Category Archives: معلومات

16 مارچ 2011ء جب انصاف کا جنازہ نکلا

امریکی ایجنٹ Raymond Devis نے حال ہی میں شائع ہونے والی سنسنی خیز آپ بیتی ” The Contractor“ میں اپنی گرفتاری، مختلف اداروں کی جانب سے تفتیش، مقدمے، اور بالآخر رہائی کا ذکر کیا ہے۔ اس دوران سب سے ڈرامائی دن مقدمے کا آخری دن تھا جب لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قائم کردہ خصوصی سیشن کورٹ میں ریمنڈ ڈیوس پر قتل کی فردِ جرم عائد ہونا تھی۔ ڈیوس لکھتا ہے کہ اُسے گزشتہ رات نیند نہیں آئی تھی

عدالت میں پنجرہ
اُس دن عدالت میں غیر معمولی بھیڑ تھی ۔ عدالت میں ریمنڈ ڈیوس کو فولادی پنجرے میں بند کر کے جج کے سامنے پیش کیا گیا۔ وہ لکھتا ہے ”مجھے معلوم نہیں تھا کہ اس کا مقصد مجھے لوگوں سے بچانا ہے یا پھر لوگوں کو مجھ سے محفوظ رکھنا“۔ اس دوران وہاں موجود لوگوں کے رویئے سے اُسے لگا جیسے وہ سبھی لوگ جج کی جانب سے اس کے قصوروار ہونے کا فیصلہ سنائے جانے کے منتظر ہیں تاکہ اس کے بعد وہ اُسے گھسیٹ کر کسی قریبی درخت سے لٹکا کر پھانسی دے دیں
ڈیوس کو عدالت میں ایک حیران کُن بات یہ نظر آئی کہ اس دن وکیلِ استغاثہ اسد منظور بٹ غیر حاضر تھے جنھوں نے اس سے قبل خاصی سخت جرح کر رکھی تھی اور ان کا دعویٰ تھا کہ ڈیوس نے فیضان حیدر کو بغیر کسی وجہ کے ہلاک کیا
بعد میں منظور بٹ نے بتایا کہ جب وہ اس صبح عدالت پہنچے تو انہیں پکڑ کر کئی گھنٹوں تک قید رکھا گیا اور کارروائی سے دُور رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے موکلین (clients) سے بھی ملنے نہیں دیا گیا
کتاب کے مطابق یہ معاملہ اس قدر اہمیت اختیار کر گیا کہ 23 فروری 2011ء کو پاکستانی اور امریکی فوج کے سربراہان جنرل کیانی اور ایڈمرل مائیک ملن کے درمیان عمان میں ایک ٹاپ سیکرٹ ملاقات ہوئی جس کا بڑا حصہ اس بات پر غور کرتے ہوئے صرف ہوا کہ پاکستان عدالتی نظام کے اندر سے کیسے کوئی راستہ نکالا جائے کہ کسی نہ کسی طرح ڈیوس کی گلو خلاصی ہو جائے

موبائل فون پر مسلسل رابطہ
16 مارچ 2011ء کی دوپہر کو جب عدالت کی کارروائی شروع ہوئی تو جج نے صحافیوں سمیت تمام غیرمتعلقہ لوگوں کو باہر نکال دیا۔ لیکن ایک شخص جو کارروائی کے دوران کمرۂ عدالت میں موجود رہے اور وہ تھے پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ جنرل شجاع پاشا ۔ اُس وقت ڈیوس کو معلوم نہیں تھا لیکن اس دوران پسِ پردہ خاصی سرگرمیاں ہو رہی تھیں۔ ان سرگرمیوں کے روحِ رواں جنرل پاشا تھے جو ایک طرف امریکی سی آئی اے کے سابق سربراہ لیون پنیٹا سے ملاقاتیں کر رہے تھے تو دوسری جانب اسلام آباد میں امریکی سفیر کیمرون منٹر سے رابطے میں تھے
ڈیوس لکھتا ہے کہ عدالت کی کارروائی کے دوران جنرل صاحب مسلسل کیمرون منٹر کو لمحہ بہ لمحہ کارروائی کی خبریں موبائل فون پر میسج کر کے بھیج رہے تھے

