جس نے حرمین شریفین توسیع کا ڈیزائن کیا

وہ ایک مصری انجینئر اور آرکیٹیکٹ ڈاکٹر محمد کمال اسماعیل (1908ء تا 2008ء) تھا جس نے ظاہری دنیاوی بُود و باش سے دُور اور نامعلوم رہنے کو ترجیح دی
وہ مصر کی تاریخ کا سب سے کم عمر شخص تھا جس نے ہائی سکول سرٹیفکیٹ حاصل کیا
پھر رائل سکول آف انجینئرنگ کا سب سے کم عمر طالب علم جس نے وہاں سے گریجوئیشن کی
پھر سب سے کم عمر جس کو یورپ سے اسلامک آرکیٹیکچر میں ڈاکٹریٹ کی 3 ڈگریاں لینے کے لئے بھیجا گیا
اس کے علاوہ وہ سب سے کم عمر نوجوان تھا جس نے بادشاہ سے ”نائل“۔ ”سکارف“ اور ” آئرن“ کے خطابات حاصل کئے
وہ پہلا انجینئر تھا جس نے حرمین شریفین کے توسیعی منصوبے کی تعمیر اور عمل درآمد کے لئے اختیارات سنبھالے
اس نے شاہ فہد اور بن لادن کمپنی کے باربار اصرار کے باوجود انجینیرنگ ڈیزائن اور آرکیٹچرل نگرانی کیلئے کسی قسم کا معاوضہ لینے سے انکار کردیا اور کہا ”میں دو مقدس مساجد کے کاموں کیلئے کیوں معاوضہ لوں ۔ قیامت کے دن الله تعالٰی کا کیسے سامنا کروں گا“۔

اس نے 44 سال کی عمر میں شادی کی اور اس کی بیوی نے بیٹا جنم دیا اور زچگی کے بعد فوت ہو گئی اس کے بعد وہ مرتے دم تک عبادت الٰہی میں مصروف رہا ۔ اس نے 100 سال سےزیادہ عمر پائی ۔ اُس نے دنیا اور میڈیا کی چکا چوند سے ہٹ کر گمنام رہ کر حرمین شریفین کی خدمت کی

اس عظیم آدمی کی حرمین شریفین میں نصب کئے گئے سفید پتھر کے حصول کی بھی بڑی دلچسپ کہانی ہے ۔ یہ وہ پتھر ہے جو حرم الشریف مکہ میں مطاف ۔ چھت اور باہر صحن میں لگا ہے اس کی خصوصیت یہ ہے کہ گرمی کو جذب کرکے فرش کی سطح کو ٹھنڈا رکھتا ہے یہ پتھر ملک یونان میں ایک چھوٹے سے پہاڑ میں دستیاب تھا ۔ وہ سفر کرکے یونان گیا اور حرم کیلئے کافی مقدار میں تقریباً آدھا پہاڑ خریدنے کا معاہدہ کیا ۔ معاہدہ پر دستخط کرکے وہ واپس مکہ لوٹا ۔ سفید پتھر سٹاک میں آگیا تو حرمِ مکہ میں پتھر کی تنصیب مکمل کرائی

