ماوراء صاحبہ کا سوال

میری 2 جولائی 2008ء کی تحریر “ایسا کیوں ” پر تبصرہ کرتے ہوئے ماوراء صاحبہ نے لکھا “اللہ نے ایک ہی مذہب دنیا میں کیوں نہ بنایا ؟”
ماوراء صاحبہ کے اس سوال نے مجھے باور کرایا کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے مسلمان جنہیں میں نے ہمیشہ عقلمند سمجھا یا تو قرآن شریف پڑھتے نہیں یا اسے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ چنانچہ اس سوال کا جواب میں نے سرِ ورق پر لکھنا مناسب سمجھا تاکہ باقی قارئین بھی اس سے مستفید ہو سکیں ۔ ماوراء صاحبہ سے معذرت خواہ ہوں کہ میں ذاتی مصروفیات اور بجلی کی آنکھ مچولی کی وجہ سے جواب پیر 7 جولائی کو نہ لکھ سکا ۔

سورت ۔ 2 ۔ البقرۃ ۔ آیات 124 تا 126 ۔یاد کرو جب ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ اُن سب میں پورا اُتر گیا تو اللہ نے فرمایا “میں تمہیں لوگوں کا امام بنا دوں گا “۔ ابراہیم نے عرض کیا “اور میری اولاد کو بھی ؟” فرمایا “میرا وعدہ ظالمو سے نہیں” ۔
ہم نے اس گھر [کعبہ] کو لوگوں کیلئے ثواب اور امن کی جگہ بنایا ۔ تم مقامِ ابراہیم کو جائے نماز مقرر کر لو اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل سے وعدہ لیا کہ تم میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور رقوع سجدہ کرنے والوں کیلئے پاک صاف رکھو ۔
اور یہ کہ ابراہیم نے دُعا کی “اے میرے رب ۔ اس شہر کو امن کا شہر بنا دے اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ اور آخرت کو مانیں انہیں ہر قسم کے پھلوں کا رزق دے”۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا “میں کافروں کو بھی تھوڑا فائدہ دوں گا پھر اُنہیں آگ کے عذاب کی طرف بے بس کر دوں گا ۔ یہ پہنچنے کی جگہ بُری ہے”۔

سورت ۔ 2 ۔ البقرۃ ۔ آیات 127 تا 134 ۔اور یاد کرو ابراہیم اور اسماعیل جب اس گھر [کعبہ] کی دیواریں اُٹھا رہے تھے تو دُعا کرتے جاتے تھے ” اے ہمارے رب ۔ ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے ۔ تو سب کی سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے ۔
اے رب ۔ ہم دونوں کو اپنا مُسلِم [فرمابردار] بنا ۔ ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اُٹھا جو تیری مُسلِم ہو ۔ ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا ۔اور ہماری کوتاہیوں سے درگذر فرما ۔ تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔
اور اے رب ۔ ان لوگوں میں خود اِنہیں کی قوم سے ایک رسول بھیج جو تیری آیتیں پڑھے انہیں کتاب اور حکمت سِکھائے اور اِنہیں پاک کرے ۔ یقیناً تو غلبہ والا اور حکمت والا ہے “۔

سورت ۔ 2 ۔ البقرۃ ۔ آیت 134 ۔ اب کون ہے جو ابراہیم کے طریقے سے نفرت کرے ؟ جس نے خود اپنے آپ کو حماقت اور جہالت میں مُبتلا کر لیا ہو ، اس کے سوا کون یہ حرکت کر سکتا ہے ؟ ابراہیم تو ہ شخص ہے جسے ہم نے دنیا میں اپنے کام کیلئے چُن لیا تھا اور آخرت میں اس کا شمار صالحین میں ہو گا ۔
جب اس کے رب نے اس سے کہا “مُسلِم ہو جا”۔ تو اس نے فوراً کہا “میں مالکِ کائنات کا مُسلِم ہو گیا”۔
اسی طریقہ پر چلنے کی ہدائت اس نے اپنی اولاد کو کی تھی اور اسی کی وصیّت یعقوب اپنی اولاد کو کر گیا ۔ اس نے کہا تھا “میرے بچو ۔ اللہ نے تمہارے لئے یہی دین پسند کیا ہے لہٰذا مرتے دم تک مُسلِم ہی رہنا”۔
پھر کیا تُم اُس وقت موجود تھے جب یعقوب اس دنیا سے رخصت ہو رہا تھا ؟ اس نے مرتے وقت اپنے بیٹوں سے پوچھا ” بچو ۔ میرے بعد تم کس کی بندگی کرو گے ؟” ان سب نے جواب دیا “ہم اسی ایک خدا کی بندگی کریں گے جسے آپ نے اور آپ کے بزرگوں ابراہیم ۔ اسماعیل اور اسحاق نے اللہ مانا اور ہم اُسی کے مُسلِم ہیں”۔
وہ کچھ لوگ تھے جو گذر گئے ۔ جو کچھ اُنہوں نے کمایا اُن کیلئے ہے اور جو کچھ تم کماؤ گے وہ تمہارے لئے ہے ۔ تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے ۔
آیت 136 ۔ یہودی کہتے ہیں کہ یہودی ہوگے تو راہِ راست پاؤ گے ۔ عیسائی کہتے ہیں کہ عیسائی ہو تو ہدایت ملے گی ۔ ان سے کہو “نہیں ۔ بلکہ سب کو چھوڑ کر ابراہیم کا طریقہ ۔ اور ابراہیم مُشرکوں میں سے نہ تھا ۔ اور ہم اللہ کے مُسلِم ہیں”۔

