ممبئی حملے ۔ ایک دلچسپ حقیقت

بھارت نے ممبئی میں دہشتگردی کا مرتکب پاکستان یا پاکستانیوں کو قرار دیا ہے جسے بھارت کا پیش کردہ واحد ٹھوس ثبوت ہی جھوٹا ثابت کرتا ہے ۔ ممبئی کے واقعہ کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ دہشتگردوں میں سے ایک نے بھارت کے ایک ٹی سٹیشن کو فون کیا اور صحافیوں سے بہت لمبی بات کی اور زیادہ تر بار بار دہرائی گئیں جو کہ دہشتگردوں کے رویہ کا غماز نہیں ۔

زیادہ اہم وہ گفتگو ہے جو عمران نامی دہشتگرد نے ٹی وی سٹیشن پر موجود صحافیوں سے کی ۔ نہ صرف عمران کا طرزِ گفتگو کسی پاکستانی علاق سے مماثلت نہیں رکھتا بلکہ اُس کے بولے ہوئے بہت سے الفاظ پاکستان کے کسی علاقہ میں نہیں بولے جاتے ۔ بقول عمران وہ نریمان ہاؤس میں موجود تھا ۔ عمران کی گفتگو سے سے لئے گئے کچھ الفاظ مندرجہ ذیل ہیں جو پاکستان کے کسی علاقہ کی زبان سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ کچھ ایسے ہیں جن کا مطلب کسی پاکستانی کو معلوم نہیں ہو گا

1 ۔ پری وار ۔ کون پاکستان میں یہ لفظ استعمال کرتا ہے ؟
2 ۔ جُلم ۔ پاکستان میں ظُلم کہا جاتا ہے
3 ۔ جیاتی ۔ پاکستان میں زیادتی کہا جاتا ہے
4 ۔ جِندگی ۔ پاکستان میں زِندگی کہا جاتا ہے
5 ۔ نَیتا ۔ پاکستان میں سیاستدان کہا جاتا ہے
6 ۔ اتہاس ۔ پاکستان میں تاریخ کہا جاتا ہے
7 ۔ شانتی ۔ پاکستان میں امان کہا جاتا ہے ۔ شانتی ہندو لڑکی کا نام سمجھا جاتا ہے
8 ۔ پرسارن ۔ کون پاکستان میں جانتا ہے کہ یہ کیا ہوتا ہے ؟
9 ۔ اتنک وادی ۔ کون پاکستان میں جانتا ہے کہ یہ کیا ہوتا ہے ؟
10 ۔ کھلنائک ۔ کون پاکستان میں جانتا ہے کہ یہ کیا ہوتا ہے ؟
11 ۔ انائے ۔ کون پاکستان میں جانتا ہے کہ یہ کیا ہوتا ہے ؟ البتہ آدھی صدی قبل امرتسر ریڈیو پر ایک گانا نشر ہوتا تھا ۔ حق دُوجے دا مار مار کے بن گئے لوک امیر ۔ میں ایہنوں کہندا انیائے لوکی کہن تقدیر ۔ اس سے لگتا ہے کہ انیائے کا مطلب گناہ یا ظُلم ہو گا
12 ۔ سکول کو پاٹ شالا کہا ۔ پاکستان میں سکول کو مدرسہ تو کہہ سکتے پاٹ شالا نہیں
13 ۔ شکشن ۔ پاکستان میں سیکشن کہا جاتا ہے
14 ۔ میرے کو ۔ پاکستان میں” مُجھے” کہا جاتا ہے
15 ۔ تمارے کو بول رہے ہیں نا ۔ پاکستان میں “تمہیں کہہ رہا ہوں نا” کہا جاتا ہے
16 ۔ مدھبھیر ۔ کون پاکستان میں جانتا ہے کہ یہ کیا ہوتا ہے ؟