پندرہ سال بعد انجینئر محمد کمال کو سعودی بادشاہ نے مسجد نبوی الشریف میں ویسا ہی ماربل لگانے کا کہا تو وہ بہت پریشان ہوا کیونکہ کرہ ارض پر واحد جگہ یونان ہی تھی جہاں یہ پتھر دستیاب تھا جو کہ آدھا پہاڑ تو وہ پہلے ہی خرید چکا تھا ۔ انجینئر محمد کمال بتاتا ہے کہ وہ یونان میں اسی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کے پاس گیا اور ماربل کی بقایا مقدار جو بچ گئی تھی اس کے بارے میں پوچھا تو چیف ایگزیکٹو نے بتایا ”وہ ماربل تو ہم نے آپ کے جانے کے بعد بیچ دیا تھا اب تو 15 سال ہو گئے ہیں“۔ کمال بہت افسردہ ہوا ۔ جاتے ہوئے وہ آفس سیکرٹری سے ملا اور گزارش کی کہ مجھے اس شخص کا اتہ پتہ بتاؤ جس نے بقیہ ماربل خریدا ۔ اس نے کہا ”پرانا ریکارڈ تلاش کرنا بہت مشکل ہے لیکن آپ مجھے اپنا فون نمبر دے جائیں میں تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہوں“۔ اس نے اپنا نمبر اور ہوٹل کا پتہ دیا اور اگلے دن آنے کا وعدہ کرکے چلا
گیا۔
اگلے دن ایرپورٹ جانے سے چند گھنٹے قبل اسے فون کال آئی کہ ماربل کے خریدار کا ایڈریس مل گیا ہے ۔ کمال دفتر پہنچا تو سیکرٹری نے کمپنی کا پتہ دیا جس نے ماربل خریدا تھا ۔ کمال نے پتہ دیکھا ۔ کمپنی جس نے ماربل خریدا تھا وہ سعودی تھی ۔ کمال نے سعودیہ کی فلائیٹ پکڑی اور سعودی عرب پہنچا ۔ سیدھا اس کمپنی کے دفتر پہنچ کر ڈائریکٹر ایڈمن کو ملا اور پوچھا ” آپ نے اس ماربل کا کیا کیا جو گریس سے خریدا تھا ؟“ اس نے کہا ”مجھے یاد نہیں“۔ پھر اس نے سٹاک روم سے رابطہ کیا اور ان سے پوچھا کہ وہ سفید ماربل جو گریس سے منگوایا تھا کدھر ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ ساری مقدار موجود ہے ۔ کمال ایک بچے کی طرح رونے لگا اور کمپنی کے مالک کو پوری کہانی سنائی ۔ اس نے کمپنی کے مالک کو بلَینک چیک دیا اور کہا اس میں جتنی رقم بھرنی ہے بھر لو اور ماربل کی تمام مقدار میرے حوالے کردو ۔ جب کمپنی کے مالک کو پتہ چلا کہ یہ تمام ماربل مسجد نبوی میں استعمال ہونا ہے تو اس نے کہا ”میں ایک ریال بھی نہیں لوں گا ۔ الله نے یہ ماربل مجھ سے خرید کروایا اور پھر میں بھول گیا ۔ اس کا مطلب یہی تھا کہ یہ ماربل مسجد نبوی الشريف میں استعمال ہونا ہے“۔

الله سُبحانُهُ و تعالٰی انجینئر محمد کمال کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے ۔ آمین

جنت میں کس مذہب کے لوگ جائیں گے ؟

سوال تھا کہ جنت میں کس مذہب کے لوگ کے لوگ داخل کئے جائیں گے ۔ یہود ۔ عیسائی یا مسلمان ؟
اس سوال کے جواب کے لئے تینوں مذاہب کے علماء کو مدعو گیا گیا
مسلمانوں کی طرف سے بڑے عالم امام ﻣﺤﻤﺪ ﻋﺒﺪﮦ ۔
عیسائیوں کی طرف سے ایک بڑے پادری اور یہودیوں کی طرف سے ایک بڑے ربی کو بُلا کر ان کے سامنے یہی سوال رکھا گیا کہ جنت میں کون جائے گا ؟ یہودی ۔ عیسائی یا مسلمان ؟

امام محمد عبدہ نے کھڑے ہو کر فرمایا ” اگر یہودی جنّت میں جائیں گے تو ہم بھی جائیں گے کیونکہ ہم سیّدنا موسٰی علیہ السلام پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ کہ انہیں الله تبارک و تعالٰی کی طرف سے اپنے بندوں پر نبی مبعوث کیا گیا ۔ اگر عیسائی جنّت میں جائیں گے تو ہم بھی جائیں گے کیونکہ ہم سیّدنا عیسٰی علیہ السلام پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ کہ انہیں الله تبارک و تعالٰی کی طرف سے اپنے بندوں پر نبی مبعوث کیا گیا ۔ اگر مسلمان جنّت میں گئے تو ہم صرف الله کی رحمت کے ساتھ اکیلے ہی جائیں گے ۔ ہمارے ساتھ کوئی یہودی یا عیسائی نہیں جائے گا کیونکہ انہوں نے ہمارے نبی اکرم سیّدنا محمد صلی الله عليه و آله وسلم کو نہیں مانا اور نہ ہی ان پر ایمان لائے“۔

