Category Archives: معاشرہ

سیاستدانوں کے نام

33 بار دیکھا گیا

رُلاتا ہے تمہارہ نظارہ پاکستانیوں مجھ کو
عبرت خیز ہے یہ ا فسانہ سب فسانوں میں
چھپا کر آستین میں بجلیاں رکھی ہیں غیروں نے
رہنما قوم کے غافل ۔ لڑتے ہیں دونوں ایوانوں میں
وطن کی فکر کرو نادانوں ۔ مصیبت آنے والی ہے
تمہاری بربادیوں کے مشورے ہیں دُشمنوں میں
نہ سمجھو گے تو مٹ جاوگے اے پاکستان والو
تمہاری داستاں تک نہ ہوگی پھر داستانوں میں

محبت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نے
کِیا ہے اپنے بختِ خُفتہ کو بیدار قوموں نے
محبت کے شَرَر سے دل سراپا نُور ہوتا ہے
ذرا سے بیج سے پیدا ریاضِ طور ہوتا ہے

پاکستان کے دُشمنوں سے
دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دُکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو ۔ وہ اب زر کم عیار ہوگا
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ خود کشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ۔ وہ نا پائیدار ہو گا

جسے آمر (Dictator) کہا جاتا ہے ؟

42 بار دیکھا گیا

میں مئی 1976ء سے جنوری 1983ء تک لیبیا کے دارلحکومت طرابلس میں رہائش پذیر تھا ۔ اس دوران بہت کچھ دیکھنے اور سیکھنے کو ملا ۔ آج ایک واقعہ لیبیا کے سربراہ معمر قذافی کے متعلق جسے امریکہ اور اس کے حواریوں نے خلافِ حقیقت بہت بدنام کیا

طرابلس میں موجود پاکستانی بھائیوں سے ملاقات ہوتی رہتی تھی ۔ ان میں انجنیئروں اور ڈاکٹروں کے علاوہ مختلف فیکٹریوں ۔ دفاتر اور تجارتی اداروں میں کام کرنے والے ہر سطح کے لوگ تھے ۔ معمر قذافی کے ذاتی معالج پاکستانی ڈاکٹر تھے جو کبھی کبھی معمر قذافی کے ساتھ اپنے سفر کے خاص خاص واقعات سنایا کرتے تھے

ایک دن میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا ”ایسا واقعہ سنایئے جس نے آپ کو بہت متاءثر کیا”۔
ڈاکٹر صاحب گویا ہوئے ” ایک دن معمر قذافی نے کہیں نہیں جانا تھا چنانچہ میں گھر پر رہا ۔ بعد دوپہر قذافی کا ڈرائیور پہنچ گیا ۔ میں سمجھا کہ قذافی کی طبعیت خراب ہو گی ۔ اپنا بیگ تیار کیا اوراس کے ساتھ چل پڑا ۔ شہر کے باہر پہنچے ۔ جہاں سڑک کے کنارے گاڑیاں کھڑی تھیں ڈرائیور نے گاڑی روکی ۔ اُتر کر اِدھر اُدھر دیکھا تو دُور کچھ لوگ اپنی طرف آتے ہوئے نظر آئے ۔ قریب پہنچ کر قذافی نے مجھے آنے کی وجہ پوچھی ۔ اُسی وقت ایک افسر نے بتایا کہ قذافی کے سر میں درد ہے اسلئے میں نے ڈائیور کو بھیجا تھا ۔ میں نے بیگ میں سے دو اسپرین کی گولیاں نکالیں ۔ قذافی نے گولیاں لیں ۔ سڑک کے کنارے زمین پر بیٹھ کر بسم اللہ پڑھی اورھوالشّافی کہہ کر گولیاں نگل لیں ۔ پھر اُٹھ کھڑا ہوا“۔

