Category Archives: قومی سانحات

ملکوں اور اداروں میں جب کرپشن کا دور دورہ ہو اور سربراہ نااہل ہوں تو تباہی کس طرح آتی ہے

ایک دن حکمران محل میں بیٹھا تھا کہ محل کے باہر سیب فروش کو آواز لگاتے ہوئے سنا ”سیب لے لو ۔ سیب“۔
حاکم نے دیکھا کہ دیہاتی گدھے پر سیب لادے جارہا ہے۔ وزیر سے کہا ” خزانے سے 5 سونے کے سکےلو اور ایک سیب لاؤ“۔
”یہ 4 سونے کے سکے لیں اور ایک سیب لائیں“۔ وزیر نے خزانے سے 5 سکے نکالے اور اپنے معاون سے کہا
” سونے کے یہ 3 سکے لیں اور ایک سیب لائیں”۔ معاون وزیر نے محل کے منتظم کو بلایا اور کہا
منتظم نےچوکیداری منتظم کو بلایا اور کہا ” یہ 2 سونے کے سکے لیں اور ایک سیب لائیں“۔
چوکیداری کے منتظم نے گیٹ سپاہی کو بلایا اور کہا ” یہ ایک سونے کا سکہ لو اور ایک سیب لاؤ“۔

سپاہی سیب والے کے پیچھے گیا اور اسے گریبان سے پکڑ کر کہا ”دیہاتی انسان ۔ تم اتنا شور کیوں کر رہے ہو؟ تمہیں نہیں معلوم کہ یہ بادشاہ کا محل ہے اور تم نے دل دہلا دینے والی آوازوں سے بادشاہ کی نیند میں خلل ڈالا ہے۔ اب مجھے حکم ہے کہ تجھ کو قید کر دوں“۔
سیب فروش محل کے سپاہی کے قدموں میں گر گیا اور کہا ” میں نے غلطی کی جناب ۔ اس گدھے کا بوجھ میری محنت کے ایک سال کا نتیجہ ہے ۔ یہ لے لو لیکن مجھے قید کرنے سے معاف رکھو“۔
سپاہی نے سیب لئے اور آدھے اپنے پاس رکھے اور باقی اپنے منتظم افسر کو دے دیئے۔ منتظم افسر نے بقیہ میں سے آدھے رکھے اور آدھے اُوپر کے افسر کو دے دیئے
افسر نے ان سیبوں کا آدھا حصہ محل کےمنتظم کو دیا
محل کے منتظم نے باقی باقیہ سیبوں کے آدھے سیب اپنے لئے رکھے اور آدھے اسسٹنٹ وزیر کو دیئے
اسسٹنٹ وزیر نے اُن مین سے آدھے سیب اٹھائے اور وزیر کے پاس جا کر کہا ” ان سیبوں کی قیمت 4 سونے کے سکے ہیں“۔
وزیر نے اُن میں سے آدھے سیب اپنے لئے رکھے اور اس طرح صرف پانچ سیب لے کر حکمران کے پاس گیا اور کہا ” یہ 5 سیب ہیں جن کی مالیت 5 سونے کے سکے ہیں“۔

حاکم نے سوچا کہ اس کے دور حکومت میں لوگ واقعی امیر اور خوشحال ہیں
کسان نے 5 سیب 5 سونے کے سکوں کے عوض فروخت کئے
یعنی ایک سونے کے سکے کا ایک سیب اور لوگ ایک سونے کے سکے کے عوض ایک سیب خریدتے ہیں
یعنی وہ امیر ہیں
اس لئے بہتر ہے کہ ٹیکس میں اضافہ کیا جائے اور محل کے خزانے کو بھر دیا جائے
نتیجہ یہ ہوا کہ عوام میں غربت اور بڑھ گئی

(فارسی ادب سے ماخوذ)

