سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اور اس کی نشانیاں حدیث کے حوالے سے

294 بار دیکھا گیا

سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام الله رب العزت کے وہ جلیل القدر پیغمبر و رسول ہیں جن کی رفع سے پہلی پوری زندگی زہد و انکساری مسکنت کی زندگی ہے
یہودی ان کے قتل کے درپے ہوئے الله تعالیٰ نے یہودیوں کے ظالم ہاتھوں سے آپ کو بچاکر آسمانوں پر زندہ اٹھالیا
قیامت کے قریب دو فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے ہوئے نازل ہوں گے
دو زرد رنگ کی چادریں پہن رکھی ہوں گی
دمشق کی مسجد کے مشرقی سفید مینار پر نازل ہوں گے
پہلی نماز کے علاوہ تمام نمازوں میں امامت کرائیں گے
حاکم عادل ہوں گے ۔ پوری دنیا میں اسلام پھیلائیں گے
دجال کو مقام لد (جو اسرائیلی فضائیہ کا ایئر بیس تھا اور اب بن گوریاں انٹرنیشنل ایئر پورٹ ہے) پر قتل کریں گے
نزول کے بعد 45 سال قیام کریں گے ۔ طیبہ میں فوت ہوں گے ۔ رحمت عالمﷺ ، حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ کے ساتھ روضہ اطہر میں دفن کئے جائیں گے جہاں آج بھی چوتھی قبر کی جگہ ہے

عیسٰی علیہ السلام کا زندہ اُٹھایا جانا

173 بار دیکھا گیا

سورت 4 النّساء آیات 155 تا 158 ۔ آخر کار ان کی عہد شکنی کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ انہوں نے الله کی آیات کو جھٹلایا اور متعدد پیغمبروں کو ناحق قتل کیا اور یہاں تک کہا کہ ”ہمارے دل غلافوں میں محفوظ ہیں“۔ حالانکہ درحقیقت ان کی باطل پرستی کے سبب سے الله نے ان کے دِلوں پر مہر لگا دی ہے اور اسی وجہ سے یہ بہت کم ایمان لاتے ہیں ۔ پھر اپنے کفر میں یہ اتنے بڑھے کہ مریم پر سخت بہتان لگایا اور خود کہا کہ ”ہم نے مسیح عیسیٰ ابن مریم ۔ رسول الله کو قتل کر دیا ہے حالانکہ فی الواقع انہوں نے نہ اُس کو قتل کیا نہ صلیب پر چڑھایا بلکہ معاملہ ان کے لئے مُشتبہ کر دیا گیا اور جن لوگوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا ہے وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں ۔ ان کے پاس اس معاملہ میں کوئی علم نہیں ہے ۔ محض گمان ہی کی پیروی ہے ۔ انہوں نے مسیح کو یقینا قتل نہیں کیا ۔ بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا ۔ الله زبردست طاقت رکھنے والا اور حکیم ہے