اب متذکرہ گفتگو سُنیئے ۔ اس آڈیو ریکارڈ کی بھارتی حکومت کی طرف سے تردید نہیں کی گئی ۔
watch?v=QhO6rynb1C8

This entry was posted in تجزیہ, خبر on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

23 thoughts on “ممبئی حملے ۔ ایک دلچسپ حقیقت

  1. محمد ریاض شاہد

    محترم بھوپال صاحب
    اسلام و علیکم
    بھارت نے میڈیا کے زریعے اپنے اس فن کا مظاہرہ کیا جسے وہ ما ینڈ کنٹرول کہتے ہیں- یہی سحر سامری ہے۔ورنہ ایمان والوں کے لیے تو حقیقت کھلی ہوی ہے۔

  2. راشد کامران

    بھارتی حکومت اور میڈٰیا کی اب زیادہ تر توجہ اجمل قصاب پر مرتکز ہے اور ڈان کی اس رپورٹ کا حوالہ بھی بار بار دیا جارہا ہے
    http://www.dawn.com/2008/12/12/top6.htm
    فی الحال بین الاقوامی سطح پر بھارتی موقف کو پذیرائی مل رہی ہے اور جس طرح‌ پیر سمیع اللہ کی لاش کے ساتھ سوات میں‌ سلوک کیا گیا ہے اس کے بعد تو ادھر ادھر کو کوڑیاں ملا کر پاکستان کو مجرم ثابت کیا جارہا ہے۔ زرداری صاحب کا بی بی سی کا انٹریو بھی ایسا تھا کہ اینکر سوال کرنے کے بجائے جراح کرتا نظر آیا اور ان کے پاس کوئی ٹھوس جواب نہیں تھا کیونکہ موقف کچھ پیش کیا جارہا ہے اور عملا لشکر طیبہ کے خلاف کریک ڈاؤن گویا بھارتی موقف کی تصدیق اور پاکستانی میڈٰیا کا آپ کو معلوم ہی ہے کہ وہ پیلے دھاگے سے باہر ہی نہیں نکل رہا۔

  3. ڈفر

    انڈین فلمیں کثرت سے دیکھنے کے بعد میں یہ تُکا یقین سے مار سکتا ہوں کہ انیائے ”نا انصافی“ کو کہتے ہیں۔
    پر جی جنگ ہے میڈیا کی، اور انڈیا اس میں بہر حال جیت رہا ہے یا جیت کے قریب ہے
    ہمارے حکمرانوں کے بیانات، احکامات اور اعمال اسکی واضح نشانی ہیں

  4. افتخار اجمل بھوپال Post author

    صاحبان محمد ریاض شاہد ۔راشد کامران ۔ ڈِفر اور عبدالقدوس
    آپ سب کی رائے بھارتی میڈیا وار کے متعلق سے میں متفق ہوں ۔ اول روز ہی سے بھارت نے ہم پر میڈیا وار کا شدت کے ساتھ حملہ کیا اور یہ حملہ تواتر کے ساتھ جاری ہے ۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے ہمارے حکمران اور میڈیا دو صحیح طور سے محبِ وطن نہیں انہیں کبھی کبھی وطن کا خیال آتا ہے ورنہ صرف اپنی جیبیں بھرنے میں لگے رہتے ہیں ۔ اسی پر بس نہیں ہمارے ہموطن جنہیں عوام کہا جاتا ہے اُن کی اکضریت بھی اپنے ہموطنوں اور اپنے وطن کو ہی بُرا کہتی ہے

  5. حیدرآبادی

    حکومت پاکستان ، پاکستانی میڈیا اور پاکستانی عوام کا خیال جو کچھ بھی ہو ، ہم ہندوستانی مسلمانوں کو بہرحال اس بات کا بڑا دکھ ہے کہ اُس ٹیم کے تمام سرکردہ عہدیداروں کو ختم کر دیا گیا جو مالیگاؤں بم دھماکوں کی تحقیق کر رہے تھے اور جس کے پس پشت ہندوتوا دہشت گردی کا ثبوت دریافت ہونے کی امید تھی۔
    ایک بات طے ہے کہ دہشت گردی میں ہندوستان پاکستان کی قید نہیں اور اس پر طرہ یہ کہ دونوں طرف کی خفیہ ایجنسیوں کا تعاون بھی رہتا ہے ان لامذہب دہشت گردوں کو۔

  6. مکی

    اچھا پوسٹ مارٹم کیا ہے آپ نے.. :grin: یہ الفاظ واقعی ہمارے ہاں مستعمل نہیں ہیں..

