Category Archives: یادیں

کیا یاد کرا دیا

314 بار دیکھا گیا

یکم جون 2017ء کو جوائنٹ اِنوَسٹی گیشن ٹیم کو اپنا بیان قلمبند کرانے کے بعد حسین نواز نے میڈیا کے سامنے ایک ایسی بات کہہ دی جو اُس کی پاکستان کی تاریخ سے واقفیت کا مظہر تھی ۔ حسین نواز نے کہا تھا ”حسین شہید سہروردی صاحب کے بعد یہ سب کچھ ہمارے ساتھ ہوتا آ رہا ہے

میں نے 24 نومبر 2011ء کو ”بھولے بسرے واقعات ۔ پہلا سوال“عنوان کے تحت ایک تحریر لکھی تھی اُس میں سے ایک مختصر اقتباس نقل کر رہا ہوں

آپ کا پہلا سوال
جہاں تک ميرا عِلم اور ياد داشت کام کرتی ہے پاکستان بننے کے فوری بعد مشرقی پاکستان ميں کسی مطالبے نے جنم نہيں ليا تھا ۔ اگر ايسا ہوتا تو حسين شہيد سہروردی صاحب جو خالص بنگالی تھے پاکستان کا پہلا آئين منظور ہونے کے بعد ستمبر 1956ء ميں پاکستان کے وزيرِ اعظم نہ بنتے
خيال رہے کہ حسين شہيد سہروردی صاحب اُس عوامی ليگ کے صدر تھے جس ميں شيخ مجيب الرحمٰن بھی تھا
بنگاليوں کا دُشمن دراصل بنگالی بيوروکريٹ سکندر مرزا تھا جو غلام محمد کا منظورِ نظر ہونے کی وجہ سے بیوروکریٹ سے حکمران بن بیٹھا تھا
حسين شہيد سہروردی صاحب نے مشرقی پاکستان (جو کراچی کے سيٹھوں کے زيرِ اثر تھا) کو اس کا مالی حق دينے کی کوشش کی جسے روکنے کے لئے سکندر مرزا (جو اُس وقت صدر تھا) نے حسين شہيد سہروردی صاحب پر اِتنا زیادہ دباؤ ڈالا کہ اس ڈر سے کہ اُنہيں برخاست ہی نہ کر ديا جائے حسين شہيد سہروردی صاحب اکتوبر 1957ء ميں مستعفی ہو گئے تھے

يہ تھا وہ وقت جب مشرقی پاکستان ميں نفرت کی بنياد رکھی گئی

اس سے قبل محمد علی بوگرہ صاحب جو بنگالی تھے 1953ء ميں وزيرِ اعظم بنے تھے اور انہيں بھی سکندر مرزا نے 1955ء ميں برخواست کيا تھا
محمد علی بوگرہ صاحب سے قبل 1953ء ميں خواجہ ناظم الدين صاحب کی کابينہ کو اور 1954ء ميں پاکستان کی پہلی منتخب اسمبلی کو غلام محمد نے برخواست کر کے پاکستان کی تباہی کی بنياد رکھی تھی

مشرقی پاکستان ميں بنگالی بھائيوں کے دُشمن وہی تھے جو مغربی پاکستان ميں پنجابيوں ۔ سندھيوں ۔ پٹھانوں اور بلوچوں کے دشمن رہے ہيں يعنی بيوروکريٹ خواہ وہ سادہ لباس ميں ہوں يا وردی ميں

بارہویں سالگرہ

247 بار دیکھا گیا

الحمد للہ آج اس بلاگ کی عمر اللہ کی مہربانی سے 12 سال ہو چکی ہے ۔ یہ بلاگ میں نے 5 مئی 2005ء کو اللہ کے نام سے شروع کیا تھا ۔ 5 مئی 2005ء سے قبل میں اپنے بلاگ ” Reality is Often Bitter . حقيقت اکثرتلخ ہوتی ہے“ پر ہی اُردو بھی لکھتا رہا ۔ اُردو کا بلاگ الگ شروع کرنے کے بعد میں نے پہلے بلاگ کو انگریزی کیلئے مخُتص کر دیا

