جل کےدل

آدھی صدی سے زائد قبل ایک گانا لکھنے والے کی روح سے معذرت کے ساتھ کچھ حسبِ حال تبدیلیاں شامل کر کے

دل کے پھپھولے جل اُٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

عوام خطاوار ہیں یا اُن کو بہکانے والے ؟
سب کے چہروں پر داغ ہیں کالے کالے

کتنے انتخابات ہوئے کوئی داغ دھویا نہ گیا
جل کے دِل خاک ہوا ۔ آنکھ سے رویا نہ گیا

[بہکانے والے یعنی حُکمران طبقہ]

کراچی کے طول و عرض میں میرے کئی بہت قریبی عزیز رہتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ میں کراچی کے حالات پر نظر رکھتا ہوں ۔ نومبر کے آخری ہفتے میں تو میرا چھوٹا بیٹا اور بہو بیٹی بھی کراچی میں موجود تھے ۔ پاکستانی صاحب کی تحریر پڑھ کر جی چاہا تھا کہ میرے علم میں آنے والے واقعات کے متوقع نتائج بیان کروں پھر ٹھٹھک گیا کہ کہیں اس کا منفی اثر نہ ہو جائے ۔ لیکن جو مجھے صاف نظر آ رہا تھا اور اُسے لکھتے ڈر رہا تھا وہ وقوع پذیر ہو گیا ۔

الطاف حسین کا بار بار بیان آ رہا تھا کہ “کراچی میں طالبان جمع ہو رہے ہیں” ۔ “کراچی کو طالبان نے گھیرے میں لے لیا ہے” ۔ “عوام کراچی کو بچانے کیلئے تیار ہو جائیں” ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ دبئی سے 22 نومبر رات گئے واپسی ہوئی ۔ 24 نومبر کو میرا کراچی میں اپنی ایک پھوپھی زاد بہن سے رابطہ ہوا تو میں نے انہیں محتاط رہنے کا مشورہ دیا ۔ وجہ پوچھنے پر میں نے بتا دیا کہ الطاف حسین کے بیانات معنی خیز اور خطرناک ہیں

29 نومبر کی رات ٹی وی اے آر وائی ون ورڈ لگایا تو کراچی میں بلووں کا معلوم ہوا ۔ جیو سمیت باقی سب ٹی وی سٹیشن دیکھے مگر سوائے اے آر وائی اور سماع کے کسی چینل نے یہ خبر نہ دی ۔ کراچی میں پھوپھی زاد بہن کو ٹیلیفون کیا تو معلوم ہوا کہ وہ بیٹی کے ہمراہ کہیں گئی ہوئی تھیں ۔ واپسی پر راستہ میں پٹھانوں کے علاقہ میں کچھ لوگوں نے جو ایم کیو ایم کے لگتے تھے فائرنگ کی اُنہوں نے ایک پٹھان کو گرتے دیکھا ۔ رکشا والے نے رکشا بھگایا اور متوقع متنازع علاقوں سے بچتا ہوا نارتھ کراچی پہنچ گیا ۔ اُن کا بیٹا اپنے کام کے سلسلہ میں کراچی میں پھرتا رہتا ہے ۔ اس نے دیکھا کہ ایم کیو ایم کے جوانوں نے دو پٹھانوں کو پِک اَپ سے اُتار کر پولیس والوں کی موجودگی میں زد و کوب کرنا شروع کر دیا ۔ اُس نے اپنی ایف ایکس کار موڑی اور بچتا بچاتا رات گئے گھر پہنچا ۔

تمام عینی شاہد کہتے ہیں کہ پہل ایم کیو ایم نے کی اور زیادتی بھی ایم کیو ایم نے کی ۔ یہی کچھ تھا جس کا اعلان الطاف حسین بار بار کر رہا تھا ۔ لیکن ایم کیو ایم کے رہنما کہتے ہیں کہ یہ کام اُن کے دشمنوں کا ہے ۔ الطاف حسین کی ایم کیو ایم والوں کا ہمیشہ سے یہی وطیرہ ہے کہ ظُلم بھی
کرتے ہیں اور مظلوم بھی کہلوانا چاہتے ہیں ۔ اگر بقول ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے باہر کے لوگ دہشتگردی کر رہے ہیں تو پولیس ۔ رینجرز اور ایم کیو ایم کی چابکدست تنظیم کی موجودگی میں ایسا کیونکر ممکن ہے ؟