یومِ یکجہتیءِ کشمیر کیوں اور کیسے

آج یومِ یکجہتیءِ کشمیر ہے ۔ یہ دن پہلی مرتبہ 5 فروری 1990 کو منایا گیا ۔ میں نے پچھلے سال ستمبرمیں دوسرے بلاگ [حقيقت اکثر تلخ ہوتی ہے] میں لکھا تھا کہ جموں کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی کے لئے دوسری مسلح جدوجہد 1989ءمیں شروع ہوئی ۔ اس تحریک کا آغاز کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں تھا اور نہ ہی یہ کسی باہر کے عنصر کی ایما پر شروع کی گئی تھی ۔بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہر دن کے مظالم سے مقبوضہ جموں کشمیر کے مسلمان تنگ آ چکے تھے اور سب سے مایوس ہونے کے بعد پاکستان سے بھی مایوسی ہی ملی – بےنظیر بھٹو نے 1988 میں حکومت سنبھالتے ہی بھارت سے دوستی کی خاطر نہ صرف جموں کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ دغا کیا بلکہ بھارت کے ظلم و ستم کے باعث سرحد پار کر کے آزاد جموں کشمیر میں آنے والے بے خانماں کشمیریوں کی امداد بند کر دی مزید جن دشوار گزار راستوں سے یہ لوگ آزاد جموں کشمیر میں داخل ہوتے تھے اُن کی بھارت کو نشان دہی کر دی گئی جس کے نتیجہ میں بھارتی فوج نے 500 کے قریب بے خبر مجبور کشمیریوں کو شہید کر دیا ۔ اِس صورتِ حال کے پیشِ نظر پاکستان کی چند سیاسی جماعتوں نے جن میں جماعتِ اسلامی پیش پیش تھی جموں کشمیر کے عوام کے ساتھ ہمدردی کے اِظہار کے لئے 5 فروری 1990ء کو یومِ یکجہتیءِ کشمیر منانے کا فیصلہ کیا جو اُس وقت کی حکومت کی مخالفت کے باوجود عوام نے بڑے جوش و خروش سے منایا ۔

اہل کشمیر سے یکجہتی کا اظہار محض روایتی نوعیت کی اخلاقی ہمدردی کا مسئلہ نہیں، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اسی اہمیت کی وجہ سے برطانوی حکومت نے 1947ء میں پاکستان اور بھارت کی آزاد مملکتوں کے قیام کے ساتھ ہی پوری منصوبہ بندی کے تحت یہ مسئلہ پیدا کیا۔ قیام پاکستان کے بعد کوئی ایسی دشواری نہیں تھی جو برطانوی حکومت اور برصغیر میں اس کے آخری وائسرائے نے ہمارے لئے پیدا نہ کی ہو اور سب سے زیادہ کاری ضرب جو پاکستان پر لگائی جاسکتی تھی وہ مسئلہ کشمیر کی صورت میں لگائی گئی۔ کشمیر کا مسئلہ دو مملکتوں کے درمیان کسی سرحدی تنازع کا معاملہ نہیں بلکہ کشمیریوں کی ”حق خودارادیت“ کی جدوجہد پاکستان کی بقا کی جنگ ہے ۔ کشمیر کا مسئلہ برطانوی حکومت نے پیدا کرایا ۔ وہ برصغیر سے جاتے جاتے کشمیر کو بھارت کی جارحیت کے سپرد کر گئے اور اس سروے میں مِڈل مَین کا کردار برصغیر میں برطانیہ کے آخری وائسرائے اور آزاد بھارت کے پہلے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ادا کیا جس کا مقصد یہ تھا کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی اس مملکت کے جسم پر ایک ناسور بنا دیا جائے اور اُس کے بعد بھارت محض اسلحہ کی طاقت کے زور پر کشمیریوں پر اپنی بالادستی قائم رکھے ہوئے ہے ۔

