Category Archives: قومی سانحات

عوام ۔ قانون اور انصاف

کچھ روز قبل محترم چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ایک قتل کے ملزم کی رہائی کا حکم دیا جو 10 سال سے ایک غلط شناخت پریڈ کے باعث جیل میں تھا
جس کے بیٹے کے قتل میں وہ گرفتار تھا اس نے کہا ” آخر میں اپنے بیٹے کے قاتل کو کہاں تلاش کروں ؟ میں اب تک 3 کروڑ روپیہ خرچ کر چکا ہوں“۔

یہ خبر سُن کر میرا دماغ ماضی کو کُریدنے لگا اور کچھ ایسی ہی واقعات یاد داشت پر اُبھرنے لگے جو اخبارات کی وجہ سے مشہور ہوئے تھے

یہ واقعہ 1985ء کی دہائی کا ہے کہ ایک قیدی کو جب 27 سال بعد سینٹرل جیل کراچی سے رہا کیا گیا تو اس نے Jailer سے کہا
”صاحب ۔ مجھے یہاں رکھا کیوں گیا تھا ؟ میں کہاں جاؤں گا ؟ مجھے یہیں رہنے دیں“۔
ہوا یوں کہ کسی طرح سیشن عدالت کے پیش کار کا کہا کہ ” ایک غریب آدمی کئی سالوں سے جیل میں ہے مگر مقدمہ ہے کہ چلتا ہی نہیں“ اخبار میں چھپ گیا ۔ معاملہ چیف جسٹس ہائیکورٹ کے سامنے پیش ہوا اور اُسے رہائی مل گئی ۔ رہائی کے وقت اس شخص کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر چیف جسٹس صاحب نے پوچھا ”کہاں جاؤ گے ؟ پیسے ہیں ؟“
اس نے جواب دیا ” پتا نہیں کہاں جاؤں گا ۔ پیسے کہاں ہیں میرے پاس“۔
چیف جسٹس صاحب نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا ”یہ ہم کہاں کھڑے ہیں ۔ جس شخص نے اسے بند کرایا وہ مل جائے تو میں اُسے نشان عبرت بنادوں“۔
انصار برنی اُسے اُس کے گاؤں لے گیا مگر نہ گھر ملا نہ گھر والے ۔ واپس کراچی آ گیا اور باقی زندگی Shelter Home میں گزاری

ایک شخص اختر پاگل نہیں تھا لیکن اس نے 35 سال پاگل خانے میں گزار دیئے ۔ کیوں ؟
ایک ذہنی مریضہ تھی Mental Hospital میں داخل تھی جہاں اس کے ساتھ زیادتی ہوئی اور وہ اختر کو جنم دے کر دنیا سے رخصت ہو گئی ۔ اختربڑا ہوا تو اسے پاگل خانے سے جانے کی اجازت نہ ملی ۔ جب رہائی ملی تو اسے باہر کی دنیا کا علم ہی نہیں تھا ۔ سڑک کیسے پار کرتے ہیں ۔ سگنل کیا ہوتا ہے ۔ وہ لوگوں سے بات کرتا تو لوگ اسے پاگل سمجھتے ۔ کچھ عرصے بعد وہ واپس اُسی پاگل خانے میں چلا گیا اور درزی کا کام شروع کر دیا

مختار بابا گانا بہت اچھا گاتا تھا اور ایسے ہی ایک گانے سے اس کی رہائی ممکن ہوئی
ایوب خان کا دورِ تھا اور وہ پشاور میں نوکری کرتا تھا۔ جہاں وہ کام کرتا تھا وہاں کے ایک بارسوخ افسر کا اس کی بیوی پر دل آگیا۔ اس نے کسی بات پر یا اس کا بہانہ بناکر اسے دفعہ 109(آوارہ گردی) میں بند کروا دیا ۔ ایوب خان کے بعد یحیٰ خان کا دور بھی گزر گیا ۔ ایک دن ایک وزیر جیل کے دورے پر گیا ۔ اس کا گانا سنا تو آواز سے بہت متاثر ہوا اور اس طرح رہائی ممکن ہوئی۔ جب وہ گھر لوٹا تو اس کی بیوی افسر کی اہلیہ بن چکی تھی

ہمارے مُلک میں یہ بھی ہوتا ہے کہ اعلٰی عدلیہ سزائے موت کے خلاف اپیل منظور کر کے رہائی کا حکم دیتی ہے مگر خبر جب جیل پہنچتی ہے تو پتا چلتا ہے کہ قیدی کو تو 2 دن قبل پھانسی دی جا چکی ہے

اب ذرا سیاستدانوں کی بھی سُن لیجئے
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما صدیق الفاروق کے خلاف NAB کی تحقیقات کی خبر آئی تو جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور کا واقعہ یاد آیا جب صدیق الفاروق ڈھائی سال قید میں رکھ کر نیب والے بھول گئے اور یاد آیا اُس وقت آیا جب معاملہ سپریم کورٹ میں پہنا اور پوچھا گیا کہ صدیق الفاروق کہاں ہیں ۔ اُس وقت کے اٹارنی جنرل نے عدالت میں اعتراف کیا کہ صدیق الفاروق کو گرفتار کر کے وہ بھول گئے تھے

اصغر خان کیس سے کون واقف نہ ہو گا لیکن بہت ہی کم لوگوں کے علم میں ہو گا کہ اس مقدمے کے مرکزی کردار یونس حبیب 1995ء (نواز شریف کے پہلے دورِ حکومت) میں مہران بنک سکینڈل (المعروف مہران گیٹ) میں 10 سال قید کی سزا ہوئی تھی کیسے بہت جلد یعنی بینظیر کے دورِ حکومت (1996ء تا 1997ء) میں خلافِ قانون رہائی دی گئی ۔ اس رہائی کا سب سے حیران کن پہلو یہ تھا کہ رپورٹوں میں کبھی یونس حبیب کا بلڈ گروپ کچھ لکھا گیا اور کبھی کچھ اور

قائد اعظم ناکام سیاستدان تھے ؟ ؟ ؟

جمعہ بتاریخ 16 نومبر 2016ء میں ٹی وی پر وزیر اعظم پاکستان کی پریس کانفرنس دیکھ رہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا

وہ لیڈر ہی نہیں جو یو ٹرن لینا نہیں جانتا ۔ اُس سے بڑا بے وقوف لیڈر نہیں ہوسکتا ۔ نپولین اور ہٹلر نے یوٹرن نہ لے کر تاریخی شکست کھائی ۔ نواز شریف نے عدالت میں یوٹرن نہیں لیا ۔ جھوٹ بولا۔

میرے منہ سے نکلا

اَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّیطٰنِ الَّرجِیْمِ
اَستٌغَفَرالُلُه آلُعظّيَم ۆاتٌۆبْ اِلَيهِ

پھر یہ دعا پڑھی

اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظَلَّتْ، وَرَبَّ الأَرَضِينَ وَمَا أَقَلَّتْ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضَلَّتْ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ خَلْقِكَ كُلِّهِمْ جَمِيعًا أَنْ يَفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَوْ أَنْ يَبْغِيَ، عَزَّ جَارُكَ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ

الحمدلله ہم مسلمان ہیں ۔ مسلمان ہونے کے ناطے ہمارے لئے قرآن شریف پر مکمل یقین کرنا اور اس میں لکھے الله سُبحانُه؛ و تعالٰی کے ہر فرمان پر عمل کرنے کی کوشش کرنا لازم ہے ۔ قرآن الحکیم میں کئی آیت ایسی نہیں جس سے ہمیں ارادہ یا بیان بدلنے کے حق میں اشارہ مِلتا ہو

حقیقت یہ ہے کہ ہم الله کے فرمان کو بھُول چکے ہیں اور اپنے دُنیاوی لالچ کا پیٹ بھرنے کے لئے نِت نئے بہانے تلاش کرتے ہیں
موجودہ حالات قوم کی بے راہ رَوی کا نتیجہ ہیں جس کی نسبت سب کی توجہ میں قرآن شریف کی صرف 2 آیات کی طرف مبزول کرانا چاہتا ہوں ۔ یہ میرے ہموطنوں کے لئے ایک واضح پیغام ہیں

(1) سورت 13 الرعد آیت 11 ۔ إِنَّ اللّہَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِہِمْ
اللہ تعالٰی کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اسے نہ بدلیں جو ان کے دلوں میں ہے
(2) سورت 53 النّجم آیت 39 ۔ وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَی
ترجمہ ۔ اور یہ کہ ہر انسان کیلئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی

مخدوش معیشت اور خود غرض حکمران ۔ صرف ایک مثال

کسٹمز حکام چھاپوں میں دو درجن سے زائد قیمتی گاڑیاں ساتھ لے گئے جو راولپنڈی میں سیف الرحمٰن کی ملکیت REDCO Textile Mills کے احاطے میں پارک تھیں۔ یہ گاڑیاں قطری شہزادے حماد الثانی اور ان کے خاندان کی ملکیت تھیں ۔ حُکام نے یہ جانتے ہوئے کہ شہزادے نے کوئی قانون نہیں توڑا اُس کی ملکیت پر چھاپہ مار کر اسے ٹارگٹ کیا ۔ قطری شہزادے کے قریبی ذریعے نے بتایا کہ پاکستانی حکام کے ایکشن سے یہ خبر شہ سرخیوں میں آئی جو انتہائی بدقسمی ہے ۔
مُلک میں مسلسل Political witch hunting کا قطری شہزادہ بھی نشانہ بنا ۔ کسٹمز حکام کی غیر قانونی کاروائی کی وجہ سے قطری شہزادہ پاکستان سے اپنی سرمایہ کاری واپس نکالنے کےبارے میں سوچ رہا ہے۔
یہ ثابت ہو چکا ہے کہ قطری شہزادے نے تمام رولز پر عمل کیا تھا اور پاکستان میں سالانہ hunting season کیلئے یہ گاڑیاں امپورٹ کی تھیں ۔ یہ گاڑیاں ڈیوٹی سے مستثنٰی تھیں کیونکہ حکومت پاکستان SRO کے تحت یہ سہولت فراہم کرتی ہے ۔ بہت سے سعودیوں اور کویتیوں کی طرح جنہوں نے اپنی گاڑیاں clearance کے بعد پاکستان میں پارک کر رکھی ہیں پرنس حماد بن جاسم الثانی نے بھی یہ گاڑیاں پارک کر رکھی تھیں

پرنس حماد بن جاسم الثانی جو قطر کے سابق وزیراعظم اور اہم Regional player ہیں پاکستان کے دوست ہیں ۔ وہ کراچی پورٹ قاسم پاور پروجیکٹ کیلئے ڈھائی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان لائے ۔ انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی درخواست پر پاکستان میں پاور پلانٹ لگایا جو 3 سال میں بنا اور اب بجلی پیدا کر رہا ہے ۔ انہوں نے آئل ریفائنری ۔ گیس پائپ لائن اور ایک اور پاور پروجیکٹ میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کیلئے MOU پر دستخط کئے

سیف الرحمٰن سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ ان کی فیکٹری پر چھاپہ مارا گیا اور حکام نے وہاں سے گاڑیاں قبضے میں لیں۔ انہوں نے کہا کہ منسٹری آف فارن افیئرز نے ان کاروں کی اپروول جاری کی تھی اور یہ کاریں میری پراپرٹی میں اس لئے پارک تھیں کہ یہاں جگہ دستیاب تھی۔ میرے منیجر نے حکام کو بتایا کہ اس کے پاس ان گاڑیوں کی چابیاں نہیں ہیں کیونکہ ان کی چابیاں قطری سفارت خانے کے پاس ہیں لیکن وہ ان گاڑیوں کو ٹو کر کے وہاں سے لے گئے اور انتظار نہیں کیا۔ یہ کاریں سال میں صرف ایک مرتبہ شکار کیلئے استعمال ہوتی ہیں۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ حکام نے میرے منیجر کو گرفتار کرلیا اور ان کی بات سنے بغیر اپنے ساتھ لے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھیانک تجربہ تھا۔ سابق سینیٹرنے کہا کہ میرے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے جو سیاسی انتقام کے سوا کچھ نہیں ہے اور یہ صورت حال حکومت کی موجودہ پریشانی کو ظاہر کرتی ہے۔ جو یہ نہیں جانتی کہ کیا کرنا ہے اور کیسے آگے بڑھنا ہے۔ انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ اپنے پاگل پن کے اقدامات کے ذریعے دنیا بھر میں پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں کلِک کیجئے

