Category Archives: پيغام

قابلِ اعتماد

جو لوگ خود غرض ہوتے ہیں
وہ کبھی اچھے دوست نہیں ہوتے
(ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ)

جو شخص اپنے خلوص کی قسم کھائے
اس پر اعتماد نہ کرو
(عمر رضی اللہ عنہ)

محبت سب سے کرو
مگر
اعتماد چند پر
(عثمان رضی اللہ عنہ)

لوگوں کی ایک خوبی یہ بھی ہوتی ہے
کہ
اُنہیں یاد رکھنا نہیں پڑتا
وہ یاد رہ جاتے ہیں
(علی رضی اللہ عنہ)

دنیا اور آخرت ۔ دونوں ہی جنّت

اگر ہم اپنے چھوٹے چھوٹے دُکھ بھُلا دیں
اور اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیاں یاد رکھیں
اگر ہم اپنے چھوٹے چھوٹے نقصان بھُلا دیں
اور جو فائدے پائے ان سب کو یاد رکھیں
اگر ہم لوگوں میں عیب ڈھونڈنا چھوڑ دیں
اور ان میں خوبیاں تلاش کر کے یاد رکھیں
کتنی آرام دہ ۔ خوش کن اور اطمینان بخش
یہ دنیا بن جائے اس معمولی کوشش سے
اور اللہ کی مہربانی سے آخرت میں بھی جنّت مل جائے

خُودی

سُبحانَ اللَّهِ، والحمدُ للَّهِ، ولا إلَهَ إلَّا اللَّهُ، واللَّهُ أَكْبرُ، ولا حَولَ ولا قوَّةَ إلَّا باللَّهِ العليِّ العظيمِ

خودی کا سر نہاں ولا إلَهَ إلَّا اللَّهُ
خودی ہے تیغ، فساں ولا إلَهَ إلَّا اللَّهُ
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں، ولا إلَهَ إلَّا اللَّهُ
کیا ہے تو نے متاع غرور کا سودا
فریب سود و زیاں ، ولا إلَهَ إلَّا اللَّهُ
یہ مال و دولت دنیا، یہ رشتہ و پیوند
بتان وہم و گماں، ولا إلَهَ إلَّا اللَّهُ
خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زناری
نہ ہے زماں نہ مکاں، ولا إلَهَ إلَّا اللَّهُ
یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں، ولا إلَهَ إلَّا اللَّهُ
اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں، ولا إلَهَ إلَّا اللَّهُ

یومِ یکجہتی کشمیر

ستم شعار سے تجھ کو ہم چھڑائیں گے اک دن
میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
کرتا نہیں کیوں دوسرا اس پہ کچھ بات چیت
دیکھتا ہوں میں جسے وہ چپ تیری محفل میں ہے
اے شہیدِ مُلک و ملت میں تیرے اُوپر نثار
اب تیری ہمت کا چرچہ غیر کی محفل میں ہے
کھینج کر لائی ہے سب کو قتل ہونے کی اُمید
عاشقوں کا آج جمگھٹ کوچۂ قاتل میں ہے
ہے لئے ہتھیار دشمن تاک میں بیٹھا اُدھر
اور ہم تیار ہیں کھُلا سینہ لئے اپنا اِدھر
ہاتھ جن میں ہو جنُوں کٹتے نہیں تلوار سے
سر جو اُٹھ جاتے ہیں وہ جھُکتے نہیں للکا ر سے
زندگی تو اپنی مہمان موت کی محفل میں ہے
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دل میں طوفانوں کی تولی اور نسوں میں انقلاب
ہوش دشمن کے اُڑا دیں گے ہمیں روکو نہ آج

کلام ۔ بِسمِل عظیم آبادی

کشمیری کیا سوچ رہے ہیں ؟

ہندوستان کی مودی سرکار کی نئی جارحیت اور پاک بھارت سرحد پر کشیدگی کے تناظر میں گزشتہ دنوں جموں و کشمیر کے حالات سے آگاہی کے لئے متعلقہ لوگوں سے براہ راست مکالمے کا قصد کیا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر تو جا نہیں سکتے اس لئے آزاد کشمیر جانے کا پروگرام بنایا۔ یہاں بچوں سے بھی بات چیت ہوئی، جوانوں سے بھی، بوڑھوں سے بھی اور دنیا کے اس حسین ترین علاقے کے حسین نظاروں کا لطف بھی اٹھایا۔ اس پورے سفر میں جو کچھ دیکھا اور سنا، اس کا خلاصہ یہاں بیان کرنا اس لئے ضروری سمجھتا ہوں کہ مظفرآباد اور وادی نیلم دونوں جگہ وکلا اور صحافی بھائیوں سے وعدہ کیا تھا کہ میں ان کے احساسات اپنی استطاعت کے مطابق دنیا تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
پہلی چیز جو میں نے محسوس کی وہ آزاد جموں و کشمیر کے باسیوں اور بالخصوص نوجوانوں میں ایک عجیب قسم کی بے چینی اور اضطراب تھا۔ ہم پاکستانی بھی مقبوضہ کشمیر کے حالات پر پریشان ہیں لیکن آزاد جموں و کشمیر لوگوں کا دکھ اور کرب بہت گہرا ہے۔ وہ مقبوضہ کشمیر کے بہن بھائیوں کی خاطر لڑنا اور مرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کریں اور کیسے کریں؟ دوسری چیز میں نے یہ محسوس کی کہ وہاں کی سیاسی قیادت، پاکستانی قیادت کے رویئے سے خوش نہیں ہے جبکہ کشمیری نوجوان پاکستانی قیادت سے بھی خوش نہیں ہیں اور اپنی سیاسی قیادت سے بھی۔ وہاں کے لوگوں کے ذہنوں میں یہ وسوسے گھوم رہے ہیں کہ کشمیر کے معاملے پر درپردہ کوئی ڈیل ہوئی ہے یا ہو رہی ہے لیکن انہیں بے خبر رکھا جارہا ہے۔ یہ وسوسہ یا احساس بہت خطرناک ہے اور پاکستانی قیادت کو چاہئے کہ وہ پہلی فرصت میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے نوجوانوں اور رائے عامہ کے نمائندوں کو اعتماد میں لے۔ انہیں یہ خدشہ ہے کہ کشمیر کے قضیے کو تقسیمِ کشمیر کی طرف لے جایا جا رہا ہے جو سردست انہیں کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں اور بجا اٹھاتے ہیں کہ اگر کشمیر کی تقسیم پر راضی ہونا تھا تو پھر اتنی قربانیاں کیوں دی گئیں کیونکہ ماضی میں تو ہندوستان اس سے بہت بہتر پیکیج دینے کو تیار تھا۔ مقبوضہ کشمیر کو تو مودی سرکار نے جہنم بنا رکھا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کنٹرول لائن کے دونوں طرف رہنے والے لوگوں کی زندگی بھی کسی عذاب سے کم نہیں جس کی طرف عالمی برادری توجہ دے رہی ہے اور نہ پاکستانی حکومت۔ یہ لوگ گزشتہ کئی دہائیوں سے چوبیس گھنٹے اس خوف میں زندگی گزار رہے ہیں کہ کسی بھی وقت بندوق یا توپ کا گولہ آسکتا اور ان کی زندگی کا خاتمہ کر سکتا ہے۔ دونوں طرف پہاڑوں پر دشمن کی فوجیں بیٹھی ہیں اور درمیان میں یہ لوگ زندگی گزار رہے ہیں جبکہ درجنوں مرتبہ وہ مکمل جنگ اور ہزاروں مرتبہ فائرنگ اور شیلنگ کی زد میں آچکے ہیں۔ ان لوگوں کو موسم کی سختیوں سے بھی لڑنا پڑتا ہے اور جب فائرنگ کے واقعات ہوتے ہیں تو پھر معمول کا روزگار بھی ٹھپ ہوکر رہ جاتا ہے۔ وادی نیلم کے باسیوں نے ہمیں بتایا کہ گزشتہ دنوں کے فائرنگ کے واقعات کے بعدان کا روزگار نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ ایک شکایت کشمیریوں کو یہ ہے کہ چونکہ کشمیر ان کا ہے اس لئے اس سے متعلق بات بھی ان کو کرنا چاہئے۔ ایک کشمیری نوجوان نے بجا طور پریہ شکوہ کیا کہ کشمیر ان کا ہے، قربانیاں ان کے بہن بھائی دے رہے ہیں، ہندوستانی افواج کی شیلنگ کی زد میں وہ ہیں اور ان کے نام پر اس وقت فواد چوہدری فرانس میں، شہریار آفریدی جرمنی میں اور شیخ رشید لندن میں مزے لوٹ رہے ہیں۔ وہ مطالبہ کررہے ہیں کہ قومی اور بین الاقوامی فورمز پر کشمیر کا کیس کشمیریوں کو پیش کرنے کا موقع دیا جائے کیونکہ اپنے کیس کو ان سے بہتر کوئی نہیں سمجھتا اور جب کشمیری قیادت خود اپنا کیس بیان کرے گی تو دنیا بھی زیادہ توجہ دے گی۔ ان کو یہ بھی شکایت ہے کہ کشمیری قیادت کو ایک چھتری تلے اور ایک بیانیے پر جمع کرنے کے لئے بھی پاکستان کماحقہ کردار ادا نہیں کررہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعظم عمران خان ہمارے وکیل ہیں تو وہ ہم مدعیوں سے ہمارا کیس بھی تو سمجھیں۔ دنیا میں یہ کہیں نہیں ہوتا کہ وکیل اپنی طرف سے مدعی کے مستقبل کے فیصلے کرتا پھرے اور مدعی کو آگاہ بھی نہ کرے کہ ان کا کیس کس طرف جا رہا ہے۔ آزاد کشمیر کے صحافیوں کو بھی ملک کے دیگر پسماندہ علاقوں کی طرح میڈیا سے شکایت ہے وہ جانوں پر کھیل کر علاقے کی خبریں اکٹھی کرتے ہیں لیکن پاکستانی میڈیا میں ان کو جگہ نہیں ملتی اور سارا وقت پاکستان کے سیاسی ڈراموں کی نذر ہوتا ہے۔ یہاں کے اہل صحافت، دانشور اور نوجوان پاکستان کے سیاسی حالات پر بھی دکھی ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جب پاکستان میں یہ سیاسی انتشار ہو گا اور نفرتیں اس قدر زوروں پر ہوں گی تو پھر کیوں کر پاکستان کشمیریوں کی وکالت بہتر انداز میں کر سکے گا۔

