Category Archives: معاشرہ

دل کا داغ جو مٹ نہ سکا

77 بار دیکھا گیا

ہمارے مُلک کے ایک بڑے حصے کو علیحدہ ہوئے 46 سال بِیت گئے لیکن مجھے وہ خوبصورت نوجوان Assistant Works Manager محبوب نہیں بھولتا ۔ سُرخ و سفید چہرہ ۔ دراز قد ۔ چوڑا سینہ ۔ ذہین ۔ محنتی ۔ کم گو ۔ بہترین اخلاق ۔ اُردو باقی بنگالیوں کی بجائے نئی دہلی کے رہنے والوں کی طرح بولتا تھا ۔ مشرقی پاکستان میں نئی مکمل ہونے والی فیکٹری میں اُسے اوائل 1970ء میں بھیج دیا گیا کہ وہ بنگالی تھا (سِلہٹ کا رہائشی)

یکم جولائی 1969ء کو مجھے ترقی دے کر Production Manager Weaponsتعینات کر کے فیکٹری کے 8 میں سے 4 محکموں کی سربراہی کے ساتھ نئے اسِسٹنٹ ورکس منیجر صاحبان کی تربیت بھی ذمہ داریاں دے دی گئیں ۔ 1969ء میں بنگالی کچھ افسران بھرتی ہوئے ۔ یہ سب ہی محنتی اور محبِ وطن تھے ۔ اِن میں محبوب بھی تھا

میری 21 دسمبر 2012ء کو شائع شدہ تحریر
جب مُکتی باہنی کا شور شرابا زوروں پر تھا مُکتی باہنی والوں نے فیکٹری کے سب بنگالی ملازمین کو بنگلا دیش کا جھنڈے کے پیچھے جلوس نکالنے کا کہا ۔ اپنی جان بچانے کی خاطر سب باہر نکل آئے لیکن محبوب نہ نکلا ۔ محبوب پر مُکتی باہنی نے الزام عائد کيا گيا کہ وہ غدار ہے اور اگر نہيں تو بنگلا ديش کا جھنڈا اُٹھا کر جلوس کے آگے چلے ۔ محبوب شادی شدہ اور ايک چند ماہ کے بچے کا باپ تھا ۔ مجبوراً جلوس ميں جھنڈہ اُٹھا ليا ۔ اس کی بناء پر فوج کے افسر نے اُس کی بيوی ۔ چند ماہ کے بچے اور فيکٹری کے افسران کے سامنے محبوب کا سمری کورٹ مارشل کر کے چند منٹوں می موت کی سزا سُنا دی ۔ اُس کی بيوی نے فوجی افسر کے پاؤں پکڑ کر رَو کر فرياد کی کہ ميرے خاوند کو نہ مارو ۔ مجبور انسان کو مت مارو ۔ مگر گولی چلانے کا حُکم دے ديا گيا ۔ ديکھنے والے افسران ميں مغربی پاکستان سے گئے ہوئے Senior Civilian Officers موجود تھے جو محبوب کے کردار سے واقف تھے مگر خاموش رہے ۔ يہ اُن میں سے ہی ایک سینیئر افسر نے مغربی پاکستان پہنچنے کے بعد مُجھے سُنایا تھا

سانحہ مشرقی پاکستان 16 دسمبر 1971ء کے متعلق جو اَعداد و شمار اور واقعات ذرائع ابلاغ کے ذریعہ پھیلائے گئے ہیں وہ اتنے غلط ہیں کہ جتنا زیادہ کوئی جھوٹ بول سکے ۔ ہمارا ملک پاکستان معرضِ وجود میں آنے کے بعد صرف ایک نسل گذرنے پر صورتِ حال کچھ ایسی ہونا شروع ہوئی کہ میں سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں ”کیا آزادی اِس قوم کو راس نہیں آئی جو ہر دَم اور ہر طَور اس سلطنتِ خدا داد کے بخِیئے اُدھیڑنے کے در پئے رہتی ہے“۔ اب تو حال یہاں تک پہنچا ہے کہ بھارت کو بہترین دوست اور شیخ مجیب الرحمٰن کو محبِ پاکستان ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے
میں ذاتی معلومات پر مبنی واقعات پہلے لکھ چکا ہوں جو مندرجہ ذیل موضوعات پر باری باری کلک کر کے پڑھے جا سکتے ہیں ۔ آج صرف اعداد و شمار پیش کر رہا ہوں
بھولے بسرے واقعات ۔ پہلا سوال
سقوطِ ڈھاکہ کے اسباب ۔ قسط 1 ۔ دوسرا سوال اور ذرائع
سقوطِ ڈھاکہ کے اسباب ۔ قسط 2 ۔ معلومات
سقوطِ ڈھاکہ کے اسباب ۔ قسط 3 ۔ مشاہدہ اور تجزیہ