وہ جو کراچی کی مظلوم مہاجر تنظیم تھی وہ تو مئی 1993ء میں چیئرمین عظیم احمد طارق کے قتل [شہادت] کے ساتھ ہی مر گئی تھی یا الطاف حسین نے مار دی تھی جو اُس محنتی اور صُلح جُو رہنما عظیم احمد طارق کا بھی قاتل ہے ۔ میں دس سال کی عمر میں 1947ء میں اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان آیا تھا لیکن میں نے یا میرے خاندان والوں نے اپنے آپ کو کبھی مہاجر نہ سمجھا ۔ میں صرف پاکستانی ہوں ۔ نہ پٹھان ہوں ۔ نہ بلوچی ۔ نہ سندھی ۔ نہ پنجابی ۔ نہ مہاجر

This entry was posted in روز و شب, سیاست, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

19 thoughts on “جل کےدل

  1. محمد ریاض شاہد

    میں بھی صرف مسلمان ہوں نہ سنی نہ وہابی اور نہ کچھ اور ۔۔میں بھی صرف پاکستانی ہوں ۔ نہ پٹھان ہوں ۔ نہ بلوچی ۔ نہ سندھی ۔ نہ پنجابی ۔ نہ مہاجر۔ خدا پاکستان کی حفاظت کرے۔

  2. میرا پاکستان

    اسے کہتے ہیں‌جلتی پر تیل چھڑکنا اور ذمہ دار کسی اور کو ٹھرا دینا۔ آپ کی بات سے ہم اتفاق کرتے ہیں‌کہ اب ایم کیو ایم کے چابک دستے کدھر گئے اور کیوں وہ بیرونی ہاتھ کو روک نہیں‌رہے؟

  3. عبدالقدوس

    الطاف کوئی عام بندہ نہیں بھارت اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ امریکہ کا ایجنٹ خاص ہے اور ایم کیو ایم کے تقریبا تمام وزرا پر مقدمات ہیں اور وہ بھی سنگین قسم کے جیسا کہ گورنر ساب پر حکیم سعید سمیت متعدد افراد کا ثابت شدہ قتل

  4. موج دین

    الطاف بھائی واقعی اولیاء ہیں
    از: موج دین

    الطاف بھائی اولیاء ہیں۔واقعی۔آپ کو اعتراض ہو گا۔کچھہ نہیں تو گرامر پر ،مگر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
    الطاف بھائی اتنے دن سے کہہ رہے تھے کہ کراچی میں کچھہ ہونے والا ہے،کچھہ ہونے والا ہے۔مگر کوئی دھیان ہی نہیں دے رہا تھا۔اب دیکھہ لیا نا؟ الطاف بھائی کو پہلے ہی پتہ تھا۔ایک سال سے وہ مسلسل کہہ رہے ہیں کہ کراچی کا امن خطرے میں ہے۔
    اب اولیاء والا واقعہ سن لیں۔ کسی دور افتادہ گاءوں میں کوئی ناری اپنے آشناء کے ساتھہ “بھاگ” گئی۔
    سارا خاندان صدمہ سے نڈھال تھا۔منہ دکھانے کے قابل نہ رہے۔گھر کا ہر فرد روئے جا رہا تھا۔ مگر باپ تھا کہ روتا بھی جاتا مگر کہتا جاتا۔۔ ” کچھہ بھی ہو لڑکی اولیاء تھی”۔لوگوں نے پنک کر پوچھہ لیا کہ چاچا یہ کیا منطق ہے؟ باپ کہنے لگا”بچاری کئی دن سے بار بار کہہ رہی تھی ،گھر میں کوئی بندہ گھٹ ہونے والا ہے۔تھی اولیاء”