ڈاکٹر صاحب نے مزید بتایا ” جب قذافی کسی کام سے صحرا میں گیا ہوتا ۔ وہاں کوئی عام آدمی کھانے کی چیز قذافی کو پیش کرتا تو قذافی زمین پر بیٹھ کر کھا لیتا اور چیز کی تعریف کے بعد دینے والے کا شکریہ بھی ادا کرتا ۔ ایک دن صحرا میں گھومتے بعد دوپر 3 بج گئے ۔ ایک چھوٹے سے مکان کے پاس پہنچے ۔ مکین نے کھانا پیش کیا ۔ بھوک لگی ہوئی تھی ۔ میں بھی کھانے لگا تو کھانے میں ریت کی وجہ سے مجھ سے کھایا نہ گیا مگر قذافی کھاتا رہا ۔ کھا چُکنے کے بعد حسبِ عادت کھانے کی تعریف کی اور کھلانے والے کا شکریہ ادا کیا“۔

کیا ایسے آدمی کو آمر کہنا چاہیئے ؟ ذرا موازنہ کیجئے اپنے ہموطن کسی معمولی افسر کے ساتھ ۔ کتنے ہیں جو ایسا کرتے ہیں ؟

ہمیں بچپن سے ہی بیٹھ کر کھانے پینے کی تربیت دی گئی تھی ۔ یہ واقعہ سُننے کے بعد اگر بیٹھنے کو کرسی یا سٹول نہ ملے میں کہیں بھی ہوں بغیر کچھ سوچے زمین پر بیٹھ کھاتا یا پانی پیتا ہوں

حاکم کا کردار

85 بار دیکھا گیا

ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ روزانہ نمازِ فجر کے بعد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ غائب ہو جاتے ہیں
ایک روز عمر فاروق رضی اللہ عنہ چُپکے سے اُن کے پیچھے چل پڑے ۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ چلتے چلتے مدینہ سے باہر نکل گئے اور شہر سے باہر ایک خیمہ میں داخل ہو کر کچھ دیر اندر رہنے کے بعد واپس مدینہ کی طرف چل پڑے
بعد میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ خیمے میں گئے تو وہاں ایک بُڑھیا کو پایا
پوچھنے پر بڑھیا نے بتایا ”میں نابینا اور مُفلس عورت ہوں ۔ میرا اور میرے دو بچوں کا اللہ کے سوا کوئی نہیں ۔ یہ آدمی روزانہ آ کر جھاڑو دیتا ہے اور کھانا بنا کر چلا جاتا ہے“۔
عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور فرمایا ”اے ابو بکر ۔ تُو نے بعد والوں کو بہت مُشکل میں ڈال دیا“۔

یہ دُنیا یا زمانہ

86 بار دیکھا گیا

یہاں قدر کیا دل کی ہو گی ۔ یہ دُنیا ہے شیشہ گروں کی
محبت کا دِل ٹھوکروں میں ۔ ہے قیمت یہاں پتھروں کی
بڑی سادگی سے زمانہ ۔ کہانی کا رُخ موڑتا ہے
نگاہوں کی بیگانگی سے ۔ محبت کا دِل توڑتا ہے
نظر کھیلتی ہے دِلوں سے ۔ یہ محفل ہے بازیگروں کی
جہاں پیار وقتی تقاضہ ۔ وہاں ذِکر کیا ہو وفا کا
دھوآں بن کے جذبات نکلیں ۔ خلوص ایک جھونکا وفا کا
کہاں جائیں ہم دِل کو لے کر ۔ یہ بستی ہے سوداگروں کی

سول سوسائٹی ۔ آپ کون ہو ؟ کہاں ہو ؟

87 بار دیکھا گیا

سول سوسائٹی کا نام ٹی وی پر سُننے کو ملتا ہے ۔ سوشل میڈیا اور اخبار میں پڑھنے کو ملتا ہے ۔ جب تک ٹی وی چینل عام نہیں ہوئے تھے سول سوسائٹی نام کا کوئی جانور اسلام آباد میں نہیں تھا ۔ پچھلے بارہ تیرہ سال سے ٹی وی پر اسلام آباد سول سوسائٹی کے بہت چرچے ہیں ۔ سول سوسائٹی کیا ہوتی ہے اور کس کام آتی ہے ؟ اس کے متعلق کوئی نہیں بتاتا البتہ سوشل میڈیا پر اس کی مختلف تعریفیں اور توجیہات پڑھنے کو ملتی ہیں

