Category Archives: معاشرہ

اُٹھ پاکستانی اپنا آپ پہچان

میں نے اپنا یہ خیال 21 جون 2007ء کو شائع کیا تھا ۔ سوچا کہ اس کی اب اس کی ضرورت اُس وقت سے بھی زیادہ ہے چنانچہ دوبارہ پیشِ خدمت ہے
اُٹھ پاکستانی اپنا آپ پہچان
تیرا سجّن یورپ نہ امریکہ
تیرا ساتھی چین نہ جاپان
اُٹھ پاکستانی اپنا آپ پہچان

نہ کر بھروسہ غیروں کی مدد پر
اپنی زمیں ا ور اپنوں پر نظر کر
اور رکھ اپنی طاقت پر ایمان
اُٹھ پاکستانی اپنا آپ پہچان

دساور کا مال جو کھائے
ہڈ حرام وہ ہوتا جائے
بھر اپنے کھیتوں سے کھلیان
اُٹھ پاکستانی اپنا آپ پہچان

دشمن کہہ کر نہ گِراتا جا
اپنوں کی لاشیں جا بجا
اپنے خون کی کر پہچان
اُٹھ پاکستانی اپنا آپ پہچان

کرے جو تو محنت مزدوری
دال روٹی بن جائے حلوہ پوری
حق حلال کی اب تو ٹھان
اُٹھ پاکستانی اپنا آپ پہچان

فرق صرف سوچ کا ہے

ہر شخص کی 10 فیصد زندگی حقیقی ہوتی ہے ۔ 90 فیصد اُس کی سوچ ہوتی ہے یعنی بجائے اِس کے کہ کہنے والے کی بات کو صاف ذہن کے ساتھ سُنا جائے اگر ذہن میں ہے کہ دوسرا آدمی یہ چاہتا ہے اور وہ بات جو بھی کر رہا ہے اُس کا مطلب یہ ہے تو نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو بات سُننے والا اپنی سوچ کے مطابق سمجھ لیتا ہے وہ کہنے والے نے کہی ہی نہیں ہوتی اور نہ کہنے والے کے وہم و گمان میں ہوتی ہے

چنانچہ اگر سوچ 100 فیصد مَثبَت ہو تو زندگی 100 فیصد حقیقی ہوتی ہے اور دُنیا حسین لگتی ہے بصورتِ دیگر دوسروں میں عیب نظر آتے ہیں اور یہ عیب اپنی سوچ کی وجہ سے ہمیشہ قائم رہتے ہیں
اب سُنیئے ایک شخص کا واقعہ جس نے اُس کی زندگی کو خوشگوار بنا دیا
میں ایک دن گھر سےکسی کام کیلئے نکلا ۔ ٹیکسی لی اور منزلِ مقصود کی طرف چل پڑا ۔ ٹیکسی شاہراہ کے بائیں حصے پر دوڑتی جا رہی تھی کہ بائیں طرف سے شاہراہ میں شامل ہونے والی ایک پَتلی سڑک سے ایک گاڑی بغیر رُکے اچانک ٹیکسی کے سامنے آ گئی ۔ ٹیکسی ڈرائیور نے پوری قوت سے بریک دباتے ہوئے ٹیکسی کو داہنی طرف گھمایا اور ہم بال بال بچ گئے گو میرا کلیجہ منہ کو آ گیا تھا
بجائے اس کے کہ دوسری گاڑی کا ڈرائیور اپنی غلطی کی معافی مانگتا ۔ کھُلے شیشے سے سر باہر نکال کر ہمیں کوسنے لگا ۔ میرا خیال تھا کہ ٹیکسی ڈرائیور اُسے تُرکی بہ تُرکی جواب دے گا لیکن اس نے مُسکرا کر بڑے دوستانہ طریقہ سے ہاتھ ہلایا

میں نے ٹیکسی ڈرائیور سے کہا ” اُس نے تو تمہاری ٹیکسی کو تباہ کرنے اور ہم دونوں کو ہسپتال بھیجنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی اور تم نے مُسکرا کر اُسے الوداع کہا “۔
ٹیکسی ڈرائیور کہنے لگا “کچھ لوگ محرومیوں یا ناکامیوں یا کُوڑ مغز ہونے کی وجہ سے بھرے ہوئے کُوڑے کے ٹرک کی طرح ہوتے ہیں ۔ جب اُن کے دماغ میں بہت زیادہ کُوڑا اکٹھا ہو جاتا ہے تو جہاں سے گذرتے ہیں گندگی بکھیرتے جاتے ہیں ۔ اور بعض اوقات اچھے بھلے لوگوں پر بھی یہ گندگی ڈال دیتے ہیں ۔ ایسا ہونے کی صورت میں ناراض ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ اپنے اُوپر بُرا اثر لئے بغیر گذر جانا چاہیئے ۔ ورنہ آپ بھی اُس سے لی ہوئی گندگی اپنے ساتھیوں پر اُنڈیلنے لگیں گے“۔

