Category Archives: معلومات

نیکی اور بدی

سورة 41 سورة حٰمٓ السجدة / فُصّلَت آیت 34 و 35
وَلَا تَسۡتَوِى الۡحَسَنَةُ وَ لَا السَّيِّئَةُ ؕ اِدۡفَعۡ بِالَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ فَاِذَا الَّذِىۡ بَيۡنَكَ وَبَيۡنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِىٌّ حَمِيۡمٌ
وَمَا يُلَقّٰٮهَاۤ اِلَّا الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡا‌ۚ وَمَا يُلَقّٰٮهَاۤ اِلَّا ذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ‏

اور اے نبیؐ، نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں تم بدی کو اُس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے
یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر اُن لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں، اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر اُن لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہیں

یومِ یک جہتی جموں کشمیر

آج پورے مُلک میں یومِ یک جہتی جموں کشمیر منایا جا رہا ہے

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی فوج کی دہشتگردی کے نتیجے میں جنوری 1989ء سے دسمبر 2015ء تک مندرجہ ذیل ہلاکتیں ہوئیں جو بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہیں

94290 نہتے شہری ہلاک ہوئے جن میں 7038 زیرِ حراست ہلاک ہوئے
22806 عورتیں بیوہ ہوئیں
107545 بچے یتیم ہوئے
10167 عورتوں کی عزتیں لوٹیں
106050 مکانات تباہ کئے
8000 سے زائد لوگ گھروں سے اُٹھا کر غائب کئے گئے

جموں کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی کے لئے دوسری مسلح جدوجہد 1989ء میں شروع ہوئی ۔ اس تحریک کا آغاز کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں تھا اور نہ ہی یہ کسی باہر کے عنصر کی ایما پر شروع کی گئی تھی ۔ بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہر دن کے مظالم سے مقبوضہ جموں کشمیر کے مسلمان تنگ آ چکے تھے اور سب سے مایوس ہونے کے بعد پاکستان سے بھی مایوسی ہی ملی ۔ بےنظیر بھٹو نے 1988ء میں حکومت سنبھالتے ہی بھارت سے دوستی کی خاطر نہ صرف جموں کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ دغا کیا بلکہ بھارت کے ظلم و ستم کے باعث سرحد پار کر کے پاکستان آنے والے بے خانماں کشمیریوں کی امداد بند کر دی ۔ اِس صورتِ حال کے پیشِ نظر پاکستان کی چند سیاسی جماعتوں نے جن میں جماعتِ اسلامی پیش پیش تھی جموں کشمیر کے عوام کے ساتھ ہمدردی کے اِظہار کے لئے 5 فروری 1990ء کو یومِ یکجہتیءِ کشمیر منانے کا فیصلہ کیا جو اُس وقت کی حکومت کی مخالفت کے باوجود عوام نے بڑے جوش و خروش سے منایا

اہل کشمیر سے یکجہتی کا اظہار محض روایتی نوعیت کی اخلاقی ہمدردی کا مسئلہ نہیں، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اسی اہمیت کی وجہ سے برطانوی حکومت نے 1947ء میں پاکستان اور بھارت کی آزاد مملکتوں کے قیام کے ساتھ ہی پوری منصوبہ بندی کے تحت یہ مسئلہ پیدا کیا۔ قیام پاکستان کے بعد کوئی ایسی دشواری نہیں تھی جو برطانوی حکومت اور برصغیر میں اس کے آخری وائسرائے نے ہمارے لئے پیدا نہ کی ہو اور سب سے زیادہ کاری ضرب جو پاکستان پر لگائی جاسکتی تھی وہ مسئلہ کشمیر کی صورت میں لگائی گئی۔ کشمیر کا مسئلہ دو مملکتوں کے درمیان کسی سرحدی تنازع کا معاملہ نہیں بلکہ کشمیریوں کی ”حق خودارادیت“ کی جدوجہد پاکستان کی بقا کی جنگ ہے ۔ کشمیر کا مسئلہ برطانوی حکومت نے پیدا کرایا ۔ وہ برصغیر سے جاتے جاتے کشمیر کو بھارت کی جارحیت کے سپرد کر گئے اور اس سروے میں مِڈل مَین کا کردار برصغیر میں برطانیہ کے آخری وائسرائے اور آزاد بھارت کے پہلے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ادا کیا جس کا مقصد یہ تھا کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی اس مملکت کے جسم پر ایک ناسور بنا دیا جائے اور اُس کے بعد بھارت محض اسلحہ کی طاقت کے زور پر کشمیریوں پر اپنی بالادستی قائم رکھے ہوئے ہے ۔

