Category Archives: معلومات

اِنسانی جسم کی فیکٹریاں

ﮨﻤﺎﺭﮮ Pancreas ‏ﻟﺒﻠﺒﮯ ‏ﺧﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺷﻮﮔﺮ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺹ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﮐﻮ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﮯ ، ﺩﻝ ﮐﺎ ﭘﻤﭗ ﮨﺮ ﻣﻨﭧ ﺳﺘﺮ ﺍﺳﯽ ﺩﻓﻌﮧ منظم باقاعدہ حرکت سے ﺧﻮﻥ ﭘﻤﭗ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﯾﮏ 75ﺳﺎﻟﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﻼ ﻣﺮﻣﺖ ﺗﻘﺮﯾﺒًﺎ ﺗﯿﻦ ﺍﺭﺏ ﺑﺎﺭ ﺩﮬﮍﮐﺘﺎ ﮨﮯ۔

ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮔﺮﺩﮮ ‏( Kidneys ‏) ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﺑﮯﻣﺜﻞ ﺍﻭﺭ ﻋﺠﯿﺐ ﻓﯿﮑﭩﺮﯼ ہیں ﺟﻮ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺧﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﺴﻢ کے لئے ﺟﻮ ﻣﻔﯿﺪ ﮨﮯﻭە ﺭﮐﮫ ﻟﯿﻨﺎ ﮨﮯ اور ﻓﻀﻼﺕ ﮐﻮ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﻨﺎ ﮨﮯ۔

ﻣﻌﺪە ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﻦ ﮐﯿﻤﯿﮑﻞ ﮐﻤﭙﻠﯿﮑﺲ ‏( Chemical Complex ‏) ﮨﮯ ﺟﻮ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺳﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﺨﺶ ﺍﺟﺰﺍ ﻣﺜﻠًﺎ ﭘﺮﻭﭨﯿﻦ ،ﮐﺎﺭﺑﻮﮨﺎﺋﯿﮉﺭیٹس ﻭﻏﯿﺮە ﮐﻮ ﻋﻠﯿﺤﺪە ﮐﺮﮐﮯ ﺧﻮﻥ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮧ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﻀﻼﺕ ﮐﻮ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔

ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮﻧﮓ ﮐﮯ ﯾﮧ ﺷﺎﮨﮑﺎﺭ، ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﮯ ﯾﮧ ﺑﮯ ﻣﺜﻞ ﻧﻤﻮﻧﮯ، ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻻﺟﻮﺍﺏ ﻓﯿﮑﭩﺮﯾﺎﮞ ، ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﯾﻮﮞ ﮨﯽ ﺑﻦ ﮔﮱ ﺗﮭﮯ؟

لا الٰه الا الله

متوازن نظام

ﺯﻣﯿﻦ ،ﺳﻮﺭﺝ، ﮨﻮﺍﻭٴﮞ، پہاﮌﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺪﺍﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﻤﺠﮭﻮﺗﺎ ﮐﺮ رکھا ہے تاﮐﮧ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﯽ ﮔﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﺁﺑﯽ ﺑﺨﺎﺭﺍﺕ ﺍﭨﮭﯿﮟ، ﮨﻮﺍﺋﯿﮟ ﺍﺭﺑﻮﮞ ﭨﻦ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺵ ﭘﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺪﺍﻧﻮﮞ ﺗﮏ ﻻﺋﯿﮟ، ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺭﯾﮉﯾﺎﺋﯽ ﺫﺭﮮ ﺑﺎﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺍﮐﭩﮭﺎ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻗﻄﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﭩﮭﺎ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺧﺸﮏ ﻣﯿﺪﺍﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﯿﺮﺍﺏ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﮱ ﺑﺮﺳﮯ۔