  7. افتخار اجمل بھوپال Post author

    حیدرآبادی صاحب
    اصل نشانہ وہ پولیس افسر تھا خواہ وہ ہندو تھا لیکن سچ کا علمبردار تھا اور جس کام کی وہ تنخواہ لیتا تھا وہ کام پورے خلوص اور محنت سے کر رہا تھا ۔ میں اس سلسلہ میں شواہد ڈھونڈ رہا ہوں ۔ ملنے پر قارئین کی نطر کروں گا ۔

  8. مکی

    ایسا تلفظ ہندی سمجھنے والے کا ہوتا ہے کیونکہ ہندی میں ظ ذ اور ج صرف ایک ہی حرف جا ज سے لکھے جاتے ہیں اس لیے ظلم جلم जुलम ہوجاتا ہے جبکہ اردو میں ایسا نہیں ہے..

  9. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونآ ، اسپین

    اجمل صاحب!

    آپ کی کاوش لائق تحسین ہے۔

    اصولی طور پر یہ لنک (جو بد قسمتی سے مجھ سے نہیں کھل سکا) یا مطلوبہ بات چیت ذرداری اور اور ہمنواؤں کو بیجھی جانا چایہے۔ مگر ان کو بہت پہلے سے ہی یہ سب پتہ ہوگا۔ کیونکہ پاکستان کی ایجنسیاں ایک ایک لمحے کی رپورٹ صدر اور وزیراعظم کو پہنچاتی ہیں۔ اور دنیا کی کسی بھی جدید ترین ایجنسی کی طرح ہمارے ایجینسیز کے وسائل سے اس ساری بات چیت کا لائیو پوسٹ مارٹم کیا جا چکا ہوگا۔ مگر ہمارے نصیبوں پہ قابض (بہ حیثیت پاکستانی) ہماری قسمتوں کا فیصلہ کرنے والے موجودہ حکمران اُس جراءت رندانہ سے محروم ہیں جو اپنی قوم و ملت کے لیے حکمرانوں کو یہ قوت مہیا کرتی ہے کہ وہ ایسیی سازشوں کے مقابلے کے لیے یہ کہہ کر ڈٹ جائیں کہ یہ گردن کٹ تو سکتی ہے مگر یہ گردن جھک نہیں سکتی۔