    الطاف بھائی بھی اولیاء ہیں۔ کئی دن پہلے ہی انہوں نے آگاہ کر دیا تھا کہ کراچی میں کچھہ ہونے والا ہے۔ملکی ایجنسیاں اور خفیہ والے کچھہ نہ پکڑ سکے ورنہ الطاف بھائی بچے بچے کو ان واقعات کے لئے “تیار” کر رہے تھے۔

    اب دیکھنا یہ ہے کہ ملکی”سلامتی” کےذمہ دار ادارےاس قدر کھلی وارادت پراس بار کیا کرتے ہیں؟
    ہم بھی سیدھے ہی ہیں۔ ایک ہی فلم بار بار دیکھہ کر سوچتے ہیں شاید آٓج فلم میں ہیرو گھوڑے سے نہ گرے ،یا ٹرین لیٹ ہو جائے۔
    یہ ادرے ۱۹۸۶ میں جو کرتے رہے وہی اب بھی کریں گے اور کیا کریں گے؟جو ۱۲ مئی ۲۰۰۴ ء کو کیا وہی کریں گے۔جو ۱۲ مئی ۲۰۰۷ ء کو کیا وہی اب بھی کریں گے۔
    کسی نے کئی سو سال پہلے کہا تھا
    کالے پت نہ چڑھے سفیدی
    کاگ نہ تھیندے بگے
    ﴿کالے کپڑوں پر سفیدی نہیں چڑھتی،کوے سفید نہیں ہو سکتے﴾
    یہ با عزت اور با وقار ادارے وقار سے کھڑے ہیں ،سب دیکھہ رہے ہیں اور خون بہتا دیکھہ کر ان کے بوٹوں پر بھی جوں نہیں رینگتی،ہاں وہ تو اسے ہی “عوامی قوت” کا مظہر کہتے ہیں۔

    پروفیسر عبدالغفور صاحب نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم اور اے این پی کراچی کے قتل و غارت کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے ہماری معلومات میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔ ہاں اپنی روش برقرار رکھی ہے۔کیا انہیں اپنے گھر پر ہونے والے بم دھماکے یاد نہیں؟پتہ نہیں یہ لوگ سچ بولنے سے کیوں باز نہیں آتے۔کیا جیو اور اے آر وائی کی طرح مشکل وقت میں چپ نہیں رہ سکتے۔ دیکھتے نہیں غصے میںٰ”یہ لوگ” کیا کچھہ کر سکتے ہیں۔

    ادھر شہر میں انسانی خون کی نصف سنچری مکمل ہوئی ہے ادھر الطاف بھائی نے “امن بھیک مشن” شروع کر دیا ہے۔ لوگ اب بھی الطاف بھائی کے خلوص پر بھروسہ نہیں کر رہے۔
    مگر۔۔۔آفرین ہے حمید گل صاحب پر ،انہوں نے کہا ہے کہ ملکی سلامتی کے لئے بلائی جانے والی کانفرنس الطاف حسین کے بغیر بے کار ہو گی۔یہ مزاحیہ فلم اب لیٹ ہو گئی ہے۔اگر طنزیہ ہے تو بھی۔حمید گل صاحب تو رازدار ہیں پورے افسانے کے۔اب سچ بول ہی دیں۔ بہت ہو گیا۔کبھی کبھی عوام کو دھوکہ نہ بھی دیا جائے ،تو کیا ہے۔وقفے میں حرج ہی کیا ہے؟
    یہ حمید گل صاحب وہ ہیں کہ جب کور کمانڈر ملتان تھے تو ایم کیو ایم کی سرکاری سرپرستی کا “استریتجک” دفاع کیا کرتے اور اسے ضروری قرار دیتے تھے۔واہ ! تقسیم میں وحدت کے سرچشمے ایسی دور رس نگاہیں ہی دیکھ سکتی ہیں۔ ہما شما کا کیا کام۔
    ہم آپ کیا جانیں ملکی مفاد،ملکی سلامتی کے تقاضے،پاکستانیوں کے باہمی فسادات کی برکتیں،قومیتوں کی بنیاد پر زہریلے پروپیگنڈے کی افادیت۔گاڑیاں جلنے،گھر لٹنے،کاروبار تباہ ہونے،اورنفرت اور خوف و ہراس کے پیچھے چھپی برکات و حسنات ۔ اس کے لئے چاہیے صاحبان کمال اور حاملین قوت کی نظر۔۔۔۔کیوں حمید گل صاحب
    ٹھیک ہے نا؟
    غزالاں تم تو واقف ہو!
    loudtruth@gmail.com

