Category Archives: معاشرہ

شِفاء اور شَفاء میں فرق

شِفاء کا مطلب ہے صحت ، تندرُستی
شَفاء کا مطلب ہے مَوت ، گڑھا ، کنارہ

لوگوں کو اکثر کہتے سُنا گیا ہے ” اللہ آپ کو شَفاء دے“۔
نیّت بد دعا دینے کی نہ بھی ہو لیکن یہ بد دعا ہے
ہمیں کہنا چاہیئے ” اللہ آپ کو شِفاء دے“۔

سُوۡرَةُ 17 ۔ بنیٓ اسرآئیل / الإسرَاء ۔ آیت 82 ۔
وَنُنَزِّلُ مِنَ الۡـقُرۡاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّرَحۡمَةٌ لِّـلۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ۙ وَلَا يَزِيۡدُ الظّٰلِمِيۡنَ اِلَّا خَسَارًا

ہم اِس قرآن کے سلسلہ تنزیل میں وہ کچھ نازل کر رہے ہیں جو ماننے والوں کے لیے تو شفا اور رحمت ہے، مگر ظالموں کے لیے خسارے کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتا

سُوۡرَةُ 3 ۔ آل عِمرَان ۔ آیت 103 ۔
وَكُنۡتُمۡ عَلٰى شَفَا حُفۡرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡقَذَكُمۡ مِّنۡهَا ‌ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمۡ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ 

تم آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے، اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا اس طرح اللہ اپنی نشانیاں تمہارے سامنے روشن کرتا ہے شاید کہ اِن علامتوں سے تمہیں اپنی فلاح کا سیدھا راستہ نظر آ جائے