مارچ سے دسمبر 1971ء تک مشرقی پاکستان میں جو ہلاکتیں ہوئیں اور ان کے اسباب کے متعلق غلط اور اِنتہائی مبالغہ آمیز اعداد و شمار زبان زد عام رہے ہیں ۔ پچھلی 4 دہائیوں میں غیر جانب دار لوگوں کی تحریر کردہ کُتب اور دستاویزات سامنے آ چکی ہیں ۔ جن کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے
شیخ مجیب الرحمٰن اور اس کے حواریوں کا پروپیگنڈہ تھا کہ فوج نے 30 لاکھ بنگالیوں کو ہلاک کیا ۔ فوجی کاروائی ڈھاکہ اور اس کے گرد و نواح میں 26 مارچ 1971ء کو شروع ہوئی اور 16 دسمبر 1971ء کو پاکستانی فوج نے ہتھیار ڈال دیئے ۔ چنانچہ یہ ہلاکتیں 265 دنوں میں ہوئیں ۔ اس طرح ہر ماہ 339630 یا ہر روز 11321 بنگالی ہلاک کئے گئے ۔ ایک سرسری نظر ہی اس استلال کو انتہائی مبالغہ آمیز یا جھوٹ قرار دینے کیلئے کافی ہے
حمود الرحمٰن کمیشن کو فوج کے نمائندہ نے بتایا تھا کہ فوجی کاروائی کے دوران 26000 بنگالی ہلاک ہوئے لیکن کمیشن نے اس تعداد کو بہت مبالغہ آمیز قرار دیا تھا
شرمیلا بوس نے اپنی کتاب میں لکھا
“The three million deaths figure is so gross as to be absurd … [it] appears nothing more than a gigantic rumour. The need for ‘millions’ dead appears to have become part of a morbid competition with six million Jews to obtain the attention and sympathy of the international community.”
(ترجمہ ۔ تین ملین کا ہندسہ اتنا بھاری ہے کہ سرِ دست لغو لگتا ہے ۔ ۔ ۔ یہ ایک قوی ہیکل افواہ سے زیادہ کچھ نہیں ۔ ملینز کی تعداد چھ ملین یہودیوں کے ہمعصر ہونے کی ایک بھونڈی کوشش لگتی ہے تاکہ بین الاقوامی توجہ اور ہمدردی حاصل کی جا سکے)
مشرقی پاکستان میں موجود مغربی پاکستان کے لوگوں میں پنجابی ۔ پٹھان ۔ کشمیری ۔ سندھی ۔ بلوچ اور اُردو بولنے والے شامل تھے ۔ ان میں سرکاری محکموں ۔ سکولوں ۔ کالجوں ۔ بنکوں اور دیگر اداروں کے ملازم ۔ تاجر ۔ کارخانہ دار اور مزدور شامل تھے ۔ ان کارخانہ داروں میں سہگل ۔ آدم جی ۔ بھوانی اور اصفہانی قابلِ ذکر ہیں ۔ بھارت کی تشکیل کردہ اور پروردہ مُکتی باہنی والے مشرقی پاکستان میں موجود مغربی پاکستان کے تمام لوگوں کو پنجابی کہتے تھے اور یہی تخلص زبان زدِ عام ہوا
جُونہی فوجی کاروائی شروع ہوئی مُکتی باہنی اور اس کے حواریوں نے غیر بنگالیوں کی املاک کی لوٹ مار اور نہتے بوڑھوں عورتوں اور بچوں کے ساتھ زیاتی اور قتلِ عام شروع کر دیا ۔ عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ جو زیادتیاں ہوئیں مغربی پاکستان کے ذرائع یا اس سے بے خبر تھے یا بیہوش پڑے تھے
یہ حقیقت بھی بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں کہ شیخ مجیب الرحمٰن اور اس کے نائبین پہلے ہی فیصلہ کر چکے تھے کہ جمعہ 26 مارچ 1971ء کی صبح منظم مسلح بغاوت شروع کر دی جائے گی ۔ اس تیاری کیلئے بہت پہلے سے ڈھاکہ یونیورسٹی کو مکتی باہنی کا تربیتی مرکز بنایا جا چکا تھا
فوجی کاروائی 26 مارچ 1971ء کو شروع ہوئی تھی ۔ مکتی باہنی نے یکم سے 25 مارچ تک ہزاروں محبِ وطن بنگالی اور مغربی پاکستان سے گئے ہوئے لوگ ہلاک کئے ۔ مُکتی باہنی جس میں بھارتی فوج کے Commandos کی خاصی تعداد شامل تھی کے ہاتھوں قتل و غارت کے غیر ملکی ذرائع کے شائع کردہ محتاط اعداد و شمار بھی رَونگٹے کھڑے کر دیتے ہیں
بین الاقوامی ذرائع کے مطابق 200000 تک مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے
امریکی کونسل کے مطابق 66000 مغربی پاکستانی صرف ڈھاکہ اور گرد و نواح میں ہلاک کئے گئے
خود بنگالی ذرائع نے ڈھاکہ اور گرد و نواح میں 30000 سے 40000 مغربی پاکستانی ہلاک ہونے کا اعتراف کیا تھا
شروع مارچ 1971ء میں صرف بوگرہ میں 15000 مغربی پاکستانیوں کو ہلاک کیا گیا
وسط مارچ کے بعد چٹاگانگ میں 10000 سے 12000 مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے
جیسور میں 29 اور 30 مارچ کو 5000 مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے
دیناج پور میں 28 مارچ سے یکم اپریل تک 5000 مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے
میمن سنگھ میں 17 اپریل سے 20 اپریل تک 5000 کے قریب مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے
اس کے بعد مُکتی باہنی نے قتل و غارتگری کا بازار پوری شدت کے ساتھ گرم کیا ۔ اس طرح کہ اعداد و شمار بتانے والا بھی کوئی نہ رہا
پاکستان کے فوجیوں کی تعداد جو زبان زدِ عام ہے صریح افواہ کے سوا کچھ نہیں ۔ جن 93000 قیدیوں کا ذکر کیا جاتا ہے ان میں فوجیوں کے علاوہ پولیس ۔ سویلین سرکاری و غیر سرکاری ملازمین ۔ تاجر ۔ عام مزدور ۔ دُکاندار وغیرہ اور ان سب کے خاندان عورتوں اور بچوں سمیت شامل تھے ۔ ان قیدیوں میں درجنوں میرے ساتھی یعنی پاکستان آرڈننس فیکٹریز واہ کینٹ کے سویلین ملازمین اور ان کے اہلَ خانہ بھی تھے جنہیں 6 ماہ سے 3 سال کیلئے پاکستان آرڈننس فیکٹری غازی پور (ڈھاکہ) میں مشینیں سَیٹ کرنے اور مقامی لوگوں کی تربیت کیلئے بھیجا گیا تھا

مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان سے گئے ہوئے فوجیوں کی تعداد 20000 تھی جن میں پولیس ۔ میڈیکل اور دوسری نہ لڑنے والی نفری
ملا کر کل تعداد 34000 بنتی تھی ۔ یہ پاکستانی فوج 9 ماہ سے مکتی باہنی کے 100000 جنگجوؤں سے گوریلا جنگ لڑتے لڑتے بے حال ہو چکی تھی ۔ ایسے وقت میں بھارت کی ہر قسم کے ہتھیاروں سے لیس 3 ڈویژن تازہ دم فوج سے مقابلہ کرنا پڑا ۔ پاکستانی فوج کی ہلاکتیں 4000 کے قریب ہوئیں ۔ بقول بھارتی لیفٹننٹ جنرل جے ایف آر جیکب بھارتی فوج کی ہلاکتیں 1477 اور زخمی 4000 ہوئے تھے