شُکر اُس ذاتِ اعلٰی و ارفع کا جس نے صرف مجھے ہی نہیں کُل کائنات کو پیدا کیا اور اس کا نظام چلا رہا ہے ۔ اُس رحمٰن و رحیم نے مجھے توفیق دی کہ میں اس بلاگ کو جاری رکھوں ۔ میں نے 12 سال میں 2485 تحاریر لکھیں ۔ جب میں نے یہ بلاگ شروع کیا تھا تو اُمید نہ تھی کہ یہ ایک سال بھی پورا کر سکے گا ۔ دوسرے بلاگرز کا تجربہ مزید حوصلہ پست کرتا تھا ۔ یہ بھی خیال تھا کہ میں خُشک باتیں لکھتا ہوں اسلئے شاید ہی اسے کوئی پڑھے مگر اللہ کی ذرہ نوازی دیکھیئے کہ
میرے اُردو بلاگ کو اس وقت تک 405225 مرد و خواتین پڑھ چکے ہیں
میری 2 تحاریر کم از کم 57550 بار پڑھی جا چکی ہے
9 تحاریر کم از کم 14200 بار پڑھی جاچکی ہیں
23 تحاریر کم از کم 11250 بار پڑھی جاچکی ہیں
40 تحاریر کم از کم 7050 بار پڑھی جا چکی ہیں
58 تحاریر کم از کم 6000 بار پڑھی جا چکی ہیں
100 تحاریر کم از کم 5000 بار پڑھی جا چکی ہیں
200 تحاریر کم از کم 3150 بار پڑھی جا چکی ہیں
300 تحاریر کم از کم 2700 بار پڑھی جا چکی ہیں
400 تحاریر کم از کم 2500 بار پڑھی جا چکی ہیں
500 تحاریر کم از کم 2350 بار پڑھی جا چکی ہیں
600 تحاریر کم از کم 2250 بار پڑھی جا چکی ہیں
700 تحاریر کم از کم 2150 بار پڑھی جا چکی ہیں
900 تحاریر کم از کم 1950 بار پڑھی جا چکی ہیں

دل کا داغ جو مٹ نہ سکا

194 بار دیکھا گیا

عصرِ حاضر کے ہموطنوں کی یاد دہا نی کے لئے اپنی 4 سال پرانی تحریر دہرا رہا ہوں

سانحہ مشرقی پاکستان 16 دسمبر 1971ء کے متعلق جو اعداد و شمار اور واقعات ذرائع ابلاغ کے ذریعہ پھیلائے گئے ہیں وہ اتنے غلط ہیں کہ جتنا زیادہ کوئی جھوٹ بول سکے ۔ درست اعداد و شمار قارئین تک پہنچانے کیلئے میں اپنے ذہن کو مجتمع کرنے کی تگ و دو میں تھا کہ ایسے ایسے مضامین نظر سے گذرے اور ٹی وی پروگرام و مذاکرے دیکھنے کو ملے کہ ذہن پریشان ہو کر رہ گیا

ہمارا ملک پاکستان معرضِ وجود میں آنے کے بعد صرف ایک نسل گذرنے پر صورتِ حال کچھ ایسی ہونا شروع ہوئی کہ میں سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ ”کیا آزادی اس قوم کو راس نہیں آئی جو ہر دم اور ہر طور اس سلطنتِ خدا داد کے بخیئے اُدھیڑنے کے در پئے رہتی ہے“۔ اب تو حال یہاں تک پہنچا ہے کہ بھارت کو بہترین دوست اور شیخ مجیب الرحمٰن کو محبِ پاکستان ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے

میں ذاتی معلومات پر مبنی واقعات پہلے لکھ چکا ہوں جو مندرجہ ذیل موضوعات پر باری باری کلک کر کے پڑھے جا سکتے ہیں ۔ آج صرف اعداد و شمار پیش کر رہا ہوں
بھولے بسرے واقعات ۔ پہلا سوال
سقوطِ ڈھاکہ کے اسباب ۔ قسط ۔1 ۔ دوسرا سوال اور ذرائع
سقوطِ ڈھاکہ کے اسباب ۔ قسط ۔2 ۔ معلومات
سقوطِ ڈھاکہ کے اسباب ۔ قسط ۔3 ۔ مشاہدہ اور تجزيہ

مارچ سے دسمبر 1971ء تک مشرقی پاکستان میں جو ہلاکتیں ہوئیں اور ان کے اسباب کے متعلق غلط اور انتہائی مبالغہ آمیز اعداد و شمار زبان زد عام رہے ہیں ۔ پچھلی 4 دہائیوں میں غیر جانب دار لوگوں کی تحریر کردہ کُتب اور دستاویزات سامنے آ چکی ہیں ۔ جن کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے

شیخ مجیب الرحمٰن اور اس کے حواریوں کا پروپیگنڈہ تھا کہ فوج نے 30 لاکھ بنگالیوں کو ہلاک کیا ۔ فوجی کاروائی ڈھاکہ اور اس کے گرد و نواح میں 26 مارچ 1971ء کو شروع ہوئی اور 16 دسمبر 1971ء کو پاکستانی فوج نے ہتھیار ڈال دیئے ۔ چنانچہ یہ ہلاکتیں 265 دنوں میں ہوئیں ۔ اس طرح ہر ماہ 339630 یا ہر روز 11321 بنگالی ہلاک کئے گئے ۔ ایک سرسری نظر ہی اس استلال کو انتہائی مبالغہ آمیز یا جھوٹ قرار دینے کیلئے کافی ہے

حمود الرحمٰن کمیشن کو فوج کے نمائندہ نے بتایا تھا کہ فوجی کاروائی کے دوران 26000 بنگالی ہلاک ہوئے لیکن کمیشن نے اس تعداد کو بہت مبالغہ آمیز قرار دیا تھا

شرمیلا بوس نے اپنی کتاب میں لکھا

“The three million deaths figure is so gross as to be absurd … [it] appears nothing more than a gigantic rumour. The need for ‘millions’ dead appears to have become part of a morbid competition with six million Jews to obtain the attention and sympathy of the international community.”

