تمام انسان برابر ہیں سوائے ۔ ۔ ۔

تمام انسان برابر ہیں سوائے اس کے کوئی تقوٰی کی وجہ سے اعلٰی ہو ۔

راشد کامران صاحب کے ایک تبصرہ “بر صغیر ۔ جہاں‌ ہر عمل اور ہر بات صرف اپنی یا اپنی ذات کی بڑائی دکھانے کے لیے کی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ یہ سلسہ تبھی تھمے گا جب ہم “تقوی”‌ کے عزت کا میعار بنائیں” نے مجھے یہ مضمون لکھنے پر مائل کیا ۔ ‌

تقوٰی کے متعلق محققین علماء نے کتابیں لکھی ہیں جن کا احاطہ کرنا مجھ جیسے دو جماعت پاس کے بس کی بات نہیں ۔ میں تو اتنا جانتا ہوں کہ تقوٰی کے معنی ہیں چھوڑ دینا اور دین اسلام کے تحت تقوٰی کا مطلب ہوا کہ ہر اس چیز اور عمل کو چھوڑ دینا جس کا تعلق اللہ کے ساتھ نہ ہو ۔ دوسرے طریقہ سے بیان کریں تو تقوٰی کا مطلب ہے کہ ہر وہ چیز اور عمل چھوڑ دینا جس کے چھوڑنے کا اللہ نے کہا ہے اور ہر اس چیز اور عمل کو اپنا لینا جس کا تعلق اللہ کی خوشنودی سے ہو ۔

مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا فرض ہے کہ ہم اللہ کی اطاعت کریں ۔ اطاعت اس طرح کی نہیں جیسی ہم بازاروں مں اور دفتروں میں کرتے ہیں کہ سامنے تو بہت اچھے اور پیچھے کسی کی پرواہ نہیں ۔ ہاں اگر ہم یہ یاد رکھیں اللہ ہر وقت دیکھ رہے ہیں اور فرشتے ہمارے عمل کی مکمل سند تیار کر رہے ہیں جس کیلئے ہماری پیشی ہو گی اور ہر غلط کام کی سزا بھُگتنا پڑے گی تو پھر ہم کبھی بھول کر بھی کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جو اللہ کے حکم کے خلاف ہو یا جس سے اللہ کی خوشنودی حاصل نہ ہو ۔ ایسا کرنے والا آدمی ہی متقی ہے ۔ اور متقی بہادر اور مطمئن ہوتا ہے ۔

قرآن شریف سے پہلے کی الہامی کتب یعنی زبور ۔ تورات اور انجیل میں بہت تحریفات کی جا چکی ہیں لیکن ابھی بھی ان میں کچھ باتیں صحیح حالت میں موجود ہیں ۔ آج لوگوں کی اکثریت کا یہ حال ہے کہ بمطابق انجیل “انہیں دوسروں کی آنکھ کا تنکا تو نظر آتا ہے لیکن وہ اپنی آنکھ کے شہتیر کو نہیں دیکھ سکتے”۔ تورات میں ہے “ہم چیزوں کو اس طرح نہیں دیکھتے جس طرح کی وہ ہیں بلکہ اس طرح دیکھتے ہیں جس طرح کے ہم ہیں”۔ ہمارے ہاں ایک محاورہ عام استعمال ہوتا ہے “آئینہ میں اپنی ہی شکل نظر آتی ہے”۔

اگر دوسروں کے اندر عیب تلاش کرنا اور دوسروں کے عیب گننا چھوڑ کر اپنی اصلاح پر توجہ دی جائے تو انسان تقوٰی کی منزل کو پہنچ سکتا ہے ۔

This entry was posted in روز و شب, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)