(یہ نظم میں نے نومبر 2015ء میں تھی)
سُنو ۔ یہ فخر سے اِک راز ہم بھی فاش کرتے ہیں
کبھی ہم منہ دَھوتے تھے مگر اب وَاش کرتے ہیں
تھا بچوں کیلئے بھَوسہ مگر اب کِس ہی کرتے ہیں
ستاتی تھیں کبھی یادیں مگر اب مِس ہی کرتے ہیں
چہل قدمی کبھی کرتے تھے مگر اب واک کرتے ہیں
کبھی کرتے تھے ہم باتیں مگر اب ٹاک کرتے ہیں
کبھی جو امّی ابُو تھے ۔ وہی اب مَمی پاپا ہیں
دعائیں جو دیتے تھے وہ بُڈھے اب سیاپا ہیں
کبھی جو تھا غُسلخانہ ۔ بنا وہ باتھ رُوم آخر
بڑھا جو ایک اور درجہ ۔ بنا وہ واش رُوم آخر
کبھی تو دَرد ہوتا تھا ۔ مگر اب پین ہوتا ہے
پڑھائی کی جگہ پر ۔ اب تو نالج گین کرتے ہیں
سُنو ۔ یہ فخر سے اِک راز ہم بھی فاش کرتے ہیں
کبھی ہم منہ دَھوتے تھے مگر اب وَاش کرتے ہیں
تھا بچوں کیلئے بھَوسہ مگر اب کِس ہی کرتے ہیں
ستاتی تھیں کبھی یادیں مگر اب مِس ہی کرتے ہیں
چہل قدمی کبھی کرتے تھے مگر اب واک کرتے ہیں
کبھی کرتے تھے ہم باتیں مگر اب ٹاک کرتے ہیں
کبھی جو امّی ابُو تھے ۔ وہی اب مَمی پاپا ہیں
دعائیں جو دیتے تھے وہ بُڈھے اب سیاپا ہیں
کبھی جو تھا غُسلخانہ ۔ بنا وہ باتھ رُوم آخر
بڑھا جو ایک اور درجہ ۔ بنا وہ واش رُوم آخر
کبھی تو دَرد ہوتا تھا ۔ مگر اب پین ہوتا ہے
پڑھائی کی جگہ پر ۔ اب تو نالج گین کرتے ہیں