  5. معراج خٹک

    اسلام علیکم۔

    یہ پچھلے کچھ دن کراچی میں با لعموم اور پشتون اکثریتی علاقوں میں بالخصوص بہت سخت اور تکلیف دہ گزرے ہیں۔ ہم لوگ میٹروول سائٹ میں رہتےہیں۔ میٹروول کے قریبی علاقوں میں بنارس، اورنگی ٹاؤن، فرنٹیئرکالونی اور کئی دوسرے پشتون اکثریتی علاقے شامل ہیں۔

    پچھلے دنوں جو کچھ ہوا، اخبارات میں اسکا صرف بیس پچیس فیصد آیا ہوگا، کیونکہ اخبارات بھی انھی غنڈوں کے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کے اس وقت انکی وہ آزادی صحافت والے نعرے کہاں گئے؟

    اسکے علاوہ ان دنوں جو کچھ ہوا سب کچھ پولیس اور رینجرز کی زیرسرپرستی میں ہوا۔ کوشش کرونگا کہ جو کچھ ان دنوں میں دیکھاان میں سے کچھ یہاں پر بیان کرسکوں، انشااللہ۔

  6. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عمر بخش صاحب
    شکریہ

    معراج خٹک صاحب
    شکریہ ۔ اپنی آنکھوں دیکھا حال ضرور تحریر کیجئے ۔ میرے عزیزوں نے بھی جو معلومات دی ہیں اخباروں میں نہیں چھپی

  7. ڈفر

    میں بھی صرف پاکستانی ہوں، ٹرم مہاجر کےاحساس یا علم کی وجہ میرے لئے صرف کراچی ہی ہے۔ بلکہ ایم کیو ایم کہنا ہی مناسب ہے۔ میں تو پچھلے دنوں کراچی میں ہی تھا
    اپنی آنکھوں سے تو کچھ نہیں دیکھا لیکن جو خبریں لوگوں سے سنیں ان میں سے کچھ بھی اخبارات میں نہیں دیکھا، ابھی پتا نہیں وہ خبریں ہی ہیں یا افواہیں؟ ابھی تک ثبوت کے ساتھ کوئی خبر یا کسی کے ذاتی تجربات میری نظر سے تو نہیں گزرے۔اگر افواہیں ہیں تو خوشی اور سچ ہے تو رونے کا مقام ہے۔

  8. محمد آفتاب احمد

    یھ جھوٹ ھے ابتدا بنارس چوک سے ھویء اورنگی آنے والوں پر اندھادھند گولیاں چلائ گئیں- اس سے پھلے ھفتھ کو کراچی میں عصمت دری کے 14واقعات ھوے- یھ بات ریکارڈ پر ھے اور کراچی کے اھم کرائم کے پاس یھ رپورٹ موجود ھے- اسی دن 3لڑکیاں لاپتا ھوئیں، اگلے دن(اتوار) کو رات راجھ تنویر اور طوری بنگش کالونی سے ریئس امروھوی پر جدید ھتھیاروں سے حملھ ھوا اور اس رات2لڑکیاں اٹھاکر لے گئے- بنارس چوک، قصبھ کالونی، بدر چوک، میٹروول، حبیب بینک اور سائٹ کے علاقے میں مرد تو مرد خواتین کے ساتھ جوکچھ ھوا وھ بیان سے باھر ھے-جسم پر چیرا لگایا گیا، ناخن اڈھیرے گئے،کپڑے اتار دیے گئے، جسم کے نازک اعضا کاٹ دیے گئے- یھ وھی لوگ تھے جنھوں 27دسمبر2007 کو کراچی میں شیطان ننگا کھیل کھیلا- متحدھ کا پوتر تو نھیں لیکن القاعدھ، طالبان، محسود اور آفریدی قبیلے ھمارے کھلے دشمن اور سامراج کے ایجنٹ ھیں-قدرت کی لاٹھی بے آواز ھے، ظالم کی جب رسی کھینچی جائے گی تو وھ نشان عبرت ھوں گے- المیھ تو یھ اس ملک کے قیام سے آج تک لاشوں ھی کی سیاست کی جاتی رھی، آج بھی یھی ھورھا ھے، کب تک لاشوں کی سیاست کریں گے؟ جب صرف اپنے گھر کی بھو بیٹیاں رھ جائیں گی تو کیا کروگے؟