شیخ مجیب الرحمٰن کو اس کے خاندان سمیت 15 اگست 1975ء کو ہلاک کر دیا گیا ۔ ہلاک کرنے والے بنگلا دیش ہی کے فوجی تھے جو نہ پنجابی تھے نہ بہاری ۔ صرف ایک بیٹی حسینہ بچی جو ملک سے باہر تھی
مشرقی پاکستان شیخ مجیب الرحمٰن اور بھارت کی تیار کردہ مُکتی باہنی کو پذیرائی نہ ملتی اگر حکومتِ پاکستان نے مشرقی پاکستان کی معیشت و معاشرت کی طرف توجہ دی ہوتی اور بے لگام بیورو کریسی کو لگام دے کر اُن کے فرض (عوام کی بہبود) کی طرف متوجہ کیا ہوتا ۔ پچھلے کم از کم 5 سال میں جو ملک کا حال ہے ۔ دل بہت پریشان ہے کہ کیا ہو گا ۔ الله محبِ وطن پاکستانیوں پر اپنا کرم فرمائے اور اس ملک کو محفوظ بنائے

مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کی بڑی تعداد اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتی تھی جس کے نتیجہ میں مغربی پاکستانیوں کے ساتھ وہ بھی مکتی باہنی کا نشانہ بنے ۔ لاکھوں بنگالیوں نے دستخط کر کے ایک یاد داشت برطانیہ کے راستے ذوالفقار علی بھٹو کو بھجوائی تھی کہ بنگلا دیش منظور نہ کیا جائے ۔ پیپلز پارٹی کی اکثریت بھی بنگلہ منظور کرنے کے خلاف تھی ۔ اِسی لئے جب عوام بنگلہ دیش کیی منظوری لینے کیلئے ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور میں پیپلز پارٹی کے بہت بڑے جلسے کا اہتمام کیا تو اہل جللسہ نے بھٹو کو بولنے نہ دیا اور تمام لاؤڈ سپیکروں کے تار کاٹ دیئے ۔ بعد میں بھٹو نے اسلامی کانفرنس کا انعقاد کر کے بنگلا دیش منظور کرنے کا اعلان کر دیا

نہ صرف یہ بلکہ بنگلا دیش بننے کے بعد جن لوگوں نے وحدتِ پاکستان کے حق میں آواز اٹھائی تھی انہیں طرح طرح سے تنگ کیا گیا اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمے بنائے گئے ۔ بہاریوں کو نہ شہریت دی اور نہ مہاجرین کا درجہ ۔ وہ ابھی تک کس مُپرسی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں ۔ جماعتِ اسلامی کے دلاور حسین سیّدی سمیت 6 لیڈر ابھی بھی بغاوت کے مقدمات بھُگت رہے ہیں
یہ حقیقت ہے کہ اب بھی بنگلا دیش کے عوام کی اکثریت کے دل پاکستانی ہیں ۔ اس کا ایک ادنٰی سا مظاہرہ اس وقت ہوتا ہے جب پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں مدِ مقابل ہوتی ہیں ۔ بنگلا دیش کے عوام جوش و خروش کے ساتھ پاکستانی ٹیم کے حق میں بول رہے ہوتے ہیں

کیا دین کے لحاظ سے یہ صحیح ہے ؟

141 بار دیکھا گیا

اپریل 2016ء میں کراچی کے ایک صاحب نے سوال پوچھا ”کیا یہ شعر بولنا صحیح ہے ؟؟“
کی محمد ﷺ سے وفا تُو نے تَو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا ۔ لوح و قلم تیرے ہیں

اُس زمانہ سے لے کر جب میں گیارہویں جماعت میں تھا (1955ء) اُس زمانہ تک جب حکومتِ وقت نے علامہ اقبال کو ریڈیو ۔ ٹی وی اور سکول و کالج کی نصابی کُتب سے نکال کر اُن کی جگہ فیض احمد فیض کو قومی شاعر بنا دیا تھا (1974ء) یہ سوال کئی بار سُننے میں آیا اور اِس پر تکرار ہوتے بھی دیکھی

اِس سوال کا اٹَک کے ایک صاحب جو مولوی سمجھے جاتے ہیں نے خوبصورت جواب دیا ۔ سو خیال آیا کہ اِسے قارئین کی نظر کیا جائے

جواب ۔ محترم بھائی ۔ شعر و شاعری کو سمجھنے کیلئے اس سے تعلق ضروری ہے اور یہ فقیر شعر و سخن سے کچھ زیادہ آشنا نہیں ۔ بہرحال اپنی بساط کے مطابق عرض ہے ۔ آپ نے جس شعر کی تشریح پوچھی ہے ۔ وہ ڈاکٹر اقبال کی مشہور نظم “جواب شکوہ “کا ہے ۔ ”شکوہ ۔ جواب شکوہ“ علامہ اقبال کی دو طویل نظمیں ہیں جو ”بانگ درا“ یعنی ”گھنٹیوں کی صدا“ کے اوراق کی زینت ہیں ۔ ”شکوہ“ اپریل 1911ء میں لکھی گئی ۔ ریواز ہوسٹل اسلامیہ کالج کے صحن میں ہونے والے انجمن حمایت اسلام لاہور کے اجلاس میں اقبال نے سنائی ۔ ”جواب شکوہ“ 1913ء میں اقبال نے لکھی ۔ یہ نظم موچی دروازے کے باہر ایک جلسہ عام میں بعد نماز مغرب سنائی گئی ۔ اس جلسے کا اہتمام مولانا ظفر علی خان نے کیا ۔ جواب شکوہ اسی جلسے میں ہزاروں کی تعداد میں فروخت ہوئی اور اس کی پوری آمدن ”بلقان فنڈ“ میں دے دی گئی ۔ شکوہ اور جواب شکوہ لکھنے کی اقبال کو ضرورت کیوں ہوئی ؟ اس کے بارے میں مختلف شارح اپنی اپنی آراء رکھتے ہیں لیکن جس ایک پہلو پر سب کا اتفاق ہے وہ یہ ہے اقبال 1905ء سے 1908ء تک یورپ میں رہے ۔ میونج یونیورسٹی (جرمنی) سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور قانون کا امتحان برطانیہ سے پاس کیا

یورپ میں قیام کے دوران وہاں کی سائنسی ۔ مادی ۔ سیاسی ۔ اقتصادی ۔ معاشرتی ترقی اور تہذیبی اقدار کو اقبال نے بہت قریب سے دیکھا ۔ اہل یورپ کی علمی لگن ۔ عملی کوشش ۔ سائنسی ترقی ۔ جذبہءِ عمل اور حُب الوطنی سے متاثر ہوئے ۔ جب واپس ہندوستان آئے تو اہلِ یورپ کے برعکس مسلمانوں میں کاہلی ۔ جمود ۔ بے عملی ۔ غلامانہ ذہنیت ۔ اقتصادی پسماندگی اور عملی ذوق و شوق کا فُقدان دیکھ کر آزردہ خاطر ہوئے مسلمانوں کی اسلام سے محض زبانی عقیدت ۔ خدا کی محبوب قوم ہونے کا عجیب احساس ۔ اسلام کا شَیدا ہونے کا دکھاوے کا اعتقاد ۔ قرآن مجید کی تعلیمات سے دُوری اور اسوہءِ رسول سے وابستگی کے خیالی دعوے ۔ اقبال کی پریشیانی کا باعث بن گئے ۔ ان ساری باتوں کے باوجود مسلمان ہر وقت دین و دنیاکی برکات چھِن جانے کا خدا سے شکوہ بھی کرتے تھے ۔ یہی نظم ”شکوہ“ کا بنیادی تصور ہے