میں نے اُس دن سے ایسے لوگوں کے بے جا سلُوک پر کُڑھنا چھوڑ دیا ہے اور میرے دن اب بہتر گذرتے ہیں ۔ یہ مجھ پر اُس ٹیکسی ڈرائیور کا احسان ہے

فرق صرف سوچ کا ہے

ہر شخص کی 10 فیصد زندگی حقیقی ہوتی ہے ۔ 90 فیصد اُس کی سوچ ہوتی ہے یعنی بجائے اِس کے کہ کہنے والے کی بات کو صاف ذہن کے ساتھ سُنا جائے اگر ذہن میں ہے کہ دوسرا آدمی یہ چاہتا ہے اور وہ بات جو بھی کر رہا ہے اُس کا مطلب یہ ہے تو نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو بات سُننے والا اپنی سوچ کے مطابق سمجھ لیتا ہے وہ کہنے والے نے کہی ہی نہیں ہوتی اور نہ کہنے والے کے وہم و گمان میں ہوتی ہے
چنانچہ اگر سوچ 100 فیصد مَثبَت ہو تو زندگی 100 فیصد حقیقی ہوتی ہے اور دُنیا حسین لگتی ہے بصورتِ دیگر دوسروں میں عیب نظر آتے ہیں اور یہ عیب اپنی سوچ کی وجہ سے ہمیشہ قائم رہتے ہیں
اب سُنیئے ایک شخص کا واقعہ جس نے اُس کی زندگی کو خوشگوار بنا دیا
میں ایک دن گھر سےکسی کام کیلئے نکلا ۔ ٹیکسی لی اور منزلِ مقصود کی طرف چل پڑا ۔ ٹیکسی شاہراہ کے بائیں حصے پر دوڑتی جا رہی تھی کہ بائیں طرف سے شاہراہ میں شامل ہونے والی ایک پَتلی سڑک سے ایک گاڑی بغیر رُکے اچانک ٹیکسی کے سامنے آ گئی ۔ ٹیکسی ڈرائیور نے پوری قوت سے بریک دباتے ہوئے ٹیکسی کو داہنی طرف گھمایا اور ہم بال بال بچ گئے گو میرا کلیجہ منہ کو آ گیا تھا
بجائے اس کے کہ دوسری گاڑی کا ڈرائیور اپنی غلطی کی معافی مانگتا ۔ کھُلے شیشے سے سر باہر نکال کر ہمیں کوسنے لگا ۔ میرا خیال تھا کہ ٹیکسی ڈرائیور اُسے تُرکی بہ تُرکی جواب دے گا لیکن اس نے مُسکرا کر بڑے دوستانہ طریقہ سے ہاتھ ہلایا
میں نے ٹیکسی ڈرائیور سے کہا ” اُس نے تو تمہاری ٹیکسی کو تباہ کرنے اور ہم دونوں کو ہسپتال بھیجنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی اور تم نے مُسکرا کر اُسے الوداع کہا “۔
ٹیکسی ڈرائیور کہنے لگا “کچھ لوگ محرومیوں یا ناکامیوں یا کُوڑ مغز ہونے کی وجہ سے بھرے ہوئے کُوڑے کے ٹرک کی طرح ہوتے ہیں ۔ جب اُن کے دماغ میں بہت زیادہ کُوڑا اکٹھا ہو جاتا ہے تو جہاں سے گذرتے ہیں گندگی بکھیرتے جاتے ہیں ۔ اور بعض اوقات اچھے بھلے لوگوں پر بھی یہ گندگی ڈال دیتے ہیں ۔ ایسا ہونے کی صورت میں ناراض ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ اپنے اُوپر بُرا اثر لئے بغیر گذر جانا چاہیئے ۔ ورنہ آپ بھی اُس سے لی ہوئی گندگی اپنے ساتھیوں پر اُنڈیلنے لگیں گے“۔
میں نے اُس دن سے ایسے لوگوں کے بے جا سلُوک پر کُڑھنا چھوڑ دیا ہے اور میرے دن اب بہتر گذرتے ہیں ۔ یہ مجھ پر اُس ٹیکسی ڈرائیور کا احسان ہے