عوام کے نمائندے بمقابلہ عوام کے نوکر

شہریوں پر گورنر ہاؤس کے دروازے کھلنے سے یہ راز بھی کھل گیا کہ ہم کس قماش و کلاس کے لوگ ہیں۔ غور کریں یہ کاہنے کاچھے نہیں، لاہور اور اہل لاہور جیسے اہم شہر اور شہریوں کی بات ہورہی ہے۔ ہم سیاستدانوں، سرکاری ملازموں کے تو بہت لتے لیتے ہیں۔ آج ذرا اپنے گریبان میں بھی جھانک لیں۔ سیر کیلئے آنے والی فیملیز نے جہاں تک بس چلا گورنر ہائوس ادھیڑ کر رکھ دیا۔ وہی کیا جیساکبھی زندہ دلان منگولیا کے تاتاریوں نے عروس البلاد بغداد کے ساتھ کیا تھا۔ کچے پھل کھونچ کھونچ اور نوچ نوچ کر پھل دار درخت ننگے اور گنجے کردیئے گئے۔ کچ پکی سبزیاں اکھاڑ لی گئیں۔ خوبصورت لان کبڈی کے میدان سے بدتر کردیا گیا۔ گھاس کے ساتھ گھمسان کا رن ڈال کر کشتوں کے پشتے لگا دیئے گئے۔ گھاس کی ہریالی اور کوملتا کو روند کر رکھ دیا گیا۔ بقول شخصے مال غنیمت کی طرح جس کے ہاتھ جو لگا وہ لے اڑا۔ تاریخی شہر لاہور کے تاریخی لوگوں نے دشت تو دشت، دریا بھی نہ چھوڑے اور وہ اس طرح کہ شہری جھیل کے پل پر چڑھ دوڑے جو بیچارہ اتنا بوجھ برداشت نہ کرسکا اور ٹوٹ گیا ۔ حیرت ہے کہ نسل در نسل میلوں ٹھیلوں کا وسیع تجربہ ہونے کے بعد بھی گورنر ہائوس کا میلہ نبھایا نہ گیا کہ میلوں کی بھی قسمیں ہوتی ہیں۔ ہر میلہ ہر کسی کیلئے نہیں ہوتا لیکن یہیں رک جاؤں تو بہتر ہے ورنہ بات بہت دورنکل جائے گی ۔ گورنر ہاؤس کی سیر کرنے والے جا چکے تھے لیکن ان کی نشانیاں دور دور تک بکھری ہوئی تھیں۔ جگہ جگہ پانی اور جوسز کی خالی بوتلیں اور ڈبے، استعمال شدہ ٹشو پیپرز کی پہاڑیاں، پھلوں کے چھلکے، برگرز، سینڈوچز کی پیکنگ، مختلف رنگوں اور اقسام کے شاپرز، سگریٹوں کے ٹوٹے اور خالی ڈبیاں گورنر ہائوس کا مذاق اڑا رہی تھیں۔

عمران خان کی شدید خواہش ہے کہ پولیس اور دیگر سول سروسز کو سیاسی مداخلت سے پاک، آزاد اور علیحدہ کر دیا جائے۔ مجھے یقین ہے یہ میچ بے حد دلچسپ اور یادگار ہوگا۔یہ ایک ایسا میچ ہوگا جس میں نہ ہار جیت ہوگی نہ یہ ڈرا ہوگا۔ سیاستدان عوام کے نمائندے۔ بیوروکریسی پبلک کی سرونٹ یعنی نوکر۔ ایک طرف عوام کے نمائندے ہوں گے تو دوسری طرف عوام کے نوکر
عوام درمیان میں ہوں گے تو اس بات کا اندازہ آپ خود لگا لیں کہ ان دو پاٹوں کے بیچ آنے والوں کا بنے گا کیا؟ اور اگر دونوں پاٹ یعنی چکی خالی چلائی گئی تو چکی کا کیا حشرہوگا؟
بشکریہ ۔ جنگ اخبار

دُعا کی درخواست

محترم بہنو اور بھائیوں
السلام علیکم و رحمة الله و بركاته
آپ جانتے ہوں گے اگر نہیں تو تاریخ کا مطالعہ بتا سکتا ہے کہ جس سلطنت میں انصاف مِٹ جاتا ہے یا مذاق بن جاتا ہے وہاں ہر قسم کی برائیاں جنم لیتی ہیں ۔ اصلاح نہ کی جائے تو ایسی سلطنت اُلٹ دی جاتی ہیں ۔ بابل و نَینوا کا کیا ہوا ۔ بہت بڑی سلطنتِ فارس نابود ہو گئی ۔ قومِ لوط ہو یا قومِ نوح اُن کا نام و نشان باقی نہ رہا ۔ عبرت حاصل کرنے کیلئے فرعون اور نمرود کے صرف نام باقی رہ گئے
اصحابِ کہف کا ذکر آج بھی ہے لیکن جس قوم سے عاجز آ کر الله کے اُن نیک بندوں نے الله کی پناہ مانگی تھی ۔ اُس قوم کو کوئی نہیں جانتا

ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے ہاں حالات کس طرف جا رہے ہیں ۔ عام آدمی کیلئے انصاف کا حصول تو پہلے ہی مُشکل تھا ۔ اب وہ لوگ جو بڑے اثر و رسوخ والے سمجھے جاتے تھے انصاف کی دُہائی دے رہے ہیں ۔ ہمارے حالات دیکھ کر ہمارے دُشمن دلیر ہو چکے ہیں اور ہمیں مٹانے کے درپۓ ہیں

تمام ہموطن بہنوں اور بھائیوں سے درخواست ہے کہ الله کے حضور میں سر بسجود ہو کر دعاکریں ۔ میرے لئے ۔ اپنے لئے ۔ اپنی آنے والی نسلوں کے لئے یعنی وطنِ عزیز پاکستان کے لئے جو الله ہی نے ہمیں عطا فرمایا تھا اور وہی اِسے درُست رکھ سکتا ہے ۔ الله ہمیں شیطان کے نرغے میں سے نکال کر سیدھی راہ پر چلائے
دُعا کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ پہلے عاجزی سے اپنی دانستہ یا نادانستہ غلطیوں کی معافی مانگیں پھر جو چاہیں مانگیں

