Category Archives: معلومات

لاہور شہر تاریخی تناظر میں

22 بار دیکھا گیا

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کو پاکستان کا دِل بھی کہا جاتا ہے ۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے لاہور کا فاصلہ براستہ موٹر وے 382 کلو میٹر اور براستہ شاہراہ شیر شاہ سُوری 367 کلو میٹر ہے ۔ شاہراہ شیر شاہ سُوری جس کی لمبائی 2500 کلو میٹر سے متجاوز ہے 6 دہائیوں سے زائد قبل ہندوستان کے ایک مسلمان حُکمران شیر شاہ سُوری نے بنوائی تھی ۔ لاہور کی ایک جھلک
قدیم لاہور کے دروازے جن میں سے کچھ اب موجود نہیں
اکبری دروازہبھاٹی دروازہدہلی دروازہروشنائی دروازہشاہ عالمی دروازہشیراں والا دروازہلاہوری دروازہمستی دروازہموچی دروازہموری دروازہٹکسالی دروازہیکی دروازہ
بادشاہی مسجد جسے مُغلیہ خاندان کے بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر نے 1672ء سے 1674ء لگ بھگ 3 سال کی مدت میں تعمیر کروایا ۔ یہ مسجد 1986ء تک دنیا کی سب سے بڑی مسجد تھی ۔ پہلی تصویر کے پیش منظر میں مینارِ پاکستان ہے جو 1940ء میں اس مقام پر منظور کی جانے والی قرار دادِ پاکستان کی یاد میں پاکستان بننے کے بعد تعمیر کیا گیا
Minar i Pakistan and Badshahi MasjidBadshahi Masjid 1Badshahi Masjid 2

.

.

.

.

.

.

.

.

.

.

.

.

.

.

.

.
زیب النساء المعروف دائی انگا کا مقبرہ جو مُغلیہ شہنشاہ شہاب الدین محمد خُرّم جو شاہجہاں مشہور ہوئے کے گھر میں دائی تھیں اور مغلیہ شاہی خاندان میں اس کی بہت عزت تھی
Dai Anga
مسجد وزیر خان جو دہلی دروازے کے پہلو میں ہے 1634ء سے 1641ء کے درمیان مغل بادشاہ شاہجہان نے تعمیر کروائی
Masjid Wazir Khan
شالامار باغ جسے شالیمار باغ بھی کہتے ہیں 1937ء سے 1941ء تک 4 سالوں میں تیار ہوا ۔ اس کی تعمیر کی نگرانی مغل بادشاہ شاہجہاں کے مصاحب میں سے ایک نے خلیل اللہ خان نے کی ۔ اس کی بناوٹ کا ڈیزائن انجنیئر علی مردان خان نے تیار کیا تھا
Shalimar
لاہور کے 2 پرانی طرز کے مکان
An Old House in Lahore
Gawalmandi Lahore
بالخصوص خواتین کیلئے ایک پرانا شاپِنگ سینٹر جو آج بھی مقبول ہے
13049995
Anarkali bazar
DSC00622
Lahore - Anarkali Market - 003
55a810abdd43b
218447xcitefun-lahore-anarkali-bazaar-2-small1
men-in-anarkali
بازار کا ایک بہت پرانا حصہ
Old-Anarkali-Lahore-Bomb-Blast
قدیم رہائسی علاقہ جو آج بھی موجود ہے
Ancient Buildings
لاہور کی جدید تعمیرات
میٹرو بس
Metro Bus Lahore 1.phpMetro-Bus-Lahore 2
مینارِ پاکستان انٹر چینج
Minar-i-Pakistan Interchange
کچھ دیگر انٹر چینج

DCIM100MEDIA

DCIM100MEDIA

Lahore-Ring-Road-10

انسان کے 30 پٹھوں کی ورزش

104 بار دیکھا گیا

ہمارے ہاتھ کے ایک مربع اِنچ میں 9 فٹ خون کی نالیاں ۔ اعصاب کے 9000 سِرے ۔ 600 درد محسوس کرنے والے ۔ 36 تپش محسوس کرنے والے اور 75 دباؤ محسوس کرنے والے ہیں
ہمارے جسم میں 600 سے زائد پَٹھے ہیں

