Category Archives: قومی سانحات

بھارتی ردِ عمل اور حقیقت

پیش لفظ
میں نے آج سے سوا 9 سال قبل جو لکھا تھا وہ اپنی عملی صورت میں سامنے آ چکا ہے

میری 31 جولائی 2010ء کو شائع شدہ تحریر کی تیسری قسط
(دوسری قسط 11 اکتوبر کو شائع کی تھی)

کمال یہ ہے کہ پاکستان کی دوستی کی دعوت کے جواب میں بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے گلگت اور بلتستان پر بھی اپنی ملکیت کا دعوی کر دیا تھا (اور یہ بھارتی دعوٰی ابھی تک قائم ہے) جبکہ گلگت اور بلتستان کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں تھے اور نہ یہاں سے کوئی راستہ بھارت کو جاتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں کے لوگوں نے 27 اکتوبر 1947ء کو بھارتی فوج کے زبردستی جموں میں داخل ہونے سے بہت پہلے گلگت اور بلتستان میں اپنی آزادی اور پاکستان سے الحاق کا اعلان کردیا تھا ۔ اس کی تفصیل بعد میں آئے گی

پاکستان کو بنجر کرنے کا منصوبہ
مقبوضہ جموں کشمیر میں متذکّرہ بالا ڈیمز مکمل ہو جانے کے بعد کسی بھی وقت بھارت دریائے چناب کا پورا پانی بھارت کی طرف منتقل کر کے پاکستان کے لئے چناب کو خشک کر سکتا ہےاور دریائے جہلم کا بھی کافی پانی روک سکتا ہے جس کا کچھ نمونہ ميری تحرير کے 5 سال بعد سامنے آ چکا ہے ۔ اس طرح پانی کے بغیر پاکستان کی زمینیں بنجر ہو جائیں گی اور زندہ رہنے کے لئے پاکستان کو بھارت کے سامنے گھُٹنے ٹیکنا پڑیں گے ۔ چنانچہ بغیر جنگ کے پاکستان بھارت کا غلام بن جائے گا ۔ اللہ نہ کرے کہ ايسا ہو ۔

قحط اور سیلاب (یہ ہو چکا ہے)
حقیقت یہ ہے کہ بھارت کا مقبوضہ جموں کشمیر میں 7 ڈیم بنانے کا منصوبہ ہے جن میں سے بھارت دریائے جہلم اور چناب پر 3 ڈیم 2005ء تک مکمل کر چکا تھا ۔ 2 دریاؤں پر 7 ڈیم بنانے کے 2 مقاصد ہیں
اول یہ کہ دریاؤں کا سارا پانی نہروں کے ذریعہ بھارتی پنجاب اور دوسرے علاقوں تک لیجایا جائے اور پاکستان کو بوقت ضرورت پانی نہ دے کر قحط کا شکار بنا دیا جائے
دوم جب برف پگلے اور بارشیں زیادہ ہوں تو اس وقت سارا پانی جہلم اور چناب میں چھوڑ دیا جائے تاکہ پاکستان میں تباہ کن سیلاب آئے ۔ ماضی ميں بھارت یہ حرکت دو بار کر چکا ہے ۔ بھارت کا اعلان کہ ڈیم بجلی کی پیداوار کے لئے بنائے جا رہے ہیں سفید جھوٹ اور دھوکا ہے ۔ کیونکہ جموں کشمیر پہاڑی علاقہ ہے ہر جگہ دریاؤں کے راستہ میں بجلی گھر بنائے جا سکتے ہیں اور بڑے ڈیم بنانے کی بالکل بھی ضرورت نہیں

قوم کو بیوقوف بنانے کے لئے پرويز مشرف کی حکومت نے منگلا ڈیم کو 10 میٹر اونچا کرنے کا ملٹی بلین پراجیکٹ شروع کیا جس پر موجودہ حکومت بھی عمل پيرا ہے ۔ چند سال بعد دریائے جہلم میں اتنا بھی پانی ہونے کی توقع نہیں کہ ڈیم کی موجودہ اُونچائی تک جھیل بھر جائے پھر یہ اتنا روپیہ ضائع کرنے کی منطق سمجھ میں نہیں آتی اور نہ اس کا جواز کسی کے پاس ہے