سلوک ؟

سُوۡرَةُ 4 النِّسَاء ۔ آية 36 ۔ وَاعۡبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشۡرِكُوۡا بِهٖ شَيۡــًٔـا‌ ؕ وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا وَّبِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَ الۡمَسٰكِيۡنِ وَالۡجَـارِ ذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡجَـارِ الۡجُـنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالۡجَـنۡۢبِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ ۙ وَمَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنۡ كَانَ مُخۡتَالًا فَخُوۡرَا ۙ

‏اور تم سب الله کی بندگی کرو، اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ، ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو، قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ، اور پڑوسی رشتہ دار سے، اجنبی ہمسایہ سے، پہلو کے ساتھی اور مسافر سے، اور اُن لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضہ میں ہوں، احسان کا معاملہ رکھو، یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کر ے
نبی کریم ﷺ نے فرمایا

ما زال يوصيني جبريل بالجار، حتى ظننت أنه سيورثه (صحیح بخاری)

جبریل (علیہ السلام) مجھے ہمسایوں کے حقوق کے متعلق اس قدر تاکید کرتے رہے حتٰی کہ میں نے سمجھا کہ وہ اسے وارث بنا دیں گے۔
اس حدیث پر شیخین کا اتفاق ہے ۔ایک ہمسائے کے دوسرے پر حقوق یہ ہیں کہ جہاں تک ہو سکے اس کے ساتھ ہر لحاظ سے بھلائی کرے،
چنانچہ رسول الله ﷺ نے فرمایا

خير الجيران عند الله خيرهم لجاره (جامع الترمذی)

الله کے ہاں ہمسایوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے ہمسائے کے لئے اچھا ہے۔
نیز فرمایا

من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليحسن إلى جاره (صحیح مسلم)

جو شخص الله اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے،اسے اپنے ہمسائے سے بہتر سلوک کرنا چاہیئے۔

اگر ہم نیک نیّتی سے عمل کریں تو نہ کوئی نفرت جنم لے گی اور نہ کوئی فساد پیدا ہو گا
لیکن ہم اپنے آپ کو درست خیال کرتے ہیں اور حالات کی ذمہ داری دوسرے پر ڈال دیتے ہیں
حلانکہ کہ الله سُبحانُهُ و تعالٰی نے آية مبارکہ کے آخر میں بتا دیا ہے کہ الله مغرور کو پسند نہیں فرماتا ۔ واضح ہے کہ جو اس آية مبارکہ میں وضع کردہ فرمان کے مطابق عمل نہیں کرتا وہ اپنی پندار میں مغرور ہے (چاہے وہ اپنے آپ کو عاجز سمجھتا رہے)

الله سُبحانُهُ و تعالٰی ہمیں اپنے کلام کو سمجھنے اور اس پر درست طریقہ سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے

قیمت ؟

ایک شخص نے بسترِ مرگ پر اپنے بیٹے کو کہا ”یہ گھڑی تمہارے دادا نے مجھے دی تھی ۔ یہ 200 سال پرانی ہے لیکن قبل اس کے کہ میں تمہیں یہ گھڑی دوں تم گھڑیوں کی دکان پر جا کر اُسے پوچھو کہ یہ گھڑی کتنے میں بِکے گی ؟ اور واپس آ جاؤ“۔
بیٹا گیا اور واپس آ کر باپ کو بتایا کہ وہ کہتا ہے بہت پرانی ہے 50 روپے سے زیادہ میں نہیں بِکے گی
باپ نے کہا ” اب چائے والے کے پاس جاؤ اور معلوم کرو وہ کتنے پیسے دیتا ہے ؟“
بیٹا گیا اور واپس آ کر بتایا کہ وہ بھی 50 روپے دیتا ہے
باپ نے کہا ”عجائب گھر کے مُہتمم کے پاس جا کر پوچھو“۔
بیٹا ہو کر واپس آیا ۔ اُس کے چہرے پر حیرانی عیاں تھی ۔ آتے ہی بولا ” ابا جی ۔ وہ اِس کے 50 لاکھ روپے دینے کو تیار ہے“۔
باپ بولا ”بیٹا ۔ میں تمہیں یہی سمجھانا چاہتا تھا کہ ہر چیز کی قیمت اُس کی درست جگہ پر ہوتی ہے ۔ کبھی اپنے آپ کو غلط مقام پر نہ رکھنا کہ پھر غصہ ہی کھاتے رہو ۔ آپ کی قیمت وہ جانتا ہے جو آپ کے اچھے کام کی تعریف کرتا ہے ۔ اس لئے ہمیشہ ایسی جگہ رہو جہاں اچھائی کی قدر کی جاتی ہو“

