Category Archives: معاشرہ

دعویٰ اور عمل

70 بار دیکھا گیا

ڈھونڈنے والا ستاروں کی گذر گاہ کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
اپنی حکمت کے خم و پیچ میں اُلجھا ایسا
آج تک فیصلہ نفع و ضرر کر نہ سکا
جس نے سورج کی شعاؤں کو گرفتار کیا
زندگی کی شب تاریک سحر کر نہ سکا

ہم اور ہم ہی ہم

115 بار دیکھا گیا

ہم حُکمرانوں پر نُکتہ چِینی کرتے ہیں یا یوں کہہ لیجئے کہ سیاستدانوں پر نُکتہ چِینی کرتے ہیں
ہم سرکاری ملازمِین پر بھی نُکتہ چِینی کرتے ہیں
ہم ہر دوسرے آدمی میں غلطیاں نکاتے ہیں
مگر اِنجیل میں لکھے ” تُمہیں دوسرے کی آنکھ کا تِنکا تو نظر آتا ہے لیکن اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا “ کے مِصداق اپنے نقائص پر کبھی نظر نہیں ڈالتے
میں آج صرف ایک شاخ کا ذکر کروں گا ”ہمارا کردار سڑک پر“۔
میں اپنی گاڑی میں سوار جب سڑک پر پہنچتا ہوں تو ”روز ہوتا ہے اِک تماشہ میرے آگے“۔

میری کمزور سمجھ لیجئے یا احتیاط یا تربیت کہ میں ڈرائیونگ کے اصولوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے گاڑی چلاتا ہوں ۔ یہ صرف اتفاق تھا کہ میں نے ڈرائیونگ 1967ء جرمنی کے شمال مغربی شہر Desseldorf میں ڈرائیونگ باقائدہ طور پر سیکھی ۔ اِس کے بعد میں نے پاکستان میں کبھی کبھی گاڑی چلائی پھر طرابلس (لبیا) میں ساڑھے 6 سال (مئی 1976ء تا جنوری 1983ء) خُوب گاڑی چلائی ۔ اِس کے بعد سے پاکستان میں خُوب گاڑی چلاتا رہا ہوں ۔ جون 1999ء میں نیو جرسی (امریکہ) میں بھی گاڑی چلانے کا موقعہ ملا ۔ گو میں نے دساور کے مقابلہ میں پاکستان میں کافی زیادہ عرصہ گاڑی چلائی ہے لیکن میں اپنے آپ کو وطنی ٹریفک کے مطابق نہیں ڈھال سکا

سڑک پر جو کچھ میں روزانہ دیکھتا ہوں اُس کا خُلاصہ یہ ہے ۔ میں بات ٹیکسی ڈرائیوروں کی نہیں بلکہ پڑھے لکھے خواتین و حضرات کی کر رہا ہوں جو بہترین لباس میں ملبوس قیمتی گاڑیاں چلا رہے ہوتے ہیں

جب گاڑیاں زیادہ ہوں تو زیادہ ترلوگوں میں سے ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ آگے نکل جائے لیکن جب گاڑیاں کم ہو جائیں تو وہی ڈرائیور ایسے گاڑیاں چلا رہے ہوتے ہیں جیسے اُن کے پاس بہت وقت ہے جسے گزارنا ہے ۔ اگر پھر گاڑیاں زیادہ ہو جائیں تو وہ مزے مزے سے جانے والے خواتین وحضرات جوش میں آ کر پہلے کی طرح دوڑیں لگانے لگتے ہیں ۔ عام طور میں دیکھا گیا ہے کہ یہ گاڑیاں بھگانے والے منزلِ مقصودپر مجھ سے بعد ہی پہنچتے ہیں

کئی خواتین و حضرات مڑنے کے لئے اشارہ دینا ضروری خیال نہیں کرتے ۔ اِس پر طُرّہ یہ کہ آپ کے داہنی طرف ہوتے ہوئے آپ کے آگے سے گزر کر بائیں جانب مڑ جاتے ہیں یا بائیں طرف ہوتے ہوئے آپ کے آگے سے گزر کر داہنی طرف مڑ جاتے ہیں ۔ یہ عمل بالخصوص چوراہے (چوک یا چورنگی) پر دیکھنے میں آتا ہے جب کوئی صاحب یا صاحبہ اچانک بائیں طرف آخری قطار میں ہوتے ہیں 3 یا 4 قطاروں کے آگے سے گزرتے ہوئے داہنی طرف چلے جاتے ہیں ۔ یا اِس کا اُلٹ

