موت کی تیاری

معاندانہ پروپیگنڈہ اور کج بحثی تو ہمیشہ سے ہے لیکن وطنِ عزیز میں ہموطن اپنے ہی ہموطنوں کے خلاف صرف یہ نہیں کہ معاندانہ اور بے بنیاد پروپیگنڈہ کرتے ہیں بلکہ بغیر کسی ثبوت کے اس پر بحث بھی کرتے ہیں ۔ پچھلے دنوں ایک پڑھے لکھے اور بظاہر ذہین جدّت پسند شخص نے میرے داہنے بائیں اُوپر نیچے تیز و طرار جملے اس طرح مارنے شروع کئے جیسے پولیس تھانے میں کسی بے سہارا آدمی سے ناکردہ گناہ کا اقبالِ جُرم کروایا جاتا ہے ۔ میں نے اُنہیں سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر وہ گویا ہوا کے گھوڑے پر سوار تھے اور کچھ سننے کو تیار ہی نہ تھے ۔ چند لمحوں میں اُنہوں نے مدعی ۔ وکیل اور مُنصف کا کردار ادا کرتے ہوئے فیصلہ بھی سُنا دیا کہ قبائلی علاقوں کے لوگ طالبان اور دہشتگرد ہیں وہ تعلیم ۔ ترقی اور عورتوں کے دُشمن ہیں انہوں نے لڑکیوں کے سکول جلا دئیے ہیں ۔

میں یہ سمجھنے پر مجبور ہوا کہ میری معلومات محدود ہیں ۔ تعلیم اور سائنس کے سہارے جدید لوگ چاند اور مریخ سے ہوتے ہوئے آسمان کے پاس پہنچ گئے ہوئے ہیں اور میں ابھی تک کسی غار میں بیٹھا پتھروں سے کھیل رہا ہوں ۔ اُن پڑھے لکھے سائنسی جدّت پسند روشن خیال صاحب کے جانے کے بعد میں نے اپنا کمپیوٹر چلایا اور لگا انٹرنیٹ کھنگالنے ۔ میری تو پریشانی اور بڑھی جب میں نے دیکھا کہ تعلیمیافتہ اور باعلم ہونے کے دعویدار کئی بلاگرز کی تحاریر اور دنیا بھر کے اخبار بھی متذکرہ بالا تاءثر لئے ہوئے تھے

غیروں کو تو کیا کہنا کہ آخر غیر ہیں ۔ اپنے ہموطنوں کے باعلم ہونے کے دعویدار جدت پسند گروہ کے جاہلانہ رویّہ پر جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے ۔ ٹھوس حقیقت یہ ہے کہ آج تک وزیرستان اور باجوڑ سمیت کسی قبائلی علاقہ میں کوئی سکول نہیں جلا اور نہ طالبان نے کوئی سکول جلایا ہے ۔ جو سکول جلے ہیں یا جلائے گئے ہیں وہ سوات کے سَیٹلڈ [settled] علاقہ میں واقع ہیں جو صوبہ سرحد کی حکومت کے زیرِ انتظام ہے جبکہ قبائلی علاقے براہِ راست وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام ہیں ۔ اس حقیقت سے متعلقہ وفاقی وزیر بھی متفق ہیں ۔

قبائلی علاقوں میں لڑی جانے والی احمقانہ جنگ میں عورتوں اور بچوں سمیت ہزاروں محبِ وطن اور فوجی ہلاک ہو چکے ہیں اور سب پاکستانی ہیں ۔ یہ جنگ وطن کو محفوظ بنانے کی بجائے پوری قوم کو تیزی سے تباہی کی طرف لے جا رہی ہے اور فائدہ صرف پاکستان کے دشمنوں کو ہو رہا ہے ۔

جس طرح سے وطنِ عزیز میں بے بنیاد اور معاندانہ پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ قوم خود اپنی قبر کھود کر اس میں دفن ہو جانے کی تیاری بڑے زور شور سے کر رہی ہے ۔

اللہ ہمارے حکمرانوں اور عوام کو بھی عقلِ سلیم عطا فرمائے اور سیدھی راہ پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ثم آمین

This entry was posted in پيغام, روز و شب, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

10 thoughts on “موت کی تیاری

  1. فیصل

    assalam o alaikum uncle
    sorry but i don’t know why i cant type urdu here, may be my web browser is blocking some scripts.
    anyway i couldn’t stop laughing when i visited you blog, moments after commenting on noman’s blog.
    may Allah lead us to the right path, its easy to buy media crap than to do your own analysis and i guess a lot of bloggers buy that cheap media campaigns started every here and there.
    please keep writing, who knows if Allah puts some light in their eyes through your writings.
    wassalam
    faisal

  2. فیصل

    جی میرا خیال درست ہی تھا، سکرپٹ‌ بلاک ہونے کیوجہ سے اردو تحریر نہیں‌کر پا رہا تھا۔
    زبان فرنگ کیلئے معذرت،
    فیصل