شرعی عدالت
عدالتی کارروائی چونکہ اُردو میں ہو رہی تھی ۔ ڈیوس کو پتہ نہیں چلا لیکن درمیان میں لوگوں کے ردِ عمل سے پتہ چلا کہ کوئی بڑی بات ہو گئی ہے۔ ڈیوس کے ایک امریکی ساتھی پال وکیلوں کا پرا توڑ کر پنجرے کے قریب آئی اور کہا کہ جج نے عدالت کو شرعی عدالت میں تبدیل کر دیا ہے
”یہ کیا کہہ رہی ہو؟ میری کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا “ ڈیوس نے حواس باختہ ہو کر اُسے کہا
کتاب کے مطابق مقدمے کو شرعی بنیادوں پر ختم کرنے کے فیصلے کے منصوبہ سازوں میں جنرل پاشا اور کیمرون منٹر شامل تھے۔ پاکستانی فوج بھی اس سے آگاہ تھی
ڈیوس لکھتا ہے کہ جنرل پاشا کو صرف 2 دن بعد یعنی 18 مارچ کو ریٹائر ہو جانا تھا اس لئے وہ سرتوڑ کوشش کر رہے تھے کہ یہ معاملہ کسی طرح نمٹ جائے۔ اور جب یہ معاملہ نمٹا تو ان کی مدتِ ملازمت میں ایک سال کی توسیع کر دی گئی اور مارچ 2011ء کی بجائے مارچ 2012ء میں ریٹائر ہوئے
کتاب کے مطابق یہ جنرل پاشا ہی تھے جنہوں نے سخت گیر وکیل استغاثہ اسد منظور بٹ کو مقدمے سے الگ کرنے میں اہم کردار ادا کیا جو یہ مقدمہ مفت لڑ رہے تھے

گن پوائنٹ پر
ریمنڈ ڈیوس لکھتا ہے کہ جب دِیّت کے تحت معاملہ نمٹانے کا فیصلہ کیا گیا تو اس میں ایک اڑچن یہ آ گئی کہ مقتولین کے عزیزوں نے اسے ماننے سے انکار کر دیا چنانچہ 14 مارچ 2011ء کو آئی ایس آئی کے اہلکار حرکت میں آئے اور اُنہوں نے تمام 18 عزیزوں کو کوٹ لکھپت جیل میں بند کر دیا ۔ اُن کے گھروں کو تالے لگا دیئے گئے اور اُن سے موبائل فون بھی لے لئے گئے
کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جیل میں لواحقین کے سامنے 2 راستے رکھے گئے ۔ وہ ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر کا خون بہا قبول کریں ورنہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کتاب میں لکھا ہے کہ عدالتی کارروائی کے دوران لواحقین کو عدالت کے باہر گن پوائنٹ پر رکھا گیا تھا اور انہیں کہا گیا تھا کہ وہ میڈیا کے سامنے زبان نہ کھولیں
یہ لواحقین ایک ایک کر کے خاموشی سے جج کے سامنے پیش ہوتے، اپنا شناختی کارڈ دکھاتے اور رقم کی رسید لیتے رہے۔
یہ بات بھی خاصی دلچسپ ہے کہ یہ رقم کس نے دی؟ کیونکہ اس وقت کی امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے اس بات سے صاف انکار کیا تھا کہ یہ خون بہا امریکہ نے ادا کیا ہے۔ تاہم بعد میں خبریں آئیں کہ رقم آئی ایس آئی نے دی اور اس کا بل امریکہ کو پیش کر دیا۔
جونہی یہ کارروائی مکمل ہوئی، ریمنڈ ڈیوس کو ایک عقبی دروازے سے نکال کر سیدھا لاہور کے ہوائی اڈے پہنچایا گیا جہاں ایک سَیسنا طیارہ رن وے پر اُس کا انتظار کر رہا تھا

اور یوں پاکستان کی عدالتی، سفارتی اور سیاسی تاریخ کا یہ عجیب و غریب باب بند ہوا

بشکریہ ۔ بی بی سی اردو

ازدواج کی پہلی ضرورت ۔ دوستی

دوستی کی بناء پر استوار ہونے والا تعلق دیر پا ہوتا ہے جو زمانے کے حوادث کی برداشت رکھتا ہے ۔ ہم اختلاف کے باوجود اپنے دوستوں پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ اُن کا احترام کرتے ہیں اور اُن کا خیال رکھتے ہیں ۔ حقیقتاً یہ اطوار ازدواج کی بنیادی ضرورت ہیں لیکن ازدواج کو ساتھی کی حیثیت میں رکھا جاتا ہے جس میں متذکرہ بالا خواص ہونا ضروری نہیں ۔ ساتھی سکول کا یا سفر کا یا کاروبار کا بھی ہوتا ہے ۔ ساتھی کے ساتھ تلخی بھی پیدا ہو سکتی ہے ۔ بیوی کو ساتھی سمجھنا ایک عمومی غلطی ہے جو ازدواج میں تلخی پیدا کرتی ہے