بلا وجہ ہارن بجاتے رہنے کی عادت اکثر خواتین و حضرات میں پائی جاتی ہے خاص کر جب آگے کوئی گاڑی جا رہی ہو اور آگے والی گاڑی کے لئے ہان بجانے والی گاڑی کو راستہ دینا ممکن نہ ہو
اچھوتا واقعہ جو میرے ساتھ 2 بار پیش آ چکا ہے ۔ میں سڑک کی بالکل بائیں طرف آہستہ کار چلا رہا ہوں کیونکہ مجھے بائیں طرف مُڑنا ہے اورموڑ قریب ہے ۔ بائیں طرف مڑنے کا اشارہ ٹم ٹما رہا ہے ۔ مجھے پیچھے سے متواتر ہارن کی آواز آنا شروع ہوجاتی ہے ۔ میں دیکھتا ہوں کہ میرے داہنی طرف کافی پیچھے تک کوئی گاڑی نہیں ہے چنانچہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہارن کیوں بجایا جا رہا ہے ؟ پھر اچانک پیچھے والی کار میری داہنی طرف سے گزر کر سیدھی چلی جاتی ہے ۔ کار چلانے والی محترمہ میری داہنی طرف سے گزرتے ہوئے مجھے مکا دکھا جاتی ہیں ۔ اِس راز کا عُقدہ آج تک مُجھ پر افشاء نہیں ہوا
اِسی طرح ایک بار میں نے داہنی طرف مڑنا تھا ۔ موڑ قریب آنے پر میں نے داہنی طرف کا اشارہ on کر دیا پھر دیکھا کہ داہنی lane میں کافی پیچھے تک کوئی گاڑی نہیں تو داہنی lane میں چلاگیا ۔ 40 یا 45 سیکنڈ بعد پیچھے سے تیز آواز والے ہارن کی متواتر آواز شروع ہوئی ۔ پھر وہ گاڑی بڑی تیزی سے میری بائیں طرف سے ہوتی ہوئی اچانک میرے سامنے آکر کچھ دُور رُک گئی ۔ کار نئی بی ایم ڈبلیو تھی ۔ اسے چلانے والا قیمتی پوشاک میں ملبوس بڑی تیزی سے نکل کر میری طرف لپکا ۔ میں کار سے نکلنے ہی والا تھا کہ میرے پیچھے ایک High Bed Double Cab گاڑی آ کر رُکی اور اُس کا ڈرائیور بی ایم ڈبلیو والے کی سی تیزی سے باہر نکلا اور میری بائیں طرف سے گزرتے ہوئے مجھے رُکنے کا اشارہ کرتے ہوئے بی ایم ڈبلیو کے ڈرائیور کے قریب پہنچا اور بڑے رُعب سے اُسے گاڑی میں بیٹھ کر چلنے جانے کا اشارہ کیا ۔ جس پر بی ایم ڈبلیو والاچلا گیا ۔ کہا کیا میں نہیں سُن سکا ۔ بی ایم ڈبلیو والے نے شاید سمجھا تھا کہ میں کوئی بڑا افسر ہوں اور Double Cab میں Security Force ہے
اس طرح اللہ کریم نے مجھے بچا دیا ورنہ بی ایم ڈبلیو والا اپنی دولت کے نشہ میں ناجانے میری کیسی دُرگت بناتا

کئی ڈرائیور زبردستی اپنے بائیں یا داہنی طرف والی گاڑی کے آگے گھُس جاتے ہیں ۔ اور اُس بے چارے کو تیزی سے brake لگا کر اپنی گاڑی روکنا پڑتی ہے ۔ اسی طر ح ایک بار ایک صاحب نے بغیر اشارہ دیئے اچانک میرے سامنے زبردستی گھُستے ہوئے میری کار کی بائیں Head Light کی بائیں جانب dent ڈال دیا اور اشارہ والی لائیٹ توڑ دی ۔ اتفاق سے چند منٹ بعد ہم دونوں ایک ہی جگہ رُک گئے ۔ بجائے اس کے کہ میں اُن صاحب سے شکائت کرتا اُلٹا وہ مجھ پر برس پڑے اور فرمایا ” آپ کو ڈرائیونگ نہیں آتی ۔ آپ کی timing غلط ہے“ اور پتہ نہیں کیا کچھ کہا ۔ لب و لہجہ مکمل کراچی والا تھا ۔ منہ سے پان کا تھوک بھی اُچھل رہا تھا
اُن کے چُپ ہونے پر میں نے کہا“ محترم ۔ میں فون کر کے ٹریفک سارجنٹ کو بلاتا ہوں ۔ وہ بتائے گا کہ کون غلطی پر تھا ۔ اس پر وہ کار بھگا کرچلے گئے جس سے معلوم ہوا کہ وہ مجھ پر غصہ نکالنے کے لئے رُکے تھے

یہودی لڑکا ”جاد“ سے کیسے ”جاد اللہ قرآنی“ بنا؟

1,201 بار دیکھا گیا

یہ تقریباً 1957ء کی بات ہے کہ فرانس میں کہیں ایک رہائشی عمارت کی نکڑ میں ترکی کے ایک پچاس سالہ بوڑھے آدمی نے چھوٹی سی دکان بنا رکھی تھی۔ اردگرد کے لوگ اس بوڑھے کو ”انکل ابراہیم“ کے نام سے جانتے اور پکارتے تھے۔ انکل ابراہیم کی دکان میں چھوٹی موٹی گھریلو ضروریات کی اشیاء کے علاوہ بچوں کیلئے چاکلیٹ ۔ آئسکریم ۔ گولیاں اور ٹافیاں دستیاب تھیں