ایک ضمنی بات يہ ہے کہ پہلی پلاننگ کے مطابق منگلا ڈیم کی اونچائی موجودہ اونچائی سے 10 میٹر زیادہ تجویز کی گئی تھی 1962ء میں کا م شروع ہونے سے پہلے ڈیم کی محافظت اور پانی کی مماثل مقدار کی کم توقع کے مدنظر اونچائی 10 میٹر کم کر دی گئی تھی ۔ اس لئے اب اونچائی زیادہ کرنا پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ہے ۔ اس سلسلہ میں میں اور کئی دوسرے حضرات جن میں زیادہ تر انجنیئر ہیں 2004ء سے 2006ء تک اخباروں میں خط اور مضامین لکھ چکے ہیں مگر ہماری حکومت کو عقل کی بات سمجھ ميں نہيں آتی

اخلاقی قدریں جو نفرت میں گل سڑ گئی ہیں

جب بھی سفاکیت کے مظاہر دیکھنے میں آتے ہیں ۔ اس کی زجر و توبیخ کرنے کی بجائے یہ کہہ کر توثیق کر دی جاتی ہے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا ۔ مانا کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا لیکن دماغ میں تعفن زدہ خیالات کے سبب اُٹھ رہے بدبو کے بھبھوکے سماجی آلودگی میں اضافے کا سبب نہ بنیں ۔ اس کا اہتمام اور بندوبست تو کیا جا سکتا ہے۔ اگر نفرت کے تیزاب میں گل سڑ جانے والی اخلاقیں قدریں آلائشوں میں تبدیل ہوچکی ہیں تو انہیں ٹھکانے لگانے کی تدبیر کرناچاہیئے اور اگر باوجوہ یہ بھی ممکن نہیں تو جابجا قے کرنے سے گریز کریں تاکہ معاشرہ آپ کے دماغ کی غلاظت سے محفوظ رہ سکے

ممکن ہے آپ عمران خان کے چاہنے والے ہوں یا پھر محمود اچکزئی کے مداح ۔ ہو سکتا ہے آپ جماعت اسلامی کے کارکن ہوں یا پھر آپ کا تعلق جے یو آئی(ف) سے ہو ۔ عین ممکن ہے آپ بھٹو کے جیالے ہوں یا پھر نوازشریف کے متوالے ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ بانی ایم کیو ایم کو اپنا قائد مانتے ہوں یا پھر باچا خان کے پیروکار ہوں مگر اس وابستگی کا ہرگز یہ مطلب نہیں آپ مخالفین کو نیچا دکھانے کے لئے انسانیت کی بنیادی قدروں کو ہی روند ڈالیں

بھٹو کیخلاف پی این اے کی تحریک عروج پر تھی تو ایک روز وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو جماعت اسلامی کے بانی سید ابوالاعلیٰ مودودی سے ملنے ان کی رہائشگاہ اچھرہ پہنچے۔ دونوں ایک دوسرے کے بدترین مخالف تھے ۔ پی این اے کی تحریک میں جماعت اسلامی ہر اول دستے کا کردار ادا کررہی تھی لیکن نہ تو بھٹو نے یہ سوچا کہ مودودی کے در پر حاضر ہونے سے میری شان میں کوئی کمی آجائے گی اور نہ ہی مولانا مودودی نے آدابِ مہمان نوازی سے پہلو تہی کی

بینظیر کے ہاں بختاور کی پیدائش ہوئی تو نوازشریف وزیراعظم تھے۔ دونوں میں سیاسی محاذ آرائی عروج پر تھی لیکن نواز شریف نے بینظیر کو نہ صرف مبارکباد دی بلکہ گلدستہ بھی بھجوایا۔ آصف زرداری جیل میں تھے تو ان کی بینظیر بھٹو سے ملاقاتوں پر کبھی کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔ اسی طرح 27 دسمبر 2007ء کو جب بینظیر بھٹو شہید ہوئیں تو نواز شریف انتخابی مہم ترک کرکے ہاسپٹل پہنچے اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو پُرسا دیا۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ بینظیر بھٹو نے بھی شہادت سے چند منٹ قبل ناہید خان کو کہا تھا کہ نوازشریف سے رابطہ کریں کیونکہ اس روز مسلم لیگ (ن) کی ریلی پر فائرنگ سے چند کارکن مارے گئے تھے

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان انتخابی مہم کے دوران گر کرزخمی ہوگئے تو تمام تر سیاسی مخالفت کے باوجود نواز شریف ان کی عیادت کرنے گئے اور نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔ مجھے نہیں یاد کہ کسی سیاسی کارکن نے عمران خان کی بیماری کا مذاق اُڑایا ہو یا پھر شکوک و شہبات کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہا ہو کہ جو اتنی بلندی سے گرا ہو، وہ تو اُٹھ کر نہیں بیٹھ سکتا