جب ہم مُسکراتے ہیں تو کم از کم 30 پٹھوں کی ورزش ہو جاتی ہے
پس (اے انسانو اور جِنو) تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

کیا پوچھیں گے ؟

219 بار دیکھا گیا

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی یہ نہیں پوچھیں گے کہ
” کتنا بچا کر جمع کیا تھا ؟ “
” کیا خواب دیکھے تھے ؟ “
” تمہارے منصوبے کیا تھے ؟ “
” تم کیا کہتے رہے تھے ؟“

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی یہ پوچھیں گے کہ
” تمہارا دوسروں سے سلوک کیسا تھا ؟ “
” کیا تم نے حقدار کو اُس کا حق پہنچایا ؟ “
” کیا لوگ تمہاری زبان سے محفوظ تھے ؟ “
” کیا پڑوسی تم سے خوش تھے ؟“

کیا یاد کرا دیا

353 بار دیکھا گیا

یکم جون 2017ء کو جوائنٹ اِنوَسٹی گیشن ٹیم کو اپنا بیان قلمبند کرانے کے بعد حسین نواز نے میڈیا کے سامنے ایک ایسی بات کہہ دی جو اُس کی پاکستان کی تاریخ سے واقفیت کا مظہر تھی ۔ حسین نواز نے کہا تھا ”حسین شہید سہروردی صاحب کے بعد یہ سب کچھ ہمارے ساتھ ہوتا آ رہا ہے

میں نے 24 نومبر 2011ء کو ”بھولے بسرے واقعات ۔ پہلا سوال“عنوان کے تحت ایک تحریر لکھی تھی اُس میں سے ایک مختصر اقتباس نقل کر رہا ہوں

آپ کا پہلا سوال
جہاں تک ميرا عِلم اور ياد داشت کام کرتی ہے پاکستان بننے کے فوری بعد مشرقی پاکستان ميں کسی مطالبے نے جنم نہيں ليا تھا ۔ اگر ايسا ہوتا تو حسين شہيد سہروردی صاحب جو خالص بنگالی تھے پاکستان کا پہلا آئين منظور ہونے کے بعد ستمبر 1956ء ميں پاکستان کے وزيرِ اعظم نہ بنتے
خيال رہے کہ حسين شہيد سہروردی صاحب اُس عوامی ليگ کے صدر تھے جس ميں شيخ مجيب الرحمٰن بھی تھا
بنگاليوں کا دُشمن دراصل بنگالی بيوروکريٹ سکندر مرزا تھا جو غلام محمد کا منظورِ نظر ہونے کی وجہ سے بیوروکریٹ سے حکمران بن بیٹھا تھا
حسين شہيد سہروردی صاحب نے مشرقی پاکستان (جو کراچی کے سيٹھوں کے زيرِ اثر تھا) کو اس کا مالی حق دينے کی کوشش کی جسے روکنے کے لئے سکندر مرزا (جو اُس وقت صدر تھا) نے حسين شہيد سہروردی صاحب پر اِتنا زیادہ دباؤ ڈالا کہ اس ڈر سے کہ اُنہيں برخاست ہی نہ کر ديا جائے حسين شہيد سہروردی صاحب اکتوبر 1957ء ميں مستعفی ہو گئے تھے

يہ تھا وہ وقت جب مشرقی پاکستان ميں نفرت کی بنياد رکھی گئی

اس سے قبل محمد علی بوگرہ صاحب جو بنگالی تھے 1953ء ميں وزيرِ اعظم بنے تھے اور انہيں بھی سکندر مرزا نے 1955ء ميں برخواست کيا تھا
محمد علی بوگرہ صاحب سے قبل 1953ء ميں خواجہ ناظم الدين صاحب کی کابينہ کو اور 1954ء ميں پاکستان کی پہلی منتخب اسمبلی کو غلام محمد نے برخواست کر کے پاکستان کی تباہی کی بنياد رکھی تھی