معمار کون ہے ؟

ﺣﯿﻮﻧﺎﺕ ﮨﻮﮞ ﯾﺎ ﻧﺒﺎﺗﺎﺕ ، ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﯿﺞ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﻥ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﻧﻘﺸﮧ ﺑﻨﺪ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﮐﺲﮐﯽ ﻧﻘﺸﮧ ﺑﻨﺪﯼ ﮨﮯ؟

ﺧﻮﺭﺩﺑﯿﻦ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﻧﻈﺮ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺳﯿﻞ ﺍﯾﮏ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺗﻮﺍﻧﺎ ﻋﻘﻞ ﻭ ﮨﻮﺵ ﻭﺍﻻ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﮐﺲ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﻭﭦ ﮨﮯ ؟
ﮨﻮﻧﭧ، ﺯﺑﺎﻥ، ﺍﻭﺭ ﺗﺎﻟﻮ ﮐﮯ ﺍﺟﺰﺍ ﮐﻮ ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺣﺮﮐﺖ ﺩﯾﻨﺎ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ؟

ﺍﻥ ﺣﺮﮐﺎﺕ ﺳﮯ ﻃﺮﺡ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﻋﻘﻞﻣﻨﺪ ﺁﻭﺍﺯﯾﮟ ﮐﻮﻥ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ؟
ﺍﻥ ﺁﻭﺍﺯﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﻌﻨﯽ ﮐﻮﻥ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ؟
ﻻﮐﮭﻮﮞ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺍﻭﺭ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﺯﺑﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺧﺎﻟﻖ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ؟

لا الٰه الا الله

انسانی جسم میں بہترین کمپیوٹر

ﺩﻣﺎﻍ ﮐﻮ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺑﻨﺎﯾﺎ؟ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﮨﮉﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺧﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺪ ، ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺗﯿﺮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﻋﻘﻞ ﮐﺎ ﺧﺰﺍﻧﮧ، ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺕ ﮐﺎ ﺳﭩﻮﺭ، ﺍﺣﮑﺎﻣﺎﺕ ﮐﺎ سینٹر، ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﮐﺎ ﺫﺭﯾﻌﮧ ، ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﻤﭙﯿﻮﭨﺮ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﻭﭦ ﺍﻭﺭ ﮈﯾﺰﺍﺋﻦ ﮐﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﯾﺎ، ﻻﮐﮫ ﮐﻮﺷﺸﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﻭﺭ ﺫﮨﻦ ﮐﺎ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﭙﺮ ﮐﻤﭙﯿﻮﭨﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ کے ﻋﺸﺮ ﻋﺸﯿﺮ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﺳﮑﺘﺎ۔

ﮨﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮭﺮﺑﻮﮞ ﺧﻠﯿﺎﺕ ‏( Cell ‏) ﮐﺎ ﻣﺠﻤﻮﻋﮧ ﮨﮯ۔ ﺍﺗﻨﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﮐﮧ ﺧﻮﺭﺩﺑﯿﻦ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﻮﮞ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺧﻠﯿﮧ ﺷﻌﻮﺭ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﻣﮑﻤﻞ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮨﮯ ۔ ﺍﻥ ﺟﯿﻨﺰ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﭘﻮﺭﯼ پروگرامنگ لکھی ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﺱ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻡ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺧﻮﺩﺑﺨﻮﺩ چلتی ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﺭﯾﮑﺎﺭﮈ، ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻋﻘﻞ ﻭ ﺩﺍﻧﺶ ، ﻏﺮﺽ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺳﮯ ﺍﻥ ﺧﻠﯿﺎﺕ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺎ ﺟﺎ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ۔