میرا مسئلہ یہ ہے کہ جب تک میں کسی چیز کو دیکھ نہ لوں یا اُس کی موجودگی کے عوامل یعنی اُس کے کئے ہوئے کام نہ دیکھ لوں مجھے تسلی نہیں ہوتی ۔ 4 دہائیاں قبل ہمارے والد صاحب نے اسلام آباد میں مکان بنوایا تھا ۔ میں اُس وقت سے وہاں جاتا رہا ہوں ۔ 1990ء میں میرے والد صاحب اور بھائی وہاں منتقل ہو گئے تھے تو میں ہر ہفتہ وہاں جاتا تھا ۔ میں بھی اگست 1994ء سے اسلام آباد میں رہائش پذیر ہوں

ایک دہائی قبل میں پہلی بار اسلام آباد میں سول سوسائٹی کی تلاش میں نکلا ۔ ہر سیکٹر میں جا کر تلاش کیا ۔ سول سوسائٹی کہیں نظر نہ آئی ۔ لوگوں سے پوچھا ۔ کوئی مُسکرا دیا ۔ کسی نے کہا ”چھوڑو بھائی ۔ کوئی کام کی بات کرو یا کیا خریدنا چاہتے ہو بتاؤ“۔
میں ہر بار ہارے ہوئے کھلاڑی کی طرح منہ لٹکائے گھر واپس آتا رہا

۔ سال 2015ء میں اسلام آباد میں لوکل باڈیز الیکشن کا اعلان ہونے کے بعد مجھے اپنے سیکٹر (ایف.8) میں سٹریٹ نمبر 26 کے کنارے ایک چھوٹا سا سائن بورڈ نظر آیا جس پر لکھا تھا ”سول سوسائٹی کے دفتر میں تشریف لائیں“۔ اور اشارہ دیا تھا ۔ بندہ خوشی سے اُچھل گیا اور اس اشارے کی تابعداری کرتے ہوئے ایک کوٹھی کے گیٹ پر جا پہنچا ۔ گھنٹی کا بٹن دبانے کے بعد میں بڑے ذوق و شوق کے ساتھ انتظار میں لگ گیا کہ مُراد بھر آنے والی تھی ۔ کچھ منٹ بعد ایک صاحب تشریف لائے ۔ اُن سے اپنی آمد کا مُدعا بیان کیا ۔ اُنہوں نے ایسے تاءثر دیا جیسے میں نے اُن سے سنسکرت میں بات کی تھی اور اُن کے پلّے کچھ نہیں پڑا ۔ ”پھر کسی وقت آئیں“ کہہ کر وہ واپس تشریف لے گئے ۔ میں چند لمحے شَشدر کھڑا رہنے کے بعد گھر کو روانہ ہو گیا

محترم قاررئین یا محترمات قاریات ۔ آپ میں سے کوئی سول سوسائٹی کا براہِ راست تجربہ رکھتا ہو تو درخواست ہے کہ سول سوسائٹی کی تقریروں ۔ پریس کانفرنسوں اور دعووں کی بجائے اُن کے کئے ہوئے کاموں سے مطلع فرمائیں ۔ مشکور ہوں گا

عمل اور ردِ عمل

82 بار دیکھا گیا

وقوع پذیر ہونے والے کچھ عوامل ہمارے لئے تکلیف کا باعث ہوتے ہیں
کچھ لوگ ہماری ز ندگی میں آ کر چلے جاتے ہیں
اور سب سے بڑھ کر ایسے لمحات ہیں جب انسان کا ٹوٹ جانا ضروری ہو جاتا ہے
ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ ہمیں نامہربان یا بے رحم نہ بنا دیں

