واہ بھئی واہ ۔ ۔ ۔

ہمیشہ کی طرح ایم کیو ایم نے چار پانچ روز “تک دنا دن” کر کے وہ حاصل کر لیا جو حاصل کرنا تھا اور بڑی کامیابی کے ساتھ حاصل کر لیا ۔ آپریشن ہوا اور سرکاری بیان کے مطابق 28 اور غیر سرکاری بیان کے مطابق 60 افراد جو دہشتگردی میں مطلوب تھے گرفتار کر لئے گئے ۔ چار دن کی مار ڈھاڑ میں مرنے والوں کی اکثریت رکشا ڈرائیور ۔ چوکیدار ۔ کوڑے کباڑ میں سے پلاسٹک کے تھلے اور کاغذ پتر چُن کر روزی کمانے والے پٹھان تھے ۔ آپریشن کس علاقہ میں ہوا ؟ جہاں اِسی قسم کے اور دوسرے غریب پٹھان رہتے ہیں ۔

اسی کو کہتے ہیں ۔ ایم کیو ایم کی پانچوں گھی ۔ شاید سر کڑاہی میں ہونے کی کسر رہ گئی ہے

واہ بھئی واہ ۔ واہ بئی واہ
پڑے پالاتو مریں غیریب
چلے لُو تو مریں غریب
واہ بھئی واہ ۔ کر دیا ٹھاہ

This entry was posted in روز و شب, سیاست on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

5 thoughts on “واہ بھئی واہ ۔ ۔ ۔

  1. محمد ریاض شاہد

    اب کیا تبصرہ لکھیں اعصاب شل ہو جاتے ہیں ایسی باتیں دیکھ کر۔ مجھے سب سے زیادہ رینجرز پر رنج ہے چلو پولیس کی کوی مجبوری ہو سکتی ہے کہ زیادہ تر لوگ مقامی تھے مگر ان کو کس شے کی مجبوری ہے۔ کہ اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی کی اگر برای کے خلاف ان کا یہ جذبہ ہے تو مجھے ان کے سرحدوں پر دفاع کے جذبے پر شک ہونے لگا ہے۔ میرے خیال ایک مرکزی سطح کی انکواںری ان کے خلاف بنتی ہے اور آسمان پر خدا شاید اپنی حجت تمام کر رہا ہے۔ میں فاعتبرو یا اولی ابصار۔

  2. ڈفر

    کیا پولیس کیا رینجرز، نہلے پہ دہلا ہے۔ رینجزز کونسا آسمان سے اترے ہیں؟ ہماری فوج کے کارنامے شائد آپکے ولم میں نہیں؟
    لیکن یہ سمجھ نہیں‌آئی کیا 28-60 لوگوں سے ہی ایم کیو ایم کی دشمنی تھی؟ اور مارنا مقصد تھا تو یہ رکشے والے اور کاغذ چننے والے تو دہشت پھیلائے بغیر بھی مارنے کی صلاحیت رکھتے تھے وہ۔

  3. عمر بخش

    الطاف بھائی واقعی اولیاء ہیں
    از: موج دین

    الطاف بھائی اولیاء ہیں۔واقعی۔آپ کواعتراض ہو گا۔کچھہ نہیں تو گرامر پر ،مگر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
    الطاف بھائی اتنے دن سے کہہ رہے تھے کہ کراچی میں کچھہ ہونے والا ہے،کچھہ ہونے والا ہے۔مگر کوئی دھیان ہی نہیں دے رہا تھا۔اب دیکھہ لیا نا؟ الطاف بھائی کو پہلے ہی پتہ تھا۔ایک سال سے وہ مسلسل کہہ رہے ہیں کہ کراچی کا امن خطرے میں ہے۔
    اب اولیاء والا واقعہ سن لیں۔ کسی دور افتادہ گاءوں میں کوئی ناری اپنے آشناء کے ساتھہ “بھاگ” گئی۔
    سارا خاندان صدمہ سے نڈھال تھا۔منہ دکھانے کے قابل نہ رہے۔گھر کا ہر فرد روئے جا رہا تھا۔ مگر باپ تھا کہ روتا بھی جاتا مگر کہتا جاتا۔۔ ” کچھہ بھی ہو لڑکی اولیاء تھی”۔لوگوں نے پنک کر پوچھہ لیا کہ چاچا یہ کیا منطق ہے؟ باپ کہنے لگا”بچاری کئی دن سے بار بار کہہ رہی تھی ،گھر میں کوئی بندہ گھٹ ہونے والا ہے۔تھی اولیاء”