رِشتہءِ ازدواج

اُن دنوں ميں پرنسِپل ٹيکنيکل ٹريننگ انسٹيٹيوٹ تھا ۔ چند رحمدل حضرات ميرے پاس تشريف لائے اور فرمائش کی کہ معاشرہ کی صورتِ حال کے پيشِ نظر ميں تعليم يافتہ خواتين و حضرات کی مجلس ميں میاں اور بیوی کے رشتہ بارے تقرير کروں ۔ مجلس ميں نہ صرف نوجوان يا ميرے ہم عمر بلکہ مجھ سے کافی بڑی عمر کے خواتين و حضرات شامل تھے ۔ ميری 5 مارچ 1984ء کی تقرير کا متن

گراں قدر خواتين و حضرات ۔ السلام عليکم
خالقِ حقيقی نے اس کائنات کی تخليق کے بعد حضرتِ انسان کو پيدا کيا اور چرِند پرِند کو بھی ۔ اور سب کے جوڑے بنائے ۔ تا کہ انسان کو اس مُختصر زندگی ميں جس امتحان سے گذرنا ہے اس کی زندگی آسائش کے ساتھ بسر ہو ۔ رشتۂِ اِزدواج کو اگر موضوع بنايا جائے تو انسان ايک نہ ختم ہونے والی بحث ميں مُبتلا ہو سکتا ہے ۔ ليکن اس کو اگر صرف مياں بيوی کے تعلقات ميں محدود کر کے غور کيا جائے اور بيرونی اثرات يعنی عزيز و اقارب کے ساتھ تعلقات اور دوسری حاجات کو شامل نہ بھی کيا جائے تو ايک ايسا پہلو نکلتا ہے جس پر عام طور پر توجہ نہيں دی جاتی جس کے نتیجہ میں میاں بیوی کے مابین ناچاقی جنم لیتی ہے ۔ وہ ہے نفسياتی پہلو جو کہ مياں بيوی کے باہمی تعلقات کی جڑوں سے براہِ راست مُنسلِک ہے

عقدالنِّکاح ۔ جِسے عام طور پر شادی يا بياہ کہا جاتا ہے ۔ ايک پاکيزہ اور نہائت اہم رشتہ ہے جو غالباً نام کی تبديلی اور ہِندوانا رسم و رواج ميں گُم ہو کر رہ گيا ہے ۔ خاوند بيوی کا رشتہ دراصل باہمی اعتماد کا رشتہ ہے ۔ يہ ايک ايسا راستہ ہے جس پر دو جی مِل کر ايک نئی زندگی کا آغاز کرتے ہيں اور درحقيقت ساتھ ساتھ چلنے کا اقرار کرتے ہيں ۔ ايک گاڑی کے دو پہيّوں کی طرح ۔ ايک پہيّہ کمزور یا ناقص ہو جائے تو دوسرا گاڑی کو آگے نہيں بڑھا سکتا ۔ عقدالنّکاح خلوص اور پيار کا ايک وعدہ ہے جو مياں بيوی کو ساتھ ساتھ چلنے کيلئے ايک دِل ايک جان بنا ديتا ہے

نئی نويلی دُلہن جب اپنے خاوند کے گھر آتی ہے تازہ دودھ کی مانند ہے ۔ جس طرح خالص دودھ پر جراثيم حملہ کرتے ہيں نئی نويلی دُلہن پر وسوسے اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہيں ۔ دودھ کو آگ پر رکھا جائے تو دودھ کھولنے لگتا ہے اور حرارت زيادہ ملنے پر اُبل کر برتن سے باہر آگ پر گِر کر جلنے لگتا ہے ۔ خاوند کی عدم توجہی سے عورت بالخصوص نئی دُلہن عام طور پر شک و وہم ميں پڑ کر وسوسوں کا شکار ہو جاتی ہے ۔ وسوسے ايک ايسی خطرناک آگ ہے جو نظر نہيں آتی ليکن اس کی آنچ دل ميں اُبال پيدا کرتی ہے اور وہ اندر ہی اندر سے انسان کو جلا کر بھسم کر ديتی ہے ۔ خاوند کی عدم توجہی بعض اوقات غیر ارادی بھی ہوتی ہے ۔ کچھ عورتیں اردگرد کے ماحول کے سبب شک اور وہم سے گريز نہيں کر سکتی اور وہ وسوسوں کی آگ ميں جلتی رہتی ہیں ۔ ابتداء چاہے خاوند سے ہو یا بیوی سے يہ آگ پورے گھرانے کو اپنی لپيٹ ميں لے ليتی ہے