اسلام نے خاوند کو رہنما کا کردار عطا کیا ہے ۔ رہنما کا کردار غور و فکر کا متقاضی ہے لیکن غلط فہمی کی بناء پر حاکم سمجھ لیا جاتا ہے جبکہ یہ کردار ایک گڈریئے سے متشابہ ہے جو بھیڑوں کو چراتا ہے اور ان کی ہر لحاظ سے حفاظت بھی کرتا ہے اور اُنہیں ہر قسم کی تکلیف سے بچانے کی کوشش کرتا ہے ۔ خاوند کی حیثیت ایک انہائی ذمہ دار شخص کی ہے ۔ والدین کی ہم آہنگی اُن کی اولاد کی ایک اہم ضرورت ہے جو اُن کے کردار کو صحتمند طور سے پروان چڑھاتی ہے

سوچ انسان پر حاوی

سوچ آدمی کو انتہائی بلندیوں پر پہنچا سکتی ہے
سوچ پستی کی گہرائیوں میں بھی پہنچا سکتی ہے
سوچ درست ہو تو دُشمن بھی دوست بن سکتا ہے
سوچ بیمار ہو تو اچھی چیز بھی بُری لگتی ہے
سوچ ایسی نازک چیز ہے جس کے بیمار ہو جانے کا بہت زیادہ خدشہ ہوتا ہے

بقیہ قائد اعظم اور قرآن

یہ 25 دسمبر 2019ء کو شروع کئے گئے مضمون کا بقیہ حصہ ہے
غور کیجئے جنرل اکبر سے گفتگو کے دوران ”بکس منگوانا اوراس سے قرآن مجید نکالنا“ کا مطلب ہے قائداعظمؒ قرآن مجید اپنے ساتھ رکھتے تھے اور پھر ”فوراً نشان زدہ صفحہ نکالنے“ کا مطلب ہے وہ قرآن حکیم پڑھتے، غور کرتے اور نشانیاں بھی رکھتے تھے ۔ یہی باتیں عبدالرشید بٹلر نے بھی بتائیں

جہاں تک شراب پر پابندی کا تعلق ہے قائداعظمؒ نے 7 جولائی1944ء کو ہی راولپنڈی کی ایک تقریب میں ایک سوال کے جواب میں اعلان کردیا تھا کہ پاکستان میں شراب پر یقیناً پابندی ہوگی (بحوالہ قائداعظمؒ کے شب و روز ۔ از ۔ خورشید احمد خان مطبوعہ مقتدرہ قومی زبان ۔ اسلام آباد ۔ صفحہ 10 )۔

یہی وہ بات ہے جس سے روشن خیال بِدکتے اور پریشان ہو کر سیکولرزم کا پرچار کرنے لگتے ہیں ۔ قائداعظمؒ ایک سچے اور کھرے انسان تھے ۔ وہ وہی کہتے جوخلوص نیت سے محسوس کرتے اور جس پر یقین رکھتے تھے

19 اگست 1941ء کو ایک interviewمیں قائداعظم ؒ نے کہا ”میں جب انگریزی زبان میں مذہب کا لفظ سنتا ہوں تو اس زبان اور قوم کے محاورہ کے مطابق میرا ذہن خدا اور بندے کے باہمی رابطہ کی طرف منتقل ہو جاتا ہے ۔ میں بخوبی جانتا ہوں کہ اسلام اور مسلمانوں کا یہ تصور محدود نہیں ہے ۔ میں نہ کوئی مولوی ہوں نہ ماہر دینیات البتہ میں نے قرآن مجید اوراسلامی قوانین کامطالعہ کیاہے ۔ اس عظیم الشان کتاب میں اسلامی زندگی سے متعلق زندگی کے ہر پہلو کااحاطہ کیا گیا ہے ۔ کوئی شعبہ ایسا نہیں جو قرآن حکیم کی تعلیمات سے باہرہو“ (گفتار ِ قائداعظمؒ ۔ از ۔ احمد سعید صفحہ 261)۔

