انصاف ۔ گواہی

اپنے بلاگ پر میری 16 اکتوبر 2005ء کی تحریر

سورۃ 4 النّسآء آیۃ 58 ۔ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو ۔ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو ۔ اللہ تم کو نہائت عمدہ نصیحت کرتا ہے اور یقینا اللہ سب کچھ دیکھتا اور سنتا ہے

سورۃ 4 النّسآء آیۃ 135 ۔ اے لوگو جو ایمان لاۓ ہو ۔ انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو ۔ فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب ۔ اللہ تم سے زیادہ ان کا خیرخواہ ہے ۔ لہٰذا اپنی خواہشِ نَفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو ۔ اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے ۔

رمضان کریم

سب مُسلمانوں کو رمضان کريم مبارک
اللہ الرحمٰن الرحيم آپ سب کو اور مجھے بھی اپنی خوشنودی کے مطابق رمضان المبارک کا صحیح اہتمام اور احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے
روزہ صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک بھوکا رہنے کا نام نہیں ہے بلکہ اللہ کے احکام پر مکمل عمل کا نام ہے ۔ اللہ ہمیں دوسروں کی بجائے اپنے احتساب کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں حِلم ۔ برداشت اور صبر کی عادت سے نوازے

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کا حُکم
سورت 2 ۔ البقرہ ۔ آيات 183 تا 185
اے ایمان والو فرض کیا گیا تم پر روزہ جیسے فرض کیا گیا تھا تم سے اگلوں پر تاکہ تم پرہیزگار ہو جاؤ
چند روز ہیں گنتی کے پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا مسافر تو اس پر ان کی گنتی ہے اور دِنوں سے اور جن کو طاقت ہے روزہ کی ان کے ذمہ بدلا ہے ایک فقیر کا کھانا پھر جو کوئی خوشی سے کرے نیکی تو اچھا ہے اس کے واسطے اور روزہ رکھو تو بہتر ہے تمہارے لئے اگر تم سمجھ رکھتے ہو
‏ مہینہ رمضان کا ہے جس میں نازل ہوا قرآن ہدایت ہے واسطے لوگوں کے اور دلیلیں روشن راہ پانے کی اور حق کو باطل سے جدا کرنے کی سو جو کوئی پائے تم میں سے اس مہینہ کو تو ضرور روزے رکھے اسکے اور جو کوئی ہو بیمار یا مسافر تو اس کو گنتی پوری کرنی چاہیے اور دِنوں سے اللہ چاہتا ہے تم پر آسانی اور نہیں چاہتا تم پر دشواری اور اس واسطے کہ تم پوری کرو گنتی اور تاکہ بڑائی کرو اللہ کی اس بات پر کہ تم کو ہدایت کی اور تاکہ تم احسان مانو

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے رمضان کی فضيلت سورت ۔ 97 ۔ القدر ميں بيان فرمائی ہے
بیشک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں اتارا ہے
اور آپ کیا سمجھے ہیں (کہ) شبِ قدر کیا ہے
شبِ قدر (فضیلت و برکت اور اَجر و ثواب میں) ہزار مہینوں سے بہتر ہے
اس (رات) میں فرشتے اور روح الامین (جبرائیل) اپنے رب کے حُکم سے (خیر و برکت کے) ہر امر کے ساتھ اُترتے ہیں
یہ (رات) طلوعِ فجر تک (سراسر) سلامتی ہے

رحمت دا مینہ پا خدایا

میاں محمد بخش میر پور ریاست جموں کشمیر میں 1246ھ بمطابق 1830ء پیدا ہوئے ۔ انہیں رومیءِ کشمیر کہا جاتا ہے ۔ ان کی زیادہ تر شاعری پنجابی میں ہے لیکن فارسی اور اُردو میں بھی ہے ۔ اشعار کا مجموعہ ”سفر العشق“ جو ”سیف الملوک“ کے نام سے معروف ہوئی انہی کی لکھی ہوئی ہے
سیف الملوک شروع اِس دعا سے ہوتی ہے

رحمت دا مینہ پا خدایا باغ سُکا کر ہریا
بوٹا آس اُمید میری دا کردے میوہ بھریا
مٹھا میوہ بخش اجیہا قدرت دی گھت شِیری
جو کھاوے روگ اس دا جاوے دُور ہووے دلگیری
سدا بہار دئیں اس باغے۔کدے خزاں نہ آوے
ہووَن فیض ہزاراں تائیں ہر بھُکھا پھل کھاوے
نعمت اپنی وی کجھ مینوں بخش شناساں پاواں
ہمت دے دِلے نوں میرے، تیرا شکر بجا لیاواں

پھول کی فریاد

یہ نظم میں نے ساتویں جماعت (1949ء تا 1950ء)کی مرقع ادب میں پڑھی تھی

کیا خطا میری تھی ظالم تو نے کیوں توڑا مجھے
کیوں نہ میری عمر ہی تک شاخ پہ چھوڑا مجھے
جانتا گر اس ہنسی کے دردناک انجام کو
میں ہوا کے گُگُدانے سے نہ ہنستا نام کو
خورشید کہتا ہے کہ میری کرنوں کی محنت گئی
مہ کو غم ہے کہ میری دی ہوئی سب رنگت گئی

پیار ؟

آدمی اپنے پیاروں سے(یعنی بیوی بچوں سے)
”گزشتہ رات مجھے احساس ہوا کہ دنیا میں وہ بھی ہیں جنہیں حقیقتاً میری ضرورت ہے“۔

اُس کے پیاروں میں سے ایک حیرانگی سے بولا “ اچھا ؟ وہ کون ہیں ؟“
آدمی ” مچھر“۔

چھوٹی چوٹی باتیں ۔ خوبصورتی

دساور میں کسی کے توجہ دلانے پر میں نے ایک بہت خوبصورت چہرہ دیکھا لیکن ابھی لمحہ بھی نہیں گذرا تھا کہ مجھے وہ چہرہ بدصورت لگنے لگا ۔ وجہ ؟

خوبصورتی کی کمی کو اخلاق پورا کر سکتا ہے
لیکن
اخلاق کی کمی کو خوبصورتی پورا نہیں کر سکتی

اخلاق کی خوبصورتی مؤثر اور پائیدار ہوتی ہے

میرا دوسرا بلاگ ”حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔ Reality is often Bitter “ گذشتہ ساڑھے 8 سال سے معاشرے کے مختلف پہلوؤں پر تحاریر سے بھرپور چلا آ رہا ہے اور قاری سے صرف ایک کلِک کے فاصلہ پر ہے