ﺟﺐ ﺳﺮﺩﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﮐﻢ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮتی ہے ﺗﻮ ﯾﮧ ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ ﭘﺮ ﺑﺮﻑ ﮐﮯ ﺫﺧﯿﺮﮮ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮨﻮجاتا ہے۔ ﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺯﯾﺎە ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨوتی ہے ﺗﻮ ﯾﮧ ﭘﮕﮭﻞ ﮐﺮ ﻧﺪﯼ ﻧﺎﻟﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﯾﺎﻭٴﮞ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺪﺍﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﯿﺮﺍﺏ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﮰ ﻭﺍﭘﺲ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ جاتا ہے۔

ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﺷﺎﻧﺪﺍﺭ ﻣﺘﻮﺍﺯﻥ ﻧﻈﺎﻡ ﺟﻮ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺳﯿﺮﺍﺏ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﺿﺎﺋﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔

ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ۔ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﮨﻤﯽ ﺳﻮﭺ ﺗﮭﯽ؟

لا الٰه الا الله

ﮐﯿﺎ ﺯﻣﯿﻦ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﻋﻘﻞ ﻣﻨﺪ ﮨﮯ؟

ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺩﺑﺨﻮﺩ ﻟﯿﻞ ﻭ ﻧﮩﺎﺭ ﮐﺎ ﻧﻈﺎﻡ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ، ﺧﻮﺩ ﺑﺨﻮﺩ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺤﻮﺭ ﭘﺮ – ساڑھے 67 درجے ﺟﮭﮏ ﮔﺌﯽ ﺗﺎ ﮐﮧ ﺳﺎﺭﺍ ﺳﺎﻝ ﻣﻮﺳﻢ ﺑﺪﻟﺘﮯ ﺭﮨﯿﮟ ، ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮩﺎﺭ ، ﮐﺒﮭﯽ ﮔﺮﻣﯽ، ﮐﺒﮭﯽ ﺳﺮﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﺰﺍﮞ ﺗﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺑﺴﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﺮ ﻃﺮﺡ ﮎ ﺳﺒﺰﯾﺎﮞ ، ﭘﮭﻞ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺳﺎﺭﺍ ﺳﺎﻝ ﻣﻠﺘﯽ ﺭﮨﯿﮟ۔

ﺯﻣﯿﻦ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺷﻤﺎﻟﺎً ﺟﻨﻮﺑﺎً ﺍﯾﮏ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﻣﻘﻨﺎﻃﯿﺴﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺩﺑﺨﻮﺩ ﮨﯽ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ؟
ﺗﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺛﺮ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺑﺎﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺠﻠﯿﺎﮞ ﮐﮍﮐﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﻮﺍ ﮐﯽﻧﺎﺋﭩﺮﻭﺟﻦ ﮐﻮ ﻧﺎﺋﭩﺮﺱ ﺁﮐﺴﺎﺋﮉ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﺑﺎﺭﺵ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﭘﻮﺩﻭﮞ کے لئے ﻗﺪﺭﺗﯽ ﮐﮭﺎﺩ ﻣﮩﯿﺎ ﮐﺮﯾﮟ، ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﭼﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﺤﺮﯼ ﺟﮩﺎﺯ ﺁﺑﺪﻭﺯ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﺍﻭٴﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﮌﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻃﯿﺎﺭﮮ ﺍﺱ ﻣﻘﻨﺎﻃﯿﺲ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﭘﺎﺋﯿﮟ، ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﮩﻠﮏ ﺷﻌﺎﺋﯿﮟ ﺍﺱ ﻣﻘﻨﺎﻃﯿﺴﯿﺖ ﺳﮯ ﭨﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﭘﻠﭧ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﺯﻣﯿﻨﯽ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﮩﻠﮏ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﺳﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮨﮯ

لا الٰه الا الله

کون انہیں سِکھاتا ہے

ﻣﮑﮍﺍ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻨﮧ ﮐﮯ ﻟﻌﺎﺏ ﺳﮯ ﺷﮑﺎﺭ ﭘﮑﮍﻧﮯ ﮐﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﺟﺎﻝ ﺑﻨﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺪﯾﺪ ﭨﯿﮑﺴﭩﺎﺋﻞ ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮز ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺑﻨﺎﻭﭦ ﮐﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﻔﯿﺲ ﺩﮬﺎﮔﺎ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻗﺎﺻﺮ ﮨﯿﮟ۔