قوموں کی زندگی میں ایک وقت فیصلہ کا آتا ہے کہ “جھُکے سر کے ساتھ چند روز عیش قبول کرلیں” یا “سرفروشی کے ساتھ سرفرازی کی راہ اپنائیں”۔ جَبَر کرنے والے اذِیّتوں سے اور موت سے ڈراتے ہیں۔ اِیمانی توانائی موت سے نبرُد آزما ہونے کی جرأت عطا کرتی ہے۔ موت میں خوف نہیں ہوتا بکہ لذت ہوتی ہے اور جذبہءِ ایمانی کا کَیف اس لذّت کو نِکھارتا ہے۔ اہل کشمیر اب اس لذّت سے سرشار ہو چکے ہیں ۔ یہ اللہ کا کرم ہے اہل کشمیر پر اور اہل پاکستان پر بھی ۔ اہل کشمیر صرف کشمیرکیلئے حق خودارادیت کی جنگ نہیں لڑ رہے ہیں وہ پاکستان کے استحکام کی جنگ بھی لڑ رہے ہیں۔ حُرِیّت کی داستانیں اِسی طرح رَقَم ہوتی ہیں۔ بھارت کی جارحانہ طاقت اس جذبے کا مقابلہ کب تک کرے گی ۔ بھارتی فوج پوری طرح مسلح ہے لیکن وہ انسانی قدروں سے نہ صرف محروم بلکہ ان سے متصادم ہے اس لئے ناکامی اس کا مقدر ہے ۔ بھارت کشمیریوں کی حق خودارادیت کے حصول کی جنگ کو ”دہشت گردی“ کہتا جبکہ خود بھارت انسانیت کو پامال کر رہا ہے

یاد رکھنے کی باتیں

1 ۔ ماضی کو بدلا نہیں جا سکتا
2 ۔ لوگوں کی رائے آپ کی اصلیت نہیں بتاتی
3 ۔ ہر کسی کی زندگی کا سفر مختلف ہوتا ہے
4 ۔ وقت گزرنے کا ساتھ بہتری آتی ہے
5 ۔ کسی کے متعلق فیصلہ اپنا کردارظاہر کرتا ہے
6 ۔ ضرورت سے زیادہ سوچنا ہریشانی پیدا کرتا ہے
7 ۔ خوشی انسان کے اپنے اندر ہوتی ہے
8 ۔ مثبت سوچ کے نتائج مثبت ہوتے ہیں

شِفاء اور شفا میں فرق

جو الفاظ ہم روز مرّہ بولتے ہیں اِن میں سے کچھ ہم غلط تلفّظ کے ساتھ بولتے ہیں اور ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہم غلط معنی والا لفظ بول رہے ہیں جبکہ بعض اوقت وہ معنی قابل سر زنش یا ندامت ہوتے ہیں
میں ایک سے زیادہ بار لکھ چکا ہوں کہ پڑھنے اور مطالعہ کرنے میں فرق ہوتا ۔ پڑھنے سے آدمی پڑھ پُخت تو بن جاتا ہے لیکن عِلم سے محروم رہتا ہے ۔ ہر آدمی کو چاہیئے کہ ہر لفظ جو وہ پڑھے اس کے معنی اُسی وقت تلاش کر کے ذہن نشین کر لے ۔ جب وہ لفظ عادت بن جائے تو اپنی غلطی کا احساس ختم ہو جاتا
اِس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کے احتساب میں تو سرگرداں رہتے ہیں لیکن خود احتسابی کے قریب نہیں جاتے
مسلمان ہونے کے ہم بڑے دعویدار ہیں لیکن الله کریم کا فرمان یا ہم غور سے پڑھتے ہی نہیں یعنی فر فر پڑھ جاتے ہیں اس پر غور نہیں کرتے کیونکہ الله عزّ و جل ہمیں خود احتسابی کا حکم دیا ہے اور عیب جُوئی سے منع فرمایا ہے

دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ہم غَلَط کو بھی غَلَط بولتے ہوئے غَلَط کی بجائے غَلط کہتے ہیں
ہمیں قرآن شریف کو غور سے پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے

اب ایک لفظ جسے غلط بولنے میں بہت سے لوگ ملوّث ہیں
شِفاء کا مطلب ہے صحت ۔ تندرستی
سُوۡرَةُ 17 بنیٓ اسرآئیل / الإسرَاء آیة 82
وَنُنَزِّلُ مِنَ الۡـقُرۡاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّرَحۡمَةٌ لِّـلۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ۙ وَلَا يَزِيۡدُ الظّٰلِمِيۡنَ اِلَّا خَسَارًا
ہم اِس قرآن کے سلسلہ تنزیل میں وہ کچھ نازل کر رہے ہیں جو ماننے والوں کے لئے تو شِفا اور رحمت ہے، مگر ظالموں کے لئے خسارے کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتا

شفا کا مطلب ہے موت ۔ گھڑا
سُوۡرَةُ 3 آل عِمرَان آیة 103
وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰهِ جَمِيۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا وَاذۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ اِذۡ كُنۡتُمۡ اَعۡدَآءً فَاَ لَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِكُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِهٖۤ اِخۡوَانًا
ۚ وَكُنۡتُمۡ عَلٰى شَفَا حُفۡرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡقَذَكُمۡ مِّنۡهَا ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمۡ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ‏
سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو اللہ کے اُس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اُس نے تمہارے دل جوڑ دیے اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے تم آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے، اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا اس طرح اللہ اپنی نشانیاں تمہارے سامنے روشن کرتا ہے شاید کہ اِن علامتوں سے تمہیں اپنی فلاح کا سیدھا راستہ نظر آ جائے