دہشت گردی ختم ہو سکتی ہے اگر ۔ ۔ ۔

104 بار دیکھا گیا

آدھی صدی قبل میں نے یہ نظم کہیں پڑھی ۔ زندگی کے لائحہءِ عمل کیلئے پسند آئی اور اپنے پاس لکھ کر اِسے اپنا نصب العین بنانے کی کوشش شروع کر دی ۔ کس حد تک کامیاب ہوا ؟ یہ صرف اللہ ہی جانتا ہے

آج کے حالات تقاضہ کرتے ہیں کہ اِس نظم کو سب تک پہنچایا جائے تاکہ میرے ہموطنوں کیلئے چین و سُکھ کی زندگی کا حصول ممکن ہو سکے ۔ مجھے یقین ہے کہ اِسے اپنانے سے دہشتگردی پر قابو پانے میں بھی کامیابی ہو سکتی ہے

کوشاں سبھی ہیں رات دن اِک پل نہیں قرار
پھِرتے ہیں جیسے ہو گرسنہ گُرگِ خونخوار
اور نام کو نہیں انہیں ۔ انسانیت سے پیار
کچھ بات کیا جو اپنے لئے جاں پہ کھیل جانا
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا

سِیرت نہ ہو تو صورتِ سُرخ و سفید کیا ہے
دل میں خلوص نہ ہو ۔ تو بندگی رِیا ہے
جس سے مِٹے نہ تیرگی وہ بھی کوئی ضیاء ہے
ضِد قول و فعل میں ہو تو چاہيئے مٹانا
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا

بھِڑ کی طرح جِیئے ۔ تو جینا تيرا حرام
جِینا ہے یہ کہ ہو تيرا ہر دل میں احترام
مرنے کے بعد بھی تيرا رہ جائے نیک نام
اور تجھ کو یاد رکھے صدیوں تلک زمانہ
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا

وعدہ ترا کسی سے ۔ ہر حال میں وفا ہو
ایسا نہ ہو کہ تجھ سے انساں کوئی خفا ہو
سب ہمنوا ہوں تیرے تُو سب کا ہمنوا ہو
یہ جان لے ہے بیشک گناہ ۔کسی کو ستانا
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا

تو زبردست ہے اگر ۔ تو قہرِ خدا سے ڈرنا
اور زیردست پر کبھی ظلم و ستم نہ کرنا
ایسا نہ ہو کہ اِک دن گر جائے تو وگرنہ
پھر تُجھ کو روند ڈالے پاؤں تلے زمانہ
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا

مِل جائے کوئی بھوکا کھانا اسے کھلانا
مل جائے کوئی پیاسا پانی اسے پلانا
آفت زدہ ملے ۔ نہ آنکھیں کبھی چرانا
مضرُوبِ غم ہو کوئی مَرہَم اُسے لگانا
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا

دل میں ہے جو غرور و تکبر ۔ نکال دے
اور نیک کام کرنے میں اپنی مثال دے
جو آج کا ہو کام وہ کل پر نہ ڈال دے
دنیا نہیں کسی کو دیتی سدا ٹھکانا
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا

ایمان و دِین یہی ہے اور بندگی یہی ہے
یہ قول ہے بڑوں کا ہر شُبہ سے تہی ہے
اِسلاف کی یہی ۔ روشِ اولیں رہی ہے
تُجھ سے ہو جہاں تک اپنے عمل میں لانا
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا

نفرت رہے نہ باقی نہ ظلم و ستم کہیں ہو
اِقدام ہر بَشَر کا پھر ۔ اُمید آفریں ہو
کہتے ہیں جس کو جنت کیوں نہ یہی زمیں ہو
اِقرار سب کریں کہ تہہِ دل سے ہم نے مانا
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا