لاہور میں دھماکہ

لاہور میں ہائی کورٹ کے باہر آج دوپہر دھماکہ ہوا جس میں کم از کم 25 اشخاص ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے ۔ ہلاک ہونے والوں میں 20 پولیس والے ہیں ۔ یہ دھماکہ اس مقام پر ہوا جہاں کچھ دیر بعد وکیلوں کی احتجاجی ریلی پہنچنے والی تھی۔ وکیل ہر جمعرات کو احتجاجی مظاہرہ اور عدالتوں کا بائیکاٹ کرتے ہیں ۔ وکیلوں کی ایک ریلی ایوان عدل سے ہائی کورٹ کی جانب روانہ ہوچکی تھی جبکہ ہائی کورٹ بار ایسوس ایشن کا اجلاس ختم ہونے کے بعد یہ اعلان ہو چکا تھا کہ وکیل ریلی کے لیے باہر نکلیں لیکن اسی دوران ایک بڑے دھماکے کی آواز سنائی دی ۔

This entry was posted in خبر on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

2 thoughts on “لاہور میں دھماکہ

  1. shahidaakram

    محترم اجمل انکل جی
    السلامُ عليکُم
    انکل جی کيا اب ہم صرف ان بم دھماکوں پر اپنی آرا دينے تک ہی رہ گۓ ہيں آۓ دن ہونے والے ان خُود کُش بم دھماکوں نے نا صرف بے گُناہوں کے خُون سے زمين رنگين کی ہے بلکہ عام انسان کو اتنا بے بس کر ديا ہے کہ ہر پل پُل صراط سے گُزرنے کی سی کيفيّت ہے کاش کہ کوئ اس مُستقل عزاب سے نکلنے کا راستہ بتا سکے جس سے ہم ہر لمحے گُزر رہے ہيں کون جانے اگلا آ نے والا دن ہمارے لۓ کيا لے کرآتا ہے مُسلمان ہيں تو اس بات پر ايمان ہے کہ جو رات قبر ميں آنے والی ہے وہ باہر نہيں آ سکتی پھر بھی شايد
    موت کا ايک دن مُعيّن ہے
    نيند کيُوں رات بھر نہيں آتی :roll:
    والا حساب ہے
    دُعاگو
    شاہدہ اکرم

  2. اجمل Post author

    شاہدہ اکرم صاحبہ
    میں ان بے حس اور بیوقوف یا پاگل لوگوں میں سے ہوں جسے اللہ کی مہربانی سے موت سے ڈر نہیں لگتا ۔ شائد اس لئے کہ میں کئی بار موت کو بہت قریب سے دیکھ چکا ہوں ۔ بار بار مرنے والا موت مانگ کر بھی نہیں مرتا اور اللہ سے ڈرنے والا موت سے نہیں ڈرتا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)