ختمِ نبوّت منطقی حوالہ 2 ۔ نبی کب مبعوث ہوتے ہیں ؟

244 بار دیکھا گیا

نبوت کوئی ایسی صفت نہیں ہے جو ہر اُس شخص میں پیدا ہو جایا کرے جس نے عبادت اور عملِ صالح میں ترقی کر کے اپنے آپ کو اس کا اہل بنا لیا ہو ۔ نہ یہ کوئی ایسا انعام ہے جو کچھ خدمات کے صِلے میں عطا کیا جاتا ہو ۔ بلکہ یہ ایک منصب ہے جس پر ایک خاص ضرورت کی خاطر الله تعالیٰ کسی شخص کو مقرر کرتا ہے ۔ وہ ضرورت جب داعی ہوتی ہے تو ایک نبی اس کے لئے مامور کیا جاتا ہے اور جب ضرورت نہیں رہتی تو خواہ مخواہ انبیاء پر انبیاء نہیں بھیجے جاتے
قرآن مجید سے جب ہم یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نبی کے تقرر کی ضرورت کِن کِن حالات میں پیش آئی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ صرف چار حالتیں ہیں جن میں انبیاء مبعوث ہوئے ہیں
(1) کسی خاص قوم میں نبی بھیجنے کی ضرورت اس لئے کہ اس میں پہلے کبھی کوئی نبی نہ آیا تھا اور کسی دوسری قوم میں آئے ہوئے نبی کا پیغام بھی اس تک نہ پہنچ سکتا تھا
(2) نبی بھیجنے کی ضرورت اس وجہ سے ہو کہ پہلے گزرے ہوئے نبی کی تعلیم بھُلا دی گئی ہو یا اس میں تحریف ہو گئی ہو اور اس کے نقش قدم کی پیروی کرنا ممکن نہ رہا ہو
(3) پہلے گزرے ہوئے نبی کے ذریعہ مکمل تعلیم و ہدایت لوگوں کو نہ ملی ہو اور تکمیل دین کے لئے مزید انبیاء کی ضرورت ہو
(4) ایک نبی کے ساتھ اس کی مدد کے لئے ایک اور نبی کی حاجت ہو
اب یہ ظاہر ہے کہ ان میں سے کوئی ضرورت بھی نبی صلی الله علیہ و سلم کے بعد باقی نہیں رہی ہے
قرآن خود کہہ رہا ہے کہ
وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ (سورت 21 الانبیاء آیت 107) ۔ ترجمہ ۔ اے نبی ﷺ ، ہم نے تو تم کو دنیا والوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے اور دنیا کی تمدّنی تاریخ بتا رہی ہے کہ آپﷺ کی بعثت کے وقت سے مسلسل ایسے حالات موجود رہے ہیں کہ آپﷺ کی دعوت سب قوموں کو پہنچ سکتی تھی اور ہر وقت پہنچ سکتی ہے ۔ اس کے بعد الگ الگ قوموں میں انبیاء آنے کی کوئی حاجت باقی نہیں رہتی
قرآن اس پر بھی گواہ ہے اور اس کے ساتھ حدیث و سیرت کا پورا ذخیرہ اس امر کی شہادت دے رہا کہ حضور صلی الله علیہ و سلم کی لائی ہوئی تعلیم بالکل اپنی صحیح صورت میں محفوظ ہے ۔ اس میں مسخ و تحریف کا کوئی عمل نہیں ہوا ہے ۔ جو کتاب آپ لائے تھے اس میں ایک لفظ بھی کمی و بیشی آج تک نہیں ہوئی، نہ قیامت تک ہو سکتی ہے ۔ جو ہدایت آپؐ نے اپنے قول و عمل سے دی اس کے تمام آثار آج بھی اس طرح ہمیں مل جاتے ہیں کہ گویا ہم آپﷺ کے زمانے میں موجود ہیں ۔ اس لئے دوسری ضرورت بھی ختم ہو گئی۔