(ترجمہ ۔ تین ملین کا ہندسہ اتنا بھاری ہے کہ سرِ دست لغو لگتا ہے ۔ ۔ ۔ یہ ایک قوی ہیکل افواہ سے زیادہ کچھ نہیں ۔ ملینز کی تعداد چھ ملین یہودیوں کے ہمعصر ہونے کی ایک بھونڈی کوشش لگتی ہے تاکہ بین الاقوامی توجہ اور ہمدردی حاصل کی جا سکے)

مشرقی پاکستان میں موجود مغربی پاکستان کے لوگوں میں پنجابی ۔ پٹھان ۔ کشمیری ۔ سندھی ۔ بلوچ اور اُردو بولنے والے شامل تھے ۔ ان میں سرکاری محکموں ۔ سکولوں ۔ کالجوں ۔ بنکوں اور دیگر اداروں کے ملازم ۔ تاجر ۔ کارخانہ دار اور مزدور شامل تھے ۔ ان کارخانہ داروں میں سہگل ۔ آدم جی ۔ بھوانی اور اصفہانی قابلِ ذکر ہیں ۔ بھارت کی تشکیل کردہ اور پروردہ مُکتی باہنی والے مشرقی پاکستان میں موجود مغربی پاکستان کے تمام لوگوں کو پنجابی کہتے تھے اور یہی تخلص زبان زدِ عام ہوا

جونہی فوجی کاروائی شروع ہوئی مُکتی باہنی اور اس کے حواریوں نے غیر بنگالیوں کی املاک کی لوٹ مار اور نہتے بوڑھوں عورتوں اور بچوں کے ساتھ زیاتی اور قتلِ عام شروع کر دیا ۔ عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ جو زیادتیاں ہوئیں مغربی پاکستان کے ذرائع یا اس سے بے خبر تھے یا بیہوش پڑے تھے

یہ حقیقت بھی بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں کہ شیخ مجیب الرحمٰن اور اس کے نائبین پہلے ہی فیصلہ کر چکے تھے کہ جمعہ 26 مارچ 1971ء کی صبح منظم مسلح بغاوت شروع کر دی جائے گی ۔ اس تیاری کیلئے بہت پہلے سے ڈھاکہ یونیورسٹی کو مکتی باہنی کا تربیتی مرکز بنایا جا چکا تھا

فوجی کاروائی 26 مارچ کو شروع ہوئی تھی ۔ مکتی باہنی نے یکم سے 25 مارچ تک ہزاروں مغربی پاکستان سے گئے ہوئے لوگ ہلاک کئے ۔ مُکتی باہنی کے ہاتھوں قتل و غارت کے غیر ملکی ذرائع کے شائع کردہ محتاط اعداد و شمار بھی رونگٹے کھڑے کر دیتے ہیں
بین الاقوامی ذرائع کے مطابق 200000 تک مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے
امریکی کونسل کے مطابق 66000 مغربی پاکستانی ڈھاکہ اور گرد و نواح میں ہلاک کئے گئے
خود بنگالی ذرائع نے ڈھاکہ اور گرد و نواح میں 30000 سے 40000 مغربی پاکستانی ہلاک ہونے کا اعتراف کیا تھا
شروع مارچ 1971ء میں صرف بوگرہ میں 15000 مغربی پاکستانیوں کو ہلاک کیا گیا
وسط مارچ کے بعد چٹاگانگ میں 10000 سے 12000 مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے
جیسور میں 29 اور 30 مارچ کو 5000 مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے
دیناج پور میں 28 مارچ سے یکم اپریل تک 5000 مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے
میمن سنگھ میں 17 اپریل سے 20 اپریل تک 5000 کے قریب مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے
اس کے بعد مکتی باہنی نے قتل و غارتگری کا بازار پوری شدت کے ساتھ گرم کیا ۔ اس طرح کہ اعداد و شمار بتانے والا بھی کوئی نہ رہا

پاکستان کے فوجیوں کی تعداد جو زبان زدِ عام ہے صریح افواہ کے سوا کچھ نہیں ۔ جن 93000 قیدیوں کا ذکر کیا جاتا ہے ان میں فوجیوں کے علاوہ پولیس ۔ سویلین سرکاری و غیر سرکاری ملازمین ۔ تاجر ۔ عام مزدور ۔ دکاندار وغیرہ اور ان سب کے خاندان عورتوں اور بچوں سمیت شامل تھے ۔ ان قیدیوں میں درجنوں میرے ساتھی یعنی پاکستان آرڈننس فیکٹریز واہ کینٹ کے سویلین ملازمین اور ان کے اہلَ خانہ بھی تھے جنہیں 6 ماہ سے 3 سال کیلئے پاکستان آرڈننس فیکٹری غازی پور (ڈھاکہ) میں مشینیں سَیٹ کرنے اور مقامی لوگوں کی تربیت کیلئے بھیجا گیا تھا
کچھ اصحاب کے کی خواہش پر میں اپنی 21 دسمبر 2012ء کی تحریر دہرا رہا ہوں

مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج کی تعداد 20000 تھی جن میں پولیس ۔ میڈیکل اور دوسری نہ لڑنے والی نفری ملا کر کل تعداد 34000 بنتی تھی ۔ یہ پاکستانی فوج 9 ماہ سے مکتی باہنی کے 100000 جنگجوؤں سے گوریلا جنگ لڑتے لڑتے بے حال ہو چکی تھی ۔ ایسے وقت میں بھارت کی ہر قسم کے ہتھیاروں سے لیس 3 ڈویژن تازہ دم فوج سے مقابلہ کرنا پڑا ۔ پاکستانی فوج کی ہلاکتیں 4000 کے قریب ہوئیں ۔ بقول بھارتی لیفٹننٹ جنرل جے ایف آر جیکب بھارتی فوج کی ہلاکتیں 1477 اور زخمی 4000 ہوئے تھے

شیخ مجیب الرحمٰن کو اس کے خاندان سمیت 15 اگست 1975ء کو ہلاک کر دیا گیا ۔ ہلاک کرنے والے بنگلا دیش ہی کے فوجی تھے جو نہ پنجابی تھے نہ بہاری ۔ صرف ایک بیٹی حسینہ بچی جو ملک سے باہر تھی

مشرقی پاکستان شیخ مجیب الرحمٰن اور بھارت کی تیار کردہ مکتی باہنی کو پذیرائی نہ ملتی اگر حکومتِ پاکستان نے مشرقی پاکستان کی معیشت و معاشرت کی طرف توجہ دی ہوتی اور بے لگام بیورو کریسی کو لگام دے کر اُن کے فرض (عوام کی بہبود) کی طرف متوجہ کیا ہوتا ۔ پچھلے کم از کم 5 سال میں جو ملک کا حال ہے ۔ دل بہت پریشان ہے کہ کیا ہو گا ۔ اللہ محبِ وطن پاکستانیوں پر اپنا کرم فرمائے اور اس ملک کو محفوظ بنائے

مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کی بڑی تعداد اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتی تھی جس کے نتیجہ میں مغربی پاکستانیوں کے ساتھ وہ بھی مکتی باہنی کا نشانہ بنے ۔ نہ صرف یہ بلکہ بنگلا دیش بننے کے بعد جن لوگوں نے وحدتِ پاکستان کے حق میں آواز اٹھائی تھی انہیں طرح طرح سے تنگ کیا گیا اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمے بنائے گئے ۔ بہاریوں کو نہ شہریت دی اور نہ مہاجرین کا درجہ ۔ وہ ابھی تک کس مپرسی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں ۔ جماعتِ اسلامی کے دلاور حسین سیّدی سمیت 6 لیڈر ابھی بھی بغاوت کے مقدمات بھگت رہے ہیں

یہ حقیقت ہے کہ اب بھی بنگلا دیش کے عوام کی اکثریت کے دل پاکستانی ہیں ۔ اس کا ایک ادنٰی سا مظاہرہ اس وقت ہوتا ہے جب پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں مدِ مقابل ہوتی ہیں ۔ بنگلا دیش کے عوام جوش و خروش کے ساتھ پاکستانی ٹیم کے حق میں بول رہے ہوتے ہیں

نہیں نا اُمید ۔ ۔ ۔

556 بار دیکھا گیا

نہیں نا اُمید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی
علامہ محمد اقبال صاحب کے مندرجہ بالا قول کی عملی مثالیں گاہے بگاہے سامنے آتی رہتی ہیں ۔ آج ان میں سے ایک واقعہ نقل کر رہا ہوں جو آج کے نوجوانوں کے عِلم میں شاید آیا ہی نہ ہو اور بڑوں کی اکثریت شاید بھول چکے ہوں
یہ اچھوتا اور مغربی دنیا میں ناقابلِ یقین واقعہ آج سے 18 سال 5 ماہ اور 4 دِن قبل 25 اکتوبر 1998ء کو بلوچستان اور سندھ کی فضاؤں میں رونما ہوا تھا fokker