قائداعظمؒ نے اسلام کو مکمل ضابطہ حیات اور قرآن حکیم پر غور کا ذکر سینکڑوں مرتبہ کیا اور اگر وہ قرآن مجید کا مطالعہ اور اس پر غور کرنے کے عادی نہ ہوتے تو کبھی ایسی بات نہ کرتے ۔ 12جون 1938ءکو انہوں نےجو کہا اسے وہ مرتے دم تک مختلف انداز سے دہراتے رہے ۔ ان کے الفاظ پر غور کیجئے ”مسلمانوں کے لئے پروگرام تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ان کے پاس تیرہ سو برس سے ایک مکمل پروگرام موجود ہے اور وہ قرآن پاک ہے ۔ قرآن پاک میں ہماری اقتصادی ۔ تمدنی و معاشرتی اصلاح و ترقی کا سیاسی پروگرام بھی موجود ہے ۔ میرا اسی قانون الٰہیہ پر ایمان ہے اور جو میں آزادی کا طالب ہوں وہ اسی کلام الٰہی کی تعمیل ہے ۔ (ہفت روزہ انقلاب 12 جون 1938ء بحوالہ احمد سعید صفحہ 216)۔

قرآن فہمی کا فیض ہوتا ہے روشن باطن ۔ جوابدہی کاخوف اور زندہ ضمیر ۔ قائداعظمؒ نے ایک بار اپنے باطن کو تھوڑا سا آشکارہ کیا ۔ ان الفاظ میں اس کی جھلک دیکھئے اور قائداعظم محمد علی جناح کو سمجھنے کی کوشش کیجئے ۔ آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ”مسلمانو ۔ میں نے دنیا میں بہت کچھ دیکھا ۔ دولت ۔ شہرت اور عیش و عشرت کے بہت لُطف اٹھائے ۔ اب میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد سربلند دیکھوں ۔ میں چاہتاہوں کہ جب مروں تو یہ یقین اور اطمینان لے کر مروں کہ میرا ضمیر اور میراخدا گواہی دے رہا ہو کہ جناح نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی اور مسلمانوں کی آزادی ۔ تنظیم اور مدافعت میں اپنا فرض ادا کردیا ۔ میں آپ سے داد اور صلہ کا طلب گار نہیں ہوں ۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ مرتے دم میرا اپنا دل ۔ میرا ایمان اور میرا ضمیر گواہی دے کہ جناح تم نے واقعی مدافعت اسلام کا حق ادا کر دیا ۔ جناح تم مسلمانوں کی تنظیم ۔ اتحاد اور حمایت کا فرض بجا لائے ۔ میرا خدا یہ کہے کہ بے شک تم مسلمان پیدا ہوئے اور کفر کی طاقتوں کے غلبہ میں اسلام کو بلند رکھتے ہوئے مسلمان مرے (انقلاب لاہور 22اکتوبر 1939 بحوالہ احمد سعید صفحہ 233)

قائداعظمؒ کے الفاظ کو غور سے پڑھیں تو محسوس ہوگا کہ یہ روشن باطن ۔ زندہ ضمیر ۔ اسلام اورمسلمانوں سے محبت اور خوفِ الٰہی قرآ ن فہمی ہی کا اعجاز تھا اور مسلمانان ہند و پاکستان کتنے خوش قسمت تھے جنہیں ایسا رہنما ملا ۔ اسی لئے تو علامہ اقبالؒ جیسا عظیم مسلمان فلسفی ۔ مفسر قرآن اور زندہ کلام کاشاعر قائداعظمؒ کو اپنا لیڈر مانتا تھا

قائد اعظم اور قرآن

اکثر محفلوں میں یہ سوال پوچھا جاتاہے کہ قائداعظمؒ کی تقاریر میں جابجا قرآن حکیم سے رہنمائی کا ذکر ملتا ہے ۔ کیا انہوں نے قرآن مجید پڑھاہوا تھا اور کیا وہ قرآن مجید سے رہنمائی لیتے تھے؟ اگر جواب ہاں میں ہےتو اس کےشواہد یا ثبوت دیجئے

رضوان احمد مرحوم نے گہری تحقیق اور محنت سے قائداعظمؒ کی زندگی کے ابتدائی سالوں پر کتاب لکھی۔ اس تحقیق کے دوران انہوں نے قائداعظم ؒ کے قریبی رشتے داروں کے انٹرویو بھی کئے ۔ رضوان احمد کی تحقیق کے مطابق قائداعظمؒ کو بچپن میں قرآن مجید پڑھایا گیا جس طرح سارے مسلمان بچوں کو اس دور میں پڑھایا جاتا تھا

وزیرآباد کے طوسی صاحب کا تعلق شعبہ تعلیم سے تھا اور وہ اعلیٰ درجے کی انگریزی لکھتے تھے ۔ قیام پاکستان سے چند برس قبل انہوں نے بڑے جوش و خروش سے پاکستان کے حق میں نہایت مدلل مضامین لکھے جو انگریزی اخبارات میں شائع ہوتے رہے ۔ ملازمت کے سبب طوسی صاحب نے یہ مضامین قلمی نام سے لکھے تھے ۔ قائداعظمؒ ان کے مضامین سے متاثر ہوئے اور انہیں ڈھونڈ کر بمبئی بلایا ۔ قائداعظم ان سے کچھ کام لینا چاہتے تھے چنانچہ طوسی صاحب چند ماہ ان کے مہمان رہے جہاں وہ دن بھر قائداعظم ؒ کی لائبریری میں کام کرتے تھے ۔ انہوں نے اپنی یادداشتوں میں لکھا کہ قائداعظمؒ کی لائبریری میں قرآن حکیم کے کئی انگریزی تراجم، اسلامی و شرعی قوانین، اسلامی تاریخ اور خلفائے راشدین پر اعلیٰ درجے کی کُتب موجود تھیں اور وہ اکثر سیّد امیر علی کا قرآن کا ترجمہ شوق سے پڑھاکرتے تھے ۔ انہیں مولاناشبلی نعمانی کی ’’الفاروق‘‘ کا انگریزی ترجمہ بھی بہت پسند تھا جس پر کئی مقامات پر قائداعظمؒ نے نشانات لگا رکھے تھے ۔ کئی دہائیاں قبل طوسی صاحب کے مضامین لاہور کے ایک معاصر اخبار میں شائع ہوئے تھے ۔ مجھے معلوم نہیں کہ انہیں کتابی صورت میں شائع کیا گیا یا نہیں

اس حوالے سے عینی شاہدین کی یادیں ہی بہترین شہادت ہوسکتی ہیں ۔ ایک روز میں جنرل محمد اکبر خان، آرمی پی اے نمبر 1 کی سوانح عمری ’’میری آخری منزل‘‘ پڑھ رہا تھا تو اس میں ایک دلچسپ اور چشم کشا واقعہ نظر سےگزرا ۔ جنرل اکبر نہایت سینئر جرنیل تھے اور قیام پاکستان کے وقت بحیثیت میجر جنرل کمانڈر فرسٹ کور تعینات ہوئے ۔ جن دنوں قائداعظم ؒ زیارت میں بیماری سے برسرپیکار تھے انہوں نے جنرل اکبر اور ان کی بیگم کو 3 دن کے لئے زیارت میں بطور مہمان بلایا اور اپنے پاس ٹھہرایا۔

جنرل اکبر 25 جون 1948ء کو وہاں پہنچے ان کی قائداعظمؒ سے کئی ملاقائیں ہوئیں ۔ ایک ملاقات کاذکر ان کی زبانی سنیئے ۔”ہمارے افسروں کے سکولوں میں ضیافتوں کے وقت شراب سے جام صحت پیا جاتا ہے کیونکہ یہ افواج کی قدیم روایت ہے ۔ میں نے قائداعظمؒ سے کہا کہ شراب کے استعمال کو ممنوع کرنے کا اعلان فرمائیں ۔ قائداعظمؒ نے خاموشی سے اپنے اے ڈی سی کوبلوایا اور حُکم دیا کہ میرا کانفیڈریشن بکس لے آؤ ۔ جب بکس آ گیا تو قائداعظمؒ نے چابیوں کاگُچھا اپنی جیب سے نکال کر بکس کو کھول کر سیاہ مراکشی چمڑے سے جلد بند ایک کتاب نکالی اور اسے اس مقام سے کھولا جہاں انہوں نے نشانی رکھی ہوئی تھی اور فرمایا جنرل یہ قرآن مجید ہے اس میں لکھا ہوا ہے کہ ”شراب و منشیات حرام ہیں“۔ کچھ تبادلہ خیال کے بعد سٹینو کو بلوایا گیا ۔ قائداعظمؒ نے ایک مسؤدہ تیار کیا، قرآنی آیات کا حوالہ دے کر فرمایا شراب و منشیات حرام ہیں ۔ میں نے اس مسودے کی نقل لگا کر اپنےایریا کے تمام یونٹ میں شراب نوشی بند کرنے کاحُکم جاری کیا جو میری ریٹائرمنٹ تک موثر رہا“۔