پھر الله تعالٰی قرآن مجید یہ بات بھی صاف صاف کہتا ہے کہ حضورﷺ کے ذریعہ سے دین کی تکمیل کر دی گئی ۔
سورت 5 المآئدہ آیت 3 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ترجمہ ۔ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لئے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے ۔ لہٰذا تکمیل دین کے لئے بھی اب کوئی نبی درکار نہیں رہا
اب رہ جاتی ہے چوتھی ضرورت ۔ اگر اس کے لئے کوئی نبی درکار ہوتا تو وہ حضورﷺ کے زمانے میں آپﷺ کے ساتھ مقرر کیا جاتا ۔ ظاہر ہے کہ جب وہ مقرر نہیں کیا گیا تو یہ بھی ساقط ہو گئی ۔
اب ہمیں معلوم ہونا چاہیئے کہ وہ پانچویں وجہ کونسی ہے جس کے لئے آپﷺ کے بعد ایک نبی کی ضرورت ہو؟
اگر کوئی کہے کہ قوم بگڑ گئی ہے اس لئے اِصلاح کی خاطر ایک نبی کی ضرورت ہے تو ہم اس سے پوچھیں گے کہ محض اِصلاح کے لئے نبی دنیا میں کب آیا ہے کہ آج صرف اس کام کے لئے وہ آئے ؟ نبی تو اس لئے مقرر ہوتا ہے کہ اس پر وحی کی جائے اور وحی کی ضرورت یا تو کوئی نیا پیغام دینے کے لئے ہوتی ہے یا پچھلے پیغام کی تکمیل کرنے کے لئے یا اس کو تحریفات سے پاک کرنے کے لئے ۔ قرآن اور سنتِ محمد صلی الله علیہ و سلم کے محفوظ ہو جانے اور دین کے مکمل ہو جانے کے بعد جب وحی کی سب ممکن ضرورتیں ختم ہو چکی ہیں تو اب اصلاح کے لئے صرف مُصلحین کی حاجت باقی ہے نہ کہ انبیاء کی

ختمِ نبوّت منطقی حوالہ 1 ۔ کسی کو نبی ماننا

182 بار دیکھا گیا

نبوت کا معاملہ ایک بڑا ہی نازک معاملہ ہے ۔ قرآن مجید کی رُو سے یہ اسلام کے ان بنیادی عقائد میں سے ہے جن کے ماننے یا نہ ماننے پر آدمی کے کفر و ایمان کا انحصار ہے
سورت 2 البقرۃ آیت 285 ۔ اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَمَلٰۗىِٕكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ ۣلَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ ۣ وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ڭ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ
ترجمہ ۔ رسول ﷺ اس ہدایت پر ایمان لایا ہے جو اس کے رب کی طرف سے اس پر نازل ہوئی ہے اور جو لوگ اس رسول ﷺ کے ماننے والے ہیں انہوں نے بھی اس ہدایت کو دل سے تسلیم کر لیا ہے ۔ یہ سب اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو مانتے ہیں اور ان کا قول یہ ہے کہ ”ہم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے ، ہم نے حُکم سنا اور اطاعت قبول کی ۔ مالک ۔ ہم تُجھ سے خطا بخشی کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے“۔