    پاکستان کی معروف فلاحی تنظیم جماعت الدعوا ۃ پہ اگر بندش لگی ہے یا انکے عالمی اثاثے (اگر عالمی اثاثے ہیں تو) پہ پابندی لگی ہے تو اس سے نقصان پاکستان کا ہوا، پاکستانی غیرت پہ حرف آیا، ان لاکھوں بلکہ کروڑوں لوگوں کا نقصان ہوا جو اس فلاحی تنظیم سے استفادہ کرتے تھے۔ مگر پتہ نہیں اس سے کتنوں کے بیرون ملک کروڑوں ڈالرز کے اکاؤنٹ، لمبی لمبی جائیدادئیں۔ فارم اور کوٹھیاں ، اور کتنے سرے محل تو محفوظ رہے۔ کیونکہ بقول ہمارے وزیر دفاع چوہدری مختیار احمد اگر ہم جماعت الدعوا ۃ پہ پابندی نہ لگاتے تو پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دیا جاسکتا تھا۔ واہ سبحان اللہ موصوف کیا دور کی کوڑی لائے ہیں؟۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ایسے وزیر دفاع سے کسی نے یہ سوال نہیں کیا کہ محترم پھر آپ جو امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف یہ نام نہاد جنگ لڑ رہے ہیں جو اصل میں آپ یعنی پاکستان اور ایک ایک کر کے بالآخر پوری ملت اسلامیہ کے خلاف جنگ ہے ۔ اس جنگ میں آپ نے پورے پاکستان کو میدان جنگ بنا رکھا ہے ۔ وہاں تو ایک مبئی حملہ ہوا ہے جو خود بھارت کے اندرونی حالات کی وجہ سے ہوا اور جو اس کی سیکولریت کے منہ پہ طمانچہ ہے وہاں تو ایک سو کچھ مارے گئے ہیں( جسکی بہر حال ہم مذمت کرتے ہیں) اور ادہر آپ پاکستان میں آپ کی جنگ کی وجہ سے جو صرف اور صرف امریکہ کی پھیلائی ہوئی ہے اور ہمارے خطے میں نفرتوں کے ہر طرح کے جن کو بوتل سے باہر نکلا کر آزاد کر رہی اور پھر ان عفریتوں کو دوبارہ بوتل میں بند کرنا کسقدر دشوار ہوگا ۔ آپ نے (وزیر دفاع) نہ کسی اور نے سوچنا گوارا کیا ۔۔ اس میں امریکہ کا کیا جاتا ہے وہ تو اپنے اصل اہداف حاصل کرتے جارہے ہیں ۔ اور اس جنگ میں اگر بھارت میں ایک سو کچھ لوگ بھارتیوں کے ہاتھوں مرنے سے آپ کہ یہ حالات ہیں اور یہ جو ہر روز پاکستان میں سینکڑوں لوگ اس جنگ کی بھینٹ چرھ رہے ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے ؟؟؟
    وزیر دفاّع صاحب آپکی تماتر جی حضوریوں ، اور اپنے معصوم شہریوں کی اپنے فورسز کے ہاتھوں ہلاکتوں، اور اس نام نہاد جنگ جس کی وجہ سے ہمیں دنیا میں تماشہ سمجھا جارہا ہے اور ساری دنیا ہم پہ خندہ زن ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے ہم نے اپنے منہ پہ اس قدر سیاہیاں مل لی ہیں کہ ہماری اصل چہرہ ، اصل شناخت ہی گم ہو گئی ہے اور اسکے باوجود آپ کہتے ہیں کہ ہم اگر جماعت الدعوۃ پہ پابندی نہ لگاتے تو ہمیں یعنی پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دے دیا جاتا تو جناب وزیر صاحب آپ جہاں پوری قوم کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر کرہے ہیں وہیں پہ اپنی اور اپنی حکومت کی اہلیت کا پول بھی کھول رہے ہیں کہ ابھی بھی آپ کو یہ باور نہیں ہو سکا کہ آپ ایک ایسی جنگ لڑ رہے ہیں جس کے ثمرات تو پاکستان کے ازلی دشمن بھارت اور امریکہ کی جھولی میں گر رہے ہیں اور پاکستان کے نصیب میں ہر روز ایک نت نیا شوشہ ہوتا ہے اور آپ اور آپ کی حکومت ہے کہ ہر روز وضاحتیں کرتے اور صفائیاں دیتے عاجز آچکی ہے کیا ابھی بھی آپ کو اور زرداری کو انکھیں کھولنے کی ضرورت درپیش نہیں ہوئی؟۔

