کیا ہم عقلبند ہیں ؟

نہیں جناب ۔ میں نے اِملا کی غلطی نہیں کی ۔ میں نے عقلبند ہی لکھا ہے ۔ عقلبند کا مطلب ہے کہ عقل کو مقُفل رکھنا یعنی عقل سے کام نہ لینا مبادا خرچ نہ ہو جائے ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے حُکمران اور بہت سے ہموطن آجکل عقلبند ہو چکے ہیں ۔ شمال مغربی علاقہ جہاں فوجی کاروائی جاری ہے کی مصدقہ خبر بعد میں ۔ پہلے ۔ ۔ ۔

میں بیزار تھا ۔ نہ کچھ پڑھنے کو جی چاہتا تھا نہ لکھنے کو ۔ ایسے ہی ٹی وی لگا کر خبط الحواس بنا بیٹھا تھا کہ ایک فقرے نے چونکا دیا “کوئی بھی شخص ہتھیار اُس وقت اُٹھاتا ہے جب معاشرہ اُسے انصاف نہیں دے پاتا “یہ الفاظ تھے ایک بھارتی قلم کار اور سماجی کارکن ارن دھتی رائے کے جسے میں نے چوکنے کے بعد پہلی بار دیکھا ۔ وہ کراچی میں موجود تھی اور برملا بول رہی تھی ۔ ارن دھتی رائے نے مزید کہا “وہ نوجوان جو عورتوں پر پلاسٹک کے تھیلوں کی طرح پابندی لگانا چاہتا ہے وہ بھی کسی فیکٹری میں تیار ہوا ہے ۔ بالکل اسی طرح جس طرح پلاسٹک بیگ کسی فیکٹری میں تیار ہوتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ یہ فیکٹری کہاں ہے ؟ اور اسے کون چلا رہا ہے ؟” ارن دھتی رائے نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا ” جب آپ کہتے ہیں طالبان ۔ تو آپ کا مطلب کیا ہوتا ہے ؟ کیا اس سے مراد عسکریت پسند ہے ؟ یا اس سے مراد کوئی نظریہ ہے ؟ دونوں سے لڑنے کا طریقہ الگ الگ ہے ۔ جنگ سے یہ چیزیں ختم نہیں ہو سکتیں ۔ دہشتگردی کے خلاف جو جنگ لڑی جا رہی ہے ۔ اُس نے دنیا کو پہلے سے بھی زیادہ خطرناک بنا دیا ہے ”

اب آتے ہیں تازہ ترین مگر اہم خبر کی جانب ۔ فوجی کاروائی سے متاءثرہ علاقوں سے آئے ہوئے لوگ جہاں پناہ گزین ہیں وہاں ہمارے محلہ کا ایک وفد فوری امداد کے سلسلہ میں مطالعہ کرنے گیا تھا کہ کس نوعیت کی اور کتنی مقدار میں مدد درکار ہے وہ واپس آ گئے ہیں ۔ جو کچھ اُن بھائیوں نے بتایا ہے اسے بیان کرنے کی مجھ میں ہمت نہیں ہے ۔ میں صرف چند جو جگر پاش نہیں ہیں تحریر میں لانا چاہتا ہوں

فوجی کاروائی سے قبل اعلان کیا گیا کہ آپ کے پاس اتنا وقت ہے علاقہ خالی کر دیں ۔ مقررہ وقت کے بعد کے ہم ذمہ دار نہیں ہوں گے ۔ وقت اتنا کم تھا کہ ایک عورت جو اپنے گھر کے صحن میں کپڑے دھو رہی تھی اور اس کا ننھا بچہ کمرے میں سویا ہوا تھا وہ اپنے لپٹے ہوئے بچے کو اُٹھا کر گھر سے نکل بھاگی ۔ کچھ دور جا کر اسے احساس ہوا کہ وہ لپٹے ہوئے بچے کی بجائے کچھ اور لپٹا ہوا اُٹھا کر آ گئی ہے ۔ پھر دیوانہ وار بھاگتی ہوئی گئی اور اپنے بچے کو اُٹھا کر لائی ۔ سب لوگوں کو 15 سے 40 کلو میٹر پیدل چل کر کسی مقام پر سانس لیا جو لوگ چپلیوں میں بھاگے تھے ان کی چپلیاں ٹوٹ گئیں اور راستہ میں پاؤں زخمی ہو گئے

ایک شخص نے وفد سے سوال کیا ” اس طرح اعلان کرنے سے کیا عسکریت پسند وہاں بیٹھے رہے ہوں گے کہ فوج آئے اور اُنہیں ہلاک کر دے ؟” وہ بولتا رہا ” پہلے بھی ایسا ہی ہوا تھا اور جب کاروائی کے بعد امن کی اطلاع ملی تو ہم خوشی خوشی اپنے گھروں کو لوٹے ۔ مگر ہماری خوشی خاک میں مل گئی جب ہم نے دیکھا کہ ہمارے گھر اور دکانیں وغیرہ تباہ ہو چکے ہیں اور پھر عسکریت پسندوں نے ہمارے ساتھ زیادہ سختی برتنا شروع کر دی تھی”

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ارن دھتی رائے نے جو خیال ظاہر کیا وہ پاکستان میں کسی کو نہیں سوجھتا یا انہوں نے اس کی طرف توجہ نہیں دی ؟
عقلبند اور عقلمند کا فیصلہ قارئین خود کر لیں

This entry was posted in روز و شب, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

7 thoughts on “کیا ہم عقلبند ہیں ؟

  1. جعفر

    محترم۔۔۔ نوحے لکھ لکھ آپ اور پڑھ پڑھ کر ہم تھک چکے ہیں
    کوئی فرق کیوں نہیں‌ پڑتا ۔۔۔
    کیا ہم پر عذاب کا نزول شروع ہوچکا ہے؟؟؟؟؟

  2. سعدیہ سحر

    اسکول کا امتحان تین گھنٹے کا ھوتا ھے زندگی کا یہ امتحان کب تک چلے گا اور اس کا تنیجہ کیا نکلے گا ھم خوف ذدہ ھیں سوچنا نہیں چاھتے

  3. افتخار اجمل بھوپال Post author

    سعدیہ سحر صاحبہ
    زندگی کا امتحان تو زندگی ختم ہونے پر ختم ہوتا ہے ۔ اور جیسے پرچے کئے ہوتے ہیں ویسا ہی نتیجہ ملنا شروع ہوتا ہے ۔ نہ کم نہ زیادہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)