ایک شخص نبی ہو اور آدمی اس کو نہ مانے تو کافر اور وہ نبی نہ ہو اور آدمی اس کو مان لے تو کافر ۔ ایسے نازک معاملے میں تو الله تعالیٰ سے کسی بے احتیاطی کی بدرجۂ اولیٰ توقع نہیں کی جا سکتی ۔ اگر محمد صلی الله علیہ و سلم کے بعد کوئی نبی آنے والا ہوتا تو الله تعالیٰ خود قرآن میں صاف صاف اس کی تصریح فرماتا ، رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے ذریعہ سے اس کا کھُلا کھُلا اعلان کراتا اور حضور دنیا سے کبھی تشریف نہ لے جاتے جب تک اپنی اُمت کو اچھی طرح خبردار نہ کر دیتے کہ میرے بعد بھی انبیاء آئیں گے اور تمہیں ان کو ماننا ہو گا ۔ آخر الله اور اس کے رسول ﷺ کو ہمارے دین و ایمان سے کیا دُشمنی تھی کہ حضورﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ تو کھُلا ہوتا اور کوئی نبی آنے والا بھی ہوتا جس پر ایمان لائے بغیر ہم مسلمان نہ ہو سکتے مگر ہم کو نہ صرف یہ کہ اس سے بے خبر رکھا جاتا بلکہ اس کے برعکس الله اور اس کا رسول دونوں ایسی باتیں فرما دیتے جن سے تیرہ سو برس تک ساری اُمت یہی سمجھتی رہی اور آج بھی سمجھ رہی ہے کہ حضورﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے
اب اگر بفرضِ محال نبوت کا دروازہ کھُلا بھی ہو اور کوئی نبی آ بھی جائے تو ہم بے خوف و خطر اس کا انکار کر دیں گے ۔ خطرہ ہو سکتا ہے تو الله تعالیٰ کی باز پُرس ہی کا تو ہو سکتا ہے ۔ وہ قیامت کے روز ہم سے پوچھے گا تو ہم یہ سارا ریکارڈ برسر عدالت لا کر رکھ دیں گے جس سے ثابت ہو جائے گا کہ معاذ الله اس کُفر کے خطرے میں تو الله کی کتاب اور اس کے رسول کی سُنّت ہی نے ہمیں ڈالا تھا ۔ ہمیں قطعاً کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ ریکارڈ کو دیکھ کر بھی الله تعالیٰ ہمیں کسی نئے نبی پر ایمان نہ لانے کی سزا دے ڈالے گا لیکن اگر نبوت کا دروازہ فی الواقع بند ہے اور کوئی نبی آنے والا نہیں ہے اور اس کے باوجود کوئی شخص کسی مُدعی کی نبوت پر ایمان لاتا ہے تو اسے سوچ لینا چاہیئے کہ اس کفر کی پاداش سے بچنے کے لئے وہ کون سا ریکارڈ الله کی عدالت میں پیش کر سکتا ہے جس سے وہ رہائی کی توقع رکھتا ہو ۔ عدالت میں پیش ہونے سے پہلے اسے اپنی صفائی کے مواد کا یہیں جائزہ لے لینا چاہیئے اور ہمارے پیش کردہ مواد سے مقابلہ کر کے خود ہی دیکھ لینا چاہیئے کہ جس صفائی کے بھروسے پر وہ یہ کام کر رہا ہے کیا ایک عقلمند آدمی اس پر اعتماد کر کے کفر کی سزا کا خطرہ مول لے سکتا ہے ؟