  3. ڈفر

    ہم نے ہمیشہ پٹھانوں کو بالعموم اور قبائیلیوں کو بالخصوص اچھوت ہی سمجھا اور پورٹرے کیا ہے۔ کسی کی بے وقوفی کی انتہا کی مثال دینی ہو تو پٹھان، کسی کی رجِڈِٹی کی مثال دینی ہو تو پٹھان، جہالت کی مثال دینی ہو تو پٹھان، اور پکے نمازی کی مثال دینی ہو تو بھی پٹھان۔ ہم نے کبھی ان کو اس قابل سمجھا ہی نہیں کہ انہیں بھی تعلیم ملے اور شعور حاصل ہو۔ اول تو ترقی اور اسکے ثمرات ان تک کبھی پہنچے ہی نہیں اور اگر پہنچے بھی تو سب سے آخر میں۔ ان کے لئے تعلیم صرف ایک ہی چیز تھی، دینی تعلیم۔ سکول کی اگر انکے ہان کوئی اہمیت نہیں تو وجہ یہ ہے کہ انکو پتہ ہی نہیں سکول ہے کیا۔ انکے کسی بھی فعل میں ان سے زیادہ قصور وار ہم ہیں بلکہ مجرم۔ اور اس قدر کہ اپنی سرحد پہ تعمیر ناقابل تسخیر دیوار کو خود بُھربُھرا کر بیٹھے۔
    ::اس ہم میں وہ پٹھان حکمران بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنی قوم کے لئے بھی کبھی کچھ نہیں کیا::

  4. عارف انجم

    میرے خیال میں قبائلی علاقوں کے عوام اور طالبان کو الگ الگ دیکھا جانا چاہئے۔

    طالبان سے ان علاقوں کے لوگ بھی تنگ آئے ہوئے ہیں۔ باجوڑ کی تحصیل سلارزئی میں دو قبائلی سرداروں کے قتل کے بعد لوگوں‌نے خود طالبان کے خلاف کارروائی شروع کی۔ ضلع دیر اگرچہ بندوبستی علاقوں میں شمار ہوتا ہے لیکن وہاں اسکول پر قبضہ کرنے والے بھی طالبان ہی بتائے جاتے ہیں جن کے خلاف مقامی لوگوں نے کارروائی کی۔

    جہالت یہ ہے کہ حکومت قبائلی علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے جسے چاہے طالبان قرار دے کر مار دیتی ہے اور دوسری طرف طالبان شہری علاقوں میں سب کو انگریزوں کا مددگار اور کافر قرار دے کر مار رہے ہیں۔

  5. افتخار اجمل بھوپال Post author

    فیصل صاحب
    ساری دنیا کے عوام کی اکثریت تن آسانی کا شکار ہو چکی ہے ۔ اور تو اور امتحان میں کامیابی کیلئے بھی شارٹ کٹ اختیار کئے جاتے ہیں ۔ کسی کو کیا مصیبت پڑی ہے کہ حقائق کو دریافت کرے ۔ ہاں اگر اس میں ذاتی فائدہ ہو تو ضرور کوشش کریں گے ۔
    جب ٹی وی پاکستان میں شروع ہوا ۔ 1964ء صرف لاہور میں ۔ تو کچھ مولویوں نے اسے شیطانی چرخا اور قوم کی فکری تباہی کا سامان قرار دیا ۔ گو میں مولوی مخالف نہیں تھا لیکن ان دنوں میرا علمِ دین بہت محدود تھا ۔ سو میں نے بھی مولوی صاحبان کے اس فتوے کو بے جا سمجھا اب جب کہ میری عمر ستّر سال سے تجاوز کر گئی ہے میں سوچتا ہوں کہ وہ مولوی صاحبان واقعی باعلم تھے ۔

  6. افتخار اجمل بھوپال Post author

    ڈفر صاحب
    آپ نے درست کہا ۔
    نامعلوم کیوں ہند و پاکستان کے عوام کی اکثریت سکھوں ۔ پٹھانوں ۔ کشمیریوں اور بنگالیوں کے لطیفے بناتی رہتی ہے خواہ خود میں عقل کا فقدان ہو ۔ ایک تصحیح کر دوں ۔ باوجویکہ قبائلی علاقہ میں تعلیم کا بندوبست بہت کم ہے وہاں کے لڑکے ہی نہیں لڑکیاں مالی مجبوریوں کے باوجود شہروں میں پڑھنے کیلئے جاتے ہیں اور ان میں سے کئی ڈاکٹر ۔ انجیئر اور سول سرونٹ اعلٰی عہدوں پر پہنچتے رہتے ہیں ۔ ان کی خوبی یہ ہے کہ جہاں کہیں بھی ہوں اپنے علاقہ سے تعلق قائم رکھتے ہیں ۔