”شکوہ“ جب اقبال نے لکھی تب صرف ہندوستان کے مسلمان ہی زبُوں حالی کا شکار نہیں تھے ۔ ایران ۔ ترکی ۔ مصر اور افریقہ کے مسلمانوں کی حالت بھی ایسی ہی تھی ۔ طرابلس اور بلقان کی جنگوں نے مسلمانوں کے احساس زوال کو مزید شدید کردیا تھا ۔ جس نے اقبال کو شکوہ ۔ جواب شکوہ جیسی انقلابی نظمیں لکھنے کی تحریک دی ۔ علامہ اقبال نباضِ ملت اور اپنے دور کے مفکر ہیں ۔ انہوں نے موجودہ عہد کے مسلمانوں کے زوال کے اسباب اور زمانہ قدیم کے مسلمانوں کے عرُوج کی وجوہات کو دونوں نظموں کا مرکزی خیال بنایا تاکہ مسلمان اپنے شان دار ماضی سے زوال پذیر حال کو دیکھیں اور روشن مستقبل کا سراغ لگاسکیں

مسلمانوں کے طرز عمل سے نالاں اقبال اسلام کے عظیم ماضی کوحسرت سے دیکھتے، حال کا جائزہ لیتے تو بے بسی سے سپر ڈال دیتے۔ مگر ان کی مایوسی اور ناامیدی انہیں کشاں کشاں تاریکی سے روشنی کی طرف لے آئی۔ مسلمان بلقان سے نکالے جاچکے تھے۔ ایران موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا تھا۔ طرابلس کے میدان مجاہدین کے خون سے لالہ زار تھے۔ اس دور میں اقبال نے جو نظمیں لکھیں ان کے اثر سے ہندی مسلمانوں میں جوش پیدا ہوا۔ جس پر انہوں نے شکوہ، جواب شکوہ لکھیں۔
یاد رہے انجمن حمایت اسلام کے اجلاس میں اقبال نے جب شکوہ پڑھی تو لوگ پھولوں کی جھولیاں بھر کر لاے اور علامہ پر گل پاشی کی اقبال کے والد گرامی بھی اس محفل میں موجود تھے۔ سیرت اقبال میں سر عبدالقادر نے لکھا ہے اقبال کے والد بیٹے کی کامیابی پر نازاں اور تاثر کلام سے آبدیدہ تھے۔

شکوہ کے آغاز میں اقبال نے مسلمانوں کی جانب سے اللہ سے کلام کیا ہے
شکوہ اللہ سے ، خاکم بدہن ، ہے مجھ کو
ہے بجا شيوہء تسليم ميں مشہور ہيں ہم
قصہ درد سناتے ہيں کہ مجبور ہيں ہم
ساز خاموش ہيں ، فرياد سے معمور ہيں ہم
نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہيں ہم
اے خدا! شکوہء ارباب وفا بھي سن لے
خوگر حمد سے تھوڑا سا گلا بھي سن لے

ان شعار کا جواب، جواب شکوہ کے آخری اشعار میں دے کر اللہ کی طرف سے مسلمانوں کو لاجواب کردیا گیا ہے
گرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیا
عشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیا

تپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرح
غوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرح

عقل ہے تیری سپر، عشق ہے شمشیر تری
مرے درویش! خلافت ہے جہاں گیر تری
اے مسلم : اگر تو صاحب ایمان ہوجائے تو تیری عقل تیری ڈھال بن جائے ،جو تجھے ہر غلط اقدام سے روک لے
اور عشق (یعنی تیرا ایمان ) تیرا اسلحہ ہے ، (اس لئے اپنے ایمان کو زندہ کر )
تو درویش ( یعنی بندہء دنیا تو نہیں ،لیکن دنیا کا خلیفہ ہے ) اور تو
کسی ایک خطہ پر خلافت کیلئے نہیں بلکہ ساری دنیا پر خلافت و حکومت کیلئے وجود میں آیا ہے ،

ماسوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تری
تو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تری
اے مسلم : تو اس جہاں میں اگر اللہ کی کبریائی ،اور حاکمیت کیلئے کوشاں ہو جائے تو دنیا سے باقی تمام ازم اور نظام پاش پاش ہوجائیں
اور اگر تو مسلم حقیقی بن جائے تو تیری ہر تدبیر تیرے لئے کار آمد بن جائے،

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
اس آخری شعر کا آسان سا مفہوم یہ کہ اللہ فرماتے ہیں :
اے مسلم : تو اگر میرے نبی مکرم ﷺ کا وفادار بن جائے ،تو یہ دنیا جس پر کبھی تیری حکومت و شوکت تھی
اور جو اب چھن چکی ،نہ صرف وہ پھر تجھے واپس مل سکتی ہے ، بلکہ ہم ہر فیصلہ میں تیری ضرورت و عزت کا خیال رکھیں گے

کیا ہم قابلِ اعتماد یا محبِ وطن ہیں ؟

120 بار دیکھا گیا

اتوار 3 نومبر 2017ء کو صحافی طاہر خلیل نے فیض آباد انٹر چینج پر 6 نومبر سے دِیئے جانے والے 22 روزہ دھرنے کے اسباب کا تجزیہ شائع کیا جو ہر محبِ وطن پاکستانی کو دعوتِ غور و فِکر دیتا ہے