    بھارت کی ذرا سی مکاری اور سازش سے وزیر دفاع صاحب آپ کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ہیں اور آپ نے نہ آؤ دیکھا نا تاؤ اور دھڑا دھڑ اپنے ہی ان لوگوں کو جن کے پاکستان پہ احسانات ہیں۔ اور جنکا مبئی واقعات سے کوئی تعلق نہیں انھیں پکڑ پکڑ کر بند کرنا شروع کر دیا ہے اور اگر کل کو خدا نخواستہ کل کو اقوام متحدہ کی کسی کمیٹی ( ان اقوام نے اپنے مفاد کی خاطر اور پاکستان جیسے مسلمان ملکوں کو دباؤ میں رکھنے کی خاظر کئی طرح کی کمیٹیاں وغیرہ پہلے ہی سے بنا رکھی ہیں ۔ جن میں مثال کے طور پہ انٹی نارکوٹکس، چائلڈ لیبر ، حقوق نسواں، سائبر پرائیسی۔ وغیرہ شامل ہیں) ایسی کسی کمیٹی نے کل کو دوسری جنگ عظیم کے اختتام پہ ترکی کے شہر ( جسے ترکوں نے ملی غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے لاکھوں جانوں کا نذارانہ پیش کر کے ماننے سے انکار کر دیا تھا) استنبول کی طرح اسلام آباد کو انٹر نیشنل شہر قرار دے کر آپ سے اسلام آباد کی چابیاں ( پاکستان امریکہ کے اہم اہداف میں شامل ہے) طلب کر لیں تو پھر آپ کیا کریں گے۔؟

    یہ بات طے شدہ ہے کہ ممبئی دہماکوں کی اس سازش کا پلاٹ بھارتی ایجینسیز نے لکھا اور اس کو انجام دینے کے بعد پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت اس کا الزام پوری شد ومد کی ساتھ پاکستان پہ لگایا گیا اور اس بارے مین بھارتی میڈیا کو پہلے ہی سے پاکستان کے خلاف فضاء بنانے کے لیے بریف کر دیا گیا تھا۔

    کون جانتا ہے کہ ان ہوٹلوں کے اندر ہونے والی قتل و غارت کس اندز میں کس نے کی اور ان میں کتنے لوگ اور کون لوگ ملوث تھے اور اس قتل و غارت میں بڑی تعداد میں غیر ملکی اور خاصکر ان ممالک کے غیر ملکی مارے گئے جنھیں پہلے ہی سے پاکستان سے بوجو ہ چڑ ہے۔
    اگر بھارت کسی پاکستانی کو اس واقعے میں ملوث ظاہر کرتا ہے تو اس پہ بھی دو آرائیں ہیں کہ۔
    1) یا تو یہ پاکستانی نوجوان بھارتی ایجنسیز نے بھارت یا بھارت کے قرب و جواہر میں گرفتار یا اغواء کیئے اور قتل و غارت کے بعد ان کی لاشیں وہاں پہ پھینک دی ۔

    2) یا ہوٹل کے اندر ہی جو اندین مسلمان ٹھرے تھے انھیں پاکستانی ظاہر کردیا۔ اور ایک اجمل قصاب کہیں سے دریافت کر کے یرغمالی بنا لیا ۔ اور سارا الزام پاکستان پہ منڈھ دیا۔