ختمِ نبوّت ۔ رسول الله کی حدیث

195 بار دیکھا گیا

سیّدنا محمد صلی الله علیہ وسلّم نے فرمایا کہ ”لا نبی بعدی“ (میرے بعد کوئی نبی نہیں) ۔ یہ الفاظ آنحضرت صلی الله علیہ وسلّم سے حضرت ابو ھریرہ رضی الله عنہ نے صحیح بخاری حدیث نمبر 3455 ، صحیح مسلم حدیث نمبر 1842 میں ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ نے صحیح مسلم حدیث نمبر 2404 میں اور حضرت ثوبان بن بجداد رضی الله عنہ نے سنن ترمذی حدیث نمبر 2219 ، سنن ابی داؤد حدیث نمبر 4252 اور مستدرک حاکم میں حدیث نمبر 8390 میں صحیح اسناد کے ساتھہ بیان کی
جیسا کہ میں 8 ستمبر 2017ء کو بیان کر چکا ہوں سورت 53 النّجم میں الله تعالٰی نے فرمایا کہ سیّدنا محمد صلی الله علیہ وسلّم اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے تو پھر ہمیں اُن کے فرمان کو ماننا ہو گا

ختمِ نبوّت ۔ صحابۂ کرام کا اِجماع
قرآن و سنت کے بعد تیسرے درجے میں صحابۂ کرام کے اجماع کی ہے ۔ یہ بات تمام معتبر تاریخی روایات سے ثابت ہے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم کی وفات کے فوراً بعد جن لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا اور جن لوگوں نے ان کی نبوت تسلیم کی، اُن سب کے خلاف صحابۂ کرام نے بالاتفاق جنگ کی تھی
اس سلسلے میں خصوصیّت کے ساتھ مُسَیلمۂ کذّاب کا معاملہ قابلِ ذکر ہے ۔ یہ شخص نبی صلی الله علیہ و سلّم کی نبوت کا منکر نہ تھا بلکہ اس کا دعویٰ یہ تھا کہ اُسے حضورؐ کے ساتھ شریکِ نبوت بنایا گیا ہے ۔ اُس نے حضورؐ کی وفات سے پہلے جو عریضہ آپؐ کو لکھا تھا اس کے الفاظ یہ ہیں
من مُسَیْلمۃ رسول الله الیٰ محمدٍ رسول الله سلام علیک فانی اُشرِکتُ فی الامر معک(طَبَری، جلد دوم، ص ۳۹۹، طبع مصر)
مُسَیلمہ رسول اللہ کی طرف سے محمد رسول الله کی طرف ۔ آپ پر سلام ہو ۔ آپ کو معلوم ہو کہ میں آپ کے ساتھ نبوت کے کام میں شریک کیا گیا ہوں
علاوہ بریں مؤرخ طَبری نے یہ روایت بھی بیان کی ہے کہ مُسَیلمہ کے ہاں جو اذاں دی جاتی تھی اس میں اشھدانّ محمّداً رسول الله کے الفاظ
بھی کہے جاتے تھے ۔ اس صریح اقرارِ رسالتِ محمدؐی کے باوجود اسے کافر اور خارج ا ز مِلت قرار دیا گیا اور اس سے جنگ کی گئی ۔ تاریخ سے یہ بھی ثابت ہے کہ بنو حنِیفیہ نیک نیتی کے ساتھ اُس پر ایمان لائے تھے اور انہیں واقعی اس غلط فہمی میں ڈالا گیا تھا کہ محمد رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے اسے خود شریکِ رسالت کیا ہے ۔ نیز قرآن کی آیات کو اُن کے سامنے مُسِیلمہ پر نازل شدہ آیات کی حیثیت سے ایک ایسے شخص نے پیش کیا تھا جو مدینۂ طیّبہ سے قرآن کی تعلیم حاصل کر کے گیا تھا (البِدایۂ و النِّہایہَ لابن کثیر، جلد ۵، ص۵۱)۔

مگر اس کے باوجود صحابۂ کرام نے ان کو مسلمان تسلیم نہیں کیا اور ان پر فوج کشی کی۔ پھر یہ کہنے کی بھی گنجائش نہیں کہ صحابہ نے ان کے خلاف ارتداد کی بنا پر نہیں بلکہ بغاوت کے جُرم میں جنگ کی تھی ۔ اسلامی قانون کی رُو سے باغی مسلمانوں کے خلاف اگر جنگ کی نوبت آئے تو ان کے اسیرانِ جنگ غلام نہیں بنائے جا سکتے بلکہ مسلمان تو درکنار، ذمّی بھی اگر باغی ہوں تو گرفتار ہونے کے بعد ان کو غلام بنانا جائز نہیں ہے لیکن مُسَیلمہ اور اس کے پیرووں پر جب چڑھائی کی گئی تو حضرت ابو بکر ؓ نے اعلان فرمایا کہ اُن کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنایا جائے گا ۔ اور جب وہ لوگ اسیر ہوئے تو فی الواقع ان کو غلام بنایا گیا ۔ چنانچہ انہی میں سے ایک لونڈی حضرت علیؓ کے حصّے میں آئی جس کے بطن سے تاریخ اسلام کی مشہور شخصیّت محمد بن حَنَفیہ(حنفیہ سے مراد ہے قبیلۂ بنو حنیفہ کی عورت) نے جنم لیا (البِدایہ والنہایہ، جلد۶، ص ۳۱۶، ۳۲۵)۔

اس سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ صحابہؓ نے جس جُرم کی بنا پر ان سے جنگ کی تھی وہ بغاوت کا جرم نہ تھا بلکہ یہ جرم تھا کہ ایک شخص نے محمد صلی الله علیہ و سلّم کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا اور دوسرے لوگ اس کی نبوت پر ایمان لائے ۔ یہ کارروائی حضورؐ کی وفات کے فوراً بعد ہوئی ہے، ابو بکرؓ کی قیادت میں ہوئی ہے، اور صحابہ کی پوری جماعت کے اتفاق سے ہوئی ہے ۔ اجماع صحابہ کی اس سے زیادہ صریح مثال شاید ہی کوئی اور ہو

