پردان منتری جواب دیں

اجمل قصاب سمیت اور کئی لوگوں کو 2006ء سے قبل نیپالی فورسز کی مدد سے انڈین ایجنسیز نے کٹھمنڈو سے اٹھایا تھا اجمل قصاب وہاں پر بزنس ٹور کے سلسلے میں گیا تھا۔اجمل کے علاوہ دیگر پاکستانیوں کو بھی نیپال میں گرفتار کیا گیا تھا، اس حوالے سے بھارتی ہائی کمیشن کے خلاف نیپالی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے جس میں نیپالی فورسز اور انڈین ہائی کمیشن سے جواب طلب کیا گیا ہے۔ جیو نیوز سے کی گئی بات چیت میں پاکستانی وکیل ایڈووکیٹ سی ایم فاروق نے بتایا ہے کہ اجمل قصاب سمیت تقریباً 200 لوگوں کو نیپالی فورسز نے 2006ء سے پہلے سے اٹھایا ہوا ہے۔ اور اس حوالے سے ان کی درخواست نیپالی سپریم کورٹ میں التوا کا شکار ہے جس میں نیپالی فورسز اور انڈین ہائی کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے کہ انہوں نے اجمل سمیت اور کئی پاکستانی انہوں نے گرفتار کئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اس سلسلے میں پاکستانی اور انڈین گورنمنٹ کو خطوط لکھے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے نیپال میں ایک پریس کانفرنس بھی کی تھی جس میں میں نے بتایا تھا کہ نیپالی فورسزنے اجمل سمیت کئی پاکستانی اٹھا کر غائب کردیئے ہیں اور یہ کسی بھی برے وقت پر ان کا غلط استعمال کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران ان کا اجمل قصاب سے کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میں اس کیس کی پیروی ابھی بھی کررہا ہوں اور اس مہینے کے آخر میں میں اس پٹیشن کے حوالے سے میں دوبارہ نیپال جاؤں گا۔نیپالی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے انہیں بار بار نوٹسز بھیجے ہیں کہ آ کر اس کا جواب دیں مگر انہوں نے اس حوالے سے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا۔ ایڈوکیٹ سی ایم فاروق نے بتایا کہ میں نے فروری 2008ء کے شروع میں نیپالی سپریم کورٹ میں یہ کیس فائل کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ میری این جی اوVoice of the human and prioner rights ہے۔اس حوالے سے ان کے والدین نے مجھ سے رابطہ کیا تھا کہ آپ اس سلسلے میں ہماری مدد کریں کیونکہ ہم نے تو پاکستانی حکومت سے بھی فریاد کی ہے۔یہ لوگ لیگل ویزے پر بزنس کے لئے گئے تھے مگر انڈین ایجنسیز کی یہ عادت ہے کہ نیپال سے اٹھالیتے ہیں پاکستانیوں کو اور اس کے بعد انہیں ایسے ہی کسی واقعے میں ملوث کر کے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں

This entry was posted in خبر on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

3 thoughts on “پردان منتری جواب دیں

  1. عبدالقدوس

    مواجاں‌ہوگیا اب کیا ہوگا :shock: ویسے پروسوں میرے مطابق میں انڈین وار گیم والے تو کہہ رہے تھے کہ بس حملہ ہو جانا چاہیے اس بار :roll:

  2. شکاری

    بھارت کے تقریباً تمام ذمہ داران کے بیانوں سے ایسا لگتا ہے کہ وہ جنگ کرنے کے لیے بہت بے تاب ہیں لیکن پاکستان کے ذمہ داران بالکل ٹھنڈے پڑے ہوئے ہیں یہاں تک کہ عوام بھی کوئی خاص نوٹس نہیں لے رہے۔ یہ حکمت عملی سمجھ نہیں آئی۔جب بھی کوئی بات ہوتی ہے انڈیا ہی پاکستان کو دباتا ہے۔ مثلاً 65 ء میں‌ انڈیا نے حملہ کیا 71 میں انڈیا نے پہل کی اس کے علاوہ کارگل کا مسلہ ہوا تھا تو اس میں میں انڈیا ہی پہل کرہا تھا یہ صورت حال اب بھی ہے۔
    آخر انڈیا اپنے آپ کو کیا سمجھتا ہے کہ وہ پاکستان کی مخالفت میں ہر موقع پر پہل کرتا ہے؟

  3. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبدالقدوس و شکاری صاحبان
    ہماری قوم کی اکثریت 1966ء سے معاندانہ پروپیگنڈہ کا شکار ہے اور اقدار کو چھوڑ کر مادیت پرست ہو گئی ہے ۔ اکثر لوگ اپنے اعمال پر نظر ڈالنے کی بجائے ابھی تک قائدِ اعظم یا قائدِ ملت کو ہر برائی کا قصور وار کہہ کر سمجھتے ہے کہ ذمہ داری پوری ہو گئی ۔ اس قوم کو جگانے کیلئے دیانتدار اور اللہ پر کامل یقین رکھنے والے رہنماؤں کی ضرورت ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)