اسی عمارت کی ایک منزل پر ایک یہودی خاندان آباد تھا جن کا ایک 7 سالہ بچہ جاد تقریباً روزانہ انکل ابراہیم کی دکان پر گھر کی چھوٹی موٹی ضروریات خریدنے کیلئے آتا تھا۔ دکان سے جاتے ہوئے انکل ابراہیم کو کسی اور کام میں مشغول پا کر جاد ایک چاکلیٹ چوری کرنا نہ بھولتا ۔ ایک دب دکان سے جاتے ہوئے جاد چاکلیٹ چوری کرنا بھول گیا
انکل ابراہیم نے جاد کو پیچھے سے آواز دیتے ہوئے کہا ” جاد ۔ آج چاکلیٹ نہیں اُٹھاؤ گے کیا ؟ “
انکل ابراہیم نے یہ بات محبت میں کی تھی یا دوستی سے مگر جاد کیلئے ایک صدمے سے بڑھ کر تھی۔ جاد یہی سمجھتا تھا کہ اس کی چوری ایک راز تھی مگر معاملہ اس کے برعکس تھا
جاد نے گڑگڑاتے ہوئے انکل ابراہیم سے کہا ” آپ اگر مجھے معاف کر دیں تو آئیندہ میں کبھی چوری نہیں کروں گا “۔

انکل ابراہیم نے جاد سے کہا ” اگر تم وعدہ کرو کہ اپنی زندگی میں کبھی بھی کسی کی چوری نہیں کرو گے تو روزانہ کا ایک چاکلیٹ میری طرف سے تمہارا ہوا ۔ ہر بار دکان سے جاتے ہوئے لے جایا کرنا “۔
اس بات پر جاد اور انکل کا اتفاق ہو گیا

وقت گزرتا گیا اور اس یہودی بچے جاد اور انکل ابراہیم کی محبت گہری سے گہری ہوتی چلی گئی یہاں تک کہ جاد کو جب کبھی کسی مسئلے کا سامنا ہوتا یا پریشانی ہوتی تو انکل ابراہیم سے ہی کہتا ۔ انکل ابراہیم میز کی دراز سے ایک کتاب نکالتے اور جاد سے کہتے ”کتاب کو کہیں سے بھی کھول کر دو“۔ جاد کتاب کھولتا اور انکل وہیں سے 2 صفحے پڑھتے اور جاد کو مسئلے کا حل بتاتے ۔ جاد کا دل اطمینان پاتا اور وہ گھر چلا جاتا

اس طرح 17 سال گزر گئے۔ 17 سال کے بعد جب جاد 24 سال کا ایک نوجون بنا تو انکل ابراہیم 67 سال کے ہوچکے تھے ۔ داعی اجل کا بلاوا آیا اور انکل ابراہیم وفات پا گئے ۔ اُنہوں نے اپنے بیٹوں کے پاس جاد کیلئے ایک صندوقچی چھوڑی تھی ۔ اُن کی وصیت تھی کہ اُن کے مرنے کے بعد صندوقچی اس یہودی نوجوان جاد کو تحفہ میں دیدی جائے ۔ جاد کو جب انکل کے بیٹوں نے صندوقچی دی اور اپنے والد کے مرنے کا بتایا تو جاد بہت غمگین ہوا کیونکہ انکل ابراہیم ہی اسکے غمگسار اور مُونس تھے۔ جاد نے صندوقچی کھول کر دیکھی تو اندر وہی کتاب تھی جسے کھول کر وہ انکل کو دیا کرتا تھا ۔ انکل کی نشانی گھر میں رکھ کر جاد دوسرے کاموں میں مشغول ہو گیا۔ ایک دن اُسے کسی پریشانی نے آ گھیرا ” آج انکل ہوتے تو وہ کتاب کھول کر 2 صفحے پڑھتے اور مسئلے کا حل سامنے آجاتا”۔ جاد کے ذہن میں انکل کا خیال آیا اور اُس کے آنسو نکل آئے ۔ ”کیوں نا آج میں خود کوشش کروں“۔ کتاب کھولتے ہوئے وہ اپنے آپ سے مخاطب ہوا ۔ لیکن کتاب کی زبان اور لکھائی اُس کی سمجھ سے بالاتر تھی۔ وہ کتاب اُٹھا کر اپنے تیونسی عرب دوست کے پاس گیا اور اُسے کہا ”مجھے یہ 2 صفحے پڑھ کر سناؤ“۔ پھر مطلب پوچھا اور اپنے مسئلے کا اپنے تئیں حل نکالا۔ واپس جانے سے پہلے اُس نے اپنے دوست سے پوچھا ”یہ کیسی کتاب ہے ؟”
تیونسی نے کہا ” یہ ہم مسلمانوں کی کتاب قرآن ہے“۔
جاد نے پوچھا ”مسلمان کیسے بنتے ہیں ؟“
تیونسی نے کہا ”کلمہ شہادت پڑھتے ہیں اور پھر شریعت پر عمل کرتے ہیں“۔
جاد نے کہا ” تو پھر سُن لو میں کہہ رہا ہوں