سمندر کی تہہ سے کھربوں ٹن پانی زمین کی گہرائی میں جانیکا انکشاف

زلزلے کے نتیجے میں زمین کی اندرونی پرت (ٹیکٹونک پلیٹس) کے ٹوٹنے اور اس عمل سے جڑی سرگرمیوں کے نتیجے میں سمندر کا پانی بھاری مقدار میں کرۂ ارض میں 20؍ میل تک گہرائی میں جا رہا ہے۔ اور، حیران کن بات یہ ہے کہ سائنسدانوں کو معلوم نہیں کہ یہ سلسلہ کب رکے گا اور اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ سائنس میگزین اور لائیو سائنس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر کے سمندروں کے گہرے ترین مقام ماریانہ ٹرینچ (Mariana Trench) میں زلزلہ پیما ماہرین کی ٹیم نے ایک نئی تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ زمین کے اندرونی حصے (Subduction Zones) گزشتہ اندازوں کے مقابلے میں پانی کی تین گنا زیادہ مقدار اپنی جانب کھینچ رہے ہیں۔ آسان الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ سمندر کی تہہ میں زلزلے کے نتیجے میں آنے والی دراڑوں سے پانی بہہ کر زمین کے اندر جا رہا ہے۔ نئے تخمینوں سے معلوم ہوا ہے کہ یہ مقدار ہر دس لاکھ سال میں تین ارب ٹیرا گرام پانی کے برابر ہے، ایک ٹیرا گرام پانی ایک ارب کلوگرام کے مساوی ہوتا ہے۔ واشنگٹن یونیورسٹی کے سرکردہ محقق چین کائی کہتے ہیں کہ لوگوں کو اس بات کا علم ہے کہ سبڈکشن زونز پانی زمین میں کھینچ کر لے جاتے ہیں لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ آخر کتنا پانی اندر جا رہا ہے۔ نیچر نامی جریدے میں شایع ہونے والی نئی تحقیق میں محققین نے زلزلہ پیما مشینوں کی مدد سے ایک سال تک کی زمین کی تھرتھراہٹ اور لرزنے کا ڈیٹا حاصل کیا۔ زلزلہ پیما 19؍ مشینیں ماریانہ ٹرینچ کے قرب و جوار میں نصب کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ، ماہرین نے دیگر سمندر میں دیگر مقامات پر نصب کردہ زلزلہ پیما مشینوں (Seismographs) کے ڈیٹا کا سہارا بھی لیا۔ اس سے ماہرین کو اس بات کا جائزہ لینے میں مدد ملی کہ بحرالکاہل (Pacific) میں ٹیکٹونک پلیٹوں کے ٹرینچ میں مڑنے کے نتیجے میں کیا ہوتا ہے۔ نیشنل سائنس فائونڈ یشن ڈویژن آف اوشن سائنسز کی پروگرام ڈائریکٹر کینڈنس او برائن کہتی ہیں کہ اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ سبڈکشن زونز کی وجہ سے زمین کی گہرائی میں کئی میلوں تک پانی جاتا ہے، اور یہ گزشتہ اندازوں سے زیادہ پانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی واٹر سائیکل میں سبڈکشن زونز کتنی اہمیت کے حامل ہیں۔ ٹیم کا کہنا ہے کہ پلیٹوں کے زمین کی گہرائی میں جانے اور اوپری پرت کے قریب موجود فالٹ لائنوں کے پاس موجود زبردست دبائو اور درجہ حرارت کی صورتحال اور کیمیائی تبدیلیوں کی وجہ سے پانی غیر مائع شکل اختیار کرتے ہوئے سمندر کی تہہ میں موجود سخت پتھروں اور چٹانوں میں قید ہو جاتا ہے۔ سائنس ڈیلی کی رپورٹ کے مطابق، ہزاروں برسوں سے سمندروں میں پانی کی سطح معتدل رہی ہے اور اس میں کبھی اضافہ نہیں ہوا، جس کا مطلب یہ ہے کہ جو پانی زمین کی تہہ میں سمندروں سے ہوتے ہوئے جا رہا ہے، وہ کہیں نہ کہیں سے باہر بھی نکلتا ہوگا، یہی وجہ ہے کہ پانی کا لیول بدستور برقرار ہے۔ تاہم، مقدار کے حوالے سے معلومات غیر یقینی ہیں۔ رابرٹ ایس بروکنگز میں زمین اور سیارہ جاتی سائنس کے مایہ ناز پروفیسر ڈگ وائنز کا کہنا ہے کہ اس بات کا شبہ ہے کہ ماریانہ سے جانے والا پانی ممکنہ طور پر الاسکا یا پھر جنوبی امریکی سمندروں سے نکلتا ہوگا لیکن کسی نے بھی آج تک سمندر کی تہہ میں 20؍ میل سے زیادہ گہرائی میں جا کر تحقیق نہیں کی اور یہی کچھ ہم ماریانہ ٹرینچ کے حوالے سے تلاش کر رہے ہیں۔اگرچہ یہ تو معلوم تھا کہ سبڈکشن زونز میں موجود پلیٹیں پانی کو قید رکھتی ہیں لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ آخر پانی کی مقدار کتنی ہوتی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ تحقیق کا نیا طریقہ زیادہ پائیدار ہے، ارضیاتی تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ ماریانہ ٹرینچ میں موجود آبیدہ (Hydrated) پتھر سمندر کی تہہ سے 20؍ میل نیچے جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ ماریانہ ٹرینچ دنیا بھر کے سمندروں میں سب سے گہرا ترین مقام ہے جو مغربی بحرالکاہل میں ماریانہ جزیرے کے مشرق میں واقع ہے۔ ٹرینچ بنیادی طور پر ایک کھائی ہے جو 1580؍ میل (2550؍ کلومیٹر) طویل ہے اور اس کی چوڑائی 69؍ کلومیٹر ہے۔ سطح سمندر سے ماریانہ ٹرینچ کے آخری حصے تک مجموعی فاصلہ 11؍ کلومیٹر ہے جس کا نام چیلنجر ڈیپ رکھا گیا ہے۔ 2012ء میں دستاویزی فلم کے ڈائریکٹر جیمز کیمرون دنیا کے واحد فرد تھے جنہوں نے پہلی مرتبہ اس گہرائی کا مشاہدہ کیا تھا۔ اس مقام تک جانے کیلئے پانی کا دبائو اتنا ہوتا ہے جتنا آپ اندازہ کریں کہ 100؍ بالغ ہاتھی انسان کے سر پر کھڑے کیے جائیں، جبکہ درجہ حرارت نقطہ انجماد سے ایک سے چار ڈگری تک نیچے ہوتا ہے۔