قوموں کی زندگی میں ایک وقت فیصلہ کا آتا ہے کہ “جھُکے سر کے ساتھ چند روز عیش قبول کرلیں” یا “سرفروشی کے ساتھ سرفرازی کی راہ اپنائیں”۔ جَبَر کرنے والے اذِیّتوں سے اور موت سے ڈراتے ہیں۔ اِیمانی توانائی موت سے نبرُد آزما ہونے کی جرأت عطا کرتی ہے۔ موت میں خوف نہیں ہوتا بکہ لذت ہوتی ہے اور جذبہءِ ایمانی کا کَیف اس لذّت کو نِکھارتا ہے۔ اہل کشمیر اب اس لذّت سے سرشار ہو چکے ہیں ۔ یہ اللہ کا کرم ہے اہل کشمیر پر اور اہل پاکستان پر بھی ۔ اہل کشمیر صرف کشمیرکیلئے حق خودارادیت کی جنگ نہیں لڑ رہے ہیں وہ پاکستان کے استحکام کی جنگ بھی لڑ رہے ہیں۔ حُرِیّت کی داستانیں اِسی طرح رَقَم ہوتی ہیں۔ بھارت کی جارحانہ طاقت اس جذبے کا مقابلہ کب تک کرے گی ۔ بھارتی فوج پوری طرح مسلح ہے لیکن وہ انسانی قدروں سے نہ صرف محروم بلکہ ان سے متصادم ہے اس لئے ناکامی اس کا مقدر ہے ۔ بھارت کشمیریوں کی حق خودارادیت کے حصول کی جنگ کو ”دہشت گردی“ کہتا جبکہ خود بھارت انسانیت کو پامال کر رہا ہے ۔

پہلے مُنتخِب وزیر اعظم کی شہادت

آج سے 69 سال قبل 16اکتوبر کی صبح قائدِ مِلّت راولپنڈی پہنچے ۔ سہ پہر کے وقت کمپنی باغ (اب لیاقت باغ) میں جلسہ عام سے خطاب کرنا تھا جس میں نئے عام انتخابات کا اعلان کرنا تھا ۔ نواب زادہ لیاقت علی خان نے تقریر شروع کرتے ہوئے ابھی اتنا ہی کہا تھا ” برادرانِ مِلت ۔ ۔ ۔ “۔ کہ پہلی صف میں بیٹھے افغان باشندے سَید اکبر نے 2 گولیاں چلائیں ۔ ایک نواب زادہ لیاقت علی خان کے سر اور دوسری پیٹ میں لگی ۔ نواب زادہ لیاقت علی خان گر پڑے ۔ اُن کے آخری الفاظ جو سُنائی دیئے یہ تھے ” الله پاکستان کی حفاظت کرے“۔
اگر اس روز اعلان ہوجاتا اور انتخابات ہوجاتے تو تاریخ بدل جاتی اور نوکر شاہی کے سیاسی عزائم خاک میں مل جاتے ۔ بہر کیف قائدِ مِلّت جیسا وزیرِ عظم جو پاکستان کو صحیح جمہوری ملک بنانے کی صلاحیت رکھتا تھا اور قائد اعظم کے بعد تنہا ملک کی اُمیدوں کا سہارا تھا بغیر کچھ وصیت کئے ایک بیوہ ۔ 2 کم سن بچوں پر مشتمل جائیداد چھوڑکر ہم سے رخصت ہوگیا
سَید اکبر کو لوگوں نے قابو کر کے اُس کا پستول چھین لیا تھا ۔ پھر ایک پشتو آواز گونجی ”گولی کس نے چلائی ۔ مارو اِسے“۔ یہ آواز ایس پی نجف خان کی تھی ۔ اس حُکم کی تعمیل میں انسپکٹر محمد شاہ نے سَید اکبر پر گولیاں چلا کر اُسے ہلاک کر دیا ۔ کہا جاتا ہے کہ محمد شاہ کا تبادلہ کچھ دن قبل ہی کیمبلپور (اٹک) سے راولپنڈی کیا گیا تھا ۔ پولیس قوانین کے مطابق قاتل کو زندہ پکڑنا ضروری ہوتا ہے ۔ مقابلہ کرتے ہوئے مارا جائے تو الگ بات ہے ۔ چنانچہ انسپیکٹر محمد شاہ نے جُرم کا ارتکاب کیا تھا لیکن حیرت ہے کہ عدالت میں اُس نے کہا ”میں جذبات میں آ گیا تھا“۔ اور اُسے کچھ نہ کہا گیا
قوم نے صرف اتنا کیا کہ کمپنی باغ کا نام لیاقت باغ اور اُس کے ساتھ والی سڑک کا نام لیاقت روڈ رکھ دیا

