لال مسجد کا اسلحہ

آپریشن سائلنس یا سن رائز لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس پر قبضہ کرنے اور وہاں جو لوگ محصور تھے انہیں مارنے اور گرفتار کرنے کے لحاظ سے 12 جولائی کو مکمل ہو چکا تھا جبکہ صحافیوں کے پہلے گروہ کو 14 جولائی ڈھائی تین بجے بعد دوپہر دورہ کرایا گیا جس میں انہیں صرف لال مسجد کے ہال اور ابتدائی دنوں میں بنے ہوئے تنگ برآمدے تک محدود رکھا گیا ۔ انہیں لال مسجد کے ہال میں بہت سا اسلحہ دکھایا گیا جو ترتیب سے سجایا گیا تھا ۔ اس میں مختلف الاقسام اسلحہ خفیفہ [variety of Small Arms or Light Weapons] اور مختلف الاقسام ذخیرہ [Ammunition of different calibers] تھا ۔ ان میں شامل تھے خودکار ہلکی بندوقیں [Light Machine Guns] ۔ خود کار متوسط بندوقیں [Medium Machine Guns] ۔ خود کار بھاری بندوقیں [Anti-Aircraft Heavy Machine Guns] جو ہوائی جہازوں کے خلاف استعمال کی جاتی ہیں ۔ کندھے سے چلایا جانے والا ہاوَن [Shoulder-firing Rocket Launchers] ۔ ہر قسم کی خودکار بندوقوں کی تعداد درجنوں میں تھی ۔ کندھے سے چلایا جانے والے ہاوَن چار پانچ تھے ۔ ایک خاصہ بڑا ڈھیر [heap] ذخیرہ خفیفہ [Machine gun Cartridges ] کا تھا اور ٹینک شِکن آر پی جی [Rocket Propelled Anti-Tank Grenades ] بھی تھے ۔

لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس میں دس دن محصور رہ کر باہر سے آنے والی گولیوں اور گولوں کا نشانہ بن کر مر جانے والے بقول حکومت کے دہشتگرد اس اسلحہ کی مدد سے نہ صرف فوجیوں بلکہ ان کی بکتر بند گاڑیوں [Tanks and Armoured Personnel Carriers] کو بھی آسانی سے تباہ کر سکتے تھے اور اُوپر سے گذرنے والے ہیلی کاپٹر اور امریکہ کا دیا ہوا بغیر طیّار [Pilotless] کے جاسوس طیّارہ [Spy aircraft] بھی گرا سکتے تھے ۔

جب اُن کی جان پر بنی تھی تو اگر اسلحہ اُن کے پاس ہوتا تو وہ ضرور اسے استعمال کرتے  

دوسری چیز جو نظر آئی یہ ہے کہ تمام اسلحہ چمک رہا تھا جیسے ابھی کسی دار [Show Room] سے لایا گیا ہو جہاں اس کو نمائش کیلئے رکھا گیا تھا ۔ اتنی تو رائفل جی تھری ۔ ایم پی تھری ۔ مشین گن ایم جی وَن اے تھری پی اور ایم جی تھری اُس وقت بھی نہیں چمک رہی ہوتیں جب انہیں بنانے کے بعد پاکستان آرڈننس فیکٹری سے فوج کے گودام میں بھیجا جاتا ہے ۔ صرف نمائش میں رکھنے کیلئے یا ڈرِل ۔ پریڈ یا ابتدائی تربیت [Drill, Parade or initial Training] کیلئے تیار کیا گیا اسلحہ اس طرح چمکایا جاتا ہے ۔ البتہ ڈرل ۔ پریڈ یا ابتدائی تربیت کیلئے تیار کئے گئے اسلحہ سے گولی نہیں چلائی جا سکتی ۔

لال مسجد میں اسلحہ پہنچانے والے حکومتی نمائندوں کی عقل میں نہ آیا کہ اتنا زیادہ اسلحہ اور وہ بھی چمک دمک والا لال مسجد میں جمع کر کے وہ بجزو  اپنے آپ کے کسی کو بیوقوف نہیں بنا رہے ؟

This entry was posted in گذارش on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)