ہم کیا کر رہے ہیں ؟

آج برِّ صغير ہندوپاکستان کے مُسلمانوں کے عظيم رہنما قائداعظم محمد علی جناح کا يومِ ولادت ہے
قائداعظم کو الله سُبحانُهُ و تعالٰی نے شعور ۔ مَنطق اور اِستقلال سے نوازا تھا جِن کے بھرپُور اِستعمال سے اُنہوں نے ہميں الله کی نعمتوں سے مالا مال مُلک لے کر ديا مگر ہماری قوم نے اُس عظيم رہنما کے عمَل اور قَول کو بھُلا ديا جس کے باعث ہماری قوم اقوامِ عالَم ميں بہت پيچھے رہ گئی ہے
قائداعظم کا ايک پيغام ہے ” کام ۔ کام ۔ کام اورکام ”
مگر قوم نے کام سے دِل چُرانے کی عادت اپنا لی اور اپنی نا اہلی سے نظریں ہٹانے کی کوشش میں دوسرون پر الزام تراشی شروع کر دی

قائداعظم نے آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے پانچویں سالانہ اجلاس کی افتتاحی تقریب ناگپور میں 26دسمبر1941ء کو خطاب کرتے ہوئے کہا فرمایا تھا ” میں آج آپ کو نصب العین دیتا ہوں ” ایمان ۔ اتحاد ۔ نظم”۔
قوم میں وہ لوگ بھی پیدا ہوئے جنہوں نے قائداعظم کا دیا ہوا نعرہ ہی بدل کر ” اتحاد ۔ یقین ۔ تنظیم” بنا دیا یعنی لوگوں کو ایمان سے دُور کرنے کی کوشش کی
اپنے آپ کو کشادہ ذہن قرار دینے والے کم ظرف کہنے لگے کہ پاکستان اسلام کے نام پر تو بنا ہی نہ تھا بلکہ قائداعظم کو سیکولر قرار دے کر پاکستان کو بھی سیکولر بنانے کیلئے ہاتھ پاؤں مارنے لگے
کچھ بدبَخت اس سے بھی آگے بڑھے اور قائداعظم کے مسلمان ہونے کو ہی مشکوک بنانے کی ناپاک کوشش کی

آيئے آج سے اپنی بد اعمالیوں کی توبہ کریں اور اپنے الله پر یقین کرتے ہوئے قرآن کی رہنمائی میں قائدِاعظم کے بنائے ہوئے راستہ پر چلیں اور اس مُلک پاکستان کو تنزل کی گہرائیوں سے نکالنے کی جد و جہد کریں