آج کی حالت پر مجھے خواجہ الطاف حسین حالی صاحب کی یہ دعا یاد آ رہی ہے
اے خاصہءِ خاصانِ رُسلّ وقتِ دُعا ہے
اُمت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے
جو تفرقے اقوام کے آیا تھا مٹانے
اس دین میں خود تفرقہ اب آ کے پڑا ہے
جس دین نے غیروں کے تھے دل آ کے ملائے
اس دین میں اب بھائی خود بھائی سے جُدا ہے
جس دین کی حُجت سے سب اَدیان تھے مغلُوب
اب معترض اس دین پہ ۔ ہر ہَرزہ سَرا ہے
چھوٹوں میں اطاعت نہ شفقت ہے بڑوں میں
پیاروں میں محبت ہے نہ یاروں میں وفا ہے
دولت ہے نہ عزت نہ فضیلت نہ ہنر ہے
اک دین ہے باقی سو وہ بے برگ و نوا ہے
گو قوم میں تیری نہیں اب کوئی بڑائی
پر نام تیری قوم کا یاں اب بھی بڑا ہے
ڈر ہے کہیں یہ نام بھی مِٹ جائے نہ آخر
مُدت سے اسے دورِ زماں میٹ رہا ہے
تدبیر سنبھلنے کی ہمارے نہیں کوئی
ہاں ایک دعا تری کہ مقبُول خدا ہے

دل کا داغ جو مٹ نہ سکا

ہمارے مُلک کے ایک بڑے حصے کو علیحدہ ہوئے 46 سال بِیت گئے لیکن مجھے وہ خوبصورت نوجوان Assistant Works Manager محبوب نہیں بھولتا ۔ سُرخ و سفید چہرہ ۔ دراز قد ۔ چوڑا سینہ ۔ ذہین ۔ محنتی ۔ کم گو ۔ بہترین اخلاق ۔ اُردو باقی بنگالیوں کی بجائے نئی دہلی کے رہنے والوں کی طرح بولتا تھا ۔ مشرقی پاکستان میں نئی مکمل ہونے والی فیکٹری میں اُسے اوائل 1970ء میں بھیج دیا گیا کہ وہ بنگالی تھا (سِلہٹ کا رہائشی)

یکم جولائی 1969ء کو مجھے ترقی دے کر Production Manager Weaponsتعینات کر کے فیکٹری کے 8 میں سے 4 محکموں کی سربراہی کے ساتھ نئے اسِسٹنٹ ورکس منیجر صاحبان کی تربیت بھی ذمہ داریاں دے دی گئیں ۔ 1969ء میں بنگالی کچھ افسران بھرتی ہوئے ۔ یہ سب ہی محنتی اور محبِ وطن تھے ۔ اِن میں محبوب بھی تھا

میری 21 دسمبر 2012ء کو شائع شدہ تحریر
جب مُکتی باہنی کا شور شرابا زوروں پر تھا مُکتی باہنی والوں نے فیکٹری کے سب بنگالی ملازمین کو بنگلا دیش کا جھنڈے کے پیچھے جلوس نکالنے کا کہا ۔ اپنی جان بچانے کی خاطر سب باہر نکل آئے لیکن محبوب نہ نکلا ۔ محبوب پر مُکتی باہنی نے الزام عائد کيا گيا کہ وہ غدار ہے اور اگر نہيں تو بنگلا ديش کا جھنڈا اُٹھا کر جلوس کے آگے چلے ۔ محبوب شادی شدہ اور ايک چند ماہ کے بچے کا باپ تھا ۔ مجبوراً جلوس ميں جھنڈہ اُٹھا ليا ۔ اس کی بناء پر فوج کے افسر نے اُس کی بيوی ۔ چند ماہ کے بچے اور فيکٹری کے افسران کے سامنے محبوب کا سمری کورٹ مارشل کر کے چند منٹوں می موت کی سزا سُنا دی ۔ اُس کی بيوی نے فوجی افسر کے پاؤں پکڑ کر رَو کر فرياد کی کہ ميرے خاوند کو نہ مارو ۔ مجبور انسان کو مت مارو ۔ مگر گولی چلانے کا حُکم دے ديا گيا ۔ ديکھنے والے افسران ميں مغربی پاکستان سے گئے ہوئے Senior Civilian Officers موجود تھے جو محبوب کے کردار سے واقف تھے مگر خاموش رہے ۔ يہ اُن میں سے ہی ایک سینیئر افسر نے مغربی پاکستان پہنچنے کے بعد مُجھے سُنایا تھا

سانحہ مشرقی پاکستان 16 دسمبر 1971ء کے متعلق جو اَعداد و شمار اور واقعات ذرائع ابلاغ کے ذریعہ پھیلائے گئے ہیں وہ اتنے غلط ہیں کہ جتنا زیادہ کوئی جھوٹ بول سکے ۔ ہمارا ملک پاکستان معرضِ وجود میں آنے کے بعد صرف ایک نسل گذرنے پر صورتِ حال کچھ ایسی ہونا شروع ہوئی کہ میں سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں ”کیا آزادی اِس قوم کو راس نہیں آئی جو ہر دَم اور ہر طَور اس سلطنتِ خدا داد کے بخِیئے اُدھیڑنے کے در پئے رہتی ہے“۔ اب تو حال یہاں تک پہنچا ہے کہ بھارت کو بہترین دوست اور شیخ مجیب الرحمٰن کو محبِ پاکستان ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے
میں ذاتی معلومات پر مبنی واقعات پہلے لکھ چکا ہوں جو مندرجہ ذیل موضوعات پر باری باری کلک کر کے پڑھے جا سکتے ہیں ۔ آج صرف اعداد و شمار پیش کر رہا ہوں
بھولے بسرے واقعات ۔ پہلا سوال
سقوطِ ڈھاکہ کے اسباب ۔ قسط 1 ۔ دوسرا سوال اور ذرائع
سقوطِ ڈھاکہ کے اسباب ۔ قسط 2 ۔ معلومات
سقوطِ ڈھاکہ کے اسباب ۔ قسط 3 ۔ مشاہدہ اور تجزیہ