جنرل اکبر مزید لکھتے ہیں ”میں نے قائداعظمؒ سے عرض کیا کہ ہم نے بنیادی طور پر آپ کی تقریروں سے رہنمائی حاصل کی ۔ آپ نے فرمایا ہے کہ ہم مسلمانوں کو زندگی کے ہر شعبے میں قرآن مجید سے رہنمائی لینی چاہئے ۔ ہم نے دفاعی نقطہ نظر پر تحقیق شروع کردی ہے اور کچھ موادبھی جمع کرلیا ہے ۔ قائداعظمؒ نے اس تحریک کو پسند فرمایا ۔ ہماری ہمت افزائی ہوگئی“۔ (صفحہ 282-281)

اس حوالے سے ایک عینی شاہد کا ا ہم انٹرویو منیر احمد منیر کی کتاب ” The Great Leader “ حصہ اوّل میں شامل ہے ۔ یہ انٹرویو عبدالرشید بٹلر کا ہے جو اُن دنوں گورنر ہائوس پشاور میں بٹلر تھا جب قائداعظمؒ گورنر جنرل کی حیثیت سے سرحد کے دورے پر گئے اور گورنر ہاؤس پشاور میں قیام کیا ۔ انٹرویو کے وقت عبدالرشید بٹلر بوڑھا ہو کر کئی امراض میں مبتلا ہوچکا تھا ۔ اس عینی شاہد کا بیان پڑھیئے اور غور کیجئے ”میری ڈیوٹی ان کے کمرے پر تھی اور قائداعظمؒ کے سونے کے کمرے کے سامنے میرا کمرہ تھا اس لئے کہ جب وہ گھنٹی بجائیں اور انہیں کسی چیز کی ضرورت ہو تو میں فوراً پہنچ جاؤں“۔
سوال: انہوں نے کوئی چیز طلب کی ؟
جواب: اس اثنا میں انہوں نے کبھی پانی اور کبھی چائے مانگی
سوال: جب آپ ان کے لئے پانی چائے لے کر گئے وہ کیا کر رہے تھے؟
جواب: وہ بیٹھے خوب کام کر رہے تھے ۔ دن بھر کی مصروفیات کے باوجود انہوں نےآرام نہیں کیا ۔ جب کام کرتے کرتے تھک جاتے توکمرے میں اِدھر اُدھر جاتے ۔ میں نےخود دیکھا کہ انگیٹھی (Mantle Piece) پر رحل میں قرآن پاک رکھا ہوا ہے ۔ اس پر ماتھا رکھ کر رو پڑتے تھے
سوال: قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ رو پڑتے ہیں ۔ اس دوران کوئی دعا بھی مانگتے تھے؟
جواب: میری موجودگی میں نہیں
سوال: اس موقع پر ان کا لباس ؟
جواب: شلوار ۔ اچکن
سوال: لیکن میں نے جو سنا ہے کہ رات گئے ان کے کمرے سے ٹھک ٹھک کی آواز آئی ۔ شُبہ ہوا کوئی سُرخ پوش نہ کمرے میں گھس آیا ہو؟ جواب: اسی رات ۔ آدھی رات کا وقت تھا ۔ ہر کوئی گہری نیند سو رہا تھا ۔ ڈیوٹی پر موجود پولیس اپنا فرض ادا کر رہی تھی کہ اچانک ٹھک ٹھک کی آواز گورنمنٹ ہاؤس کا سناٹا چیرنے لگی ۔ آواز میں تسلسل اور ٹھہراؤ تھا۔ میں فوراً چوکس ہوا ۔ یہ آواز قائداعظمؒ کے کمرے سے آرہی تھی ۔ ہمیں خیال آیا اندر شاید کوئی چورگھس گیا ہے ۔ ڈیوٹی پرموجود پولیس افسر بھی ادھر آگئے ۔ پولیس اِدھر اُدھرگھوم رہی تھی کہ اندر کس طرح جھانکا جائے؟ ایک ہلکی سی در شیشے پر سے پردہ سرکنے سے پیدا ہوچکی تھی ۔ اس سے اندر کی Movement دیکھی جاسکتی تھی ۔ ہم کیا دیکھتے ہیں کہ قائداعظم انگیٹھی پر رکھے ہوئے قرآن حکیم پر سر جھکائے کھڑے ہیں ۔ چہرہ آنسوؤں سے تر ہے ۔ تھوڑی دیر بعد وہ کمرے میں ٹہلنا شروع کردیتے ہیں ۔ پھر قرآن حکیم کی طرف آتے ہیں ۔ اس کی کسی آیت کا مطالعہ کرنے کے بعد پھر چلنے لگتے ہیں ۔ جب ان کے پاؤں لکڑی کے فرش پر پڑتے ہیں تو وہ آواز پیدا ہوتی ہے جس نے ہمیں پریشان کر رکھا تھا ۔ آیت پڑھ کر ٹہلنا یعنی وہ غور کر رہے تھے کہ قرآن کیا کہتاہے ۔ اس دوران میں وہ کوئی دعا بھی مانگ رہے تھے (صفحات 239، 240)۔