    کیونکہ پاکستان کے بار بار مطالبے کے باوجود پاکستان کو کوئی ثبوت مہیا نہیں کیا گیا۔ جبکہ بھارت کے ہمنواء بشمول برطانیہ امریکہ وغیرہ پاکستان سے تو بضد ہیں کہ پاکستان ڈؤ مور بوائے پہ عل جاری رکھے اور بھارت کو جنگ سے اس لئیے باز رکھ رہے ہیں اور خود بھی پاکستان سے ( امریکن اور مغربی شہریوں کے قتل کی وجہ سے)جنگ کی حد تک نہیں الجھ رہے کیونکہ انھیں بھی پتہ ہے کہ ممبئی حملے بھارتی سازش ہے ۔ اور یوں بھارت اور ان تمام ممالک کے مفادات پاکستان کے خلاف ایک ہو گئے ہیں اور پاکستان پہ شدیدی دباؤ بڑھایا جارہا ہے ۔ اور دباؤ کا مقابلہ دباؤ ہی سے کیا جاسکتا ہے ۔ پاکساتنی حکومت میں اگر دم خم ہوتا تو ًغریبی طاقتوں سے کہہ سکتے تھے کہ جناب والا بہت ہو گیا آپ نے بھی اگر بھارت کا ہی ساتھ دینا ہے تو ہم اس محبت یعنی دہشت گردی کی جنگ سے باز آءے اور آپ اپنا پاندان اٹھا لیں یعنی دوکان لپیٹ لیں مگر بسا اے آرزو ۔۔ یہ تب ہو سکتا تھا اگر ہم اپنے اداروں کو مظبوط بناتے ۔ اپنے ہی شہری بیچ کھانے کی اور بیٹیوں کے دام کھرے کرنے کی روائیتیں اور مثالیں قائم نہ کر چکے ہوتے ۔ ہماری حکومت میں شامل لوگ اپنے ذاتی مفادات اور اپنی جانوں کو مکی مفادات اور ملکی غیرت پہ مقدم نہ سمجھتے ۔

    اجمل صاحب! اسلئیے میری ذاتی رائے میں ہماری تمام توانائیاں بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہیں اور اور ان کرتا دھرتاؤں کے کان پہ جوں تک نہیں رینگنے والی

  10. حیدرآبادی

    مکی صاحب نے درست نہیں کہا ہے۔ ہم ہندی میں بھی لکھتے ہیں :grin: ہمارا ہندی بلاگ یہاں پڑھا جا سکتا ہے۔ ہندی میں اردو کے تمام حروف لکھے جا سکتے ہیں۔ البتہ جس طرح ط ، ت یا پھر ذ ، ض ، ز ، ظ میں فرق ہوتا ہے ویسا ہندی میں نہیں ملتا۔ بہرحال ہندی میں ذ ، ض ، ز ، ظ کے لئے ज़ ہے (نیچے کا نقطہ نوٹ کیجئے)۔ یعنی ظلم کو ज़ुल्म لکھا جاتا ہے۔

  11. مکی

    قبلہ حیدرآبادی صاحب میں نے یہ نہیں کہا کہ کسی اردو بلاگر کا ہندی بلاگ نہیں ہے.. یہ درست ہے کہ ذ ، ض ، ز ، ظ کے لیے ہندی میں ज़ موجود ہے لیکن اس کی پابندی نہیں کی جاتی.. ضرور ज़रुर کو جرور जरुर ہی لکھتے ہیں.. کم سے کم اخبارات اور رسالوں میں میں نے یہی دیکھا ہے..

    ویسے حیدرآبادی صاحب لینکس کے لیے کوئی ڈھنگ کا ہندی کیبورڈ ہو تو بتائیے گا، لینکس میں جو ہے اس میں مجھے کچھ حروف نہیں ملے..!!

  12. افتخار اجمل بھوپال Post author

    جاوید گوندل صاحب
    آپ نے درست کہا ہے ۔ اب میں اور میرے جیسے بہت سے ہموطن اپنے حُکمرانوں کی ہر بات پر تنقید نہیں کرتے کہ اس میں ہر دن کے 24 گھنٹے بھی لگا دیں تو بات ختم ہونے کو نہیں آتی اُن پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ اس لئے میں نے کئی سال قبل فیصلہ کیا کہ ہموطنوں تک وہ حقائق پہنچائے جائیں جو میرے علم میں ہیں لیکن اخبارات ۔ رسائل یا کُتب میں کم ہی ملتے ہیں یا پھر وہ تصنیفات عام آدمی کو مہیا نہیں ہیں ۔
    آپ نے کچھ دن قبل پوچھا تھا کہ میں ہموطنوں سے کیا مُراد لیتا ہوں ۔ لفظ واضح ہے میری مُراد اپنے پاکستانی بہن بھائی ہوتی ہے
    میں نے آپ کی تحاریر سے اندازہ لگایا ہے کہ آپ کے قریب کوئی ایسا ہموطن نہیں جس کے ساتھ آپ دل کی بات کر سکیں ۔ ہر شخص کی صحت کیلئے ضروری ہے کہ وہ دل کی بھڑاس نکالے ۔

