ایف ۔ 8 مرکز میں دھماکہ

اسلام آباد کی ضلع کچہری ایف 8 مرکز میں ہے جو ہمارے گھر سے 350 میٹر کے فاصلہ پر ہے ۔ آج اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کی دعوت پر چیف جسٹس صاحب نے وکلاء کنوینشن سے خطاب کرنا تھا ۔ ہزاروں لوگ مرکز میں پہنچ چکے تھے جن میں زیادہ تعداد وکلاء کی تھی ۔ اس کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے لوگ اور عام شہری بھی تھے ۔ رات آٹھ بجے کے بعد سیاسی جماعتوں کے پنڈال میں زور دار دھماکہ ہوا جس کی دھمک ہمار ے گھر میں بھی محسوس ہوئی ۔ چیف جسٹس صاحب کا جلوس ابھی دور تھا ۔

اس دھماکہ کے نتیجہ میں 11 افراد ہلاک اور  50 زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 20 کی حالت تشویشناک ہے ۔ مرنے والوں میں ایک خاتون اور دو بچیاں بھی شامل ہیں ۔ عجیب بات یہ ہے کہ چیف جسٹس صاحب کیلئے سیکیورٹی کا اتنا ناقص انتظام تھا جبکہ کے علاقے کا تھانہ اسی مرکز میں ہے اور پولیس اور سیکیورٹی کے بڑے افسران کے دفاتر بھی اسی مرکز میں ہیں ۔

This entry was posted in خبر on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

7 thoughts on “ایف ۔ 8 مرکز میں دھماکہ

  1. shahidaakram

    ميرا مُلک واقعی دہشت گردوں کے گھيرے ميں بہت بُری طرح آ چُکا ہے ہر آن بدلتی صُورت حال نے کُچھ اس طرح دل و دماغ کو جکڑ ليا ہے کہ کُچھ سمجھ ميں نہيں آتا کب کہاں کيا ہو جاۓ،ليکن دو مُختلف باتوں نے دماغ کو چکرا ديا ہے نمبر ايک اس وقت جو مُلک کے حالات ہيں ان جلسے جلُوسوں کو اگر کُُچھ وقت کے لۓ ٹال ديا جاتا تو کيا يہ اُن کے لۓ بھی اور عام عوام کے لۓ بھی بہتر نا ہوتا ليکن بُرا ہو اس چيز کا جس کو اقتدار يا کُرسی کہيں اور ہُوا کيا اب بھی مرے تو کون وہی عام عوام جن کا شايد کام ہی يہی ہے اور دُوسری بات کہ سيکيوريٹی کے نام پر کيا ڈرامہ ہُوا يعنی انسانی جانوں کا کوئ مول ہی نہيں تھا شايد جبھی تو يہ نہيں سوچا گيا کہ اُن کی حفاظت بھی کسی کی ذمّے داری ہے اور اگر کسی اور کو نہيں تو جلسہ کرنے والوں کو ہی خيال ہونا چاہيۓ تھا نا يا ہم ہر کام ہی اللہ توّکل کرنے کے عادی ہو گۓ ہيں جبکہ اللہ تعاليٰ نے دماغ شايد استعمال کرنے کو ہی ديا تھا بيٹھے بٹھاۓ پھر اتنے بے گُناہ بے قصُور لوگ کسی کی کُرسی کی چاہ ميں مارے گۓ بلا وجہ ،کون ہے اس سب کا ذمّے دار،کوئ بتاۓ گا کيا؟

  2. ساجد

    جی محترمہ آپ نے حالات کی بالکل ٹھیک تصویر کشی کی ہے۔ ایک عجیب نفسا نفسی کا عالم ہے۔ ہر کوئی حالات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے چکروں میں اپنے ہی جیسوں کو رگید کر آگے بڑھنا چاہ رہا ہے۔ شاید ہم ایک قوم کی حیثیت سے “شتر بے مہار“ کے مقولے کا جیتا جاگتا ثبوت بن چکے ہیں۔

