اور اس کی کایا پلٹ گئی

سب نام فرضی ہیں ۔ آج سے پنتالیس چھیالیس برس پہلے کا واقعہ ہے جب میں انجنئرنگ کالج لاہور میں پڑھتا تھا۔ ولید ایک لاپرواہ لڑکا تھا۔ سلام کرنا یا شکریہ ادا کرنا اس کا شیوا نہیں تھا ۔ کسی سے کوئی چیز لیتا تو واپس لینے کے لئے اس کے پیچھے پھرنا پڑتا۔ اتنا لاپرواہ کہ بعض اوقات کتاب اس وقت واپس کرتا جب پھٹ جاتی۔ پھر اچانک اس میں تبدیلی آئی جس نے سب کو شش و پنج میں ڈال دیا۔ جب ملتا تو حلیم طبع میں سلام کرتا۔ وہ چیز عاجزی سے مانگتا اور ملنے پر شکریہ ادا کرتا۔ جلدی خود آ کر شکریہ کے ساتھ واپس کرتا۔وقت گزرتا گیا مگر عقدہ نہ کھلا۔ آخر ایک دن ولید کے کچھ دوستوں نے تبدیلی کی وجہ پوچھ ہی لی ۔ ولید کہنے لگا والدین کی اکلوتی اولاد ہونے کے باعث خاندان کے سب افراد میری ہر خواہش پوری کرتے تھے جس سے میں حیوان بن گیا تھا۔ مجھے جمیل نے انسان بنا دیا۔ جن دنوں اچھی ڈرائینگ شیٹس نہیں مل رہی تھیں مجھے معلوم ہوا کہ سینئر جماعت کے جمیل کو ایک دوکان کا پتہ ہے جہاں سے شیٹس مل سکتی ہیں۔ میں جمیل پاس گیا تو میرے ساتھ جانے کو تیار ہو گیا اور کہا میرا سائیکل کوئی لے گیا ہے اس لئے کل چلیں گے۔ میں نے واپس آ کر ایک دوست کا سائیکل لیا اور پھر جمیل کے پاس گیا تو وہ بیٹھا پڑھ رہا تھا مگر میرے ساتھ چل پڑا ۔

سائیکل پر چڑھتے ہی اتر کر کہنے لگا کہ اس کے پہیئے میں ہوا بہت کم ہے اس لئے سائیکل خراب ہو جائے گا۔ میں نے کہا سائیکل میرے دوست کا ہے تم کیوں فکر کرتے ہو ؟ چلو میرا نیا سائکل تم لے لو اور دوسرا میں چلاتا ہوں مگر جمیل نہ مانا اور کہنے لگا دوسروں کی چیز کی اپنی چیز سے زیادہ دیکھ بھال کرنا چاہیئے۔ خیر ایک کلومیٹر پیدل چل کر سائیکل مرمت کی دکان آئی ہوا بھروائی اور روانہ ہوئے۔ میں سارا راستہ کڑہتا اور دل میں جمیل کو کوستا رہا کہ خواہ مخوا ایک کلومیٹر پیدل چلا دیا۔ واپس آئے اور میں اپنے کمرہ میں آ گیا۔

جمیل کا رویہ بالخصوص اس کے الفاظ ” دوسروں کی چیز کی اپنی چیز سے زیادہ دیکھ بھال کرنا چاہیئے”۔ میرے دماغ پر سوار ہو گئے”۔ میں سوچ میں پڑھ گیا اور کچھ دن بعد احساس ہوا کہ جمیل انسان ہے اور میں جانور ۔ سو میں جمیل کا پیروکار بن گیا تا کہ میں بھی انسان بن جاؤں۔

This entry was posted in روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

4 thoughts on “اور اس کی کایا پلٹ گئی

  1. Asma Mirza

    Well, what he said was very right, one can use his/her own thing even carelessly … but if u r using someelse’s thing u should be very careful about the usage!

    It’s part of one’s manners dont you thinks so?

  2. اجمل

    If I remove “ye” from Jameel and Put “Alif” in the beginning of the remaining word, then what will be your advice for me ?

  3. Anonymous

    If I remove “ye” from Jameel and Put “Alif” in the beginning of the remaining word, then what will be your advice for me ?

    eeeeeeeeeheeeeeeeeeeeeeehhheheheheh
    eeeheeeehehehehehhheehehheehehehehheeeeeeeeeeeeeehhhhhheehehehhehehheh

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)