تحریر سلیم صافی

آزادی مبارک

تمام ہموطنوں کو (دنیا میں جہاں کہیں بھی ہیں) آزادی کی سالگرہ مبارک my-id-pakاللہ ہمیں آزادی کے صحیح معنی سمجھنے اور اپنے مُلک کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

یہ وطن ہمارے بزرگوں نے حاصل کیا تھا کہ مسلمان اسلام کے اصولوں پر چلتے ہوئے مل جل کر اپنی حالت بہتر بنائیں ۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ ہم مسلمان ہیں یا نہیں البتہ پاکستانی نہیں بنے ۔ کوئی سندھی ہے کوئی پنجابی کوئی بلوچ کوئی پختون کوئی سرائیکی کوئی پاکستان میں پیدا ہو کر مہاجر ۔ کوئی سردار کوئی مَلک کوئی خان کوئی وڈیرہ کوئی پیر ۔ اس کے علاوہ مزید بے شمار ذاتوں اور برادریوں میں بٹے ہوئے ہیں

بڑے بڑے روشن خیال بھی پیدا ہو گئے ہیں جو قائد اعظم کی 11 اگست 1947ء کی تقریر کا صرف ایک فقرہ سیاق وسباق سے علیحدہ کر کے کہتے ہیں کہ قائد اعظم نے پاکستان کو ایک اسلامی نہیں سیکولر ریاست بنایا تھا ۔ ان روشن خیالوں سے کوئی پوچھے کہ کیا قائد اعظم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ان کی باقی ساری تقریریں اور اقوال بھول جائیں ؟ ایک نعرہ جو تحریک پاکستان کا لازمی جزو تھا ”پاکستان کا مطلب کیا ؟ لا الہ الا اللہ“۔ وہ بھی ان روشن خیالوں نے کہیں نہیں پڑھا ؟

قائداعظم 1942ء میں الہ آباد میں تھے تو وکلاء کے ایک وفد کی ملاقات کے دوران ایک وکیل نے پوچھا ”پاکستان کا دستور کیسا ہوگا اور کیا آپ پاکستان کا دستور بنائیں گے ؟“
قائداعظم نے جواب میں فرمایا ”پاکستان کا دستور بنانے والا میں کون ہوتا ہوں ۔ پاکستان کا دستور تو تیرہ سو برس پہلے بن گیا تھا“۔

