Category Archives: پيغام

یومِ یکجہتی کشمیر


ستم شعار سے تجھ کو ہم چھڑائیں گے اک دن
میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

جموں کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی کے لئے دوسری مسلح جدوجہد 1989ء میں شروع ہوئی ۔ اس تحریک کا آغاز کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں تھا اور نہ ہی یہ کسی باہر کے عنصر کی ایماء پر شروع کی گئی تھی بلکہ بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہر دن کے مظالم سے مقبوضہ جموں کشمیر کے مسلمان تنگ آ چکے تھے اور نام نہاد انسانیت کی حمائتی دُنیا سے مایوس ہونے کے بعد جموں کشمیر کے جوانوں نے جد و جہد آزادی کا بیڑا اُٹھایا ۔ اِس صورتِ حال کے پیشِ نظر پاکستان کی چند سیاسی جماعتوں نے جموں کشمیر کے عوام کے ساتھ ہمدردی کے اِظہار کے لئے 5 فروری 1990ء کو یومِ یکجہتیءِ کشمیر منانے کا فیصلہ کیا

اہل کشمیر سے یکجہتی کا اظہار محض روایتی نوعیت کی اخلاقی ہمدردی کا مسئلہ نہیں، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اسی اہمیت کی وجہ سے برطانوی حکومت نے 1947ء میں پاکستان اور بھارت کی آزاد مملکتوں کے قیام کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہرو کی بات مان کر مُسلم اکثریت والے علاقے گورداس پورکو بھارت میں شامل کر کے یہ مسئلہ پیدا کیا۔ کشمیر کا مسئلہ دو مملکتوں کے درمیان کسی سرحدی تنازع کا معاملہ نہیں بلکہ کشمیریوں کی ”حق خودارادیت“ کی جدوجہد پاکستان کی بقاء کی جنگ ہے ۔ بھارتی فوج اس راستہ سے جموں مین داخل ہوئی اور بھارتی فوج کی پُشت پناہی سے راشٹریہ سیوک سنگ (آر ایس ایس) ۔ ہندو مہا سبھا (اب ہِندتوا اور بی جے پی) اور اکالی دل (سکھ) کے مسلحہ دستے جموں میں داخل ہونا شروع ہوئے اور پورے صوبہ جموں میں مسلمانوں کے کھیتوں کو رات کے وقت آگ لگانا شروع کیا اور ساتھ ہی مسلمانوں کا قتلِ عام بھی ۔ 1947ء سے بھارت محض اسلحہ کی طاقت کے زور پر کشمیریوں پر اپنی بالادستی قائم رکھے ہوئے ہے

وہی راشٹریہ سیوک سنگ (آر ایس ایس) اور بھارتیہ جَنَتا پارٹی (بی جے پی) آجکل بھارت پر حکومت کر رہی ہے اور نہ صرف جموں کشمیر بلکہ پورے بھارت میں مسلمانوں پر ظُلم ڈھا رہی ہیں

قوموں کی زندگی میں ایک وقت فیصلہ کا آتا ہے کہ “جھُکے سر کے ساتھ چند روز عیش قبول کرلیں” یا “سرفروشی کے ساتھ سرفرازی کی راہ اپنائیں”۔ جَبَر کرنے والے اذِیّتوں سے اور موت سے ڈراتے ہیں۔ اِیمانی توانائی موت سے نبرُد آزما ہونے کی جرأت عطا کرتی ہے۔ موت میں خوف نہیں ہوتا بلکہ لذت ہوتی ہے اور جذبہءِ ایمانی کا کَیف اس لذّت کو نِکھارتا ہے۔ اہلِ کشمیر اب اس لذّت سے سرشار ہو چکے ہیں ۔ یہ اللہ کا کرم ہے اہل کشمیر پر اور اہل پاکستان پر بھی ۔ اہلِ کشمیر صرف کشمیرکیلئے حق خودارادیت کی جنگ نہیں لڑ رہے ۔ وہ پاکستان کے استحکام کی جنگ بھی لڑ رہے ہیں

