بات سمجھ چکے ہیں 8)

  2. عمر احمد بنگش

    آپکی یہ تحریر غالباً‌صبح‌سویرے پڑھی تھی، سوچا اسے آزمایا جائے۔ سارا دن جو جو وجوہات‌آپ نے بیان کی ہیں، ایک ایک کر کے لاگو کر لیں، مطلب کرتا تو آیا ہوں، لیکن آج ساتھ نظر بھی رکھ دی۔ بہت ہی زبردست کلیہ بتا دیا جناب آپ نے تو۔ یہ چند سطریں‌ واقعی انمول ہیں۔ شام کے بعد سے میں‌پرسکون ہوں۔
    خدا خوش رکھے صاحب آپکو، مجھے امید ہے کہ آپ ایسے کلیوں‌سے ہمیں‌نوازتے رہیں گے۔ بہت بہت شکریہ :)

  3. ریحان

    آج بہت عرصہ بعد آپ کا تبصرا پڑھ کر مسکرایا ۔

    اللہ تعلی نے یہ سرزمیں پر انسان جیسی ادنا مخلوق کو جو خالی ہاتھ بھیج دیا پھر تمام علم و فنون پر طاقت بھی دے دی مزید ساتھ میں فری ول بھی دے دی کے جو چاہے کرو ۔بدلے میں کیا چاہا اللہ باری تعلی نے بس اپنی عطاعت اور وہ بھی خالص ۔۔ یہاں تو آپ یقیں کرے مجھے ایسے ایسے لوگ ملے ہیں جو یہ مانتے ہیں کہ اللہ تعلی تو بے شک بہت زیادہ رحم دل ہے ۔۔ ہم چاہے جو بھی گناہ کر لیں معافی مانگے گے تو مل جائیگی ۔ حج کر گے بخشوائے جانے والے ہیں ۔

    سر یہاں جس کا جو جی چاہ رہا ہے وہ وہی کر رہا ہے ۔۔ اچھا اچھے کی نیت رکھتا ہے تو برا بھی اپنے آپ میں برا کام بھی اچھی نیت رکھے ہی کیے جا رہا ہو تا ہے ۔۔ آپ ہی کا تبصرا تھا سر کہ ۔۔ یہاں تو چور بھی اللہ اکبر کہ کر نقب لگاتا ہے ۔ پتا نہیں شاید وہ ایسا اس لیے کرتا ہو کہ بعد میں گناہ گار ہونے پر اس کا زمیر اسے پریشان نا کرے ۔

    کوئی یہاں نشا کرتے ہیں ۔۔ اس نیت سے کے نشا پریشانی کا حل ہے ۔۔ اور وہ واقئی خود کو سکون میں سمجھتے ہیں ۔

    میں چاہوگا آپ ایک بات کا اور بھی اضافا کریں ۔۔ یا مجھے تبصرا میں بتائیں کہ کیا یہ بھی پریشان ہونے کہ ایک وجہ ہوگی کے نہیں ! ۔۔ کہ ایسا کام پکڑنا جو کہ آپ کا دل و دماغ دونوں بتا رہے ہوں کہ آپ کے بس کا نہیں ۔۔ پھر بھی دوسروں کے دیکھا دیکھی اس کام کو پکڑنا ۔

    ٹیلیویزن پر ایک پولیس والے کو تھپر پڑتے دیکھا میں نے ۔۔ اور ابھی تک میں نے کسی ایک لکھنے والے کو ایسا نہیں پایا جو اس عمل کر برا کہ رہا ہو ۔۔ گر کوئی لکھ رہا ہے تو بس یہ کہ وہ پولیس والے نے کوئی برا کام کیا ہوگا ۔۔ ٹھیک ہوا اس کے ساتھ ۔۔ جب کے میرے مطابق بس اب اس کے بچوں کا زمیر ساری زندگی شرمندا رہنے والا ہے سر ۔۔ ساری زندگی پریشان ۔

  4. محمداحمد

    بلا شبہ!

    کیا کہا ہے اشفاق احمد نے کہ کسی سے توقعات نہ رکھو کہ توقعات کا پیالہ ہمیشہ ٹھوکروں کی زد میں ہی رہتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.