أَشْهَدُ أَنّ لَّا إِلَٰهَ إِلَّإ الله و أَشْهَدُ اَنَّ محمد رسول الله“۔

جاد مسلمان ہو گیا اور اپنے لئے ”جاد اللہ القرآنی“ کا نام پسند کیا۔ نام کا اختیار اس کی قرآن سے والہانہ محبت کا کھُلا ثبوت تھا۔ جاد اللہ نے قرآن کی تعلیم حاصل کی ۔ دین کو سمجھا اور دین کی تبلیغ شروع کی ۔ یورپ میں اس کے ہاتھ پر 6 ہزار سے زیادہ لوگوں نے اسلام قبل کیا۔ ایک دن پرانے کاغذات دیکھتے ہوئے جاد اللہ کو انکل ابراہیم کے دیئے ہوئے قرآن میں دنیا کا ایک نقشہ نظر آیا جس میں براعظم افریقہ کے اردگرد لکیر کھینچی ہوئی تھی اور انکل کے دستخط تھے۔ ساتھ میں انکل کے ہاتھ سے ہی یہ آیت کریمہ لکھی ہوئی تھی

ادع إلى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة

اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ

جاد اللہ کو ایسا لگا جیسے یہ انکل کی اسی کیلئے وصیت ہو۔ جاد اللہ نے اس وصیت پر عمل کرنے کی ٹھانی اور یورپ کو خیرباد کہہ کر کینیا ۔ سوڈان ۔ یوگنڈہ اور اس کے آس پاس کے ممالک کو اپنا مسکن بنایا ۔ دعوتِ حق کیلئے ہر مشکل اور پُرخطر راستے پر چلنے سے نہ ہچکچایا اور الله تعالٰی نے اس کے ہاتھوں 60 لاکھ انسانوں کو دین اسلام کی روشنی سے نوازا ۔ جاد اللہ نے افریقہ کے کٹھن ماحول میں اپنی زندگی کے 30 سال گزار دیئے۔ 2003ء میں افریقہ میں پائی جانے والی بیماریوں میں گھِر کر 54 سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی کو جا ملا

جاد اللہ کی محنت کے ثمرات اس کی وفات کے بعد بھی جاری رہے۔ وفات کے ٹھیک 2 سال بعد اس کی ماں نے 70 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا ۔ جاد اللہ اکثر یاد کیا کرتا تھا کہ انکل ابراہیم نے اس کے 17 سالوں میں کبھی بھی اسے غیر مسلم محسوس نہیں ہونے دیا اور نہ ہی کبھی کہا کہ اسلام قبول کر لو مگر اس کا رویہ ایسا تھا کہ جاد کا اسلام قبول کئے بغیر چارہ نہ تھا

آپ کے سامنے اس واقعے کے بیان کرنے کا فقط اتنا مقصد ہے کہ کیا مجھ سمیت ہم میں سے کسی مسلمان کا اخلاق و عادات و اطوار و کردار ”انکل ابراہیم“ جیسا ہے کہ کوئی غیر مسلم ”جاد“ ہم سے متاثر ہو کر ”جاداللہ القرآنی“ بن کر ہمارے مذہب اسلام کی اس عمدہ طریقے سے خدمت کر سکے

الله تعالٰی مجھ گناہ گار سمیت سب مسلمانان عالم پر رحم فرمائے اور عین صراط مستقیم پر چلنے کی کامل توفیق عطا فرمائے

غیر کا مال اور رشوت

72 بار دیکھا گیا

سورة 2 البَقَرَة آیت 188
وَلَا تَاۡكُلُوۡٓا اَمۡوَالَـكُمۡ بَيۡنَكُمۡ بِالۡبَاطِلِ وَتُدۡلُوۡا بِهَآ اِلَى الۡحُـکَّامِ لِتَاۡکُلُوۡا فَرِيۡقًا مِّنۡ اَمۡوَالِ النَّاسِ بِالۡاِثۡمِ وَاَنۡـتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ

اور تم لوگ نہ تو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناروا طریقہ سے کھاؤ اور نہ حاکموں کے آگے ان کو اس غرض کے لیے پیش کرو کہ تمہیں دوسروں کے مال کا کوئی حصہ قصداً ظالمانہ طریقے سے کھانے کا موقع مل جائے ‏