حُرِیّت کی داستانیں اِسی طرح رَقَم ہوتی ہیں۔ بھارت کی جارحانہ طاقت اس جذبے کا مقابلہ کب تک کرے گی ۔ بھارتی فوج پوری طرح مسلح ہے لیکن وہ انسانی قدروں سے نہ صرف محروم بلکہ ان سے متصادم ہے اس لئے ناکامی اس کا مقدر ہے ۔ بھارت کشمیریوں کی حق خودارادیت کے حصول کی جنگ کو ”دہشت گردی“ کہتا ہے جبکہ خود بھارت انسانیت کو پامال کر رہا ہے
جموں کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی کے لئے دوسری مسلح جدوجہد 1989ء میں شروع ہوئی ۔ اس تحریک کا آغاز کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں تھا اور نہ ہی یہ کسی باہر کے عنصر کی ایماء پر شروع کی گئی تھی بلکہ بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہر دن کے مظالم سے مقبوضہ جموں کشمیر کے مسلمان تنگ آ چکے تھے اور نام نہاد انسانیت کی حمائتی دُنیا سے مایوس ہونے کے بعد جموں کشمیر کے جوانوں نے جد و جہد آزادی کا بیڑا اُٹھایا ۔ اِس صورتِ حال کے پیشِ نظر پاکستان کی چند سیاسی جماعتوں نے جموں کشمیر کے عوام کے ساتھ ہمدردی کے اِظہار کے لئے 5 فروری 1990ء کو یومِ یکجہتیءِ کشمیر منانے کا فیصلہ کیا

اہل کشمیر سے یکجہتی کا اظہار محض روایتی نوعیت کی اخلاقی ہمدردی کا مسئلہ نہیں، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اسی اہمیت کی وجہ سے برطانوی حکومت نے 1947ء میں پاکستان اور بھارت کی آزاد مملکتوں کے قیام کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہرو کی بات مان کر مُسلم اکثریت والے علاقے گورداس پورکو بھارت میں شامل کر کے یہ مسئلہ پیدا کیا۔ کشمیر کا مسئلہ دو مملکتوں کے درمیان کسی سرحدی تنازع کا معاملہ نہیں بلکہ کشمیریوں کی ”حق خودارادیت“ کی جدوجہد پاکستان کی بقاء کی جنگ ہے ۔ بھارتی فوج اس راستہ سے جموں مین داخل ہوئی اور بھارتی فوج کی پُشت پناہی سے راشٹریہ سیوک سنگ (آر ایس ایس) ۔ ہندو مہا سبھا (اب ہِندتوا اور بی جے پی) اور اکالی دل (سکھ) کے مسلحہ دستے جموں میں داخل ہونا شروع ہوئے اور پورے صوبہ جموں میں مسلمانوں کے کھیتوں کو رات کے وقت آگ لگانا شروع کیا اور ساتھ ہی مسلمانوں کا قتلِ عام بھی ۔ 1947ء سے بھارت محض اسلحہ کی طاقت کے زور پر کشمیریوں پر اپنی بالادستی قائم رکھے ہوئے ہے

قوموں کی زندگی میں ایک وقت فیصلہ کا آتا ہے کہ “جھُکے سر کے ساتھ چند روز عیش قبول کرلیں” یا “سرفروشی کے ساتھ سرفرازی کی راہ اپنائیں”۔ جَبَر کرنے والے اذِیّتوں سے اور موت سے ڈراتے ہیں۔ اِیمانی توانائی موت سے نبرُد آزما ہونے کی جرأت عطا کرتی ہے۔ موت میں خوف نہیں ہوتا بلکہ لذت ہوتی ہے اور جذبہءِ ایمانی کا کَیف اس لذّت کو نِکھارتا ہے۔ اہلِ کشمیر اب اس لذّت سے سرشار ہو چکے ہیں ۔ یہ اللہ کا کرم ہے اہل کشمیر پر اور اہل پاکستان پر بھی ۔ اہلِ کشمیر صرف کشمیرکیلئے حق خودارادیت کی جنگ نہیں لڑ رہے ۔ وہ پاکستان کے استحکام کی جنگ بھی لڑ رہے ہیں