امریکی خفیہ دستاویزات پر مشتمل کتاب دی امریکن رول اِن پاکستان کے صفحہ 61 اور 62 کے مطابق امریکہ میں پہلے پاکستانی سفیر کی حیثیت سے اسناد تقرری پیش کرنے کے بعد اپنی درخواست میں اصفہانی صاحب نے لکھا ہنگامی حالت میں پاکستان ایسے اڈے کے طور پر کام آسکتا ہے جہاں سے فوجی و ہوائی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ ظاہر ہے یہ کارروائی اس سوویت یونین کےخلاف ہوتی جو ایٹمی دھماکے کے بعد عالمی سامراج کی آنکھ میں زیادہ کھٹکنے لگا تھا
1949ء میں امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف کی رپورٹ میں ہے پاکستان کے لاہور اور کراچی کے علاقے ۔ وسطی روس کےخلاف کارروائی کیلئے کام آسکتے ہیں اور مشرق وسطیٰ کے تیل کے دفاع یا حملے میں بھی کام آسکتے ہیں۔
یاد رہے کہ روس کے ایٹمی دھماکے اور چین میں کمیونزم آجانے سے امریکہ پاکستان کی جانب متوجہ ہوا چنانچہ امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری جارج کریوز مَیگھی دسمبر 1949ء میں پاکستان آئے اور وزیراعظم لیاقت علی خان کو امریکی صدر ٹرومین کا خط اور امریکی دورے کی دعوت دی لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ اس موقع پر انہوں نے اہم ملاقات وزیر خزانہ غلام محمد سے کی جنہوں نے میگھی کو تجویز دی ”ایسا انتظام ہونا چاہیئے کہ امریکی انٹیلی جنس کا پاکستانی انٹیلی جنس سے رابطہ ہو اور ساتھ ہی ساتھ اِن (غلام محمد) کے ساتھ براہ راست رابطہ ہو“ (صفحہ 106)۔
دسمبر 1949ء میں پاک فوج کے قابل افسران جنرل افتخار اور جنرل شیر خان ہوائی حادثے کا شکار ہوگئے ۔ باقی کسر پنڈی سازش کیس نے
پوری کر دی ۔ ایوب خان ابتداء ہی سے امریکہ کا نظرِ انتخاب تھے ۔ وہ قیام پاکستان کے وقت لیفٹیننٹ کرنل تھے اور صرف 3 سال بعد میجر جنرل بن گئے۔ وہ کمانڈر انچیف سرڈیگلس گریسی کے ساتھ نائب کمانڈر انچیف تھے
زمامِ اقتدار اس وقت کُلی طور پر امریکی تنخواہ داروں کے ہاتھ آئی جب 16 اکتوبر 1951ء کو لیاقت علی خان قتل کردیئے گئے ۔ خواجہ ناظم الدین گورنر جنرل کا عہدہ چھوڑ کر وزیراعظم ۔ ان کی جگہ وزیر خزانہ غلام محمد با اختیار گورنر جنرل ۔ اسکندر مرزا ڈیفنس سیکرٹری (جو آئی سی ایس آفیسر تھا اور ڈیفنس سیکریٹری بننے کے بعد اپنے آپ کو میجر جنرل کا رینک دے دیا تھا) اور ایوب خان کمانڈر انچیف اور یوں امریکی کورم پورا ہوگیا (وزیر اعظم با اختیار نہیں تھا)
دوسری طرف امریکہ نے خطے میں روسی خطرے سے نمٹنے کے لئے دیگر اہم ممالک پر بھی توجہ مرکوز کر رکھی تھی یہاں تک کہ جب اگست 1953ء میں ایران میں ڈاکٹر مصدق نے برطانیہ کے ساتھ تیل کے مسئلے پر تعلقات خراب کرلئے تو امریکہ نے ایران سے بھاگے ہوئے رضا شاہ پہلوی کو رَوم سے لاکر تخت پر بٹھادیا اور پھر روس کے خلاف ترکی ۔ ایران اور پاکستان کو ایک معاہدے میں نتھی کردیا جسے بغداد پیکٹ کہا گیا
ہمارا دوست امریکہ کتنا ہی دغاباز کیوں نہ ہو لیکن ہم سے معاملات طے کرتے وقت اس نے منافقت کا کبھی سہارا نہیں لیا ۔ وہ صاف کہتا ہے ”امریکہ کو چاہیئے کہ امریکی دوستی کے عوض پاکستان کی موجودہ حکومت کی مدد کرے اور یہ کوشش بھی کرے کہ اس حکومت کے بعد ایسی حکومت برسراقتدار نہ آجائے جس پر امریکہ مخالف کا قبضہ ہو ۔ ہمارا ہدف امریکی دوست نواز حکومت ہونا چاہیئے“۔
(فروری 1954ء میں نیشنل کونسل کا فیصلہ ۔ بحوالہ پاکستان میں امریکہ کا کردار صفحہ 326)