کشمیری کیا سوچ رہے ہیں ؟

ہندوستان کی مودی سرکار کی نئی جارحیت اور پاک بھارت سرحد پر کشیدگی کے تناظر میں گزشتہ دنوں جموں و کشمیر کے حالات سے آگاہی کے لئے متعلقہ لوگوں سے براہ راست مکالمے کا قصد کیا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر تو جا نہیں سکتے اس لئے آزاد کشمیر جانے کا پروگرام بنایا۔ یہاں بچوں سے بھی بات چیت ہوئی، جوانوں سے بھی، بوڑھوں سے بھی اور دنیا کے اس حسین ترین علاقے کے حسین نظاروں کا لطف بھی اٹھایا۔ اس پورے سفر میں جو کچھ دیکھا اور سنا، اس کا خلاصہ یہاں بیان کرنا اس لئے ضروری سمجھتا ہوں کہ مظفرآباد اور وادی نیلم دونوں جگہ وکلا اور صحافی بھائیوں سے وعدہ کیا تھا کہ میں ان کے احساسات اپنی استطاعت کے مطابق دنیا تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
پہلی چیز جو میں نے محسوس کی وہ آزاد جموں و کشمیر کے باسیوں اور بالخصوص نوجوانوں میں ایک عجیب قسم کی بے چینی اور اضطراب تھا۔ ہم پاکستانی بھی مقبوضہ کشمیر کے حالات پر پریشان ہیں لیکن آزاد جموں و کشمیر لوگوں کا دکھ اور کرب بہت گہرا ہے۔ وہ مقبوضہ کشمیر کے بہن بھائیوں کی خاطر لڑنا اور مرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کریں اور کیسے کریں؟ دوسری چیز میں نے یہ محسوس کی کہ وہاں کی سیاسی قیادت، پاکستانی قیادت کے رویئے سے خوش نہیں ہے جبکہ کشمیری نوجوان پاکستانی قیادت سے بھی خوش نہیں ہیں اور اپنی سیاسی قیادت سے بھی۔ وہاں کے لوگوں کے ذہنوں میں یہ وسوسے گھوم رہے ہیں کہ کشمیر کے معاملے پر درپردہ کوئی ڈیل ہوئی ہے یا ہو رہی ہے لیکن انہیں بے خبر رکھا جارہا ہے۔ یہ وسوسہ یا احساس بہت خطرناک ہے اور پاکستانی قیادت کو چاہئے کہ وہ پہلی فرصت میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے نوجوانوں اور رائے عامہ کے نمائندوں کو اعتماد میں لے۔ انہیں یہ خدشہ ہے کہ کشمیر کے قضیے کو تقسیمِ کشمیر کی طرف لے جایا جا رہا ہے جو سردست انہیں کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں اور بجا اٹھاتے ہیں کہ اگر کشمیر کی تقسیم پر راضی ہونا تھا تو پھر اتنی قربانیاں کیوں دی گئیں کیونکہ ماضی میں تو ہندوستان اس سے بہت بہتر پیکیج دینے کو تیار تھا۔ مقبوضہ کشمیر کو تو مودی سرکار نے جہنم بنا رکھا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کنٹرول لائن کے دونوں طرف رہنے والے لوگوں کی زندگی بھی کسی عذاب سے کم نہیں جس کی طرف عالمی برادری توجہ دے رہی ہے اور نہ پاکستانی حکومت۔ یہ لوگ گزشتہ کئی دہائیوں سے چوبیس گھنٹے اس خوف میں زندگی گزار رہے ہیں کہ کسی بھی وقت بندوق یا توپ کا گولہ آسکتا اور ان کی زندگی کا خاتمہ کر سکتا ہے۔ دونوں طرف پہاڑوں پر دشمن کی فوجیں بیٹھی ہیں اور درمیان میں یہ لوگ زندگی گزار رہے ہیں جبکہ درجنوں مرتبہ وہ مکمل جنگ اور ہزاروں مرتبہ فائرنگ اور شیلنگ کی زد میں آچکے ہیں۔ ان لوگوں کو موسم کی سختیوں سے بھی لڑنا پڑتا ہے اور جب فائرنگ کے واقعات ہوتے ہیں تو پھر معمول کا روزگار بھی ٹھپ ہوکر رہ جاتا ہے۔ وادی نیلم کے باسیوں نے ہمیں بتایا کہ گزشتہ دنوں کے فائرنگ کے واقعات کے بعدان کا روزگار نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ ایک شکایت کشمیریوں کو یہ ہے کہ چونکہ کشمیر ان کا ہے اس لئے اس سے متعلق بات بھی ان کو کرنا چاہئے۔ ایک کشمیری نوجوان نے بجا طور پریہ شکوہ کیا کہ کشمیر ان کا ہے، قربانیاں ان کے بہن بھائی دے رہے ہیں، ہندوستانی افواج کی شیلنگ کی زد میں وہ ہیں اور ان کے نام پر اس وقت فواد چوہدری فرانس میں، شہریار آفریدی جرمنی میں اور شیخ رشید لندن میں مزے لوٹ رہے ہیں۔ وہ مطالبہ کررہے ہیں کہ قومی اور بین الاقوامی فورمز پر کشمیر کا کیس کشمیریوں کو پیش کرنے کا موقع دیا جائے کیونکہ اپنے کیس کو ان سے بہتر کوئی نہیں سمجھتا اور جب کشمیری قیادت خود اپنا کیس بیان کرے گی تو دنیا بھی زیادہ توجہ دے گی۔ ان کو یہ بھی شکایت ہے کہ کشمیری قیادت کو ایک چھتری تلے اور ایک بیانیے پر جمع کرنے کے لئے بھی پاکستان کماحقہ کردار ادا نہیں کررہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعظم عمران خان ہمارے وکیل ہیں تو وہ ہم مدعیوں سے ہمارا کیس بھی تو سمجھیں۔ دنیا میں یہ کہیں نہیں ہوتا کہ وکیل اپنی طرف سے مدعی کے مستقبل کے فیصلے کرتا پھرے اور مدعی کو آگاہ بھی نہ کرے کہ ان کا کیس کس طرف جا رہا ہے۔ آزاد کشمیر کے صحافیوں کو بھی ملک کے دیگر پسماندہ علاقوں کی طرح میڈیا سے شکایت ہے وہ جانوں پر کھیل کر علاقے کی خبریں اکٹھی کرتے ہیں لیکن پاکستانی میڈیا میں ان کو جگہ نہیں ملتی اور سارا وقت پاکستان کے سیاسی ڈراموں کی نذر ہوتا ہے۔ یہاں کے اہل صحافت، دانشور اور نوجوان پاکستان کے سیاسی حالات پر بھی دکھی ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جب پاکستان میں یہ سیاسی انتشار ہو گا اور نفرتیں اس قدر زوروں پر ہوں گی تو پھر کیوں کر پاکستان کشمیریوں کی وکالت بہتر انداز میں کر سکے گا۔