تمام علمائے اُمّت کے اجماع کی تفصیل بھی وہاں درج ہے لیکن طوالت کے باعث اس سے استفادہ نہیں کیا ہے

قبولیت اور رَد کی اہمیت

221 بار دیکھا گیا

کِسی چیز کو قبول (accept) یا رَد (reject) کرنے سے قبل اُس کے متعلق مستنَد معلومات حاصل کرنا ضروری ہے ۔ عصرِ حاضر میں یہ رسم پڑ چکی ہے کہ ہر چیز کو ذاتی پسند یا ناپسند کی بنیاد پر قبول یا رَد کیا جاتا ہے
اِن شاء الله آج سے میں اپنے ایک مطالعہ (جو 1953ء میں شروع ہو کر 1964ء میں مکمل ہوا) کا خلاصہ 8 اقساط میں پیش کرنے کی کوشش کروں گا ۔ واضح رہے کہ میری اِن تحاریر کی بنیاد قرآن شریف ۔ حدیث مباركه اور جیّد مفسّرین اور مفکّرین کی تحاریر ہیں

رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی

سورت 33 الاحزاب ۔ آیت 40 ہے ۔ مَا كَانَ مُحَـمَّـدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا۔
ترجمہ ۔ (لوگو) محمدﷺ تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں ، مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں ، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے

جہاں تک سیاق و سباق کا تعلق ہے وہ قطعی طور پر اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ یہاں ” خَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ“ کے معنی ”سلسلۂ نبوّت کو ختم کر دینے والے“ ہی کے لئے جائیں اور یہ سمجھا جائے کہ حضورؐ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے ۔ صرف سیاق و سباق ہی نہیں لُغت بھی اِسی معنی کی مقتاضی ہے

خَتَمَ الْعَمَل کے معنی ہیں فَرَغَ مِنَ الْعَمَلِ، ’’کام سے فارغ ہو گیا ‘‘
خَتَمَ الْاِنَا ءَ کے معنی ہیں ’’برتن کا منہ بند کر دیا اور اس پر مُہر لگا دی تاکہ نہ کوئی چیز اس میں سے نکلے اور نہ کچھ اس کے اندر داخل ہو‘‘
خَتَمَ الْکِتَابَ کے معنی ہیں ’’ خط بند کر کے اس پر مُہر لگا دی تاکہ خط محفوظ ہو جائے ‘‘
خَتَمَ عَلَی الْقَلْبِ، ’’ دِل پر مُہر لگا دی کہ نہ کوئی بات اس کی سمجھ میں آئے، نہ پہلے سے جمی ہوئی کوئی بات اس میں سے نِکل سکے ‘‘
خِتَا مُ کُلِّ مَشْرُوبٍ، ’’ وہ مزا جو کسی چیز کو پینے کے بعد آخر میں محسوس ہوتا ہے ‘‘
خَا تمۃُ کُلِّ شَیئئٍ عاقبتہ واٰخرتہ، ہر چیز کے خاتمہ سے مراد ہے اس کی عاقبت اور آخرت ‘‘
خَتَمَ الشَّیْء، بلغ اٰخرہ، ’’کسی چیز کو ختم کرنے کا مطلب ہے اس کے آخر تک پہنچ جانا ۔ اِسی معنی میں ختم قرآن بولتے ہیں اور اسی معنی میں سورتوں کی آخری آیات کو خواتیم کہا جاتا ہے
خَا تَمُ الْقَوْمِ، اٰخر ھم، خاتم القوم سے مراد ہے قبیلے کا آخری آدمی
(ملاحظہ ہو لسان العرب ۔ قاموس اور قرب الموارد)۔