وسوسے صرف عورت ہی پيدا نہيں کرتی بلکہ بہت سے مرد بھی اس کا شکار ہوتے ہيں ۔ محبت بھرے افسانے تو بہت سُننے اور پڑھنے ميں آتے ہيں مگر گرہستی چلانے کيلئے عقل ۔ تحمل اور بُردباری کی ضرورت ہوتی ہے ۔ حقيقی دنيا ميں افسانوی کرداروں کيلئے کوئی جگہ نہيں ۔ الله نے عورت کو جذبات کا پُتلا بنایا ہے لیکن مرد کو اس پر حَکم اسلئے دیا ہے کہ مرد کا کام جذبات میں بہنے کی بجائے تحمل اور بُردباری سے چلنا ہے

عورت بيوی بننے سے پہلے کسی کی بيٹی ہوتی ہے ۔ اُس کا خاوند کا گھر بسانا ايک فطری عمل ہے ۔ يہ سلسلہ ازل سے چلتا آ رہا ہے ۔ شوہر کا گھر ہی عورت کا گھر کہلاتا ہے ۔ ليکن پھر بھی عورت جب ماں باپ کا گھر چھوڑ کر شوہر کے گھر پہنچتی ہے تو اُس کے دل ميں نفسياتی اور جذباتی خلاء پيدا ہوتا ہے ۔ يہ خلاء صرف اُس سے خاوند کی محبت اور مناسب توجہ سے پُر ہو سکتا ہے ۔ چنانچہ خاوند کيلئے يہ موزوں نہيں کہ بيوی کو غلام سمجھے بلکہ خاوند کو چاہيئے کہ بيوی کی عزت کو اپنی عزت سمجھے اور اسکی ضروريات اور خواہشات کا حتی المقدُور خيال رکھے ۔ بالکل اسی طرح بيوی کو بھی چاہيئے کہ اپنی خواہشات کو خاوند کے وسائل تک محدود رکھے اور خاوند کی عزت کو اپنی عزت سمجھے ۔ خاوند کے والدین اور بہن بھائیوں کا اسی طرح احترام کرے جیسے خاوند کرتا ہو اور دونوں میں سے کوئی حد سے تجاوز نہ کرے
ديکھا گيا ہے کہ کچھ مرد سارا سارا دن دوستوں کے ساتھ گھومتے اور قہقہے لگاتے رہتے ہيں ۔ کسی نے چوکڑی جما کر تاش کھيلتے آدھی رات گذار دی تو کوئی کلب ميں بيٹھ کر نان کباب تکّے اُڑاتا رہا ۔ اُن کو ذرّہ برابر خيال نہيں آتا کہ اپنے لاڈ اور پيار کرنے والے والدين کو چھوڑ کر آئی ہوئی کوئی خاتون اپنی محبتيں نچھاور کرنے کيلئے اُس کی انتظار ميں دروازے پہ نظريں لگائے بيٹھی ہے اور اُس نے کچھ کھايا پيا بھی ہے يا نہيں ۔ گھر پہنچے بيوی جلدی سے کھانا گرم کر کے لائی تو مياں صاحب ۔ ميں تھک گيا ہوں ۔ کہہ کر بستر پر دراز ہو گئے ۔ بيوی نے کہا کھانا تو کھا ليجئے ۔ جواب ملا ميں نے کھاليا تھا اور وہ بيچاری اپنے سينے پر بوجھ لئے بھوکی سو گئی ۔ اور کچھ ایسے بھی ہیں جو گھر میں ہوتے ہوئے بھی بھول جاتے ہیں کہ ان کی بیوی بھی ہے ۔ بے شک والدین اور بہن بھائیوں کی ضروریات کا خیال رکھنا بھی فرض ہے لیکن ایک بات جو عام طور پر بھُلا دی جاتی ہے یہ ہے کہ والدین اور بہن بھائیوں کا رشتہ ٹوٹ نہیں سکتا لیکن بیوی کا رشتہ کانچ سے زیادہ نازک ہوتا ہے
کئی گھرانوں ميں ديکھا گيا ہے کہ مرد دن بھر کا تھکا ہارا گھر لوٹا اور ابھی سانس بھی نہ لينے پايا کہ سوالات کی بوچھاڑ شروع ہو گئی ۔ اتنی دير کيوں لگا دی ؟ کہاں چلے گئے تھے ؟ کس کے پاس چلے گئے تھے ؟ يہ تو ہوئے بڑے گھرانوں کے سوال ليکن يہ مُصيبت چھوٹے گھرانوں ميں بھی موجود ہے صرف سوال بدل جاتے ہيں ۔ گھر ميں آٹا نہيں ہے ۔ دال نہيں ہے ۔ بچے کو بُخار ہے ۔ وغيرہ وغيرہ