(بقیہ اِن شاء اللہ 30 دسمبر 2019ء کو)

خُودی

سُبحانَ اللَّهِ، والحمدُ للَّهِ، ولا إلَهَ إلَّا اللَّهُ، واللَّهُ أَكْبرُ، ولا حَولَ ولا قوَّةَ إلَّا باللَّهِ العليِّ العظيمِ

خودی کا سر نہاں ولا إلَهَ إلَّا اللَّهُ
خودی ہے تیغ، فساں ولا إلَهَ إلَّا اللَّهُ
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں، ولا إلَهَ إلَّا اللَّهُ
کیا ہے تو نے متاع غرور کا سودا
فریب سود و زیاں ، ولا إلَهَ إلَّا اللَّهُ
یہ مال و دولت دنیا، یہ رشتہ و پیوند
بتان وہم و گماں، ولا إلَهَ إلَّا اللَّهُ
خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زناری
نہ ہے زماں نہ مکاں، ولا إلَهَ إلَّا اللَّهُ
یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں، ولا إلَهَ إلَّا اللَّهُ
اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں، ولا إلَهَ إلَّا اللَّهُ

کہیں سے دیانتداری لے آئیں

ایک بزرگ عالمِ دین لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہم ایک لمحے کے لئے نہیں سوچتے کہ جن کو ہم جہنمی سمجھتے ہیں، ان کی ترقی کا راز کیا ہے؟ مسلمان کی تمنا ہے کہ کافروں کو ترقی نہ ملے مگر یہ الله تعالٰی کا قانون نہیں کہ وہ دیانتداروں کو پیچھے کرے۔
جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں ایک شخص ٹیکسی میں سوار ہوا ۔ زبان نہ جاننے کی وجہ سے زیادہ بات نہ کر سکا، بس اس اِنسٹیٹوٹ کا نام لیا جہاں اسے جانا تھا ۔ ٹیکسی ڈرائیور سمجھ گیا ۔ سفر کا آغاز ہوا تو ٹیکسی ڈرائیور نے میٹر آن کیا ۔ تھوڑی دیر کے بعد بند کر دیا اور پھر تھوڑی دیر بعد دوبارہ آن کر دیا ۔ مسافر حیران تھا مگر زبان نہ آنے کی وجہ سے چپ رہا ۔ جب اِنسٹیٹوٹ پہنچا تو اِستقبال کرنے والوں سے کہنے لگا ۔ آپ اس ٹیکسی ڈرائیور سے پوچھیں کہ اس نے دورانِ سفر کچھ دیر گاڑی کا میٹر کیوں بند رکھا؟

ٹیکسی ڈرائیور سے پوچھا گیا تو وہ بولا کہ راستے میں مجھ سے غلطی ہوئی ۔ مجھے جس جگہ سے مُڑنا تھا وہاں سے نہ مڑ سکا اگلا یُوٹرن کافی دور تھا ۔ میری غلطی کے باعث دو ڈھائی کلومیٹر سفر اضافی کرنا پڑا ۔ اس دوران میں نے گاڑی کا میٹر بند رکھا ۔ جو مسافت میں نے اپنی غلطی سے بڑھائی اس کے پیسے میں مسافر سے نہیں لے سکتا ۔ اس ڈرائیور نے نہ چلہ لگایا تھا ۔ نہ وہ نماز پڑھتا تھا ۔ نہ کلمہ مگر دیانتداری تھی ۔ ہمارے پاس سب کچھ ہے مگر دیانتداری اور ایمانداری نہیں ہے ۔ ہم مسلمان تو ضرور ہیں مگر ہمارے پاس اسلام نہیں ہے ۔ اسلام پگڑی کا نام نہیں ۔ اسلام کرتے پاجامے اور داڑھی کا نام نہیں ۔ اسلام سچ بولنے کا نام ہے ۔ اسلام دیانتداری کا نام ہے ۔ اسلام وعدہ پورا کرنے کا نام ہے ۔ اسلام صحیح ناپنے اور پورا تولنے کا نام ہے ۔ وقت کی پابندی کا نام ہے