لیکن گزشتہ چند برس کے دوران ہمارے ہاں ایسی بیہودگی کو فروغ دیا گیا کہ حزن و ملال کی گھڑی میں بھی بدبودار سیاست سے گریز نہیں کیا جاتا اور سیاسی مخالفین کی بیماری کو ڈھونگ کہہ کر کنفیوژن پیدا کردی جاتی ہے۔ نوازشریف کے پلیٹ لیٹ سیل کم ہونے کی خبر ملنے پر انہیں اسپتال لے جایا گیا تو ایک حکومتی ترجمان نے ایسا بیان دیا کہ اسے دہرایا بھی نہیں جا سکتا۔ کئی لوگوں نے براہ راست بات کرنے کی بجائے معنی خیز انداز میں کہا کہ پلیٹ لیٹ سیلز ایک لاکھ سے کم ہونے پر لوگ بیہوش ہو جاتے ہیں، چالیس ہزار سے کم ہونے پر زندہ رہنا ممکن نہیں ہوتا تو نوازشریف پلیٹ لیٹ سیلز 16000کی کم ترین سطح پر آجانے کے باوجود خود گاڑی سے اتر کر اسپتال کیسے پہنچے؟

آپ کتنے ہی رجائیت پسند کیوں نہ ہوں مگر ان سوالات سے مثبت نتائج اخذ نہیں کئے جا سکتے اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ سوال کرنے والے کے دماغ میں کہیں نہ کہیں یہ بات موجود ہے کہ میاں صاحب ٹھیک ٹھاک ہیں اور یہ سب ناٹک ہے۔ مجھ سے بھی یہ سوال کیا گیا تو عرض کیا، یہ ٹیسٹ سرکار کی زیر نگرانی میں اسی پرائیویٹ لیبارٹری میں کئے گئے ہیں جس نے نواز شریف کی رپورٹ پر ایک نہایت قابل اعتراض جملہ لکھ دیا تھا اگر کسی قسم کا کوئی شک ہے تو دوبارہ ٹیسٹ کروایا جا سکتا ہے۔ اس سے پہلے کلثوم نواز صاحبہ کی علالت سے متعلق بھی اسی نوعیت کی بیہودہ باتیں کی گئیں اور انہیں اپنی بیماری کا ثبوت دینے کے لئے مرنا پڑا ۔ نواز شریف کا لندن میں بائی باس آپریشن ہوا تو تب بھی کہنے والوں نے اسی انداز میں سوالات اُٹھائے

ہاں البتہ بعض افراد کو استثنیٰ حاصل ہے اور ان کی نیت پر کسی قسم کے شک و شبے کا اظہار نہیں کیا جاتا۔ پرویز مشرف نے کہا کہ ان کی کمر میں درد ہے تو سب نے مان لیا۔ ان کی رقص کرنے کی وڈیو سامنے آنے کے باوجود کسی کو کوئی سوال اُٹھانے کی ہمت نہ ہوئی۔ چند ماہ قبل جب سپریم کورٹ نے حاضر ہونے کا آخری موقع دیا تو بتایا گیا کہ انہیں دنیا کی خطرناک ترین بیماری ہے اور وہ سخت علالت کے باعث سفر کرنے سے قاصر ہیں مگر کوئی یہ پوچھنے کی جسارت نہیں کرتا کہ بستر مرگ پر پڑا بیمار آدمی انٹرویو دینے کے لئے کیسے تندرست ہو جاتا ہے
تحریر ۔ محمد بلال غوری

آج کے دن

آج سے 68 سال قبل 16اکتوبر کی صبح قائدِ مِلّت راولپنڈی پہنچے ۔ سہ پہر کے وقت کمپنی باغ (اب لیاقت باغ) میں جلسہ عام سے خطاب کرنا تھا جس میں نئے عام انتخابات کا اعلان کرنا تھا ۔ نواب زادہ لیاقت علی خان نے تقریر شروع کرتے ہوئے ابھی اتنا ہی کہا تھا ” برادرانِ مِلت ۔ ۔ ۔ “۔ کہ پہلی صف میں بیٹھے افغان باشندے سَید اکبر نے 2 گولیاں چلائیں ۔ ایک نواب زادہ لیاقت علی خان کے سر اور دوسری پیٹ میں لگی ۔ نواب زادہ لیاقت علی خان گر پڑے ۔ اُن کے آخری الفاظ جو سُنائی دیئے یہ تھے ” اللہ پاکستان کی حفاظت کرے“۔