تحریر سلیم صافی

عیدالاضحٰے مبارک

کُلُ عَام اَنتُم بَخَیر

سب مسلمان بہنوں اور بھائیوں جہاں کہیں بھی ہوں عیدالاضحٰے مبارک
ذوالحجہ کا چاند نظر آنے سے لے کر عيد کے تيسرے دن نصف النہار تک ۔ اگر زيادہ نہيں تو ہر نماز کے بعد ايک بار يہ کہنا چاہیئے
البتہ عيد کی نماز کو جاتے ہوئے اور واپسی پر يہ ورد رکھنا چاہیئے

اللہُ اکبر اللہُ اکبر اللہُ اکبر لَا اِلَهَ اِلْاللہ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَهُ
لَهُ الّمُلْکُ وَ لَهُ الْحَمْدُ وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیٍ قَدِیر
اللہُ اکبر اللہُ اکبر اللہُ اکبر لا اِلهَ اِلاللہ و اللہُ اکبر اللہُ اکبر و للہِ الحمد
اللہُ اکبر اللہُ اکبر اللہُ اکبر لا اِلهَ اِلاللہ و اللہُ اکبر اللہُ اکبر و للہِ الحمد
اللہُ اکبر کبِیراً والحمدُللہِ کثیِراً و سُبحَان اللہِ بکرۃً و أصِیلا
اللّھم صلی علٰی سیّدنا محمد و علٰی آل سیّدنا محمد و علٰی اصحاب سیّدنا محمد و علٰی ازواج سیّدنا محمد و سلمو تسلیماً کثیراً کثیرا

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی سب مسلمانوں کو اپنی شريعت پر قائم کرے اور شيطان کے وسوسوں سے بچائے
جنہوں نے حج ادا کیا ہے اللہ کریم اُن کا حج قبول فرمائے
جنہوں نے سیّدنا ابراھیم علیہ السلام کی سُنّت کی پيروی کرتے ہوئے قربانی کرنا ہے ۔ اللہ عِزّ و جَل اُن کی قربانی قبول فرمائے
اللہ کریم ہم سب کو سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے
اللہ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم ہمارے مُلک کو ہر انسانی اور قدرتی آفت سے محفوظ فرمائے اور امن کا گہوارہ بنا دے ۔ آمین ثم آمین

اے وطن ۔ ۔ ۔

نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رَسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے
جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر چُرا کے چلے جسم و جاں بچا کے چلے
ہے اہلِ دل کے لئے اب یہ نظم بست و کشاد
کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد
بنے ہیں اہل ہوَس مُدعی بھی مُنصف بھی
کسے وکیل کریں کس سے مُنصفی چاہیں
بِچھا جو روزن زِنداں تو دل یہ سمجھا ہے
کہ تیری مانگ ستاروں سے بھر گئی ہوگی
چمک اُٹھے ہیں سلاسل تو ہم نے جانا ہے
کہ اب سحر ترے رُخ پر بِکھر گئی ہوگی
یوں ہی ہمیشہ اُلجھتی رہی ہے ظُلم سے خَلَق
نہ ان کی رسم نئی ہے ۔ نہ اپنی رِیت نئی
یوں ہی ہمیشہ کھِلائے ہیں ہم نے آگ میں پھول
نہ ان کی ہار نئی ہے ۔ نہ اپنی جیت نئی
اسی سبب سے فلک کا گلہ نہیں کرتے
ترے فراق میں ہم دل برا نہیں کرتے
گر آج تجھ سے جدا ہیں تو کل بہم ہوں گے
یہ رات بھر کی جدائی تو کوئی بات نہیں
گر آج اَوج پہ ہے طالع رقیب تو کیا
یہ چار دن کی خدائی تو کوئی بات نہیں
جو تُجھ سے عہدِ وفا اِستوار رکھتے ہیں
علاجِ گردشِ لیل و نہار رکھتے ہیں