مخدوش معیشت اور خود غرض حکمران ۔ صرف ایک مثال

117 بار دیکھا گیا

کسٹمز حکام چھاپوں میں دو درجن سے زائد قیمتی گاڑیاں ساتھ لے گئے جو راولپنڈی میں سیف الرحمٰن کی ملکیت REDCO Textile Mills کے احاطے میں پارک تھیں۔ یہ گاڑیاں قطری شہزادے حماد الثانی اور ان کے خاندان کی ملکیت تھیں ۔ حُکام نے یہ جانتے ہوئے کہ شہزادے نے کوئی قانون نہیں توڑا اُس کی ملکیت پر چھاپہ مار کر اسے ٹارگٹ کیا ۔ قطری شہزادے کے قریبی ذریعے نے بتایا کہ پاکستانی حکام کے ایکشن سے یہ خبر شہ سرخیوں میں آئی جو انتہائی بدقسمی ہے ۔
مُلک میں مسلسل Political witch hunting کا قطری شہزادہ بھی نشانہ بنا ۔ کسٹمز حکام کی غیر قانونی کاروائی کی وجہ سے قطری شہزادہ پاکستان سے اپنی سرمایہ کاری واپس نکالنے کےبارے میں سوچ رہا ہے۔
یہ ثابت ہو چکا ہے کہ قطری شہزادے نے تمام رولز پر عمل کیا تھا اور پاکستان میں سالانہ hunting season کیلئے یہ گاڑیاں امپورٹ کی تھیں ۔ یہ گاڑیاں ڈیوٹی سے مستثنٰی تھیں کیونکہ حکومت پاکستان SRO کے تحت یہ سہولت فراہم کرتی ہے ۔ بہت سے سعودیوں اور کویتیوں کی طرح جنہوں نے اپنی گاڑیاں clearance کے بعد پاکستان میں پارک کر رکھی ہیں پرنس حماد بن جاسم الثانی نے بھی یہ گاڑیاں پارک کر رکھی تھیں

پرنس حماد بن جاسم الثانی جو قطر کے سابق وزیراعظم اور اہم Regional player ہیں پاکستان کے دوست ہیں ۔ وہ کراچی پورٹ قاسم پاور پروجیکٹ کیلئے ڈھائی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان لائے ۔ انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی درخواست پر پاکستان میں پاور پلانٹ لگایا جو 3 سال میں بنا اور اب بجلی پیدا کر رہا ہے ۔ انہوں نے آئل ریفائنری ۔ گیس پائپ لائن اور ایک اور پاور پروجیکٹ میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کیلئے MOU پر دستخط کئے

سیف الرحمٰن سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ ان کی فیکٹری پر چھاپہ مارا گیا اور حکام نے وہاں سے گاڑیاں قبضے میں لیں۔ انہوں نے کہا کہ منسٹری آف فارن افیئرز نے ان کاروں کی اپروول جاری کی تھی اور یہ کاریں میری پراپرٹی میں اس لئے پارک تھیں کہ یہاں جگہ دستیاب تھی۔ میرے منیجر نے حکام کو بتایا کہ اس کے پاس ان گاڑیوں کی چابیاں نہیں ہیں کیونکہ ان کی چابیاں قطری سفارت خانے کے پاس ہیں لیکن وہ ان گاڑیوں کو ٹو کر کے وہاں سے لے گئے اور انتظار نہیں کیا۔ یہ کاریں سال میں صرف ایک مرتبہ شکار کیلئے استعمال ہوتی ہیں۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ حکام نے میرے منیجر کو گرفتار کرلیا اور ان کی بات سنے بغیر اپنے ساتھ لے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھیانک تجربہ تھا۔ سابق سینیٹرنے کہا کہ میرے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے جو سیاسی انتقام کے سوا کچھ نہیں ہے اور یہ صورت حال حکومت کی موجودہ پریشانی کو ظاہر کرتی ہے۔ جو یہ نہیں جانتی کہ کیا کرنا ہے اور کیسے آگے بڑھنا ہے۔ انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ اپنے پاگل پن کے اقدامات کے ذریعے دنیا بھر میں پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں کلِک کیجئے