اگر اس روز یہ اعلان ہوجاتا اور انتخابات ہوجاتے تو تاریخ بدل جاتی اور نوکر شاہی کے سیاسی عزائم خاک میں مل جاتے ۔ بہر کیف قائدِ مِلّت جیسا وزیرِ عظم جو پاکستان کو صحیح جمہوری ملک بنانے کی صلاحیت رکھتا تھا اور قائد اعظم کے بعد تنہا ملک کی اُمیدوں کا سہارا تھا بغیر کچھ وصیت کئے ایک بیوہ ۔ 2 کم سن بچے اور 4 سگریٹ لائٹروں پر مشتمل جائیداد چھوڑکر ہم سے رخصت ہوگیا

سَید اکبر کو لوگوں نے قابو کر کے اُس کا پستول چھین لیا تھا ۔ پھر ایک پشتو آواز گونجی ”گولی کس نے چلائی ۔ مارو اِسے“۔ یہ آواز ایس پی نجف خان کی تھی ۔ اس حُکم کی تعمیل میں انسپکٹر محمد شاہ نے سَید اکبر پر گولیاں چلا کر اُسے ہلاک کر دیا ۔ کہا جاتا ہے کہ محمد شاہ کا تبادلہ کچھ دن قبل ہی کیمبلپور (اٹک) سے راولپنڈی کیا گیا تھا ۔ پولیس قوانین کے مطابق قاتل کو زندہ پکڑنا ضروری ہوتا ہے ۔ مقابلہ کرتے ہوئے مارا جائے تو الگ بات ہے ۔ چنانچہ انسپیکٹر محمد شاہ نے جُرم کا ارتکاب کیا تھا لیکن حیرت ہے کہ عدالت میں اُس نے کہا ”میں جذبات میں آ گیا تھا“۔ اور اُسے کچھ نہ کہا گیا
قوم نے صرف اتنا کیا کہ کمپنی باغ کا نام لیاقت باغ اور اُس کے ساتھ والی سڑک کا نام لیاقت روڈ رکھ دیا

نوابزادہ لیاقت علی خان کے قتل کی سازش کا کھُرا امریکہ کی طرف جاتا ہے کیونکہ جب نوازادہ لیاقت علی خان امریکہ کے صدر ٹرومَین کی دعوت پر امریکہ گئے تو اُن پر امریکہ کی حمائت وغیرہ کیلئے دباؤ ڈالا گیا ۔ نوابزادہ لیاقت علی خان نے کہا تھا

“We want to have friendship with USA but will not take dictation from anyone۔”

امریکی خفیہ دستاویزات پر مشتمل کتاب ” The American Roll in Pakistan “ کے صفحہ 61 اور 62 کے مطابق امریکہ میں پہلے پاکستانی سفیر کی حیثیت سے اسناد تقرری پیش کرنے کے بعد اپنی درخواست میں اصفہانی صاحب نے لکھا ”ہنگامی حالت میں پاکستان ایسے اڈے کے طور پر کام آسکتا ہے جہاں سے فوجی و ہوائی کارروائی کی جاسکتی ہے“۔ ظاہر ہے یہ کارروائی اس سوویت یونین کےخلاف ہوتی جو ایٹمی دھماکے کے بعد عالمی سامراج کی آنکھ میں زیادہ کھٹکنے لگا تھا

1949ء میں امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف کی رپورٹ میں ہے”پاکستان کے لاہور اور کراچی کے علاقے ۔ وسطی روس کےخلاف کارروائی کیلئے کام آسکتے ہیں اور مشرق وسطیٰ کے تیل کے دفاع یا حملے میں بھی کام آسکتے ہیں“۔

یاد رہے کہ روس کے ایٹمی دھماکے اور چین میں کمیونزم آجانے سے امریکہ پاکستان کی جانب متوجہ ہوا چنانچہ امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری جارج کریوز مَیگھی (George Crews McGhee) دسمبر 1949ء میں پاکستان آئے اور وزیراعظم لیاقت علی خان کو امریکی صدر ٹرومین کا خط اور امریکی دورے کی دعوت دی لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ اس موقع پر انہوں نے اہم ملاقات وزیر خزانہ غلام محمد سے کی جنہوں نے میگھی کو تجویز دی ”ایسا انتظام ہونا چاہیئے کہ امریکی انٹیلی جنس کا پاکستانی انٹیلی جنس سے رابطہ ہو اور ساتھ ہی ساتھ اِن (غلام محمد) کے ساتھ براہ راست رابطہ ہو“ (صفحہ 106)۔

دسمبر 1949ء میں پاک فوج کے قابل افسران جنرل افتخار اور جنرل شیر خان ہوائی حادثے کا شکار ہوگئے ۔ باقی کسر پنڈی سازش کیس نے
پوری کر دی ۔ ایوب خان ابتداء ہی سے امریکہ کا نظرِ انتخاب تھے ۔ وہ قیام پاکستان کے وقت لیفٹیننٹ کرنل تھے اور صرف 3 سال بعد میجر جنرل بن گئے۔ وہ کمانڈر انچیف سرڈیگلس گریسی (Commander-in-Chief General Sir Douglas David Gracey) کے ساتھ نائب کمانڈر انچیف تھے