جب نوازادہ لیاقت علی خان امریکہ کے صدر ٹرومَین کی دعوت پر امریکہ گئے تو اُن پر امریکہ کی حمائت وغیرہ کیلئے دباؤ ڈالا گیا ۔ نوابزادہ لیاقت علی خان نے کہا
“We want to have friendship with USA but will not take dictation from anyone۔”

Extract from an article published on October 24, 1951 in an Indian magazine
WHO SHOT LAK (Liaquat Ali Khan)?..CIA CONNECTION
[…]It was learned within Pakistani Foreign Office that while UK pressing Pakistan for support re Iran, US demanded Pakistan exploit influence with Iran and support Iran transfer oil fields to US. Liaquat declined request. US threatened annul secret pact re Kashmir. Liaquat replied Pakistan had annexed half Kashmir without American support and would be able to take other half. Liaquat also asked US evacuate air bases under pact. Liaquat demand was bombshell in Washington. American rulers who had been dreaming conquering Soviet Russia from Pakistan air bases were flabbergasted. American minds set thinking re plot assassinate Liaquat. US wanted Muslim assassin to obviate international complications. US could not find traitor in Pakistan as had been managed Iran, Iraq, Jordan. Washington rulers sounded US Embassy Kabul. American Embassy contacted Pashtoonistan leaders, observing Liaquat their only hurdle; assured them if some of them could kill Liaquat, US would undertake establish Pashtoonistan by 1952. Pashtoon leaders induced Akbar undertake job and also made arrangements kill him to conceal conspiracy. USG-Liaquat differences recently revealed by Graham report to SC; Graham had suddenly opposed Pakistan although he had never given such indication. […] Cartridges recovered from Liaquat body were American-made, especially for use high-ranking American officers, usually not available in market. All these factors prove real culprit behind assassin is US Government, which committed similar acts in mid-East. “Snakes” of Washington’s dollar imperialism adopted these mean tactics long time ago.

امریکہ کی مندرجہ ذیل خُفیہ دستاویزات جن سے معلومات حاصل کی گئی تھیں 2010ء تک انٹرنیٹ پر موجود تھیں ۔ جب میں نے 2015ء کے شروع میں دیکھا تو انٹرنیٹ سے ہٹائی جا چُکی تھیں

1. America’s Role in Pakistan
2. Confidential Teاegram No. 1532 from New Delhi Embassy, Oct. 30, 1951
3. Confidential Telegram from State Dept., Nov. 1, 1951
4. Secret Telegram from Moscow Embassy, Nov. 3, 1951 [only first page located]
5. Popular Feeling in Pakistan on Kashmir and Afghan Issues, Nov. 10, 1951

حسبِ حال

حق کی خاطر جب بھی کھولی زباں کسی نے
ہاتھوں میں حاکم کے اِک نئی تعذِیر نظر آئی
جس سِمت نظر اُٹھی اس شہرِ حاکماں میں
اُن کے کاغذی وعدوں کی ہی تشہِیر نظر آئی
ایسا طلِسم دیکھا شہر میں اب کے
ہر سُرعت کے پیچھے تاخِیر نظر آئی
جہانگِیری اِنصاف کے نعرے تو بہت ہیں
ہر مخالف کےگلے ہی میں زنجِیر نظر آئی
سوچا تھا نیا پاکستان خوشیوں کا گھر ہو گا
ہمیں یہ دنُیا تو حادثوں کی جاگِیر نظر آئی