ہمارے پسندیدہ وزیر اعظم

156 بار دیکھا گیا

پاکستانی معیارات پر انیل مسرت سے زیادہ توجہ طلب آدمی کوئی اور نہیں ہوسکتا ۔ وہ برطانیہ کے 500 امیر ترین لوگوں میں سے ایک ہیں۔ ان کی تصاویر پاکستانیوں کے ساتھ کم اور ہندوستانیوں کے ساتھ زیادہ ہیں اور نہ جانے کیوں جب بھی ان کی تصویر دیکھتا ہوں تو مجھے منصور اعجاز یادآجاتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان پر جن لوگوں نے ماضی میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کی ہے، ان میں یہ صاحب سرفہرست ہیں ۔ وہ برطانیہ میں گھر بنانے کا کاروبار کرتے ہیں اور بنیادی طور پر ہزاروں گھر بنانے کا منصوبہ ان کے مشورے پر ہی شروع کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نامزد ہونے کے بعد عمران خان صاحب کے ساتھ یہی انیل مسرت تھے جو سرکاری میٹنگوں تک میں بٹھائے گئے ۔ سوچتا ہوں انیل مسرت جیسا شخص آصف علی زرداری یا میاں نوازشریف کے چہیتے ہوتے اور وہ اس برطانوی شہری کو اسی طرح سرکاری میٹنگوں میں شریک کرواتے تو نہ جانے اب تک پاکستان میں کیا قیامت برپا ہوچکی ہوتی ۔ اب تک غداری کے کتنے فتوے لگ چکے ہوتے اور فرمائشی ٹاک شوز میں محب وطن اینکرز اور تجزیہ نگار ان دونوں کو غدار ثابت کرنے کے لئے اب تک کیا کچھ کر چکے ہوتے لیکن عمران خان کے بارے میں ایسا کچھ نہیں ہورہا ہے اور نہ ہوگا ۔ ظاہر ہے ہمارے پسندیدہ وزیراعظم جو ہیں
زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالنا تھا تو خود عمران خان، ایک ٹی وی ٹاک شو میں فرمانے لگے کہ وہ برطانیہ کے شہری ہیں اور وہیں کاروبار کرتے ہیں ، ان سے پاکستان کا یا پاکستان کے نیب کا کیا لینا دینا ۔لیکن پھرچشم فلک نے یہ نظارہ دیکھا کہ خاتون اول کو وزیراعظم کی حلف برداری میں بنی گالہ سے وزیراعظم ہاؤس لانے کی ذمہ داری اس برطانوی شہری (بقول وزیراعظم) کو تفویض کی گئی ۔ اور تو اور اب اس زلفی بخاری کو وزیرمملکت بنا دیا گیا اور بیرون ملک پاکستانیوں کے امور یہ برطانوی شہری نمٹائیں گے جنہیں برطانیہ میں عمران خان نیازی کی مہمان نوازی کے سوا نہ سیاست کا کوئی تجربہ ہے اورنہ سفارت کا ۔ حیران ہوں اس غلطی کا ارتکاب آصف علی زرداری یا میاں نوازشریف کرچکے ہوتے اور نیب کو مطلوب اس برطانوی شہری کو وزیرمملکت بنانے کی غلطی ان سے سرزد ہوچکی ہوتی تو کب سے ان کی حب الوطنی پر سوال اٹھ چکے ہوتے اور نہ جانے عدالتوں کو کتنے جواب دینے پڑتے لیکن عمران خان کی حب الوطنی پر کوئی حرف آیا ہے اور نہ آئے گا۔ ظاہر ہے ایسے ویسے نہیں بلکہ ہمارے پسندیدہ وزیراعظم جو ہیں
چین کے ساتھ پاکستان کا تعلق صرف تزویراتی اور اقتصادی نہیں بلکہ قومی سلامتی کے محافظین نے اس کو ایک تقدس بھی عطا کردیا ہے ۔ پاکستان میں چین کے ساتھ تعلقات یا لین دین کا تنقیدی جائزہ بھی اس خوف سے نہیں لیاجاسکتا کہ کہیں حب الوطنی مشکوک نہ ہوجائے ۔ سی پیک کے بعد تو چین کے دشمن پاکستان کے بھی دشمن بن گئے ہیں ، اس لئے چین کے حوالے سے کسی بھی طرح کا تنازع کھڑا کرنا قومی مفاد کے خلاف سنگین قدم تصور کیا جاتا ہے ۔ سی پیک کے سودوں اور منصوبوں کے حوالے سے اے این پی اور بی این پی تو کیا پی پی پی کو بھی شدید تحفظات تھے لیکن ہر کوئی اس خوف سے ایک خاص حد سے آگے نہ جا سکا کہ کہیں ملکی مفاد کے منافی کام کرنے کا الزام نہ لگ جائے
تاہم عمران خان نے وزیراعظم بنتے ہی چینیوں کی درخواستوں کے باوجو د وفاقی کابینہ کی سطح پر سی پیک کے منصوبوں کو رِی اَوپن کرنے کا فیصلہ کیا اور پھر اس پر بھی اکتفا نہ کیا بلکہ اس فیصلے کی میڈیا میں بھی تشہیر کی گئی ۔ چینی وزیرخارجہ اس معاملے پر اپنی تشویش سے آگاہ کرنے کے لئے پاکستان آئے تو خلاف روایت ان کا استقبال ائیرپورٹ پر وزارت خارجہ کے پروٹوکول آفیسر سے کروایا گیا حالانکہ انہی دنوں میں جب سعودی وزیر اطلاعات پاکستان آرہے تھے تو وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے ہوائی اڈے پر ان کا استقبال کیا اور پھر وہیں سے ان کو رخصت کیا ۔ ابھی چینی وزیرخارجہ اپنے ملک واپس نہیں پہنچے تھے کہ عمران کابینہ کے ایک اہم رکن عبدالرزاق داؤد نے مغربی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے سی پیک پر ایک سال تک کام رکوانے کا شوشہ چھوڑ دیا ۔ چنانچہ چینیوں کی تشویش اور بے چینی اس قدر بڑھ گئی کہ اس کو دور کرنے کے لئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو خود چین کا دورہ کرنا پڑا جہاں ان کو چینی صدر نے بھی اپنا مہمان بنایا ۔حالانکہ عمران خان کے وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد ہمارے سفارتخانے نے پوری کوشش کی تھی کہ چینی صدر ان کو مبارکباد کا فون کرے لیکن ان کی بجائے صرف چینی وزیراعظم کے فون پر اکتفا کیا گیا۔ گویا اب چینیوں کا سارا تکیہ صرف اور صرف پاکستانی فوج پر ہے ۔چینی دوستوں اور سی پیک کے ساتھ یہ واردات اگر آصف علی زرداری یا میاں نوازشریف کرچکے ہوتے تو نہ جانے کب سے امریکی ایجنٹ ڈکلیئر ہوچکے ہوتے اور شاید ان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کا بھی آغاز ہوچکا ہوتا لیکن عمران خان پاک چین تعلقات اور سی پیک کے ساتھ اس سے بھی بڑا کھلواڑ کردیں، انہیں کوئی امریکی ایجنٹ نہیں کہے گا ۔ ظاہر ہے وہ ہمارے پسندیدہ وزیراعظم جو ہیں
ان کی ٹیم کے ایک اہم رکن انتخابی مہم کے دوران امریکہ کے خفیہ دورے پر گئے اور امریکی حکام سے ملاقاتیں کرکے تسلیاں دیں کہ ان کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا لیکن اس کا برا منایا گیا اور نہ چین کے ساتھ حالیہ سلوک کو امریکہ کے ساتھ کسی خفیہ گٹھ جوڑ سے جوڑ ا جائے گا ۔ ظاہر ہے وہ آصف علی زرداری ہیں اور نہ میاں نوازشریف بلکہ وہ لاڈلے وزیراعظم ہیں اور پاکستان میں لاڈلوں کو بہت کچھ کرنے کی اجازت ہوتی ہے
آصف علی زرداری پر بیرون ملک اثاثے رکھنے کا الزام ہے ۔ میاں نوازشریف کے صاحبزادے برطانیہ اور سعودی عرب میں کاروبار کررہے ہیں ۔ ان دونوں پر اس حوالے سے تنقید بالکل جائز تھی اور وہ اگر پاکستان میں سیاست کرتے ہیں تو دونوں سے یہ مطالبہ ہونا چاہیئے کہ وہ اپنے سرمائے اور اولاد کو پاکستان منتقل کردیں ۔ اب ہمارے نئے وزیراعظم کی اولاد جناب گولڈ اسمتھ کے گھر میں مقیم ہے ۔ پہلے تو وہ چھوٹے تھے لیکن اب تو جوان ہوگئے ہیں اور ہم سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان کا مستقبل برطانیہ سے وابستہ ہے یا پھر پاکستان آکر اپنے والد کے سیاسی جانشین بنیں گے ۔ کل اگر کسی معاملے پر پاکستان اور برطانیہ کے مفادات باہم متصادم ہوں تو وہ وزیراعظم کیوں کر برطانیہ کے خلاف جاسکیں گے، جن کے بچے وہاں کے بااثر ترین خاندان کے افراد ہوں ۔ اس خاندان کے ساتھ یہ رشتہ کس قدر مضبوط ہے اس کا مظاہرہ ہم لندن کے مئیر کے انتخاب کے موقع پر دیکھ چکے ہیں جب ہمارے موجودہ وزیراعظم نے وہاں پاکستانی محمد صادق کے مقابلے میں زیک گولڈ اسمتھ کے لئے انتخابی مہم چلائی ۔ ذرا سوچئے اگر آصف علی زرداری یا میاں نوازشریف ، پاکستانی نژاد محمد صادق کے مقابلے میں زیک گولڈ اسمتھ کے لئے انتخابی مہم چلاچکے ہوتے یا پھر اگر ان دونوں کی اولاد وہاں پر ایک عیسائی گھرمیں مقیم ہوتی تو کب کا ہم انہیں ایجنٹ قرار دے چکے ہوتے لیکن عمران خان پر اس حوالے سے کوئی تنقید نہیں ہو رہی۔ ظاہر ہے پہلے ہمارے پسندیدہ لیڈر تھے اور اب پسندیدہ وزیراعظم ہیں
بے نظیر بھٹو کی ہندوستان میں دوستیاں تھیں اور نہ اس سے ان کو کوئی ہمدردی تھی ۔ وہ جو کچھ کررہی تھیں پاکستان کے مفاد میں کررہی تھیں لیکن ہم نے انہیں ہندوستانی ایجنٹ مشہور کروا دیا۔ سارک کانفرنس کے موقع پر صرف کشمیر ہاؤس کے بورڈ کو ہٹائے جانے کا اتنا بڑا قضیہ بنادیا گیا ۔ اسی طرح میاں نوازشریف کے لئے نواسی کی شادی میں نریندرا مودی کی آمد مصیبت بن گئی اور وہ مودی کے یار مشہور کردیئے گئے ۔ عمران خان نے اپنی حلف برداری کی تقریب میں کسی دوسرے اسلامی یا دوست ملک سے کسی کو مدعو نہیں کیا سوائے انڈین دوستوں کے ۔ اب بغیر کوئی رعایت حاصل کئے مودی کو مذاکرات کی دعوت دے دی اور خود ہی یواین جنرل اسمبلی کے موقع پر ہندوستانی وزیرخارجہ اور پاکستانی وزیر خارجہ کی ملاقات کی تجویز دے دی ۔ لیکن وہ پھر بھی غازی ، بہادر اور ہندوستان مخالف سمجھے جاتے ہیں ۔ ظاہر ہے وہ ایسے ویسے نہیں بلکہ ہمارے پسندیدہ وزیراعظم جو ہیں
دیکھتے ہیں ہمارے پسندیدہ ، کب تک ہمارے پسندیدہ رہتے ہیں ۔ ظاہر ہے ان کو ممکنہ حد تک ڈھیل دی جائے گی کیونکہ ان کی ناکامی صرف ان کی نہیں بلکہ ان کو لانے والوں کی بھی ناکامی سمجھی جائے گی ۔ ہماری تو دعا ہے کہ وہ پانچ سال تک پسندیدہ ہی رہیں اور کبھی بے نظیر بھٹو یا میاں نوازشریف نہ بنیں ۔اناڑی اور نام کے سہی لیکن بہرحال وزیراعظم تو ہیں
تحریر ۔ سلیم صافی