سورت ۔ 3 ۔ آلِ عمران ۔ آیت ۔ 19 ۔ اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہےاس دین سے ہٹ کر جو مختلف طریقے اُن لوگوں نے اختیار کئے جنہیں کتاب دی گئی تھی اُن کے اس طرزِ عمل کی کوئی وجہ اس کے سوا نہ تھی کہ اُنہوں نے عِلم آ جانے کے بعد آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنے کیلئے ایسا کیا

سورت ۔ 3 ۔ آلِ عمران ۔ آیت ۔ 67 ۔ ابراہیم نہ یہودی تھا نہ عیسائی بلکہ وہ تو ایک یکسُو مُسلِم تھا

>سورت ۔ 3 ۔ آلِ عمران ۔ آیت ۔ 102 ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ۔ اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے ۔ تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مُسلِم ہو

سورت ۔ ۔ 5 ۔ المآئدہ ۔ آیت ۔ 44 ۔ ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی ۔ سارے نبی جو مُسلِم تھے اُسی کے مطابق اِن یہودی بن جانے والوں کے معاملات کا فیصلہ کرتے تھے

سورت ۔ ۔ 5 ۔ المآئدہ ۔ آیت ۔ 3 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کر دیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضا مند ہو گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سورت ۔ 10 ۔ یُونُس ۔ آیت ۔ 19 ۔ اور تمام لوگ ایک ہی اُمت تھے پھر انہوں نے اختلاف پیدا کر لیا اور اگر ایک بات نہ ہوتی جو آپ کے رب کی طرف سے پہلے ٹھہر چکی ہے تو جس چیز میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں ان کا قطعی فیصلہ ہو چکا ہوتا ۔

سورت ۔ 10 ۔ یُونُس ۔ آیت 84 ۔ اور موسٰی نے کہا ” اے میری قوم ۔ اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اسی پر توکل کرو اگر تم مُسلمین ہو”

سورت ۔ 27 ۔ النّمل ۔ آیت ۔ 91 ۔ [اے محمد ان سے کہہ دو] مجھے تو بس یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے پروردگار کی عبادت کرتا رہوں جس نے اسے حُرمت والا بنایا ہے جس کی ملکیت ہر چیز ہے اور مجھے یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ میں مسلمین میں سے ہو جاؤں [مُسلِم بن کے رہوں]

سورت ۔ 42 ۔ الشورٰی ۔ آیت ۔ 13 ۔ اللہ تعالٰی نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کر دیا ہے جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح کو حُکم دیا تھا اور جو [بذریعہ وحی] ہم نے تیری طرف بھیج دیا ہے اور جس کا تاکیدی حُکم ہم نے ابراہیم اور موسٰی اور عیسٰی کو دیا تھا کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

This entry was posted in دین, روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

10 thoughts on “ماوراء صاحبہ کا سوال

  1. سید محمدحنیف شاہ

    سورۃ بقرہ آیت نمبر 213
    اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
    (پہلے تو سب) لوگوں کا ایک ہی مذہب تھا (لیکن وہ آپس میں اختلاف کرنے لگے) تو اللہ نے (ان کی طرف) بشارت دینے والے اور ڈر سنانے والے پیغمبر بھیجے اور ان پر سچائی کے ساتھ کتابیں نازل کیں تاکہ جن امور میں لوگ اختلاف کرتے تھے ان کا ان میں فیصلہ کردے۔ اور اس میں اختلاف بھی انہیں لوگوں نے کیا جن کو کتاب دی گئی تھی باوجود یہ کہ ان کے پاس کھلے ہوئے احکام آچکے تھے (اور یہ اختلاف انہوں نے صرف) آپس کی ضد سے (کیا) تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے اللہ نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھا دی۔ اور اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھا رستہ دکھا دیتا ہے