طبعیت میں نرمی

بہت سے میاں بیوی ذرا سی لچک یا نرمی نہ دکھانے کی وجہ سے اپنا بُرا حال بنا لیتے ہیں ہمیں اپنے ساتھی کو اپنی توسیع نہیں سمجھنا چاہیئے ۔ اُس کی اپنی ایک شخصیت ہوتی ہے اور اپنی پسند یا ناپسند ہوتی ہے ۔ ہمایں باہمی حقوق کو تسلیم کرنا چاہیئے جب تک کہ اس کا دین پر بُرا اثر نہ پڑے ۔ انفرادی معاملات میں اپنی اکڑ قائم رکھےا اور ساتھی کا لحاط نہ رکھے سے گھر کا ماحول بہت کشیدہ اور ذہنی دباؤ کا سبب بنتا ہے

درگزر کرنا

خوشگوار زندگی کا اہم جُزو یہ ہے کہ ازواج ایک دوسرے کی بات کو درگزر کریں ۔ بُغزنہ رکھیں ۔ ناقد نہ بنیں
باہمی تعلقات اور اکٹھے رہنے کے دوران بعض اوقات ایسا موقع آ جاتا ہے جب آدمی کوئی ایس بات یا حرکت کر بیٹھتا ہے جو اُس کے ساتھی کےلئے تکلیف دہ ہو ۔ اس کو پکڑ کر نہیں بیٹھ جانا چاہیئے اور نہ دوسرے کو قصور وار ٹھہرانا چاہیئے بلکہ اے بھُلا دینا چاہیئے
یہ اُسی صورت ممکن ہے کہ ہم غرور میں آ کر دوسرے معافی مانگنے کا نہ کہیں اور خود ہمیں معاف کر دینے میں بُخل نہیں کرنا چاہیئے
رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم صحابہ کرام رضی الله عنہم سے پوچھا ” کیا تم چاہتے ہو کہ الله تمہیں معاف کر دے ؟“
اُنہون نے کہا ” ضرور یا رسول الله“۔
حضور صلی الله عليه وآله وسلم نے فرمایا ” پھر ایک دوسرے کو معاف کر دیا کرو“۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ الله ہمیں معاف کر دے تو ہمیں دوسروں کو معاف کرنا سیکھنا چاہیئے

اگر ہم اپنے ساتھ سے ذکر کرتے رہیں کہ کتنی بار اُس نے ہمیں شرمندہ کیا ہے یا تکلیف دی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم نے معاف یا درگزر نہیں کیا
جو بات ماضی میں ہوئی اُسے ماضی ہی میں رہنے دینا چاہیئے اور اُس کی یاد نہیں کرنا چاہیئے ۔ یہ طریقہ نہ چھوڑنے والا خود ہی کم مائیگی یا کمینگی کا شکار ہو جاتا ہے اور اُس کا ذہن آزاد نہیں ہو پاتا

ازدواجی زندگی

شادی کا سب سے اہم وصف باہمی اعتبار یا یقین ہے جو شادی کے بندھن کو مضبوط بناتا ہے
اسلام دوسرے مذاہب کیطرح ہفتہ وار عبادت سے منسلک مذہب نہیں ہے ۔ اسلام لائحہءِ حیات ہے جو ہر انسانی عمل پر محیط ہے
باہمی اظہارِ خیال ازواج میں ہم آہنگی پیرا کرتا ہے اور یقین باہمی محبت میں اہم کردار ادا کرتا ہے
رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم کی حدیث ہے ”اگر خاوند اپنی بیوی کے منہ میں ایک نوالہ بھی ڈالتا ہے تو اس کا اجر اُسے ملتا ہے اور اللہ اُن میں محبت بڑھا دیتا ہے
اگر میاں بیوی صرف اللہ کی خوشنودی کے لئے آپس میں پیار کرتے ہیں تو ہم اپنا ایمان بڑھا رہے ہوتے ہیں