الیکشن ایکٹ 2017میں اِنتخابی اُمیدوار کیلئے حلف نامہ میں الفاظ کی تبدیلی سے جو ہیجانی کیفیت پیدا ہوئی تو کچھ حلقوں نے اسے بین الاقوامی سازش اور ریشہ دوانیوں کے سلسلے تک پھیلا دیا۔ معاملہ جو کاغذات نامزدگی فارم میں ترمیم سے شروع ہوا اس نے پاکستان کی سیاسی دانش کےلئے کئی چیلنجز پیدا کر دیئے جس میں تدبر و فراست ، حکمت و بصیرت اور دُور اندیشی کی بجائے وقتی مفاد ، سیاسی خود غرضی اور عاجلانہ فیصلوں نے نہ صرف سیاسی اور جمہوری نظام کو کمزور کیا بلکہ بے بنیاد پراپیگنڈے کی بنیاد پر منفی سیاست کو فروغ دیا ۔ الیکشن ایکٹ 2017 میں اِنتخابی اُمیدوار کے حلف نامہ میں الفاظ کی تبدیلی کے تنازع کے ضمن میں حقائق کی تلاش کےلئے جب پارلیمانی ریکارڈ کا جائزہ لیاگیا جو متعلقہ پارلیمانی کمیٹی کے ہر رکن کے پاس دستیاب ہے تو جھوٹ اور سچ میں فرق نمایاں ہوگیا ۔ بات محض سمجھنے کی ہے

کاغذات نامزدگی کیلئے 4 طرح کے فارمز ہوتے ہیں ۔ فارم نمبر 9 جنرل سیٹس کےلئے ، 9 اے مینارٹی ، 9 بی خواتین کی مخصوص نشستوں اور فارم نمبر20 سینٹ کے امیدواروں کےلئے مختص ہیں ۔ الیکشن ایکٹ 2017 کا مقصد انتخابات سے متعلق 9 قوانین کو مربوط اور آسان کرکے یکجا کرنا تھا ۔ 16مئی 2017کو الیکٹورل ریفارمز مرکزی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کاغذات نامزدگی فارم 9 الیکشن ایکٹ کا حصہ بنایا جائے گا۔ قبل ازیں یہ الیکشن کمیشن رولز کا حصہ تھا

ریکارڈ کے مطابق 17مئی 2017کو اس وقت کے لاء منِسٹر زاہد حامد کی زیر صدارت انتخابی اصلاحات کی سب کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں فارم 9 پر بحث ہوئی اور جو فیصلے ہوئے وہ ریکارڈ کا حصہ بنے ۔ فارم کے اندر متعدد ایسی شقیں موجود تھیں جو آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے سکوپ سے باہر تھیں ۔ ان میں سے کئی شقیں غیر جمہوری حکمرانی دور میں شامل کی گئی تھیں ۔ ان تمام کا آرٹیکل 62 اور 63 سے تعلق نہیں بنتا تھا ۔ ممبران کی طرف سے استدلال کیا گیا کہ یا تو آرٹیکل 62، 63 کی سار ی شقیں شامل کر دی جائیں یا پھر ارکان کو سارے آئین پر عمل درآمد کرنے کا پابند بنانے کی شق شامل کر دی جائے ۔ ریکارڈ کے مطابق سب کمیٹی کی 89 ویں میٹنگ 18مئی 2017ء کو ہوئی ۔ جس میں فارم 9 ، 9 اے اور 9 بی زیر غور لائے گئے ۔ اور 23 مئی 2017ء کے اجلاس میں سینٹ امیدواروں کا فارم 20 زیر بحث آیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ سینٹ امیدواروں کا فارم بھی قومی اسمبلی امیدواروں کے فارم کی طرز پربنا دیا جائے ۔ فارم 9 ، 9 اے ، 9 بی اور 20 کو پوری سب کمیٹی کے اندر زیر بحث لایاگیا ۔ پارلیمانی کمیٹی کے چند ارکان یا کسی ایک رکن کو ان فارمز کے مسؤدے کی تیاری کی ذے داری نہیں سونپی گئی تھی

سب کمیٹی کے 93 ویں اجلاس میں جو 13 جون2017ء کو ہوا یہ سب کمیٹی کا آخری اجلاس تھا ۔ 16رکنی سب کمیٹی میں پی پی پی ، مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف ، جماعت اسلامی ، ایم کیوایم ، جے یو آئی (ف) سمیت دیگر جماعتوں کے اراکین موجود تھے ۔ ریکارڈ سے واضح ہوتا ہے کہ امیدواروں کے کاغذات نامزدگی فارمز کی پارلیمانی کمیٹی کے ایک رکن یا چند ارکان نے ری ڈرافٹنگ نہیں کی تھی ۔ بلکہ پارلیمانی سب کمیٹی نے جو 16 ارکان پر مشتمل تھی کاغذات نامزدگی فارمز پر چار مختلف میٹنگز کے دوران غور کرکے سفارشات پیش کی تھیں اور اس کے نتیجے میں تیار ہونے والا نیا فارم سب کمیٹی کے 93 ویں اجلاس میں پیش کر دیا گیا ۔ پارلیمانی سب کمیٹی نے اپنے 93 ویں اجلاس میں اس پرغور کرکے الیکشن بل 2017 کا ڈرافٹ مرکزی کمیٹی کو بھیج دیا ۔ ریکارڈ کے مطابق الیکشن رولز کے تحت 30 کے لگ بھگ فارمز موجود تھے جن میں سے کاغذات نامزدگی فارمز نمبر 9، 9اے، 9بی اور 20 سمیت باقی تمام فارمز کا سب کمیٹی نے خود جائزہ لیا تھا

مرکزی پارلیمانی کمیٹی اور سب کمیٹی میٹنگز کی تمام تفصیلات ریکارڈ پر موجود ہیں اور یہ تاثر کہ امیدواروں کے کاغذات نامزدگی فارم پارلیمانی سب کمیٹی کے کسی ایک ممبر یا چند ممبران نے ری ڈرافٹ کئے حقائق کے منافی اور بے بنیاد پروپیگنڈے پر مبنی ہے ۔ اگر نامزدگی فارم کو ری ڈرافٹ کرنے کا کام کسی رکن یا گروپ وغیرہ کو دیا گیا ہوتا تو ریکارڈ کا ضرور حصہ ہوتا

اظہار تاسف کے ساتھ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ حالیہ دنوں میں ہم ایک ایسی قوم کے طور پر اُجاگر ہوئے جو خلاف حقائق ، بے معنی اورلغو داستانوں پر انحصار کرکے فیصلے کرتی ہے اور کسی کو بھی صفائی اور دفاع کا حق دیئے بغیر ملزم اور مجرم ثابت کرنے پر اصرار کرتے ہیں ۔ بعض لوگوں نے اس سارے عمل کو کسی طور پر بین الاقوامی سازش کا راگ الاپ کر اپنے ممبران کے دین ، عقیدے اور مذہب پر انگلیاں اُٹھانے کے ساتھ ان کی حُب الوطنی پر بھی سوال کھڑے کر دیئے