  9. افتخار اجمل بھوپال Post author

    محمد آفتاب احمد صاحب
    کیا کراچی میں صرف آپ اور آپ کے ساتھی سچ بولتے ہیں اور باقی سب جھوٹے ہیں ؟
    آپ نے جن وارداتوں کا ذکر کیا ہے یہ تو آپ کے قائد الطاف حیسن کے غنڈوں کا طرّہ امتیاز ہے ۔ پٹھان دلیر لوگ ہوتے ہیں وہ ایسی چھچھوری حرکتیں نہیں کرتے ۔
    اگر کچھ دیر کیلئے فرض کر بھی لیا جائے کہ آپ نے جو لکھا ہے وہ حقیقت ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کراچی میں ایم کیو ایم کی ضلعی حکومت اور سندھ کی صوبائی حکومت میں ایم کیو ایم کے وڈیرے اور عشرت العباد کیا اتنے ہی نااہل ہیں کہ وہ اتنی زیادہ لاقانیت ہونے کی اجازت دیتے رہے ؟
    اس میں شک نہیں کہ کہ اللہ انصاف کرتا ہے اور انصاف ہو کر رہے گا ۔ آپ دوسروں کی بات کرنے سے پہلے اپنے قائد کو تو حوصلہ دیں کہ اپنی کراچی میں آ کر رہے ۔

  10. عمر بخش

    محمد آفتاب احمد صاحب
    اللہ کے ہاں جواب دینا ہے
    وہاں قوم ،زبان اور”بھائٰ” کام نہیں آتے۔دنیا جانتی ہے کہ کئی دن سے ہوٹل ،چائے خانے اور دیگر دکانیں کون بند کروا رہا تھا اور کون چھ ماہ سے دھمکی آمیز لہجہ اپنائے ہوئے تھا۔کون فساد کی تیاری کر رہا تھا۔
    اللہ ہمین سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائے۔چاہے اس کی زد ہمارے اپنے رشتہ داروں اور گھر والوں پر ہی پڑے۔
    پاکستان ذندہ باد
    مہاجر پختوں،سندھہ،پنجابی بلوچ۔کشمیری بھائی بھائی

  11. عمر بخش

    سلام
    حضرات
    لنک ملاحظہ فرمائیے
    سب جان کر پہچان کر ملاقاتیں کرتے،سرپرستیاں کرتے اور حکومتوں میں شامل کرتے ہیں۔رچرڈ بائوچر بھی سب جانتے ہیں۔جو حال ہی میں مل کر آئے۔آصف زرداری،مشرف،ھمید گل ،کیانی ساحب سب جانتے ہیں