مارچ سے دسمبر 1971ء تک مشرقی پاکستان میں جو ہلاکتیں ہوئیں اور ان کے اسباب کے متعلق غلط اور اِنتہائی مبالغہ آمیز اعداد و شمار زبان زد عام رہے ہیں ۔ پچھلی 4 دہائیوں میں غیر جانب دار لوگوں کی تحریر کردہ کُتب اور دستاویزات سامنے آ چکی ہیں ۔ جن کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے
شیخ مجیب الرحمٰن اور اس کے حواریوں کا پروپیگنڈہ تھا کہ فوج نے 30 لاکھ بنگالیوں کو ہلاک کیا ۔ فوجی کاروائی ڈھاکہ اور اس کے گرد و نواح میں 26 مارچ 1971ء کو شروع ہوئی اور 16 دسمبر 1971ء کو پاکستانی فوج نے ہتھیار ڈال دیئے ۔ چنانچہ یہ ہلاکتیں 265 دنوں میں ہوئیں ۔ اس طرح ہر ماہ 339630 یا ہر روز 11321 بنگالی ہلاک کئے گئے ۔ ایک سرسری نظر ہی اس استلال کو انتہائی مبالغہ آمیز یا جھوٹ قرار دینے کیلئے کافی ہے
حمود الرحمٰن کمیشن کو فوج کے نمائندہ نے بتایا تھا کہ فوجی کاروائی کے دوران 26000 بنگالی ہلاک ہوئے لیکن کمیشن نے اس تعداد کو بہت مبالغہ آمیز قرار دیا تھا
شرمیلا بوس نے اپنی کتاب میں لکھا
“The three million deaths figure is so gross as to be absurd … [it] appears nothing more than a gigantic rumour. The need for ‘millions’ dead appears to have become part of a morbid competition with six million Jews to obtain the attention and sympathy of the international community.”
(ترجمہ ۔ تین ملین کا ہندسہ اتنا بھاری ہے کہ سرِ دست لغو لگتا ہے ۔ ۔ ۔ یہ ایک قوی ہیکل افواہ سے زیادہ کچھ نہیں ۔ ملینز کی تعداد چھ ملین یہودیوں کے ہمعصر ہونے کی ایک بھونڈی کوشش لگتی ہے تاکہ بین الاقوامی توجہ اور ہمدردی حاصل کی جا سکے)
مشرقی پاکستان میں موجود مغربی پاکستان کے لوگوں میں پنجابی ۔ پٹھان ۔ کشمیری ۔ سندھی ۔ بلوچ اور اُردو بولنے والے شامل تھے ۔ ان میں سرکاری محکموں ۔ سکولوں ۔ کالجوں ۔ بنکوں اور دیگر اداروں کے ملازم ۔ تاجر ۔ کارخانہ دار اور مزدور شامل تھے ۔ ان کارخانہ داروں میں سہگل ۔ آدم جی ۔ بھوانی اور اصفہانی قابلِ ذکر ہیں ۔ بھارت کی تشکیل کردہ اور پروردہ مُکتی باہنی والے مشرقی پاکستان میں موجود مغربی پاکستان کے تمام لوگوں کو پنجابی کہتے تھے اور یہی تخلص زبان زدِ عام ہوا
جُونہی فوجی کاروائی شروع ہوئی مُکتی باہنی اور اس کے حواریوں نے غیر بنگالیوں کی املاک کی لوٹ مار اور نہتے بوڑھوں عورتوں اور بچوں کے ساتھ زیاتی اور قتلِ عام شروع کر دیا ۔ عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ جو زیادتیاں ہوئیں مغربی پاکستان کے ذرائع یا اس سے بے خبر تھے یا بیہوش پڑے تھے
یہ حقیقت بھی بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں کہ شیخ مجیب الرحمٰن اور اس کے نائبین پہلے ہی فیصلہ کر چکے تھے کہ جمعہ 26 مارچ 1971ء کی صبح منظم مسلح بغاوت شروع کر دی جائے گی ۔ اس تیاری کیلئے بہت پہلے سے ڈھاکہ یونیورسٹی کو مکتی باہنی کا تربیتی مرکز بنایا جا چکا تھا
فوجی کاروائی 26 مارچ 1971ء کو شروع ہوئی تھی ۔ مکتی باہنی نے یکم سے 25 مارچ تک ہزاروں محبِ وطن بنگالی اور مغربی پاکستان سے گئے ہوئے لوگ ہلاک کئے ۔ مُکتی باہنی جس میں بھارتی فوج کے Commandos کی خاصی تعداد شامل تھی کے ہاتھوں قتل و غارت کے غیر ملکی ذرائع کے شائع کردہ محتاط اعداد و شمار بھی رَونگٹے کھڑے کر دیتے ہیں
بین الاقوامی ذرائع کے مطابق 200000 تک مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے
امریکی کونسل کے مطابق 66000 مغربی پاکستانی صرف ڈھاکہ اور گرد و نواح میں ہلاک کئے گئے
خود بنگالی ذرائع نے ڈھاکہ اور گرد و نواح میں 30000 سے 40000 مغربی پاکستانی ہلاک ہونے کا اعتراف کیا تھا
شروع مارچ 1971ء میں صرف بوگرہ میں 15000 مغربی پاکستانیوں کو ہلاک کیا گیا
وسط مارچ کے بعد چٹاگانگ میں 10000 سے 12000 مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے
جیسور میں 29 اور 30 مارچ کو 5000 مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے
دیناج پور میں 28 مارچ سے یکم اپریل تک 5000 مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے
میمن سنگھ میں 17 اپریل سے 20 اپریل تک 5000 کے قریب مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے
اس کے بعد مُکتی باہنی نے قتل و غارتگری کا بازار پوری شدت کے ساتھ گرم کیا ۔ اس طرح کہ اعداد و شمار بتانے والا بھی کوئی نہ رہا
پاکستان کے فوجیوں کی تعداد جو زبان زدِ عام ہے صریح افواہ کے سوا کچھ نہیں ۔ جن 93000 قیدیوں کا ذکر کیا جاتا ہے ان میں فوجیوں کے علاوہ پولیس ۔ سویلین سرکاری و غیر سرکاری ملازمین ۔ تاجر ۔ عام مزدور ۔ دُکاندار وغیرہ اور ان سب کے خاندان عورتوں اور بچوں سمیت شامل تھے ۔ ان قیدیوں میں درجنوں میرے ساتھی یعنی پاکستان آرڈننس فیکٹریز واہ کینٹ کے سویلین ملازمین اور ان کے اہلَ خانہ بھی تھے جنہیں 6 ماہ سے 3 سال کیلئے پاکستان آرڈننس فیکٹری غازی پور (ڈھاکہ) میں مشینیں سَیٹ کرنے اور مقامی لوگوں کی تربیت کیلئے بھیجا گیا تھا

مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان سے گئے ہوئے فوجیوں کی تعداد 20000 تھی جن میں پولیس ۔ میڈیکل اور دوسری نہ لڑنے والی نفری
ملا کر کل تعداد 34000 بنتی تھی ۔ یہ پاکستانی فوج 9 ماہ سے مکتی باہنی کے 100000 جنگجوؤں سے گوریلا جنگ لڑتے لڑتے بے حال ہو چکی تھی ۔ ایسے وقت میں بھارت کی ہر قسم کے ہتھیاروں سے لیس 3 ڈویژن تازہ دم فوج سے مقابلہ کرنا پڑا ۔ پاکستانی فوج کی ہلاکتیں 4000 کے قریب ہوئیں ۔ بقول بھارتی لیفٹننٹ جنرل جے ایف آر جیکب بھارتی فوج کی ہلاکتیں 1477 اور زخمی 4000 ہوئے تھے

شیخ مجیب الرحمٰن کو اس کے خاندان سمیت 15 اگست 1975ء کو ہلاک کر دیا گیا ۔ ہلاک کرنے والے بنگلا دیش ہی کے فوجی تھے جو نہ پنجابی تھے نہ بہاری ۔ صرف ایک بیٹی حسینہ بچی جو ملک سے باہر تھی
مشرقی پاکستان شیخ مجیب الرحمٰن اور بھارت کی تیار کردہ مُکتی باہنی کو پذیرائی نہ ملتی اگر حکومتِ پاکستان نے مشرقی پاکستان کی معیشت و معاشرت کی طرف توجہ دی ہوتی اور بے لگام بیورو کریسی کو لگام دے کر اُن کے فرض (عوام کی بہبود) کی طرف متوجہ کیا ہوتا ۔ پچھلے کم از کم 5 سال میں جو ملک کا حال ہے ۔ دل بہت پریشان ہے کہ کیا ہو گا ۔ الله محبِ وطن پاکستانیوں پر اپنا کرم فرمائے اور اس ملک کو محفوظ بنائے

مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کی بڑی تعداد اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتی تھی جس کے نتیجہ میں مغربی پاکستانیوں کے ساتھ وہ بھی مکتی باہنی کا نشانہ بنے ۔ لاکھوں بنگالیوں نے دستخط کر کے ایک یاد داشت برطانیہ کے راستے ذوالفقار علی بھٹو کو بھجوائی تھی کہ بنگلا دیش منظور نہ کیا جائے ۔ پیپلز پارٹی کی اکثریت بھی بنگلہ منظور کرنے کے خلاف تھی ۔ اِسی لئے جب عوام بنگلہ دیش کیی منظوری لینے کیلئے ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور میں پیپلز پارٹی کے بہت بڑے جلسے کا اہتمام کیا تو اہل جللسہ نے بھٹو کو بولنے نہ دیا اور تمام لاؤڈ سپیکروں کے تار کاٹ دیئے ۔ بعد میں بھٹو نے اسلامی کانفرنس کا انعقاد کر کے بنگلا دیش منظور کرنے کا اعلان کر دیا

نہ صرف یہ بلکہ بنگلا دیش بننے کے بعد جن لوگوں نے وحدتِ پاکستان کے حق میں آواز اٹھائی تھی انہیں طرح طرح سے تنگ کیا گیا اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمے بنائے گئے ۔ بہاریوں کو نہ شہریت دی اور نہ مہاجرین کا درجہ ۔ وہ ابھی تک کس مُپرسی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں ۔ جماعتِ اسلامی کے دلاور حسین سیّدی سمیت 6 لیڈر ابھی بھی بغاوت کے مقدمات بھُگت رہے ہیں
یہ حقیقت ہے کہ اب بھی بنگلا دیش کے عوام کی اکثریت کے دل پاکستانی ہیں ۔ اس کا ایک ادنٰی سا مظاہرہ اس وقت ہوتا ہے جب پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں مدِ مقابل ہوتی ہیں ۔ بنگلا دیش کے عوام جوش و خروش کے ساتھ پاکستانی ٹیم کے حق میں بول رہے ہوتے ہیں

نوابزادہ لیاقت علی خان پر بُہتان تراشی

جب پاکستان بنا تو میری عمر 10 سال تھی ۔ اسلئے کچھ باتیں اور واقعات میرے ذاتی علم میں بھی ہیں لیکن یہ معاملہ ہمہ گیر قومی نوعیت کا ہے اس لئے میں اپنے ذہن کو کُریدنے کے علاوہ مُستند تاریخی کُتب کا مطالعہ کرنے پر مجبور ہوا

ایک حقیقت جو شاید دورِ حاضر کی پاکستانی نسل کے علم میں نہ ہو یہ ہے کہ محمد علی جوہر اور ساتھیوں کی کاوش سے مسلم لیگ 1906ء میں وقوع پذیر ہوئی اور علامہ محمد اقبال اور نوابزادہ لیاقت علی خان کی مسلسل محنت و کوشش نے اِسے پورے ہندوستان کے شہر شہر قصبے قصبے میں پہنچایا ۔ اسی لئے قائد اعظم کے علاوہ نوابزادہ لیاقت علی کو بھی معمار پاکستان کہا جاتا تھا اور اب بھی کہنا چاہیئے

سُنا گیا ہے کہ شہدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی کو ”نوابزادہ“ کہنا بلاجواز ہے اور یہ کہ وہ اداروں کو ذاتی استعمال میں لائے
شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان کو پنجاب کے علاقہ کرنال کے ایک زمیندار اور نواب رُستم علی خان کا بیٹا ہونے کی وجہ سے نوابزادہ کہا جاتا تھا ۔ اگر شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان اداروں کو اپنے مفاد میں استعمال کر رہے ہوتے تو کرنال (بھارت کے حصہ میں آنے والے پنجاب) میں اپنی چھوڑی ہوئی زمینوں کے عِوض کم از کم مساوی زمین پاکستان کے حصہ میں آنے والے پنجاب میں حاصل کر لیتے اور اُن کی مالی حالت ایسی نہ ہوتی کہ جب اُن کی میّت سامنے پڑی تھی تو تجہیز و تکفین اور سوئم تک کے کھانے کیلئے احباب کو مالی امداد مہیا کرنا پڑی اور اس کے بعد ان کے بیوی بچوں کے نان و نُفقہ اور دونوں بیٹوں کی تعلیم جاری رکھنے کیلئے اُن کی بیگم رعنا لیاقت علی جو ایک تعلیم یافتہ خاتون تھیں کو ملازمت دی گئی جو بڑے بیٹے کے تعلیم پوری کرتے ہی بیگم رعنا لیاقت علی نے چھوڑ دی ۔ کبھی کسی نے شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان کی بیگم یا بچوں کا اپنی بڑھائی کے سلسلہ میں بیان پڑھا ؟

ایک اور الزام کے برعکس نہ تو اُردو کو قومی زبان بنانے کا نوابزادہ لیاقت علی نے قائداعظم سے کہا اور نہ یہ فیصلہ قائد اعظم نے کیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان بننے سے قبل بنگال سے مسلم لیگی رہنماؤں کے وفد نے تجویز دی کہ اُردو ہی ایک زبان ہے جو پانچوں صوبوں کی اکثریت سمجھتی ہے اور مُلک کو متحد رکھ سکتی ہے لیکن قائد اعظم نے اُردو زبان کو قومی زبان قرار نہ دیا ۔ پھر پاکستان بننے کے بعد 25 فروری 1948ء کو کراچی میں شروع ہونے والے دستور ساز اسمبلی کے اجلاس میں اُردو کو قومی زبان بنانے کا فیصلہ ہوا

ایک الزام یہ بھی لگایا گیا کہ ”جب نواب آف جونا گڑھ نے پاکستان کے ساتھ الحاق کی صورت میں پاکستان کے تب کے وزیرِ اعظم سے پچاس ہزار بندوقوں کا مطالبہ کیا جو اس وقت پورا کرنا چنداں مشکل نہ تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر نوابزادہ لیاقت علی خان کو یہ بات اس لئے گوارہ نہیں تھی کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس طرح پاکستان میں نوابزادہ لیاقت علی خان کے لئے اقتدار و اختیار کو ایک بہت بڑے نواب ( آف جوناگڑھ) کی صورت میں خطرہ لاحق ہو جاتا“۔

اول ۔ یہ بالکل غلط ہے کہ نواب جونا گڑھ نے پچاس ہزار بندوقیں مانگی تھیں ۔ نواب جونا گڑھ کے پاکستان میں شمولیت کا اعلان کرتے ہی بھارت نے اپنی فوج جونا گڑھ میں داخل کر دی اور نواب جونا گڑھ کو مدد مانگنے کی مُہلت نہ ملی
دوم ۔ جونا گڑھ کے بعد جب بھارت نے جموں کشمیر میں بھی زبردستی اپنی فوجیں داخل کر دیں تو قائد اعظم نے پاکستانی افواج کے کمانڈر اِن چِیف جنرل ڈگلس گریسی کو بھارتی افواج کو روکنے کا حُکم دیا تھا ۔ اگر پاکستان کے پاس پچاس ہزار تو کیا اُس وقت دس ہزار رائفلیں بھی ہوتیں تو قائدِ اعظم کے حُکم کی خلاف ورزی کرنے کی بجائے اُس کی تعمیل کر کے جنرل گریسی ایک ہمیش زندہ شخصیت اور ہِیرو بن جاتا
حکومت چلانا گورنر جنرل کا کام نہیں تھا بلکہ وزیرِ اعظم کا تھا مگر آج تک کسی نے کوئی ایسی مثال پیش نہیں کی جس سے ثابت ہو کہ شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان نے کوئی کام قائدِ اعظم سے مشورہ کئے بغیر سرانجام دیا ہو

ایک گھناؤنا الزام بھی لگایا گیا کہ نوابزادہ لیاقت علی خان قائد اعظم کی وفات کے منتظر تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ قائدِ اعظم کو ڈاکٹر کی سخت ہدائت پر زیارت لے جایا گیا تھا ۔ یہ شہیدِ مِلّت نوابزادہ لیاقت علی خان کی سازش نہ تھی ۔ اس کا ذکر قائد اعظم کے معالجِ خاص کرنل الٰہی بخش کی لکھی کتاب میں تحریر ہے

یہ الزام بھی لگایا گیا کہ 8 سال آئین بننے نہ دیا ۔ شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان کو پاکستان بننے کے 4 سال 2 ماہ بعد ہلاک کر دیا گیا تھا ۔ مختصر بات یہ ہے کہ آئین اُس وقت کے پاکستان میں موجود آئی سی ایس (Indian Civil Service) افسروں نے جن میں غلام محمد جو قائد اعظم کی وفات کے بعد غیر ملکی پُشت پناہی سے گورنر جنرل بن بیٹھا تھا بھی شامل تھا نہ بننے دیا ۔ ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ دستور ساز ی کیلئے جو کمیٹی بنائی گئی تھی اس کے ارکان کا بار بار اِدھر اُدھر تبادلہ کردیا جاتا تھا ۔ اُس دور میں افسران کو ٹرین پر سفر کرنا ہوتا تھا ۔ یہاں یہ بھی بتا دوں کہ آئی سی ایس افسران حکومتِ برطانیہ کی پُشت پناہی سے سازشوں کا جال نوابزادہ لیاقت علی کی شہادت سے قبل ہی بُن چُکے تھے

یہ لکھنا بے جا نہ ہو گا کہ پاکستان کے قیام کی مارچ 1947ء میں منظوری ہوتے ہی ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت غیرمُسلم اکثریتی علاقوں میں مسلمانوں کا قتلِ عام اور جوان لڑکیوں اور عورتوں کا اغواء شروع کر دیا گیا تھا اور اُنہیں گھروں سے نکال کر پاکستان کی طرف دھکیلا دیا گیا تھا ۔ یہ سلسلہ دسمبر 1947ء تک جاری رہا ۔ انگریز حکومت کے ساتھ ملی بھگت سے بھارت نے پاکستان کے حصے کے اثاثے نہ دیئے جو آج تک نہیں دیئے گئے ۔ ان حالات میں لاکھوں نادار مہاجرین جن میں ہزاروں زخمی تھے کو سنبھالنا اغواء شدہ خواتین کی تلاش اور بھارتی حکومت سے واپسی کا مطالبہ اور پھر ان سب مہاجرین کی آبادکاری اور بازیاب شدہ خواتین کی بحالی انتہائی مشکل ۔ صبر آزما اور وقت طلب کام تھا ۔ 1947ء سے 1951ء کے دور کے ہموطن قابلِ تعریف ہیں جنہوں نے مہاجرین کو آباد کیا ۔ اور آفرین ہے بیگم رعنا لیاقت علی خان پر جس نے دن رات محنت کر کے جوان لڑکیوں اور خواتین کو اُبھارہ کہ گھروں سے باہر نکلیں اور رفاہی کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور ان دخترانِ ملت نے خدمتِ خلق کے ریکارڈ توڑ دیئے ۔ اللہ اُن سب کو آخرت میں اجر دے

موازنہ کیلئے موجودہ جدید دور سے ایک مثال ۔ باوجود قائم حکومت اور وسائل ہونے کے اور ہر طرف سے کافی امداد آنے کے اکتوبر 2005ء میں آنے والے زلزلہ کے متاثرین کئی سال بعد بھی بے خانماں پڑے رہے
آجکل عورتوں کی آزادی کی فقط باتیں ہوتی ہیں کام سوائے فیشن اور فائیو سٹار ہوٹلوں میں پارٹیوں کے اور کچھ نظر نہیں آتا

یہ کہنا بھی غلط ہے کہ پاکستان میں پہلی مُنتخب اسمبلی 1970ء مین معرضِ وجود میں آئی
جس اسمبلی نے اگست 1947ء میں پاکستان کا نظم نسق سنبھالا تھا وہ پاکستان بننے سے قبل باقاعدہ انتخابات کے نتیجہ میں غیر مُسلموں اور دوسرے کانگرسیوں سے مقابلہ کر کے معرضِ وجود میں آئی تھی اور اُس اسمبلی نے نوابزادہ لیاقت علی خان کو پاکستان کا وزیرِ اعظم منتخب کیا تھا

اگر شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی امریکہ کے ایجننٹ تھے تو امریکہ نے اُنہیں قتل کیوں کروا دیا ؟
حقیقت یہ ہے کہ شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی جب امریکہ گئے تو اُنہوں نے واضح طور پر کہا کہ ”پاکستان ایک خود مُختار ملک بن چکا ہے اور وہ امریکہ کو دوست بنانا چاہتا ہے لیکن ڈِکٹیشن کسی سے نہیں لے گا“۔ تو واپس آنے پر ان کے قتل کی سازش تیار ہوئی
نیچے ایک اقتباس اس حقیقت کو واضح کرتا ہے

ناجانے کیوں وہ لوگ جو کچھ نہیں جانتے اپنے آپ کو مفکّر اور تاریخ دان سمجھنے لگ جاتے ہیں اور حقائق سے رُوگردانی کرتے ہوئے الا بلا لکھنا شروع کر دیتے ہیں ۔ میری دعا ہے کہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی سب کو سیدھی راہ پر چلائے اور عقلِ سلیم مع طریقہ استعمال کے عطا فرمائے ۔ آمین ثم آمین

WHO SHOT LAK (Liaqat Ali Khan)?..CIA CONNECTION
1. Extract from an article published on October 24, 1951 in an Indian magazine:

[…]It was learned within Pakistani Foreign Office that while UK pressing Pakistan for support re Iran, US demanded Pakistan exploit influence with Iran and support Iran transfer oil fields to US. Liaquat declined request. US threatened annul secret pact re Kashmir. Liaquat replied Pakistan had annexed half Kashmir without American support and would be able to take other half. Liaquat also asked US evacuate air bases under pact. Liaquat demand was bombshell in Washington. American rulers who had been dreaming conquering Soviet Russia from Pakistan air bases were flabbergasted. American minds set thinking re plot assassinate Liaquat. US wanted Muslim assassin to obviate international complications. US could not find traitor in Pakistan as had been managed Iran, Iraq, Jordan. Washington rulers sounded US Embassy Kabul. American Embassy contacted Pashtoonistan leaders, observing Liaquat their only hurdle; assured them if some of them could kill Liaquat, US would undertake establish Pashtoonistan by 1952. Pashtoon leaders induced Akbar undertake job and also made arrangements kill him to conceal conspiracy. USG-Liaquat differences recently revealed by Graham report to SC; Graham had suddenly opposed Pakistan although he had never given such indication. […] Cartridges recovered from Liaquat body were American-made, especially for use high-ranking American officers, usually not available in market. All these factors prove real culprit behind assassin is US Government, which committed similar acts in mid-East. “Snakes” of Washington’s dollar imperialism adopted these mean tactics long time ago.

میرا یہ مضمون میرے اسی بلاگ پر 13 دسمبر 2008ء کو شائع ہو چکا ہے
کچھ حقائق مندرجہ ذیل دستاویزات سے حاصل کئے گئے تھے جو چند سال قبل انٹرنیٹ سے ہٹا دی گئیں
1. Declassified CIA papers
2. Confidential Teاegram No. 1532 from New Delhi Embassy, Oct. 30, 1951
3. Confidential Telegram from State Dept., Nov. 1, 1951
4. Secret Telegram from Moscow Embassy, Nov. 3, 1951
5. Popular Feeling in Pakistan on Kashmir and Afghan Issues, Nov. 10, 1951