پی آئی اے کا چھوٹا ہوائی جہاز (فوکر فرینڈشپ 27) گوادر ایئر پورٹ سے کراچی روانہ ہونے کو تیار کھڑا تھا ۔ روانگی سے قبل جہاز میں معمول کے مطابق اعلان کیا گیا ”خواتین و حضرات اپنے حفاظتی بند باندھ لیجئے ۔ ہم اپنے سفر پر روانہ ہونے والے ہیں”۔
جہاز میں 33 مسافر اور عملہ کے 5 افراد سوار تھے ۔ شام ساڑھے 5 بجے جہاز منزل کی جانب روانہ ہوا ۔ زمین سے اُٹھنے کے 20 منٹ بعد ایک درازقد جوان اُٹھا اور کاک پِٹ کی جانب بڑھا ۔ ایئر ہوسٹس خالدہ آفریدی نے سامنے آتے ہوئے گذارش کی ”سر آپ تشریف رکھیں ۔کاک پٹ میں جانے کی اجازت نہیں“۔
وہ شخص اُسے دھکا دے کر کاک پِٹ میں داخل ہو گیا اور پستول پائلٹ عزیر خان کی گردن پر رکھتے ہوئے خبردار کیا کے وہ اسکے حکم کا پابند ہے ۔ اسی لمحے ہائی جیکر کے 2 ساتھیوں نے کھڑے ہو کر مسافروں پر پستول تان لئے ۔ اِن میں سے ایک نے خود کُش جیکٹ پہن رکھی تھی ۔ ہائی جیکر نے کیپٹن عزیر کو حکم دیا ” یہ جہاز کراچی نہیں دہلی جائے گا“۔
کیپٹن نے جہاز میں مسافروں کو آگاہ کیا ”معزز خواتین و حضرات جہاز ہائی جیک ہو چکا ہے اور اب یہ انڈیا جائے گا“۔

پھر ہائی جیکر نے کیپٹن عزیر کو انڈین ایئر بیس رابطہ کر کے اُترنے کی اجازت مانگنے کا کہا ۔ کیپٹن نے بظاہر اجازت حاصل کرنے کی کوشش کی اور ساتھ ہی جہاز کی سِمت بدل دی ۔ راڈار پر جہاز کی سِمت بدلتے ہی پاکستانی ایئر پورٹ ہیڈ کوارٹر میں کھلبلی مچ گئی ۔ چند منٹ بعد پاکستان ایئر فورس کے 2 فائٹر جیٹ فضا میں بلند ہوئے اور فوکر کو گھیر لیا ۔ ایئر پورٹ ہیڈ کوارٹر میں اعلی حکام کا اجلاس ہوا جس میں لائحہءِ عمل تیار کیا گیا ۔ فیصلہ ہوا کہ فوکر کو حیدرآباد (سندھ) ایئرپورٹ پر اُتارا جائے ۔ تربیت یافتہ پولیس اور فوج کے کمانڈوز کے دستے منگوا لئے گئے ۔ رینجرز کا دستہ بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا

اب اصل ڈرامہ شروع ہونے کو تھا
کیپٹن عزیر خان جان چکے تھے 2 فائٹر جیٹ جہاز کو گھیرے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے بہانہ بناتے ہوۓ کہا ”ہمارے پاس ایندھن اتنا نہیں ہے کہ ہمیں دہلی لے جاسکے ۔ ہمیں قریبی ائیر پورٹ سے ایندھن لینا پڑے گا“۔
ہائی جیکرز ہر صورت جہاز دہلی لے جانا چاہتے تھے ۔ ان کے پاس نقشہ تھا ۔ انڈیا کی بھوج ائیربیس کو نقشے میں دیکھ کر آپس میں باتیں کر رہے تھے جو سُن کر کیپٹن نے کہا ”انڈیا کا بھوج ائیر بیس قریب پڑتا ہے ۔ وہاں تک جہاز جا سکتا ہے لیکن اس کیلئے انڈین ہیڈ کوارٹر سے اجازت لینا ہوگی“۔
کیپٹن عزیر جانتے تھے قریبی ایئرپورٹ حیدرآباد (سندھ) کا تھا ۔ انہوں نے رابطہ کرتے ہوئے کہا ”کیا یہ بھوج ائیر پورٹ ہے ؟ کیا آپ مجھے سن سکتے ہیں ؟ “ جواب میں کسی نے ہندی زبان میں ہائی جیکروں کے ساتھ بات کرانے کا کہا اور ہائی جیکروں نے بات شروع کرتے ہوئے بتایا کہ وہ بلوچستان کی طلباء تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں ۔ جہاز میں 33 مسافر اور 5 عملہ کے لوگ ہیں ۔ وہ پاکستان کے انڈیا کے مقابلہ میں ایٹمی تجربہ کرنے کے خلاف ہیں اور پاکستانی حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں تاکہ وہ یہ تجربہ نہ کریں ۔ پھر جئے ہند کا نعرہ لگا کر کہا کہ وہ انڈیا کی مدد کریں گے اور پاکستان کا یہ جہاز دہلی لے جانا چاہتے ہیں ۔ انہیں بھوج ائیر بیس پر اُترنے دیں کیونکہ جہاز کو ایندھن چاہیئے

ہائی جیکروں کے ساتھ بات کرنے والا پاکستان ایئر فورس کا خصوصی تربیت یافتہ آفیسر تھا ۔ اُس نے ان کی شناخت پوچھی ۔ ہائی جیکر نے اپنے پورے نام اور پتے بتا دیئے ۔ کچھ وقفہ کے بعد ہائی جیکروں کو بتایا گیا ”پردان منتری سے بات کرنے کے بعد آپ کا مطالبہ منظور کر لیا گیا ہے اور بھوج ایئرپورٹ پر اُترنے کی اجازت ہے“۔ خوشی سے ہائی جیکروں نے جئے ہند کے نعرے لگائے ۔ دوسری جانب سے بھی جے ہند کے نعرے کی آواز آئی