ذرا سوچئے تو اگر بيوی روزانہ خاوند پر بندوق کی گوليوں کی طرح برستی رہے تو اس کا نتيجہ کيا ہو گا ؟ گھر گھر نہيں رہے گا ۔ جہنم بن جائے گا ۔ اس روزانہ کی يلغار سے مرد تنگ آ کر سکون کی تلاش ميں گھر سے باہر رہنے لگے گا جہاں وہ کئی قباحتوں کا شکار ہو سکتا ہے ۔ ليکن اس حقيقت کو جھٹلايا نہيں جا سکتا کہ مرد اپنا گھر اپنی بيوی کو چھوڑ کر کبھی سُکھی نہيں رہ سکتا ۔ دس جگہ دھکے کھا کر پھر وفادار جانور کی طرح گھر آ جائے گا ۔ اگر پھر بھی بيوی بلاجواز وسوسوں ميں پڑی رہے اور معاملہ فہمی نہ کرے تو ايک دن خاوند ايسا جائے گا کہ لوٹ کے واپس نہيں آئے گا ۔ اُس وقت اپنا سر پيٹنا اور بال نوچنا بيکار ہو گا

مياں بيوی ميں اگر کھچاؤ ہو تو اس کا اثر نہ صرف ان کے باہمی تعلقات پر پڑتا ہے بلکہ ان کی جسمانی اور دماغی صحت بھی متاءثر ہوتی ہے ۔ والدين ميں تناؤ بچوں کے ذہنوں پر بھی بُرا اثر ڈالتا ہے ۔ بسا اوقات والدين کی چپقلش اولاد کے اذہان کو اتنا مجروح کر ديتی ہے کہ وہ اطمينان کھو بيٹھتے ہيں اور اپنی قدرتی صلاحيّتوں سے پورا فائدہ اُٹھانے سے قاصر رہتے ہيں ۔ والدين کی پند و نصائح اُنہيں کھوکھلی محسوس ہونے لگتی ہيں ۔ چنانچہ مياں بيوی کو نہ صرف اپنی خاطر بلکہ اولاد کی خاطر بھی رواداری اور سوجھ بوجھ کی زندگی اختيار کرنا چاہيئے
کيوں نہ اپنے آپ کا استحصاب شروع ہی سے کيا جائے اور مياں بيوی ايک دوسرے کو مُوردِ الزام ٹھہرانے کی بجائے اپنی اپنی اصلاح کريں ۔ اپنے اندر برداشت اور رواداری پيدا کريں ۔ صبر اور بُردباری سے کام ليں ۔ ايک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کريں ۔ ايک دوسرے کے احساسات و جذبات کی قدر کريں ۔ مياں بيوی اگر ايک دوسرے کی بات کو خلوصِ نيّت سے سُنيں تو اُن کی زندگی بہت خوشگوار بن سکتی ہے