  7. محمد ریاض شاہد

    محترم افتخار بھوپال صاحب
    مغربی پروپیگنڈا کے فن نے مسلسل تحقیق اور جدت کی وجہ سے اب سحر سامری کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ اس سے نبرد آزما ہونے کے لیے آج کی زمانے میں بھی حضرت موسی کے سے ایمان اور یقین راسخ کی ضرورت ہے۔ ورنہ اس طلسم خانہ میں تو ہر صورت بھیا نک دکھای دیتی ہے۔ آپ دلبرداشتہ نہ ہوں۔ ویسے طالبان کے بھیس میں بہت سے گروپ اور اقوام اپنا کھیل کھیل رہے ہیں۔ مگر انشاءاللہ انہیں ناکامی ہو گی۔ یہ میرا ایمان ہے۔

  8. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عارف انجم صاحب
    تبصرہ کا شکریہ ۔
    محترم ۔ طالبان کی تحریک افغانستان میں ہے پاکستان میں نہیں ہے اور نہ ہی عام قبائلی طالبان سے تنگ آئے ہوئے ہیں ۔ یہ سب ذرائع ابلاغ کی کاراگری ہے ۔ آپ نے دو قبائلی ملکوں کی بات کی ۔ قبائلی علاقہ میں سردار نہیں ہوتے ملک ہوتے ہیں ۔ شروع ہی میں قبائلی علاقہ کے ڈھائی سو کے لگھ بگھ ملک ہماری حکومت اور امریکیوں نے ہلاک کر دیئے تھے ۔ یہ شائد قبائلی نظام کی یکجہتی کو ختم کرنے کی کوشش تھی ۔ اس کے بعد جہاں چاہا میزائل اور بم پھینکے گئے جس کے نتیجہ میں گھروں میں بیٹھے قبائلی عورتوں اور بچوں سمیت ہلاک ہوئے ۔ وہاں اب قبائلی نظام درہم برہم ہو چکا ہے اور کوئی کسی کے قابو میں نہیں ہے ۔

    فوج کا قبائلی علاقوں میں اعلان ہے کہ اگر حملہ کا خطرہ ہو تو جو لوگ مقابلہ نہیں کرنا چاہتے وہ دونوں ہاتھ اُوپر اُٹھا کر کھڑے ہو جائیں ۔ اُنہیں کچھ نہیں کہا جائے گا ۔ لیکن اس طرح کھڑے ہونے کے باوجود ان کو ہلاک کیا جاتا ہے ۔ اس کی بہت سی مثالوں میں سے ایک ڈاکٹر خلیل الرحمٰن اور اس کے بھائیوں کی ہے ۔ وہ لوگ اپنی گاڑیوں میں جا رہے تھے کہ ہیلی کاپٹر آتا ہوا نظر آیا ۔ وہ لوگ گاڑیاں کھڑی کر کے باہر نکلے اور ہاتھ اُوپر کر کے کھڑے ہوگئے ۔ اُن میں سے کسی کے پاس کوئی ہتھار نہ تھا ۔ پہلے ہیلی کاپٹر اْن کے اوپر سے گذر گیا پھر ان کی سیدھ لے کر دو میزائل ان پر فائر کئے ۔ ڈاکٹر خلیل الرحمٰن کا بازو زخمی ہوا ۔ اس کے بیٹے کی ایک ٹانگ گھٹنے تک اور ایک پاؤں ضائع ہونے کے علاوہ اور زخم بھی آئے ۔ اُس کے بھائی اور خاندان کے دوسرے لوگ ہلاک ہو گئے ۔ ڈاکٹر خلیل الرحمٰن ڈاکٹر ہونے کے علاوہ سوشل ورکر ہیں ۔

    ضلع دیر کے سکول کی آپ نے بات کی ہے ۔ کیسے ثابت ہوا کہ قبضہ کرنے والے طالبان تھے ؟ ہاں ۔ بتائے تو جاتے ہیں اور میں نے اپنی مندرجہ بالا تحریر میں یہی تو واضح کرنے کی کوشش کی ہے ۔ جو کوئی پاکستانی قبائلی یا طالبان حکومت نے گرفتار کیا ہے اُسے ٹی وی پر پیش کریں اور صرف بزرگ صحافیوں کو اس سے سوال پوچھنے دیں تو پانی کا پانی اور دودھ کا دودھ ہو جائے گا ۔

  9. ننھا بچہ

    میں آپ سے بالکل مُتفق ہوں کیا طالبان کیا قبائلی یہ سب میڈیا کا ڈرامہ ہے جس کے لئیے کردار بھی وہ خود ہی چُنتا ہے۔۔۔
    اور ہم بے علم و عقل ان خود ساختہ کہانیوں پر ایسے یقین کرتے جیسے۔۔۔
    جب سے وہ کوڑوں والا ڈرامہ رچایہ میڈیا نے میں نے ٹی وی دیکھنا بند ہی کر دئیا ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)