ریکارڈ سے عیاں ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کے بعد قومی اسمبلی نے بل پاس کرکے سینیٹ میں منظوری کےلئے بھیجا اور پہلی مرتبہ سینیٹر حافظ حمد اللہ نے یہ نکتہ اٹھایا کہ امیدوار کے کاغذات نامزدگی میں ختم نبوت سے متعلق ڈیکلریشن کے عنوان میں Solemnly Swear کی جگہ Solemnly Affirm نے لے لی ہے ۔ اسے سابقہ حیثیت میں بحال کیاجائے (ختم نبوت کے ڈیکلریشن کی عبارت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تھی) ۔ اعتزاز احسن سمیت اپوزیشن کے 35 ارکان سینٹ نے حافظ حمد اللہ کے مؤقف کی مخالفت کی تھی جبکہ حکومت کے 13 ارکان کے ساتھ لاء منسٹر نے سینیٹرحافظ حمد اللہ کی ترمیم کی حمائت کی تھی ۔ سوال یہ ہے کہ اگر سینٹ کے 35 ارکان جنہوں نے زاہد حامد کے پیش کردہ بل کی حمائت کی اور وہ سینیٹر حافظ حمد اللہ کے موقف کی تائید نہ کر سکے کیا وہ بھی کسی ”بین الاقوامی سازش“ کا حصہ بن گئے تھے ؟ اگر ایسا نہیں تو پھر سارے معاملے کوبد نیتی پر مبنی یا سازش کیسے قرار دیا جاسکتا ہے ؟ بعض حلقوں کا تاءثر ہے کہ ایک عدالتی شخصیت بھی اس پروپیگنڈے سے متاثر ہوئی

تاہم اس واقعے سے ہم نے سیکھا کہ ہم بحیثیت قوم مصدقہ اطلاعات پر بھروسہ کرنے کی بجائے قیاس آرائیوں ، افواہوں اور سوشل میڈیا کے پھیلائے ہوئے منفی تاثرات کو سچ جان کر کسی بھی بے گناہ کو مجرم بنا کر کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں

تصحیح ۔ بیان میلاد النّبی

107 بار دیکھا گیا

میں نے 30 نومبر 2017ء کو تحریر شائع کی تھی ” میلادُالنّبی کیوں منایا جاتا ہے ؟ “۔ میری غلطی کہ اِس کا ایک چھوٹا سا لیکن اہم حصہ شائع ہونے سے رہ گیا تھا جو آج پیشِ خدمت ہے

میری یاد داشت کے مطابق پاکستان بننے کے قبل سے لے کر پاکستان بننے کے کم از کم ایک دہائی بعد تک ”12 ربیع الاوّل“ کو ”بارہ وفات“ کہا جاتا تھا یعنی یومِ وصال سیّدنا محمد صل الله عليه وآله وسلّم ۔ یہ یومِ پیدائش کیسے کہلانے لگا ؟ میں توجہ نہ دے سکا کیونکہ میں انجنیئرنگ کالج لاہور میں داخل ہو چکا تھا اور وہاں نصابی کُتب پڑھنے اور کامیابی کیلئے الله سے رجوع کرنے کے سوا کسی چیز کا ہوش نہیں تھا

سیرت نگار اور مؤرخین کا تاریخ پیدائش کے بارے میں اِختلاف ہے جس کا معقول سبب بھی ہے کہ کسی کو اس مبارک نومولود کی آئیندہ شان کے بارے میں علم نہیں تھا چنانچہ انہیں عام بچوں کی طرح سمجھا گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی یقینی اور قطعی طور پر آپ صل الله عليه وآله وسلّم کی ولادت کے بارے میں تحدید نہیں کر سکتا

جب 40 سال بعد دعوت دینے کا حُکم ہوا تو لوگ نبی صل الله عليه وآله وسلّم سے متعلقہ یادوں کو واپس لانے لگے اور آپ کی زندگی کے بارے میں ہر چھوٹی بڑی چیز کے بارے میں پوچھنے لگے ۔

نبی صل الله عليه وآله وسلّم کی ولادت کے سال کے بارے میں متفقہ رائے ہے کہ عام الفیل کا سال تھا

آپ صل الله عليه وآله وسلّم کی پیدائش کا دن پیر (سوموار) بنتا ہے ۔ پیر کو ہی آپ صل الله عليه وآله وسلّم کو رسالت سے نوازا گیا اور پیر کو ہی آپ صل الله عليه وآله وسلّم نے وفات پائی (مُسلم 1162) ۔ یہ حوالہ بھی ملتا ہے کہ معراج بھی آپ صل الله عليه وآله وسلّم کو پیر ہی کے دِن کرائی گئی

آپ صل الله عليه وآله وسلّم کی پیدائش سے متعلق باقی مہینہ اور مہینہ کے دِن کا تعیّن ہے ۔ مہینہ کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں جن کے مطابق حضور صل الله عليه وآله وسلّم کی پیدائش ربیع الاوّل میں ہوئی

مہینہ کے دن پر اختلاف ہے ۔ کچھ مؤرخین کے مطابق 8 تاریخ تھی ۔ کچھ کے مطابق 10 ہے ۔ کچھ کے مطابق 12 ربیع الاوّل ہے ۔ کچھ مسلم محقق ماہرین فلکیات اور ریاضی دان افراد نے یہ ثابت کیا ہے کہ عام الفیل میں پیر کا دن ربیع الاول کی 9 تاریخ کو بنتا ہے جو شمسی اعتبار سے 20 اپریل 571ء کا دن ہے ۔ اس کو معاصر سیرت نگاروں نے راجح قرار دیا ہے

میلادُالنّبی کیوں منایا جاتا ہے ؟

96 بار دیکھا گیا

میلادُالنّبی منانے کی وجہ رسول الله سیّدنا محمد صل الله عليه وآله وسلّم سے مُحبت بتائی جاتی ہے
کل وطنِ عزیز پاکستان میں ربیع الاوّل 1439ھ کی 12 تاریخ ہے ۔ اس تاریخ کو ہمارے نبی سیّدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی مبارک ولادت ہوئی (کچھ روایات کے مطابق تاریخ ولادتِ مبارک 9 ربیع الاوّل ہے) ۔ ہمارے ملک میں ہر طرف بڑھ چڑھ کر رحمت العالمین سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و سلّم سے محبت کے دعوے ہو رہے ہیں اور اس محبت کو ثابت کرنے کیلئے کہیں محفلِ میلاد منعقد ہو رہی ہے اور کہیں شاندار جلوس نکالنے کے اعلانات ہو رہے ہیں