  13. افتخار اجمل بھوپال Post author

    حیدرآبادی صاحب
    مکی صاحب کا استدلال درست لگتا ہے ۔ میں نے بچپن میں ہندی پڑھی تھی ۔ اس میں نقطے اور چھوٹی لکیریں پڑھنے کے لحاظ سے موجود ہیں مگر عام لکھائی میں ان کا استعمال میں نے نہیں دیکھا ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میرے ہم جماعت لڑکے لڑکیاں ذ ز ض اور ظ کو ج ہی بولتے تھے ۔ جب ہم نے اپنی بڑھائی جتانا ہوتی تو ہم کہتے “جا جا تمہیں ج کے سوا کچھ آتا ہی نہیں” ۔ اور ہاں کئی ظ کو ج اور ج کو ظ بھی کہتے ہیں ۔ جو ہندو پنجاب یا اس کے قریبی شمالی ہندوستان کے رہنے والے ہیں وہ لوگ عام طور پر درست بولتے ہیں ۔ ایک آدھی صدی سے زائد پرانا واقعہ یاد ہے جسے میں لطیفہ ہی کہوں گا ۔ ایک ہندو بھارتی لاہور آیا اور بیمار ہو کر میو ہسپتال داخل ہوا ۔ اُس وارڈ کے ڈاکٹر کا نام عبدالجلیل تھا ۔ ایک دن ڈاکٹر نے پوچھا کہ بابا ۔ اب کیسے ہیں ؟ مریض نے جواب دیا ۔ ڈاکٹر صاحب آپ بہت ذلیل آدمی ہیں آپ کا نام بھی ذلیل ہے آپ نے ہم جلیل انسان کا اتنا اِجت کیا ۔ پرماتما آپ کو اور ذلیل کرے ۔ :lol:

  14. مکی

    یہاں میرے پڑوس میں ایک جاکر صاحب رہتے ہیں.. بے چارے کو آج تک خبر ہی نہیں ہوئی کو وہ دراصل ذاکر ہے.. :mrgreen:

  15. ًملک عالمگیر اعوان

    اصل حقیقت یہی ھےکہ ھندوستان کے اپنے لوگوں نے یہ سارا ناٹک کیا۔ جس کے پیچھے ان کی سیاسی تنظیمیں ملوث ہیں۔

  16. SHUAIB

    بذریعہ ای میل آپ کی اس پوسٹ کا لنک موصول ہوا،

    سوال یہ نہیں‌ کہ آتنک واد – دہشت گرد کون تھے اور کون ہیں
    سیدھی سی بات ہے کہ اس وقت پاکستان نشانہ پر ہے –

  17. اردوداں

    حیدر آبادی صاحب نے اردو کے تئیں جو فرمایا میں اس سے متفق نہیں ہوں۔
    ہندوستانی مسلمان اور ہندو دونوں اردو کے بارے میں دیانت دار بالکل نہیں۔
    اردو کو سنسکرت نما رسم الخط میں لکھ دینے سے وہ ہندی نہیں بن جاتی۔ لیکن کیا مسلمانوں کی سمجھ میں کوئی بات آتی ہے؟ جی نہیں۔
    آپ پچھلی پون صدی کی فلمیں دیکھ لیں انہیں ہندی کہنے کی غیر مسلموں کی ادا ہے لیکن مسلمانوں کا فرض ہے۔
    خیر، ظلم کو جلم صرف ان پڑھ لوگ ہی کہتے آئے ہیں۔ فلموں میں آج تک لفظ ظلم ہی مستعمل ہے۔
    ملاحظہ ہو http://www.geocities.com/urdudaan/urdu/urdu.html

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)