زمامِ اقتدار اس وقت کُلی طور پر امریکی تنخواہ داروں کے ہاتھ آئی جب 16اکتوبر 1951ء کو لیاقت علی خان قتل کردیئے گئے ۔ خواجہ ناظم الدین گورنر جنرل کا عہدہ چھوڑ کر وزیراعظم ۔ ان کی جگہ وزیر خزانہ غلام محمد گورنر جنرل ۔ اسکندر مرزا ڈیفنس سیکرٹری (جو آئی سی ایس آفیسر تھا اور ڈیفنس سیکریٹری بننے کے بعد اپنے آپ کو میجر جنرل کا رینک دے دیا تھا) اور ایوب خان کمانڈر انچیف اور یوں امریکی کورم (Quorum) پورا ہوگیا

دوسری طرف امریکہ نے خطے میں روسی خطرے سے نمٹنے کے لئے دیگر اہم ممالک پر بھی توجہ مرکوز کر رکھی تھی یہاں تک کہ جب اگست 1953ء میں ایران میں ڈاکٹر مصدق نے برطانیہ کے ساتھ تیل کے مسئلے پر تعلقات خراب کرلئے تو امریکہ نے ایران سے بھاگے ہوئے رضا شاہ پہلوی کو رَوم سے لاکر تخت پر بٹھادیا اور پھر روس کے خلاف ترکی ۔ ایران اور پاکستان کو ایک معاہدے میں نتھی کردیا جسے بغداد پیکٹ کہا گیا

”ہمارا دوست امریکہ کتنا ہی دغاباز کیوں نہ ہو لیکن ہم سے معاملات طے کرتے وقت اس نے منافقت کا کبھی سہارا نہیں لیا ۔ وہ صاف کہتا ہے ”امریکہ کو چاہیئے کہ امریکی دوستی کے عوض پاکستان کی موجودہ حکومت کی مدد کرے اور یہ کوشش بھی کرے کہ اس حکومت کے بعد ایسی حکومت برسراقتدار نہ آجائے جس پر امریکہ مخالف کا قبضہ ہو ۔ ہمارا ہدف امریکی دوست نواز حکومت ہونا چاہیئے“۔ (فروری 1954ء میں نیشنل کونسل کا فیصلہ ۔ بحوالہ پاکستان میں امریکہ کا کردار صفحہ 326)

WHO SHOT LAK (Liaquat Ali Khan)?..CIA CONNECTION

1. Extract from an article published on October 24, 1951 in an Indian magazine:
[…]It was learned within Pakistani Foreign Office that while UK pressing Pakistan for support re Iran, US demanded Pakistan exploit influence with Iran and support Iran transfer oil fields to US. Liaquat declined request. US threatened annul secret pact re Kashmir. Liaquat replied Pakistan had annexed half Kashmir without American support and would be able to take other half. Liaquat also asked US evacuate air bases under pact. Liaquat demand was bombshell in Washington. American rulers who had been dreaming conquering Soviet Russia from Pakistan air bases were flabbergasted. American minds set thinking re plot assassinate Liaquat. US wanted Muslim assassin to obviate international complications. US could not find traitor in Pakistan as had been managed Iran, Iraq, Jordan. Washington rulers sounded US Embassy Kabul. American Embassy contacted Pashtoonistan leaders, observing Liaquat their only hurdle; assured them if some of them could kill Liaquat, US would undertake establish Pashtoonistan by 1952. Pashtoon leaders induced Akbar undertake job and also made arrangements kill him to conceal conspiracy. USG-Liaquat differences recently revealed by Graham report to SC; Graham had suddenly opposed Pakistan although he had never given such indication. […] Cartridges recovered from Liaquat body were American-made, especially for use high-ranking American officers, usually not available in market. All these factors prove real culprit behind assassin is US Government, which committed similar acts in mid-East. “Snakes” of Washington’s dollar imperialism adopted these mean tactics long time ago.