حُرِیّت کی داستانیں اِسی طرح رَقَم ہوتی ہیں۔ بھارت کی جارحانہ طاقت اس جذبے کا مقابلہ کب تک کرے گی ۔ بھارتی فوج پوری طرح مسلح ہے لیکن وہ انسانی قدروں سے نہ صرف محروم بلکہ ان سے متصادم ہے اس لئے ناکامی اس کا مقدر ہے ۔ بھارت کشمیریوں کی حق خودارادیت کے حصول کی جنگ کو ”دہشت گردی“ کہتا ہے جبکہ خود بھارت انسانیت کو پامال کر رہا ہے

دعا

اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے
اُمت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے
جو تفرقے اقوام کے آیا تھا مٹانے
اس دین میں خود تفرقہ اب آ کے پڑا ہے
جس دین نے غیروں کے تھے دل آ کے ملائے
اس دین میں اب بھائی خود بھائی سے جدا ہے
جس دین کی حجت سے سب ادیان تھے مغلوب
اب معترض اس دین پہ ہر ہرزہ سرا ہے
چھوٹوں میں اطاعت ہے نہ شفقت ہے بڑوں میں
پیاروں میں محبت ہے نہ یاروں میں وفا ہے
دولت ہے نہ عزت نہ فضیلت نہ ہنر ہے
اک دین ہے باقی سو وہ بے برگ و نوا ہے
گو قوم میں تیری نہیں اب کوئی بڑائی
پر نام تیری قوم کا یاں اب بھی بڑا ہے
ڈر ہے کہیں یہ نام بھی مٹ جائے نہ آخر
مدت سے اسے دورِ زماں میٹ رہا ہے
فریاد ہے اے کشتی اُمت کے نگہباں
بیڑا یہ تباہی کے قریب آن لگا ہے
کر حق سے دعا اُمت مرحوم کے حق میں
خطروں میں بہت جس کا جہاز آ کے گھِرا ہے
ہم نیک ہیں یا بد ہیں پھر آخر ہیں تمہارے
نسبت بہت اچھی ہے اگر حال بُرا ہے
تدبیر سنبھلنے کی ہمارے نہیں کوئی
ہاں ایک دعا تری کے مقبول خدا ہے

قابلِ اعتماد

جو لوگ خود غرض ہوتے ہیں
وہ کبھی اچھے دوست نہیں ہوتے
(ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ)

جو شخص اپنے خلوص کی قسم کھائے
اس پر اعتماد نہ کرو
(عمر رضی اللہ عنہ)

محبت سب سے کرو
مگر
اعتماد چند پر
(عثمان رضی اللہ عنہ)

لوگوں کی ایک خوبی یہ بھی ہوتی ہے
کہ
اُنہیں یاد رکھنا نہیں پڑتا
وہ یاد رہ جاتے ہیں
(علی رضی اللہ عنہ)

دنیا اور آخرت ۔ دونوں ہی جنّت

اگر ہم اپنے چھوٹے چھوٹے دُکھ بھُلا دیں
اور اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیاں یاد رکھیں
اگر ہم اپنے چھوٹے چھوٹے نقصان بھُلا دیں
اور جو فائدے پائے ان سب کو یاد رکھیں
اگر ہم لوگوں میں عیب ڈھونڈنا چھوڑ دیں
اور ان میں خوبیاں تلاش کر کے یاد رکھیں
کتنی آرام دہ ۔ خوش کن اور اطمینان بخش
یہ دنیا بن جائے اس معمولی کوشش سے
اور اللہ کی مہربانی سے آخرت میں بھی جنّت مل جائے

خُودی

سُبحانَ اللَّهِ، والحمدُ للَّهِ، ولا إلَهَ إلَّا اللَّهُ، واللَّهُ أَكْبرُ، ولا حَولَ ولا قوَّةَ إلَّا باللَّهِ العليِّ العظيمِ

خودی کا سر نہاں ولا إلَهَ إلَّا اللَّهُ
خودی ہے تیغ، فساں ولا إلَهَ إلَّا اللَّهُ
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں، ولا إلَهَ إلَّا اللَّهُ
کیا ہے تو نے متاع غرور کا سودا
فریب سود و زیاں ، ولا إلَهَ إلَّا اللَّهُ
یہ مال و دولت دنیا، یہ رشتہ و پیوند
بتان وہم و گماں، ولا إلَهَ إلَّا اللَّهُ
خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زناری
نہ ہے زماں نہ مکاں، ولا إلَهَ إلَّا اللَّهُ
یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں، ولا إلَهَ إلَّا اللَّهُ
اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں، ولا إلَهَ إلَّا اللَّهُ

یومِ یکجہتی کشمیر

ستم شعار سے تجھ کو ہم چھڑائیں گے اک دن
میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
کرتا نہیں کیوں دوسرا اس پہ کچھ بات چیت
دیکھتا ہوں میں جسے وہ چپ تیری محفل میں ہے
اے شہیدِ مُلک و ملت میں تیرے اُوپر نثار
اب تیری ہمت کا چرچہ غیر کی محفل میں ہے
کھینج کر لائی ہے سب کو قتل ہونے کی اُمید
عاشقوں کا آج جمگھٹ کوچۂ قاتل میں ہے
ہے لئے ہتھیار دشمن تاک میں بیٹھا اُدھر
اور ہم تیار ہیں کھُلا سینہ لئے اپنا اِدھر
ہاتھ جن میں ہو جنُوں کٹتے نہیں تلوار سے
سر جو اُٹھ جاتے ہیں وہ جھُکتے نہیں للکا ر سے
زندگی تو اپنی مہمان موت کی محفل میں ہے
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دل میں طوفانوں کی تولی اور نسوں میں انقلاب
ہوش دشمن کے اُڑا دیں گے ہمیں روکو نہ آج

کلام ۔ بِسمِل عظیم آبادی

کشمیری کیا سوچ رہے ہیں ؟

ہندوستان کی مودی سرکار کی نئی جارحیت اور پاک بھارت سرحد پر کشیدگی کے تناظر میں گزشتہ دنوں جموں و کشمیر کے حالات سے آگاہی کے لئے متعلقہ لوگوں سے براہ راست مکالمے کا قصد کیا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر تو جا نہیں سکتے اس لئے آزاد کشمیر جانے کا پروگرام بنایا۔ یہاں بچوں سے بھی بات چیت ہوئی، جوانوں سے بھی، بوڑھوں سے بھی اور دنیا کے اس حسین ترین علاقے کے حسین نظاروں کا لطف بھی اٹھایا۔ اس پورے سفر میں جو کچھ دیکھا اور سنا، اس کا خلاصہ یہاں بیان کرنا اس لئے ضروری سمجھتا ہوں کہ مظفرآباد اور وادی نیلم دونوں جگہ وکلا اور صحافی بھائیوں سے وعدہ کیا تھا کہ میں ان کے احساسات اپنی استطاعت کے مطابق دنیا تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
پہلی چیز جو میں نے محسوس کی وہ آزاد جموں و کشمیر کے باسیوں اور بالخصوص نوجوانوں میں ایک عجیب قسم کی بے چینی اور اضطراب تھا۔ ہم پاکستانی بھی مقبوضہ کشمیر کے حالات پر پریشان ہیں لیکن آزاد جموں و کشمیر لوگوں کا دکھ اور کرب بہت گہرا ہے۔ وہ مقبوضہ کشمیر کے بہن بھائیوں کی خاطر لڑنا اور مرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کریں اور کیسے کریں؟ دوسری چیز میں نے یہ محسوس کی کہ وہاں کی سیاسی قیادت، پاکستانی قیادت کے رویئے سے خوش نہیں ہے جبکہ کشمیری نوجوان پاکستانی قیادت سے بھی خوش نہیں ہیں اور اپنی سیاسی قیادت سے بھی۔ وہاں کے لوگوں کے ذہنوں میں یہ وسوسے گھوم رہے ہیں کہ کشمیر کے معاملے پر درپردہ کوئی ڈیل ہوئی ہے یا ہو رہی ہے لیکن انہیں بے خبر رکھا جارہا ہے۔ یہ وسوسہ یا احساس بہت خطرناک ہے اور پاکستانی قیادت کو چاہئے کہ وہ پہلی فرصت میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے نوجوانوں اور رائے عامہ کے نمائندوں کو اعتماد میں لے۔ انہیں یہ خدشہ ہے کہ کشمیر کے قضیے کو تقسیمِ کشمیر کی طرف لے جایا جا رہا ہے جو سردست انہیں کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں اور بجا اٹھاتے ہیں کہ اگر کشمیر کی تقسیم پر راضی ہونا تھا تو پھر اتنی قربانیاں کیوں دی گئیں کیونکہ ماضی میں تو ہندوستان اس سے بہت بہتر پیکیج دینے کو تیار تھا۔ مقبوضہ کشمیر کو تو مودی سرکار نے جہنم بنا رکھا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کنٹرول لائن کے دونوں طرف رہنے والے لوگوں کی زندگی بھی کسی عذاب سے کم نہیں جس کی طرف عالمی برادری توجہ دے رہی ہے اور نہ پاکستانی حکومت۔ یہ لوگ گزشتہ کئی دہائیوں سے چوبیس گھنٹے اس خوف میں زندگی گزار رہے ہیں کہ کسی بھی وقت بندوق یا توپ کا گولہ آسکتا اور ان کی زندگی کا خاتمہ کر سکتا ہے۔ دونوں طرف پہاڑوں پر دشمن کی فوجیں بیٹھی ہیں اور درمیان میں یہ لوگ زندگی گزار رہے ہیں جبکہ درجنوں مرتبہ وہ مکمل جنگ اور ہزاروں مرتبہ فائرنگ اور شیلنگ کی زد میں آچکے ہیں۔ ان لوگوں کو موسم کی سختیوں سے بھی لڑنا پڑتا ہے اور جب فائرنگ کے واقعات ہوتے ہیں تو پھر معمول کا روزگار بھی ٹھپ ہوکر رہ جاتا ہے۔ وادی نیلم کے باسیوں نے ہمیں بتایا کہ گزشتہ دنوں کے فائرنگ کے واقعات کے بعدان کا روزگار نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ ایک شکایت کشمیریوں کو یہ ہے کہ چونکہ کشمیر ان کا ہے اس لئے اس سے متعلق بات بھی ان کو کرنا چاہئے۔ ایک کشمیری نوجوان نے بجا طور پریہ شکوہ کیا کہ کشمیر ان کا ہے، قربانیاں ان کے بہن بھائی دے رہے ہیں، ہندوستانی افواج کی شیلنگ کی زد میں وہ ہیں اور ان کے نام پر اس وقت فواد چوہدری فرانس میں، شہریار آفریدی جرمنی میں اور شیخ رشید لندن میں مزے لوٹ رہے ہیں۔ وہ مطالبہ کررہے ہیں کہ قومی اور بین الاقوامی فورمز پر کشمیر کا کیس کشمیریوں کو پیش کرنے کا موقع دیا جائے کیونکہ اپنے کیس کو ان سے بہتر کوئی نہیں سمجھتا اور جب کشمیری قیادت خود اپنا کیس بیان کرے گی تو دنیا بھی زیادہ توجہ دے گی۔ ان کو یہ بھی شکایت ہے کہ کشمیری قیادت کو ایک چھتری تلے اور ایک بیانیے پر جمع کرنے کے لئے بھی پاکستان کماحقہ کردار ادا نہیں کررہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعظم عمران خان ہمارے وکیل ہیں تو وہ ہم مدعیوں سے ہمارا کیس بھی تو سمجھیں۔ دنیا میں یہ کہیں نہیں ہوتا کہ وکیل اپنی طرف سے مدعی کے مستقبل کے فیصلے کرتا پھرے اور مدعی کو آگاہ بھی نہ کرے کہ ان کا کیس کس طرف جا رہا ہے۔ آزاد کشمیر کے صحافیوں کو بھی ملک کے دیگر پسماندہ علاقوں کی طرح میڈیا سے شکایت ہے وہ جانوں پر کھیل کر علاقے کی خبریں اکٹھی کرتے ہیں لیکن پاکستانی میڈیا میں ان کو جگہ نہیں ملتی اور سارا وقت پاکستان کے سیاسی ڈراموں کی نذر ہوتا ہے۔ یہاں کے اہل صحافت، دانشور اور نوجوان پاکستان کے سیاسی حالات پر بھی دکھی ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جب پاکستان میں یہ سیاسی انتشار ہو گا اور نفرتیں اس قدر زوروں پر ہوں گی تو پھر کیوں کر پاکستان کشمیریوں کی وکالت بہتر انداز میں کر سکے گا۔

تحریر سلیم صافی