ﮔﮭﺮﯾﻠﻮ ﭼﯿﻮنٹیاں ﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ موسم سرما ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﺗﯽ ہیں، ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮔﮭﺮ ﺑﻨﺎﺗﯽ ہیں، ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ تنظیم ﺳﮯ ﺭﮨﺘﯽ ہیں ﺟﮩﺎﮞ مینیجمینٹ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﺻﻮﻝ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﻦ ﺣﺪ ﺗﮏ ﮐﺎﺭﻓﺮﻣﺎ ﮨﯿﮟ۔

ﭨﮭﻨﮉﮮ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﭽﮭﻠﯿﺎﮞ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﮉﮮ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﻃﻦ ﺳﮯ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﻣﯿﻞ ﺩﻭﺭ ﮔﺮﻡ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﭽﮯ ﺟﻮﺍﻥ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﻭﻃﻦ ﺧﻮﺩﺑﺨﻮﺩ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔

ﻧﺒﺎﺗﺎﺕ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﺑﮭﯽ ﮐﻢ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﻦ ﻧﮩﯿﮟ، ﺟﺮﺍﺛﯿﻢ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﮑﭩﯿﺮﯾﺎ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﺮﻭﮌﻭﮞ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﻘﺎ ﮐﻮ ﻗﺎﺋﻢ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﮰ ﮨﯿﮟ؟
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﮔﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺳﮑﮭﺎﮰ؟
سوشل مینیجمینٹ ﮐﮯ ﯾﮧ اصوﻝ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﺲ ﻧﮯ سکھائے؟

لا الٰه الا الله

دعا

میں نے مُسلم ہائی سکول اصغر مال راولپنڈی سے 1953ء میں پنجاب یونیورسٹی کا میٹرک کا امتحان پاس کیا تھا ۔ اس سکول میں ہم پہلی سے دسویں تک کے لڑکے صبح یہ دعا پڑھتے تھے

آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
بادلو ہٹ جاؤ دے دو راہ جانے کے لئے
اے دُعا ہاں عرض کر عرشِ الہی تھام کے
اے خدا اب پھیر دے رُخ گردشِ ایام کے
ڈھونڈتے ہیں اب مداوا سوزشِ غم کے لئے
کر رہے ہیں زخمِ دل فریاد مرہم کے لئے
صُلح تھی کل جن سے اب وہ بر سر پیکار ہیں
وقت اور تقدیر دونوں درپئے آزار ہیں
اے مددگار ِ غریباں، اے پناہِ بے کـساں
اے نصیر ِ عاجزاں، اے مایۂِ بے مائیگاں
رحم کر اپنے نہ آئین کرم کو بھول جا
ہم تجھے بھولے ہیں لیکن تو نہ ہم کو بھول جا
اِک نظر ہو جائے آقا ۔ اب ہمارے حال پر
ڈال دے پردے ہماری شامت اعمال پر
خَلق کے راندے ہوئے، دنیا کے ٹھکرائے ہوئے
آئے ہیں اب تیرے دَر پر ہاتھ پھیلائے ہوئے
خوار ہیں، بدکار ہیں، ڈوبے ہوئے ذلت میں ہیں
کچھ بھی ہیں لیکن ترے محبوب کی اُمت میں ہیں
حق پرستوں کی اگر کی تُو نے دِلجوئی نہیں
طعنہ دیں گے بُت کہ مسلم کا خدا کوئی نہیں

کلام ۔ آغا حشر (1879ء تا 1935ء)