کیپٹن عزیر یہ ظاہر کرنے کیلئے کہ اب وہ انڈیا کی طرف جا رہے جہاز کو حیدرآباد ایئر پورٹ پر گھماتے رہے ۔ پاکستان کے سیکورٹی افسران نے متعلقہ اداروں سے ہائی جیکروں کا ڈیٹا حاصل کر لیا ۔ رات کا اندھیرہ چھا چکا تھا ۔ ہنگامی طور پر حیدرآباد ایئر پورٹ سے تمام جہاز ہٹا دیئے گئے ۔ پولیس نے ائیر پورٹ کی طرف جانے والے تمام راستے بند کر دیئے ۔ حیدرآباد ایئر پورٹ پر لائٹس بند کر دی گئیں ۔ شہر کی بجلی بھی بند کر دی گئی تاکہ ہائی جیکر علاقہ نہ پہچان سکیں ۔ ایئر پورٹ کی عمارت سے پاکستان کا جھنڈا اُتار کر انڈیا کا جھنڈا لہرا دیا گیا

کچھ دیر بعد جہاز حیدر آباد ایئر پورٹ پر اُتر گیا ۔ وہاں انڈیا کا پرچم لہراتے دیکھ کر ہائی جیکروں نے پھر جئے ہند کا نعرہ لگایا ۔ کمانڈوز اور رینجرز تیار کھڑے تھے ۔ جہاز کھڑا ہوتے ہی گاڑیاں اس کے آگے کھڑی کر دیں گئیں کہ جہاز ٹیک آف نہ کرسکے ۔ ایئر پورٹ عملہ کے روپ میں انڈین آرمی کی وردی پہنے 3 پاکستانی کمانڈوز بغیر ہتھیاروں کے جہاز میں داخل ہوئے اور بات چیت کے دوران جہاز کے اندر کی صورتحال کا مکمل جائزہ لے لیا ۔ آخر ہائی جیکروں سے کہا ”آپ چِنتا نہ کریں ۔ آپ بھوج ایئر بیس پر ہیں اور محفوظ ہیں ۔ عورتوں ۔ بچوں اور ان کے ساتھی مردوں کو یہیں اُتار کر آپ دہلی پدھاریں“۔
مسافروں کے جہاز سے اُترنے کی دیر تھی کہ کمانڈوز ”اللہ اکبر“ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے ایک ہی ہلے میں دونوں دروازوں سے جہاز میں داخل ہو گئے اور ہائی جیکروں کو قابو کر کے باندھ دیا

کپیٹن عزیر اور باقی عملہ مسکراتے ہوئے جہاز سے اُتر گئے
کپیٹن عزیر کی ذہانت اور چُست فیصلہ سازی نے مُلک کو ایک عظیم نقصان سے بچا لیا
اس واقعہ کے بعد جب صحافیوں نےان سے پوچھا تو بولے ” اگر دشمن یہ سمجھتے ہیں کے ہم موت سے ڈرتے ہیں تو سُن لیں مسلمان موت سے نہیں ڈرتا اور شہادت تو مسلمان کے لئے انعام ہے“۔
ہائی جیکروں پر سول عدالتوں میں مقدمہ چلتا رہا اور پھانسی کا حُکم سنا دیا گیا لیکن حکومتِ وقت نے غیر ملکی طاقتوں کے دباؤ میں آ کر سزا روکے رکھی ۔ بالآخر ان ہائی جیکروں کو 28 مئی 2015ء کو پھانسی دے دی گئی

پاکستان کے دشمنوں کو خبر ہو کے جس وطن کے بیٹے اتنے دلیر اور جانثار ہوں اس سرزمین کو کوئی شکست نہیں دے سکتا
پاکستان اِن شاء اللہ ہمیشہ قائم و دائم رہنے کے لئے ہے

ایہہ پُتَر ہَٹاں تے نئیں وِکدے

664 بار دیکھا گیا

ستمبر 1965ء میں صوفی تبسم صاحب کی لکھی اور ملکہ ترنم نور جہاں کی گائی یہ نظم مجھے بہت کچھ یاد دلاتی ہے

تمام بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے بھارت نے 6 ستمبر 1965ء کو آدھی رات کے بعد پاکستان پر اچانک حملہ کر دیا