ہم الحمدلله مُسلمان ہيں اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہميشہ قرآن الحکيم سے رہنمائی حاصل کريں
سورت البقرہ کی آيت 263 ۔ ايک ميٹھا بول اور کسی ناگوار بات پر ذرا سی چشم پوشی اُس خيرات سے بہتر ہے جس کے پيچھے دُکھ ہو ۔ الله بے نياز ہے اور برد باری اُس کی صفت ہے ۔
سُورت فُصِّلَت يا حٰم السَّجْدَہ ۔ آيات 34 تا 36 ۔ اور نيکی اور بدی يکساں نہيں ہيں ۔ تم بدی کو اُس نيکی سے دور کرو جو بہترين ہو ۔ تم ديکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گيا ہے ۔ يہ صفت نصيب نہيں ہوتی مگر اُن لوگوں کو جو صبر کرتے ہيں ۔ اور يہ مقام حاصل نہيں ہوتا مگر اُن لوگوں کو جو بڑے نصيب والے ہوتے ہيں
سورت البقرہ ۔ آيت 228 آخری حصہ ۔ عورتوں کيلئے بھی معروف طريقے پر ويسے ہی حقوق ہيں جيسے مردوں کے حقوق اُن پر ہيں البتہ مردوں کو اُن پر ايک درجہ حاصل ہے
سُورت النِّسَآء ۔ آيت 34 ۔ مرد عورتوں پر قوّام ہيں ۔ اس بناء پر کہ الله نے ايک کو دوسرے پر فضيلت دی ہے اور اس بناء پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہيں ۔ پس جو عورتيں صالح ہيں وہ اطاعت شعار ہوتی ہيں اور مردوں کے پيچھے الله کی حفاظت اور نگرانی ميں اُن کے حقوق کی حفاظت کرتی ہيں

سُبحان الله ۔ کتنا بلند درجہ ہے درگذر کرنے والوں کا ۔ کتنے خوش نصيب ہيں وہ لوگ جو الله تعالٰی کے اس فرمان پر عمل کرنے کا شرف حاصل کرتے ہيں ۔ یہ بھی واضح ہوا کہ بیوی کے تمام اخراجات خاوند کے ذمہ ہیں ۔ انسان سے غَلَطی سر زد ہو سکتی ہے ۔ اس کا ازالہ يہی ہے کہ اگر ايک سے غَلَطی ہو جائے تو دوسرا درگذر کرے اور جس سے غَلَطی ہو اُس کا فرض ہے کہ وہ اپنی اصلاح کرے ۔ اگر صبر و تحمل کا دامن نہ چھوڑا جائے اور رواداری اور درگذر سے کام ليا جائے تو اوّل جھگڑے پيدا ہی نہيں ہوتے اور اگر کسی وقتی غَلَطی يا غَلَط فہمی کے باعث جھگڑا ہو بھی جائے تو احسن طريقہ سے مسئلہ حل کيا جا سکتا ہے ۔ اس طرح باہمی تعلقات خوشگوار ماحول ميں پرورش پاتے ہيں
وَما علَینا اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ‏

ہوسکے تو میرے لئے دعائے خیر کیجئے

دوسرے کا مذاق اُڑانا

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو بُرے القاب سے یاد کرو ۔ ایمان لانے کے بعد فِسق میں نام پیدا کرنا بہت بُری بات ہے ۔ جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہی ظالم ہیں
(سُوۡرَةُ 49 الحُجرَات آية 11)

آزادی مبارک

تمام ہموطنوں کو (دنیا میں جہاں کہیں بھی ہیں) آزادی کی سالگرہ مبارک my-id-pakاللہ ہمیں آزادی کے صحیح معنی سمجھنے اور اپنے مُلک کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

یہ وطن ہمارے بزرگوں نے حاصل کیا تھا کہ مسلمان اسلام کے اصولوں پر چلتے ہوئے مل جل کر اپنی حالت بہتر بنائیں ۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ ہم مسلمان ہیں یا نہیں البتہ پاکستانی نہیں بنے ۔ کوئی سندھی ہے کوئی پنجابی کوئی بلوچ کوئی پختون کوئی سرائیکی کوئی پاکستان میں پیدا ہو کر مہاجر ۔ کوئی سردار کوئی مَلک کوئی خان کوئی وڈیرہ کوئی پیر ۔ اس کے علاوہ مزید بے شمار ذاتوں اور برادریوں میں بٹے ہوئے ہیں

بڑے بڑے روشن خیال بھی پیدا ہو گئے ہیں جو قائد اعظم کی 11 اگست 1947ء کی تقریر کا صرف ایک فقرہ سیاق وسباق سے علیحدہ کر کے کہتے ہیں کہ قائد اعظم نے پاکستان کو ایک اسلامی نہیں سیکولر ریاست بنایا تھا ۔ ان روشن خیالوں سے کوئی پوچھے کہ کیا قائد اعظم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ان کی باقی ساری تقریریں اور اقوال بھول جائیں ؟ ایک نعرہ جو تحریک پاکستان کا لازمی جزو تھا ”پاکستان کا مطلب کیا ؟ لا الہ الا اللہ“۔ وہ بھی ان روشن خیالوں نے کہیں نہیں پڑھا ؟