عوام کے نمائندے بمقابلہ عوام کے نوکر

156 بار دیکھا گیا

شہریوں پر گورنر ہاؤس کے دروازے کھلنے سے یہ راز بھی کھل گیا کہ ہم کس قماش و کلاس کے لوگ ہیں۔ غور کریں یہ کاہنے کاچھے نہیں، لاہور اور اہل لاہور جیسے اہم شہر اور شہریوں کی بات ہورہی ہے۔ ہم سیاستدانوں، سرکاری ملازموں کے تو بہت لتے لیتے ہیں۔ آج ذرا اپنے گریبان میں بھی جھانک لیں۔ سیر کیلئے آنے والی فیملیز نے جہاں تک بس چلا گورنر ہائوس ادھیڑ کر رکھ دیا۔ وہی کیا جیساکبھی زندہ دلان منگولیا کے تاتاریوں نے عروس البلاد بغداد کے ساتھ کیا تھا۔ کچے پھل کھونچ کھونچ اور نوچ نوچ کر پھل دار درخت ننگے اور گنجے کردیئے گئے۔ کچ پکی سبزیاں اکھاڑ لی گئیں۔ خوبصورت لان کبڈی کے میدان سے بدتر کردیا گیا۔ گھاس کے ساتھ گھمسان کا رن ڈال کر کشتوں کے پشتے لگا دیئے گئے۔ گھاس کی ہریالی اور کوملتا کو روند کر رکھ دیا گیا۔ بقول شخصے مال غنیمت کی طرح جس کے ہاتھ جو لگا وہ لے اڑا۔ تاریخی شہر لاہور کے تاریخی لوگوں نے دشت تو دشت، دریا بھی نہ چھوڑے اور وہ اس طرح کہ شہری جھیل کے پل پر چڑھ دوڑے جو بیچارہ اتنا بوجھ برداشت نہ کرسکا اور ٹوٹ گیا ۔ حیرت ہے کہ نسل در نسل میلوں ٹھیلوں کا وسیع تجربہ ہونے کے بعد بھی گورنر ہائوس کا میلہ نبھایا نہ گیا کہ میلوں کی بھی قسمیں ہوتی ہیں۔ ہر میلہ ہر کسی کیلئے نہیں ہوتا لیکن یہیں رک جاؤں تو بہتر ہے ورنہ بات بہت دورنکل جائے گی ۔ گورنر ہاؤس کی سیر کرنے والے جا چکے تھے لیکن ان کی نشانیاں دور دور تک بکھری ہوئی تھیں۔ جگہ جگہ پانی اور جوسز کی خالی بوتلیں اور ڈبے، استعمال شدہ ٹشو پیپرز کی پہاڑیاں، پھلوں کے چھلکے، برگرز، سینڈوچز کی پیکنگ، مختلف رنگوں اور اقسام کے شاپرز، سگریٹوں کے ٹوٹے اور خالی ڈبیاں گورنر ہائوس کا مذاق اڑا رہی تھیں۔

عمران خان کی شدید خواہش ہے کہ پولیس اور دیگر سول سروسز کو سیاسی مداخلت سے پاک، آزاد اور علیحدہ کر دیا جائے۔ مجھے یقین ہے یہ میچ بے حد دلچسپ اور یادگار ہوگا۔یہ ایک ایسا میچ ہوگا جس میں نہ ہار جیت ہوگی نہ یہ ڈرا ہوگا۔ سیاستدان عوام کے نمائندے۔ بیوروکریسی پبلک کی سرونٹ یعنی نوکر۔ ایک طرف عوام کے نمائندے ہوں گے تو دوسری طرف عوام کے نوکر
عوام درمیان میں ہوں گے تو اس بات کا اندازہ آپ خود لگا لیں کہ ان دو پاٹوں کے بیچ آنے والوں کا بنے گا کیا؟ اور اگر دونوں پاٹ یعنی چکی خالی چلائی گئی تو چکی کا کیا حشرہوگا؟
بشکریہ ۔ جنگ اخبار