  3. خاور

    خود کش حملوں کو بنیاد بنا کر اسلام کو الزام دینے والے لوگوں کو لیے لمحه فکریه که اب بتائیں که یه کیا ہے ؟؟
    یه حمله کرنے والا کون تها ؟
    اس کا رنگ نسل کیا تهی ؟
    اس کا مقصد کیا تها؟
    یا صرف اور صرف کسی ایجینسی کا کام تها ؟
    مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے ؟
    ہر واردات ککی تحقیقات اس بات پر کی جاتیں هیں که اس سے فائده کس کو هو گا
    اس بم دهماکے میں کس کے فائدے هیں یا هونے کے امکان هیں ؟
    مرنے والے تو سارے میرے جیسے عام بندے هیں
    یعنی که اصلی پاکستانی
    یعنی که بلڈی سیویلین ـ

  4. اجمل

    شاہدہ اکرم صاحبہ
    عوام کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ عوام سے ٹیکس کی مد میں وصول کی گئی دولت پر شہنشاہوں کی زندگی غذارنے والے اپنے سڑک پر آنے سے پہلے آدھے شہر کو مفلوج کر دیتے ہیں اور جو احتجاج کا راستہ اختیار کرے اسے دہشتگرد قرار دے کر اس طرح قتلِ عام کرتے ہیں جسطرح انہوں نے کبھی حملہ آور دشمن کے ساتھ بھی نہیں کیا ۔

    اس سب کے ذمہ دار حکومت اور عوام دونوں ہیں مگر زیادہ قصور عوام کا ہے جو حد سے زیادہ خود غرض اور کوتاہ اندیش ہو چکے ہیں ۔ہماری قوم کی حالت تو یہ ہے کہ حکومت نے اپنی عیاشیوں کیلئے ٹیکس لگا لگا کر اشیاء صرف کی قیمتیں سات سالوں میں تین گنا کر دی ہیں اور عوام ہیں کہ حق مانگنے کی بجائے کام چلانے کیلئے ناحق راستے [چور دروازے] ڈھونڈنے میں لگے رہتے ہیں

    رہا جلسہ جلوس ۔ جب تک بھاری تعداد میں جلسے جلوس نہیں ہوں گے تب تک حکمرانوں پر کچھ اثر ہونے کی اُمید نہیں ۔ اگر ہماری قوم زندہ ہوتی تو اسی وقت سب کی سب سڑکوں پر نکل آتی جب جرنیلوں نے بندوق کے زور پر ایک منتخب حکومت کو ختم کیا تھا ۔

    عوام کی جان کی کوئی قیمت حکمرانوں کی نظر میں ہوتی تو جامعہ حفصہ کی ایک ہزار بیگناہ طالبات تو اس طرح نہ بھُون دیا جاتا ۔

  5. اجمل

    خاور صاحب
    حملہ کرنے والا کون تھا اللہ ہی جانتا ہے یا پھر وہ جس نے حملہ کروایا ۔ جتنے خود کُش حملے فلسطیں اور عراق میں مسلمان فدائین نے کئے حملہ کے بعد انہوں نے اس کا اعلان کر دیا اور بعض اوقات جودکُش حملہ آور کی تصویر بھی شائع کی ۔ باقی خود کُش حملے انفرادی ہوتے ہیں یا ایجنسیاں کرواتی ہیں جیے امریکہ کی سی آئی اے ۔ اسرائیل کی موساد ۔ بھارت کی را ۔ ہو سکتا ہے اب پاکستان کی کسی ایجنسی نے بھی یہ کام شروع کر دیا ہو ۔ آخر امریکہ ہمارا بادشاہ جو ہوا ۔