    الطاف بھائی بھی اولیاء ہیں۔ کئی دن پہلے ہی انہوں نے آگاہ کر دیا تھا کہ کراچی میں کچھہ ہونے والا ہے۔ملکی ایجنسیاں اور خفیہ والے کچھہ نہ پکڑ سکے ورنہ الطاف بھائی بچے بچے کو ان واقعات کے لئے “تیار” کر رہے تھے۔

    اب دیکھنا یہ ہے کہ ملکی”سلامتی” کےذمہ دار ادارےاس قدر کھلی وارادت پراس بار کیا کرتے ہیں؟
    ہم بھی سیدھے ہی ہیں۔ ایک ہی فلم بار بار دیکھہ کر سوچتے ہیں شاید آٓج فلم میں ہیرو گھوڑے سے نہ گرے ،یا ٹرین لیٹ ہو جائے۔
    یہ ادرے ۱۹۸۶ میں جو کرتے رہے وہی اب بھی کریں گے اور کیا کریں گے؟جو ۱۲ مئی ۲۰۰۴ ء کو کیا وہی کریں گے۔جو ۱۲ مئی ۲۰۰۷ ء کو کیا وہی اب بھی کریں گے۔
    کسی نے کئی سو سال پہلے کہا تھا
    کالے پت نہ چڑھے سفیدی
    کاگ نہ تھیندے بگے
    ﴿کالے کپڑوں پر سفیدی نہیں چڑھتی،کوے سفید نہیں ہو سکتے﴾
    یہ با عزت اور با وقار ادارے وقار سے کھڑے ہیں ،سب دیکھہ رہے ہیں اور خون بہتا دیکھہ کر ان کے بوٹوں پر بھی جوں نہیں رینگتی،ہاں وہ تو اسے ہی “عوامی قوت” کا مظہر کہتے ہیں۔

    پروفیسر عبدالغفور صاحب نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم اور اے این پی کراچی کے قتل و غارت کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے ہماری معلومات میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔ ہاں اپنی روش برقرار رکھی ہے۔کیا انہیں اپنے گھر پر ہونے والے بم دھماکے یاد نہیں؟پتہ نہیں یہ لوگ سچ بولنے سے کیوں باز نہیں آتے۔کیا جیو اور اے آر وائی کی طرح مشکل وقت میں چپ نہیں رہ سکتے۔ دیکھتے نہیں غصے میںٰ”یہ لوگ” کیا کچھہ کر سکتے ہیں۔

    ادھر شہر میں انسانی خون کی نصف سنچری مکمل ہوئی ہے ادھر الطاف بھائی نے “امن بھیک مشن” شروع کر دیا ہے۔ لوگ اب بھی الطاف بھائی کے خلوص پر بھروسہ نہیں کر رہے۔
    مگر۔۔۔آفرین ہے حمید گل صاحب پر ،انہوں نے کہا ہے کہ ملکی سلامتی کے لئے بلائی جانے والی کانفرنس الطاف حسین کے بغیر بے کار ہو گی۔یہ مزاحیہ فلم اب لیٹ ہو گئی ہے۔اگر طنزیہ ہے تو بھی۔حمید گل صاحب تو رازدار ہیں پورے افسانے کے۔اب سچ بول ہی دیں۔ بہت ہو گیا۔کبھی کبھی عوام کو دھوکہ نہ بھی دیا جائے ،تو کیا ہے۔وقفے میں حرج ہی کیا ہے؟
    یہ حمید گل صاحب وہ ہیں کہ جب کور کمانڈر ملتان تھے تو ایم کیو ایم کی سرکاری سرپرستی کا “استریتجک” دفاع کیا کرتے اور اسے ضروری قرار دیتے تھے۔واہ ! تقسیم میں وحدت کے سرچشمے ایسی دور رس نگاہیں ہی دیکھ سکتی ہیں۔ ہما شما کا کیا کام۔
    ہم آپ کیا جانیں ملکی مفاد،ملکی سلامتی کے تقاضے،پاکستانیوں کے باہمی فسادات کی برکتیں،قومیتوں کی بنیاد پر زہریلے پروپیگنڈے کی افادیت۔گاڑیاں جلنے،گھر لٹنے،کاروبار تباہ ہونے،اورنفرت اور خوف و ہراس کے پیچھے چھپی برکات و حسنات ۔ اس کے لئے چاہیے صاحبان کمال اور حاملین قوت کی نظر۔۔۔۔کیوں حمید گل صاحب
    ٹھیک ہے نا؟
    غزالاں تم تو واقف ہو!
    loudtruth@gmail.com