عربی لُغت کی صرف 3 کتابوں کا حوالہ دیا گیا لیکن بات اِنہی 3 کتابوں پر مُنحصِر نہیں ہے ۔ عربی زبان کی کوئی معتبر لُغت اُٹھا کر دیکھ لی جائے ۔ اس میں لفظ ”خاتم“ کی یہی تشریح ملے گی ۔ کچھ لوگ عربی لُغت سے ہٹ کر تعریفی زبان میں استعمال ہونے والے القابات کا سہارا لیتے ہیں جیسے ”خاتم الشعراء یا خاتم الفقہاء یا خاتم المفسّرین“ اور استدلال پیش کرتے ہیں کہ اِس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اِس کے بعد کوئی شاعر یا فقیہ یا مفسّر پیدا نہیں ہوا بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس فن کے کمالات اُس شخص پر ختم ہو گئے ۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ ایسے القابات حقیقت نہیں ہوتے بلکہ مبالغے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں
مزید کسی زبان میں یہ قاعدہ نہیں ہے کہ اگر کسی لفظ کو اس کے حقیقی معنی کے بجائے کبھی کبھار مجازاً کسی دوسرے معنی میں بولا جاتا ہو تو وہی معنی اس کے اصل معنی بن جائیں اور لغت کی رُو سے جو اس کے حقیقی معنی ہیں اُن میں اس کا استعمال ممنوع ہو جائے
کسی عرب کے سامنے کہا جائے ”جَاء خاتَم القوم“ تو وہ اس کا یہ مطلب ہر گز نہ لے گا کہ قبیلے کا فاضل و کامل آدمی آ گیا بلکہ اس کا مطلب وہ یہی لے گا کہ پورا قبیلہ آ گیا ہے حتیٰ کہ آخری آدمی جو رہ گیا تھا وہ بھی آ گیا
یہ بات بھی نگاہ میں رہنی چاہیئے کہ ”خاتم الشعراء ۔ خاتم الفقہاء اور خاتم المحدثین“ وغیرہ قسم کےالقابات جو بعض لوگوں کو دیئے گئے ان کے دینے والے انسان تھے اور انسان کبھی یہ نہیں جان سکتا کہ جس شخص کو وہ کسی صفت کے اعتبار سے خاتم کہہ رہا ہے اس کے بعد پھر کوئی اس صفت کا حامل پیدا نہیں ہو گا ۔ اسی وجہ سے انسانی کلام میں ان القابات کی حیثیت مبالغے اور اعترافِ کمال سے زیادہ کچھ ہو ہی نہیں سکتی
لیکن جب اللہ تعالیٰ کسی شخص کے متعلق یہ کہہ دے کہ فلاں صفت اُس پر ختم ہو گئی تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اسے بھی انسانی کلام کی طرح مجازی کلام سمجھ لیں ۔ اللہ نے اگر کسی کو خاتم الشعراء کہہ دیا ہوتا تو یقیناً اس کے بعد کوئی شاعر نہیں ہو سکتا تھا۔ اور اس نے جسے ”خَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ“ کہہ دیا ۔ اس کے بعد کوئی نبی ہو نا ممکن نہیں ہے ۔ اس لئے کہ اللہ عالِم الغَیب ہے اور کوئی انسان عالِم الغَیب نہیں ہے ۔ اللہ کا کسی کو ”خَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ“ کہنا اور انسانوں کا کسی کو ”خاتم الشعراء اور خاتم الفقہاء“ وغیرہ کہہ دینا ایک درجہ میں کیسے ہو سکتا ہے؟

اِس بنا پر تمام اہلِ لُغت اور اہلِ تَفِسیر نے بالاِتفاق ” خَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ“ کے معنی ”آخر النَّـبِيّٖنَ“ کے لئے ہیں