  2. تزک نگار

    یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے ایک ہی دین بنایا ہے مگر لوگوں‌ نے اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے اپنے اپنے دین گھڑ لیے ؟
    یا ہم یوں کہہ سکتے ہیں‌کہ اللہ انسان کو اس کے طرز عمل میں خود مختاری دے دیتا ہے کہ جو چاہے کرے ؟

  3. اجمل Post author

    تزک نگار صاحب
    آپ نے درست کہا ہے
    کھانا پینا لڑنا کھیلنا دوڑنا آرام کرنا ۔ یہ سب کچھ چوپائے اور پرندے بھی کرتے ہیں ۔ اللہ نے انسان کو ایسا دماغ بخشا ہے کہ وہ اپنا بھلا بُرا سوچ سکے اور پھر اُسے اچھائی اور برائی بتا کر اُس پر چھوڑ دیا ہے کہ اپنے راستے کا انتخاب کرے ۔

  4. ماوراء

    شکریہ اجمل چچا۔
    چلیں، اللہ نے تو ایک ہی مذہب بنایا۔۔۔ لیکن ہم نے تو دنیا میں کئی مذاہب بنا رکھے ہیں۔ :sad:

  5. SHUAIB

    سبھی مذاہب خود انسانوں کے بنائے ہیں ۔ آج کسی کے پاس اتنا ٹائم نہیں کہ ایک آدھ مذہب کی بنیاد رکھے ویسے بھی ایسی باتیں لطیفہ جیسا لگتا ہے ۔
    آج جتنے بھی مذاہب ہیں سب پچھلے زمانوں کی ایجاد ہیں جب لوگوں کے پاس کرنے کو کچھ کام دھام نہ تھا یوں بیٹھے بیٹھے خاندان کو فرقوں اور علاقوں میں بانٹ دیا اور آگے چل کر باقاعدہ ایک مقدس مذہب بن گیا۔
    بچپن کی معصوم ذہنیت کو جو بتاؤ بڈھاپے تک اسی پر قائم رہتے ہیں چاہے جتنی بڑی کرامت چمتکاری دیکھلیں یہ اپنے ایمان سے غافل نہیں ہوتے ۔ ایسا ہی ہر قسم کے مذہبی کا تقاضہ ہے، ہر ایک کو اپنا مذہب پیارا ہوتا ہے اور دوسرے مذاہب سے ایسا نفرت کرتے ہیں جیسے کیچڑ گوبر لگے ۔
    مثال کے طور پر شیعہ مسلم سے کہیں کہ ایک لاکھ کے عوض سنی مسلم ہوجائے، مجال ہے جو یہ اپنا سر کٹا دے مگر سنی مسلم اختیار کرنے سے انکار کر دے ۔ یہی حال سنی مسلم اور دیگر فرقہ جات اور سبھی مذاہب کے ماننے والوں کا ہے ۔ سبھی اپنی کمیونٹی سے اتنا خوف کھاتے ہیں کہ خدا سے زیادہ اپنوں سے ڈر لگتا ہے ۔ سبھی کا ضمیر سچی گواہی بھی دے مگر مجبوری ہے کہ ہر ایک اپنی اپنی کمیونٹی میں رہنا پسند کرتے ہیں ۔
    سچ بات یہ ہے کہ لوگ مذہب پرست نہیں بلکہ دوسروں کے لئے اپنے مذہب کے واسطے جنون پرست ہوجاتے ہیں ۔ انہیں کچھ نہیں سوجھتا بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ لوگ ہماری سنیں اور ہمارے ہوکر رہیں، انہیں خدا کا ذرا ڈر و خوف نہیں مگر یہ دوسروں کو اکثر خدا کے عذاب سے ڈراتے رہتے ہیں بالکل پولیس والوں کی طرح خود کرو تو کچھ نہیں دوسروں کو فورا پکڑ لیجاتے ہیں ۔

    نوٹ :‌ یہاں میں نے کسی مذہب فرقہ کی تضحیک و تعریف نہیں کی ہے اور یہ تبصرہ خاص آپ کے لئے ہے، اچھا ہے پڑھ لینے کے بعد حذف بھی کردیں ۔

    شعیب ، بھارت سے

  6. اجمل Post author

    شعیب صاحب
    آپ کا تبصرہ آپ کے اندر ایک ایسے خوف کی غمازی کر رہا ہے جو آپ کو حقائق پہچاننے نہیں دیتا ۔ میری دعا ہے کہ آپ کا یہ خوف دُور ہو تا کہ آپ زندگی کا صحیح لُطف اُٹھا سکیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)