    آجکل تمام بڑی طاقتیں مسلمانوں کے خلاف اس طرح سے صف آرا ہیں کہ مسلمانوں کو خود کم مار رہی ہیں اور مسلمانوں سے زیادہ مروا رہی ہیں ۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ اس دھماکے کا مقصد پاکستان میں بہت سے دہشتگردوں کی موجودگی ثابت کرنا ہو سکتا ہے ۔ حالات کو خراب کرنے کی وجہ ملک میں ایمرجنسی نافذ کر کے پرویز مشرف کی حکومت کو طول دینا بھی ہو سکتا ہے ۔

    مندرجہ ذیل میں سے ایک بات لازمی طور پر ہے
    حکومت کا نظم و نسق بہت ہی ناقص ہے یعنی حکومے بہت زیادہ نااہل ہے
    یہ سب کچھ حکومت خود کر رہی ہے یا کروا رہی ہے ۔

  6. UBD

    اجمل صاحب سلام و علیکم
    آپ کی سب باتیں صحیع ہیں کہ تمام بڑی طاقتیں مسلمانوں کے خلاف صف آرا ہیں۔” لیکن کیا کوئی بھی مذہب اس کے پیروکاروں کو مار کر ختم کیا جا سکتا ہے۔ دین اور مذہب تو ہماری روحوں میں ہوتا ہے” ۔

    source:anjanisikhamoshyaan.wordpress.com

    جہاں تک ہماری موجودہ حکومت کی نااہلی کا سوال ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت ناسور ہو گئی ہے پاکستان کے لیے اور پاکستان کی عوام کی لیے۔ لیکن موجودہ حکومت سے پہلے جتنی بھی حکومتیں آئی پندرہ سے بیس سالوں میں انہوں نے پاکستان اور اس کی غریب عوام کےلیے کتنا کام کیا۔ ابھی کل کو موجودہ حکومت ستبردار ہو کر شفاف انتخابات کراتی ہے(جو کہ ناممکنات میں سے ہے) جو اگلی حکومت آئے گی کیا آپ کے خیال میں وہ محب وطن اور پاکستان کی غریب عوام کی ہمدرد ہو گی۔ پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ پچھلی حکومتوں کتنی عوام ہمدرد حکومتوں تھی اور انہوں نے غریب عوام کی لیے کتنے کام کیے۔ سب حکومتیں ایسےگندے حربے استعمال کرتی ہیں اپوزیشن کو نیچا دکھانے اور اپنی کرسی سلامت رکھنے کیلیے۔ شاید ہم پاکستانی ہی بے حس ہو گئے ہیں۔ اور کچھ مجبور بھی ہیں وڈیرے، سائیں اور خان کے ہاتھوں۔ سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ زمانہ اورلوگوں نے ہم کو کیا دیا؟سوال یہ ہونا چاہیے کہ ہم نے زمانہ اورلوگوں کو کیا دیا؟

    پہلی بار آپ کے بلاگ پر لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ کوئی کر بیٹھو تو معاف کر دیجیے گآ۔

  7. اجمل

    ناتعلیم یافتہ مگر مہربان صاحب UBD
    میرا روزنامچہ پڑھنے اور تبصرہ کرنے کا شکریہ ۔
    آپ نے درست کہا کہ انسان ختم ہو سکتے ہیں لیکن [اللہ کا] دین ختم نہیں ہوتا ۔ میں نے اس میں معمولی مگر اہم ترمیم کر دی ہے ۔

    غلط حکومت کے آنے میں عوام بھی برابر کے قصوروار ہیں ۔ ہم صرف خودغرضی کے ہاتھوں مجبور ہیں ۔ ہم نے کبھی حق کیلئے جدوجہد نہیں کی لیکن جو ہمارا حق نہیں ہوتا اسے حاصل کرنے کیلئے ہم ناجائز طریقے استعمال کرتے ہیں اور اسے اپنی مجبوری بتا کر اپنے آپ کو بیوقوف بناتے ہیں ۔ ہم روزِقیامت کو قائم ہونے والی عدالت کو بھول چکے ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)