صبح صدرِ پاکستان جنرل محمد ایوب خان کی ریڈیو پر تقریر “پاکستان کے جوان جن کے لبوں پر کلمہ لا الہ الاللہ کا ورد ہے اپنے ملک کی حفاظت کیلئے سرحدوں کی طرف روانہ ہو چُکے ہیں”۔
پاکستانی قوم کا مثالی اتحاد ۔ یگانگت اور جذبہءِ حُب الوطنی
پاکستان آرڈننس فیکٹری میں دن رات کام ۔ میری فیکٹری کے ورکرز کا چھٹی کرنے سے انکار ۔ میرا اُن کو بار بار سمجھانا کہ”بھائیو ۔ کل بھی کام کرناہے ۔ جاؤ اور چند گھنٹے آرام کر کے واپس آؤ“۔ بڑی مُشکل سےمیں نے اُنہیں منایا تھا
کام کے دنوں میں صبح 7 بجے سے سہ پہر 5 بجے تک میں اسسٹنٹ ورکس منیجر تھا ہی ۔ شام 6 بجے سے اگلے دن صبح 7 بجے تک مجھے سب سیکٹر کمانڈر بنا دیا گیا ۔ میں 15 دن رات فیکٹری میں رہا اور روزانہ ایک وقت کا کھانا کھایا ۔ پہلے 4 دن اور 3 راتیں نہ سویا ۔ چوتھی رات کو ایک فورمین اور ایک اسِسٹنٹ فورمین نے مجھے پکڑ کر میرے دفتر میں سٹریچر پر لٹا کر باہر سے دروازہ بند کر دیا اور فجر سے پہلے کھولا
بازاروں کا یہ حال تھا کہ دودھ والے جو پانی ملاتے تھے اُنہوں نے پانی ملانا بند کر دیا ۔ جو دودھ 10 آنے سیر بیچتے تھے اُنہوں نے 8 آنے بیچنا شروع کر دیا ۔ کھانے پینے کی دوسری اشیاء بھی پہلے سے سَستی بِکنے لگیں
لاہوریئے پلاؤ کی دیگیں پکوا کر ریہڑوں پر رکھ کر واہگہ محاذ کی طرف جانے شروع ہو گئے کہ ہمارے بھائی فوجیوں نے کھانا نہیں کھایا ہو گا

میں سوچ میں پڑ جاتا ہوں اور دل ہی دل میں کہتا ہوں ”یا رب ۔ میرے وہ پاکستانی بھائی کہاں چلے گئے ؟ ؟ ؟“

اَے پُتَر ھَٹاں تے نئیں وِکدے ۔ ۔ ۔ کی لَب نِیں ایں وِچ بازار کُڑے
اَے دین اے میرے داتا دی ۔ ۔ ۔ نا ایویں ٹکراں مار کُڑے
اَے پُتَر ھَٹاں تے نئیں وِکدے
اَے پُتَر وِکاؤ چیز نئیں ۔ ۔ ۔ مُل دے کے جھولی پائیے نِیں
اَے اَیڈا سَستا مال نئیں ۔ ۔ ۔ کِتوں جا کے منگ لیا ئیے نِیں
اَے سَودا نَقَد وی نئیں مِل دا ۔ ۔ ۔ تُوں لَب دی پھِریں اُدھار کُڑے
اَے پُتَر ھَٹاں تے نئیں وِکدے
اَے شیر بہادر غازی نیں ۔ ۔ ۔ کِسے کولوں وی ہَر دے نئیں
اَینا دُشمناں کولوں کی ڈرنا ۔ ۔ ۔ اَے مَوت کولوں وی ڈردے نئیں
اَے اپنے دیس دی عزت تَوں ۔ ۔ ۔ جان اپنی دیندے وار کُڑے
اَے پُتَر ھَٹاں تے نئیں وِکدے
تَن بھاگ نیں اَوہناں ماواں دے ۔ ۔ ۔ جِنہاں ماواں دے اَے جائے نیں
تَن بھاگ نیں بہن بھراواں دے ۔ ۔ ۔ جِنہاں گودی وِیر کھڈائے نیں
اَے آن نیں ماناں والیَاں دی ۔ ۔ ۔ نئیں ایس دی تینوں سار کُڑے
اَے پُتَر ھَٹاں تے نئیں وِکدے

لڑکپن کی یادیں

484 بار دیکھا گیا

یہ گیت میں نے 5 دہائیاں قبل سُنا تھا اور دِل میں بیٹھ گیا کہ یہ میرے مُستقبل کے متعلق ہی کہا گیا ہے
چل اُڑ جا رے پنچھی کہ اب یہ دیس ہوا بیگانہ
تُو نے تِنکا تِنکا چُن کر ۔ نگری تھی اپنی بسائی
بارش میں تیری بھیگی پانکھیں دھوپ میں گرمی کھائی
غم نہ کر جو تیری محنت ۔ تیرے کام نہ آئی
اچھا ہے کچھ لے جانے سے دے کر ہی کچھ جانا
چل اُڑ جا رے پنچھی کہ اب یہ دیس ہوا بیگانہ
ختم ہوئے دن اُس ڈالی کے جس پر تیرا بسیرا تھا
آج یہاں اور کل ہو وہاں یہ جوگی والا پھیرا تھا
یہ تیری جاگیر نہیں تھی چار دنوں کا میلہ تھا
سدا رہا ہے اس دُنیا میں کس کا آب و دانہ
چل اُڑ جا رے پنچھی کہ اب یہ دیس ہوا بیگانہ
بھُول جا اب وہ مَست ہوا ۔ وہ اُڑنا ڈالی ڈالی
جگ کی آنکھ کا کانٹا بن گئی چال تیری متوالی
کون بھلا اُس باغ کو پوچھے ۔ ہو نہ جس کا مالی
تیری قسمت میں لکھا ہے ۔ جیتے جی مر جانا
چل اُڑ جا رے پنچھی کہ اب یہ دیس ہوا بیگانہ
روتے ہیں وہ پنکھ پکھیرُو ساتھ تیرے جو کھیلے
جن کے ساتھ لگائے تُو نے ۔ ارمانوں کے میلے
بھیگی انکھیوں سے ہی اُن کی آج دعائیں لے لے
کِس کو پتہ اب اس نگری میں ۔ کب ہو تیرا آنا
چل اُڑ جا رے پنچھی کہ اب یہ دیس ہوا بیگانہ