یومِ اسلامی جمہوریہ

flag-1
ہمارے وطن پاکستان میں 23 مارچ کو یومِ اِسلامی جمہوریہ پاکستان منایا جاتا ہے
جنتری کے مطابق بروز ہفتہ 12 صفر 1359ھ اور گریگورین 23 مارچ 1940ء لاہور میں بادشاہی مسجد اور شاہی قلعہ کی شمال کی طرف اُس وقت کے منٹو پارک میں جو پاکستان بننے کے بعد علامہ اقبال پارک کہلایا مسلمانانِ ہِند کے نمائندوں نے ایک مُتفِقہ قرارداد منظور کی جس کا عنوان” قراردادِ مقاصد“ تھا لیکن وہ minar-i-pakistanقرارداد اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے فضل و کرم سے قراردادِ پاکستان ثابت
ہوئی ۔ مینارِ پاکستان علامہ اقبال پارک میں ہی کھڑا ہے ۔ مینار پاکستان پاکستان بننے کے بعد بطور ”یادگار قراردادِ پاکستان“ تعمیر کیا گیا تھا ۔ کچھ لوگوں نے اِسے ”یادگارِ پاکستان“ کہنا شروع کر دیا جو کہ مناسب نہ تھا ۔ چنانچہ اسے مینارِ پاکستان کا نام دے دیا گیا

مندرجہ بالا واقعہ ثابت کرتا ہے کہ اتحاد و یکجہتی کامیابی کا پیش خیمہ ہوتی ہے جو 5 دہائیوں سے ہمارے ملک سے غائب ہے ۔ اللہ قادر و کریم کے حضور میں دعا ہے کہ ہماری قوم کو سیدھی راہ پر گامزن کرے ۔ اِن میں مِلّی یکجہتی قائم کرے اور قوم کا ہر فرد اپنے ذاتی مفاد کو بھُول کر باہمی اور قومی مفاد کیلئے جد و جہد کرے اور مستقبل کی دنیا ہماری قوم کی مثال بطور بہترین قوم دے ۔ آمین

میرے مشاہدے کے مطابق بہت سے ہموطن نہیں جانتے کہ 23 مارچ 1940ء کو کیا ہوا تھا ۔ متعلقہ حقائق کا مختصر ذکر یہاں ضروری سمجھتا ہوں

آل اِنڈیا مسلم لیگ نے اپنا سالانہ اِجتماع منٹو پارک لاہور میں 22 تا 24 مارچ 1940ء کو منعقد کیا ۔ پہلے دن قائد اعظم محمد علی جناح نے خطاب کرتے ہوئے کہا ”ہندوستان کا مسئلہ راہ و رسم کا مقامی معاملہ نہیں بلکہ صاف صاف ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے اور اِس کے ساتھ اِسی طرز سے سلوک کرنا لازم ہے ۔ مسلمانوں اور ہندوؤں میں اِختلافات اِتنے شدید اور تلخ ہیں کہ اِن دونوں کو ایک مرکزی حکومت کے تحت اکٹھے کرنا بہت بڑے خطرے کا حامل ہے ۔ ہندو اور مسلمان واضح طور پر علیحدہ قومیں ہیں اسلئے ایک ہی راستہ ہے کہ اِنہیں اپنی علیحدہ علیحدہ ریاستیں بنانے دی جائیں ۔ کسی بھی تصریح کے مطابق مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے لوگ اپنے عقیدہ اور فہم کے مطابق جس طریقے سے ہم بہترین سمجھیں بھرپور طریقے سے روحانی ۔ ثقافتی ۔ معاشی ۔ معاشرتی اور سیاسی لحاظ سے ترقی کریں“۔

قائد اعظم کے تصَوّرات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ابُو القاسم فضل الحق (المعروف اے کے فضل الحق جن کے نام پر اسلام آباد بلیو ایریا میں جناح ایوَینِیو کے متوازی سڑک کا نام رکھا گیا ہے) جو اُن دنوں بنگال کے وزیرِ اعلٰی تھے نے تاریخی ” قراردادِ مقاصد“ پیش کی جس کا خلاصہ یہ ہے

