Category Archives: معاشرہ

تعلیم بے کار اگر یقین نہ ہو

ہمارے بچپن کے زمانہ میں تعلیم سے زیادہ تربیت پر زور دیا جاتا تھا ۔ والدین اپنی اولاد کو تعلیم نہ دِلوا سکیں لیکن اُن کی تربیت پر توجہ دیتے تھے ۔ جب بھی تعلیم کا ذکر کیا جاتا تو ساتھ تربیت بھی کہا جاتا تھا یعنی تعلیم و تربیت ۔ تعلیم الله کی صفات بتاتی ہے اور تربیت الله میں یقین ہیدا کرتی ہے ۔ فی زمانہ تعلیم پر بہت زور ہے اور تربیت کی طرف بہت کم لوگ توجہ دیتے ہیں

میں نے کالج کے زمانہ میں ایک کہانی پڑھی تھی کہ ایک دیہاتی روزانہ فجر کے وقت گاؤں سے روانہ ہو کر شہر جاتا اور واپس مغرب کے وقت پہنچتا ۔ راستہ میں ایک ندی تھی جس کے پانی میں سے وہ گزر کر جاتا تھا ۔ کبھی ندی میں پانی زیادہ ہوتا تو وہ شہر نہ جا سکتا ۔ ندی سے پہلے راستہ میں گاؤں کی مسجد تھی ۔ فجر کے وقت جاتے ہوئے یا مغرب کے وقت واپسی پر امام مسجد سے آمنا سامنا ہو جاتا تو امام مسجد اُسے کہتے ” کبھی الله کے گھر بھی آ جایا کر ۔ یہاں سب کچھ ملتا ہے“۔

ایک صبح جب وہ جاتے ہوئے ندی کے کنارے پہنچا تو ندی چڑھی ہوئی تھی ۔ اُسے واپس آنا پڑا ۔ وہ سیدھا امام مسجد کے پاس گیا اور کہا ” مولوی صاحب آپ نے کہا تھا کہ سب کچھ ملتا ہے ۔ جب ندی میں پانی زیادہ ہوتا ہے تو میں شہر مزدوری کرنے نہیں جا سکتا ۔ میری پریشانی دُور ہو جائے تو میں روزانہ مسجد آیا کروں گا“۔
امام مسجد نے کہا ” بسمِ الله کہہ کر ندی میں کود جاؤ ۔ الله پار لگانے والا ہے“۔
اتفاق کی بات کہ اگلے روز پھر ندی میں طغیانی تھی ۔ اُس نے بِسۡمِ اللهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ پڑھا ۔ آنکھیں بند کر کے ندی میں کود گیا اور تیرتا ہوا دوسرے کنارے پر جا پہنچا ۔ دِل میں کہنے لگا کہ میں بیوقوف ہوں پہلے مولوی صاحب کے پاس نہ گیا ۔ وہ باقاعدگی سے فجر ۔ مغرب اور عشاء کی نمازیں گاؤں کی مسجد میں اور ظہر اور عصر کی شہر میں پڑھنے لگا

ایک دن وہ شہر سے واپس آ رہا تھا کہ گاؤں کے قریب امام مسجد سے ملاقات ہو گئی ۔ دونوں اکٹھے چلتے ندی کے کنارے پہنچے تو ندی چڑھی ہوئی دیکھ کر امام مسجد رُک گئے اور بولے اب کیا ہو گا ۔ گھر کیسے جائیں گے
وہ بولا ” مولوی صاحب ۔ آپ نے خود ہی تو مجھے طریقہ بتایا تھا ۔ اُس نے بِسۡمِ اللهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ پڑھا اور ندی میں کود گیا ۔ امام مسجد بھی مجبوراً بِسۡمِ اللهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ کہہ کر ندی میں کود گئے اور غوطے کھانے لگے ۔ مزدور نے امام مسجد کو غوطے کھاتے دیکھا تو اپنے کندھوں پر اُٹھا لیا اور ندی کے پار لے گیا ۔ کندھوں سے اُتار کر پوچھا ” مولوی صاحب کیا ہوا ؟“
امام مسجد جو شرمندہ تھے بولے ” بات یہ ہے کہ میرے پاس عِلم ہے ۔ میں معنی پر غور کرتا رہا ۔ تمہارے پاس عِلم نہیں مگر الله نے تُجھے یقین کی دولت سے مالا مال کیا ہے“۔