امریکہ کی مندرجہ ذیل خُفیہ دستاویزات جن سے معلومات حاصل کی گئی تھیں 2010ء تک انٹرنیٹ پر موجود تھیں ۔ جب میں نے 2015کے شروع میں دیکھا تو انٹرنیٹ سے ہٹائی جا چُکی تھیں

1. America’s Role in Pakistan
2. Confidential Teاegram No. 1532 from New Delhi Embassy, Oct. 30, 1951
3. Confidential Telegram from State Dept., Nov. 1, 1951
4. Secret Telegram from Moscow Embassy, Nov. 3, 1951 [only first page located]
5. Popular Feeling in Pakistan on Kashmir and Afghan Issues, Nov. 10, 1951

پاکستان کو تباہ کرنے کا منصوبہ

میری 31 جولائی 2010ء کو شائع شدہ تحریر کی دوسری قسط
اتفاق کی بات ہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر پر فوج کی مدد سے مکمل قبضہ کر لیا اور ہم صرف تقریریں کر کے بھنگڑے ڈال رہے ہیں کہ ہم جیت گئے

جو کھیل پرويز مشرف کی حکومت نا جانے کس مقصد کے لئے کھیل گئی پاکستان کے صرف ارباب اختیار کو اس کا ذاتی فائدہ اور بھارت کو سیاسی فائدہ ہوا ۔ نہ صرف جموں کشمیر کے لوگ بلکہ پاکستانی عوام بھی خسارے میں ہیں ۔ پرويز مشرف حکومت نے یک طرفہ جنگ بندی اختیار کی جس کے نتیجہ میں بھارت نے پوری جنگ بندی لائین پر جہاں دیوار بنانا آسان تھی وہاں دیوار بنا دی جس جگہ کانٹے دار تاریں بچھائی جاسکتی تھیں وہاں کانٹے دار تاریں بچھا دیں یعنی جو سرحد بین الاقوامی طور پر عارضی تھی اسے مستقل سرحد بنا دیا ۔ سرحدوں سے فارغ ہو کر بھارتی فوجیوں نے آواز اٹھانے والے کشمیری مسلمانوں کا تیزی سے قتل عام شروع کر دیا اور روزانہ دس بارہ افراد شہید کئے جاتے رہے ۔ معصوم خواتین کی عزتیں لوٹی جاتی رہیں اور گھروں کو جلا کر خاکستر کیا گيا ۔ کئی گاؤں کے گاؤں فصلوں سمیت جلا دیئے گئے ۔ بگلیہار ڈیم جس پر کام رُکا پڑا تھا جنگ بندی ہونے کے باعث بڑی تیزی سے مکمل کيا گيا اور تین اور ڈیموں کی بھی تعمیر شروع کر دی جو مکمل ہو چکے ہیں

ستم بالائے ستم یہ ہے کہ اپنے آپ کو مسلمان اور انسانیت کا علمبردار کہنے والے جموں کشمیر کے ان ستم رسیدہ لوگوں کو دہشت گرد کہتے ہیں ۔ ان نام نہاد روشن خیال اور امن پسند لوگوں سے کوئی پوچھے کہ اگر ان کے بھائی یا جوان بیٹے کو اذیّتیں دے کر مار دیا جائے اور کچھ دن یا کچھ ہفتوں کے بعد اس کی مسخ شدہ لاش ملے يا کچھ سالوں بعد قبر ملے جس پر کتبہ لگا ہو کہ يہ پاکستانی دہشت گرد تھا ۔ اگر ان کی ماں ۔ بہن ۔ بیوی ۔ بیٹی یا بہو کی آبروریزی کی جائے اگر ان کا گھر ۔ کاروبار یا کھیت جلا د ئیے جائیں ۔ تو وہ کتنے زیادہ روشن خیال اور کتنے زیادہ امن پسند ہو جائیں گے ؟

پرويز مشرف حکومت کا فارمولا

میں اپنی 31 جولائی 2010ء کو شائع شدہ تحریر کو 3 اقساط میں شائع کروں گا ۔ آج پہلی قسط

پہلے یہ جاننا ضرور ی ہے کہ ہمارے مُلک کا آئین کیا کہتا ہے ۔ آئین کی شق 257 کہتی ہے

Article 257. Provision relating to the State of Jammu and Kashmir
When the people of State Jammu and Kashmir decide to accede to Pakistan, the relationship between Pakistan and the State shall be determined in accordance with the wishes of the people of that State.