آج کے مسلمان کی حالت

خودی کی موت سے مغرب کا اندرون بے نور
خودی کی موت سے مشرق ہے مبتلائے جذّام
خودی کی موت سے روح عرب ہے بے تب و تاب
بد ن عراق و عجم کا ہے بے عرق و عظّام
خودی کی موت سے ہندی شکستہ بالوں پر
قفس ہوا ہے حلال اور آشیانہ حرام
خودی کی موت سے پیر حرم ہوا مجبور
کہ بیچ کھائے مسلمانوں کا جامہء احرام

پاکستان کی تاریخ

ہم نے لفظ پاکستان کی تاریخ کو بھی ایمانداری سے اپنے تعلیمی نصاب میں شامل نہیں کیا۔ ہم اپنے نصاب میں یہ تو بتاتے ہیں کہ دو قومی نظریے کی ابتداء سر سید احمد خان نے کی تھی، جنہوں نے مسلمانوں اور ہندوئوں کو دو علیحدہ قومیں قرار دیا لیکن جمال الدین افغانی کو اہمیت نہیں دی جنہوں نے وسط ایشیا سے شمال مغربی ہندوستان تک ایک علیحدہ مسلم جمہوریت کی تجویز پیش کی۔ پھر 1890میں عبدالحلیم شرر نے ہندوستان کو ہندو اور مسلم اضلاع میں تقسیم کرنے کی تجویز دی۔ اکبر الٰہ آبادی، مولانا محمد علی جوہر، حسرت موہانی اور مولانا اشرف علی تھانوی نے 1905اور 1928کے درمیان بار بار علیحدہ مسلم مملکت کی تجویز پیش کی۔ 1928میں کپواڑہ کے علاقے ہندواڑہ سے تعلق رکھنے والے ایک کشمیری صحافی غلام حسن شاہ کاظمی نے ’’ہفت روزہ پاکستان‘‘ کے نام سے ڈیکلریشن کے لئے ایبٹ آباد میں درخواست دی تھی۔ علامہ اقبالؒ نے 1930میں اپنے خطبہ الٰہ آباد میں تفصیل سے پنجاب، صوبہ سرحد، سندھ اور بلوچستان کو علیحدہ ریاست بنانے کی تجویز دی۔ ہمارے تعلیمی نصاب میں لفظ پاکستان کا خالق چوہدری رحمت علی کو قرار دیا جاتا ہے۔ اُنہوں نے 1933ءمیں ایک کتابچہ NOW OR NEVER کے نام سے شائع کیا تھا جس میں لفظ پاکستان کی تشریح کی گئی۔ یہ کتابچہ ’’پاکستان موومنٹ‘‘ نامی تنظیم نے شائع کیا جس کے صدر اسلم خٹک اور سیکرٹری چوہدری رحمت علی تھے۔ اس کتابچے کے مطابق لفظ پاکستان میں پ کا تعلق پنجاب، الف کا تعلق افغان، ک کا تعلق کشمیر، س کا تعلق سندھ اور تان کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ ’’پاکستان موومنٹ‘‘ نامی اس تنظیم میں خواجہ رحیم بھی شامل تھے اور انہوں نے اس نام کی منظوری علامہ اقبالؒ سے لی تھی۔ ڈاکٹر جہانگیر تمیمی کی تصنیف ’’اقبالؒ، صاحب حال‘‘ کے مطابق علامہ اقبالؒ نے 22نومبر 1937کو لفظ پاکستان مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کے سامنے استعمال کیا اور کہا ’’پاکستان ہی مسلمانوں کے مسائل کا واحد حل ہے‘‘۔ علامہ اقبالؒ کو تصور پاکستان کا خالق بھی کہا جاتا ہے لیکن افسوس کہ پاکستانیت کے اکثر علمبردار افغانوں کے بارے میں شاعر مشرق کے خیالات سے نابلد ہیں۔ علامہ اقبالؒ کا افغانستان اور پشتو زبان کے بارے میں بڑا گہرا مطالعہ تھا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایک استاد شیخ عطاءاللہ نے بڑی محنت سے علامہ اقبالؒ کے ساڑھے چار سو سے زائد خطوط تلاش کئے اور ’’اقبال نامہ‘‘ کے نام سے شائع کر دیئے۔ یہ کتاب سب سے پہلے 1944میںشائع ہوئی تھی۔ اب اسے اقبال اکادمی پاکستان نے دوبارہ شائع کیا ہے۔ اس کتاب میں خالد خلیل کے نام علامہ اقبالؒ کا ایک خط شامل ہے جس میں شاعر مشرق نے پشتو بولنے والے افغان اور پٹھان کو ایک ہی قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ افغان دراصل یہودی النسل ہیں، اِس لئے پشتو میں عبرانی زبان کے کئی الفاظ ہیں۔ اس خط میں خوشحال خان خٹک کی بہت تعریف کی گئی ہے۔ علامہ اقبالؒ نے ’’خوشحال خان کی وصیت‘‘ کے نام سے اپنی نظم میں کہا تھا
قبائل ہوں ملت کی وحدت میں گم
کہ ہو نام افغانیوں کا بلند
محبت مجھے اُن جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
اور پھر ایک اور جگہ کہا کہ؎
آسیا یک پیکر آب و گل است
ملتِ افغان در آں پیکر دل است
یعنی ایشیا ایک جسم ہے تو افغان اس جسم میں دل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اقبال نے کہا تھا ’’افغان باقی، کہسار باقی۔ الحکم للہ، الملک للہ‘‘۔ یہ افغان صرف وہ نہیں جو افغانستان میں رہتے ہیں بلکہ یہ پاکستان میں بھی رہتے ہیں جن کو پختون اور پٹھان کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر محمد نواز خان محمود اپنی کتاب ’’فرنگی راج اور غیرت مند مسلمان‘‘ میں لکھتے ہیں کہ افغان، پشتون یا پٹھان کی نسل بنی اسرائیل(حضرت یعقوب علیہ السلام) سے ہے، اُنکے جدِ امجد کا نام افاغنہ تھا جو بنی اسرائیل کے بادشاہ طالوت کا پوتا تھا۔ اگر کوئی پاکستانی پشتون اپنے آپ کو افغان کہتا ہے تو کسی کو غصے میں آنے کی ضرورت نہیں یہ اُسکی پہچان ہے۔ جس طرح پنجابی بھارت میں بھی رہتے ہیں، پاکستان میں بھی رہتے ہیں، سندھی بولنے والے بھارت میں بھی ہیں، بلوچی بولنے والے افغانستان اور ایران میں رہتے ہیں، اُسی طرح پشتو بولنے والا پاکستانی اپنے آپ کو افغان کہہ دے تو مسکرا کر اُسے گلے لگایئے اور کہہ دیں میں بھی افغان ہوں کیونکہ آج کے پاکستان میں رہنے والوں کے اکثر بزرگوں کو حضرت داتا گنج بخشؒ، حضرت قطب الدین بختیار کاکیؒ، حضرت معین الدین چشتیؒ اور لال شہباز قلندرؒ نے مسلمان کیا اور یہ صوفیاء افغان تھے

بھارتی ردِ عمل اور حقیقت

پیش لفظ
میں نے آج سے سوا 9 سال قبل جو لکھا تھا وہ اپنی عملی صورت میں سامنے آ چکا ہے

میری 31 جولائی 2010ء کو شائع شدہ تحریر کی تیسری قسط
(دوسری قسط 11 اکتوبر کو شائع کی تھی)

کمال یہ ہے کہ پاکستان کی دوستی کی دعوت کے جواب میں بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے گلگت اور بلتستان پر بھی اپنی ملکیت کا دعوی کر دیا تھا (اور یہ بھارتی دعوٰی ابھی تک قائم ہے) جبکہ گلگت اور بلتستان کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں تھے اور نہ یہاں سے کوئی راستہ بھارت کو جاتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں کے لوگوں نے 27 اکتوبر 1947ء کو بھارتی فوج کے زبردستی جموں میں داخل ہونے سے بہت پہلے گلگت اور بلتستان میں اپنی آزادی اور پاکستان سے الحاق کا اعلان کردیا تھا ۔ اس کی تفصیل بعد میں آئے گی

پاکستان کو بنجر کرنے کا منصوبہ
مقبوضہ جموں کشمیر میں متذکّرہ بالا ڈیمز مکمل ہو جانے کے بعد کسی بھی وقت بھارت دریائے چناب کا پورا پانی بھارت کی طرف منتقل کر کے پاکستان کے لئے چناب کو خشک کر سکتا ہےاور دریائے جہلم کا بھی کافی پانی روک سکتا ہے جس کا کچھ نمونہ ميری تحرير کے 5 سال بعد سامنے آ چکا ہے ۔ اس طرح پانی کے بغیر پاکستان کی زمینیں بنجر ہو جائیں گی اور زندہ رہنے کے لئے پاکستان کو بھارت کے سامنے گھُٹنے ٹیکنا پڑیں گے ۔ چنانچہ بغیر جنگ کے پاکستان بھارت کا غلام بن جائے گا ۔ اللہ نہ کرے کہ ايسا ہو ۔

قحط اور سیلاب (یہ ہو چکا ہے)
حقیقت یہ ہے کہ بھارت کا مقبوضہ جموں کشمیر میں 7 ڈیم بنانے کا منصوبہ ہے جن میں سے بھارت دریائے جہلم اور چناب پر 3 ڈیم 2005ء تک مکمل کر چکا تھا ۔ 2 دریاؤں پر 7 ڈیم بنانے کے 2 مقاصد ہیں
اول یہ کہ دریاؤں کا سارا پانی نہروں کے ذریعہ بھارتی پنجاب اور دوسرے علاقوں تک لیجایا جائے اور پاکستان کو بوقت ضرورت پانی نہ دے کر قحط کا شکار بنا دیا جائے
دوم جب برف پگلے اور بارشیں زیادہ ہوں تو اس وقت سارا پانی جہلم اور چناب میں چھوڑ دیا جائے تاکہ پاکستان میں تباہ کن سیلاب آئے ۔ ماضی ميں بھارت یہ حرکت دو بار کر چکا ہے ۔ بھارت کا اعلان کہ ڈیم بجلی کی پیداوار کے لئے بنائے جا رہے ہیں سفید جھوٹ اور دھوکا ہے ۔ کیونکہ جموں کشمیر پہاڑی علاقہ ہے ہر جگہ دریاؤں کے راستہ میں بجلی گھر بنائے جا سکتے ہیں اور بڑے ڈیم بنانے کی بالکل بھی ضرورت نہیں

قوم کو بیوقوف بنانے کے لئے پرويز مشرف کی حکومت نے منگلا ڈیم کو 10 میٹر اونچا کرنے کا ملٹی بلین پراجیکٹ شروع کیا جس پر موجودہ حکومت بھی عمل پيرا ہے ۔ چند سال بعد دریائے جہلم میں اتنا بھی پانی ہونے کی توقع نہیں کہ ڈیم کی موجودہ اُونچائی تک جھیل بھر جائے پھر یہ اتنا روپیہ ضائع کرنے کی منطق سمجھ میں نہیں آتی اور نہ اس کا جواز کسی کے پاس ہے

ایک ضمنی بات يہ ہے کہ پہلی پلاننگ کے مطابق منگلا ڈیم کی اونچائی موجودہ اونچائی سے 10 میٹر زیادہ تجویز کی گئی تھی 1962ء میں کا م شروع ہونے سے پہلے ڈیم کی محافظت اور پانی کی مماثل مقدار کی کم توقع کے مدنظر اونچائی 10 میٹر کم کر دی گئی تھی ۔ اس لئے اب اونچائی زیادہ کرنا پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ہے ۔ اس سلسلہ میں میں اور کئی دوسرے حضرات جن میں زیادہ تر انجنیئر ہیں 2004ء سے 2006ء تک اخباروں میں خط اور مضامین لکھ چکے ہیں مگر ہماری حکومت کو عقل کی بات سمجھ ميں نہيں آتی