قائداعظم کی 11 اگست 1947 کا خطاب بھی رسول اکرم صل اللہ علیہ و سلم کے خطبہ الوداع کے ان الفاظ کی غمازی کرتا محسوس ہوتا ہے ۔ تمام انسان آدم اور حوا سے ہیں ۔ کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی برتری حاصل نہیں اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر ۔ نہ کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی برتری حاصل ہے اور نہ کسی کالے کو کسی گورے پر ۔ سوائے اس کے کہ کوئی پرہیزگاری اور اچھے عمل کی وجہ سے بہتر ہو

ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے ۔ ۔ ۔ اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے
برسوں کے بعد پھر اُڑے پرچم ہلال کے ۔ ۔ ۔ اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے
دیکھو کہیں اُجڑے نہ ہمارا یہ باغیچہ ۔ ۔ ۔ اس کو لہو سے اپنے شہیدوں نے ہے سینچا
اس کو بچانا جان مصیبت میں ڈال کے ۔ ۔ ۔ اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے
دنیا کی سیاست کے عجب رنگ ہیں نیارے ۔ ۔ ۔ چلنا ہے مگر تم کو تو قرآں کے سہارے
ہر اک قدم اُٹھانا ذرا دیکھ بھال کے ۔ ۔ ۔ اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے
تُم راحت و آرام کے جھُولے میں نہ جھُولو ۔ ۔ ۔ کانٹوں پہ ہے چلنا میرے ہنستے ہوئے پھُولو
لینا ابھی کشمیر ہے یہ بات نہ بھُولو ۔ ۔ ۔ کشمیر پہ لہرانا ہے جھنڈا اُچھال کے
اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے ۔ ۔ ۔ ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے
اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے ۔ ۔ ۔ اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے

عیدالاضحٰے مبارک

کُلُ عَام اَنتُم بَخَیر

سب مسلمان بہنوں اور بھائیوں جہاں کہیں بھی ہوں عیدالاضحٰے مبارک
ذوالحجہ کا چاند نظر آنے سے لے کر عيد کے تيسرے دن نصف النہار تک ۔ اگر زيادہ نہيں تو ہر نماز کے بعد ايک بار يہ کہنا چاہیئے
البتہ عيد کی نماز کو جاتے ہوئے اور واپسی پر يہ ورد رکھنا چاہیئے

اللہُ اکبر اللہُ اکبر اللہُ اکبر لَا اِلَهَ اِلْاللہ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَهُ
لَهُ الّمُلْکُ وَ لَهُ الْحَمْدُ وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیٍ قَدِیر
اللہُ اکبر اللہُ اکبر اللہُ اکبر لا اِلهَ اِلاللہ و اللہُ اکبر اللہُ اکبر و للہِ الحمد
اللہُ اکبر اللہُ اکبر اللہُ اکبر لا اِلهَ اِلاللہ و اللہُ اکبر اللہُ اکبر و للہِ الحمد
اللہُ اکبر کبِیراً والحمدُللہِ کثیِراً و سُبحَان اللہِ بکرۃً و أصِیلا
اللّھم صلی علٰی سیّدنا محمد و علٰی آل سیّدنا محمد و علٰی اصحاب سیّدنا محمد و علٰی ازواج سیّدنا محمد و سلمو تسلیماً کثیراً کثیرا

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی سب مسلمانوں کو اپنی شريعت پر قائم کرے اور شيطان کے وسوسوں سے بچائے
جنہوں نے حج ادا کیا ہے اللہ کریم اُن کا حج قبول فرمائے
جنہوں نے سیّدنا ابراھیم علیہ السلام کی سُنّت کی پيروی کرتے ہوئے قربانی کرنا ہے ۔ اللہ عِزّ و جَل اُن کی قربانی قبول فرمائے
اللہ کریم ہم سب کو سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے
اللہ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم ہمارے مُلک کو ہر انسانی اور قدرتی آفت سے محفوظ فرمائے اور امن کا گہوارہ بنا دے ۔ آمین ثم آمین