سب کے چہرے بشاس نظر آ رہے ہیں لیکن نجانے میں کیوں اندر ہی اندر گھُلتا جا رہا ہوں
یہ کیسی محبت ہے کہ ہم دنیا کو دکھانے کیلئے تو جلسے اور جلوس کرتے ہیں لیکن جن سے محبت کا اس طرح سے اظہار کرتے ہیں نہ اُن کے کہے پر عمل کرتے ہیں اور نہ اُن کا طریقہ اپناتے ہیں ؟
ہم سوائے اپنے آپ کے کس کو دھوکہ دے رہے ہیں ؟

شاید ہی کوئی ہموطن ایسا ہو جسے لیلٰی مجنوں ۔ شیریں فرہاد ۔ ہیر رانجھا ۔ سسی پُنوں ۔ سوہنی مہینوال وغیرہ کے قصے معلوم نہ ہوں ۔ مُختصر یہ کہ لیلٰی کی محبت میں قیس مجنوں [پاگل] ہو گیا ۔ شیریں سے محبت میں فرہاد نے پتھر کی چٹانوں کو کھود کر نہر بناتے ہوئے جان دے دی ۔ ہیر کی محبت میں شہزادہ یا نوابزادہ رانجھا بن گیا ۔ سَسّی کی محبت میں اُس تک پہنچنے کی کوشش میں پُنوں ریت کے طوفان میں گھِر کر ریت میں دفن ہو کر غائب ہو گیا ۔ سوہنی کی محبت میں ایک ریاست کا شہزادہ سَوہنی کی بھینسیں چرانے لگا
یہ تو اُس محبت کی داستانیں ہیں جو دیرپا نہیں ہوتی اور جن کا تعلق صرف انسان کے جسم اور اس فانی دنیا سے ہے لیکن اس میں بھی محبت کرنے والوں نے اپنے محبوب کی خوشی کو مقّدم رکھا

کیا یہ منافقت نہیں کہ رسول الله صل الله عليه وآله وسلّم کے بارے میں ہم جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ہمارا عمل اس سے مطابقت نہیں رکھتا ؟

انَّ اللَّہَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَی النَّبِيِّ يَا أَيُّھَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (سورت 33 ۔ الاحزاب ۔ آیت 56)

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی اِبْرَاھِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِيْمَ اِنَّکَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ. اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ و َّعَلَی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی اِبْرَاھِيْمَ وَعَلَی اٰلِ اِبْرَاھِيْمَ اِنَّکَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ

سورت 5 المآئدہ آیت 3 ۔ اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا (ترجمہ ۔ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے)
مندرجہ بالا آیت سے واضح ہے کہ الله سبحانه و تعالٰی نے رسول الله سیّدنا محمد صل الله عليه وآله وسلّم پر دین مکمل کر دیا چنانچہ اُن کے بعد کسی نبی کی ضرورت نہیں رہی یعنی سیّدنا محمد صل الله عليه وآله وسلّم آخری نبی ہیں ۔ جو شخص اس پر ایمان نہ رکھے وہ مُسلمان نہیں ہو سکتا

تہوار کب اور کیسے شروع ہوا ؟
میلادالنبی کسی بھی صورت میں منانے کی مثال سیّدنا محمد صل الله عليه وآله وسلم کی وفات کے بعد 4 صدیوں تک نہیں ملتی ۔ پانچوَیں اور مشہور عباسی خلیفہ ہارون الرشید 17 مارچ 763ء کو ایران میں تہران کے قریب ایک قصبے میں پیدا ہوئے اور 786ء سے 24 مارچ 809ء کو وفات تک مسند خلافت پر رہے ۔ ان کے دور میں خطاطی اور فنِ تعمیر کے ساتھ ساتھ مصوری اور بُت تراشی کو بھی فروغ حاصل ہوا ۔
آٹھویں صدی عیسوی کے آخر میں ان کی والدہ الخيزران بنت عطاء نے اُس مکان کو مسجد میں تبدیل کروایا جہاں سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و سلّم کی مبارک ولادت ہوئی تھی ۔ اس کے بعد میلادالنبی کو تہوار کے طور پر شیعہ حکمرانوں نے منانا شروع کیا لیکن عوام اس میں شامل نہ تھے ۔

میلادالنبی کو سرکاری تہوار کے طور پر گیارہویں صدی عیسوی میں مصر میں منایا گیا جہاں اُس دور میں شیعہ کے اسماعیلی فرقہ کے الفاطميون [جنوری 909ء تا 1171ء] حکمران تھے ۔ شروع شروع میں اس دن سرکاری اہلکاروں کو تحائف دیئے جاتے ۔ جانوروں کی قربانی اور ضیافتیں کی جاتیں ۔ شعر پڑھے جاتے اور مشعل بردار جلوس نکالا جاتا ۔ یہ سب کچھ دن کے وقت ہوتا تھا

اس کی تقلید اہلِ سُنّت نے پہلی بار بارہویں صدی عیسوی میں شام میں کی جب وہاں نورالدین حاکم تھا ۔

الأيوبيون جو بارہویں اور تیرہویں صدی عیسوی میں حکمران رہے نے یہ تقریبات سب جگہ بند کرا دیں لیکن کچھ لوگ اندرونِ خانہ یہ تہوار مناتے رہے ۔

سلطان صلاح الدین کی وفات کے بعد اُس کے برادرِ نسبتی مظفرالدین ابن زین الدین نے تیرہویں صدی میں عراق میں پھر اسے سرکاری تہوار بنا دیا ۔ یہ رسم آہستہ آہستہ پھیلتی رہی اور سلطنتِ عثمانیہ [1299ء تا 1923ء] کے دور میں ستارہویں صدی عیسوی تک مسلم دنیا کے بہت بڑے علاقہ تک پھیل گئی ۔ 1910ء میں سلطنت عثمانیہ نے اسے قومی تہوار قرار دے دیا

آج جو مسلمان بھائی اجتہاد کی باتیں کرتے ہیں اُنہیں کم از کم اتنا تو کرنا چاہیئے تاریخ کا مطالعہ کر کے مسلمانوں تک اصل دین اسلام پہنچائیں ۔ تاکہ قوم میلے ٹھیلوں کی بجائے دین اسلام پر درست طریقہ سے عمل کرے
وما علینا الا البلاغ