    http://www.unhcr.org/refworld/docid/414fe5aa4.html

  12. ظفر اقبال

    جوتے دو ہی اچھے

    جوتے اگر استعمال نہ ہوں تو بھلے کتنے ہی ہوں،کیا ہے؟لیکن اگر استعمال ہو جائیں تو دو بھی بہت ہیں۔
    بظاہر ایک غیر مہذب حرکت پر پوری دنیا میںہونے والا ردّ ِ عمل در اصل ایک عالمی ریفرنڈم بھی ہے اور نیا ورلڈ آرڈر بغدادمیں فرعونِ وقت کے آخری دورے پر انہیں دو جوتوں کی سلامی اور کلبِ خبیث کے خطاب کا تحفہ ایک غیرت مند عراقی صحافی منتظر الزیدی نے دیا ہے۔حسینیت کے درس کی اس سے اعلیٰ محفل شاید ہی کبھی سجی ہو۔”غیر مہذب” منتظر نہ کسی دینی مدرسہ کا طالب علم رہا ہے،نہ القاعدہ اور طالبان کا رکن۔نہ پاکستانی ہے نہ افغانی۔وہ جدید تعلیم حاصل کر کے عراق کے سینئیر ترین صحافیوں میں شمار کیا جانے والا ایک ”ذمّہ دار” شہری ہے۔غربت،بے روزگاری،نشہ،مذہبی انتہا پسندی وغیرہ کے الزامات بھی اس پر نہیں لگ سکتے۔اس کے ریکارڈ میں کوئی نفسیاتی عدم اعتدال کی رپورٹ بھی نہیں ہے۔
    منتظر نے بش کو جوتے نہیں مارے بلکہ ایک عالمی فرضِ کفایہ ادا کیا ہے۔ملتِ مرحوم کا قرض ادا کیا ہے۔بے بس کمزور اور نہتّے غلام انسانوں کی طرف سے دنیا کے سب سے طاقتور،منظم اور عظیم استحصال کے علم بردار ملک امریکہ کو وہ پیغام دیا ہے جو اس سے زیادہ جامع اور موثر انداز میں ممکن نہیں۔صرف ایک ”عمل” اوراور ایک” لفظ” کی شکل میں۔عمل جوتے مارنے کا اور لفظ کتّے کا(کتوں سے معذرت کے ساتھ)۔
    دنیا میں پالیسی اسٹڈیز اور اوپینین پولز اور رائے اور رجحان جاننے ، ناپنے او ر تجزیہ کرنے کے تمام تر اداروں اور ان کے طریق ہائے تجزیہ سے زیادہ صحت کے ساتھ اس ریفرنڈم کے نتائج ہیں۔جس پر کسی کو کوئی اختلاف نہیں۔یہی دنیا بھر کی رائے ہے۔غلاموں کی اس دنیا میں کیا جانے والا یہ عمل صدیوں کا قرض تھا جو منتظر زیدی نے ادا کیا ۔
    15دسمبر008ء کی صبح واقعی ایک نئی صبح تھی جب زمین پر بسنے والے انسان اپنے اوپر حیوانوں اور درندوں کے جبر سے پسے اور اپنے ارادوں اور دلوں کی کمزوریوں پر کڑھنے کے بجائے احساس فتح مندی کے ساتھ ایک دوسرے سے ملے ۔ انسانی تاریخ میں آ ج تک ایک ساتھ کبھی انسان اتنی بڑی تعداد میں خوش ہو کر شاید ہی ملے ہوں ۔
    جوتو ں نے موجودہ عالمی سیاست میں ویسے بھی اہم کردار اد اکیا ہے ۔ہم تو 100جوتے اور 100پیاز کھانے کی ورزش میں پہلوان ہوگئے ہیں بلکہ رستم زماں کا اعزاز حاصل کرچکے ہیں۔جوتے چاٹنے کے بعد اس میں اپنی ہی شکل دیکھ کر ڈرنے میں مہارت حاصل کرلی ہے۔
    لیکن جوتوں کا جو استعمال منتظر الزیدی نے کیا ہے یہ تو انسانیت کی معراج ہے جو خودداری اور غیرت کی دین ہے ۔

    (ظفر اقبال)

  13. Pingback: دسمبر 2008 کے بلاگ

  14. jehan

    میں اورنگی میں رہتا ہوں آئے روز بنارس پہ پٹھان بسوں میں لوٹ مار کرتے ہیں خواتین سے بد تمیزی معمول ہے ہاتھہ کنگن کو آرسی کیا آ کے دیکھہ لو یہ سائٹ ہی متعصب ہے

  15. Pingback: دسمبر 2008 کے بلاگ | منظرنامہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)