خیال رہے کہ عربی لُغت و محاورے کی رُو سے خاتم کے معنیٰ ڈاک خانے کی مُہر کے نہیں ہیں جسے لگا لگا کر خطوط جاری کئے جاتے ہیں البتہ اس سے مُراد وہ مُہر ہو سکتی ہے جو لفافہ بند کر کے پر اس لئے لگائی جاتی ہے کہ نہ اس کے اندر سے کوئی چیز باہر نکلے نہ باہر کی کوئی چیز اندر جائے

ایک راستہ کُھلا رکھنا

339 بار دیکھا گیا

امام احمد ؒ بن حَنبل کہتے ہیں
ایک بار راہ چلتے ہوئے میں نے دیکھا کہ ایک ڈاکو لوگوں کو لوٹ رہا ہے ۔ کچھ دِنوں بعد مجھے وہی شخص مسجد میں نماز پڑھتا نظر آیا ۔ میں اس کے پاس گیا اور اسے سمجھایا کہ تمہاری یہ کیا نماز ہے ۔ الله تعالٰی کے ساتھ معاملہ یُوں نہیں کیا جاتا کہ ایک طرف تم لوگوں کو لُوٹو اور دوسری طرف تمہاری نماز الله کو قبول ہو اور پسند آتی رہے
ڈاکو بولا ”امام صاحب ۔ میرے اور الله کے مابین تقریباً سب دروازے بند ہیں ۔ میں چاہتا ہوں کوئی ایک دروازہ میرے اور الله کے مابین کھُلا رہے

کچھ عرصہ بعد میں حج پر گیا ۔ طواف کے دوران دیکھتا ہوں کہ ایک شخص کعبہ کے غلاف سے چمٹ کر کھڑا کہتا جا رہا ہے
”میری توبہ ۔ مجھے معاف کردے ۔ میں اِس نافرمانی کی طرف کبھی پلَٹنے والا نہیں“۔
میں نے دیکھنا چاہا کہ اِس بےخودی کے عالم میں آہیں بھَر بھَر کر رونے والا کون خوش قسمت ہے ؟ کیا دیکھتا ہوں ۔ یہ وہی شخص ہے جسے میں نے بغداد میں ڈاکے ڈالتے دیکھا تھا ۔ تب میں نے دل میں کہا ”خوش قسمت تھا ۔ جس نے الله کی طرف جانے والے سب دروازے بند نہیں کر ڈالے ۔ الله مہربان تھا جس نے سبھی دروازے آخر کھول ڈالے

کیسے بھی بُرے حال میں ہوں ۔ کتنے ہی گُناہگار ہوں ۔ الله کے ساتھ اپنے سب دروازے بند مت کر لینا ۔ جِتنے دروازے کھُلے رکھ سکتے ہوں انہیں کھُلے رکھنے کےلئے شیطان کے مقابلے پر مسلسل زور مارتے رہنا اور کبھی ہار مت ماننا ۔ کوئی ایک بھی دروازہ کھُلا مِل گیا تو کچھ بعید نہیں کہ وہ سب دوروازے ہی کھُل جائیں جن کے بارے میں تُمہیں کبھی آس نہ تھی کہ الله کی جانب سفر میں ان سب خوبصورت راہوں سے تمہارا کبھی گزر ہو گا

سورۃ 39 الزُمر آیة 53 ۔ قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ

(اے نبی ﷺ)کہہ دو کہ اے میرے بندو ، جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے الله کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ ، یقینا الله سارے گناہ معاف کر دیتا ہے وہ تو غفور، رحیم ہے

سچ ہے نماز بے حیائی اور بُرے کاموں سے روکتی ہے ۔ اِسی ایک دروازے کے کُھلنے سے اُس بندے کو الله نے بُرائی سے بچا کر قبول کر لیا
خیال رکھنا ۔ الله کی جانب کبھی پشت مت کرنا یعنی الله تعالٰی کو کسی معاملے میں بھُول مت جانا ۔ وہ ہر وقت تُمہیں دیکھتا اور سُنتا ہے