میں سوچنے پر مجبور ہوں کہ ہمارے معاشرے میں جھوٹ کی عادت ہے ۔ ملاوٹ کا چلن ہے ۔ ہمارے ہاں چوری ہوتی ہے ۔ لوٹ مار ہوتی ہے مگر اس پر کوئی ندامت نہیں ہوتی ۔ پاکستان میں منشیات بیچنے والے ۔ جعلی ادویات تیار کرنے والے ۔ عوام کو حرام گوشت کھلانے والے کسی دوسرے ملک سے نہیں آئے ۔ ہمارے ایوانوں، دفتروں اور عدالتوں میں جھوٹ بولنے والے سب پاکستانی ہیں ۔ یہ تمام کسی دوسرے ۔ یہاں جتنے مافیاز کام کرتے ہیں ۔ تاجر سارا سال لوگوں کو لوٹ کر مقدس مقامات کا رخ کرتا ہے ۔ یہاں تو زکوٰۃ تک کھائی جاتی ہے ۔ ہر طرف بددیانتی اور بدعنوانی منہ کھولے کھڑی ہے

راوی کہتا ہے کہ مجھے تین چار سال پرانا واقعہ یاد آرہا ہے، قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے اطلاعات کا اجلاس ہو رہا تھا، یہ اجلاس وزارت کے ایک ذیلی ادارے پی این سی اے پر بات کر رہا تھا، (ن) لیگ کی حکومت تھی اور (ن) لیگ ہی کی ایک رکن عارفہ خالد پرویز نے انکشاف کیا تھا کہ پی این سی اے میں صادقَین اور چُغتائی کی جعلی پینٹنگز لگی ہوئی ہیں، اصلی پینٹنگز غائب ہیں، اس انکشاف کے بعد پی این سی اے اور لوک ورثہ کے سربراہوں کے رنگ فق ہو گئے، کمیٹی کے دیگر اراکین بھی حیران ہوئے مگر یہ حیرت چند لمحوں کے لئے تھی، پھر مٹی ڈالنے والے بولنے لگے مگر عارفہ خالد کہنے لگیں کہ مجھے صادقین کی اصل اور نقل پینٹنگز کی پہچان ہے، پینٹنگز امیروں کا شوق ہے، غریبوں کا نہیں، جو پینٹنگز چوری ہوئی ہیں اس کے پیچھے یقیناً امیر طبقہ ہوگا ۔

کمیٹی کی اس رُکن کو ٹَرخانے کے لئے کہا گیا کہ اس سلسلے میں رپورٹ منگواتے ہیں، ان کا خیال تھا کہ اس بیان کے بعد خاموشی ہو جائے گی مگر ایسا نہ ہو سکا، ایک کے بعد دوسرا، دوسرے کے بعد تیسرا اور پھر تیسرے کے بعد کمیٹی کے کئی اجلاس ہوئے مگر وہ رپورٹ نہ آسکی، پینٹنگز چوری کرنے والے کتنے طاقتور ہوں گے کہ اس حکومتی رکن کو حکومت ہی کے دیگر اراکین سمجھانے لگے کہ آپ یہ معاملہ چھوڑ دیں لیکن وہ آخری اجلاس تک رپورٹ مانگتی رہیں، اب پی ٹی آئی کی حکومت ہے، اسے بھی ایک سال سے زائد ہوگیا ہے، یہ حکومت بھی رپورٹ حاصل نہیں کر سکی، انہوں نے تو شاید پوچھا ہی نہ ہو

ایک صحافی کو پی این سی اے کے معمولی اہلکار نے بتایا کہ پینٹنگز آدھی رات کو ٹرکوں کے ذریعے چوری کی گئی تھیں اور ان کی جگہ دو نمبر پینٹنگز لگا دی گئیں۔ یعنی ہم صادقین سے بھی دو نمبری کرتے ہیں، ہم چغتائی سے بھی دو نمبری کرتے ہیں ایک طرف ان کی پینٹنگز چوری کرواتے ہیں تو دوسری طرف انہیں نکما فنکار ثابت کرنے کے لئے ان کے نام پہ تیار کردہ جعلی پینٹنگز بھی آویزاں کر دیتے ہیں۔
(ن) لیگ کے دور میں تو چوری کی یہ رپورٹ نہ آ سکی، پی ٹی آئی کے عہد ہی میں یہ رپورٹ منگوا لی جائے، مگر یہاں کون سنتا ہے؟ اکیلا عمران خان دیانتدار ہے مگر اس دیانتدار کے ساتھ بھی چوروں کی پوری بارات ہے

بشکریہ ۔ مظہر برلاس