تمام ہموطن بہنوں اور بھائیوں کی خدمت میں

402 بار دیکھا گیا

ملک میں تبدیلی حکمرانوں کو تبدیل کرنے سے نہیں آتی بلکہ خود کو تبدیل کرنے سے آتی ہے ۔ اگر ہم خود اچھے کام کرنے لگیں اور بُرے کام باکل چھوڑ دیں پھر حکمران بھی اچھے ہی چُنے جائیں گے اور اپنا مُلک تیزی سے ترقی کرے گا اور جنت نظیر ہو جائے گا جس کا فائدہ ہمیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو ہو گا

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے اچھی زندگی گزاریں تو اِس کیلئے ہمیں آج ہی سے محنت کر کے اچھائی اختیار کرنا ہو گی ۔ جو تھوڑی سی تکلیف آج ہم برداشت کریں گے اس کا ہمارے بچوں کو بہت زیادہ فائدہ ہو گا اور ہمارا اپنا بڑھاپا بھی اچھا گزرے گا

اِس کی ابتداء کیلئے آپ سب کے ادب و احترام کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے میری درخواست ہے اور اُمید کرتا ہوں کہ اسے غور سے پڑھ کر اس سلسلہ میں پوری کوشش کی جائے گی

1 ۔ سڑک پر ۔ گلی یا عمارت میں ڈسٹ بن (Dust Bin) کے سوا کسی جگہ چھلکا ۔ کاغذ یا سگرٹ وغیرہ نہ پھنیکیئے (جلتا سگریٹ کبھی نہ پھیکیئے)
2 ۔ سڑک ۔ گلی ۔ دیوار یا فرش پر نہ تھُوکیئے
3 ۔ کرنسی نوٹ یا دیوار پر کچھ نہ لکھیئے
4 ۔ باہر اور اپنے گھر میں بھی پانی اور بجلی کی جتنی بچت ہو سکے کیجئے
5 ۔ ٹریفک رولز کو سمجھئے ۔ ٹریفک رولز پر عمل کیجئے اور کبھی خلاف ورزی نہ کیجئے
6 ۔ ایمبولنس اور فائر بریگیڈ کی گاڑی کو فوری طور پر راستہ دیجئے
7 ۔ والدین ۔ دادا ۔ دادی ۔ نانا نانی کی خدمت کیجئے اور اُن کی کسی بات کا بُرا نہ منایئے
8 ۔ اپنے سے بڑی عمر کے لوگوں اورسب خواتین کا احترام کیجئے
9 ۔ خواہ کوئی آپ کے ساتھ زیادتی کرے آپ کسی کو نہ گالی دیجئے نہ تضحیک کیجئے
10 ۔ ہر سال کم از کم ایک درخت لگایئے چاہے اپنی زمین پر ہی لگائیں اور پہلے سے لگے درخت نہ کاٹیئے

اِس پر خود عمل کیجئے اور اپنے عزیزوں اور دوستوں کو بھی عمل کی ترغیب دیجئے مگر احترام اور پیار سے

جمعہ ۔ کالا یا سبز یا کچھ اور ؟

170 بار دیکھا گیا

محترمہ سیما آفتاب صاحبہ نے ایک تحریر ” گرین فرائی ڈے“ لکھی ۔ وہاں تبصرہ کرنا چاہتا تھا لیکن خدشہ تھا کہ تبصرہ متذکرہ تحریر سے طویل ہو جائے گا چنانچہ اسے یہاں لکھنے کا قصد کیا

ہمارے مُلک میں جو 70 فیصد تک رعائت دی جاتی ہے صرف ایک دھوکہ ہوتا ہے ۔ یہ میرا اسلام آباد کا تجربہ ہے کہ زور ” تک“ پر ہوتا ہے یعنی ”70 فیصد تک“۔ اسلئے 5 فیصد بھی ہو سکتی اور صفر بھی ۔ اور جہاں یہ تجربہ ہوا اُن کا بہت بڑا نام ہے ۔ اسلام آباد میں کچھ دُکانیں ایسی ہیں جن پر موسم کے لحاظ سے یعنی گرمیوں یا سردیوں کا آدھا دورانیہ گزرنے کے بعد وہ کم قیمت فروخت شروع کرتے ہیں تاکہ متعلقہ موسم والے کپڑے نکل جائیں ۔ اس سے میں بھی کبھی کبھی یعنی جب ضرورت ہو فائدہ اُٹھا تا ہوں

یہ ” اشرافیہ “ کون لوگ ہوتے ہیں ۔ اگر مُراد دولتمند ہے تو وہ لوگ اس طرح کی فروخت میں دلچسپی نہیں رکھتے ۔ اس طرح کی فروخت سے میرے جیسے لوگ فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرتے ہیں چاہے بیچنے والے نے پہلے قیمت زیادہ لکھ کر اُسے کاٹ کر کم قیمت لکھی ہو

رہا جمعہ تو کالا نیلا پیلا سبز سفید کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ جمعہ صرف جمعہ ہے ۔ ہم اپنے عمل سے اِسے اچھا بناتے ہیں ۔ خرابی غیرمُسلموں کی اندھی نقّالی کی ہماری عادت میں ہے ۔ ہماری حالت اُس کوّے کی سی ہے جس نےہم مَور کی دُم کے کچھ پَنکھ اپنی دُم میں لگا لئے اور سمجھ بیٹھا کہ مَور بن گیا ہے

ہمارے پاس اپنے تہوار ہیں جیسے عیدالفطر ۔ عیدالاضحٰے ۔ میلادُالنّبی ۔ اِن کے بعد کی بجائے اِن سے ہفتہ 10 دِن قبل سستی فروخت کی جا سکتی ہے تاکہ غریب لوگ بھی عید پر نئے کپڑے پہن سکیں ۔ روزی کمانے کے ساتھ ثواب بھی کمائیں ۔ ہم لوگ 1976ء سے 1983ء تک لبیا کے شہر طرابلس میں رہے ۔ وہاں سب سے بڑی کم قیمت فروخت رمضان المبارک میں ہوتی تھی اور دوسری ربع الاول کے پہلے 10 دنوں میں ۔ زیادہ تر عرب ممالک میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے

ہم لوگ ویسے تو سینہ ٹھونک کر کہتے ہیں ”میں مُسلمان ہوں“ لیکن غیر مُسلموں کے تہوار جیسے کرسمِس ۔ نیو ایئر نائٹ ۔ ایسٹر ۔ بلیک اور گُڈ فرائیڈے مناتے ہیں جبکہ عیدین سے پہلے قیمتیں زیادہ کر دیتے ہیں