مشرقی پاکستان ميں بنگالی بھائيوں کے دُشمن وہی تھے جو مغربی پاکستان ميں پنجابيوں ۔ سندھيوں ۔ پٹھانوں اور بلوچوں کے دشمن رہے ہيں يعنی بيوروکريٹ خواہ وہ سادہ لباس ميں ہوں يا وردی ميں

انسانی حِس اور دماغ

166 بار دیکھا گیا

انسان کی چھونے کی حِس دنیا کی حساس ترین چیز سے زیادہ حساس ہے
انسان کا دماغ دنیا کے سب سے زیادہ پیچیدہ اور طاقتور کمپیوٹر سے زیادہ پیچیدہ ہے انسان کے دماغ میں ایک کھرب (100000000000) اعصاب کے خُلیئے ہیں
پس (اے انسانو اور جِنو) تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

آواز جو دُنیا میں ہر وقت گونجتی ہے

186 بار دیکھا گیا

کیا آپ ایسی آواز جانتے ہیں جو خواہ گرمی ہو سردی ہو بارش ہو طوفان ہو دُنیا میں ہر وقت گونجتی رہتی ہے ۔ اور اِسے سُن کر کئی لوگ متحرک ہو جاتے ہیں ۔ یہ عمل ایک ہفتہ یا ایک مہینہ نہیں سارا سال جاری رہتا ہے

جناب یہ اذان کی آواز ہے فرض کریں کہ انڈونیشیا دنیا کے ایک سِرے پر ہے ۔ جب انڈونیشیا میں فجر کی اذان ہوتی ہے تو سورج انڈونیشیا سے مشرق کی طرف ڈیڑھ گھنٹہ پیچھے ہوتا ہے ۔ سورج کے آگے آگے اذان سفر کرتی ہوئی ملیشیا ۔ بنگلہ دیش ۔ بھارت ۔ پاکستان ۔ افغانستان ۔ ایران ۔ کویت ۔ سعودی عرب ۔ مصر ۔ لیبیا ۔ تیونس ۔ مراکش پہنچتی ہے ۔ جب مراکش میں فجر کی اذان ہوتی ہے تو انڈونیشیا میں ظہر کی اذان ہو چکی ہوتی ہے

مراکش سے چلتی ہوئی فجر کی اذان جب نیویارک پہنچتی ہے تو انڈونیشیا میں عصر کی اذان ہو رہی ہوتی ہے اور انڈونیشیا کے مغرب کے کئی ممالک مں ظہر کی اذان ہو رہی ہوتی ہے ۔ جب فجر کی اذان کیلیفورنیا پہنچتی ہے تو انڈونیشیا میں مغرب کی اذان ہو چکی ہوتی ہے اور انڈونیشیا اور کیلیفورنیا کے درمیان کچھ ممالک میں عصر اور کچھ میں ظہر کی اذان ہو رہی ہوتی ہے

اس سے پہلے کہ فجر کی اذان ہوائی پہنچے انڈونیشیا میں عشاء کی اذان کے بعد نماز پڑھ کر لوگ سونے کی تیاری میں ہوتے ہیں اور دنیا کے کچھ ممالک میں مغرب کچھ میں عصر اور کچھ میں ظہر کی اذان ہو رہی ہوتی ہے

ہوائی سے آسٹریلیا ۔ جاپان ۔ فلیپائین سے ہوتے ہوئے اذان انڈونیشیا پہنچتی ہے تو اگلی صبح کی اذان شروع ہو جاتی ہے

اسی طرح پانچوں وقت کی اذانیں دُنیا کے گرد 24 گھنٹے گھومتی رہتی ہیں ۔ اور ہر لمحے میں کُرّہ ارض پر درجنوں اذانیں گونج رہی ہوتی ہیں

سُبحان اللہ و بحمدہ