” کوئی دستوری منصوبہ قابل عمل یا مسلمانوں کو منظور نہیں ہو گا جب تک جغرافیائی طور پر مُنسلِک مسلم اکثریتی علاقے قائم نہیں کئے جاتے ۔ جو مسلم اکثریتی علاقے شمال مغربی اور مشرقی ہندوستان میں ہیں کو مسلم ریاستیں بنایا جائے جو ہر لحاظ سے خود مختار ہوں ۔ ان ریاستوں میں غیرمسلم اقلیت کو مناسب مؤثر تحفظات خاص طور پر مہیا کئے جائیں گے اور اِسی طرح جن دوسرے علاقوں میں مسلمان اقلیت میں ہیں اُن کو تحفظات مہیا کئے جائیں“۔

اس قراداد کی تائید پنجاب سے مولانا ظفر علی خان ۔ سرحد سے سردار اورنگزیب ۔ سندھ سے سر عبداللہ ہارون اور بلوچستان سے قاضی عیسٰی ۔ یونائیٹڈ پراونس (اب اُتر پردیش) سے چوہدری خلیق الزمان کے علاوہ اور بہت سے رہنماؤں نے کی ۔ اس قراداد کے مطابق مغرب میں پنجاب ۔ سندھ ۔ سرحد اور بلوچستان اور مشرق میں بنگال muslim-majority-map اور آسام پاکستان کا حصہ بنتے ۔ یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی اور اِس کی تفصیلات طے کرنے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ۔ یہ قراداد 1941ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے دستور کا حصہ بنا دی گئی

مندرجہ بالا اصُول کو برطانوی حکومت نے مان لیا مگر بعد میں کانگرس اور لارڈ مؤنٹ بیٹن کی ملی بھگت سے پنجاب اور بنگال کے صوبوں کو تقسیم کر دیا گیا اور آسام کی صورتِ حال بھی بدل دی گئی ۔ بنگال اور پنجاب کے صوبوں کو نہ صرف ضلعی بنیاد پر تقسیم کیا گیا بلکہ پنجاب کے ایک ضلع گورداسپور کو تقسیم کر کے بھارت کو جموں کشمیر میں داخل ہونے کیلئے راستہ مہیا کیا گیا

مسلم اکثریتی علاقے ۔ اس نقشے میں جو نام لکھے ہیں یہ چوہدری رحمت علی کی تجویز تھی ۔ وہ لندن [برطانیہ] میں مقیم تھے اور مسلم لیگ کی کسی مجلس میں شریک نہیں ہوئے ۔ اِس نقشے میں ہلال کے ساتھ 10 ستارے دکھائے گئے ہیں یعنی پاکستان کی مملکت 10 مُسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل دکھائی گئی ہے جس میں (1) مغربی پاکستان (جسے پاکستان لکھا گیا ہے) ۔ (2) مشرقی پاکستان (جسے بنگالستان لکھا گیا ہے) ۔ (3) جنوبی پاکستان (جس میں ریاست حیدر آباد اور ملحقہ مُسلم علاقے شامل ہیں) ۔ (4) گجرات کاٹھیا واڑ اور منادور وغیرہ ۔ اور مزید 6 چھوٹے چھوٹے علاقے شامل ہیں
m-l-working-committee

مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی

۔

۔
welcome-addr-22-march-1940
شاہنواز ممدوٹ سپاسنامہ پیش کر رہے ہیں

چوہدری خلیق الزمان قرارداد کی تائید کر رہے ہیں
seconding-reson-march-1940

۔

۔
quaid-liaquat-mamdot
قائدِ ملت لیاقت علی خان اور افتخار حسین خان ممدوٹ وغیرہ قائد اعظم کے ساتھ

16 مارچ 2011ء جب انصاف کا جنازہ نکلا

امریکی ایجنٹ Raymond Devis نے حال ہی میں شائع ہونے والی سنسنی خیز آپ بیتی ” The Contractor“ میں اپنی گرفتاری، مختلف اداروں کی جانب سے تفتیش، مقدمے، اور بالآخر رہائی کا ذکر کیا ہے۔ اس دوران سب سے ڈرامائی دن مقدمے کا آخری دن تھا جب لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قائم کردہ خصوصی سیشن کورٹ میں ریمنڈ ڈیوس پر قتل کی فردِ جرم عائد ہونا تھی۔ ڈیوس لکھتا ہے کہ اُسے گزشتہ رات نیند نہیں آئی تھی

عدالت میں پنجرہ
اُس دن عدالت میں غیر معمولی بھیڑ تھی ۔ عدالت میں ریمنڈ ڈیوس کو فولادی پنجرے میں بند کر کے جج کے سامنے پیش کیا گیا۔ وہ لکھتا ہے ”مجھے معلوم نہیں تھا کہ اس کا مقصد مجھے لوگوں سے بچانا ہے یا پھر لوگوں کو مجھ سے محفوظ رکھنا“۔ اس دوران وہاں موجود لوگوں کے رویئے سے اُسے لگا جیسے وہ سبھی لوگ جج کی جانب سے اس کے قصوروار ہونے کا فیصلہ سنائے جانے کے منتظر ہیں تاکہ اس کے بعد وہ اُسے گھسیٹ کر کسی قریبی درخت سے لٹکا کر پھانسی دے دیں
ڈیوس کو عدالت میں ایک حیران کُن بات یہ نظر آئی کہ اس دن وکیلِ استغاثہ اسد منظور بٹ غیر حاضر تھے جنھوں نے اس سے قبل خاصی سخت جرح کر رکھی تھی اور ان کا دعویٰ تھا کہ ڈیوس نے فیضان حیدر کو بغیر کسی وجہ کے ہلاک کیا
بعد میں منظور بٹ نے بتایا کہ جب وہ اس صبح عدالت پہنچے تو انہیں پکڑ کر کئی گھنٹوں تک قید رکھا گیا اور کارروائی سے دُور رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے موکلین (clients) سے بھی ملنے نہیں دیا گیا
کتاب کے مطابق یہ معاملہ اس قدر اہمیت اختیار کر گیا کہ 23 فروری 2011ء کو پاکستانی اور امریکی فوج کے سربراہان جنرل کیانی اور ایڈمرل مائیک ملن کے درمیان عمان میں ایک ٹاپ سیکرٹ ملاقات ہوئی جس کا بڑا حصہ اس بات پر غور کرتے ہوئے صرف ہوا کہ پاکستان عدالتی نظام کے اندر سے کیسے کوئی راستہ نکالا جائے کہ کسی نہ کسی طرح ڈیوس کی گلو خلاصی ہو جائے

موبائل فون پر مسلسل رابطہ
16 مارچ 2011ء کی دوپہر کو جب عدالت کی کارروائی شروع ہوئی تو جج نے صحافیوں سمیت تمام غیرمتعلقہ لوگوں کو باہر نکال دیا۔ لیکن ایک شخص جو کارروائی کے دوران کمرۂ عدالت میں موجود رہے اور وہ تھے پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ جنرل شجاع پاشا ۔ اُس وقت ڈیوس کو معلوم نہیں تھا لیکن اس دوران پسِ پردہ خاصی سرگرمیاں ہو رہی تھیں۔ ان سرگرمیوں کے روحِ رواں جنرل پاشا تھے جو ایک طرف امریکی سی آئی اے کے سابق سربراہ لیون پنیٹا سے ملاقاتیں کر رہے تھے تو دوسری جانب اسلام آباد میں امریکی سفیر کیمرون منٹر سے رابطے میں تھے
ڈیوس لکھتا ہے کہ عدالت کی کارروائی کے دوران جنرل صاحب مسلسل کیمرون منٹر کو لمحہ بہ لمحہ کارروائی کی خبریں موبائل فون پر میسج کر کے بھیج رہے تھے

شرعی عدالت
عدالتی کارروائی چونکہ اُردو میں ہو رہی تھی ۔ ڈیوس کو پتہ نہیں چلا لیکن درمیان میں لوگوں کے ردِ عمل سے پتہ چلا کہ کوئی بڑی بات ہو گئی ہے۔ ڈیوس کے ایک امریکی ساتھی پال وکیلوں کا پرا توڑ کر پنجرے کے قریب آئی اور کہا کہ جج نے عدالت کو شرعی عدالت میں تبدیل کر دیا ہے
”یہ کیا کہہ رہی ہو؟ میری کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا “ ڈیوس نے حواس باختہ ہو کر اُسے کہا
کتاب کے مطابق مقدمے کو شرعی بنیادوں پر ختم کرنے کے فیصلے کے منصوبہ سازوں میں جنرل پاشا اور کیمرون منٹر شامل تھے۔ پاکستانی فوج بھی اس سے آگاہ تھی
ڈیوس لکھتا ہے کہ جنرل پاشا کو صرف 2 دن بعد یعنی 18 مارچ کو ریٹائر ہو جانا تھا اس لئے وہ سرتوڑ کوشش کر رہے تھے کہ یہ معاملہ کسی طرح نمٹ جائے۔ اور جب یہ معاملہ نمٹا تو ان کی مدتِ ملازمت میں ایک سال کی توسیع کر دی گئی اور مارچ 2011ء کی بجائے مارچ 2012ء میں ریٹائر ہوئے
کتاب کے مطابق یہ جنرل پاشا ہی تھے جنہوں نے سخت گیر وکیل استغاثہ اسد منظور بٹ کو مقدمے سے الگ کرنے میں اہم کردار ادا کیا جو یہ مقدمہ مفت لڑ رہے تھے

گن پوائنٹ پر
ریمنڈ ڈیوس لکھتا ہے کہ جب دِیّت کے تحت معاملہ نمٹانے کا فیصلہ کیا گیا تو اس میں ایک اڑچن یہ آ گئی کہ مقتولین کے عزیزوں نے اسے ماننے سے انکار کر دیا چنانچہ 14 مارچ 2011ء کو آئی ایس آئی کے اہلکار حرکت میں آئے اور اُنہوں نے تمام 18 عزیزوں کو کوٹ لکھپت جیل میں بند کر دیا ۔ اُن کے گھروں کو تالے لگا دیئے گئے اور اُن سے موبائل فون بھی لے لئے گئے
کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جیل میں لواحقین کے سامنے 2 راستے رکھے گئے ۔ وہ ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر کا خون بہا قبول کریں ورنہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کتاب میں لکھا ہے کہ عدالتی کارروائی کے دوران لواحقین کو عدالت کے باہر گن پوائنٹ پر رکھا گیا تھا اور انہیں کہا گیا تھا کہ وہ میڈیا کے سامنے زبان نہ کھولیں
یہ لواحقین ایک ایک کر کے خاموشی سے جج کے سامنے پیش ہوتے، اپنا شناختی کارڈ دکھاتے اور رقم کی رسید لیتے رہے۔
یہ بات بھی خاصی دلچسپ ہے کہ یہ رقم کس نے دی؟ کیونکہ اس وقت کی امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے اس بات سے صاف انکار کیا تھا کہ یہ خون بہا امریکہ نے ادا کیا ہے۔ تاہم بعد میں خبریں آئیں کہ رقم آئی ایس آئی نے دی اور اس کا بل امریکہ کو پیش کر دیا۔
جونہی یہ کارروائی مکمل ہوئی، ریمنڈ ڈیوس کو ایک عقبی دروازے سے نکال کر سیدھا لاہور کے ہوائی اڈے پہنچایا گیا جہاں ایک سَیسنا طیارہ رن وے پر اُس کا انتظار کر رہا تھا

اور یوں پاکستان کی عدالتی، سفارتی اور سیاسی تاریخ کا یہ عجیب و غریب باب بند ہوا

بشکریہ ۔ بی بی سی اردو