ڈائریکٹر پالیسی پلاننگ امریکی دفتر خارجہ ڈاکٹر سٹیفن ڈی کراسز اور آفیسر ڈاکٹر ڈینیل مارکسی 2005ء کی دوسری سہ ماہی ميں اسلام آباد کے دورہ پر آئےتھے ۔ انہوں نے جنرل پرویز مشرّف ۔ وزیر اعظم شوکت عزیز ۔ حریت کانفرنس کے سربراہ عباس انصاری اور آزاد کشمیر اور پاکستان شاخ کے کنوینر سیّد یوسف نسیم وغیرہ سے ملاقاتیں کيں ۔ با خبر ذرائع کے مطابق امریکی حکام یونائیٹڈ سٹیٹس آف کشمیر اور سرحدیں نرم کرنے وغیرہ کے منصوبہ می‍‍ں دلچسپی رکھتے تھے ۔ میر واعظ عمر فاروق کو پاکستان کے دورہ کے درمیان حریت کانفرنس کا سربراہ بنا دیا گیا اور انہوں نے سری نگر پہنچتے ہی یونائیٹڈ سٹیٹس آف کشمیر فارمولا کی بات کی تھی ۔ اس سے واضح ہو گیا کہ جموں کشمیر کو 7 ریاستوں میں تقسیم کر کے ان کی یونین بنانے کا جو فارمولا امریکہ کے دورہ سے واپس آ کر جنرل پرویز مشرف نے پیش کیا تھا وہ دراصل امریکی حکومت کی خواہش و تجویز تھی
جبکہ تقسیم ہند کے فارمولا کے مطابق ریاست کے پاکستان یا بھارت سے الحاق کا فیصلہ ریاست کی مجموعی آبادی کی بنیاد پر ہونا تھا ۔ اس لئے امریکہ کی ایماء پر پرویز مشرف کا پیش کردہ 7 ریاستوں والا فارمولا ديگر وجوہات کے علاوہ بنیادی طور پر بھی غلط تھا ۔ مزید یہ کہ اس فارمولا کے نتیجہ میں جموں پورے کا پورا بھارت کو چلا جاتا اور دریاؤں کا کنٹرول بھارت کو حاصل ہوتا

اے وطن ۔ ۔ ۔

نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رَسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے
جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر چُرا کے چلے جسم و جاں بچا کے چلے
ہے اہلِ دل کے لئے اب یہ نظم بست و کشاد
کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد
بنے ہیں اہل ہوَس مُدعی بھی مُنصف بھی
کسے وکیل کریں کس سے مُنصفی چاہیں
بِچھا جو روزن زِنداں تو دل یہ سمجھا ہے
کہ تیری مانگ ستاروں سے بھر گئی ہوگی
چمک اُٹھے ہیں سلاسل تو ہم نے جانا ہے
کہ اب سحر ترے رُخ پر بِکھر گئی ہوگی
یوں ہی ہمیشہ اُلجھتی رہی ہے ظُلم سے خَلَق
نہ ان کی رسم نئی ہے ۔ نہ اپنی رِیت نئی
یوں ہی ہمیشہ کھِلائے ہیں ہم نے آگ میں پھول
نہ ان کی ہار نئی ہے ۔ نہ اپنی جیت نئی
اسی سبب سے فلک کا گلہ نہیں کرتے
ترے فراق میں ہم دل برا نہیں کرتے
گر آج تجھ سے جدا ہیں تو کل بہم ہوں گے
یہ رات بھر کی جدائی تو کوئی بات نہیں
گر آج اَوج پہ ہے طالع رقیب تو کیا
یہ چار دن کی خدائی تو کوئی بات نہیں
جو تُجھ سے عہدِ وفا اِستوار رکھتے ہیں
علاجِ گردشِ لیل و نہار رکھتے ہیں

عوام ۔ قانون اور انصاف

کچھ روز قبل محترم چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ایک قتل کے ملزم کی رہائی کا حکم دیا جو 10 سال سے ایک غلط شناخت پریڈ کے باعث جیل میں تھا
جس کے بیٹے کے قتل میں وہ گرفتار تھا اس نے کہا ” آخر میں اپنے بیٹے کے قاتل کو کہاں تلاش کروں ؟ میں اب تک 3 کروڑ روپیہ خرچ کر چکا ہوں“۔

یہ خبر سُن کر میرا دماغ ماضی کو کُریدنے لگا اور کچھ ایسی ہی واقعات یاد داشت پر اُبھرنے لگے جو اخبارات کی وجہ سے مشہور ہوئے تھے

یہ واقعہ 1985ء کی دہائی کا ہے کہ ایک قیدی کو جب 27 سال بعد سینٹرل جیل کراچی سے رہا کیا گیا تو اس نے Jailer سے کہا
”صاحب ۔ مجھے یہاں رکھا کیوں گیا تھا ؟ میں کہاں جاؤں گا ؟ مجھے یہیں رہنے دیں“۔
ہوا یوں کہ کسی طرح سیشن عدالت کے پیش کار کا کہا کہ ” ایک غریب آدمی کئی سالوں سے جیل میں ہے مگر مقدمہ ہے کہ چلتا ہی نہیں“ اخبار میں چھپ گیا ۔ معاملہ چیف جسٹس ہائیکورٹ کے سامنے پیش ہوا اور اُسے رہائی مل گئی ۔ رہائی کے وقت اس شخص کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر چیف جسٹس صاحب نے پوچھا ”کہاں جاؤ گے ؟ پیسے ہیں ؟“
اس نے جواب دیا ” پتا نہیں کہاں جاؤں گا ۔ پیسے کہاں ہیں میرے پاس“۔
چیف جسٹس صاحب نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا ”یہ ہم کہاں کھڑے ہیں ۔ جس شخص نے اسے بند کرایا وہ مل جائے تو میں اُسے نشان عبرت بنادوں“۔
انصار برنی اُسے اُس کے گاؤں لے گیا مگر نہ گھر ملا نہ گھر والے ۔ واپس کراچی آ گیا اور باقی زندگی Shelter Home میں گزاری

ایک شخص اختر پاگل نہیں تھا لیکن اس نے 35 سال پاگل خانے میں گزار دیئے ۔ کیوں ؟
ایک ذہنی مریضہ تھی Mental Hospital میں داخل تھی جہاں اس کے ساتھ زیادتی ہوئی اور وہ اختر کو جنم دے کر دنیا سے رخصت ہو گئی ۔ اختربڑا ہوا تو اسے پاگل خانے سے جانے کی اجازت نہ ملی ۔ جب رہائی ملی تو اسے باہر کی دنیا کا علم ہی نہیں تھا ۔ سڑک کیسے پار کرتے ہیں ۔ سگنل کیا ہوتا ہے ۔ وہ لوگوں سے بات کرتا تو لوگ اسے پاگل سمجھتے ۔ کچھ عرصے بعد وہ واپس اُسی پاگل خانے میں چلا گیا اور درزی کا کام شروع کر دیا

مختار بابا گانا بہت اچھا گاتا تھا اور ایسے ہی ایک گانے سے اس کی رہائی ممکن ہوئی
ایوب خان کا دورِ تھا اور وہ پشاور میں نوکری کرتا تھا۔ جہاں وہ کام کرتا تھا وہاں کے ایک بارسوخ افسر کا اس کی بیوی پر دل آگیا۔ اس نے کسی بات پر یا اس کا بہانہ بناکر اسے دفعہ 109(آوارہ گردی) میں بند کروا دیا ۔ ایوب خان کے بعد یحیٰ خان کا دور بھی گزر گیا ۔ ایک دن ایک وزیر جیل کے دورے پر گیا ۔ اس کا گانا سنا تو آواز سے بہت متاثر ہوا اور اس طرح رہائی ممکن ہوئی۔ جب وہ گھر لوٹا تو اس کی بیوی افسر کی اہلیہ بن چکی تھی

ہمارے مُلک میں یہ بھی ہوتا ہے کہ اعلٰی عدلیہ سزائے موت کے خلاف اپیل منظور کر کے رہائی کا حکم دیتی ہے مگر خبر جب جیل پہنچتی ہے تو پتا چلتا ہے کہ قیدی کو تو 2 دن قبل پھانسی دی جا چکی ہے

اب ذرا سیاستدانوں کی بھی سُن لیجئے
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما صدیق الفاروق کے خلاف NAB کی تحقیقات کی خبر آئی تو جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور کا واقعہ یاد آیا جب صدیق الفاروق ڈھائی سال قید میں رکھ کر نیب والے بھول گئے اور یاد آیا اُس وقت آیا جب معاملہ سپریم کورٹ میں پہنا اور پوچھا گیا کہ صدیق الفاروق کہاں ہیں ۔ اُس وقت کے اٹارنی جنرل نے عدالت میں اعتراف کیا کہ صدیق الفاروق کو گرفتار کر کے وہ بھول گئے تھے

اصغر خان کیس سے کون واقف نہ ہو گا لیکن بہت ہی کم لوگوں کے علم میں ہو گا کہ اس مقدمے کے مرکزی کردار یونس حبیب 1995ء (نواز شریف کے پہلے دورِ حکومت) میں مہران بنک سکینڈل (المعروف مہران گیٹ) میں 10 سال قید کی سزا ہوئی تھی کیسے بہت جلد یعنی بینظیر کے دورِ حکومت (1996ء تا 1997ء) میں خلافِ قانون رہائی دی گئی ۔ اس رہائی کا سب سے حیران کن پہلو یہ تھا کہ رپورٹوں میں کبھی یونس حبیب کا بلڈ گروپ کچھ لکھا گیا اور کبھی کچھ اور