جب اللہ چاہے

یہ واقعہ ایک رسالے میں 2 دہائیاں قبل پڑھا تھا ۔ بطور سچا واقعہ لکھا تھا
رات کے ساڑھے 11 بجے تھے ۔ تیز طوفانی بارش تھی ایسے میں ایک شاہراہ کے کسی ویران حصّے میں ایک کار خراب ہوگئی ۔ اسے ایک ادھڑ عمر خاتون چلا رہی تھی جو اکیلی تھی ۔ وہ خاتون کار سے باہر نکل کر شاہراہ کے کنارے کھڑی ہوگئی تا کہ کسی گذرنے والی گاڑی سے مدد لے سکے ۔

اتفاق سے ایک البیلا جوان اپنی عمدہ نئی کار چلاتے جا رہا تھا کہ اس کی نظر اس بھیگی ہوئی خاتون پر پڑی ۔ نجانے وہ کیوں اپنی عادت کے خلاف رُک گیا اور تیز بارش اور گاڑی گندی ہونے کی پروا کئے بغیر باہر نکل کر خاتون کا بیگ اٹھایا اور خاتون کو اپنی کار میں بٹھا کر چل پڑا ۔ آبادی میں پہنچ کر اسے ٹیکسی پر بٹھا کر رخصت کیا ۔ خاتون بہت پریشان اور جلدی میں تھی ۔ اس جوان کا پتہ نوٹ کیا اور شکریہ کہہ کر رخصت ہوئی ۔

ہفتہ عشرہ بعد اس جوان کے گھر کی گھنٹی بجی ۔ باہر نکلا تو ایک کوریئر کا ٹرک کھڑا تھا اس میں سے ایک شخص نکلا اور کہا “جناب آپ کا ٹی وی “۔ جوان حیران ہو ہی رہا تھا کہ کوریئر والے نے اسے ایک خط دیا ۔ جلدی سے کھولا ۔ لکھا تھا ” میں آپ کی بہت مشکور ہوں ۔ آپ نے آدھی رات کے وقت شاہراہ پر میری مدد کی جس کے باعث میں اپنے قریب المرگ خاوند کے پاس اس کی زندگی میں پہنچ گئی اور اس کی آخری باتیں سن لیں ۔ میں آپ کی ہمیشہ مشکور رہوں گی ۔ اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے اور آپ دوسروں کی بے لوث خدمت کرتے رہیں ۔ آمین ۔ آپ کی ممنون ۔ بیگم ۔ ۔ ۔ “

ہم بھی ترقی یاقتہ ہو گئے

چھوڑ کر کتاب ہم نے Mobile Phone تھام لئے
گھٹتی رہی عمر ہماری اور ہم post کرتے رہے
بھیج کر ہم message خود کو دِیندار سمجھتے رہے
غافل رہے قرآن سے اور حدیث share کرتے رہے
آتی رہی پانچوں وقت مسجد سے اذان کی آواز
ہم Facebook پر شام و برما کے ظُلم share کرتے رہے

محبت کا صلہ

جب کسی سے آپ بے پناہ محبت کریں
ضروری نہیں کہ وہ آپ سے محبت کرنے لگے
محبت کے بدلے میں محبت کی امید نہ رکھیئے
اس کے دل میں محبت جاگنے کا انتظار کیجئے
اس کے دل میں نہ بھی جاگے تو کم از کم آپ کے دل میں تو پیدا ہوئی
اور یہی آپ کی محبت کا صلہ ہے

ملکوں اور اداروں میں جب کرپشن کا دور دورہ ہو اور سربراہ نااہل ہوں تو تباہی کس طرح آتی ہے

ایک دن حکمران محل میں بیٹھا تھا کہ محل کے باہر سیب فروش کو آواز لگاتے ہوئے سنا ”سیب لے لو ۔ سیب“۔
حاکم نے دیکھا کہ دیہاتی گدھے پر سیب لادے جارہا ہے۔ وزیر سے کہا ” خزانے سے 5 سونے کے سکےلو اور ایک سیب لاؤ“۔
”یہ 4 سونے کے سکے لیں اور ایک سیب لائیں“۔ وزیر نے خزانے سے 5 سکے نکالے اور اپنے معاون سے کہا
” سونے کے یہ 3 سکے لیں اور ایک سیب لائیں”۔ معاون وزیر نے محل کے منتظم کو بلایا اور کہا
منتظم نےچوکیداری منتظم کو بلایا اور کہا ” یہ 2 سونے کے سکے لیں اور ایک سیب لائیں“۔
چوکیداری کے منتظم نے گیٹ سپاہی کو بلایا اور کہا ” یہ ایک سونے کا سکہ لو اور ایک سیب لاؤ“۔

سپاہی سیب والے کے پیچھے گیا اور اسے گریبان سے پکڑ کر کہا ”دیہاتی انسان ۔ تم اتنا شور کیوں کر رہے ہو؟ تمہیں نہیں معلوم کہ یہ بادشاہ کا محل ہے اور تم نے دل دہلا دینے والی آوازوں سے بادشاہ کی نیند میں خلل ڈالا ہے۔ اب مجھے حکم ہے کہ تجھ کو قید کر دوں“۔
سیب فروش محل کے سپاہی کے قدموں میں گر گیا اور کہا ” میں نے غلطی کی جناب ۔ اس گدھے کا بوجھ میری محنت کے ایک سال کا نتیجہ ہے ۔ یہ لے لو لیکن مجھے قید کرنے سے معاف رکھو“۔
سپاہی نے سیب لئے اور آدھے اپنے پاس رکھے اور باقی اپنے منتظم افسر کو دے دیئے۔ منتظم افسر نے بقیہ میں سے آدھے رکھے اور آدھے اُوپر کے افسر کو دے دیئے
افسر نے ان سیبوں کا آدھا حصہ محل کےمنتظم کو دیا
محل کے منتظم نے باقی باقیہ سیبوں کے آدھے سیب اپنے لئے رکھے اور آدھے اسسٹنٹ وزیر کو دیئے
اسسٹنٹ وزیر نے اُن مین سے آدھے سیب اٹھائے اور وزیر کے پاس جا کر کہا ” ان سیبوں کی قیمت 4 سونے کے سکے ہیں“۔
وزیر نے اُن میں سے آدھے سیب اپنے لئے رکھے اور اس طرح صرف پانچ سیب لے کر حکمران کے پاس گیا اور کہا ” یہ 5 سیب ہیں جن کی مالیت 5 سونے کے سکے ہیں“۔

حاکم نے سوچا کہ اس کے دور حکومت میں لوگ واقعی امیر اور خوشحال ہیں
کسان نے 5 سیب 5 سونے کے سکوں کے عوض فروخت کئے
یعنی ایک سونے کے سکے کا ایک سیب اور لوگ ایک سونے کے سکے کے عوض ایک سیب خریدتے ہیں
یعنی وہ امیر ہیں
اس لئے بہتر ہے کہ ٹیکس میں اضافہ کیا جائے اور محل کے خزانے کو بھر دیا جائے
نتیجہ یہ ہوا کہ عوام میں غربت اور بڑھ گئی

(فارسی ادب سے ماخوذ)

دنیا اور آخرت ۔ دونوں ہی جنّت

اگر ہم اپنے چھوٹے چھوٹے دکھ بھلا دیں
اور اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیاں یاد رکھیں
اگر ہم اپنے چھوٹے چھوٹے نقصان بھلا دیں
اور جو فائدے پائے ان سب کو یاد رکھیں
اگر ہم لوگوں میں عیب ڈھونڈنا چھوڑ دیں
اور ان میں خوبیاں تلاش کر کے یاد رکھیں
کتنی آرام دہ ۔ خوش کن اور اطمینان بخش
یہ دنیا بن جائے اس معمولی کوشش سے
اور الله کی مہربانی سے آخرت میں بھی جنّت مل جائے