  4. ظفر اقبال

    جوتے دو ہی اچھے

    جوتے اگر استعمال نہ ہوں تو بھلے کتنے ہی ہوں،کیا ہے؟لیکن اگر استعمال ہو جائیں تو دو بھی بہت ہیں۔
    بظاہر ایک غیر مہذب حرکت پر پوری دنیا میںہونے والا ردّ ِ عمل در اصل ایک عالمی ریفرنڈم بھی ہے اور نیا ورلڈ آرڈر بغدادمیں فرعونِ وقت کے آخری دورے پر انہیں دو جوتوں کی سلامی اور کلبِ خبیث کے خطاب کا تحفہ ایک غیرت مند عراقی صحافی منتظر الزیدی نے دیا ہے۔حسینیت کے درس کی اس سے اعلیٰ محفل شاید ہی کبھی سجی ہو۔”غیر مہذب” منتظر نہ کسی دینی مدرسہ کا طالب علم رہا ہے،نہ القاعدہ اور طالبان کا رکن۔نہ پاکستانی ہے نہ افغانی۔وہ جدید تعلیم حاصل کر کے عراق کے سینئیر ترین صحافیوں میں شمار کیا جانے والا ایک ”ذمّہ دار” شہری ہے۔غربت،بے روزگاری،نشہ،مذہبی انتہا پسندی وغیرہ کے الزامات بھی اس پر نہیں لگ سکتے۔اس کے ریکارڈ میں کوئی نفسیاتی عدم اعتدال کی رپورٹ بھی نہیں ہے۔
    منتظر نے بش کو جوتے نہیں مارے بلکہ ایک عالمی فرضِ کفایہ ادا کیا ہے۔ملتِ مرحوم کا قرض ادا کیا ہے۔بے بس کمزور اور نہتّے غلام انسانوں کی طرف سے دنیا کے سب سے طاقتور،منظم اور عظیم استحصال کے علم بردار ملک امریکہ کو وہ پیغام دیا ہے جو اس سے زیادہ جامع اور موثر انداز میں ممکن نہیں۔صرف ایک ”عمل” اوراور ایک” لفظ” کی شکل میں۔عمل جوتے مارنے کا اور لفظ کتّے کا(کتوں سے معذرت کے ساتھ)۔
    دنیا میں پالیسی اسٹڈیز اور اوپینین پولز اور رائے اور رجحان جاننے ، ناپنے او ر تجزیہ کرنے کے تمام تر اداروں اور ان کے طریق ہائے تجزیہ سے زیادہ صحت کے ساتھ اس ریفرنڈم کے نتائج ہیں۔جس پر کسی کو کوئی اختلاف نہیں۔یہی دنیا بھر کی رائے ہے۔غلاموں کی اس دنیا میں کیا جانے والا یہ عمل صدیوں کا قرض تھا جو منتظر زیدی نے ادا کیا ۔
    15دسمبر008ء کی صبح واقعی ایک نئی صبح تھی جب زمین پر بسنے والے انسان اپنے اوپر حیوانوں اور درندوں کے جبر سے پسے اور اپنے ارادوں اور دلوں کی کمزوریوں پر کڑھنے کے بجائے احساس فتح مندی کے ساتھ ایک دوسرے سے ملے ۔ انسانی تاریخ میں آ ج تک ایک ساتھ کبھی انسان اتنی بڑی تعداد میں خوش ہو کر شاید ہی ملے ہوں ۔
    جوتو ں نے موجودہ عالمی سیاست میں ویسے بھی اہم کردار اد اکیا ہے ۔ہم تو 100جوتے اور 100پیاز کھانے کی ورزش میں پہلوان ہوگئے ہیں بلکہ رستم زماں کا اعزاز حاصل کرچکے ہیں۔جوتے چاٹنے کے بعد اس میں اپنی ہی شکل دیکھ کر ڈرنے میں مہارت حاصل کرلی ہے۔
    لیکن جوتوں کا جو استعمال منتظر الزیدی نے کیا ہے یہ تو انسانیت کی معراج ہے جو خودداری اور غیرت کی دین ہے ۔

    (ظفر اقبال)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)