قائداعظم 1942ء میں الہ آباد میں تھے تو وکلاء کے ایک وفد کی ملاقات کے دوران ایک وکیل نے پوچھا ”پاکستان کا دستور کیسا ہوگا اور کیا آپ پاکستان کا دستور بنائیں گے ؟“
قائداعظم نے جواب میں فرمایا ”پاکستان کا دستور بنانے والا میں کون ہوتا ہوں ۔ پاکستان کا دستور تو تیرہ سو برس پہلے بن گیا تھا“۔

قائداعظم کی 11 اگست 1947 کا خطاب بھی رسول اکرم صل اللہ علیہ و سلم کے خطبہ الوداع کے ان الفاظ کی غمازی کرتا محسوس ہوتا ہے ۔ تمام انسان آدم اور حوا سے ہیں ۔ کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی برتری حاصل نہیں اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر ۔ نہ کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی برتری حاصل ہے اور نہ کسی کالے کو کسی گورے پر ۔ سوائے اس کے کہ کوئی پرہیزگاری اور اچھے عمل کی وجہ سے بہتر ہو

توکّل ؟

ایک دیہاتی گاؤں سے روزانہ شہر مزدوری کرنے جاتا تھا ۔ وہ فجر کی اذان کے وقت گھر سے نکلتا اور عشاء کی اذان کے وقت واپس پہنچتا ۔ روزانہ 2 بار اُس کا گزر گاؤں کی مسجد کے پاس سے ہوتا ۔ اُس وقت امام مسجد وضو کر رہے ہوتے ۔ وہ مزدور سے کہتے ”روزانہ شہر جاتے ہو ۔ کبھی مسجد میں بھی آ جایا کرو“۔
وہ مزدور کہتا ” مولوی صاحب ۔ میری مُشکلات کا بھی کوئی حل ہے یہاں ؟“
امام مسجد کہتے ”ہاں تمام مُشکلوں کا حل یہاں ہے“۔
یہ سُن کر مزدور چلا جاتا
ایک دن مزدور جلدی واپس آ گیا اور سیدھا امام مسجد کے پاس جا کر کہنے لگا ” مولوی صاحب ۔ راستے میںجو برساتی نالہ آتا ہے میں اُس میں سے گزر کا جاتا ہوں ۔ آج اس میں طغیانی تھی تو مجھے پُل پر سے جانا پڑا ۔ پُل 6 میل دُور ہے اس طرح مجھے 12 میل فالتو چلنا پڑا ۔ شہر بہت دیر سے پہنچا ۔ مجھے مزدوری نہیں ملی ۔ میں اور میرے بیوی بچے بھوکے رہیں گے ۔ کوئی ایسا وظیفہ بتائیں کہ طغیانی ہو اور میں نالے میں سے گزر جاؤں“۔
امام صاحب نے کہا ” بس کلمہ شہادت پڑھو اور چھلانگ لگا دو“۔
یہ کلیہ درست ثابت ہوا اور مزدور نے نماز پڑھنا شروع کر دی
کچھ دن بعد مزدور شہر سے واپس آ رہا تھا تو راستے میں امام صاحب مل گئے ۔ دونوں جب نالے پر پہنچے اس میں طغیانی تھی
امام صاحب بولے ” اب کیا ہو گا“
مزدور نے کہا ” مولوی صاحب ۔ آپ نے خود ہی تو بتایا تھا“ اور کلمہ شہادت پڑھ کر پانی میں چھلانگ لگا دی ۔ امام صاحب نے بھی کلمہ شہادت پڑھا اور چھلانگ لگا دی ۔ مزدور نے دیکھا کہ امام صاحب غوطے کھانے لگے ہیں تو اُنہیں اپنے بائیں بازو میں سنبھالا اور تیرتا ہوا دوسرے کنارے پر پہنچ گیا
باہر نکل کر امام صاحب سے مخاطب ہوا ” مولوی صاحب ۔ کیا ہو ا ؟ کیا کلمہ غلط پڑھا تھا ؟“
امام صاحب جو شرمندہ تھے بولے ” بھائی ۔ تیرا توکّل الله پر درست ہے ۔ میں کلمہ کے معنی پر ہی غور کرتا رہا“۔