ﯾﮧ ﮐﺲ ﮐﯽ پروگرامنگ ہے؟

لا الٰه الا الله

کُلُ عام انتم بخیر

اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی طرف سے آپ کو اور آپ کے اہلِ خانہ کو آنے والی عيد مبارک
الله کریم آپ سب کو کامِل ایمان کے ساتھ دائمی عمدہ صحت ۔ مُسرتوں اور خوشحالی سے نوازے ۔ آمين ثم آمين
اُنہیں نہ بھولیئے جنہیں الله نے آپ کے مقابلہ میں کم نوازہ ہے ۔ ایسے لوگ دراصل آپ کی زیادہ توجہ کے حقدار ہیں
رمضان کا مبارک مہینہ بخیر و عافیت گزر گیا ۔ الله سُبحانُهُ و تعالٰی سب کے روزے اور عبادتيں قبول فرمائے
عیدالفطر کی نماز سے قبل اور بہتر ہے کے رمضان المبارک کے اختتام سے پہلے فطرانہ ادا کر دیا جائے ۔ کمانے والے کو اپنا اور اپنے زیرِ کفالت جتنے افراد ہیں مع گھریلو ملازمین کے سب کا فطرانہ دینا چاہیئے

عید کے دن فجر کی نماز سے مغرب کی نماز تک یہ ورد جاری رکھیئے ۔ نماز کیلئے جاتے ہوئے اور واپسی پر بلند آواز میں پڑھنا بہتر ہے
اللهُ اکبر اللهُ اکبر لَا اِلَہَ اِلْا الله وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ
لَہُ الّمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمْدُ وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیٍ قَدِیر
اللهُ اکبر اللهُ اکبر لا اِلهَ اِلالله و اللهُ اکبر اللهُ اکبر و للهِ الحمد
اللهُ اکبر اللهُ اکبر لا اِلهَ اِلالله و اللهُ اکبر اللهُ اکبر و للهِ الحمد
اللهُ اکبر اللهُ اکبر لا اِلهَ اِلالله و اللهُ اکبر اللهُ اکبر و للهِ الحمد
ا اللهُ اکبر کبِیرا والحمدُللهِ کثیِرا و سُبحَان اللهُ بکرۃً و أصِیلا

آیئے سب انکساری ۔ رغبت اور سچے دِل سے دعا کریں
اے مالک و خالق و قادر و کریم و رحمٰن و رحیم و سمیع الدعا
رمضان المبارک میں ہوئی ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگذر فرما اور ہمارے روزے اور دیگر عبادتیں قبول فرما
اپنا خاص کرم فرماتے ہوئے ہمارے ہموطنوں کو آپس کا نفاق ختم کر کے ایک قوم بننے کی توفیق عطا فرما
ہمارے ملک کو اندرونی اور بیرونی سازشوں سے محفوظ رکھ
جدِ امجد سیّدنا ابراھیم علیه السّلام کی سُنّت پر عمل کرتے ہوئے ہم بھی دعا کرتے ہیں کہ یا الله ہمارے مُلک کو امن کا گہوارہ بنا دے اور سب کے رزقِ حلال میں کُشائش عطا فرما
ہمیں ۔ ہمارے حکمرانوں اور دوسرے رہنماؤں کو سیدھی راہ پر چلا
ہمارے ملک کو صحیح طور مُسلم ریاست بنا دے
آمین ثم آمین یا رب العالمین

وَاِذۡ قَالَ اِبۡرٰهٖمُ رَبِّ اجۡعَلۡ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّارۡزُقۡ اَهۡلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنۡ اٰمَنَ مِنۡهُمۡ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ؕ قَالَ وَمَنۡ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِيۡلًا ثُمَّ اَضۡطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ‌ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ ۔ (سُوۡرَةُ البَقَرَة ۔ آیة 126)
اور یہ کہ ابراہیمؑ نے دعا کی: “اے میرے رب، اس شہر کو امن کا شہر بنا دے، اور اس کے باشندوں میں جو الله اور آخرت کو مانیں، انہیں ہر قسم کے پھلو ں کا رزق دے”۔
اس کے جواب میں اس کے الله نے فرمایا ”اور جو نہ مانے گا، دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان تو میں اُسے بھی دوں گا مگر آخرکار اُسے عذاب جہنم کی طرف گھسیٹوں گا، اور وہ بد ترین ٹھکانا ہے“۔