آزادی مبارک

373 بار دیکھا گیا

تمام ہموطنوں کو (دنیا میں جہاں کہیں بھی ہیں) آزادی کی سالگرہ مبارک my-id-pakاللہ ہمیں آزادی کے صحیح معنی سمجھنے اور اپنے مُلک کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

یہ وطن ہمارے بزرگوں نے حاصل کیا تھا کہ مسلمان اسلام کے اصولوں پر چلتے ہوئے مل جل کر اپنی حالت بہتر بنائیں ۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ ہم مسلمان ہیں یا نہیں البتہ پاکستانی نہیں بنے ۔ کوئی سندھی ہے کوئی پنجابی کوئی بلوچ کوئی پختون کوئی سرائیکی کوئی پاکستان میں پیدا ہو کر مہاجر ۔ کوئی سردار کوئی مَلک کوئی خان کوئی وڈیرہ کوئی پیر ۔ اس کے علاوہ مزید بے شمار ذاتوں اور برادریوں میں بٹے ہوئے ہیں

بڑے بڑے روشن خیال بھی پیدا ہو گئے ہیں جو قائد اعظم کی 11 اگست 1947ء کی تقریر کا صرف ایک فقرہ سیاق وسباق سے علیحدہ کر کے کہتے ہیں کہ قائد اعظم نے پاکستان کو ایک اسلامی نہیں سیکولر ریاست بنایا تھا ۔ ان روشن خیالوں سے کوئی پوچھے کہ کیا قائد اعظم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ان کی باقی ساری تقریریں اور اقوال بھول جائیں ؟ ایک نعرہ جو تحریک پاکستان کا لازمی جزو تھا ”پاکستان کا مطلب کیا ؟ لا الہ الا اللہ“۔ وہ بھی ان روشن خیالوں نے کہیں نہیں پڑھا ؟

قائداعظم 1942ء میں الہ آباد میں تھے تو وکلاء کے ایک وفد کی ملاقات کے دوران ایک وکیل نے پوچھا ”پاکستان کا دستور کیسا ہوگا اور کیا آپ پاکستان کا دستور بنائیں گے ؟“
قائداعظم نے جواب میں فرمایا ”پاکستان کا دستور بنانے والا میں کون ہوتا ہوں ۔ پاکستان کا دستور تو تیرہ سو برس پہلے بن گیا تھا“۔

قائداعظم کی 11 اگست 1947 کا خطاب بھی رسول اکرم صل اللہ علیہ و سلم کے خطبہ الوداع کے ان الفاظ کی غمازی کرتا محسوس ہوتا ہے ۔ تمام انسان آدم اور حوا سے ہیں ۔ کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی برتری حاصل نہیں اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر ۔ نہ کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی برتری حاصل ہے اور نہ کسی کالے کو کسی گورے پر ۔ سوائے اس کے کہ کوئی پرہیزگاری اور اچھے عمل کی وجہ سے بہتر ہو

ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے ۔ ۔ ۔ اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے
برسوں کے بعد پھر اُڑے پرچم ہلال کے ۔ ۔ ۔ اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے
دیکھو کہیں اُجڑے نہ ہمارا یہ باغیچہ ۔ ۔ ۔ اس کو لہو سے اپنے شہیدوں نے ہے سینچا
اس کو بچانا جان مصیبت میں ڈال کے ۔ ۔ ۔ اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے
دنیا کی سیاست کے عجب رنگ ہیں نیارے ۔ ۔ ۔ چلنا ہے مگر تم کو تو قرآں کے سہارے
ہر اک قدم اُٹھانا ذرا دیکھ بھال کے ۔ ۔ ۔ اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے
تُم راحت و آرام کے جھُولے میں نہ جھُولو ۔ ۔ ۔ کانٹوں پہ ہے چلنا میرے ہنستے ہوئے پھُولو
لینا ابھی کشمیر ہے یہ بات نہ بھُولو ۔ ۔ ۔ کشمیر پہ لہرانا ہے جھنڈا اُچھال کے
اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے ۔ ۔ ۔ ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے
اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے ۔ ۔ ۔ اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے